Medical information

Medical information No

09/02/2021

غیبت اور وائٹ سیل

میں دماغ کی کارکردگی پر ایک ریسرچ ویڈیو دیکھ رہی تھی،اور اسی ویڈیو میں ایک پوائنٹ پر بتایا گیا کہ جب ہم کسی کی برائی یا غیبت کرتے ہیں تو ہمارے جسم پر اس کا کیا اثر ہوتاہے۔چونکہ ہم سب کافی ماڈرن ہو چکے ہیں، اور ہمیں جب تک کسی بھی چیز کی سائنسی وجہ نہیں ملتی،ہم کم ہی اس پریقین کرتے ہیں تو میں بھی سائنسی ریزن تو چاہتی تھی۔ ورنہ جیسے بانو قدسیہ کہتی ہیں کہ جب تک کسی بھی تحقیق پر انگریز یا غیر ملکی کے نام کا ڈھپہ نہ لگا ہو، ہم یقین ہی نہیں کرتے۔
تو بتایا گیا کہ جیسے ہی ہم کسی بھی انسان کے بارے میں منفی بات سوچتے ہیں، ٹھیک اسی وقت، اسی لمحے میں ہمارے دماغ کی بائیو کیمسٹری بدل جاتی ہے، اور ہمارا دما غ ایک کروسٹول نامی ہارمون ریلیز کرتاہے۔(اسی سکینڈ، اسی لمحے میں)۔ یہ کروسٹول انسان کے دفاعی سسٹم پر حملہ کرتاہے، اور یہ سسٹم کمزور ہونے لگتا ہے۔ ٹھیک اسی عمل کے ساتھ انسان کے جسم کے وائٹ سیل ختم ہونے لگتے ہیں۔ جو لوگ تھوڑا بہت کینسر کے بارے میں جانتے ہیں، وہ وائٹ سیل کی اہمیت کو سمجھتے ہوں گے۔کینسر کا علاج کیمیو تھراپی سے ہوتاہے۔ کیمیو کا عمل شروع ہوتے ہی جسم میں وائٹ سیل ختم ہونے لگتے ہیں، اور یہ بہت خطرناک صورتحال ہوتی ہے۔اب تھوڑا سا غور کریں کہ کینسر کے سیلز بہت اسٹرونگ ہوتے ہیں، کہ انہیں ختم کرنے کے لیے مریض کے جسم میں ”لاوا‘‘ انڈیلا جاتاہے۔کیمیو کو لاوے یا آگ سے تشبیہ دی جاتی ہے۔اب یہ لاوا کینسر کے سیل کے ساتھ ساتھ وائٹ سیل بھی کھا جاتاہے۔ تو جب انسان عیب جوئی، چغلی یا برائی کرتاہے تو اپنے اندر ایک ایسی آگ انڈیلتا ہے جو اسے ایسا شدید نقصان پہنچاتی ہے کہ اس کی جان ہی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔دفاعی سسٹم کے کمزور ہونے کا ایک سادہ سا لیکن گہرا مطلب یہ ہے کہ آپ ”بیمار“ہونے کے لیے تیار ہیں، اور بیمار ہونے کی صورت میں جلدی ٹھیک نہیں ہوں گے۔ کیونکہ جسم کا نظام آپ نے خود کمزور کر لیا، اسے دیمک کے ہاتھوں حوالے کر دیا جس نے اسے ”کھا“ لیا۔
اب یاد کریں کہ ہمارے مذہب نے کیا کہا ہے؟ کہ جب تم نے کسی کی غیبت کی تو مردہ گوشت کھایا۔ کسی بھی ڈاکٹر سے پوچھ لیں کہ مردہ گوشت کھانے کے انسانی جسم پر کیا نقصان ہوتے ہیں، وہ بتا دے گا کہ اس کا کیا مطلب ہوتاہے۔یہ ہوا جسمانی نقصان، جو سائنس کی ترقی کے ساتھ ساتھ اور واضح ہوتا چلا جائے گا۔ میرا یقین ہے کہ اس کے روحانی نقصان بھی بے شمار ہوں گے۔جیسے کہ جو شخص بہت زیادہ غیبت کرتا ہے اس کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں۔ابراہیم بن ادھم سے لوگوں نے پوچھا کہ حضرت ہم دعا کرتے ہیں مگر قبول نہیں ہوتیں۔ کہاتم اپنے عیبوں کو پیچھے ڈالتے ہو اور دوسروں کے عیبوں کو سامنے لاتے ہو۔
حضرت شیخ سعدی کا کہنا ہے کہ ”میں بچپن میں بڑا عبادت گذار و شب بیدار تھا۔ ایک رات میں اپنے والد محترم کی خدمت میں حاضر تھا۔ ساری رات آنکھوں آنکھوں میں کٹ گئی اور مسلسل تلاوتِ قرآن اور عبادتِ خدا میں مشغول رہا، مگر میرے اردگرد لوگوں کی ایک جماعت بڑے آرام سے سورہی تھی، ان لوگوں کا اس طرح بے فکر سونا مجھے برا معلوم ہوا اور میں نے اپنے والد سے شکایت کی کہ یہ لوگ تو ایسے سوگئے ہیں جیسے مر گئے ہوں، کوئی بھی عبادت کے لیے بیدار نہیں ہوتا۔والد صاحب نے جواب دیا بیٹا! اچھا ہوتا کہ تو بھی سوجاتا تاکہ دوسروں کی غیبت نہ کرتا۔“ (گلستاں)
ہم ایسے ماحول میں زندہ ہیں جہاں ہم نے غیبت کو”گوسپ“ یا ڈسکشن کا نام دے دیا ہے کہ میں برائی تو نہیں کر رہا، میں تو بس تذکرہ کر رہا ہوں۔ لوگوں کی تصویریں اور خبریں پوسٹ کر کے دعوت عام دی جاتی ہے کہ آئیں ان کی عیب جوئی کریں۔ اس کی صورتوں میں عیب نکالیں۔یو ٹیوب پر لوگوں نے پورے پورے چینل”گوسپ“ کے نام پر کھول لیے ہیں، جنہیں ہم سب دیکھ رہے ہیں۔سیاہ فام لوگوں کی تصویریں پوسٹ کر کے ان کی صورت کی عیب جوئی کرنا عام اور مقبول سلسلہ ہے۔ہم سب اپنی زندگیاں، صحت، دماغی کارکردگی اپنے ہاتھوں خراب کر رہے ہیں، اور بڑے شوق سے کر رہے ہیں۔

