26/03/2020
چین کی خفیہ ایجنسی کی رپورٹ
کورونا وائرس برطانیہ کی لیبارٹری میں تیار کیا گیا ، اسے امریکا میں رجسٹرڈ کیا گیا اور پھر کینیڈا کی لیبارٹری سے کینیڈا کی پرواز کے ذریعے باقاعدہ طور پر ووہان کی لیبارٹری میں پہنچایا گیا
تحقیق کے مطابق کورونا وارئرس کو ایک حیاتیاتی
ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا کام انگلینڈ کے Pirbright Institute نے شروع کیا Pirbright Instituteکے اس پروجیکٹ کے مالی مددگار Bill and Melinda Gates Foundationاور Johns Hopkins Bloomberg School of Public Health کورونا وائرس کو باقاعدہ امریکا میں Pirbright Institute نے پیٹنٹ
بھی کرایا
اس کا پیٹنٹ نمبر 10, 10,701 تھا ۔ جنوری میں امریکا میں پہلے کیس کے دریافت ہوتے ہی یہ پیٹنٹ ختم کردیا گیا ۔ کورونا وائرس جسے امریکا کے ادارے The Centers for Disease Control and Prevention (CDC)نے 2019-nCoV کا نام دیا ہے ، سے بچاؤ کے لیے 18 اکتوبر 2019میں ہی نیویارک میں
کمپیوٹر پر مشق کرلی گئی تھی ۔ مذکورہ مشق کا انتظام بل اینڈ ملنڈا گیٹس فاؤنڈیشن ، جان ہوپکنز سینٹر فار ہیلتھ سیکوریٹی نے ورلڈ اکنامک فورم کے اشتراک سے کیا تھا ۔
اس مشق جس میں پارلیمنٹ ، بزنس لیڈروں اور شعبہ صحت سے تعلق رکھنے والے افراد نے حصہ لیا تھا ، اس امر کی مشق کی گئی کہ
کورونا وائرس کے وبا کی صورت میں پھیلنے کی صورت میں اس سے بچاؤ کس طرح سے کیا جائے ۔اس مشق کو Event 201کا نام دیا گیا ۔
یہ ایک فل اسکیل ایکسرسائیز تھی جو چین کے وسطی علاقے ووہان میں پہلا کیس رپورٹ ہونے سے چھ ہفتے قبل کی گئی تھی
یہ بات بھی نوٹ کرنے کی ہے کہ کورونا وائرس سے
بچاؤ کی کمپوٹر پر مشق کا اہتمام کرنے والی تنظیمیں وہی تھیں جو اس وائرس کے پیٹنٹ کے مالک ادارے کو فنڈز فراہم کررہی تھیں
اور اب یہی ادارے اور تنظیمیں کورونا وائرس کی ویکسین پر کام کررہے ہیں ۔18 اکتوبر کو ہونے والی مشق کے شرکاء میں دنیا کے بڑے بینکوں ، بل اینڈ ملنڈا گیٹس فاؤنڈیشن ،
جانسن اینڈ جانسن ، لاجسٹیکل پاورہاؤسز،میڈیاکےنمائندوں کے علاوہ چین اور امریکی ادارے CDC کے نمائندے بھی شریک تھے۔ مشق میں باقاعدہ ماحول بنایا گیا کہ میڈیامیں کورونا وائرس کے پھیلنے سے تباہی کی بریکنگ رپورٹ آرہی ہیں ، شہری خوفزدہ ہیں اور حکومت سے اس کے تدارک کے لیے
اقدامات کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں
ووہان میںZhengdian Scientific Park of Wuhan Institute of Virology میں Wuhan National Biosafety Laboratory لیول 3 اور لیول 4 واقع ہیں
لیبارٹری میں لیول کی درجہ بندی کسی بھی وائرس کومحفوظ رکھنے کے انتظامات کے حوالے سے کی جاتی ہے ۔ووہان کی لیبارٹری
میں کورونا وائرس پہنچانےمیں دوچینی سائنسدانوں کا نام لیا جاتا ہے
Dr. Xiangguo Qiu
جو ماہر وائرس بھی تھی، 1996 میں کینیڈا مزید تعلیم کے لیے آئی
ڈاکٹر چی کا شوہر Keding Cheng اس وقت کینیڈا کے شہر ونی پیگ کی لیبارٹری میںبطور بائیولوجسٹ میں کام کرتا ہے۔ یہ دونوں میاں بیوی ایبولا
اور سارس وائرس پر تحقیقی کام کرتے تھے گزشتہ جولائی میں CNBC نیوز نے رپورٹ کیا تھا کہ ونی پیگ کی لیبارٹری سے ایک چینی خاتون سائنسداں ، اس کے شوہر اور ان کے چند پوسٹ گریجویٹ طلبا کو حراست میں لیا گیاہے ۔ اس خبر کے ایک ماہ کے بعد CNBC نے مزید خبر دی کہ مذکورہ سائنسداں جوڑے نے
ایبولا اور Henipah کے وائرس ائر کینیڈا کی پرواز کے ذریعے 31 مارچ کو چین بھیجے تھے خبر کے مطابق وائرس کی شپمنٹ کے لیے تمام قواعد و ضوابط پر عمل کیا گیا تھا
کہا جاتا ہے کہ اسی شپمنٹ کے ذریعے کورونا وائرس بھی ووہان کی لیبارٹری بھجوایا گیا اور فالو اسٹوری میں بتایا گیا کہ ڈاکٹر چی
نے 2017 کے دوران چین کے پانچ دورے کیے جس میں چین کی لیول 4 کی نئی لیبارٹری کے ٹیکنیشنوں اور سائنسدانوں کو تربیت فراہم کی گئی ۔ یہ سائنسداں جوڑا اب بھی زیر حراست ہے ۔کورونا کا پیٹنٹ وائرس ونی پیگ کی لیبارٹری کے علاوہ انگلینڈ کی لیبارٹری سے اور بھی کئی ممالک کی
لیبارٹریوں کو فراہم کیا گیا
وہی ہوا جسکا ڈر تھا ، پہلے یہودی زائیونسٹ نے اپنے بائیو لاجیکل ہتھیار ( کورونہ وائرس ) سے دنیا کو خوف میں مبتلا کر کے تباہ کر دیا ، اب ٹرائیکا کا سربراہ ( اسرائیل ) کرونا کے خلاف میڈیسن بنا چکا ہے ، جانچ پڑتال رہ
گئی ہے ، چار سے پانچ ماہ میں دوا عام مارکیٹ میں دستیاب ہو گی
کل ہی تحریر کیا ہے کہ کورونہ کا توڑ اسرائیل کے پاس موجود ہے ، اب یہ دنیا میں خوف و ہراس پھیلانے کے بعد علاج کےنام پر کھربوں ڈالرز بناۓ گا ۔ ۔ ۔ جبکہ روس و چین بھی کوشش میں ہیں ، دوا بنانے کی ، چین جون تک کا وقت
مانگ رہا ہے ۔ خیر اصل ایشو کی طرف آتے ہیں
اگر اب اسرائیل کہتا ہے کہ دوا صرف ان ممالک کو ملے گی جو اسے تسلیم کریں گے ، جو ملک مجھے تسلیم نہیں کرے گا اسے دوا نہیں ملے گی ۔ ۔ ۔ پھر ؟
مزید تفصیل جاننے کیلئے ( ڈیل آف دی سنچری سیریز ) پڑھ لیں ۔ ۔ ۔
چین ، اٹلی ، ایران
تینوں ممالک کورونہ سے بری طرح متاثر ہوئے ، نوبت یہاں تک پہنچی 1962 کے بعد ایران نے پہلی مرتبہ آئ ایم ایف سے پانچ ارب ڈالر کا قرض مانگا ہے ، کورونہ سے لڑنے کیلئے ، اٹلی کو ون بیلٹ ، ون روڈ منصوبے میں شامل ہونے کی سزا ملی ،
امریکہ کے منع کرنے کے باوجود وہ چین کے ساتھ شامل ہوا ، ایران میں چین اگلے پچیس سالوں میں 400 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے جا رہا تھا ، چین ، امریکہ کی جنگ سب جانتے ہیں ۔ اب بھی کسی کو شک ہے کہ کورونہ بائیو لاجیکل ہتھیار نہیں ، وہ اپنی عقل کا ماتم کرے