Hadi Homoeo Clinic

Hadi Homoeo Clinic Dr. Ejaz-ul-Haq Siddiqui
D.H.M.S, R.H.M.S
Ph.D IN ALTERNATIVE MEDICINE FROM COLOMBO UNIVERSITY
Practicing since 1988

19/11/2025

محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان مرحوم نے کینسر سے بچے رہنے کا کیا زبردست طریقہ بتایا تھا ؟ انکے ایک کالم سے اقتباس : بین الاقوامی کینسر کے علاج کی دوائیں بنانے والے کبھی یہ نہیں بتاتے کہ کینسر محض وٹامن B-17کی کمی کا نام ہے اور بین الاقوامی سطح پر ایسے ٹانک بنانا ممنوع ہیں جو B-17فراہم کرتے ہوں۔ اللہ پاک نے بادام میں B-17کی اچھی مقدار رکھی ہے۔ اگر آپ روزانہ بادام کے 7,6دانے کھالیں تو B-17کی کمی کی بیماری نہیں ہوتی ہے۔ بادام کھائیے اور کینسر سے محفوظ رہئے۔(2)چقندر، گاجر، سیب اور ایک لیموں کا عرق اگر صبح شام آپ استعمال کریں تو اللہ تعالیٰ آپ کو کینسر سے نجات دلاتا ہے اور محفوظ بھی رکھتا ہے۔(3)کریلے کے تین چار چھلے کاٹیں، کپ میں ڈال کر گرم پانی اس پر ڈالیں، چند منٹ رہنے دیں اور پھر یہ پانی دو تین مرتبہ پی لیں، ان شاء اللہ کینسر کے سیل ختم ہو جائیں گے۔(4)ناریل (کھوپرا) کے چند باریک ٹکڑے کاٹیں اور اس پر گرم پانی ڈال دیں۔ کچھ وقت کے بعد پانی سفید ہو جائے گا، اس کے پینے سے کینسر کے سیل ختم ہوجاتے ہیں۔(5)ایک لیموں لے کر اس کا عرق نکالیں۔ اس میں نیم گرم پانی ڈالیں، اگر شوگر کی بیماری نہیں ہے تو اس میں شہد ملا کر تین مرتبہ دن میں استعمال کریں۔ ان شاء اللہ آرام ملے گا۔(6)سرسوں کا ساگ کھانے سے کینسر کا خطرہ نہیں رہتا۔(7)تحقیق کے مطابق مختلف اقسام کے کینسر سے بچنے کیلئے درج ذیل اشیا کا استعمال بھی مفید پایا گیا ہے۔ بروکلی، گاجر، پھلیاں لوبیا، بیریز، دارچینی، خشک میوہ جات یعنی بادام، مغز، اخروٹ کی گری وغیرہ، روغن زیتون، ہلدی، سٹرس فروٹ، اَلسی کے بیج، ٹماٹر وغیرہ۔

25/10/2025

سال کے آخری مہینوں میں ایک پھل کافی زیادہ نظر آتا ہے جسے جاپانی پھل کے نام سے جانا جاتا ہے مگر اردو میں اسے املوک کا نام دیا گیا ہے، جبکہ انگلش میں persimmon کہا جاتا ہے۔

بنیادی طور پر یہ چین سے تعلق رکھنے والا پھل ہے جس کی کاشت ہزاروں سال سے ہورہی ہے اور اب دنیا بھر میں اس کی مختلف اقسام کو اگایا جاتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ آخر اسے جاپانی پھل کیوں کہا جاتا ہے؟ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ جاپان میں اگائی جانے والی اس کی ایک قسم Diospyros kaki کی بہت زیادہ مقبولیت ہے جو لگ بھگ دنیا بھر میں اگائی جاتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اسے جاپانی پھل کا نام بھی دیا گیا ہے۔