24/12/2020

❇️🔸*آنکھوں کی بیماریاں*🔸❇️

♻️👇*بیلا ڈونا۔Belladonna*
👈آنکھیں سرخ۔ درد۔ سوزش روشنی برداشت نہ ھو۔

♻️👇*یو فریزیا۔Eupharasia*
👈آنکھوں سے تیزابی پانی آنا جس کی وجہ سے گل چھل جائیں۔

♻️👇*فائیسو سٹگما۔Physostigma*
👈کمزور نظر۔ پتلیاں سُکڑی ھوئی آنکھوں کے پٹھوں میں جھٹکے۔ آنکھوں کے سامنے روشنی کی لپٹیں اور کیڑے مکوڑے نظر آئیں۔

♻️👇*کالی کارب۔Kali cab*
👈بھووں کے بال گرنا

♻️👇*ایلومینیا۔Alumia*
👈پلکوں کے بال گرنا

♻️👇*ایپس میلیفیکا Apis Melifica*
👈آنکھوں کی سوزش ڈنگ لگنے جیسا درد ھوتا ھے۔

♻️👇*سلفر۔Sulphur*
👈آنکھوں اور پپوٹوں میں خارش اور جلن ھوتی ھے۔

♻️👇*کلکیریا کارب۔Calcarea Carb*
👈صبح جاگنے پر آنکھیں گید سے چپکی ھوں۔

♻️👇*روٹا۔Ruta*
👈نزدیک کی نظر کمزور۔ باریک کام کرنے یا زیادہ پڑھنے کی وجہ سے آنکھوں سے پانی نکلے درد سرخ اور گرم ھو جائیں

♻️👇*کالچیکم۔ Colchicum*
👈پڑھنے کے بعد نظر مدھم دھندلا پن ھو جائے آنکھ کی پُتلی سکڑ جائے۔

♻️👇*فاسفورس۔Phosphorus*
👈آنکھوں کے سامنے کالے ستارے اُڑیں اور شدید جلن ھو

♻️👇*اگاریکس Agaricus*
👈آنکھوں کے پپوٹے پھڑکیں۔

♻️👇*کروکس۔ Crocus*
👈آنکھیں جھپکتے رھے

♻️👇*سٹیفی سائگریا۔Staphysagria*
👈آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے بنے۔

♻️👇*کرو ٹیلس۔Crotalus*
👈آنکھوں سے خون بہے

♻️😀👇*ریومیکس۔ Rumex*
👈آنکھوں میں جلن ھو

📚

10/12/2020

💚🌺💚 خواتین میں موٹاپا .💚🌺💚

کلکیریا کارب اور گریفائٹس موٹاپے کا شکار خواتین کی بہترین ادویات ہیں .
دونوں ادویات کی مریضائیں منفرد قسم کے سرد مزاج کی حامل ہوتی ہیں .
کلکیریا کی مریضہ کی رنگت صاف
جبکہ گریفائٹس کی سانولی ,
کلکیریا کی مریضہ کا جسم پلپلا
جبکہ گریفائٹس کا سخت ,
کلکیریا کی جلد نرم اور ملائم
جبکہ گریفائیٹس کی جلد کھردری , سخت اور خشک ,
جلد پر چھوٹے چھوٹے مواد بھرے یا خشک دانے جو ایام حیض میں بڑھ جاتے ہیں ,
کلکیریا میں پسینہ زیادہ
جبکہ گریفائٹس میں کم ,
کلکیریا میں حیض جلد اور مقدار زیادہ.
جبکہ گریفائٹس میں دیر سے اور مقدار کم .
کلکیریا میں عموما" اجابت نرم.
جبکہ گریفائیٹس میں پاخانہ سخت اور قبض نمایاں ہے .

بظاہر ایک جییسی موٹی دکھائی دینے والی خواتین میں گریفائٹس کا وزن زیادہ
اور کلکیریا کا کم ہوگا .

جو خواتین سن یاس کے بعد موٹی ہونا شروع ہو جائیں انکا موٹاپا کالی کارب سے روکا جا سکتا ہے
جبکہ نوجوان پیٹو قسم کی لڑکیوں میں موٹاپا انٹم کروڈ سے کنٹرول ہوجاتا ہے.
جب جسم سخت قسم کی گوشت نما چربی سے بھرا ہوا ہو , پٹھے سخت ہوں , پسینہ کم آتا ہو تو.....
کیلوٹروپس اس سخت قسم کی چربی کو کم کرکے پٹھوں کو نرم کرتی ہے .

تھائرائیڈ کی خرابیوں یا گلھڑ کے ساتھ موٹاپا ,
ہٹیلی قبض اور گلے کے غدود بھی بڑھے ہوئے ہوں ,
مریضہ اکثر ٹانسلائٹس میں مبتلا رہتی ہو تو....
فوکس ویسیکیولوسس بہترین دوا ثابت ہوتی ہے .

موٹاپے سے نجات کیلیے سب سے ناکام دوا فائٹولیکا ہے .
پتہ نہیں موٹاپے کے حوالے سے یہ اتنی مشہور کیوں ہے ؟
اور اسے ہمارے اکثر معالجین بلا علامت موٹاپے کیلیے کیوں مخصوص دوا قرار دیتے ہیں ۔

ان معروف ادویات کے علاوہ بھی ہومیوپیتھک کی بہت مفید ادویات ہیں .
جنکا تعارف آئندہ آتا رہے گا .
اگر آپ موٹے مریضوں کے حوالے سے جنرل ادویات کا مطالعہ کرنا چاہیں تو....
ان ادویات کا مطالعہ کریں جنکے نام کے ساتھ " کارب " لگا ہوا ہے ۔

09/12/2020

*"غلیظ ترین کھانا"*

میرا ایک فوتگی والے گھر جانا ھوا، کیا دیکھتا ھوں کہ ایک لڑکا بہت ہی زیادہ رو رہا ھے
معلوم کرنے پہ پتہ چلا کہ جو فوت ہوئیں ہیں وہ رونے والے کی والدہ تھیں۔
میں ھکا بکا ایک طرف کھڑا ہو کے سوچنے لگا کہ بھرپور جوانی کے وقت اتنا بے رحم دکھ اس نوجوان کو آدھا کر دے گا۔
مجھ سے اس کا رونا دیکھا ہی نہیں جا رہا تھا ، اس کی چیخیں لگتا تھا قیامت لے آئیں گی۔
وہ اکلوتا بیٹا تھا اپنے ماں باپ کا

اچانک ایک بھائی صاحب آگے آتے ہیں وہ اس سے کھانے کا مینیو پوچھتے ہیں۔
میں حیران ہو جاتا ھوں کہ اس حالت میں وہ کھانا کیسے کھا سکتا ھے ،اس سے تو صحیح سے بولا بھی نہیں جا رہا۔
بعد میں پتہ چلا کہ وہ ان لوگوں کے کھانے کی بات کر رہے تھے جنہوں نے گھر افسوس کرنے آنا ہے۔

یہ ھو کیا رہا ھے ، یہ چل کیا رہا ھے؟
ان کے گھر کوئی شادی یا سالگرہ کا فنکشن نہیں ھے بلکہ ایک لڑکے کی جنت اسے چھوڑ کے چلی گئی ھے۔
بجائے اس چیز کے کہ ہم اس گھر کا حوصلہ بنیں اس گھر کے دکھ میں شریک ھو جائیں الٹا وہ لوگ ہماری گندی اور کبھی نہ مٹنے والی بھوک کا بندو بست کرنے میں لگ گئے ہیں۔
کیا ہم اس قدر بے حس اور گھٹیا قوم ہیں کہ میت والے گھر بھی کھانا پینا نہیں چھوڑتے ؟؟؟

اور پھر جنازے کے بعد گھناؤنا کھیل شروع ھوا ایک ایسا کھیل جسے دیکھ کے کسی غیرت مند کو موت آ جائے مگر ہمیں نہیں آتی۔

وہی لڑکا جس کی دنیا لٹ گئی برباد ھو گئی۔ ہاں ہاں وہی لڑکا روتی آنکھوں کے ساتھ ان بھوکی ننگی زندہ لاشوں ، جن کی عقلوں پہ ماتم کرنا چاہیے، ان کو کھانا دے رہا ھے۔
کیا ان کو شرم نہیں آتی کیوں یہ غیرت سے مر نہیں جاتے؟؟؟؟

پھر میرے کانوں نے سنا کہ ایک آدمی نے اسی لڑکے کو آواز دے کے کہا کہ بھائی یہ پلیٹ میں لیگ پیس ڈال کر لانا۔
اف میرے خدا یہ کون لوگ ہیں جن کے پیٹ نہیں بھرتے ، ایسے لوگ دنیا میں ہی کیوں ہیں یہ مر کیوں نہیں جاتے !!!!
شرم نہیں آتی اسی سے لیگ پیس مانگتے جس کی ماں مر گئی ھے۔
بجائے اس کے کہ تمہارا ہاتھ اس کے کندھے پہ ھو اور حوصلہ دے رہا ھو ، تمہارا ہاتھ لیگ پیس کو پڑ رہا ھے۔

کسی دانا آدمی کا قول یاد آ گیا کہ
''سب سے غلیظ ترین کھانا وہ ھے جو ہم میت والے گھر سے کھاتے ہیں ''

ہمیں ترس یا رحم نہیں آتا یہ دیکھ کے بھی کہ لوگ روتے ھوئے کھانا بانٹ رہے ہیں۔

میں نے ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں جو میت والے گھر سے ناراض ھو کے چلے جاتے ہیں کہ ہمیں کھانا نہیں دیا ،ہمیں کھانا نہیں پوچھا کسی نے۔
یہی گھٹیا لوگ کھا کھا کے پھر گندی ڈکاریں مارتے ہیں اور اسی میت والے گھر ہنستے بھی ہیں، تمیز تہذیب کی سبھی حدیں ان لوگوں نے پار کی ہوتی ہیں۔

میں ہاتھ جوڑتا ھوں کہ خدا کے لئے میت والے گھر کا حوصلہ بنیں ، ان کے غم میں شریک ہوں ، رونا نہیں آتا تو رونے والا منہ بنا لیں۔

اللہ ہم سب کو نیک عمل کرنے کی توفیق دے ، آمین

09/12/2020

Syrup For Constipation

09/12/2020

مباشرت سے پہلے کیا کریں؟
جس رات مباشرت کرنے کا ارادہ ہو اس روز میاں‌ بیوی دونوں‌ کو پہلے سے ذہنی طور پر تیار ہونا چاہیئے۔ دونوں‌ میں سے کسی ایک کا رات کے پروگرام سے لاعلم ہونا دوسرے کے لئے کوفت کا باعث بن سکتا ہے۔ اس رات میاں‌ بیوی دونوں تازہ دم ہوں۔ صبح ناشتے میں مرغن غذا لیں۔ گھی، مکھن اور بالائی وغیرہ کا استعمال مفید ہے۔ رات کا کھانا زود ہضم ہونا چاہیئے اور اس رات کھانا ذرا جلدی کھا لیا جائے۔ ترش اور گرم اشیاء سے اس رات مکمل پرہیز کرنا چاہیئے۔ اس رات نمک کا استعمال بھی کم ہو تو بہتر ہے۔ شام کےکھانے کے بعد چہل قدمی کرنا بھی مفید ہے۔ اس کے بعد علیحدہ علیحدہ سو جانا چاہیئے۔ سونے سے پہلے مرد کو پیشاب کر لینا چاہیئے۔
کھانے کے تقریبا چار گھنٹے بعد اٹھیں۔ بیوی اٹھ کر پیشاب وغیرہ سے فارغ ہو لے تاکہ ف*ج کی غیرضروری رطوبت خارج ہو کر تنگی پیدا کرے، اس سے مرد اور عورت دونوں‌ کو مباشرت کے دوران زیادہ لطف مل سکے گا۔
اگر عورت کو جلد انزال مقصود ہو تو وہ پیشاب نہ کرے، تاہم مرد کو مباشرت سے فوری پہلے پیشاب نہیں کرنا چاہیئے کیونکہ اس سے شہوت اور قوت میں کمی آ جاتی ہے اور انزال وقت سے پہلے ہو جاتا ہے۔
اگر چار پائی کی بجائے زمین پر گدا بچھا کر اس پر مباشرت کی جائے تو نہ صرف دونوں‌ کو زیادہ لطف اور سکون ملے گا بلکہ ایسی مباشرت استقرار حمل میں بھی مفید ہے۔
مباشرت سے پہلے بستر پر ایک موٹا کپڑا بچھا لیا جائے تاکہ ف*ج سے باہر بہہ نکلنے والی فالتو منی بستر کو خراب نہ کر دے۔ اسی طرح مباشرت کے بعد شرمگاہوں کی صفائی کے لئے پہلے سے اپنے قریب ایک صاف کپڑا بھی رکھ لیں۔
باقاعدہ مباشرت سے پہلے میاں‌ بیوی کا چند منٹ کے لئے ایک دوسرے کی جسم سے کھیلنا دونوں‌ میں محبت پیدا کرتا ہے۔ پہلے دونوں‌ کپڑوں‌ سمیت ایک دوسرے کے جسم سے اپنے جسم کو مسلیں اور کچھ دیر بعد ایک دوسرے کے جنسی اعضاء کو ہاتھ سے ٹٹولیں اور مسل کر اسے لذت دیں اور خود بھی لطف اندوز ہوں۔ لباس اتارنے سے پہلے چند منٹ کا یہ کھیل نہ صرف حصول لذت کا ایک اچھا ذریعہ ہے بلکہ اس سے بیوی کو مباشرت کے لئے مکمل طور پر تیار ہونے میں‌ بھرپور مدد ملتی ہے۔ تاہم اگر مرد سرعت انزال کا شکار ہو تو اسے اس دوران خاص احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔
میاں بیوی کا جنسی تعلق کوئی گناہ نہیں بلکہ صدقہ ہے
مباشرت، مجامعت، جماع، وطی، ہمبستری، فریضہ زوجیت، وظیفہ زوجیت، جنسی ملاپ، ملنا، ساتھ سونا
میاں بیوی کا تعلق اور اس سے حاصل ہونے والا سکون، محبت اور رحمت اللہ رب العزت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے، جس کا ذکر قرآن مجید میں یوں آیا ہے:
وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَO
(روم، 30: 21)
ترجمہ:
اور یہ اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس سے جوڑے پیدا کئے تاکہ تم ان کی طرف سکون پاؤ اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی، بیشک اس میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو غور و فکر کرتے ہیں۔
نہایت افسوس کی بات ہے کہ ہم اللہ تعالی کی نشانیوں میں سے ایک نشانی کی حکمتوں ‌پر غور و خوض کرنے اور اس کا شکر بجا لانے کی بجائے اسے مکمل طور پر نظرانداز کئے رکھتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں عام طور پر میاں‌ بیوی کے تعلق پر بات کرنے والوں‌ کے بے حیاء سمجھا جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے بہت سے نوبیاہتا جوڑے کسی بڑے سے اپنے جنسی مسائل پوچھنے سے شرماتے ہیں اور یوں ان کے مسائل گھمبیر ہوتے چلے جاتے ہیں۔
مباشرت یعنی فریضہ زوجیت ایک صدقہ ہے۔ میاں‌ بیوی کے درمیان الفت بڑھانے اور نسل انسانی کے تحفظ کا ضامن یہ عمل کوئی شجر ممنوعہ نہیں‌ کہ اپنے مسائل کا حل تلاش کرنے کے لئے اس بارے میں‌ بات کرنا بے شرمی کی بات سمجھی جائے۔ جائز حدود میں رہ کر جنسی مسائل کو ڈسکس کرنا اور ان کا حل معلوم کر کے اپنی زندگی کو خوشگوار بنانا ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ یہ ایک المیہ ہے کہ ہماری غیر شرعی معاشرتی اقدار ہمیں‌ ہمارے اس جائز حق سے محروم رکھے ہوئے ہیں۔
اسلام کی تعلیمات میں بکثرت جنسی معلومات دی گئی ہیں۔ قرآن و حدیث کی بے شمار نصوص میاں‌ بیوی کے تعلق کو نہ صرف واضح کرتی ہیں بلکہ مباشرت کے جائز اور ناجائز طریقوں سے بھی آگاہ کرتی ہیں۔ نہایت افسوس کی بات ہے کہ جیسے ہم نے اس مادیت زدہ دور میں اسلام کی روحانی تعلیمات کو پس پشت ڈال دیا، اسی طرح اسلام کی ان تعلیمات کو بھی بے شرمی کی باتیں‌ قرار دیتے ہوئے ان سے بھی صرف نظر شروع کر دیا جو ایک مسلمان کے تکمیل ایمان کی ضامن ہیں۔ من گھڑت شرم و حیاء کا لیبل جہاں‌ ایک طرف شریعت اسلامیہ کی اتباع کرنے والوں کو ضروری جنسی معلومات کے حصول سے محروم کر دیتا ہے، وہیں شریعت کو بوجھ سمجھنے والوں‌ کو جنسی معلومات کے حصول کے لئے شتر بے مہار کی طرح مغرب کی تقلید کے لئے کھلا چھوڑ دیتا ہے۔ یہ دوغلاپن ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح‌ چاٹ رہا ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ مباشرت سے واقفیت نہ رکھنے والوں کے ساتھ اکثروبیشتر ہولناک واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔ ہر بالغ مرد اور عورت کو اس سے آگہی نہایت ضروری ہے، کیونکہ ان کی ازدواجی زندگی کا انحصار زیادہ تر اسی معلومات پر ہوتا ہے۔ جو لوگ مباشرت سے واقفیت نہیں رکھتے وہ اپنی ازدواجی زندگی کا صیحح لطف نہیں اٹھا سکتے۔ مباشرت سے واقفیت کوئی گناہ نہیں بلکہ یہ قدرت کی عطا کردہ ہے شمار نعمتوں میں سے ایک ہے۔
اکثر لوگ جنسی فعل کو ادا کرنا ایک فرض سمجھتے ہیں اور ان کے نزدیک اس دوران میں لطف اندوز ہونا شاید کوئی غیرشرعی حرکت ہے، جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ قدرت نے انسان کے گرد بہت ساری نعمتیں بکھیر دی ہیں، جنہیں انسان بوقت ضرورت بہترین تفریح کا ذریعہ بنا سکتا ہے۔ عورت بھی مرد کی ضرورت کے تحت وجود میں آئی ہے اور اس کی موجودگی سے انسان اپنی دوسری تفریحات کو پس پشت ڈال دیتا ہے اور یوں عورت دوسری تمام نعمتوں پر فوقیت حاصل کر لیتی ہے۔ عورت اور مرد دونوں ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں۔
کسی عورت سے جنسی تعلقات صرف اسی وقت استوار کئے جا سکتے ہیں جب مرد نے اسے جائز طریقے سے اپنے لئے حاصل کیا ہو اور اسلام میں وہ جائز طریقہ صرف نکاح ہے۔
ہر نعمت کو استعمال کرنے کا ایک مخصوص طریقہ ہے۔ اسی طرح مباشرت سے واقفیت بھی عورت جیسی عظیم نعمت کو استعمال کرنے کا صحیح اور جائز طریقہ ہے، پس اس طریقہ سے واقفیت کوئی گناہ نہیں ہے۔
اچھا لباس، عمدہ غذا اور بناؤ سنگھار وغیرہ کے علاوہ بھی عورت کی بعض ضروریات ہوتی ہیں۔ یہ ضروریات تو ظاہری ہیں، لیکن عورت کی ایک ضرورت ایسی بھی ہوتی ہے، جسے وہ زبانی بیان نہیں کر سکتی۔ لیکن جب قوت برداشت ختم ہو جائے تو وہ اسے کہنے سے گریز نہیں کرتی۔ یہ مطالبہ ایسا ہے کہ اس کے پورا ہونے کے بعد اگر اس کے دوسرے مطالبات بہتر طور پر پورے نہ بھی ہوں تو بالعموم وہ گلہ نہیں کرتی۔ مرد کو چاہیے کہ عورت کے اس مطالبے پر خاص توجہ دے، جسے وہ کہہ نہیں پاتی۔ جو لوگ اس سے واقفیت نہیں رکھتے وہ کامیاب زندگی نہیں گزار سکتے۔ ان کی بیویاں یا تو طلاق کی صورت میں ان سے علیحدگی اختیار کر لیتی ہیں یا پھر اپنی اور اپنے شوہر کی عزت سے کھیلتے ہوئے غیر مردوں سے تعلقات پیدا کر لیتی ہیں۔ اسی وجہ سے معاشرے میں برائیاں پھیلتی جا رہی ہیں۔ ایسی عورتیں جن کے شوہر انہیں مکمل جنسی تسکین نہیں دے سکتے، وہ اپنے شوہر کے ساتھ وفادار نہیں رہتیں اور ان کی عزت و ناموس سے کھیلنا شروع کر دیتی ہیں
پلیز ان معلومات کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں

08/12/2020

Temprature Check krny ke Jaga.

Address

Kasur

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Medical information posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram