Doctor Online

Doctor Online Homeopathic Treatment Services
We are providing treatment for Vitiligo,Chronic skin problems,all ty You do not need to come to the clinic. It is easy.

Welcome to my channel Doctor Online is the first virtual clinic in Pakistan for all over the world. Get safe and cost effective homeopathic, herbal and nutrition treatment for your diseases. It is good to take second opinion rather than to suffer in silence or opt for a surgical operation. Give a call or contact at sameurmind@gmail.com.

15/12/2025
کبھی غور کیا ہے کہ شکر قندی کا ایک سادہ سا نوالہ جسم کے اندر کتنی خاموش مگر گہری تبدیلی شروع کر دیتا ہے؟ایسی تبدیلی جو آ...
15/12/2025

کبھی غور کیا ہے کہ شکر قندی کا ایک سادہ سا نوالہ جسم کے اندر کتنی خاموش مگر گہری تبدیلی شروع کر دیتا ہے؟
ایسی تبدیلی جو آہستہ آہستہ آپ کے ہاضمے، خون کی کیفیت، توانائی اور مدافعتی نظام کو سہارا دیتی ہے—اور آپ کو اس کا احساس بھی نہیں ہوتا۔

حقیقت یہ ہے کہ ہمارا جسم روزانہ کھانے پینے کی بے ترتیبی، ذہنی دباؤ، بے وقت روٹین، سردی اور کم حرکت کی وجہ سے مسلسل دباؤ میں رہتا ہے۔
آنتوں میں فضلہ جمع ہونے لگتا ہے، شوگر لیول اوپر نیچے ہونے لگتا ہے، توانائی جلد ختم ہو جاتی ہے اور جسم کے خلیات سست پڑ جاتے ہیں۔

اگرچہ جسم کے اندر قدرتی طور پر صفائی اور مرمت کا نظام چلتا رہتا ہے، لیکن جب خوراک کمزور ہو جائے تو یہی نظام بھی کمزور پڑنے لگتا ہے۔
یہیں سے شکر قندی اپنا اصل کردار ادا کرتی ہے۔

شکر قندی میں موجود فائبر آنتوں کی اندرونی صفائی میں مدد دیتا ہے،
اینٹی آکسیڈنٹس کمزور اور خراب خلیات کو غیر مؤثر بناتے ہیں،
وٹامن A مدافعتی نظام کو مضبوط کرتا ہے،
قدرتی کاربوہائیڈریٹس جسم کو آہستہ مگر دیرپا توانائی فراہم کرتے ہیں،
اور پوٹاشیئم دل، اعصاب اور بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

یہ تمام اجزاء مل کر جسم کے اندر ایک قدرتی ڈیٹاکس اور توازن کا عمل شروع کر دیتے ہیں—
بالکل ایسے جیسے بند نالی آہستہ آہستہ کھلنے لگے۔

سائنس بھی یہی بتاتی ہے کہ فائبر، مائیکرونیوٹرینٹس اور کم گلائسیمک لوڈ والی غذا جسم کو تھکن اور دباؤ کی حالت سے نکال کر مرمت اور بحالی کی حالت میں لے آتی ہے۔
اسی لیے شکر قندی شوگر کی طلب کم کرتی ہے، قبض میں فائدہ دیتی ہے، سوزش گھٹاتی ہے اور وزن کو کنٹرول میں رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

اس کے برعکس جب شکر قندی جیسی سادہ اور فائدہ مند غذا روزمرہ خوراک سے نکل جاتی ہے، تو جسم فوری توانائی کے لیے میٹھے، فاسٹ فوڈ اور خالی کیلوریز کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔
نتیجہ سامنے ہوتا ہے:
مسلسل تھکن، بار بار بھوک، معدے کے مسائل، شوگر کا عدم توازن اور اندرونی کمزوری۔

یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے گاڑی کو ایندھن کے بجائے دھواں دیا جائے—چل تو جاتی ہے، مگر اندر سے جلنے لگتی ہے۔
روزانہ یا ہفتے میں چند بار ابلی ہوئی یا ہلکی سی بھنی ہوئی شکر قندی وہ کام کر جاتی ہے جو مہنگے فائبر سپلیمنٹس اور ڈیٹاکس ڈرنکس بھی مکمل نہیں کر پاتے۔

یہ جسم کو سکون دیتی ہے، نظام کو درست کرتی ہے اور اندرونی طاقت بحال کرتی ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ جیسے ہی شکر قندی خوراک کا حصہ بنتی ہے،
ہاضمہ ہلکا محسوس ہونے لگتا ہے،
جسم متوازن رہتا ہے،
توانائی دن بھر قائم رہتی ہے،
اور اندرونی نظام دوبارہ ہم آہنگی میں آ جاتا ہے۔

شکر قندی محض ایک سبزی نہیں
یہ قدرت کا وہ سادہ اور مؤثر نسخہ ہے
جو خاموشی سے جسم کو ٹھیک کرنا جانتا ہے۔

اگر آپ چاہتے ہیں کہ
سردیوں میں جسم کمزور نہ پڑے،
ہاضمہ خراب نہ ہو،
اور توانائی دن بھر ساتھ دے
تو شکر قندی کو نظر انداز مت کیجیے

🌿 جاپانی کھانسی کا شربت — گھر میں بنائیں، آسان، سستا اور حیرت انگیز طور پر مؤثرموسم بدلتے ہی گلا خراب، کھانسی، زکام اور ...
05/12/2025

🌿 جاپانی کھانسی کا شربت — گھر میں بنائیں، آسان، سستا اور حیرت انگیز طور پر مؤثر

موسم بدلتے ہی گلا خراب، کھانسی، زکام اور سینے کی جکڑن عام ہو جاتی ہے۔ جاپان میں لوگ اِن مسائل کے لیے ایک نہایت سادہ مگر بے حد مؤثر گھریلو شربت استعمال کرتے ہیں، جو پیاز، شہد اور لیموں سے بنتا ہے۔
اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ کیمیکل فری، قدرتی اور ہر گھر میں بننے والا نسخہ ہے۔



🍯 یہ شربت کیا ہے؟

یہ ایک قدرتی اینٹی بائیوٹک سیرپ سمجھا جاتا ہے۔ پیاز کا رس، شہد اور لیموں مل کر ایسا مرکب بناتے ہیں جو:
• کھانسی کم کرتا ہے
• گلے کی خراش کو آرام دیتا ہے
• بلغم توڑتا ہے
• سوزش کم کرتا ہے
• اور مدافعتی نظام مضبوط کرتا ہے

یہ شربت دوائی کا متبادل نہیں، مگر زبردست قدرتی مددگار علاج ہے۔



👩‍🍳 جاپانی طریقہ — بنانے کا آسان نسخہ

اجزاء
• 1 درمیانی پیاز
• 3 سے 4 کھانے کے چمچ شہد
• آدھے لیموں کا رس + چند لیموں کے چھلکے
• ایک صاف شیشہ کی بوتل یا جار

ترکیب
1. پیاز کو باریک سلائس میں کاٹ لیں۔
2. انہیں جار میں تہہ بنا کر رکھیں۔
3. اوپر سے شہد ڈال دیں۔
4. پھر لیموں کا رس اور چھلکے شامل کریں۔
5. جار بند کر کے 2 سے 3 گھنٹے کے لیے چھوڑ دیں۔
6. پیاز اپنے اندر سے رس چھوڑ دے گی اور شہد کے ساتھ مل کر قدرتی شربت تیار ہو جائے گا۔