نارنجی یا ٹماٹر جیسا یہ پھل اپنی مٹھاس اور شہد جیسے ذائقے کی وجہ سے جانا جاتا ہے اور جیسا درج کیا جاچکا ہے کہ اس کی سیکڑوں اقسام اب دنیا بھر میں موجود ہیں، جن میں چند زیادہ مقبول ہیں۔

اس پھل کو تازہ، خشک یا پکا کر بھی کھایا جاتا ہے جبکہ دنیا بھر میں اس کی جیلی، مشروبات، پائی، سالن اور پڈنگ وغیرہ بھی تیار ہوتے ہیں۔

یہ صرف مزیدار ہی نہیں ہوتا بلکہ اس میں نیوٹریشن یا غذائی اجزا بہت زیادہ ہیں جو متعدد طریقوں سے صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔

درج ذیل میں املوک یا جاپانی پھل کے فوائد جان سکتے ہیں تاکہ اس موسم کی اس سوغات کو اپنی غذا کا حصہ بناسکیں۔

غذائی اجزا سے بھرپور

اگرچہ اس کا حجم زیادہ نہیں ہوتا مگر اس میں غذائی اجزا کی مقدار متاثر کن ہے، درحقیقت ایک پھل میں 118 کیلوریز، 31 گرام کاربوہائیڈریٹس، ایک گرام پروٹین، 0.3 گرام چکنائی، 6 گرام فائبر، روزانہ درکار وٹامن اے کی 55 فیصد مقدار، روزانہ درکار وٹامن سی کی 22 فیصد مقدار، روزانہ درکار وٹامن ای کی 6 فیصد جبکہ وٹامن کے کی 5 فیصد مقدار، روزانہ درکار وٹامن بی 6 کی 8 فیصد مقدار، پوٹاشیم کی روزانہ درکار 8 فیصد مقدار، کاپر کی درکار 9 فیصد جبکہ میگنیز کی 30 فیصد مقدار جسم کو دستیاب ہوتی ہے۔

اس کے علاوہ یہ پھل وٹامن بی 1، وٹامن بی 2، فولیٹ، میگنیشم اور فاسفورس کے حصول کا بھی اچھا ذریعہ ہے اور کم کیلوریز کے ساتھ فائبر کی موجودگی اسے جسمانی وزن میں کمی کے لیے اچھا پھل بناتی ہے

وٹامنز اور منرلز کے علاوہ اس میں متعدد نباتاتی مرکبات جیسے فلیونوئڈز اور کیروٹین وغیرہ موجود ہوتے ہیں، جو صحت پر مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں۔

اینٹی آکسائیڈنٹس کے حصول کا طاقتور ذریعہ
جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ اس میں نباتاتی مرکبات موجود ہوتے ہیں جو اینٹی آکسائیڈنٹس خصوصیات رکھتے ہیں، اینٹی آکسائیڈنٹس خلیات کو تکسیدی تناﺅ سے ہونے والے نقصان سے بچانے میں مدد دیتے ہیں، جس سے مالیکیولز کو نقصان پہنچتا ہے جن کو فری ریڈیکلز بھی کہا جاتا ہے۔

یہ تکسیدی تناﺅ مختلف امراض جیسے امراض قلب، ذیابیطس، کینسر اور دماغی عوارض جیسے الزائمر وغیرہ کا باعث بن سکتا ہے، مگر اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور غذائیں جیسے جاپانی پھل کا استعمال اس تکسیدی تناﺅ سے لڑنے میں مدد دے کر ان مخصوص امراض کا خطرہ کم کرسکتا ہے۔

فلیونوئڈز سے بھرپور غذائیں بھی امراض قلب، عمر بڑھنے سے لاحق ہونے والے جسمانی تنزلی اور پھیپھڑوں کے کینسر سے تحفظ کے لیے مفید سمجھی جاتی ہیں اور اس پھل میں وہ بھی جسم کو ملتا ہے۔

بیٹا کیروٹین کی موجودگی کے باعث بھی یہ پھل امراض قلب، مختلف اقسام کے کینسر اور میٹابولک امراض جیسے ذیابیطس یا بلڈ پریشر وغیرہ کا خطرہ کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا تھا کہ بیٹا کیروٹین کا زیادہ استعمال ذیابیطس ٹائپ ٹو میں مبتلا ہونے کا خطرہ نمایاں حد تک کم کرتا ہے۔

دل کی صحت کے لیے ممکنہ طور پر فائدہ مند
امراض قلب دنیا بھر میں اموات کی سب سے بڑی وجہ سمجھے جاتے ہیں اور کروڑوں افراد کی زندگیوں کو متاثر کرتے ہیں، خوش قسمتی سے بیشتر اقسام کے امراض قلب کی روک تھام مختلف عناصر کا خیال رکھ کر ممکن ہے جیسے ناقص غذا سے دوری۔

جاپانی پھل میں موجود مختلف اجزا کا امتزاج اسے دل کی صحت کے لیے ایک مثالی انتخاب بناتا ہے، جیسا اوپر درج بھی کیا جاچکا ہے کہ دل کی صحت کے لیے اس کے اجزا کس حد تک فائدہ مند ثابت ہوسکتے ہیں۔

مگر یہ بھی جان لیں کہ فلیونوئڈز سے بھرپور غذائیں بلڈ پریشر اور نقصان دل کولیسٹرول کی سطح کو کم کرکے دل کی صحت کو بہتر بنانے میں بھی مدد دیتی ہیں جبکہ ورم بھی کم ہوتا ہے، جبکہ اس میں موجود ایک اور جز tannins بھی بلڈپریشر کی سطح میں کمی لاتا ہے۔

جسمانی ورم میں کمی لاسکتا ہے
امراض قلب، جوڑوں کے امراض، ذیابیطس، کینسر اور موٹاپا سب کا تعلق دائمی ورم سے جوڑا جاتا ہے۔

مگر ورم کش مرکبات سے بھرپور غذاﺅں کا استعمال اس ورم کو کم کرکے امراض کا خطرہ بھی کم کرتا ہے۔

جاپانی پھل وٹامن سی کے حصول کا اچھا ذریعہ ہے جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ ایک پھل سے روزانہ درکار 22 فیصد مقدار حاصل کی جاسکتی ہے، یہ وٹامن خلیات کو فری ریڈیکلز سے بچانے میں کردار ادا کرنے کے ساتھ جسم کو ورم سے لڑنے کے لیے تیار کرتا ہے۔

تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا تھا کہ غذائی شکل میں وٹامن سی کا زیادہ استعمال ورم سے ہونے والی بیماریوں امراض قلب، مثانے کے کینسر اور ذیابیطس وغیرہ کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

جاپانی پھل میں کیروٹین، فلیونوئڈز اور وٹامن ای بھی موجود ہیں اور یہ سب اینٹی آکسائیڈنٹس جسمانی ورم سے لڑنے میں مدد دیتے ہیں۔

فائبر سے بھرپور
جسم میں کولیسٹرول کی زیادہ مقدار خصوصاً نقصان دہ سمجھے جانے والے ایل ڈی ایل کولیسٹرول سے امراض قلب، فالج اور ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھتا ہے۔

پانی میں حل ہوجانے والے فائبر سے بھرپور غذائیں جیسے پھلوں اور سبزیوں کا استعمال کولیسٹرول کی سطح کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ جاپانی پھل زیادہ فائبر والا پھل ہے جو ایل ڈی ایل کولیسٹرول کی سطح کم کرسکتا ہے۔

ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو بالغ افراد جاپانی پھل میں موجود فائبر سے بننے والی کوکی بار 12 ہفتوں تک دن میں 3 بار کھاتے ہیں، ان میں ایل ڈی ایل کولیسٹرول کی سطح میں نمایاں کمی آتی ہے۔

فائبر آنتوں کی سرگرمیوں کو بھی معمول پر لاتا ہے جبکہ ہائی بلڈ شوگر کی سطح کو کم کرنے کے لیے بھی مفید سمجھا جاتا ہے۔

اس پھل میں موجود فائبر کاربوہائیڈریٹ کو ہضم کرنے اور شکر کے جذب ہونے کی رفتار سست کرتے ہیں، جس سے بلڈ شوگر لیول کی سطح بڑھنے سے روکنا ممکن ہوپاتا ہے۔

ذیابیطس کے مریضوں پر ہونے والی ایک اور تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ پانی میں حل ہونے والے غذائی فائبر کا استعمال بڑھانا بلڈ شوگر لیول کی سطح میں نمایاں بہتری آتی ہے، جبکہ فائبر آنتوں میں موجود فائدہ مند بیکٹریا کو ایندھن پہنچانے میں مدد دیتا ہے، جس سے نظام ہاضمہ اور مجموعی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

صحت مند بینائی کے لیے معاون
جاپانی پھل میں وٹامن اے اور ایسے اینٹی آکسائیڈنٹس موجود ہیں جو آنکھوں کے لیے صحت کے لیے ضروری ہیں، وٹامن اے بینائی کے مختلف افعال میں مدد دیتا ہے جبکہ اس پھل میں موجود ایک پروٹین rhodopsin بھی معمول کی بینائی کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ جاپانی پھل میں لیوٹین اور zeaxanthin بھی ہوتے ہیں جو کیروٹین اینٹی آکسائیڈنٹس ہیں جو صحت مند بینائی کے لیے فائدہ مند ہیں، ان دونوں اجزا سے بھرپور غذا آنکھوں کے مخصوص امراض کا خطرہ ممکنہ طور پر کم کرسکتے ہیں جیسے عمر بڑھنے سے پٹھوں میں آنے والی کمزوری، جس کے نتیجے میں قرینہ متاثر ہوتا ہے اور بینائی سے محرومی کا سامنا ہوسکتا ہے۔

نوٹ تحریر کے لئے مختلف بلاگز اور ریسرچرز کی مدد لی گئی ہے۔۔

20/10/2025
05/10/2025

مصنوعی میٹھا یعنی چینی اور اس سے بننے والی مصنوعی چیزیں کینسر کی بڑی وجہ مصنوعی میٹھا سے مکمل احتیاط کینسر کے مریض کو چند مہینوں میں صحت مند زندگی دلاسکتی ہے ۔
*کینسر کوئی خطرناک بیماری نہیں ہے!* *ڈاکٹر۔ گپتا کہتے ہیں "کسی کو بھی کینسر کی وجہ سے نہیں مرنا چاہیے۔ یہ اقدامات کریں:-*

*(1)۔ پہلا قدم چینی کے استعمال کو روکنا ہے۔ آپ کے جسم میں چینی کے بغیر، کینسر کے خلیات قدرتی طور پر مر جاتے ہیں.*

*(2)۔ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایک کپ نیم گرم پانی میں لیموں کا رس ملا کر صبح 1-3 ماہ تک کھانے سے پہلے پی لیں، کینسر ختم ہو جائے گا۔ میری لینڈ میڈیکل ریسرچ کے مطابق گرم لیموں کا پانی کیموتھراپی سے 1000 گنا بہتر، مضبوط اور محفوظ ہے۔*

*(3) تیسرا مرحلہ: صبح اور رات 3 کھانے کے چمچ ناریل کا تیل پینے سے کینسر ختم ہو جائے گا۔ *آپ دیگر دو علاجوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرسکتے ہیں جس میں چینی سے بچنا شامل ہے۔*

لاعلمی کوئی بہانہ نہیں ہے۔ میں یہ معلومات 5 سال سے زیادہ عرصے سے شیئر کر رہا ہوں۔
*اپنے اردگرد موجود ہر کسی کو بتائیں، کینسر سے مرنا سب کے لیے باعثِ شرم ہے۔ زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ جانیں بچ جائیں*

30/09/2025

ہاضمے کی مشہور دوا نیٹرم فاس 6 سی یا 6 ایکس بہت زیادہ فوائد کی حامل ھے ۔ یہ دوا چونکہ انرجی لیول کو بہتر کرتی ھے۔ اس لٸے یہ کولیسٹرول ٹرائی گلیسرائیڈ یورک ایسڈ.. گیس سے دل کی دھڑک۔ قبض. اپھارہ.. بدھضمی.. بادی بواسیر... فیٹی لیور.. موٹاپا.. دل کے امراض.اعصابی کمزوری اور بھت سے فوائد کی حا مل ھے... یعنی صحت کا خزانہ ھے... ۔چہرے کی جھریاں ختم کرتی ھے اور نکھار پیدا کرتی ھے اور رنگت صاف شفاف کرتی ھے معدے کے جملہ امراض پہ بہت کمال ریزلٹ دیتی ھے.. بھوک خوب پیدا کرتی ھے... یعنی ایپی ٹائزر بھی ھے.. مسلسل استعمال سے دل کے والو بھی کھول دیتی ھے..
شوگر کو کنٹرول کرتی ہے اور لگا تار استعمال شوگر کو ختم کرتا ہے کھا نے کو خوب ہضم کرتی ھے اور ایچ پائلوری میں حیران کن رزلٹ ہیں۔ خون کو پتلا کر کے بلڈ پریشر کو کنٹرول کر تی ھے ۔ یہ باڈی میں انرجی لیول کو بہتر کرتی ھے۔جسم درد۔لیکوریا اور لیٹک ایسڈ کے اثرات کو ٹھیک کرتی ھے۔پیٹ کے کیڑے بھی کم کرتی ھے۔

صحت و سنت ساتھ ساتھ !
09/09/2025

صحت و سنت ساتھ ساتھ !

01/09/2025

*ارجن: دل کا محافظ درخت*

ارجن (Arjun)ایک قد آور درخت ہے۔ جو ہندوستان، پاکستان، سری لنکا، میانمار اور کچھ دوسرے ایشیائی ممالک میں بکثرت پایا جاتا ہے۔ پتے امرود کے پتوں جیسے قریبا چار پانچ انچ لمبے اور ایک سے دو انچ چوڑے ہوتے ہیں اور دس پتوں سے لے کر پندرہ پتے ایک شاخ میں لگتے ہیں۔اسکے پھول لمبے اور گچھے نما ہوتے ہیں اور اسکے بیج لکڑی کی طرح اور پانچ کونوں والے ہوتے ہیں۔اس کے پھل لمبے اورسبز رنگ کے ہوتے ہیں۔ ماہ جولائی میں اس کو پھل کثرت سے لگتے ہیں۔اسکو بیج اور قلم دونوں طریقوں سے لگایا جا سکتا ہے۔

لاہور کے لارنس باغ میں بھی ارجن کے کئی درخت ہیں۔آج سے چالیس پچاس سال پہلے یہ درخت شہروں میں سڑک کنارے اکثر لگائے جاتے تھے لیکن بعد میں کسی دور میں ہزاروں کی تعداد میں ان پرانے درختوں کو کاٹ دیا گیا۔ لیکن اب گذشتہ دس پندرہ سال میں محکمہ جنگلات پنجاب اور خصوصا موٹر وے اتھارٹی والوں نے اسکے سینکڑوں درخت لاہور۔اسلام آباد موٹر وے کے اطراف میں لگائے ہیں۔

اسکی لکڑی کافی ٹھوس قسم کی ہوتی ہے اوریہ ان درختوں میں شامل ہے جن کی لکڑی فی کیوبک میٹر ایک ٹن کے قریب ہوتی ہے۔یہ درخت سینکڑوں سال تک قائم رہتا ہے اور بظاہر اسے کوئی بیماری بھی نہیں لگتی۔

ایک اعلیٰ قسم کا ریشم کا کیڑاجسے Tussar silk کہا جاتا ہے، اس ریشم کے کیڑے اس درخت کے پتوں پر پالے جاتے ہیں۔

اس درخت کو طب میں بہت اہمیت حاصل ہے اور ہزاروں سال سے اس درخت کے مرکبات مختلف ادویات اور بیماریوں سے بچاؤ کیلئے استعمال ہوتے ہیں۔خاص طور پر دل سے متعلقہ بیماریوں اور ہائی بلڈ پریشر کیلئے اسکی چھال کو ابال کر پیتے ہیں۔ اسی وجہ سے اس درخت کو ''دل کا محافظ'' درخت بھی کہا جاتا ہے۔

ارجن کو ہندی میں ارجنا،سنسکرت میں ارجن پرکھش، تامل میں مردتنے، بنگالی میں ارجن، گجراتی میں ساجد ان اور انگریزی میں بھی Arjun Tree ہی کہتے ہیں، اسکا نباتاتی نام Terminalia arjuna ہے۔

ارجن میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا: ارجن کی چھال میں پندرہ فیصد ٹے نین، تیس فیصد کیلشِیم کاربونیٹ، سوڈیم اور گلوکوسائیڈ پایا جاتا ہے۔انکے علاوہ بیٹا سائیٹو سیٹرول،ٹرائی ٹرپی نائیڈسیونین،ارجونین،ارجونیٹین،ارجو نولک ایسڈ،فراری تیل،شکر،کے ساتھ تھوڑی مقدار میں میگنیشیم اور ایلومینیم کے نمکیات بھی ملتے ہیں۔

ارجنا کے پتوں سے ہومیوپیتھک میں مدر ٹنکچر (Q) تیار کی جاتی ہے۔ جو کہ دل کو طاقت دیتا ہے۔اس کی دھڑکن کو کم کرتا ہے۔ ارجن زہریلے اثرات سے پاک ہے۔

ارجن کے طبی فوائد:

دل کے امراض: ارجن کو دل کا محافظ درخت کہا جاتا ہے۔ اس کی چھال میں پایا جانے والا گلوکو سائیڈ انگریزی دواڈیجی ٹیلس (Digitalis)کی طرح دل کی دھڑکن کو ختم کرتا ہے اور دل کو طاقت دیتا ہے۔ تاہم ڈیجی ٹینس میں زہریلے ا ثرات ہوتے ہیں اور ارجن کی چھال کا گلو کو سائڈ بالکل بے ضرر ہوتاہے۔

اس کو دل کے فعلی اور عضویاتی امراض میں جیسے کہ درددل، انجائینا،خفقان،ورم بطانہ قلب،ورم غلاف القلب میں استعمال کیا جاتا ہے،اس کی سب سے اچھی خوبی اس کا بے ضرر ہونا ہے۔ اس کے دل پر کوئی زہریلے اثرات نہیں ہوتے۔ یہ ہائیپرٹینشن میں خاص طور پر مفید ہے۔

ارجن میں پائے جانے والے اجزاء دل کے نازک پٹھوں خون کی نالیوں کو مظبوط کرنے کے ساتھ خون میں چکنائی کو ہضم کرنے والے نظام کی اصلاح کر کے اسے فعال بناتے ہیں۔اینٹی اوکسیڈنٹ بطور دوا ایسے جزو کا نام ہے جو دوسرے اجزاء کو اکسیجن سے مل کر ٹھوس ہونے سے روکے جیسے کہ خون کی نالیوں میں چکنائی کا جمنا،ارجن کی چھال سے بننے والا قہوہ اپنی اینٹی اوکسیڈنٹ صلاحیت کی وجہ سے دل کے امراض میں انتہائی مفید ہے۔

ڈی این اے تحفظ: ارجن میں ایسے مرکبات ہیں جو ڈی این اے کو مختلف وجوہات سے پہنچنے والے نقصان سے بچانے میں معاون ہیں۔

قلبی صحت: یہ دل کے پٹھوں کو طاقت فراہم کرتا ہے اور خون کو پمپ کرنے کی دل کی صلاحیت کو بہتر بناتا ہے۔ اس میں کارڈیو حفاظتی اقدامات ہیں، جو دل کے زیادہ سے زیادہ افعال کو محفوظ رکھنے میں مدد کرتا ہے اور کارڈیک چوٹ کی بحالی کے عمل کو تیز کرتا ہے۔ یہ سب سے زیادہ عام طور پر مایوکارڈیل انفکشن (ہارٹ اٹیک) سے بچاؤ کے لئے استعمال ہوتا ہے کیونکہ اس میں اینٹی ایٹروجینک پراپرٹی ہے، جو کورونری شریانوں میں پیدا ہونے والی سختی کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے اور دل کے ٹشووں میں خون کے بہاؤ کو بہتر بناتا ہے۔

ہائی بلڈ پریشر کا علاج: ہائی بلڈ پریشر کیلئے ارجن ایک بہترین گھریلو علاج ہے۔ ہائی بلڈ پریشر ایک انتہائی سنگین طبی حالت ہے جو دل کی ناکامی، فالج، دل کا دورہ، گردے کی خرابی اور دیگر سنگین پریشانیوں کا سبب بن سکتا ہے۔ ہائی بلڈ پریشر کی عام علامات میں شدید سردرد، متلی، الٹی، الجھن، ناک سے خون بہنا وغیرہ شامل ہیں۔ لہذا قدرتی طور پر ہائی بلڈ پریشر کا علاج کرنے کے لئے ارجن سے بہتر کوئی قدرتی دوا نہیں ہے۔

بواسیر اور خون بہنے والی امراض: ارجن میں پائے جانے والے قدرتی مادے میں اینٹی ہیمرجک پراپرٹی ہے، جس سے بہتے خون کو روکا جا سکتا ہے۔ یہ یونانی طب میں عام طور پر دیگر جڑی بوٹیوں کے ساتھ خون بہہ جانے والی عوارض کے لئے استعمال ہوتا ہے۔

ارجن کے دیگر استعمال: ارجن قدرت کا ایک بیش بہا تحفہ ہے۔ارجن کی چھال کا جوشاندہ دست، پیچش، جریان خون اور جریان منی میں مفید ہے۔ اگر اس کی چھال کے جوشاندہ سے زخموں کو دھویا جائے تو جلدی مندمل ہو جاتے ہیں۔ اس کی چھال کے سفوف کو کیل مہاسے اور چھائیوں میں استعمال کرنا مفید ہے۔ معمولی چوٹ میں چھال کو پانی میں پیس کر لیپ کر لینا کافی ہے۔ اس کی چھال سے بہترین کھاد بنائی جاتی ہے۔ بنگال (مدنا پور) میں اس کی چھال خاکی کپڑہ رنگنے میں کام آتی ہے۔ ارجن کی چھال کا سفوف دودھ یا پانی کے ہمراہ چو ٹ لگنے اور ہڈی ٹوٹنے میں کھلاتے ہیں۔ جب کے خون جمنے سے جلد پر سرخ یا نیلے رنگ کے داغ پڑ گئے ہوں۔ پتے تیل میں جلا کر کان میں ڈالنا کان درد کے لئے مفید ہے۔ پھل کا سفوف چار گرام ہمراہ پانی قبض کو کھولتا ہے۔

Address

G 22 New Haidery Market Block M
Karachi
74600

Opening Hours

Monday 18:00 - 21:00
Tuesday 18:00 - 21:00
Wednesday 18:00 - 21:00
Thursday 18:00 - 21:00
Friday 18:00 - 21:00
Saturday 18:00 - 21:00
Sunday 11:30 - 13:00

Telephone

+923002107489

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hadi Homoeo Clinic posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category