Enlighten Education

Enlighten Education We enlighten people with Knowledge of the Spiritual & Modern Sciences. For book enthusiasts, we have a rich repository of content available.
(1)

Enlighten Education is a unique platform that offers extensive learning opportunities in mind sciences, spirituality, psychology, history, nonverbal communication, mind wellness, religion, management, financial markets, and more. Our platform provide courses with durations of 1 month and 1.5 months, allowing students to conveniently tailor their learning experience. Additionally, we host sessions on various topics, featuring expert speakers in their fields, offering you fresh perspectives for thoughtful exploration.

06/11/2025

اِن شاءاللہ اگلے ہفتے سے ہم اپنا نیا ٹریڈنگ کورس بیچ شروع کر رہے ہیں۔
اس کورس میں ہم تفصیل کے ساتھ ٹریڈنگ سائیکالوجی، مارکیٹ کا رویہ، چارٹ پیٹرنز، کینڈل اسٹک پیٹرنز، پورٹ فولیو مینجمنٹ اور رسک مینجمنٹ سیکھیں گے۔
اس کے علاوہ فنڈامینٹل اینالیسس بھی کور کیا جائے گا۔

اِن شاءاللہ کچھ کلاسز لائیو سیشنز میں ہوں گی، جہاں آپ اپنے سوالات کر سکیں گے اور کلاسز کے حوالے سے ڈسکشن بھی ہوگی تاکہ ہر بات پوری طرح سمجھ میں آئے۔

📢 انرول کرنے کے لیے ابھی ان باکس میں رابطہ کریں،
⏳ سیٹس محدود ہیں کیونکہ اس بیچ میں ہم صرف چند طلبہ کو ہی انرول کریں گے۔

کیا آپ دوسروں کے سامنے بات کرتے وقت گھبراہٹ محسوس کرتے ہیں؟کیا تقریر کے دوران دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے؟کیا محفل یا کھی...
28/10/2025

کیا آپ دوسروں کے سامنے بات کرتے وقت گھبراہٹ محسوس کرتے ہیں؟
کیا تقریر کے دوران دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے؟
کیا محفل یا کھیل کے دوران جھجک اور بے یقینی آپ کو روک دیتی ہے؟

اگر ہاں، تو فکر نہ کریں!
ہمارا سوشل انزائٹی کورس آپ کی خوداعتمادی بحال کرنے اور خوف پر قابو پانے میں مدد کرے گا۔

✨ کورس میں آپ سیکھیں گے:

عملی مشقوں کے ذریعے گھبراہٹ پر قابو پانا

پراعتماد انداز میں گفتگو کرنے کی تکنیک

محفل اور عوامی تقریر میں اعتماد بڑھانے کے طریقے

یہ کورس آپ کو ایک پراعتماد، مثبت سوچ والا اور مضبوط شخصیت رکھنے والا انسان بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

📩 مزید تفصیل اور رجسٹریشن کے لیے ابھی ان باکس میں رابطہ کریں۔

بلیک ہول (Black Hole)، کائنات کے اسرارکائنات کا مطالعہ جتنا وسیع ہوتا جا رہا ہے، اتنا ہی یہ احساس بڑھتا جا رہا ہے کہ الل...
28/10/2025

بلیک ہول (Black Hole)، کائنات کے اسرار

کائنات کا مطالعہ جتنا وسیع ہوتا جا رہا ہے، اتنا ہی یہ احساس بڑھتا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں ایسی بے شمار نشانیاں ہیں جن تک انسان آج بھی مکمل طور پر نہیں پہنچ سکا۔ انہی پر اسرار نشانیوں میں سے ایک ہے بلیک ہول (Black Hole)، وہ مقام جہاں کائنات کے تمام قوانین جیسے تھم سے جاتے ہیں، اور جہاں کششِ ثقل اتنی طاقتور ہوتی ہے کہ کوئی شے، حتیٰ کہ روشنی بھی، وہاں سے واپس نہیں آسکتی۔

