15/08/2025
ماؤس میلون --- ظفرجی
کچھ روز قبل جب میں اپنے باغیچے کو پانی دے رہا تھا تو میرے پڑوسی حاجی حنیف صاحب ادھر سے گزرے- گاڑی روکی- حال احوال پوچھا اور بولے:
"یہ چبڑ کیوں اگا رکھا ہے؟"
میرے لیے یہ سوال نیا نہیں تھا- سب سے پہلے میرے نئے مالی نے اس پہ اعتراض کیا تھا بلکہ ایک بیل کو تو اکھاڑ ہی پھینکا تھا-
اگلے روز مجھے معلوم ہوا تو بڑا دکھ ہوا- اسی روز مالی کو چھٹی دی اور کہا ، تو نے بادشاہوں والا پھل باغیچے سے اکھاڑ پھینکا- آج کے بعد مجھے نظر نہ آنا-
چبڑ سے میری محبت کا شاندار نتیجہ یہ نکلا کہ کچھ دنوں بعد کیاری میں ایک اور بیل اگ آئی-
بروقت پیش بندی کے طور پہ میں نے بیل کے آس پاس کچھ لکڑیاں لگائیں، کچھ دھاگے پروئے- میں چاہتا تھا کہ وہ زمین سے الگ رہے اور باقی پودوں پہ چڑھنے کی بجائے نیم کے درخت پہ سوار ہو جائے تا کہ میں لٹکتے ہوئے پھل کا نظارہ کروں-
یہ بڑی تیزی سے پھیلی اور پہلی بار اندازہ ہوا کہ چبڑ کی بیل کتنی تیزی سے پھیلتی ہے- شاید اسی لیے کسان لوگ اس کے دشمن ہیں اور کبھی اسے کھیت میں پنپنے نہیں دیتے- اسے نام بھی انہوں نے بہت برا دے رکھا ہے- پنجابی زبان میں بے وقوف آدمی کو عموماً چبڑ کہا جاتا ہے-
چند روز پہلے خواتین کی ایک ٹولی چہل قدمی کرتے ہوئے یہاں سے گزری- وہ اس بیل کو غور سے دیکھنے لگیں- پھر ان میں سے ایک معزّز خاتون ناک سکیڑ کر بولی " اری یہ تو چبڑ ہے !! "
مجھے اچھا نہ لگا بلکہ یوں لگا گویا انہوں نے مجھے چبڑ کہا-
ایک ایف بی آر آفیسر میرے پڑوس میں رہتے ہیں- چند روز قبل ادھر سے گزرتے ہوئے رک گئے اور بولے،
" یہ کیا اگا رکھا ہے؟ چبڑ ؟"
مجھے یوں لگا جیسے جبڑوں پہ بھی کوئی ٹیکس لگنا تھا جو میں ابھی تک ادا نہیں کر سکا-
صرف یہی نہیں، دو بار بیگم صاحبہ نے بھی یہ بیل اکھاڑنے کا تہیہ کیا اور بڑی منت سماجت کے بعد جا کر ٹلیں- انہیں خدشہ تھا کہ کہیں لوگ ان کے شوہر کو "چاچا چبڑ" کہنا نہ شروع کر دیں-
مجھے سمجھ نہیں آتی کہ آخر لوگ چبڑ کے اتنے دشمن کیوں ہیں؟
اس کے پتے کسی بھی ڈیکوریشن بیل سے زیادہ خوب صورت ہوتے ہیں- اس کے پیلے پھول مارننگ گلوری سے زیادہ خوبصورت ہوتے ہیں اور یہ کھیرے کے خاندان سے ہے- عام کھیرے کے مقابلے میں پانی بھی کم مانگتا ہے اور لذت میں ، چبڑ ، کھیرے کو مات دیتا ہے-
کسانوں نے محض نفرت کی وجہ سے اسے چبڑ (یعنی بے وقوف آدمی) کہا- آپ اسے گھرکن کہ سکتے ہیں- چھوٹی ککڑی، جنگلی ککڑی، دھاری دار ککڑی بھی کہا جاتا ہے- انگریزی میں ماؤس میلون، سمال میلون، کوکا میلون، میکسیکین گھرکن بے شمار نام ہیں- چبڑ کہنا ضروری ہے؟
آج کل یہ اتر رہا ہے- دو ماہ کی محنت پھل لائی ہے- صبح ساڑھے چھ بجے باغیچے کو پانی دیتے ہوئے ایک دو گھرکن نیچے گرے ہوئے نظر آتے ہیں- انہیں دھو کر ہلکا سا نمک لگا کر کھایا جائے تو طبیعت باغ باغ ہو جاتی ہے-
میکسیکین میلون کھٹاس مٹھاس اور خوشبو کا مرکب ہوتا ہے- یہ وٹامن اور منرلز کا خزانہ ہوتا ہے-خاص طور پر وٹامن C، وٹامن K، اور پوٹاشیم سے بھرپور، جو قوتِ مدافعت، خون کی روانی، اور ہڈیوں کی مضبوطی میں مددگار ہیں۔
ماؤس میلون پانی سے بھرپور اور تروتازہ ہوتا ہے- اینٹی آکسیڈنٹ ہے- فائبر سے بھرپور ہے- ہاضمے کے نظام کو بہتر کرتا ہے اور قبض سے بچاتا ہے۔ فری ریڈیکلز کا خزانہ ہے- بڑھاپے اور بیماریوں کا دشمن-
اسی لیے تو یہ میرے باغیچے کی رونق ہے- اس کے چھوٹے تربوز نما پھل نہ صرف ذائقے میں منفرد ہیں بلکہ دلکش بھی معلوم ہوتے ہیں- میں تو اس کا سلاد اور اچار بنانے کا بھی سوچ رہا ہوں-
بے شمار قدرتی نعمتیں محض غلط نام کی وجہ سے قابل نفرت ٹھہرتی ہیں جس میں بیچارہ چبڑ بھی شامل ہے- چبڑ کا احترام کریں- اسے عزت دیں- میکسیکین میلون یا ماؤس میلون کہ کر پکاریں- یہ آپ کو مایوس نہیں کرے گا- فائدے ہی فائدے دے گا-