اگر آپ اسے رات بھر چھوڑ دیں تو اس کا رس اور بھی زیادہ طاقتور ہو جاتا ہے۔



🥄 استعمال کا طریقہ

بالغ افراد:
1 کھانے کا چمچ، دن میں 2–3 بار

بچے (1 سال سے اوپر):
1 چائے کا چمچ، دن میں 2 بار

نوٹ: شہد ایک سال سے کم عمر بچوں کو نہیں دینا چاہیے۔



💡 یہ کیوں مؤثر ہے؟

پیاز

اس میں موجود quercetin سوزش کم کرتا ہے اور بلغم توڑتا ہے۔

شہد

گلے پر حفاظتی تہہ بناتا ہے، کھانسی کم کرتا ہے اور جراثیم سے لڑتا ہے۔

لیموں

وٹامن C کا بہترین ذریعہ ہے اور مدافعتی نظام مضبوط کرتا ہے۔

تینوں مل کر ایک طاقتور قدرتی شربت بناتے ہیں جو جاپان میں سردیوں کا لازمی حصہ سمجھا جاتا ہے۔



🌱 آخری بات

جاپانی لوگ اسے نسلوں سے استعمال کر رہے ہیں۔ آج کل جب کھانسی، فلو اور گلے کی خراش عام ہے، یہ سادہ سا شربت آپ کے گھر کی قدرتی میڈیسن کابینٹ کا حصہ ضرور ہونا چاہیے۔
آزما کر دیکھیں — سستا، آسان اور مؤثر۔

01/11/2025

ذہن میں رکھیں: کراچی میں 40 سال کے بعد مرد و عورتوں کی “سفید بھنویں اور سفید پلکیں” بڑھتی عمر یا بیماری نہیں، ان کے جسم کا خاموش اشارہ/ Silent Signal ہیں. ان سب کے جسم Body میں منرلز شدید ڈسٹرب ہورہے ہیں۔
کراچی میں زیادہ تر فلٹریشن پلانٹس یا واٹر کمپنیاں جو "میٹھا پانی" بیچ رہی ہیں، یہ سب دراصل زیرِ زمین بورنگ کا پانی (Groundwater) استعمال کرتی ہیں، یہ پانی زیادہ تر :
۔Hard water (سخت پانی) ہوتا ہے۔
۔TDS (Total Dissolved Solids) کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔
۔اس میں کیلشیم، میگنیشیم، سوڈیم، فاسفیٹ، فلورائیڈ، آئرن اور آرسینک کی مقدار نارمل حد سے زیادہ ہوتی ہے۔
یہ بات ریسرچ سے ثابت ہے کہ Hard water انسانی جسم کے بالوں کے follicles کو کمزور کردیتا ہے۔ اس کے ساتھ scalp اور skin کی سطح پر oxidative stress بڑھا دیتا ہے یہ Melanin-producing cells (melanocytes) کو نقصان پہنچاتا ہے۔
(حوالہ: International Journal of Trichology, 2018; “Impact of Hard Water on Hair Damage”)
کراچی کے 80٪ سے زیادہ رہائشی علاقوں (خصوصاً گلستانِ جوہر، کورنگی، لانڈھی، لیاقت آباد) اور سیوریج کے گندے ندی، نالوں کے ساتھ آباد علاقوں میں زیرِ زمین پانی (بورنگ) میں فلورائیڈ اور آرسینک کی سطح خطرناک حد سے زیادہ ہے۔
کراچی کے زیادہ تر غیر ریگولیٹڈ فلٹر پلانٹس میں کوئی لیبارٹری پیمانہ استعمال نہیں ہوتا۔ یہ TDS بڑھانے یا “Mineral Mixing” کے لئے اندازاً اور غیر معیاری نمکیات (خصوصاً سوڈیم کلورائیڈ اور میگنیشیم سلفیٹ) کو شامل کرتے ہیں۔ یہ نمکیات ہر جسم کے micronutrient absorption میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔
اگرچہ اسطرح کھارا پانی میٹھا اور پینے کے قابل ہوجاتا ہے۔ مگر جسم میں کاپر (Copper)، زنک (Zinc) اور وٹامن B12 کی کارکردگی نہایت متاثر ہو جاتی ہے۔
کراچی کے رہائشیوں کا مسلسل کئی سالوں سے hard یا chemically treated پانی پینے سے سر کے بالوں، بھنوؤں، پلکوں کا سفید ہونا اور جھڑنا اب عام مشاہدہ ہے۔ کراچی کے شہری مردوں میں چہرے کا دبا رنگ، موٹا پیٹ، گنجا سر، چھوٹا قد عام ہورہا ہے۔تو خواتین کی ہیئت میں پتلے بال، اوپری باڈی دبلی اور بھاری کولہے اور رانیں ہیں۔ یہ جینیاتی تبدیلی کراچی میں مختلف صوبوں، گاؤں، علاقوں سے آ کر بسنے والوں مردوں و عورتوں میں بھی ہونے لگی ہے۔
۔PCRWR (Pakistan Council of Research in Water۔ Resources) کی 2023ء ریسرچ رپورٹ کے مطابق:
کراچی کے 83٪ فلٹر پلانٹس ناقص ترین معیار کا پینے کا پانی فراہم کرتے ہیں۔
کراچی کے فلٹر پلانٹس کا سائنسی میکانزم یہ ہے :
1. Hard water یا chemically treated water → Free radicals پیدا کرتا ہے
2. Free radicals → Melanocytes پر oxidative damage
3. Melanocytes کمزور → Melanin کم → بھویں، پلکیں، بال سفید
کراچی میں فلٹر شدہ بورنگ پانی پینا مجبوری ہے۔ فلٹر پانی "ڈیڈ واٹر" ہوتا ہے۔ صوبائی اور شہری حکومت کو کوسنے کے بجائے اپنے جسم میں Micronutrient deficiency روکنے کے لئے روزمرّہ شیڈول میں یہ عادات شامل کرلیں :
• کالا نمک یا ہمالیئن پنک سالٹ (چٹکی بھر روزانہ)
• پالک، مچھلی، بادام، کھجور، کدو کے بیج (pumpkin seeds)
• کولڈ ڈرنکس کے بجائے لیموں پانی اور ناریل پانی پیئں۔( الیکٹرولائٹس قدرتی طور پر بحال رہتے ہیں۔)
• بالوں اور چہرے کو بورنگ پانی سے دھونے کے بعد صاف RO یا ابلا پانی سے ایک چھینٹا لازمی ماریں۔
• شیمپو کم استعمال کریں، (صرف شادی بیاہ یا تقریب کے وقت) اور شیمپو کی بوتل پر لکھے اجزاء میں "sulfate" شامل نہ ہو۔
• ناریل، زیتون اور بادام کا تیل سر کے بالوں اور چہرے مثلاً بھنویں، پلکوں، داڑھی پر لگائیں۔ یہ Melanin کو نیچرل سپورٹ دیتا ہے۔
• چائے خانوں، ہوٹلوں میں بورنگ کا ڈائریکٹ میٹھا پانی ہوتا ہے۔ برف بھی انھی پانی سے جمتی ہے۔ پیاس میں دو چار گھونٹ پی لیں، مگر دھڑا دھڑ پینے سے گریز کریں۔
• کسی بھی ایونٹس میں شرکت کے وقت اپنا پانی پرس، گاڑی یابائیک پر رکھیں۔ عموماً زیادہ تر جگہوں پر ناقص پانی( بورنگ کا ڈائریکٹ پانی، واٹر ٹینکر پانی) پینے کے لئے رکھا ہوتا ہے۔ کیونکہ صاف منرل پانی، کولڈ ڈرنکس سے زیادہ مہنگا پڑتا ہے۔
• جن گھروں یا علاقوں میں پانی، ٹینکر سے منگواتے ہیں۔ وہ یہ پانی لازمی فلٹر اور ابال لیں۔ سرکاری ہائیڈرنٹس کا پانی بہتر ہے۔ لیکن پرائیویٹ ٹینکر/ ٹنکیاں والے جوہڑ ، ٹوٹی لائنوں اور بورنگ کا بھاری پانی سپلائی کرتے ہیں۔
مزید کچھ عملی اقدامات :
• کرایہ دار ان رہائشی علاقوں میں گھر ڈھونڈیں، جہاں کچھ دنوں بعد "سرکاری پانی" آتا ہو، اس پانی کو فلٹر یا ابال کر پینے، کھانا پکانے، بالوں اور چہرے کو دھونے میں استعمال کیا جائے۔ یہ بورنگ سے بہتر پانی ہے۔
• فلٹر پلانٹ 8 سے 10 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کرکے سالوں بورنگ پانی کو بیچتے ہیں۔ یہ فلٹر کارٹریجز، میمبرین کو تبدیل نہیں کرتے۔ کراچی کے گلی کوچوں میں کھلے فلٹر پلانٹس ایک مضبوط مافیا ہیں۔ اس لئے اپنے گلی محلوں میں موجود ان دکانداروں سے TDSمیٹر کے بارے میں لازمی پوچھیں۔ جو زیادہ تر پلانٹس پر موجود نہیں ہوتا۔ اور پانی کی کوالٹی کا پتہ نہیں چلتا۔
• فلٹر پلانٹ کا PCWRR یا KWSB ٹیسٹ سرٹیفکیٹ دیکھنے کا مطالبہ کریں۔
• ورنہ ان فلٹر پلانٹس سے اپنے کین/ بوتلیں بھروائیں، جن کی فائبر ٹینکیاں کم از کم صاف ہوں۔ زیادہ تر ٹینکیاں بورنگ پانی کی مسلسل بھرائی کیوجہ سے پھپھوند لگی ہوتی ہیں۔ یہی ٹینکیاں بیمار کررہی ہیں۔
• اپنے لئے ایک TDS میٹر (Online 500–700 روپے کا آلہ) خرید لیں۔ اور روزانہ نہیں، لیکن ہفتے میں ایک بار اپنے خریدے گئے فلٹر پانی کو چیک کرلیں۔ Ideal TDS: 150–300 ppm ہے، اگر 700 ppm سے اوپر ہے تو آپ زہر خرید رہے ہیں۔ فورآ اس واٹر پلانٹ کا بائیکاٹ کردیں۔ 50 ppm سے کم پانی کو "Dead Water" کہتے ہیں۔
• فلٹر پانی کا ذائقہ بھی اشارہ دیتا ہے۔ اگر پانی بہت میٹھا یا چپچپا لگے تو دکاندار نے منرلز کے ساشے زیادہ ڈالے ہیں۔ اگر پانی بے ذائقہ ہے تو نمکیات کی کمی ہے۔
• اگر بجٹ اجازت دے تو اپنے گھریلو استعمال کے لئے "RO + UV combo filter" (15–20 ہزار روپے) کا اچھا سسٹم لگا لیں۔ عموماً یہ سسٹم 2 سال تک صاف پانی کی گارنٹی دیتا ہے۔

Send a message to learn more

علی محمد صاحب لاہور سے۔پوچھتے ہیں کہ تلی ہوئی چیزیں یا بیکری بسکٹ مثلا گالا  کھانے سے بلڈ پریشر کیوں بڑھتا ہے۔؟چکنی چیزی...
28/10/2025

علی محمد صاحب لاہور سے۔
پوچھتے ہیں کہ تلی ہوئی چیزیں یا بیکری بسکٹ مثلا گالا کھانے سے بلڈ پریشر کیوں بڑھتا ہے۔؟
چکنی چیزیں یا بیکری کے بسکٹ جیسے گالا وغیرہ دراصل کئی ایسی چیزیں رکھتے ہیں جو بالواسطہ بلڈ پریشر بڑھانے کا باعث بنتی ہیں۔ سادہ الفاظ میں سمجھیں تو ان کے تین بڑے اثر ہوتے ہیں:

---

1. نمک (سوڈیم) کی زیادہ مقدار

زیادہ تر بیکری آئٹمز میں سوڈیم بائیکاربونیٹ (بیکنگ سوڈا) اور نمک دونوں شامل ہوتے ہیں۔
سوڈیم جسم میں پانی روک لیتا ہے، جس سے خون کی مقدار بڑھتی ہے اور دل کو زیادہ زور سے پمپ کرنا پڑتا ہے — نتیجتاً بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے۔

---

2. ٹرانس فیٹس اور سیچوریٹڈ فیٹس

بسکٹ، پیسٹری اور چکنی چیزوں میں اکثر "مارجرین" یا "شارٹیننگ" استعمال ہوتی ہے، جن میں ٹرانس فیٹس زیادہ ہوتے ہیں۔
یہ فیٹس خون کی نالیوں کو سخت (stiff) اور تنگ کر دیتے ہیں، جس سے بلڈ پریشر اور کولیسٹرول دونوں بڑھتے ہیں۔

---

3. شوگر اور ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس

یہ چیزیں خون میں انسولین کی سطح بڑھاتی ہیں، جو وقت کے ساتھ وزن میں اضافہ اور انسولین ریزسٹنس پیدا کرتی ہیں۔ دونوں ہی ہائی بلڈ پریشر کے اہم اسباب ہیں۔

---

خلاصہ:
گالا یا اسی طرح کے بسکٹ نمک، چکنائی اور شوگر تینوں میں بھرپور ہوتے ہیں۔ مسلسل یا زیادہ مقدار میں کھانے سے خون کی نالیاں متاثر ہوتی ہیں، پانی جمع ہوتا ہے، اور دل پر بوجھ بڑھتا ہے — نتیجتاً بلڈ پریشر اوپر جاتا ہے۔

20/10/2025

# # اُڑتے چوہے: جب محبت آفت بن گئی

شہر کے ہر کونے میں "نیویارک سے کراچی تک، لندن سے دہلی تک" وہ اپنے پر پھیلائے، غٹر غوں کرتے، بجلی کے کھمبوں یا چھتوں پر بیٹھے نظر آتے ہیں اور فٹ پاتھوں پر اترتے بس اسٹاپ کے قریب دانہ چُگتے دکھائی دیتے ہیں۔
ہم میں سے اکثر انہیں محبت، امن یا نیکی کی علامت سمجھ کر دانہ ڈال دیتے ہیں۔
لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ یہی عادت ہمارے لیے
صحت، صفائی اور شہر کے ماحول کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے؟

کبوتر بے ضرر ضرور لگتے ہیں، مگر ان کی بڑھتی ہوئی تعداد، "گندہ فضلہ" اور "انسانی لاپرواہی" نے انہیں ایک خطرناک شہری مسئلہ بنا دیا ہے۔

# # # ⚠️ ہیرو سے مصیبت تک

کبھی یہی کبوتر آسمان کے قاصد تھے، بادشاہوں کے حکم نامے اڑاتے، میدانِ جنگ کے فیصلے بدلتے، اور عاشقوں کے دلوں میں محبت کے خط پہنچاتے۔ انسان کے بہترین مددگار کہلاتے تھے۔
مگر وقت کے ساتھ ان کا کردار ختم ہوا، اور وہ شہروں میں آزادانہ رہنے لگے۔
اب وہ ہمارے گھروں، چھتوں، یادگاروں اور پلوں اور چوراہوں پر بسیرا کرتے ہیں اور یہی جگہیں ان کے فضلے سے خراب ہو رہی ہیں۔

1960 کی دہائی میں نیویارک کے کمشنر نے ایک پارک کے دورے کے دوران غصے میں انہیں "rats with wings" یعنی "اڑتے چوہے" کہا اور یہ اصطلاح آج دنیا بھر میں ان کے بدلتے تصور کی علامت بن چکی ہے۔

مسئلہ کبوتر نہیں، بلکہ ان کی بے قابو آبادی ہے۔

# # # 🌍 دنیا کے بڑے شہروں میں کبوتروں کا پھیلاؤ

نیویارک سٹی، تخمینے کے مطابق یہاں 10 لاکھ سے زائد کبوتر ہیں، یعنی تقریباً ہر رہائشی کے برابر ایک کبوتر۔

وینس (اٹلی) تاریخی سینٹ مارک اسکوائر میں کبوتروں کی تعداد کبھی شہریوں سے تین گنا تک پہنچ گئی تھی۔ اب وہاں دانہ ڈالنا مکمل طور پر ممنوع ہے۔

دہلی اور ممبئی، بھارت کے ان شہروں میں کبوتروں کی آبادی دو سے ڈھائی کروڑ تک پہنچ چکی ہے، جہاں ثقافتی روایت کے طور پر پرندوں کو دانہ ڈالنے کی عادت اس اضافہ کا سبب ہے۔

لندن، کبھی ٹرافلگر اسکوائر کی پہچان کبوتر ہوا کرتے تھے، لیکن اب وہاں کھانا ڈالنا قانوناً منع ہے تاکہ شہر کو صاف رکھا جا سکے۔

کراچی، یہاں کبوتروں کی بڑھتی تعداد اور عوامی دانہ ڈالنے کے رجحان نے صفائی اور صحت دونوں کے لیے خطرہ پیدا کر دیا ہے۔

# # # 🧫 کبوتروں سے پھیلنے والے خطرات

کبوتروں کے خشک فضلے میں "بیکٹیریا اور فنگس" پیدا ہوتے ہیں، جو ہوا کے ذریعے پھیل کر "سانس کی بیماریوں" کا باعث بنتے ہیں۔
زیادہ خطرہ ان لوگوں کو ہوتا ہے جو روزانہ ان کے قریب رہتے ہیں، جیسے

* چھتوں پر کبوتر پالنے والے
* دانہ ڈالنے والے
* پرندوں کی دکانوں کے قریب رہنے والے

کبوتروں سے جڑی عام بیماریاں:

پھیپھڑوں کی فنگل بیماری
تیز بخار اور سانس میں دشواری
لمبے عرصے تک کبوتروں کی دھول سانس میں جانے سے پھیپھڑوں کی الرجی

"کراچی" میں 2025 میں ہر ہفتے اوسطاً "20 سے 25" مریض اسپتالوں میں داخل ہوئے جنہیں کبوتروں کی وجہ سے سانس کی بیماریاں لاحق ہوئیں۔
یہ اعداد ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ یہ صرف ایک پرندہ نہیں، بلکہ ایک "صحتِ عامہ کا مسئلہ" بن چکا ہے۔

# # # 🚫 دانہ ڈالنا "نیکی نہیں، نقصان ہے

ہم میں سے اکثر سمجھتے ہیں کہ دانہ ڈالنا نیکی ہے۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ عمل:

1. کبوتروں کی آبادی بڑھاتا ہے
2. بیماریوں کے جراثیم پھیلنے میں مدد دیتا ہے
3. عمارتوں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچاتا ہے
4. چوہوں اور لال بیگ جیسے دوسرے جراثیم پیدا کرتا ہے

اسی لیے دنیا کے بڑے شہروں لندن، وینس، دہلی اور لاہور میں عوامی مقامات پر کبوتروں کو دانہ ڈالنا "قانوناً ممنوع" ہے۔

# # # 🏙️ شہری نقصان: صرف صحت نہیں، معیشت بھی متاثر

کبوتروں کے تیزابی فضلے سے عمارتوں کی دیواریں خراب ہوتی ہیں، تاریخی یادگاریں کٹ جاتی ہیں، اور صفائی پر کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق، "صرف کراچی" میں کبوتروں کے فضلے کی صفائی پر "سالانہ لاکھوں روپے" خرچ کیے جاتے ہیں۔

یہ سب کچھ صرف اس لیے ہوتا ہے کہ لوگ انہیں دانہ ڈالنے کو "محبت" سمجھتے ہیں جبکہ یہ "غفلت" ہے۔

# # # 🛫 ہوائی حادثات کا خطرہ

پاکستان میں لاہور، راولپنڈی اور سرگودھا کے ہوائی اڈوں کے قریب "نو برڈ زونز" قائم کیے گئے ہیں، کیونکہ کبوتروں کے جھنڈ طیاروں کے انجنوں میں جا کر حادثے کا باعث بن سکتے ہیں۔
حکومت نے "سیکشن 144" کے تحت ان علاقوں میں کبوتروں کو اڑانے، پالنے اور دانہ ڈالنے پر پابندی لگائی ہے۔

یہ قوانین کبوتروں کے خلاف نہیں بلکہ "انسانی جانوں کے تحفظ" کے لیے ہیں۔

# # # 🧠 کبوتر ہوشیار ضرور، مگر شہری زندگی کے لیے نقصان دہ

کبوتر ذہین ہیں، راستہ پہچان لیتے ہیں، چہرے یاد رکھتے ہیں۔
مگر یہ ذہانت انہیں انسانوں کے قریب رہنے پر مجبور کرتی ہے
جہاں کھانا، پانی اور سایہ آسانی سے ملتا ہے۔
اسی قربت نے آج ہمارے شہروں میں گندگی، بیماری اور شور کا مسئلہ پیدا کر دیا ہے۔

# # # 💡 ہم کیا کر سکتے ہیں؟

1. کبوتروں کو دانہ نہ ڈالیں۔
2. چھتوں پر فضلہ جمع نہ ہونے دیں۔
3. پانی کے برتن یا فیڈر عوامی جگہوں پر نہ رکھیں۔
4. بیماری کی علامات ظاہر ہونے پر فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

# # # 🕊️ نتیجہ: نفرت نہیں، احتیاط ضروری ہے

کبوتر خوبصورت ضرور ہیں، مگر "انسانی لاپرواہی" نے انہیں ایک خطرہ بنا دیا ہے۔
اگر ہم واقعی ان سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں انہیں کھلانے کے بجائے
ان کے ماحول کو محفوظ فاصلے پر رکھنا چاہیے۔

یہی اصل نیکی ہے جو "انسان اور پرندے دونوں کو محفوظ" رکھتی ہے۔
(Copied)

اگر پاکستانی حکما کی نظر سے دیکھا جائے تو یہ پلیٹ ایک بیماری سے بھرپور ہےبقول حکما کے بادی وڈا گوشتبادی آلو بادی گوبھی ٹ...
08/10/2025

اگر پاکستانی حکما کی نظر سے دیکھا جائے تو یہ پلیٹ ایک بیماری سے بھرپور ہے
بقول حکما کے بادی وڈا گوشت
بادی آلو
بادی گوبھی
ٹماٹر کچے یقیناً گردے کا مرض
لیکن اسی پلیٹ کو اگر نیوٹریشنسٹ کی نظر سے دیکھا جائے تو یہ پلیٹ ایک پرفیکٹ کمبینیشن ہے۔
جس میں بیف سے ملی شاندار پروٹین
اور اتنے بیف سے پچاس گرام پروٹین مل رہی ہے۔
وہیں پروٹین کے علاوہ آئرن کی روزانہ کی کوانٹٹی پوری کرنے کو کافی ہے۔
یعنی اگر خون کی کمی ہو تو بڑا گوشت کھانے سے دور ہو سکتی ہے۔
وٹامن بی12 کے علاوہ اس میں زنک بھی موجود ہے
زنک اگر مردوں کے لئے دیکھا جائے تو مردانہ فرٹلٹی بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ساتھ میں آلو شامل ہیں۔ حکیمی لحاظ سے یہ بھی بادی جبکہ میرے مطابق یہ فائبر کاربوہائیڈریٹس اور پوٹاشیم کے حصول کا زریعہ ہیں
رشیا میں کاربوہائیڈریٹ کے لئے سب سے زیادہ آلو ہی استعمال ہوتے ہیں
گندم دوسرے نمبر پر ہے۔
اب بات کریں بروکلی کی تو یہ بھی اپنے طور پر بہترین غذا ئے۔
سبزیوں میں واحد سبزی ہے جس میں زیادہ پروٹین ہوتی ہے۔
فایبر ڈھیر سا اور ہر قسم کے وٹامنز سے بھرپور
معدہ فٹ رکھتی ہے۔
اصل مسئلہ ہمارے پکانے میں ہے۔ بیف کو پکانے کے لئے جب بالٹی بھر کے ککنگ آئل یا دیسی گھی شامل کیا جائے گا تو وہ اتنا زیادہ فیٹ اور کیلوریز بہت زیادہ ہو جاتی ہیں
ویسے ہی آلو کو اگر فرائی کر لیا جائے تو ٹنوں کے حساب سے تیل مل جاتا ہے۔
اصل مسئلہ ہمارے کھانوں میں تیل زیادہ ہونا اور بے انتہا کاربز ہیں۔
ہر کھانا بذات خود اچھا ہوتا ہے۔
اس لئے انجوائے کریں۔

08/10/2025

آپ کو دنیا میں ایسے انسان بہت کم ملیں گے جن کے یہ چاروں اعضاءعمر کے ساتھ متاثر نہ ہوئے ہوں‘ وہ بھی ایک ایسا ہی شخص تھا‘ وہ زندگی کی 97 بہاریں دیکھ چکا تھا‘ اس کے پوتے اور نواسیاں بال بچے دار تھیں لیکن وہ اپنی آٹھویں بیوی کے ساتھ بھرپور زندگی گزار رہا تھا‘ وہ کسی بھی طرح چالیس پینتالیس سے بڑا دکھائی نہیں دیتا تھا‘ میں لمبا سفر طے کر کے اس کے پاس ایمسٹرڈیم گیا‘ وہ شہر کے مضافات میں چھوٹے سے گاﺅں میں رہتا تھا‘ پنشن کی رقم میاں بیوی کےلئے کافی تھی‘ وہ مہینے میں آٹھ دن کوچنگ کرتا تھا‘ پچاس یورو فی کس چارج کرتا تھا اورلوگوں کو صحت مند‘ خوش حال اور پرمسرت زندگی کا طریقہ بتاتا تھا‘ میں نے بھی اسے پچاس یورو ادا کئے اور اس کی ”اوپن ائیر اکیڈمی“ میں بیٹھ گیا‘ جارج نے یہ اکیڈمی گھر کے چھوٹے سے لان میں بنا رکھی تھی‘ لوگ بلاکس کے بینچوں پر بیٹھتے تھے اور وہ ننگی زمین پر گھاس پر بیٹھ کر انہیں لیکچر دیتا تھا‘ ہمارے گروپ میں چھ لوگ تھے‘ دو لڑکیاں اور چار لڑکے‘ ہم سب ایک دوسرے کےلئے اجنبی تھے لیکن ہمارا مسئلہ کامن تھا‘ ہم ”موت تک صحت مند زندگی“ کا راز معلوم کرنا چاہتے تھے‘ ہم بینچوں پر تھے اور وہ ہمار سامنے ننگے پاﺅں ننگی زمین پر براجمان تھا۔وہ بولا ”ہم انسان ہیں تو پھر ہم صحت مند زندگی کےلئے چھ ڈاکٹروں کے محتاج ہیں“ ہم خاموشی سے اس کی طرف دیکھتے رہے‘ وہ بولا ”یہ چھ ڈاکٹر‘ سورج‘ آرام‘ ایکسرسائز‘ خوراک‘ خدا پر اعتماد اور ہمارے دوست ہیں“ وہ رکا‘ اپنا ایک پاﺅں اٹھا کر گود میں رکھا اور اسے دونوں ہاتھوں سے سہلانے لگا‘ وہ بولا ”آپ اگر دن میں ایک گھنٹہ اپنے جسم کو سورج کی روشنی دیتے ہیں‘ آپ اگر آٹھ گھنٹے سوتے ہیں‘ ایک گھنٹہ آرام کرتے ہیں اور ایک گھنٹہ سستاتے ہیں‘ آپ اگر روزانہ ایکسرسائز کرتے ہیں‘
آپ اگر متوازن خوراک کھاتے ہیں‘ آپ اگر خدا کی ذات پر یقین رکھتے ہیں اور آپ اگر دوست بنانا اور دوستی نبھانا جانتے ہیں تو پھر آپ کی میڈیکل ٹیم پوری ہے‘ آپ کو مزید مشورے کی ضرورت نہیں‘ آپ میری طرح صحت مند بھی رہیں گے اور آپ کی عمر میں بھی لمبی ہو گی“ وہ رکا‘ لمبا سانس لیا اور بولا ”آپ کو پوری زندگی ان چھ ڈاکٹروں کی ضرورت ہو گی‘ آپ ڈاکٹر سن‘ ڈاکٹر سلیپ‘ ڈاکٹر ایکسرسائز‘ ڈاکٹر ڈائیٹ‘ ڈاکٹر بی لِیو اور ڈاکٹر فرینڈ کو اپنے ساتھ رکھیں اور صحت مند زندگی گزاریں“ میں نے اس سے پوچھا ”ڈاکٹر سن ہمارے لئے کیوں ضروری ہے“

اس نے قہقہہ لگایا اور بولا ”سورج انرجی ہے‘ یہ ڈاکٹر ہماری پوری کہکشاں کو توانائی دیتا ہے‘ یہ نہ ہوتا تو شاید زمین پر زندگی بھی نہ ہوتی چنانچہ ہم اس کے بغیر اچھی اور صحت مند زندگی کیسے گزار سکتے ہیں؟ آپ کو اس کا ہاتھ بہرحال پکڑنا ہو گا“ وہ رکا اور بولا ”ڈاکٹر سلیپ ہمارے ٹوٹے ہوئے سیلز کی مرہم پٹی کرتا ہے‘ ہمارا جسم سارا دن ٹوٹ پھوٹ کے عمل سے گزرتا ہے‘ ہمارے سیلز آٹھ گھنٹے میں بری طرح زخمی ہو جاتے ہیں‘ ہم جب آنکھیں بند کرتے ہیں تو ڈاکٹر سلیپ آ کر ہمارے ان زخمی سیلوں پر مرہم لگا دیتا ہے‘ یہ انہیں دوبارہ کارآمد بنا دیتا ہے‘ آپ کے پاس اگر یہ ڈاکٹر نہیں تو آپ کے زخمی سیل مرنے لگیں گے اور یوں آپ گھل گھل کر ختم ہو جائیں گے‘

میں روزانہ آٹھ گھنٹے سوتا ہوں‘ میں ہر تین گھنٹے بعد آدھ گھنٹے کےلئے ایزی چیئر پر بیٹھ جاتا ہوں اور دن میں دو بار ہلکی سی نیند لیتا ہوں‘ یہ سستانا‘ یہ آرام اور یہ نیند مجھے اندر سے مضبوط کر دیتی ہے چنانچہ میں صحت مند ہوں“ وہ رکا‘ لمبی سانس لی اور بولا ”ڈاکٹر ایکسرسائز ڈاکٹر کم اور سرجن زیادہ ہے‘ یہ میرے اندر جنم لینے والی بیماریوں کو کاٹ کر باہر نکال دیتا ہے‘ ایکسرسائز انسان کو برتن کی طرح اندر سے صاف کرتی ہے‘ آپ اس ڈاکٹر کی خدمات حاصل کریں‘ یہ آپ کو اندر سے مضبوط بنا دے گا“ میں نے ہاتھ کھڑا کر دیا‘ وہ میری طرف متوجہ ہو گیا‘ میں نے پوچھا”ہمیں کون سی ایکسرسائز کرنی چاہیے“ وہ بولا ”کوئی بھی ایکسرسائز جس میں آپ کا سانس چڑھ جائے اور جسم پسینے میں بھیگ جائے“ وہ رکا اور بولا

”میں دن میں تین بار ایکسرسائز کرتا ہوں‘صبح خالی پیٹ واک کرتا ہوں‘ شام کو سائیکل چلاتا ہوں اور رات کے وقت کسرت کرتا ہوں“ میں نے ایک بار پھر ہاتھ کھڑا کر دیا‘ وہ میری طرف متوجہ ہو گیا‘ میں نے کہا ”آپ ایک ریٹائر شخص ہیں‘ آپ پورا دن ایکسرسائز کر سکتے ہیں لیکن ہم ورکنگ پیپل ہیں‘ ہم نے اپنے پروفیشن‘ جاب اور فیملی کو بھی وقت دینا ہوتا ہے‘ ہم دن میں تین تین بار ایکسرسائز کیسے کر سکتے ہیں“ اس نے قہقہہ لگایا‘ انگلی سے میری طرف اشارہ کیا اور بولا ”ویری گڈ کوئسچن‘ میں نے ایکسرسائز کا یہ شیڈول ریٹائرمنٹ کے بعد شروع نہیں کیا‘ یہ میری جوانی کی روٹین ہے‘

میں صبح خالی پیٹ پیدل دفتر جاتا تھا‘ مجھے دفتر پہنچنے میں ایک گھنٹہ لگتا تھا‘ یہ گھنٹہ میری مارننگ واک ہوتی تھی‘ میں ناشتہ دفتر میں کرتا تھا‘ میں پچھلے ستر سال سے شام کے وقت لوگوں کے گھروں میں پمفلٹ پھینک رہا ہوں‘ میں روز اشتہاری کمپنی سے پمفلٹ لیتا ہوں‘ شام کے وقت سائیکل پر بیٹھتا ہوں‘ سائیکل چلاتا جاتا ہوں اور گھروں میں پمفلٹ پھینکتا جاتا ہوں‘ مجھے اس سے جو آمدنی ہوتی ہے میں وہ رقم خیرات کر دیتا ہوں یوں میری ایکسرسائز بھی ہو جاتی ہے اور چیرٹی بھی اور رات کو میں جم میں باقاعدہ ”مسل ایکسرسائز“ کرتا ہوں‘

میں نے پوری زندگی اپنے مہمانوں کو پارکوں میں ملاقات کا وقت دیا‘ میں چلتے چلتے بات کرتا ہوں اور چلتے چلتے بات سنتا ہوں یوں ڈاکٹر ایکسرسائز ہمیشہ میرے ساتھ رہتا ہے“ وہ رکا‘ لمبی سانس لی اور بولا ”انسان دنیا کی واحد مخلوق ہے جسے اپنے قدکاٹھ اور وزن کے مقابلے میں انتہائی کم خوراک کی ضرورت ہوتی ہے‘ ہمیں خوراک کو دوائی کی طرح استعمال کرنا چاہیے‘ ہم یہ نہیں کریں گے تو دوائی ہماری خوراک کی جگہ لے لے گی‘

آپ گرین ٹی پئیں‘ چائے میں چینی اور دودھ استعمال نہ کریں‘ پھل اور سبزیاں کھائیں‘ گوشت ہفتے میں ایک بار کھائیں‘ مچھلی‘ انڈہ اور چکن روزانہ لیکن تھوڑا تھوڑا لیں اور آپ ایک گھنٹے میں پانی کی ایک بوتل پی جائیں‘ انسان سولہ گھنٹے جاگتا ہے‘ روزانہ پانی کی سولہ بوتلیں اس کے اندر جانی اور باہر نکلنی چاہئیں‘ آپ یہ کر کے دیکھ لیں‘ ڈاکٹرڈائیٹ پوری زندگی آپ کی حفاظت کرے گا“۔

وہ رکا‘ لمبا سانس لیا اور بولا ”آپ خدا کی ذات پر سو فیصد اعتماد رکھیں‘ دنیا میں کوئی نقصان نقصان اور کوئی فائدہ فائدہ نہیں ہوتا‘ یہ صرف وقت کی بات ہوتی ہے‘ نقصان اور فائدہ دونوں چند دن‘ چند ماہ یا چند سالوں کے بعد بے معنی ہو جاتے ہیں‘ آقا اور غلام چند برسوں کی تکلیف اور چند سالوں کی آسائش ہوتی ہے‘ رخمی صحت مند ہو جاتا ہے اور صحت مند زخمی ہو کر بیڈ پر پڑا ہوتا ہے‘ آپ اپنی کامیابی اور ناکامی دونوں کو من جانب اللہ سمجھ لیں‘ آپ سکھی ہو جائیں گے‘ بچوں کو امیر ہونا نہ سکھائیں‘ خوش ہونا سکھائیں تاکہ یہ بڑے ہوں تو یہ چیزوں کی اہمیت دیکھیں‘

ان کی قیمت نہ پڑھیں‘ دنیا کا جو شخص آپ سے محبت کرتا ہے وہ آپ کو کبھی چھوڑ کر نہیں جائے گا اور جو چلا گیا وہ آپ کا تھا ہی نہیں‘ انسان ہونے اور انسان بننے میں بڑا فرق ہوتا ہے‘ دنیا کا ہر شخص انسان ہے لیکن کیا وہ اشرف المخلوقات بھی ہے؟ یہ اس کے رویئے‘ یہ اس کی سوچ اور یہ اس کی شائستگی طے کرتی ہے‘ انسان ہونے کے بجائے انسان بننا سیکھو‘ سکھی رہو گے‘ جیتنا چاہتے ہو تو اکیلے دوڑو‘ کامیاب ہونا چاہتے ہو تو لوگوں کو ساتھ لے کر آہستہ آہستہ چلو‘ زندگی اچھی گزرے گی‘ ہم مسافر ہیں اور ہمارا خدا ہمارا ٹریول ایجنٹ‘ ہمارے روٹس‘ ہماری منزلیں اور ہمارے ساتھی مسافر دنیا میں ہر چیز ہمارے ٹریول ایجنٹ نے طے کر دی ہے‘

وہ رکا لمبا سانس لیا اور بولا ”اور ہاں ڈاکٹر فرینڈ بھی آپ کی زندگی کےلئے انتہائی ضروری ہے‘ آپ کی زندگی میں ایسے لوگ ضرور ہونے چاہئیں جن سے مل کر آپ قہقہے لگا سکیں‘ آپ جن کے ساتھ اپنی خوشیاں‘ اپنی اداسیاں اور اپنے غم شیئر کر سکیں‘ یہ ڈاکٹرہمارے جذبات کی مرہم پٹی کرتے ہیں‘ یہ نہ ہوں تو ہم اپنے ٹوٹے جذبوں کے لہو میں ڈوب کر مر جائیں ‘ ہماری عمر چھوٹی اور غم لمبے ہو جائیں“۔وہ رکا‘ لمبا سانس لیا‘ اٹھا‘ بوٹ پہنے اور بولا ” ہم باقی گفتگو واک کے دوران کریں گے“۔

*منقول*

25/09/2025

شمال مشرق انگلینڈ کے شہر نیو کاسل میں صبح سویرے کا وقت ہے، میں اپنے کمرے میں بیٹھا ہوں اور اپنے سامنے پانی کے گلاس میں پیناڈول ایکسٹرا کی گولی آہستہ آہستہ گھلتے دیکھ رہا ہوں۔ جب تک یہ گھل کر پینے کے قابل ہوتی ہے، میں آپ سے اپنا ایک ذاتی تجربہ بیان کرنا چاہتا ہوں تاکہ آپ بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں اور اپنی صحت کو بہتر بنا سکیں۔

مجھے وراثت میں مائیگرین ملا ہے۔ ہفتے میں کم از کم ایک یا دو مرتبہ یہ تکلیف ضرور آتی تھی۔ میں نے محض چھے برس کی عمر سے ہی درد کے لیے ایسپرین اور عام پیناڈول لینا شروع کر دیا تھا۔ جب جوانی کو پہنچا تو بات پونسٹان فورٹ تک جا پہنچی۔ لیکن ایک وقت ایسا آیا کہ اس دوا نے بھی اپنا اثر دکھانا بند کر دیا۔
چھوٹے بھائی، جو کہ ڈاکٹر ہیں، کی بار بار تنبیہ کے باوجود میں نے سن فلیکس استعمال کرنا شروع کیا۔ اس کا نقصان یہ ہوا کہ مجھے معدے کے السر کی ابتدائی علامات ظاہر ہونا شروع ہوگئیں۔ بالآخر مجھے یہ دوا ترک کرنا پڑی کیونکہ سن فلیکس بھی دیگر این ایس ای آئی ڈیز (NSAIDs) کی طرح جسم میں پروستاگلینڈنز (Prostaglandins) نامی ایسے کیمیائی مادے کی تیاری کو روکتی ہے جو درد اور سوزش کو کم کرتے ہیں، لیکن یہی مادہ معدے اور آنتوں کی جھلی کو بھی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اگر یہ دوائیں زیادہ عرصے تک استعمال کی جائیں تو اندرونی زخم بھرنے کے بجائے السر کی شکل اختیار کر لیتے ہیں، اور نقصان بڑھتا جاتا ہے۔
آٹھ مہینے کے مسلسل درد اور علاج کے بعد جب معدہ کچھ بہتر ہوا تو ڈاکٹر نے مجھے پیناڈول ایکسٹرا اور ٹرِپ ٹان تجویز کیں۔ یہ دوائیں این ایس ای آئی ڈیز نہیں ہیں لہٰذا ان سے مجھے مائیگرین میں افاقہ ہونے لگا۔ (یہاں یہ بات واضح کر دینا ضروری ہے کہ کبھی بھی کوئی دوا بغیر ڈاکٹر کے مشورے کے نہ لیں، کیونکہ ممکن ہے کسی دوا سے آپ کو الرجی ہو اور فائدے کے بجائے نقصان پہنچے۔)
لیکن زندگی بھر تو دوا پر گزارہ نہیں کیا جا سکتا۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ کوئی بھی دوا مسلسل لی جائے تو جسم اس کا عادی ہو جاتا ہے اور پھر وہ اثر دکھانا بند کر دیتی ہے۔ یہ دو طرح سے ہوتا ہے:

1. فارماکوکائنیٹک ٹولرینس (Pharmacokinetic Tolerance)�یہ اس وقت پیدا ہوتی ہے جب جگر کے CYP450 enzymes زیادہ فعال ہو جاتے ہیں اور دوا کو پہلے سے زیادہ تیزی سے توڑ کر خون سے خارج کر دیتے ہیں۔ اس کی وجہ سے خون میں دوا کی مقدار کم رہتی ہے اور اثر گھٹ جاتا ہے۔
2. فارماکوڈائنامک ٹولرینس (Pharmacodynamic Tolerance)�یہ اس وقت پیدا ہوتی ہے جب جسم کے ریسیپٹرز (receptors) جن پر دوا اثر ڈالتی ہے، آہستہ آہستہ حساسیت کھو دیتے ہیں یا تعداد میں کمی آ جاتی ہے۔ نتیجتاً دوا خون میں موجود ہونے کے باوجود پہلے جیسا اثر نہیں دیتی۔

اس مسئلے سے نمٹنے اور مائیگرین کے دوروں کو کم کرنے کے لیے میں نے ورزش کا سہارا لیا۔ میرا خیال تھا کہ ورزش خون کی گردش کو بہتر بناتی ہے اور شاید اسی وجہ سے مائیگرین میں کمی واقع ہو۔
چنانچہ میں نے بہاولپور میں گھر کے پاس بنے ڈرنگ اسٹیڈیم کے کچے ٹریک پر تین کلومیٹر جاگنگ شروع کر دی۔ ڈیڑھ مہینے بعد ہی اس کے حیران کن نتائج سامنے آئے۔ جو درد ہفتے میں دو یا تین مرتبہ آتا تھا، وہ اب مہینے میں ایک مرتبہ رہ گیا، اور وقفہ بھی مزید بڑھنے لگا۔ لیکن جیسے ہی میں مصروفیات کے باعث ہفتہ دس دن کے لیے ورزش چھوڑ دیتا، تکلیف دوبارہ بڑھ جاتی۔
اگر آپ کو جاگنگ بورنگ یا تھکا دینے والی لگے تو روزانہ پانچ کلومیٹر تیز چلیں یا دس کلومیٹر عام چہل قدمی کریں۔ تیز چلنا زیادہ بہتر ہے ایک تو وقت کی بچت ہے دوسرا پانچ کلومیٹر کا فاصلہ ایک سے ڈیڑھ گھنٹے میں طے کرلیں گے۔ اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو روزانہ ایک گھنٹہ فٹ بال یا بیڈمنٹن کھیلیں۔ چاہیں تو ایک دن جاگنگ، دوسرے دن تیز واک، اور تیسرے دن کوئی دوڑنے والا کھیل اپنا لیں۔
یقین رکھیے! ورزش سے آپ کو نہ صرف مائیگرین کے دوروں میں نمایاں کمی ملے گی بلکہ اس میں وقفے کا اضافہ دیکھنے کو ملے گا۔ جس قدر پابندی سے ورزش کریں گۓ میگرین اس قدر Delay ہوتا جاۓ گا۔ ورزش چھوڑنے پر پھر سے چند دن بعد درد کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسکے علاوہ تیز واک کے بہت سے فوائد ہیں۔ ہمارے جسم کا سارا وزن ہماری ٹانگوں پر ہوتا ہے، ٹانگیں جتنی مضبوط ہوں گی آپکا جسم اتنا صحت مند رہے گا اور آپ بڑھاپے کو ایک حد تک شکست بھی دے سکتے ہیں۔
بشکریہ
وقاص علی
شمال مشرق انگلینڈ

22/09/2025

*ہاٹ فلیش Hot Flash 5*
*50 سال کے بعد خواتین میں اچانک حرارت، پسینہ اور گلے کی خشکی کا احساس۔!*

*خواتین میں پچاس برس کے بعد ایک فطری تبدیلی آتی ہے جسے (سِن یاس) کہتے ہیں، انگریزی میں اسے Menopause (مینوپاز) کہا جاتا ہے۔* اس دور میں اکثر خواتین کو ہاٹ فلیش (Hot Flash) یعنی اچانک گرمی اور تپش کی کیفیت کا سامنا ہوتا ہے۔ اس کی عام علامات میں اچانک پسینہ آ جانا، چہرے اور گلے کا سرخ ہونا، دھڑکن تیز ہونا، گھبراہٹ محسوس ہونا، گلے اور منہ کی خشکی، نیند کا ٹوٹ جانا، جسم میں کپکپی یا گرمی کے جھونکے، سر میں بوجھ یا ہلکا درد، توجہ میں کمی اچانک بے چینی شامل ہیں۔ یہ کیفیت بعض خواتین کے لیے روزمرہ زندگی کو مشکل بنا دیتی ہے۔

*قدیم چین میں*
*اس کے علاج کے لیے ایک مؤثر طریقہ علاج ایکو پریشر (Acupressure) ہے، جو ہزاروں برس پرانا اور آج بھی مستند مانا جاتا ہے۔* ہاٹ فلیشز کے لیے ایک خاص پوائنٹ UB 60 (یو بی 60) ہے، جو پاؤں کے ٹخنے کے بالکل پیچھے ہوتا ہے۔ اسے ڈھونڈنے کا طریقہ یہ ہے کہ ٹخنے کی نوک پر انگوٹھا اور انگلیاں رکھیں اور آدھا انچ نیچے آئیں، وہاں دباؤ ڈالنے پر نرمی اور گڑھا سا محسوس ہوگا، یہی یو بی UB 60 پوائنٹ ہے۔ دونوں پیروں میں اس پوائنٹ پر اپنے ہاتھ کے انگوٹھے اور پہلی انگلی سے چٹکی بھر کر درمیانہ دباؤ ڈالنا ہے ، یعنی دبائیں اور چھوڑیں، پھر دوبارہ دبائیں اور چھوڑیں۔ یہ عمل تین تین منٹ تک کریں، اور گہری سانسیں لینا نہ بھولیں۔ یہ طریقہ *ان شا ء اللہ* فوری سکون بھی دے گا ۔

*یو بی 60 UB صرف ہاٹ فلیشز کے لیے نہیں بلکہ کئی دیگر تکالیف میں بھی فائدہ مند ہے۔* یہ پوائنٹ کمر درد، ٹانگوں کی کھنچاؤ، ایڑی کا درد، گردن کی اکڑن، سر درد اور مائیگرین، بے خوابی، گھٹنوں کا درد، دماغی دباؤ، چڑچڑاپن اور دورانِ خون کی کمی کو بھی بہتر کرتا ہے۔ بہتر یہی ہے کہ اسے دن میں پانچ بار، خصوصاً نماز کے بعد باقاعدگی سے کیا جائے، لیکن اگر اچانک رات کو ہاٹ فلیش ہو تو فوراً کریں ۔ اس دوران گہرے سانس لینا لازمی ہے تاکہ جسم اور دماغ دونوں کو یکساں سکون اور توانائی ملے۔

*اللہ ، آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے۔*

ج(کاپی)

Address

Karachi

Opening Hours

Monday 10:00 - 11:00
Tuesday 10:00 - 11:00
Wednesday 10:00 - 11:00
Thursday 10:00 - 11:00
Friday 10:00 - 11:00
Saturday 09:00 - 17:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Doctor Online posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Doctor Online:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Our Story

اک سوال ان بکس سے "ڈاکٹر صاحب وزن کم کرنے کا کوئی اسںان سا طریقہ بتا دیں" جواب بس تب کھایئں جب بہت بھوک ہو، اور تب چھوڑ دیں جب کچھ بھوک باقی ہو. کھانے سے پہلے پانی پیئں، کھانے بعد ٢ گھنٹے تک نہیں. جتنا کھائیں اتنا کام بھی کریں. 5 وقت کی نماز بہتریں ورزش ہے. بس وزن کم ہو جائے گا.

یہ ہیں تو چھوٹی چھوٹی سی باتیں. ممکن ہے آپ کو خاصی فضول سی بھی لگیں. پر یہ سب رسول اکرم کی حدیث میں ہے. ایک عرب شیخ کی زوجہ کا وزن صرف ان پر عمل کرنے سے 110 سے کم ہو کر 80 ہوا ہے. اور بھی ایسے کیسز صرف اسی پر عمل سے حیران کن طور پر ٹھیک ہو گئے ہیں.

Doctor Online