بلیک ہول دراصل ایک بہت بڑے ستارے کے ختم ہونے کے بعد بنتا ہے۔ جب کوئی عظیم ستارہ اپنا ایندھن ختم کر دیتا ہے تو وہ اپنے ہی وزن کے دباؤ سے اندر کی طرف سکڑنے لگتا ہے۔ اس کے اندر موجود مادہ اتنی شدت سے دب جاتا ہے کہ وہ ایک نہایت چھوٹے مگر بےحد بھاری نقطے میں تبدیل ہو جاتا ہے، جسے سنگولیریٹی (Singularity) کہا جاتا ہے۔ اس کے اردگرد ایک سرحد بن جاتی ہے جسے ایونٹ ہورائزن (Event Horizon) کہتے ہیں۔ جو بھی چیز اس حد کے اندر داخل ہو جائے، وہ ہمیشہ کے لیے غائب ہو جاتی ہے، یہاں تک کہ روشنی بھی۔

سائنس دانوں کے مطابق بلیک ہولز مختلف اقسام کے ہوتے ہیں۔ سب سے چھوٹے بلیک ہولز کو اسٹیلر بلیک ہول (Stellar Black Hole) کہا جاتا ہے، جو بڑے ستاروں کے ختم ہونے سے بنتے ہیں۔ دوسری قسم سپرمیسیو بلیک ہولز (Supermassive Black Holes) کی ہے، جو کہ کہکشاؤں کے مرکز میں پائے جاتے ہیں۔ ہماری کہکشاں ملکی وے (Milky Way) کے مرکز میں بھی ایک بہت بڑا بلیک ہول موجود ہے، جسے سجیٹیریئس اے اسٹار (*Sagittarius A) کہا جاتا ہے۔

سال 2019 میں انسانی تاریخ کا ایک بڑا سائنسی کارنامہ سامنے آیا جب سائنس دانوں نے پہلی بار ایک بلیک ہول کی تصویر حاصل کی۔ یہ دراصل براہِ راست تصویر نہیں تھی بلکہ دنیا بھر کی مختلف دوربینوں سے حاصل شدہ ریڈیائی سگنلز کو یکجا کر کے بنائی گئی ایک بصری تخلیق تھی۔ یہ دریافت آئن اسٹائن کے نظریۂ اضافیت (Theory of Relativity) کی زبردست تصدیق تھی، کیونکہ آئن اسٹائن نے سو سال پہلے ہی پیش گوئی کی تھی کہ کائنات میں ایسے مقام موجود ہیں جہاں وقت اور خلا اپنی عام حالت کھو دیتے ہیں۔

بلیک ہول کے اندر کیا ہے؟ یہ سوال آج تک ایک معمہ بنا ہوا ہے۔ وہاں نہ وقت اپنی عام صورت میں موجود رہتا ہے، نہ مادہ اپنی شکل برقرار رکھتا ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق اگر کوئی چیز بلیک ہول میں داخل ہو جائے تو وہ ہمیشہ کے لیے غائب ہو جاتی ہے۔ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ بلیک ہول کے اندر شاید کسی دوسری جہت یا کائنات کی طرف راستہ موجود ہو، لیکن یہ سب اب تک محض نظریات ہیں۔

قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

“فَلَا أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ، الْجَوَارِ الْكُنَّسِ” ‏(التکویر: 15-16)

یعنی “میں قسم کھاتا ہوں ان پیچھے ہٹ جانے والے، گردش کرنے والے، چھپ جانے والے (ستاروں) کی۔”

کئی مفسرین اور جدید سائنس دانوں نے اس آیت کو ان آسمانی اجسام سے تشبیہ دی ہے جو اپنے مدار میں حرکت کرتے ہیں مگر نظر نہیں آتے، یعنی وہی خصوصیات جو بلیک ہول کی ہیں۔

بلیک ہول کے قریب وقت کی رفتار سست پڑ جاتی ہے۔ آئن اسٹائن کے نظریے کے مطابق کششِ ثقل وقت کو بھی متاثر کرتی ہے۔ اگر کوئی شخص بلیک ہول کے قریب پہنچ جائے تو اسے وقت آہستہ گزرتا محسوس ہوگا، جب کہ دور کھڑا شخص اسے بہت تیزی سے گزرتا ہوا دیکھے گا۔ اس عمل کو ٹائم ڈائلیشن (Time Dilation) کہا جاتا ہے۔ یہ حیرت انگیز تصور ہمیں بتاتا ہے کہ کائنات میں وقت کوئی مستقل چیز نہیں بلکہ کششِ ثقل کے تابع ہے۔

اسلام کے نزدیک یہ تمام مظاہر انسان کے لیے اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔ قرآن میں فرمایا گیا:

“إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ” ‏(آل عمران: 190)

یقیناً آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں، اور رات دن کے بدلنے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔

بلیک ہول انسان کو یہ سبق دیتا ہے کہ کائنات کتنی وسیع ہے اور انسان کا علم کتنا محدود۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

“وَمَا أُوتِيتُم مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا” ‏(الإسراء: 85)

یعنی تمہیں علم میں سے بہت ہی تھوڑا دیا گیا ہے۔

سائنس جتنا بھی آگے بڑھ جائے، بلیک ہول جیسے مظاہر اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ انسان سب کچھ جاننے پر قادر نہیں۔ ہر دریافت انسان کو اللہ کی قدرت کے قریب لے جاتی ہے، کیونکہ کائنات کے یہ اسرار کسی حادثے یا اتفاق کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک عظیم خالق کی نشانی ہیں، جو ہر ذرے اور ہر کہکشاں کا رب ہے۔

بلیک ہول انسان کے لیے ایک دعوتِ فکر ہے کہ وہ کائنات کے رازوں میں غور کرے، علم حاصل کرے، مگر غرور نہ کرے۔ کیونکہ علم کی انتہا بھی ہمیں اسی بات پر پہنچاتی ہے کہ “سبحان الله خالق كل شيء”، پاک ہے وہ اللہ جو ہر چیز کا خالق ہے۔

انسان اپنی زندگی میں روز بے شمار فیصلے کرتا ہے۔ کبھی ہم یہ سوچتے ہیں کہ ہمیں کس سے دوستی کرنی ہے، کس شعبے میں تعلیم حاصل...
27/10/2025

انسان اپنی زندگی میں روز بے شمار فیصلے کرتا ہے۔ کبھی ہم یہ سوچتے ہیں کہ ہمیں کس سے دوستی کرنی ہے، کس شعبے میں تعلیم حاصل کرنی ہے یا مستقبل میں کیا بننا ہے۔ بظاہر یہ سارے فیصلے ہم اپنی مرضی سے کرتے ہیں، مگر غور کیا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی یہ فیصلے ہماری اپنی مرضی سے ہوتے ہیں یا ہمارا ماحول ہمیں ان کی طرف لے جاتا ہے؟

آزادیِ ارادہ یا "فری ول" کا مطلب ہوتا ہے کہ انسان اپنی پسند اور سوچ کے مطابق بغیر کسی دباؤ کے فیصلہ کرے۔ بظاہر تو ہم سب کو لگتا ہے کہ ہم آزاد ہیں، مگر حقیقت میں ہماری سوچ، عادتیں اور پسند ناپسند سب کچھ اسی ماحول سے بنتے ہیں جس میں ہم رہتے ہیں۔

اگر کوئی بچہ ایسے گھر میں پلا بڑھے جہاں تعلیم کو اہمیت دی جاتی ہے تو وہ لازمی طور پر پڑھائی کو ضروری سمجھے گا۔ لیکن اگر وہ ایسے ماحول میں ہو جہاں پیسہ ہی سب کچھ سمجھا جاتا ہے تو اس کے لیے کامیابی کا مطلب صرف دولت کمانا رہ جائے گا۔ اسی طرح ہمارا خاندان، دوست، معاشرہ اور میڈیا سب ہمارے ذہن پر اثر ڈالتے ہیں اور ہمیں وہی سوچنے پر مجبور کرتے ہیں جو ہم سمجھتے ہیں کہ ہم نے خود سوچی ہے۔

پھر بھی یہ کہنا درست نہیں کہ انسان کا اپنا کوئی اختیار نہیں۔ کچھ فیصلے واقعی ہمارے دل سے نکلتے ہیں، خاص طور پر تب جب ہم شعور کے ساتھ سوچتے ہیں، سوال کرتے ہیں اور دوسروں کے اثر سے ہٹ کر خود کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب انسان اپنے اندر جھانک کر فیصلہ کرتا ہے تو وہ واقعی اس کا اپنا فیصلہ ہوتا ہے۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ انسان کے فیصلوں میں اس کی اپنی مرضی بھی شامل ہوتی ہے مگر ماحول کا اثر بھی اس سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ اصل دانائی یہ ہے کہ انسان اپنے اردگرد کے اثرات کو پہچانے، ان پر غور کرے اور پھر ایسا فیصلہ کرے جو اس کی اصل سوچ اور ضمیر کے قریب ہو۔ یہی حقیقی آزادیِ ارادہ ہے۔

مشینوں کے بیچ انسان کی تنہائیدنیا آج غیر معمولی ترقی کے دور سے گزر رہی ہے۔ سائنس، ٹیکنالوجی، طب اور معیشت کے میدان میں ا...
23/10/2025

مشینوں کے بیچ انسان کی تنہائی

دنیا آج غیر معمولی ترقی کے دور سے گزر رہی ہے۔ سائنس، ٹیکنالوجی، طب اور معیشت کے میدان میں انسان نے وہ مقام حاصل کر لیا ہے جس کا چند دہائیاں پہلے تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ مگر اس تمام ترقی کے باوجود ایک پہلو ایسا ہے جہاں انسان مسلسل پیچھے ہٹ رہا ہے، اور وہ ہے انسانیت۔ آج کا انسان بظاہر باشعور اور تعلیم یافتہ ہے، لیکن باطن میں خالی اور بے حس دکھائی دیتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسانیت ایک نئے امتحان سے گزر رہی ہے۔

ماضی میں انسانیت کا امتحان جسمانی بقا کا تھا۔ جنگیں تلواروں اور بندوقوں سے لڑی جاتی تھیں، مگر آج کا دور مختلف ہے۔ اب جنگیں لفظوں، نظریات، اور سوشل میڈیا کے بیانیوں سے لڑی جا رہی ہیں۔ لوگ اپنی رائے کو سچ اور دوسرے کی بات کو غلط ثابت کرنے میں اس قدر مصروف ہیں کہ برداشت اور احترام جیسے اوصاف مٹتے جا رہے ہیں۔ ہر شخص چاہتا ہے کہ وہ سنا جائے، مگر سننے والا کوئی نہیں۔ اسی رویے نے معاشرے میں بے چینی، عدم برداشت، اور خود غرضی کو جنم دیا ہے۔

انسانیت کا دوسرا بڑا امتحان احساس کی کمی ہے۔ ہم نے مشینوں کو انسانی انداز میں بات کرنا سکھا دیا، مگر خود احساس کرنا بھول گئے۔ ٹیکنالوجی نے ہمیں قریب لایا، مگر دلوں کو دور کر دیا۔ اب لوگ ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونے کے بجائے صرف تصویروں اور پیغامات تک محدود ہو گئے ہیں۔ مدد کے الفاظ بہت ہیں، مگر حقیقی عمل کم۔ یہی وہ خلا ہے جو جدید دنیا کے دل میں خاموشی سے بڑھ رہا ہے۔

اس دور کا سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ہم اپنی انسانیت کو کس طرح محفوظ رکھیں۔ اگر ہم نے رحم، سمجھ، اور برداشت کو کھو دیا تو ہماری ساری ترقی بیکار ہو جائے گی۔ اصل ترقی وہ نہیں جو شہروں کی عمارتوں میں نظر آئے، بلکہ وہ ہے جو انسان کے رویے، سوچ اور کردار میں دکھائی دے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اختلاف دشمنی نہیں ہوتا اور محبت کمزوری نہیں۔

آخر میں، انسانیت کا نیا امتحان دراصل ہماری اندرونی حالت کا امتحان ہے۔ یہ طے کرے گا کہ ہم مشینوں کے ساتھ رہنے والے انسان بنیں گے یا انسانوں کے ساتھ جینے والی مشینیں۔ اگر ہم نے اپنے دل میں احساس کو زندہ رکھا، دوسروں کے دکھ کو محسوس کیا، اور سچائی کو خود غرضی پر ترجیح دی، تو شاید ہم یہ امتحان کامیابی سے پاس کر لیں گے۔

کہتے ہیں ایک وقت تھا جب ایک شخص سب کے لیے حاضر رہتا تھا، ہر پکار پر، ہر ضرورت پر۔ کسی کو مدد چاہیے ہوتی تو سب سے پہلے وہ...
22/10/2025

کہتے ہیں ایک وقت تھا جب ایک شخص سب کے لیے حاضر رہتا تھا، ہر پکار پر، ہر ضرورت پر۔ کسی کو مدد چاہیے ہوتی تو سب سے پہلے وہ پہنچتا، کسی کو مشورہ چاہیے ہوتا تو سب سے پہلے وہ بولتا۔ لوگ اُس سے خوش رہتے، اور وہ اِس بات سے مطمئن کہ "میں اچھا کر رہا ہوں۔"

وقت گزرتا گیا۔ اُس نے ہر ایک کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھی، مگر کبھی کسی نے اُس کی آنکھوں میں نہیں دیکھا۔

ایک دن وہ رُکا، نہ کسی نے بلایا، نہ کسی نے پوچھا۔

وہ پہلی بار اپنے لیے خاموش ہوا تو احساس ہوا کہ شاید وہ خود کو بہت پیچھے چھوڑ آیا ہے۔

اُس نے سوچا، “میں نے سب کا خیال رکھا، مگر کبھی خود کا کیوں نہیں؟ میں ہر کسی کے دکھ میں ڈوبا، مگر اپنے زخموں کو کبھی وقت نہیں دیا۔”

پھر اسے ایک بوڑھا درخت یاد آیا جو اُس کے گھر کے پاس تھا۔

ہر گرمی میں لوگ اُس کے سائے تلے بیٹھتے، اُس کے تنے پر نام کھودتے، اُس کی شاخوں سے جھولتے۔ مگر کسی نے کبھی اُسے پانی نہیں دیا۔

ایک دن وہ درخت سوکھ گیا۔ سب حیران تھے، “اتنا بڑا درخت، اچانک کیسے مر گیا؟”

کسی نے یہ نہیں سوچا کہ سایہ دینے والا بھی کبھی سایہ چاہتا ہے۔

(شایان)

ہماری جدید زندگی نے ہمیں سہولتیں تو بے شمار دی ہیں، مگر سکون اور خودی ہم سے چھین لیا ہے۔ آج ہم صبح آنکھ کھولتے ہی موبائل...
17/10/2025

ہماری جدید زندگی نے ہمیں سہولتیں تو بے شمار دی ہیں، مگر سکون اور خودی ہم سے چھین لیا ہے۔ آج ہم صبح آنکھ کھولتے ہی موبائل فون دیکھتے ہیں، دوسروں کے خیالات پڑھتے ہیں، مگر اپنے دل کی آواز نہیں سنتے۔ ہم نے اتنی آوازیں اپنے اردگرد جمع کر لی ہیں کہ اپنی اندرونی خاموشی کی پہچان ہی کھو دی ہے۔ ہم سب کچھ حاصل کرنے کی دوڑ میں ہیں، مگر یہ بھول گئے ہیں کہ ہم دراصل کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

ہم اپنی اصل "میں" سے دور ہو چکے ہیں، کیونکہ ہم نے زندگی کو موازنوں، تعریفوں، اور کامیابی کے پیمانوں میں قید کر دیا ہے۔ ہم دوسروں کی نظروں میں جینے لگے ہیں، اس لیے اندر سے خالی محسوس کرتے ہیں۔ اصل خودی تب ملتی ہے جب انسان کچھ دیر رک کر خود کو سنتا ہے، بغیر خوف، بغیر دکھ، بغیر دکھاوے کے۔

زندگی کی سادگی، خاموشی اور قدرت کے ساتھ جڑاؤ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سکون کسی نئی چیز میں نہیں، بلکہ اسی اندر چھپے وجود میں ہے جسے ہم نظر انداز کرتے آئے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم کبھی کھوئے ہی نہیں، بس بھٹک گئے ہیں۔ اپنے اندر لوٹنا ہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ (شایان)

Address

Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Enlighten Education posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Enlighten Education:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram