25/03/2025
ملک مہر دل محسود، جواہر لال نہرو کو الٹے ہاتھ کا تھپڑ مارنے کی خاطر آگے بڑھتے ہوئے، جنوبی وزیرستان، 1946۔
یہ واقعہ 1947 میں جنوبی وزیرستان میں پیش آیا جب جواہر لال نہرو اور ڈاکٹر خان صاحب ایک محسود جرگہ سے ملاقات کے لیے وہاں پہنچے۔ نہرو نے جرگہ کے آداب کے برخلاف کھڑے ہو کر تقریر شروع کی، ہاتھ ہلانے لگے اور سیاسی جلسے کی طرز پر خطاب کیا، جو قبائلیوں کو ناگوار گزرا۔ جب نہرو نے کہا کہ وہ انہیں برطانوی غلامی سے نجات دلائیں گے، تو جرگہ کے اراکین نے اردو میں جواب دیا کہ "ہم برطانویوں کے غلام نہیں ہیں اور نہ ہی تمہارے غلام بنیں گے"۔
جرگہ کے بعض افراد نے نہرو کے خلاف سخت ردعمل دیا اور انہیں "کوٹنائی" (تحقیر آمیز لقب) کہہ کر مخاطب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انہیں کسی ہندوستانی سے بات کرنی پڑی تو وہ قائداعظم محمد علی جناح ہوں گے۔ صورتحال کشیدہ ہو گئی اور اجلاس بدنظمی کا شکار ہوا۔ اس دوران ملک مہر دل محسود نہرو کی طرف بڑھے اور ان پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی، جس پر وہاں موجود برطانوی سیاسی ایجنٹ رابن ہڈسن نے مداخلت کرکے نہرو کو بچایا۔
یہ واقعہ تاریخی طور پر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ قبائلی عوام نہ صرف اپنی خودمختاری کے سخت محافظ تھے بلکہ تقسیم ہند کے وقت وہ جناح اور پاکستان کے حامی تھے، جبکہ کانگریس کے نظریات کو مسترد کرتے تھے۔
یہ واقعہ ہارون رشید کی کتاب "History of the Pathans, Vol-V" اور وکٹوریا شیفیلڈ کی کتاب "Afghan Frontier: Feuding and Fighting in Central Asia" میں بھی درج ہے۔
Copy