Al Syedah tibbe nabwi

Al Syedah tibbe nabwi جسمانی،نفسیاتی روحانی بیماریوں کیلئے دیسی قدرتی طب نبوی اور قدیم حکمت.
(4)

Wide variety Herbal Teas • Natural Ingredients • herbal store• Organic Wellness
Tibb-e-Nabawi Inspired Lifestyle
Psychologist | Holistic Health | Women Wellness | Mind–Body Balance

ہماری ہمیشہ سے یہ کوشش رہی کہ ہم صرف لوگوں کو صحت کے بارے میں معلومات نہ دیں بلکہ ان کو یہ بتائیں کہ سنت طریقے پر صحت حا...
07/03/2026

ہماری ہمیشہ سے یہ کوشش رہی کہ ہم صرف لوگوں کو صحت کے بارے میں معلومات نہ دیں بلکہ ان کو یہ بتائیں کہ سنت طریقے پر صحت حاصل کرنا بھی ایک عبادت ہے اچھی صحت مند زندگی کے ساتھ انسان زیادہ اچھی طرح سے اپنی عبادت کر سکتا ہے اپنی زندگی گزار سکتا ہے بنسبت اس کے کہ اپ بیمار ہوں پریشان ہوں اور دوسروں پر بوجھ بن کر رہیں تو صحت مند زندگی کے اس سفر پر اپ سب نے ہمارا بہت ساتھ دیا۔اپ سب کی محبتوں کا بہت بہت شکریہ السیدا طب نبوی کا یہ سفر جو تنہا شروع ہوا تھا الحمدللہ اج 55 ہزار کی کمیونٹی پر پھیل چکا ہے اور یہ سب اپ سب کی خصوصی محبت کی وجہ سے ہوا ہے اللہ تعالی اپ سب کو صحت اور سلامتی والی لمبی زندگی دے اور دنیا اور اخرت کی کامیابی دے اپنا بہت سارا خیال رکھیے اور اللہ پاک اپ کا ہمیشہ ہمیں و ناصر رہے۔
اپ کی خیر خواہ خیر اندیش اور دعاگو بہن السیدہ طب نبوی۔
I've just reached 55K followers! Thank you for continuing support. I could never have made it without each one of you. 🤗🎉

تریاقِ معدہ کی یہ ترکیب مزاج کے اعتبار سے گرم و خشک ہے اور طبِ یونانی کے اصولوں میں اس طرح کے مرکبات عموماً ان امراض میں...
06/03/2026

تریاقِ معدہ کی یہ ترکیب مزاج کے اعتبار سے گرم و خشک ہے اور طبِ یونانی کے اصولوں میں اس طرح کے مرکبات عموماً ان امراض میں استعمال کیے جاتے ہیں جہاں برودتِ معدہ، بلغم کی زیادتی، ضعفِ ہضم اور اعصابی کمزوری غالب ہو۔ حکمت میں معدہ کو “امّ الامراض” بھی کہا جاتا ہے، یعنی بہت سے امراض کی جڑ معدہ کی کمزوری یا اس میں پیدا ہونے والی رطوبت اور بلغم کو سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے ایسی ادویہ جو معدہ کو گرم کریں، ہاضمہ کو تیز کریں اور رکاوٹیں کھولیں انہیں تریاقی حیثیت دی جاتی ہے۔

اس نسخے کے اجزاء کو دیکھا جائے تو اجوائن دیسی کو قدیم کتبِ طب مثلاً القانون فی الطب (ابنِ سینا) اور مخزن الادویہ میں قوی ہاضم، طاردِ ریاح، محللِ بلغم اور مفتحِ سدد لکھا گیا ہے۔ یہ معدہ اور آنتوں میں جمی ہوئی رطوبت کو تحلیل کر کے ہاضمہ کو تیز کرتی ہے اور اسی وجہ سے معدی درد، گیس، بھاری پن اور ضعفِ معدہ میں مفید سمجھی جاتی ہے۔ پودینہ بھی اسی مزاج کا حامل ہے مگر اس میں لطافت زیادہ ہے؛ یہ معدہ کو تقویت دیتا ہے، قے و متلی کو کم کرتا ہے اور جگر و معدہ کی حرکات کو بہتر بناتا ہے۔ اس طرح اجوائن اور پودینہ مل کر نظامِ ہضم کو متحرک کرتے ہیں۔

اسی طرح گندھک آملہ سار (Sulphur processed) کو حکمت میں مصفّیِ خون، محللِ اور محرکِ حرارتِ غریزیہ قرار دیا گیا ہے۔ قدیم اطباء گندھک کو جلدی امراض، پھوڑے پھنسیوں، خون کی گاڑھا پن اور بعض اعصابی کمزوریوں میں استعمال کرتے تھے کیونکہ یہ بدن میں تعفن اور فاسد مادوں کو تحلیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ جب اسے ہاضم اور مفتح ادویہ کے ساتھ ملا دیا جائے تو اس کا اثر صرف معدہ تک محدود نہیں رہتا بلکہ خون کی صفائی اور جلدی مسائل تک بھی پہنچ جاتا ہے۔

طبّی اصول کے مطابق جب معدہ میں برودت اور رطوبت زیادہ ہو تو ہاضمہ سست ہو جاتا ہے، بلغم بنتا ہے اور یہی بلغم یا فاسد مادے بعد میں مختلف شکایات کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ اس لیے ایسے مرکبات جو معدہ کو گرم کریں، بلغم کو تحلیل کریں اور ہاضمہ کو درست کریں، وہ بالواسطہ طور پر جسم کے کئی دیگر نظاموں پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ اسی نظریے کی بنیاد پر اس نسخے کو بعض اطباء کولیسٹرول، یورک ایسڈ یا جلدی مسائل میں بھی مفید سمجھتے ہیں کیونکہ بہتر ہاضمہ اور صاف خون جسمانی توازن کو بحال کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

البتہ حکمت میں ہمیشہ ایک اصول یاد رکھا جاتا ہے کہ ہر دوا مزاج اور مرض کی نوعیت دیکھ کر دی جاتی ہے۔ چونکہ یہ نسخہ گرم و خشک ہے اس لیے اسے زیادہ تر ان لوگوں میں مناسب سمجھا جاتا ہے جن میں بلغم یا برودت غالب ہو، جبکہ شدید حرارت، تیزابیت یا جگر کی حدت رکھنے والے افراد میں اس کی مقدار اور استعمال احتیاط سے طے کیا جاتا ہے۔ اسی لیے اطباء غذا پر بھی زور دیتے ہیں کیونکہ مزاج کے خلاف غذا دوا کے اثر کو کم کر دیتی ہے۔

طبّی روایت میں یہی تصور پایا جاتا ہے کہ جب معدہ کی اصلاح ہو جائے، ہاضمہ درست ہو اور حرارتِ غریزیہ متوازن ہو جائے تو جسم کے کئی دوسرے مسائل خود بخود کم ہونے لگتے ہیں۔ اسی وجہ سے معدہ کی اصلاح کو علاج کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔

جنوبی ایشیا میں عام پائی جانیوالی، جو دوسری پودوں پر لپٹ کر ان سے غذا حاصل کرتی ہے۔ یہ پاکستان، بھارت اور دیگر جنوبی ایش...
06/03/2026

جنوبی ایشیا میں عام پائی جانیوالی،
جو دوسری پودوں پر لپٹ کر ان سے غذا حاصل کرتی ہے۔ یہ پاکستان، بھارت اور دیگر جنوبی ایشیائی ممالک میں عام پایی جاتی ہے۔

۔۔۔ بالوں کے لیے نہایت مفیدھے
امربیل کا پانی یا جوشاندہ بالوں پر لگانے سے بالوں کا جھڑنا کم ہوتا ہے۔

بالوں کی نشوونما میں اضافہ کرتا ہے اور خشکی کو روکتا ہے۔

۔۔جگر کے لیے

آکاس بیل کو جگرمیں ہیپاٹائٹس اور جگر کی کمزوری کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
یہ جگر کو صاف کرنے میں مدد کرتی ہے۔

۔. پیشاب کی بیماریوں میں
مثانے کی جلن، بار بار پیشاب آنا یا پیشاب کی نالی کے انفیکشن میں اس کا جوشاندہ مفید ہوتا ہے۔

۔۔ جلدی امراض میں
آکاس بیل کا لیپ جلد پر لگانے سے خارش، دانے، ایگزیما اور دیگر جلدی بیماریوں میں افاقہ ہوتا ہے۔
اس کے پتوں کا رس چہرے پر احتیاطاً لگانے سے کیل مہاسے کم ہوتے ہیں۔
۔۔۔قبض اور بدہضمی
آکاس بیل نظامِ ہضم کو بہتر بناتی ہے۔
قبض کے مریضوں کے لیے اس کا جوشاندہ مفید ہے۔
۔۔۔ ذہنی دباؤ اور نیند کی کمی کے لیے
آکاس بیل کا سفوف استعمال کرتے ہیں۔

یہ نیند کو بہتر کرنے اور ذہنی تھکن کو کم کرنے میں مددگار ہے

۔۔رحم کی صفائی اور حیض کے مسائل میں استعمال کے لیے جوشاندہ
آکاس بیل کو پانی میں اُبال کر چھان کر پیا جاتا ہے۔
روزانہ ایک گلاس صبح و شام۔

۔۔ بالوں کے لیے
بیل کو پیس کر اس کا پانی نچوڑ کر سر پر لگائیں۔یا تیل بنائیں۔


۔۔لیکوریا کے لیے
۔۔۔ نسخہ

آکاس بیل خشک شدہ دس گرام
پانی دوکپ
ان دونوں کو ہلکی آنچ پر دس سے پندرہ منٹ اُبالیں، جب ایک کپ رہ جائے تو چھان کر پی لیں۔
روزانہ صبح، کم از کم دس دن لیں۔

2. ماہواری کی بے قاعدگی کے لیے نسخہ

آکاس بیل کو سائے میں خشک کریں اور باریک پیس لیں۔

روزانہ ایک چمچ نیم گرم دودھ کے ساتھ صبح خالی پیٹ لیں۔

مرکب نسخہ۔۔۔
آکاس بیل دس گرام ، کاسنی دس گرام ، چرائتہ پانچ گرام
پانی تین کپ
سب اجزاء کو پانی میں ڈال کر دس پندرہ منٹ ابالیں۔جب پانی ایک کپ رہ جائے تو چھان لیں۔
صبح خالی پیٹ پی لیں۔
یہ جگر کی گرمی اور سوجن کو کم کرتا ہے۔
ہیپاٹائٹس، پیلیا (یرقان)، اور فیٹی لیور میں مفید ہے۔
#

بڑھاپا چہرے سے نہیں، ٹانگوں کی کمزوری سے شروع ہوتا ہے۔جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے، ٹانگوں کے پٹھے کمزور ہونے لگتے ہیں، جس سے ...
06/03/2026

بڑھاپا چہرے سے نہیں، ٹانگوں کی کمزوری سے شروع ہوتا ہے۔
جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے، ٹانگوں کے پٹھے کمزور ہونے لگتے ہیں، جس سے چلنے کی رفتار کم اور گرنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اگر انسان کچھ عرصہ مسلسل بیٹھا رہے تو پٹھوں کی طاقت بھی تیزی سے کم ہو سکتی ہے۔

اس لیے اپنی ٹانگوں کو متحرک رکھنا بہت ضروری ہے۔
روزانہ کم از کم 30 منٹ واک کریں، سیڑھیاں استعمال کریں، ہلکی ورزش کریں اور پروٹین والی غذا لیں۔

رمضان میں واک کا بہترین وقت افطار کے 30–40 منٹ بعد یا سحری سے تھوڑا پہلے ہے، تاکہ جسم کو توانائی بھی ملے اور کمزوری بھی نہ ہو۔

یاد رکھیں، جسم جتنا متحرک رہے گا بڑھاپا اتنا ہی دیر سے آئے گا۔
مضبوط ٹانگیں ہی مضبوط اور بااعتماد زندگی کی بنیاد ہیں۔

کڑوی سچائی تو سنی ھوگی۔ آج کڑوی صحت کی نشانی بھی جان لیں۔ قدرت نے انسان کی صحت کے لیے بے شمار جڑی بوٹیاں پیدا کی ہیں جن ...
06/03/2026

کڑوی سچائی تو سنی ھوگی۔ آج کڑوی صحت کی نشانی بھی جان لیں۔
قدرت نے انسان کی صحت کے لیے بے شمار جڑی بوٹیاں پیدا کی ہیں جن میں بعض ایسی ہیں جن کا ذائقہ کڑوا ہوتا ہے مگر اثر انتہائی مفید ہوتا ہے۔ انہی میں سے ایک اہم جڑی بوٹی چرائتہ ہے۔ طبِ یونانی اور قدیم حکمت میں چرائتہ کو جگر، خون اور معدے کی اصلاح کے لیے بڑی اہمیت دی جاتی ہے۔ اطباء کے مطابق جسم میں جب خون گاڑھا ہونے لگے، جگر پر بوجھ بڑھ جائے یا نظامِ ہضم کمزور ہو جائے تو اس کے اثرات پورے جسم پر ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ انسان کو تھکن، سستی، چڑچڑاہٹ اور مختلف بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے جسم کے اندرونی نظام کو متوازن رکھنا ضروری ہوتا ہے۔

چرائتہ بنیادی طور پر ایک معتدل مگر صفرا شکن اور خون صاف کرنے والی جڑی بوٹی سمجھی جاتی ہے۔ اس میں قدرتی طور پر ایسے اجزاء پائے جاتے ہیں جو جگر کے افعال کو بہتر بنانے، معدے کو درست رکھنے اور خون میں موجود غیر ضروری مادوں کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ جدید تحقیق میں بھی چرائتہ میں Bitter glycosides، میگنیشیئم اور اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات پائی گئی ہیں جو جسم کے میٹابولزم کو بہتر بنانے میں معاون سمجھی جاتی ہیں۔ اسی وجہ سے بعض اطباء اسے شوگر کے مریضوں، جگر کی کمزوری اور کولیسٹرول کے بڑھنے کی صورت میں بطور معاون علاج استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

استعمال کا سادہ طریقہ

دو کپ پانی کو ابال کر ایک برتن میں نکال لیں۔ اس میں چرائتہ کے دو یا تین چھوٹے ٹکڑے ڈال کر ڈھک دیں اور کچھ دیر کے لیے چھوڑ دیں تاکہ اس کا عرق پانی میں اچھی طرح حل ہو جائے۔ صبح نہار منہ اس پانی کو چھان کر پی لیا جائے۔ چونکہ چرائتہ کا ذائقہ فطری طور پر کڑوا ہوتا ہے اس لیے اس میں چینی یا شہد شامل نہیں کیا جاتا۔ بہتر یہی ہے کہ اسے دوا سمجھ کر استعمال کیا جائے۔

ممکنہ فوائد

حکمت کی رو سے چرائتہ جگر کی صفائی میں مدد دیتا ہے اور جگر کے افعال کو بہتر بنانے میں معاون سمجھا جاتا ہے۔ بعض لوگوں میں اس کے استعمال سے ہاضمہ بہتر ہوتا ہے اور معدے کی گرانی کم ہو جاتی ہے۔ اسی طرح خون میں چربی کے بڑھنے، جسم میں سوجن یا تھکن کی کیفیت میں بھی اسے معاون تدبیر کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ کچھ اطباء خواتین میں ہارمونل تبدیلیوں اور ماہواری کے بے قاعدہ مسائل میں بھی اس کے معتدل استعمال کو مفید قرار دیتے ہیں۔

اہم احتیاط

یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ کوئی بھی جڑی بوٹی مکمل علاج نہیں بلکہ معاون تدبیر ہوتی ہے۔ شوگر، جگر کی شدید بیماری یا کسی پیچیدہ مرض میں صرف گھریلو نسخوں پر انحصار کرنا مناسب نہیں۔ بہتر یہی ہوتا ہے کہ علامات کو سمجھ کر کسی ماہر طبیب یا ڈاکٹر سے مشورہ کیا جائے تاکہ مزاج اور جسمانی کیفیت کے مطابق درست مقدار اور طریقۂ استعمال طے کیا جا سکے۔

قدرتی جڑی بوٹیوں کا فائدہ تبھی زیادہ ہوتا ہے جب وہ خالص، معیاری اور صحیح تشخیص کے ساتھ استعمال کی جائیں۔ اسی لیے حکمت کا اصول یہ ہے کہ ہر مریض کی علامات، مزاج اور جسمانی حالت کو دیکھ کر ہی دوا تجویز کی جائے۔ اگر اس اصول کو مدنظر رکھا جائے تو بہت سی قدرتی جڑی بوٹیاں انسان کی صحت کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
اکثر لوگ جڑی بوٹیوں اور حکمت کی بات تو کرتے ہیں، مگر اصل فرق وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں تشخیص، علم اور خلوص اکٹھے ہو جائیں۔ اسی سوچ کے ساتھ السیدہ طبِ نبوی کا سفر شروع ہوا، جہاں مریض کو صرف ایک دوا نہیں بلکہ اس کے مزاج، جسمانی کیفیت اور نفسیاتی حالت کو سمجھ کر رہنمائی دی جاتی ہے۔ اس ادارے کی بنیاد ایک پروفیشنل اور ڈگری یافتہ طبیبہ نے رکھی ہے جو نفسیات اور طبِ نبوی دونوں کے اصولوں کو سامنے رکھ کر لوگوں کی صحت کے مسائل کو سمجھنے اور حل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ یہاں کوشش یہی ہوتی ہے کہ جو بھی جڑی بوٹیاں یا ادویات تیار کی جائیں وہ اعلیٰ معیار، خالص اجزاء اور درست ترکیب کے ساتھ ہوں تاکہ علاج محفوظ بھی ہو اور مؤثر بھی۔

آج کے دور میں جہاں بہت سے لوگ بغیر باقاعدہ علم اور سند کے اس میدان میں آ رہے ہیں، وہاں السیدہ طبِ نبوی کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو اعتماد، درست مشورہ اور معیاری ادویات ایک ہی جگہ پر میسر آئیں۔ جو بھی فرد اپنی صحت کے بارے میں سنجیدہ رہنمائی چاہتا ہو، وہ رابطہ کر کے اپنی کیفیت بیان کر سکتا ہے۔ ان شاء اللہ یہاں صرف علاج نہیں بلکہ بہتری کی ایک امید اور درست رہنمائی فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ ہر آنے والا شخص صحت کے سفر میں مایوس نہ ہو بلکہ اطمینان اور اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ سکے۔
゚viralシalシ

آ ج کے دور میں طرزِ زندگی کی تبدیلی، فاسٹ فوڈ، ذہنی دباؤ اور جسمانی سرگرمی کی کمی کی وجہ سے فیٹی لیور (Fatty Liver) تیزی...
06/03/2026

آ ج کے دور میں طرزِ زندگی کی تبدیلی، فاسٹ فوڈ، ذہنی دباؤ اور جسمانی سرگرمی کی کمی کی وجہ سے فیٹی لیور (Fatty Liver) تیزی سے عام ہوتا جا رہا ہے۔ بہت سے لوگ جب الٹراساؤنڈ یا ٹیسٹ میں یہ سنتے ہیں کہ جگر میں چربی جمع ہو گئی ہے تو اسے معمولی مسئلہ سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ بیماری ابتدا میں خاموش رہتی ہے مگر آہستہ آہستہ جگر کے نظام کو کمزور کرنا شروع کر دیتی ہے۔

جگر انسانی جسم کا ایک نہایت اہم عضو ہے۔ یہی عضو خون کو صاف کرتا ہے، زہریلے مادوں کو خارج کرتا ہے، ہاضمے میں مدد دیتا ہے اور جسم کی توانائی کو متوازن رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ جب جگر میں چربی جمع ہونا شروع ہوتی ہے تو شروع میں زیادہ علامات ظاہر نہیں ہوتیں، مگر اندرونی طور پر جگر کے خلیات متاثر ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ اگر یہ کیفیت طویل عرصے تک برقرار رہے تو جگر میں سوزش پیدا ہو سکتی ہے اور آہستہ آہستہ جگر اپنی قدرتی کارکردگی کھونے لگتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق فیٹی لیور کو مسلسل نظر انداز کرنے سے یہ بیماری آگے بڑھ کر فائبروسس میں تبدیل ہو سکتی ہے، جس میں جگر کے خلیات کی جگہ سخت بافتیں بننا شروع ہو جاتی ہیں۔ اس مرحلے پر مریض کو بھوک کی کمی، مسلسل تھکن، بدہضمی، پیٹ میں بھاری پن اور جسم میں کمزوری محسوس ہونے لگتی ہے۔ اگر اس کے بعد بھی احتیاط نہ کی جائے تو یہ حالت لیور سروسس تک پہنچ سکتی ہے، جس میں جگر سکڑ جاتا ہے اور اپنی اصل ساخت کھو دیتا ہے۔ بعض مریضوں میں اس مرحلے پر پیٹ میں پانی بھرنا، آنکھوں اور جلد کا پیلا ہونا، جسم میں سوجن اور شدید کمزوری جیسے مسائل پیدا ہونے لگتے ہیں۔ جدید تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ لمبے عرصے تک فیٹی لیور رہنے سے لیور کینسر کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

---

فیٹی لیور کی تدبیر اور احتیاط

حکمت اور جدید طب دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ فیٹی لیور کی بنیادی وجہ غلط طرزِ زندگی اور خوراک ہے۔ اس لیے اس بیماری کی روک تھام اور بہتری کا پہلا اصول یہی ہے کہ انسان اپنی روزمرہ عادات کو درست کرے۔ چکنائی سے بھرپور غذا، فاسٹ فوڈ، کولڈ ڈرنکس اور زیادہ میٹھے کھانوں کا استعمال جگر پر اضافی بوجھ ڈال دیتا ہے۔ اسی طرح مسلسل بیٹھے رہنے والی زندگی بھی جگر میں چربی جمع ہونے کا سبب بن سکتی ہے۔

جگر کی صحت برقرار رکھنے کے لیے ہلکی پھلکی جسمانی سرگرمی، متوازن غذا، سبزیوں اور قدرتی غذاؤں کا استعمال انتہائی ضروری ہے۔ وزن کو اعتدال میں رکھنا، پانی کا مناسب استعمال اور رات کو دیر سے کھانے سے پرہیز بھی جگر کو صحت مند رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ اطباء کے نزدیک جگر کو مضبوط رکھنے کے لیے ایسی غذائیں استعمال کرنا مفید ہوتا ہے جو خون کو صاف کریں اور ہاضمہ بہتر بنائیں۔

---

قدرتی اور حکیمانہ طریقۂ علاج

طبِ یونانی اور روایتی حکمت میں جگر کی اصلاح کے لیے کئی مفید جڑی بوٹیاں صدیوں سے استعمال ہوتی رہی ہیں۔ ان میں چرائتہ، کاسنی، تخم کاسنی، مکو اور کلونجی جیسی جڑی بوٹیاں جگر کی صفائی اور اس کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں معاون سمجھی جاتی ہیں۔ ان جڑی بوٹیوں کو عموماً سفوف یا قہوہ کی شکل میں استعمال کیا جاتا ہے تاکہ جگر پر جمع ہونے والے فاسد مادے کم ہوں اور نظامِ ہضم بہتر ہو۔

ایک سادہ حکیمانہ طریقہ یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ چرائتہ کے چند ٹکڑے رات کو پانی میں بھگو کر صبح نہار منہ اس کا پانی پیا جائے۔ اسی طرح کاسنی اور مکو کا قہوہ جگر کی گرمی کو کم کرنے اور اس کے افعال کو متوازن کرنے میں مددگار سمجھا جاتا ہے۔ البتہ ہر شخص کی جسمانی کیفیت مختلف ہوتی ہے، اس لیے کسی بھی جڑی بوٹی یا نسخے کا استعمال کرنے سے پہلے کسی ماہر طبیب سے مشورہ کرنا بہتر ہوتا ہے تاکہ دوا مزاج اور حالت کے مطابق دی جا سکے۔

یاد رکھیں کہ قدرتی علاج اس وقت زیادہ فائدہ دیتا ہے جب وہ صحیح تشخیص، خالص جڑی بوٹیوں اور متوازن طرزِ زندگی کے ساتھ کیا جائے۔ یہی اصول طبِ نبوی اور قدیم حکمت دونوں میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اگر انسان وقت پر اپنے جسم کے اشاروں کو سمجھ لے اور مناسب تدبیر اختیار کرے تو بہت سی بڑی بیماریوں سے خود کو بچایا جا سکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں صحت کی قدر کرنے اور اسے برقرار رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اکثر لوگ جڑی بوٹیوں اور حکمت کی بات تو کرتے ہیں، مگر اصل فرق وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں تشخیص، علم اور خلوص اکٹھے ہو جائیں۔ اسی سوچ کے ساتھ السیدہ طبِ نبوی کا سفر شروع ہوا، جہاں مریض کو صرف ایک دوا نہیں بلکہ اس کے مزاج، جسمانی کیفیت اور نفسیاتی حالت کو سمجھ کر رہنمائی دی جاتی ہے۔ اس ادارے کی بنیاد ایک پروفیشنل اور ڈگری یافتہ طبیبہ نے رکھی ہے جو نفسیات اور طبِ نبوی دونوں کے اصولوں کو سامنے رکھ کر لوگوں کی صحت کے مسائل کو سمجھنے اور حل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ یہاں کوشش یہی ہوتی ہے کہ جو بھی جڑی بوٹیاں یا ادویات تیار کی جائیں وہ اعلیٰ معیار، خالص اجزاء اور درست ترکیب کے ساتھ ہوں تاکہ علاج محفوظ بھی ہو اور مؤثر بھی۔

آج کے دور میں جہاں بہت سے لوگ بغیر باقاعدہ علم اور سند کے اس میدان میں آ رہے ہیں، وہاں السیدہ طبِ نبوی کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو اعتماد، درست مشورہ اور معیاری ادویات ایک ہی جگہ پر میسر آئیں۔ جو بھی فرد اپنی صحت کے بارے میں سنجیدہ رہنمائی چاہتا ہو، وہ رابطہ کر کے اپنی کیفیت بیان کر سکتا ہے۔ ان شاء اللہ یہاں صرف علاج نہیں بلکہ بہتری کی ایک امید اور درست رہنمائی فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ ہر آنے والا شخص صحت کے سفر میں مایوس نہ ہو بلکہ اطمینان اور اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ سکے۔

  Itching (خواتین کے بیرونی حصے میں خارش) طب و حکمت کی روشنی میں خواتین میں بیرونی نسوانی حصے میں خارش ایک ایسا مسئلہ ہے...
06/03/2026

Itching (خواتین کے بیرونی حصے میں خارش) طب و حکمت کی روشنی میں

خواتین میں بیرونی نسوانی حصے میں خارش ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا ذکر اکثر جھجھک کی وجہ سے کم کیا جاتا ہے، حالانکہ طبی نقطۂ نظر سے یہ صرف ایک علامت ہے جو جسم کے اندر کسی تبدیلی یا عدم توازن کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ خاص طور پر چالیس سال کی عمر کے بعد بہت سی خواتین اس کیفیت کا سامنا کرتی ہیں۔ جدید طب کے مطابق اس عمر کے بعد جسم میں ہارمونل تبدیلیاں شروع ہوتی ہیں، جن میں ایسٹروجن (Estrogen) کی سطح کم ہونے لگتی ہے۔ اس کمی کے نتیجے میں جلد اور مخاطی جھلیوں کی نمی کم ہو جاتی ہے، جس سے خشکی، حساسیت اور خارش جیسی علامات پیدا ہو سکتی ہیں۔

حکمت اور طبِ قدیم میں بھی اس کیفیت کو صرف ظاہری مسئلہ نہیں سمجھا جاتا بلکہ اسے رطوبات کے توازن اور خون کی کیفیت سے جوڑا جاتا ہے۔ قدیم اطباء جیسے ابنِ سینا اور الرازی نے اپنی کتب میں بیان کیا ہے کہ جب جسم میں رطوبات کم ہو جائیں یا خون میں حدت اور خشکی کا غلبہ بڑھ جائے تو جلد کے نازک حصوں میں خارش اور جلن جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔ قرابادین اور دیگر کتبِ حکمت میں بھی اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ایسے مسائل میں صرف مقامی علاج کافی نہیں ہوتا بلکہ جسم کے اندرونی توازن کو درست کرنا ضروری ہوتا ہے۔

اسی لیے حکمت میں غذائی اصلاح اور قدرتی ادویات کو بنیادی اہمیت دی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر خالص زیتون کا تیل (Extra Virgin Olive Oil) ایک ایسی غذا ہے جسے قدیم طب اور طبِ نبوی دونوں میں بڑی اہمیت حاصل ہے۔ روزانہ ایک چمچ خالص زیتون کا تیل استعمال کرنا جسم میں مفید چکنائیاں فراہم کرتا ہے، جلد اور بافتوں کی خشکی کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے اور مجموعی طور پر جسم کے ہارمونل نظام کو بہتر بنانے میں معاون سمجھا جاتا ہے۔

اسی طرح بعض جڑی بوٹیاں ایسی ہیں جنہیں جدید تحقیق میں Adaptogenic herbs کہا جاتا ہے، یعنی وہ جسم کے ہارمونل اور اعصابی نظام کو متوازن رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔ خواتین کی صحت کے لیے شیطاوری (Shatavari) کو حکمت میں نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔ قدیم اطباء اسے خواتین کے جسم میں رطوبات کی کمی کو پورا کرنے اور ہارمونل توازن برقرار رکھنے کے لیے مفید قرار دیتے تھے۔ اسی طرح سونف، ملٹھی اور تخمِ کاسنی جیسی معتدل مزاج جڑی بوٹیاں بھی جسم میں حدت اور خشکی کو کم کرنے میں مددگار سمجھی جاتی ہیں۔

ایک سادہ حکیمانہ نسخہ:
ملٹھی 20 گرام، سونف 20 گرام، تخمِ کاسنی 20 گرام اور مصری 40 گرام لے کر باریک سفوف بنا لیں۔ آدھا چمچ صبح و شام نیم گرم پانی یا دودھ کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ نسخہ جسم میں حدت کو کم کرنے اور رطوبات کے توازن کو بہتر بنانے میں مددگار سمجھا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ روزانہ ایک چمچ خالص زیتون کا تیل غذا میں شامل کرنا بھی مفید ہو سکتا ہے۔

یہ بات ہمیشہ ذہن میں رکھنی چاہیے کہ جسم کی ہر علامت دراصل ایک سگنل ہوتی ہے۔ جب جسم ہمیں کسی تکلیف کے ذریعے متوجہ کرتا ہے تو اس کا مقصد ہمیں یہ بتانا ہوتا ہے کہ اندرونی نظام میں کہیں نہ کہیں عدم توازن پیدا ہو گیا ہے۔ اس لیے کسی بھی مسئلے میں صرف علامت کو دبانے کے بجائے اس کی اصل وجہ کو سمجھنا زیادہ اہم ہوتا ہے۔ یہی اصول حکمت اور طبِ نبوی دونوں میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

آج کے دور میں جدید میڈیکل سائنس اپنی جگہ اہم ہے، مگر اسی طرح طب و حکمت کا علم بھی صدیوں کے تجربات اور مشاہدات پر قائم ایک گہرا فن ہے۔ اس فن میں مہارت، تجربہ اور درست تشخیص بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر کسی مسئلے کے لیے ماہر اور تعلیم یافتہ طبیب کی رہنمائی حاصل کی جائے تو اکثر لوگ قدرتی طریقوں کے ذریعے اپنی صحت کو بہتر بنا سکتے ہیں۔

اگر کوئی شخص اپنے کسی صحت کے مسئلے کو قدرتی طریقے سے سمجھنا اور حل کرنا چاہتا ہو تو بہتر یہی ہے کہ اپنی تمام علامات ایک مستند طبیب کے ساتھ شیئر کرے تاکہ مناسب رہنمائی اور مناسب جڑی بوٹیوں کا انتخاب کیا جا سکے۔ اسی مقصد کے تحت السیدہ طبِ نبوی میں کوشش کی جاتی ہے کہ مریض کی کیفیت کو سمجھ کر اسے درست مشورہ اور معیاری ہربل ادویات فراہم کی جائیں۔ یہ ادارہ کراچی گلستانِ جوہر میں قائم ہے جہاں طبِ نبوی اور حکمت کے اصولوں کے مطابق رہنمائی اور اعلیٰ معیار کی ہربل مصنوعات فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ لوگ اپنی صحت کو قدرتی اور متوازن طریقے سے بہتر بنا سکیں۔

یہ بھی پردہ ھے
05/03/2026

یہ بھی پردہ ھے

گوکھرو صدیوں سے طبِ یونانی اور قدیم حکمت میں استعمال ہونے والی ایک معروف جڑی بوٹی ہے۔ اسے عموماً چھوٹا گوکھرو (Tribulus ...
05/03/2026

گوکھرو صدیوں سے طبِ یونانی اور قدیم حکمت میں استعمال ہونے والی ایک معروف جڑی بوٹی ہے۔ اسے عموماً چھوٹا گوکھرو (Tribulus terrestris) کہا جاتا ہے۔ قدیم اطباء جیسے ابنِ سینا اور رازی نے اسے خاص طور پر گردوں، مثانے اور پیشاب کی نالی کے امراض کے لیے نہایت مفید قرار دیا ہے۔ اس کے کانٹے دار پھل زمین پر بکھرے ہوتے ہیں اور اسی وجہ سے اسے پہچاننا آسان ہوتا ہے۔ دیہاتی علاقوں میں لوگ اکثر اس کے کانٹوں سے بچتے ہوئے گزرتے ہیں کیونکہ یہ پاؤں میں چبھ جاتے ہیں۔

گوکھرو کی پہچان

گوکھرو ایک زمین کے ساتھ پھیلنے والا پودا ہے جس کی چند نمایاں علامات ہوتی ہیں:

پودا زمین کے ساتھ پھیلتا ہے اور زیادہ اونچا نہیں ہوتا۔

اس کے پتے چھوٹے اور جوڑے کی شکل میں ہوتے ہیں۔

پھول عموماً پیلا ہوتا ہے۔

سب سے نمایاں چیز اس کا کانٹے دار پھل ہے جو چھوٹے چھوٹے نوکیلے کانٹوں کی شکل میں ہوتا ہے۔

خشک ہونے کے بعد یہی پھل حکمت میں زیادہ استعمال ہوتا ہے۔

گوکھرو اور بھکڑا میں فرق

دیہات میں اکثر لوگ گوکھرو اور بھکڑا کو ایک ہی سمجھ لیتے ہیں حالانکہ دونوں مختلف چیزیں ہیں۔

گوکھرو

کانٹے دار چھوٹا پھل ہوتا ہے

زیادہ تر گردوں اور پیشاب کے امراض میں استعمال

پیشاب آور (Diuretic) خاصیت رکھتا ہے

بھکڑا

عام طور پر Pedalium murex کو کہا جاتا ہے

اس کا پھل چپچپا مادہ پیدا کرتا ہے

پیشاب کی جلن اور مثانے کی سوزش میں زیادہ استعمال ہوتا ہے

یوں سمجھیں کہ گوکھرو پیشاب کو کھولتا ہے اور پتھری توڑنے میں مدد دیتا ہے جبکہ بھکڑا زیادہ تر جلن اور سوزش کو کم کرتا ہے۔

طبِ یونانی اور حکمت میں اہمیت

حکمت میں گوکھرو کو ایک اہم مفتت، مدر بول اور مقوی گردہ دوا سمجھا جاتا ہے۔ قانون مفرد اعضاء کے اصولوں کے مطابق یہ خاص طور پر غدی اور عضلاتی نظام کو متوازن کرنے میں مدد دیتا ہے۔

قدیم نسخوں میں اسے درج ذیل امراض میں استعمال کیا جاتا ہے:

گردوں کی پتھری

پیشاب کی رکاوٹ

پیشاب کی جلن

مثانے کی کمزوری

مردانہ کمزوری

جریان اور اح**ام

جسم میں سوجن (پانی جمع ہونا)

جوڑوں کا درد اور یورک ایسڈ

ہائی بلڈ پریشر میں ہلکی مدد (پیشاب بڑھانے کی وجہ سے)

جدید سائنسی تحقیق میں بھی اس کے اندر ساپوننز (Saponins) پائے جاتے ہیں جو ہارمونل بیلنس اور یورینری سسٹم پر مثبت اثر ڈال سکتے ہیں۔

گوکھرو استعمال کرنے کے بہترین طریقے

1. جوشاندہ (گردوں اور پیشاب کے لیے)

گوکھرو 10 گرام

پانی 2 کپ

اسے ہلکی آنچ پر پکائیں حتیٰ کہ ایک کپ رہ جائے۔
صبح اور شام استعمال کریں۔

2. سفوف (پتھری اور جلن کے لیے)

گوکھرو

تخم کاسنی

تخم خیارین

تینوں برابر مقدار میں پیس کر سفوف بنا لیں۔
آدھا چمچ صبح شام پانی یا جو کے پانی کے ساتھ استعمال کریں۔

3. مردانہ کمزوری کے لیے

گوکھرو

اشوگندھا

سفید موصلی

برابر مقدار میں سفوف بنا کر آدھا چمچ دودھ کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے۔

غذائی احتیاط

اگر گردوں یا پیشاب کا مسئلہ ہو تو:

زیادہ نمک سے پرہیز

بہت زیادہ چائے اور کولڈ ڈرنکس کم کریں

پانی مناسب مقدار میں پئیں

جو (Barley) کا پانی مفید رہتا ہے

خلاصہ

گوکھرو ایک سادہ مگر نہایت مؤثر جڑی بوٹی ہے جسے قدیم حکمت نے گردوں اور پیشاب کے نظام کا محافظ قرار دیا ہے۔ صحیح پہچان اور مناسب مقدار کے ساتھ اس کا استعمال نہ صرف پیشاب کی تکالیف بلکہ جسم کے کئی دوسرے مسائل میں بھی مدد دے سکتا ہے۔ قدیم اطباء نے ہمیشہ یہی اصول بتایا ہے کہ جڑی بوٹی کی اصل طاقت اس کے درست استعمال اور درست تشخیص میں ہوتی ہے۔

اگر کسی کو گردوں، پیشاب کی جلن یا پتھری جیسے مسائل ہوں تو مناسب رہنمائی کے ساتھ قدرتی طریقوں سے بھی ان مسائل میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ ایسے معاملات میں تجربہ کار رہنمائی ہمیشہ بہتر نتائج دیتی ہے تاکہ علاج محفوظ اور مؤثر رہے۔
صحت صرف دوا سے نہیں بلکہ درست تشخیص، خالص اجزاء اور مخلص رہنمائی سے بہتر ہوتی ہے۔ السیدہ طبِ نبوی اسی اصول پر قائم ایک ایسا ادارہ ہے جہاں مریض کو سرسری نہیں بلکہ اس کی مکمل کیفیت کو سمجھ کر مشورہ دیا جاتا ہے۔ یہاں طبِ نبوی، حکمت اور نفسیاتی پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے اعلیٰ معیار کی جڑی بوٹیوں سے ادویات تیار کی جاتی ہیں تاکہ علاج محفوظ بھی ہو اور مؤثر بھی۔ اس ادارے کی بنیاد ایک پروفیشنل اور سند یافتہ طبیبہ نے رکھی ہے، اس لیے یہاں ہر رہنمائی علم اور تجربے کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔

اگر آپ اپنی صحت کے مسئلے کو سنجیدگی سے سمجھنا چاہتے ہیں اور خالص و معیاری ہربل رہنمائی چاہتے ہیں تو السیدہ طبِ نبوی سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ ان شاء اللہ یہاں آپ کو نہ صرف بہتر مشورہ ملے گا بلکہ ایسی بہترین ھربل پراڈکٹس بھی فراہم کی جائیں گی جو آپ کی صحت کے لیے حقیقی مددگار ثابت ہوں۔

Address

Gulistan E Jouher
Karachi Lines
75300

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al Syedah tibbe nabwi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Al Syedah tibbe nabwi:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram