Shazli Spiritual Healer

Shazli Spiritual Healer وننزل من القرآن ما ھو شفاء

05/12/2025

کاندھلہ میں ایک مرتبہ ایک زمین کا ٹکڑا تھا اس پر جھگڑا چل پڑا مسلمان کہتے تھے کہ یہ ہمارا ہے ہندو کہتے تھے کہ یہ ہمارا ہے چنانچہ یہ مقدمہ بن گیا انگریز کی عدالت میں پہنچا جب مقدمہ آگے بڑھا تو مسلمان نے اعلان کردیا کہ یہ زمین کا ٹکرا اگر مجھے ملا تو میں مسجد بناؤں گا ہندوؤں نے جب سنا تو انہوں نے ضد میں کہہ دیا کہ یہ ٹکڑا اگر ہمیں ملا تو ہم اس پر مندر بنائیں گے اب بات دو انسانوں کی انفرادی تھی لیکن ا س میں رنگ اجتماعی بن گیا حتٰی کہ ادھر مسلمان جمع ہوگئے اور ادھر ہندو اکٹھے ہوگئے اور مقدمہ ایک خاص نوعیت کا بن گیا اب سارے شہر میں قتل وغارت ہو سکتی تھی خون خرابہ ہوسکتا تھا تو لوگ بھی بڑے حیران تھے کہ نتیجہ کیا نکلے گا انگریز جج تھا وہ بھی پریشان تھا کہ اس میں کوئی صلح وصفائی کا پہلو نکالے ایسا نہ ہو کہ یہ آگ اگر جل گئی تو اس کا بجھانا مشکل ہو جائے جج نے مقدمہ سننے کے بجائے ایک تجویز پیش کی کہ کیا کوئی ایسی صورت ہے کہ آپ لوگ آپس میں بات چیت کے ذریعے مسلہ کا حل نکال لیں تو ہندوّں نے ایک تجویز پیش کی ہم آپ کو ایک مسلمان کا نام تنہائی میں بتائیں گے آپ اگلی پیشی پر ان کو بلالیجئے اور ان سے پوچھ لیجئے اگر وہ کہیں کہ یہ مسلمانوں کی زمین ہے تو ان کو دے دیجئے اور اگر وہ کہیں کہ یہ مسلمانوں کی زمین نہیں ہندوؤں کی ہے تو ہمیں دے دیجئے جب جج نے دونوں فریقان سے پوچھا تو دونوں فریق اسی پر راضی ہوگئے مسلمانوں کے دل میں یہ تھی کہ مسلمان ہوگا جو بھی ہوا تو وہ مسجد بنانے کے لیے بات کرے گا چنانچہ انگریز نے فیصلہ دے دیا اور مہینہ یا چند دنوں کی تاریخ دے دی کہ بھئی اس دن آنا اور میں اس بڈھے کو بھی بلوالون گا اب جب مسلمان باہر نکلے تو بڑی خوشیاں منارہے تھے سب کو در ہے تھے نعرے لگا رہے تھے ہندوؤں نے پوچھا اپنے لوگوں سے کہ تم نے کیا کہا انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک مسلمان عالم کو حکم بنالیا ہے کہ وہ اگلی پیشی پر جو کہے گا اسی پر فیصلہ ہوگا اب ہندوؤں کے دل مرجھاگئے اور مسلمان خوشیوں سے پھولے نہیں سماتے تھے لیکن انتظار میں تھے کہ اگلی پیشی میں کیا ہوتا ہے چنانچہ ہندوؤں نے مفتی مظفر حسین کاندھلوی رحمتہ اللہ علیہ کا نام بتایا کہ جو شاہ عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ کے شاگردوں میں سے تھے اور اللہ نے ان کو سچی زندگی عطا فرمائی تھی مسلمانوں نے دیکھا کہ مفتی صاحب تشریف لائے ہیں تو وہ سوچنے لگے کہ مفتی صاحب تو مسجد کی ضرور بات کریں گے چنانچہ جب انگریز نے پوچھا کہ بتائیے مفتی صاحب یہ زمین کا ٹکڑا کس کی ملکیت ہے ان کو چونکہ حقیقت حال کا پتہ تھا انہوں نے جواب دیا کہ یہ زمین کا ٹکڑا تو ہندوؤں کا ہے اب جب انہوں نے یہ کہا کہ یہ ہندو کا ہے تو انگریز نے اگلی بات پوچھی کہ کیا اب ہندو لوگ اس کے اوپر مندر تعمیر کرسکتے ہیں مفتی صاحب نے فرمایا جب ملکیت ان کی ہے تو وہ جو چاہیں کریں چاہے گھر بنائیں یا مندر بنائیں یہ ان کا اختیار ہے چنانچہ فیصلہ دے دیا گیا کہ زمین ہندوؤں کی ہے ۔
مگر انگریز نے فیصلے میں ایک عجیب بات لکھی فیصلہ کرنے کے بعد لکھا کہ:
"آج اس مقدمہ میں مسلمان ہار گئے مگر اسلام جیت گیا"
جب انگریز نے یہ بات کہی تو اس وقت ہندوؤں نے کہا کہ آپ نے تو فیصلہ دے دیا ہماری بات بھی سن لیجئے ہم اسی وقت کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوتے ہیں اور آج یہ اعلان کرتے ہیں کہ اب ہم اپنے ہاتھوں سے یہاں مسجد بنائیں گے۔
ایک اللہ والے کی زبان سے نکلی ہوئی سچی بات کا یہ اثر ہوا کہ ہندوؤں نے بھی اسلام قبول کیا اور اپنے ہاتھوں سے مسجد بنائی۔

———————-
🚬

04/12/2025

موت کے چھ مراحل ہوتے ہیں۔
پہلا مرحلہ "یوم الموت" کہلاتا ہے۔ یہ وہ دن ہے جب انسان کی زندگی کا اختتام ہو جاتا ہے۔ اس دن اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ زمین پر جائیں اور انسان کی روح قبض کریں تاکہ اسے اپنے رب سے ملاقات کے لیے تیار کیا جا سکے۔
بدقسمتی سے، کوئی بھی اس دن کے بارے میں کچھ نہیں جانتا، اور جب وہ دن آتا ہے، انسان کو یہ بھی احساس نہیں ہوتا کہ یہ اس کی موت کا دن ہے۔
تاہم، انسان اپنے جسم میں تبدیلیاں محسوس کرتا ہے۔ مثلاً مؤمن کے دل کو اس دن خوشی اور سکون ملتا ہے، جبکہ برے اعمال کرنے والے کو سینے اور دل میں دباؤ محسوس ہوتا ہے۔
اس مرحلے پر شیاطین اور جنات فرشتوں کے نزول کو دیکھتے ہیں، لیکن انسان انہیں نہیں دیکھ سکتا۔
قرآن کریم میں اس مرحلے کا ذکر یوں کیا گیا ہے:
"اور اس دن سے ڈرو جس دن تم اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے، پھر ہر جان کو اس کے کیے کا پورا بدلہ دیا جائے گا۔"
(سورة البقرة: 281)

دوسرا مرحلہ: روح کا تدریجی طور پر نکلنا

یہ مرحلہ پاؤں کے تلووں سے شروع ہوتا ہے۔ روح آہستہ آہستہ اوپر کی طرف بڑھتی ہے، ٹانگوں، گھٹنوں، پیٹ، ناف اور سینے سے گزرتی ہے، یہاں تک کہ وہ ایک مقام پر پہنچتی ہے جسے "ترقی" کہا جاتا ہے۔
اس مقام پر انسان تھکن اور چکر محسوس کرتا ہے اور کھڑا ہونے کے قابل نہیں رہتا۔ اس کی جسمانی طاقت ختم ہو جاتی ہے، لیکن وہ اب بھی نہیں سمجھ پاتا کہ اس کی روح جسم سے نکل رہی ہے۔

تیسرا مرحلہ: "ترقی" کا مرحلہ

قرآن کریم میں اس کا ذکر یوں آیا ہے:
"ہرگز نہیں، جب روح حلق تک پہنچ جائے گی۔ اور کہا جائے گا، کون جھاڑ پھونک کرے گا؟ اور وہ سمجھے گا کہ یہ جدائی کا وقت ہے۔ اور ایک پنڈلی دوسری پنڈلی سے لپٹ جائے گی۔"
(سورة القیامة: 26-29)

ترقی حلق کے نیچے کے دو ہڈیوں کو کہا جاتا ہے جو کندھوں تک پھیلتی ہیں۔
"وَقِيلَ مَنْ رَاقٍ" کا مطلب ہے کہ کون روح کو لے کر جائے گا؟
یہ وہ وقت ہوتا ہے جب لوگ ڈاکٹر یا ایمبولینس بلانے یا قرآن پڑھنے کی بات کرتے ہیں، لیکن انسان ابھی بھی زندگی کی امید رکھتا ہے۔
"وَظَنَّ أَنَّهُ الْفِرَاقُ" کا مطلب ہے کہ انسان کو موت کے قریب ہونے کا احساس ہوتا ہے، لیکن وہ اب بھی بقا کی کوشش کرتا ہے۔
"وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ" یعنی روح کے نکلنے کا عمل مکمل ہو چکا ہے، اور جسم کے نچلے حصے بے جان ہو چکے ہیں۔

چوتھا مرحلہ: "حلقوم" کا مرحلہ

یہ موت کا آخری مرحلہ ہے، جو انسان کے لیے انتہائی مشکل ہوتا ہے، کیونکہ اس کے سامنے پردے ہٹ جاتے ہیں، اور وہ اپنے ارد گرد موجود فرشتوں کو دیکھتا ہے۔
یہاں سے انسان آخرت کو دیکھنا شروع کرتا ہے:
"ہم نے تمہاری آنکھوں سے پردہ ہٹا دیا، آج تمہاری نظر تیز ہے۔"
(سورة ق: 22)

قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"پھر کیوں نہیں جب روح حلق تک پہنچ جائے۔ اور تم اس وقت دیکھ رہے ہو، اور ہم تم سے زیادہ قریب ہیں، لیکن تم دیکھ نہیں سکتے۔"
(سورة الواقعة: 83-85)

یہ وہ وقت ہے جب انسان اللہ کی رحمت یا غضب دیکھتا ہے۔ وہ اپنی زندگی کے اعمال کو اپنی نظروں کے سامنے گزرتا ہوا دیکھتا ہے، اور شیطان اسے گمراہ کرنے کی آخری کوشش کرتا ہے۔
قرآن کہتا ہے:
"اور کہو، اے میرے رب، میں شیطان کے وسوسوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور اس سے بھی کہ وہ میرے پاس آئیں۔"
(سورة المؤمنون: 97-98)

پانچواں مرحلہ: "ملک الموت" کا داخلہ

یہ مرحلہ وہ ہے جہاں انسان کو معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ رحمت والوں میں سے ہے یا عذاب والوں میں سے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"اور جن کی روحیں فرشتے سختی سے نکالتے ہیں، ان کے چہروں اور پشتوں پر مارتے ہیں۔"
(سورة محمد: 27)

اگر انسان مؤمن ہے تو اس کی روح نرمی سے نکلتی ہے، جیسے پانی کا قطرہ مشکیزے سے نکلتا ہے۔
اللہ فرماتا ہے:
"اے اطمینان والی روح، اپنے رب کی طرف لوٹ، راضی اور مرضی، اور میرے بندوں میں شامل ہو جا، اور میری جنت میں داخل ہو جا۔"
(سورة الفجر: 27-30)

چھٹا اور آخری مرحلہ

یہ مرحلہ وہ ہے جب انسان کی روح مکمل طور پر جسم سے نکل جاتی ہے۔ اگر وہ گناہ گار ہے تو کہتا ہے:
"اے میرے رب، مجھے واپس بھیج دے، تاکہ میں نیک عمل کر سکوں۔"
لیکن اللہ فرماتا ہے:
"ہرگز نہیں، یہ صرف ایک بات ہے جو وہ کہہ رہا ہے۔ اور ان کے پیچھے ایک پردہ ہے، قیامت کے دن تک۔"
(سورة المؤمنون: 99-100)

"اور موت کی سختی حق کے ساتھ آئے گی، یہی وہ ہے جس سے تم بھاگتے تھے۔"
(سورة ق: 19)

یہاں مؤمن کے لیے جنت کی بشارت ہے، جبکہ گناہ گار کے لیے عذاب کی وعید۔
ایک مفسر سے پوچھا گیا کہ لوگ موت سے کیوں ڈرتے ہیں؟
انہوں نے جواب دیا:
"کیونکہ تم نے دنیا کو آباد کیا اور آخرت کو برباد کر دیا۔"

اللّٰہُمَّ أَحسِن خَاتِمَتَنَا۔
آمین یا رب العالمین

02/12/2025
26/11/2025

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اتنی دیر تک کھڑے ہو کر نماز پڑھتے رہتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم یا ( یہ کہا کہ ) پنڈلیوں پر ورم آ جاتا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق کچھ عرض کیا جاتا تو آپ فرماتے :
*‏“ کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں “۔*

‏(صحیح بخاری،۱۱۳۰)

Address

Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Shazli Spiritual Healer posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Shazli Spiritual Healer:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram