Al-Aziz Health Care Clinic

Al-Aziz Health Care Clinic Health for Everyone

29/08/2021
22/02/2019

بانجھ پن کا مطلب

بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت میں کمی یا بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت کا نہ ہونا، بانجھ پن کی تعریف اس طرح کی جاتی ہے کہ 1سال کے عرصے تک نارمل مباشرت ہوتے رہنے کے باوجود اور مانع حمل ادویات استعمال کئے بغیرحمل قرار نہ پانا ھے۔ بانجھ پن کا شکار مرد بھی ہو سکتا ہے اور عورت بھی اس مرض میں مبتلا ہو سکتی ہے۔ بانجھ پن ابتدائی اور ثانوی دو طرح کا ہوتاھے۔ ابتدائی مطب عمرانیھ پن(Primary Infertility) سے مراد وہ مریض ہیں جن میں پہلے کبھی حمل نہیں ہوا اور ثانوی بانجھ پن (Secondary Infertility) سے مراد وہ مریض جن کے ہاں پہلے حمل واقع ہو چکا ہو جبکہ ایک اور اصطلاح سٹرلٹی(Sterility)سے مراد بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت کا مرد یا عورت میں مکمل طور پر ختم ہو جانا ہے۔ ماضی میں بانجھ پن کے شکار جوڑوں میں بچہ پیدا ہونے کی صلاحیت کم ہوتی تھی مگر آج جدید دور میں مناسب تشخیص اور علاج سے 85فیصد جوڑے بچہ پیدا ہونے کی اُمید کرسکتے ہیں۔ بانچھ پن میں مبتلا جوڑوں کو بہت زیادہ پریشانی اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عورت کے لیے تو بانچھ گالی بن جاتی ہے۔ ایسے جوڑے جن کے ہاں بچہ پیدا نہ ہوا ہوسارے کا سارا قصور عورت کا ہی بن جاتا ہے اور بچہ نہ پیداکرنے پرطعنے ملتے رہتے ہیں اور لعنت ملامت ہوتی رہتی ہے۔ حالانکہ بانجھ پن کا شکار مرد بھی ہو سکتے ہیں۔ بانجھ پن کی 40فیصد وجوہات مردوں میں پائی جاتی ہیں اور آج کل تو بہت جلد اس کی تشخیص ہو سکتی ہے کہ بانجھ پن کی شکار کو ن ہے مرد یا عورت؟

حمل کے لیے شرائط

مرد اور عورت دونوں کا تندرست ہونا بہت ضروری ہے۔ مرد کو سرعت انزال اور ضعف باہ کا مریض نہیں ہونا چاہئے ۔ مرد کی طرف سے اس کے مادہ منویہ (Semen) نارمل اور مناسب جرثومہ منویہ(Spermatozoon) )پیدا ہونے کی ضرورت ہوتی ہے۔سپرم کی صورت حال کچھ اس طرح سے ہونی چاہئے کہ کم ازکم 72گھنٹے کے پرہیز کے بعد مرد میں (حاصل ہونے والے)مادہ منویہ کا تجزیہ کرنے پر مادہ منویہ کی مقدار 1.5ملی لیٹر سے 5ملی لٹر تک ، ایک ملی لٹر مادہ منویہ میں 20ملین یا اس سے زائد سپرم 50سے 60فیصد تک حرکت کرنے والے (Motile) اور 60فیصد سے زائد نارمل شکل و صورت والے سپرم ہونے چاہئیں مر د کو سپرم کی تعداد میں کمی (Oligospermia)یعنی سپرم کی تعداد کا ایک ملی لیٹر میں 20ملین سے کم ہونا یا مادہ منویہ میں سپرم کا موجود نہ ہونا(Azoospermia)کا مریض نہیں ہونا چاہئیے۔’’عورت کو بھی صحت مند اور توانا ہونا چاہئیے ‘‘۔عورت کو ورم رحم، سیلان الرحم، ماہواری کی بے قاعدگی، ہارمونز کے توازن میں خرابی، ماہواری یا حیض کی بندش، یا حیض کی تنگی وغیرہ کا شکار نہ ہونا چاہئیے۔عورت کی طرف سے اس کی میض یا اووری (Ovary)سے ایک مکمل نمو یافتہ اور صحت مند بیضہ (Oocyte)پیدا ہو کر اسے قاذف نالی(Uterine Tube)میں پہنچنے کی ضرورت ہوتی ہے۔عورت میں بیضہ خارج ہونے کے عمل کو عمل تبویض (Ovulation)کہتے ہیں۔ہر ماہ بیضہ ایک یا دوسری اووری سے خارج ہو کر قاذف نالیوں(Fallopian Tubes)میں پہنچتا ہے۔بیضہ خارج ہونے پر عورت کچھ اس طرح کے احساسات کا تجربہ کرتی ہے۔ جسم کادرجہ حرارت 1oFتک بڑھ جاتا ہے۔اگر حمل قرار نہ پائے تو ماہواری آنے تک) 13سے 14دن تک( بڑھتا رہتا ہے۔ چھاتیوں میں بھراؤ اور وزنی پن محسوس کرتی ہے۔ مہبلی(Vaginal)رطوبت کم ہوجاتی ہیں۔معمولی سا محیطی اوذیما(Peripheral Odema) جسکے ساتھ وزن میں معمولی سا اضافہ محسوس ہوتا ہے۔ایسی علامات ان عورتوں میں نہیں پائی جاتی جوبیضہ خارج نہیں کرتی ہیں۔ بیضہ خارج ہونے پر عورت کے رحم کے منہ میں لگے ہونے بلغم کا پلگ پروجیسٹرون (Progesteron)ہارمون کے اثر سے چمکدار اور نرم مخاط میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ ایسا ہو نا ضروری ہوتا ہے تاکہ سپرم آسانی سے رحم کے منہ میں داخل ہو سکے۔ حمل ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ صحبت اس وقت کی جائے جب بیضہ خارج ہو چکا ہو پھر سپرم اور بیضہ کا کامیابی سے ملاپ ہونا چاہئیے اور سپرم کو اس قابل ہو نا چاہئے کہ وہ بیضہ کی بیرونی جھلی کو اپنے خامروں سے توڑ کر بیضہ میں داخل ہو سکے جب بیضہ بار آور (Fertilize)ہو چکا ہو تو اسی دوران نسوانی جنسی ہارمونز ایسٹروجن (Estrogen)اور پروجیسٹرون کے زیر اثر رحم کی اندرونی جھلی بطانہ رحم (Endometrium) کی لائنگ مکمل ہو چکی ہو۔ تاکہ بار آور بیضہ رحم میں پہنچ کر آسانی سے دھنس (Implant) ہو سکے اور یہاں تقریباف 9ماہ اور دس دن اپنی نشوونما جاری رکھے بیضہ کا رحم کے اندر صحیح طرح امپلانٹ نہ ہونے سے ضائع ہو جاتے ہیں۔ اب بانجھ پن کے اسباب کی طرف آتے ہیں۔ بانجھ پن کے مردوں اور عورتوں میں علیحدہ علیحدہ اسباب ہوتے ہیں

عورتوں میں بانجھ پن کے اسباب

عورتوں میں 60فیصد اسباب بانجھ پن کا سبب بنتے ہیں۔جس میں سے 30فیصد اسباب عمل تبویض نہ ہونا یعنی بیضہ خارج نہ ہونا (Anovulation)اور 30فیصد عورت کے تو لیدی اعضاء کی ساختی / تشریحی خرابیاں (Anatomic Defects) شامل ہیں۔ بیضہ کی خارج ہونے کی سب سے عام وجہ پیچوٹری گلینڈ(Pitutary Gland)کے اگلے حصے (Adenohypophsis) سے گونیڈوٹرافک (Gonadotrophic) ہارمونز کا کم خارج ہونا ہے ایسی ماہواری جس میں بیضہ نہ ہو(Anovulatory Cycle) کی شناخت عورت میں پیشاب میں (Pregnanedoil) کی شناخت سے ہوسکتی ہے۔ جو کہ پروجیسٹرون میٹا بولزم کی پیدا وارہوتی ہے۔ عام طور پر بیضہ خارج ہو نے کے وقت عورت کے خون میں پروجیسٹرون کے ارتکاز میں اضافہ ہو جاتا ہے۔حیضی دور کے بعد کے حصے میں پیشاب میں پریگنے نی ڈول کا اضافہ نہ ہونا بیضہ خارج نہ ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے بعد زنانہ بانچھ پن کی ایک اور عام وجہ ورم درون رحم (Endometriosis) ہے اور اس کے بعد پیدا ہونے والی تبدیلیاں عورت کے تولیدی اعضاء کی تشریحی ساخت میں خرابی پیدا کرتی ہیں۔ اینڈومیٹری اوسس میں رحم کے اندر کی طرح کی ساخت جہاں سے حیض خارج ہوتا ہے رحم کے باہر پیٹرو میں بھی پیدا ہو جاتی ہے۔ حیض کے دوران رحم کی اندرونی اینڈومیٹریم کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے قاذف نالیوں سے گذر کر پیٹرومیں آسکتے ہیں۔ پیٹرو میں اس ساخت پر نسوانی جنسی ہارمونز کے وہی اثرا ت ہوتے ہیں۔ جو رحم کی اندر کی ساخت پر ہوتے ۔رحم میں تو حیض جاری ہو نے کا ایک قدرتی راستہ ہوتا ہے مگرپیٹرو میں چونکہ خون خارج ہونے کا کوئی راستہ نہیں ہوتا اس لئے خون اندرہی جمع ہوتا رہتا ہے۔ پیٹرو میں جریان خون درد کا سبب بنتا ہے اس سے پیٹرو کے اعضاء میں لیفی ساخت (Fibrosis) بننے کو تحریک ملتی ہے۔ اور یہ اوریزکا مکمل (encase) بندکرتا ہے اور بیضہ خارج نہیں ہونے دیتا اینڈو میٹری اوسس کے نتیجے میں پیٹرو کے اعضاء میں باہمی چپکاؤ (Adhesion) واقع ہو جاتا ہے اور قاذف نالیاں بند ہو جاتی ہیں۔ بعض عورتوں میں کسی پیلوک انفلے میٹری ڈزیز (PID) یا سوزاک وغیرہ کے نتیجے میں قاذف نالیاں بند ہو جاتی ہیں انفکشن رحم کے منہ میں لگے ہوئے لیسدار بلغم کی پیدائش کو بھی تحریک دیتا ہے جس کے نتیجے میں سپرم رحم کے منہ میں داخل نہیں ہو پاتے یہ بھی قابل غور بات ہے کہ بہت زیادہ کم عمر اور بہت زیادہ عمر والی خواتین میں بھی حمل قرار نہیں پاتا اگر ویجائنہ کی پی ایچ (PH)بہت کم ہو تو بھی سپرم ایسے ماحول میں زندہ نہیں رہ پاتے اور حمل قرار نہیں پاتا اسکے علاوہ ایسی کریمیں، جیلی اور لبریکنٹس جو سپرم کو ہلاک کردیں۔ ورم رحم (Metritis) یا رحم کی لیفی رسولیاں (Fibroids) کی موجودگی مبیضی کیسے (Ovarian cyst) کی وجہ سے ایک یا دونوں اووریز متاثر ہو سکتی ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ ہارمونز کا توازن برقرار نہیں رکھ پاتی جو کہ ایک فولیکل کے میچور ہونے اور رحم کی اندرونی لائنگ کے لیے ضروری ہوتے ہیں اور ایک متاثرہ اووری ایک صحت مند بیضے کو قاذف نالی میں خارج کرنے میں ناکام رہتی ہے۔ اسکے علاوہ دباؤ (Stress)غذا کی کمی ،وزن کی کمی، وزن کی زیادتی کی وجہ سے ہارمونز کا توازن قائم نہیں رہتا جس سے رحم کی اندرونی لائنگ اور فم رحم کی بلغم متاثر ہوتی ہے۔ مانع حمل (Contracepives) بھی ہارمون کے قدرتی توازن کو غیر متوازن کردیتی ہیں۔ اور ماہواری کو بے قاعدہ کردیتی ہیں۔ ان ادویات کو چھوڑنے کے کافی عرصے بعد تک بھی ماہواری بے قاعدہ رہ سکتی ہے۔ انٹرایوٹرائن ڈیواسز (IUDs) رحم اور قاذف نالیوں میں سوزش اور سیلان الرحم کا سبب بنتی ہیں ۔ جسکے نتیجے میں ورم کے ٹھیک ہونے کے بعد سکارنگ (Scarring)کی وجہ سے نالیاں بند ہوسکتی ہیں۔سگریٹ نوشی بھی تولیدی نظام کے نارمل فعل کو خراب کر سکتی ہے اس سے تولیدی اعضاء میں خون کی سپلائی کی کمی اور قاذف نالیوں کے اندر لگے ہوئے بال نما ابھار (Cilia) کی حرکت متاثر ہوتی ہے ان بال نما ابھاروں کی حرکت سے بیضہ کو قاذف نالیوں میں حرکت کرنے اور آگے جانے میں مدد ملتی ہے۔ بواسیر الرحم (Polyps) یاکسی جراحی کے نتیجے میں رحم کی خرابی، رحم نہ ہونا، رحم کا میلان خلفی(Retoversion)بھی بانچھ کا سبب بنتے ہیں۔ کیفین کا لگا تار استعمال تھائرائیڈ گلینڈ کے فعل میں کمی غذائی اجزاء مثلاً وٹامن B12, E, A, B2, B6زنک (Zinc) فولک ایسڈ ضروری امینوترشے میگنیشیم کی کمی جو فرٹیلٹی کے لیے ضروری ہیں۔ دباؤ نہ صرف ہارمونز کے توازن کو خراب کرتا ہے بلکہ قاذف نالیوں کے سکڑنے کا سبب بھی بنتا ہے جس سے بیضے کو ان نالیوں سے گذرنے میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے اور پیٹرو میں خون کی سپلائی کی وجہ سے رحم کی اندرونی لائنگ بھی متاثر ہوتی ہے اور ویجائنہ کے سکڑنے سے سیکس کاعمل بھی متاثر ہوتا ہے مردوں میں تولیدمادہ منویہ کے مسائل 40فیصد سے زائد بانجھ پن کی وجوہات کا سبب بنتے ہیں سپرمیٹوجینیسز سپرم بننے یا سپرم کی نشوونما کو کہتے ہیں۔ عورتوں کے بیضہ (O**m) سے بالکل مختلف جو کہ ہر ماہ عورتوں میں وقفے سے اووریز سے خارج ہوتا رہتا ہے۔ سپرم خصیوں کی بشرہ جرثومیہ(Germinal Epithelial) سے لگاتار تیار ہوتے رہتے ہیں۔جرمینل ایپی تھیلیل سے سپرم اغدیدیوس (Epidermic) میں خارج کرد ئیے جاتے ہیں جہاں پر انزال سے پہلے سپرم میں میچوریشن ہوتی ہے ۔ سپرم کی نسل تیار ہو نے میں تقریباً 73دن لگتے ہیں۔ اس لیے سپرم کی ابنارمل تعداد ان واقعات کاریفلیکشن ہوتی ہے۔ جو سپرم اکھٹا کرنے سے پہلے 73دن میں واقع ہوتے ہوں۔سپرم کی پیداوار میں تبدیلی کا مشاہدہ کرنے کے لیے کم از کم 73دن کی ضرورت ہوتی ہے۔ سپرم کی پیداوار تھرموریگولیٹڈ(Thermoragulated) ہے یعنی حرارت سے کنٹرول ہوتی ہے ۔خصیوں کے اندر حرارت خصیوں کی تھیلی صفن (Sc***um) کے پھیلنے اور سکڑنے سے کنٹرول ہوتی ہے۔ سپرم کی پیدائش تقریباً 1oFپر ہوتی ہے۔خصیوں کے لیے بیرونی حرارتی صدمہ سپرم کی پیدائش میں کمی کا سبب بن سکتا ہے مثلا بہت زیادہ گرم ہاتھ خصیوں کے اوپر بڑی دیر تک بیٹھے رہنا جس سے حرارت وہاں جمع ہوتی ہے۔ اور منتشر نہیں ہوتی ٹائیٹ زیر جامہ پہننا جس سے خصیوں کی حرارت بڑھ جائے خصیے زیادہ دیر تک سامنے پیٹرو کی طرف رہیں۔ خصیوں کو پہنچنے والے صدمے،انفکشن ورم خصیہ(Orchitis)کن پیڑے(Mumps) ورم البربخ (Epididymitis)خفاء الخصتین (Cryptozoic) یعنی پیدائشی طور پر یہ خصیوں کا پیٹ میں رہ جانا دوالی الصفن( Varicolored کیمیکلز سے ایکسپوز ہونا، ہارمون کے توازن میں خرابی، تیز بخار کیفین بھنگ(Marijuana) الکوحل کا استعمال وغیرہ وزن بہت زیادہ ہونا بہت کم ہونا۔ ماحولیاتی فیکٹرز (اثرات) ریڈی ایشن پوائزنگ سے خصیے فیل ہوجاتے ہیں۔ سیسہ اور کیڈ میم پوائزنگ کیمو تھراپی ادویات کا استعمال اینا بولک سٹیرائیڈز ، سمی ٹی ڈین، سپائیرونولیکٹون سے سپرمیٹو جینیسز کاعمل متاثر ہوتا ہے۔ فینی ٹوئن ایف ایس ایچ ہارمون کا درجہ کم کرتی ہے۔ سلفاسیلازین اور نائیٹرو فیورنٹوئن سے سپرم کی حرکت متاثر ہوتی ہے۔ کسی جراہی ہرنیا وغیرہ کے اپریشن کے بعد خصیوں میں خون کی سپلائی کی خرابی صحبت کے وقت لبریکنٹس کا استعمال سے سپرم ہلا ک ہوجاتے ہیں۔جس طرح عورتوں میں اووریز کے کیسے جہاں سے بیضہ خارج ہوتا ہے ایف ایس ایچ اور ایل ایچ ہارمونز کو رسپونڈ کرتے ہیں اسی طرح مردوں میں خلیات (Leading Cells ) اور خصیوں کی جرمینل ایپی تھلیل بھی (Gonadotrophins) کی تحریک کو رسپونڈ کرتے ہیں بعض مردوں میں جرمینل ایپی تھلیل میں فائبروسس ہوجاتا ہے اور سپرم کی پیداوار متاثر ہوتی ہے۔ اور بعض مردوں میں (Leading) خلیات سے ہارمون ٹسٹوسٹی ران کی تراوش کم ہوجاتی ہے۔ جس سے بھی سپرم بننے کا عمل متاثر ہوتا ہے۔ اولیگو سپر میا کے مریضوں میں گو نیڈوٹروفن کی پیمائش ہونی چاہییے۔ تاکہ خصیوں کے فیل ہونے کا پتہ چلایا جاسکے۔خصیوں کے ناکام ہونے میں شکوک و شبہات خصیوں کی بائی اوپسی (Biopsy)سے دور ہوسکتے ہیں۔ غدہ قدامیہ کی سوزش ماد منویہ کو خصیوں سے لانے والی نالیوں میں رکاوٹ ،پس خرام (Retrograde) انزال جس میں مادہ منویہ پیچھے کی طرف مثانے میں خارج ہوجائے بھی مردانہ بانچھ پن کا سبب بنتے ہیں۔مرد اور عورت دونوں اینٹی سپرم اینٹی باڈیز پیدا کرتے ہیں اگر عورت اینٹی سپرم اینٹی باڈیز پیدا کرے تو سپرم فم رحم کی بلغم میں بے حرکت ہو جاتے ہیں اگر مرد اینٹی سپرم اینٹی باڈیز پیدا کرے جو کہ 3سے 20فیصد بانچھ پن کا شکار مرد کرتے ہیں تو سپرم اکٹھے (Agglutinate)ہوجاتے ہیں اور فم رحم کی بلغم میں داخل نہیں ہو پاتے ناکام ہوجاتے ہیں اینٹی سپرم اینٹی باڈیز کی تشخیص سپرم کے تجزئیے کے ایک حصے کے طور پر دونوں پارٹنرز کے امنیاتی (Immunologic)مطالعے سے ہو سکتی ہے۔مردوں میں ابھی تک اینٹی سپرم اینٹی باڈیز کا کوئی موثر علاج نہیں ہے اس کے علاج میں سپرم کو بلاواسطہ فم رحم یا رحم میں داخل کیا جاتا ہے۔ مردوں میں بھی دباؤ(Stress) کے نتیجے میں تولیدی اعضاء میں خون کی سپلائی متاثر ہوتی ہے ۔جس میں نارمل جنسی فعل میں کمی اور جنسی پرفارمنس ٹھیک نہیں رہتی ۔ چند جوڑوں میں ان کے بانجھ پن کے لیے کوئی بھی حیاتیاتی تشریح نہیں طبیبوں کو مریضوں کے وزن اور لائف سٹائل کو ضرور مدِنظر رکھنا چاہیے۔اور مردوں اور عورتوں میں کاز تلاش کرکے علاج کرنا چاہئیے

غذائی تدبیریں

ویجائنہ اور فم رحم کی پی ایچ کو نارمل رکھنے کے لیے کھاری (Alklaine) غذاؤں کا مناسب استعمال کرنا چاہئے۔ ویجائنہ میں تیزابیت کی زیادتی سپرم کو ہلاک کردیتی ہے۔ زیادہ تر خوراکیں مثلا پھل، سبزیاں ، دودھ وغیرہ الکلائن ہیں ۔ گوشت ، مچھلی تما م اناج پنیر انڈے بیج وغیرہ تیزابی ہیں چائے ،کافی اور الکوحل سارے نظام کو تیزابی(Acidic) کرتے ہیں۔ اپنے وزن کو مناسب رکھنے کی کوشش کریں۔بہت زیادہ ورزش اور ڈائٹنگ سے وزن کم ہوجاتا ہے اورعمل تبویض رُک سکتی ہے۔ ضروری امنیو ترشوں پر مبنی اغذیہ کا استعمال کریں ۔غیر ریفائنڈ سبزیاں ، بیجوں کا تیل میوے(Nuts) بیج، پھلیاں ،مٹر، چربیلی مچھلی ایوننگ پرائمروز آئل، السی کا تیل، تخم گاؤزبان کا تیل وغیرہ اسکے اچھے ذرائع ہیں۔ وٹامن ای (E)جو کہ فرٹیلی کے لیے بہت ضروری ہے اسلئے ایسی غذائیں کھائیں جو وٹامن ای مہیا کریں۔ نٹس ،بیج ،دودھ اور دودھ وغیرہ کی مصنوعات،چنوں وغیرہ میں وٹامن ای (E) موجود ہوتا ہے ۔ اسکے علاوہ اناج ، چنے ، سبز پتوں والی سبزیاں ،سویابین وغیرہ میں وٹامن ای موجود ہوتا ہے۔اسی طرح پروٹین پر مشتمل اغذیہ ، وٹامن اے ، سی اور وٹامن بی نمکیات خاص طور پر زنک ، آئرن ، میگنیشم وغیرہ کا استعمال کریں۔ کافی اور الکوحل جو کہ مذکورہ غذائی اجزاء کے فوڈ سپلیمنٹ بھی استعمال کئے جاسکتے ہیں غیر ضروری ادویات جیسے بھنگ(Marijuana)جو کہ سپرم کی تعداد کم کرنے والی جانی جاتی ہے سے پرہیز کریں۔ چر بیلی اغذیہ ، الکوحل، تمباکو نوشی، نشہ آور ادویات وغیرہ سے پرہیز کریں۔مراقبہ (Meditation)مشاورت ، نفسیاتی طریقہ علاج او ر سکون پہنچانے والی ورزشیں، یوگا، ہیپنوتھراپی سے فائدہ ہوسکتا ہے ۔ٹھنڈے غسل سپرم کی کم پیداوار میں مدد گار ہو سکتے ہیں مگر عورتوں میں حیض کی پرابلمز پیدا کر سکتے ہیں واضح طور پر حمل ہونے کا وقت عمل تبویض کے قریب ہوتا ہے اس ہفتے میں صرف 2یا 3دفعہ پیار کریں زیادتی سے قوت میں کمی اور سپرم کی تعداد میں کمی ہوجاتی ہے ۔ عام طور پر کوشش کریں کہ عمل تبویض (Ovulation) تک پرہیز رہے اس سے نہ صرف انرجی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ سپرم کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۔ اور عین وقت پر سپرم کے بیضے سے ملنے پر حمل کے چانسز بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ مردوں کو اپنے خصیے ٹھنڈے رکھنے چاہئے

بانجھ پن سے نمٹنے کے لیے

مرد اور عورت جس قدر ہو سکے اپنی صحت کو ٹھیک رکھنے کی کوشش کریں۔ پرانے انفکشنز کا مکمل علاج کروانا چاہئے ۔ عورتوں کو ورم رحم، سیلان الرحم، حیض کی بندش ، حیض کی باقاعدگی وغیرہ کا علاج کروانا چاہیے۔ مردوں کو ان تمام اسباب سے حتی الامکان اپنے آپ کو بچانا چاہئیے جو سپرم بننے کے عمل کو متاثر کرتے ہیں کہ تاکہ سپرم کی تعداد میں اس قدر اضافہ ہو سکے کہ حمل ہو جائے ۔ ریگولر ورزش کریں مگر حد سے نہ بڑھیں کہ ہارمونز غیر متوازن ہو جائیں اگر آپ ٹنس، تھکاوٹ محسوس کرتے ہیں۔ اپنے آپ کو بیمار محسوس کرتے ہیں۔ یا یوں سمجھ رہے ہوں کہ آپ کی صحت گر رہی ہے تو اپنے طبیب سے ملیں مرد اور عورتیں بانجھ پن کے اسباب کو سمجھیں اور اسباب سے دور رہیں جہاں تک بانجھ پن کا تعلق دباؤ یا کسی نفسیاتی وجہ سے ہے تو اسکا علاج کروائیں۔ ڈھیلے کپڑے پہنیں ٹائٹ انڈر پینٹ کی نسبت باکسر شورٹس پہنیں گرم باتھ اور برقی کمبل سے پرہیز کریں۔ عورتیں کو اس بات کا یقین کرلینا چاہئے کہ ماہواری ریگولر ہے یعنی ہر ماہ وقت پر آتی ہے تا کہ وہ اپنے مردوں کو بتا سکیں کہ عمل تبویض کب متوقع ہے۔ عام طور پر حیض آنے سے 14دن پہلے عمل تبویض ہوتا ہے۔ مگر یہ شرط ان عورتوں کے لیے ہے جن کی ماہواری ریگولر ہے اور تقریباًدَور 28دن کا ہو۔اور عمل تبویض پرصحبت کر کے بہترین نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ جب بیضہ قاذف نالیوں میں آتا ہے تو بیضہ 48گھنٹوں تک زندہ رہ سکتا ہے اگرچہ حمل ہونے کے زیادہ چانسز پہلے 24گھنٹوں میں ہوتے ہیں سپرم بیضہ سے زیادہ دیر تک زندہ رہ سکتا ہے ۔ مناسب ماحول ملے تو تین تقریبادن تک ۔تاہم زیادہ ترسپرم بیضے میں دھنسے اور آسے بار آور کرنے کے قابل صرف پہلے دو دنوں کے درمیان ہوتے ہیں۔اس دوران کسی بھی وقت بار آور ی ہو سکتی ہے۔ سپرم کو اس چیز کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ ویجائنہ میں بہت آگے جاکر خارج ہوں اور وہاں کم ازکم 1/2گھنٹے تک موجود رہیں اس کے لیے قضیب کو ویجائنہ میں بہت اندر تک پے نی ٹریٹ کرنا چائیے اور عورتوں کے لیے یہ بہترین ہے کہ بعد صحبت فوراً سیدھا کھڑا ہونے ،چلنے پھرنے ، پانی استعمال کرنے، پیشاب کرنے سے پرہیز کریں۔ بعد صحبت گھٹنے اوپر کر کے اور ٹانگیں اکھٹی کر کے سیدھے۔ لیٹے رہیں یہ سپرم کا ویجائنہ میں سفر شروع کرنے کے لیے ساز گار طریقہ ہے حکیم محمد علی العزیز ہیلتھ کیئر کلینک کنگن پور روڈ الہ آباد تحصیل چونیاں ضلع قصور 03018004747

09/02/2019

اولاد نرینہ کے حصول کیلیئے مرد کو سپرم ٹیسٹ کروالینے چاہیئیں۔ کہ آیا ان کی تعداد پوری ہے اور مادہ منویہ تیزابی نہیں۔ یاد رکھیں ایکٹو سپرمز کی تعداد 80% سے اوپر ہونی چاہیئے۔ اور منی الکلائین ہونی چاہیئے کیونکہ تیزابیت والی منی میں جراثیم مر جاتے ہیں اور سپرم کی تعداد کم ہوجاتی ہے۔ جب سپرمز اس معیار پہ پورے اتر جائیں تو میاں بیوی دونوں کو چاہیئے کہ مخاطی اعصابی (سرد تر) غذائیں حمل سے تین ماہ قبل شروع کردیں۔ اس تدبیر سے مرد کی منی میں سپرمز کثیر تعداد پیدا ہوجائیں گے۔ اور عورت کا رحم بھی نطفہ قبول کرنے کے لیئے تیار ہوجائے گا۔ اس وقت مرد کو جریانول یا کوئی اچھا مغلظ استعمال کرواجاسکتا ہے۔
نسخہ جریانول۔
ھوالشافی۔
سمندرسوکھ چارسو گرام۔
تالمکھانہ تین سو گرام۔
تخم اوٹنگن تین سو گرام۔
باریک سفوف کرلیں اور پانچ گرام صبح شام خالی پیٹ ہمراہ دودھ نیم گرم دین۔
یاد رہے اولاد نرینہ پیدا کرنا مرد کے ذمہ ہے۔ عورت کے بیضہ میں XX کروموسومز ہوتے ہیں۔ جبکہ کہ مرد کی منی میں کروموسومز کے جنسی جوڑے XY ہوتے ہیں۔ مرد کا جو بھی جنسی کروموسوم طاقتور ہوگا وہی عورت کے جنسی کروموسومز سے جوڑا بنائے گا۔ بتائی گئی غذاء سے مرد کے Y کروموسومز طاقتور ہوجاتے ہیں اور بیٹا پیدا ہوتا ہے۔ اگر مرد کی منی میں یہ خواص نہ ہوں تو اسے معالج کی ضرورت ہوتی ہے۔

معالج کا کردار۔
معالج کا ذمہ ہے کہ سب سے پہلے سپرمز ٹیسٹ کروائے۔ ان کی تعداد۔ قوام اور PH ٹھیک کرنے کی ادویہ دے۔ سرد تر مزاج میں منی کی پیدائش ہوتی ہے۔ سرد خشک مزاج سے منی گاڑھی ہوتی ہے۔ خشک سرد مزاج سے سپرمز ایکٹو ہوکر ان کے Y کروموسومز طاقتور ہوجاتے ہیں۔
مرد کے ساتھ ساتھ اگر عورت کے رحم میں کوئی نقص ہو تو اسے ٹھیک کرنا بھی علاج کا حصہ ہے۔

مباشرت کا طریقہ برائے اولاد نرینہ۔
طب قدیم کے مطابق عورت کو ایک ماہ دائیں اووری سے اور دوسرے ماہ بائیں اووری سے بیضہ آتا ہے۔ اب اگر بیضہ دائیں اووری سے آیا ہوتو اولاد نرینہ ہوگی اور بائیں اووری کا بیضہ فرٹیلائز ہونے سے لڑکی ہوگی۔
اس اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمبستری کے بعد مرد عورت کے دائیں طرف سے اترے اور عورت دائیں کروٹ لیٹی رہے اس طرح منی دائیں بیضہ دانی کی طرف ڈھلوان کے سبب چلی جائے گی۔ اگر لڑکی کی خواہش ہو تو بائیں کروٹ کو اپنایا جائے گا۔ دائیں کروٹ کا فارمولا استعمال کرنے سے منی دائیں فیلوپین ٹیوب کی طرف رجوع کرے گی اور ادھر سے آئے ہوئے بیضہ کو بارور کرے گی۔ لیکن اگر اس ماہ بیضہ بائیں اووری سے اترا تو مندرجہ بالا تدبیر سے وہ ماہ خالی چلاجائے گا اور حمل قرار نہ پائے گا۔۔
سپرم یوٹرس کے اندر ایک ہفتہ تک زندہ رہ سکتا ہے۔ مگر اس کیلیئے سپرم کو رحم و فیلوپین ٹیوبز میں الکلائین رطوبات کا ماحول میسر ہونا چاہیئے۔ جس وقت بیضہ خصیئہ الرحم سے ریلیز ہوکر فیلوپین ٹیوب میں آتا ہے تو اس کے ساتھ ایک الکلائین رطوبت بھی خارج ہوتی ہے جو سپرم کو زندہ رہنے کیلیئے مدد فراہم کرتی ہے۔ سپرم کو وہی الکلائین ماحول فراہم کرتی ہے جو مردانہ خصیئے میں ہوتا ہے۔ بیضہ ریلیز ہونے سے پہلے اور ریلیز ہونے کے 36 سے 72 گھنٹہ زندہ رہنے کے بعد بیضہ مردہ ہونے سے فیلوپین ٹیوب میں تیزابیت ہوجاتی ہے۔ جس کی موجودگی میں سپرم زندہ نہیں رہ پاتا۔ اس دوران عورت کے رحم سے ترشح پانے والی رطوبت تیزابی ہوتی ہے جو سپرم کیلیئے مہلک ہوتی ہے۔ تمام سپرم وہاں ڈیڈ ہوجاتے ہیں۔ حیض شروع ہونے کے دس دن بعد بیضہ اترتا ہے اس لیئے حیض سے دسویں تا تیرھویں روز تک ہمبستری ہونی چاہیئے۔ حمل قرار پانے سے رحم و فیلوپین ٹیوبز کا ماحول الکلائین ہوجاتا ہے۔ حمل کے 36 ہفتے ہوتے ہیں۔ فالتو دن وہی ہیں جو حیض کے بعد بیضہ اترنے میں لگتے ہیں۔

حمل ہوجانے کے چھے ہفتے تک جنین میں جنسی اعضاء کی پیدائش نہیں ہوتی۔ چھٹے ہفتے میں بازو ٹانگیں پلیسینٹا کی جھلی۔ پھیپھڑوں کی بناوٹ۔ دل کا مقام۔ دم کا آغاز۔ اور ایمبلیکل کارڈ کے ساتھ ساتھ جنسی اعضاء کے نشان بننے لگتے ہیں۔ جبکہ چھٹے ہفتے کے بعد جنسی اعضاء کی نمو شروع ہوجاتی ہے۔ اس دوران جنسی اعضاء دوہری خاصیت کے حامل ہوتے ہیں۔ جنین میں زنانہ و مردانہ دونوں اقسام کے جنسی اعضاء اکٹھے نشونما پارہے ہوتے ہیں۔ یہ کیفیت نوویں ہفتے تک جاری رہتی ہے۔ اس وقت جنین کو دوہرے جنسی خواص کا حامل یا بائی سیکسوئیل کہہ سکتے ہیں۔ نوویں ہفتے کے بعد نر یا مادہ اعضاء کی کوئی ایک قسم غلبہ پکڑ لیتی ہے۔ غالب جنسی اعضاء کی نشو نما جاری رہتی ہے جبکہ مغلوب جنسی اعضاء سکڑنے لگتے ہیں۔۔ کچھ ختم ہوجاتے ہیں اور کچھ کے نشان باقی رہ جاتے ہیں جیسے کہ مردوں کے سینے پہ پستان کے نشانات۔ مگر یہ مردانہ و زنانہ دونوں خواص انسان میں ہمیشہ موجود رہتے ہیں ش*ذ و نادر بعد کی عمر میں بھی غالب جنس مغلوب ہوسکتی ہے۔ اور لڑکی لڑکا یا لڑکا لڑکی بن جاتا ہے۔ اس طرح کے واقعات ہم اخبارات و میڈیا پہ سنتے رہتے ہیں۔

حمل کے بعد معالج کا کردار۔۔۔

نوویں ہفتے سے نر و مادہ جنسی اعضاء کے بیچ مقابلے کا رجحان شروع ہوتا ہے ان میں سے ایک قسم کے اعضاء مناسب ماحول۔ غذا یا دواء کے سبب غالب ہوجاتے ہیں اور غالب اعضاء ہی جنین کی جنس کا اظہار کریں گے۔
نوواں ہفتہ سو بدلنے کیلیئے بہترین وقت ہے۔ اس وقت نرینہ پلز شروع کرواسکتے ہیں۔ نرینہ پلز کا مزاج عضلاتی مخاطی (خشک سرد) ہے۔ یہ دوا جنین کے نر جنسی اعضاء کو تقویت دے کر ان کی نشونما میں مددگار ہوتی ہے۔ اور جنین کی جنس کا تعین لڑکے کی صورت ہوجاتا ہے۔ نوویں ہفتہ سے جنسی اعضاء بالخصوص خصیئتین گردوں سے نیچے کی طرف اترنے لگتے ہیں۔ خصیئتین کے ڈیلیور ہونے کا عمل پروجیسٹرون ہارمون کی مدد سے اٹھائسویں ہفتے تک جاری رہتا ہے۔ یہی ہارمون بچے کی پیدائش پر ماں کو ولادت میں آسانی فراہم کرتا ہے۔ یعنی پروجسٹروں ہارمون سے بچہ ڈیلیور ہوتا ہے۔ چونکہ یہ گرم و تر مزاج کا زنانہ ہارمون ہے اس لیئے بچے کی پیدائش کے بعد پستان سے دودھ کے افراز میں بھی مددگار ہوتا ہے۔ اس دوران حاملہ کو الٹراساونڈ کرواتے رہنا چاہیئے اگر اٹھائسویں ہفتے تک نر جنین کے خصیئے پیٹ سے نیچے سکروٹم میں نہیں اترتے تو اسکے لیئے حاملہ کو اعصابی قشری تریاق (ٹی-5) شروع کروائیں۔ ٹی-5 سے پروجیسٹرون ہارمون کی پیدائش بڑھ جاتی ہے۔
نسخہ ٹی-5
ھوالشافی۔
ریوندخطائی 50 گرام
ملٹھی 50 گرام۔
سوہاگہ سفید خام 50 گرام
شیر مدار دس گرام۔
سب ادویہ پیس کر شیرمدار مکس کرکیں اور 500 ملیگرام کے کیپسول بھرلیں۔ ایک کیپسول دن میں دو سے تین بار دینا ہے۔

اٹھائسویں ہفتے تک لڑکا یا لڑکی کے جنسی اعضاء مکمل ہوجاتے ہیں۔ اس دوران جنین کو نر جنسی اعضاء کی تکمیل کیلیئے ٹیسٹوسٹیرون ہارمون کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس مدت میں ٹیسٹوسٹیرون ہارمون کی پیداوار کم ہوتو نر جنین کے جنسی اعضاء کی تکمیل حسب منشا نہیں ہوپاتی اور لڑکا مخنس بھی ہوسکتا ہے۔
نوویں ہفتے سے جنین کی جنس کا تعین کیا جاسکتا ہے۔ اس ہفتے حاملہ کو درج زیل نرینہ پلز کا نسخہ دیا جاتا ہے۔

ھوالشافی۔
مور کے پر کی اندر والی سبز اور نیلی ٹکی تین عدد لے کر قینچی سے باریک کتر لیں۔ اب اس میں نصف گرام یاقوتی۔ نصف گرام مفرح ڈال کر خوب باریک پیس لیں۔ اس سفوف کے چھے کیپسول بھر لیں۔ جب حمل کو آٹھ ہفتے گزر جائیں تو نوویں ہفتے کی صبح حاملہ کو دو کیپسول نیم گرم دودھ سے کھلا دیں۔ دو کیپسول دوپہر اور دو شام کو کھلائیں۔ سارا دن دودھ اور پھلوں کے سوا کچھ نہ کھائے۔ ہر قسم کی گرم اغذیہ چوتھے ماہ تک بند کردیں۔ ان شاء اللہ لڑکا پیدا ہوگا۔

ھارمونز کا جنینی نشونما میں کردار۔۔۔۔۔۔۔
دونوں قسم کی جنس کے اپنے اپنے معاون ہارمونز ہوتے ہیں۔ نر جنین کو مزید جنسی نشونما کیلیئے ٹیسٹوسٹیرون ہارمون کی وافر مقدار درکار ہوتی ہے جس سے نر جنین کے جنسی رجحانات اور جنسی اعضاء تکمیل پاتے ہیں۔ اگر نر جنین کو ٹیسٹوسٹیرون کی کم مقدار کا سامنا ہوتو ایسے لڑکوں کے نر جنسی رجحان میں پختگی نہیں آتی اور جنسی اعضاء کمزور۔ چھوٹے۔ ڈھیلے یا نامکمل رہ جاتے ہیں۔ اس لیئے ضروری ہے کہ حمل کے دوران حاملہ کے ھارمون ٹیسٹ کرواتے رہیں۔ جنین کی نشونما ہارمونز کی محتاج ہوتی ہے۔ 30 مختلف ہارمونز حمل کے دوران خارج ہوتے ہیں۔ پلے سینٹا ان ہارمونز کو ریگولیٹ کرتا ہے۔ پلے سینٹا جنین کے لیئے ہارمونز کا بڑا کنٹرول اسٹیشن ہے۔ یہ اپنے ہارمونز خود پیدا کرتا ہے۔ اور ماں کی طرف سے خون میں آنے والے ہارمونز کے نقصانات سے جنین کے بچاتا ہے۔
تھائیرائیڈ ہارمون حمل کے دوران تھائرائیڈ گلینڈ سے تھائروکسن ہارمون کی طلب بڑھا دیتا ہے۔
ایسٹروجن کا ہائی لیول پریگنینسی کے دوران ماں کے تھائرائیڈ گلینڈ کو اتنا متحرک کردیتا ہے کہ ماں اور جنین دونوں کی ضروریات پوری ہوسکیں۔ ماں کا تھائرائیڈ گلینڈ کا تھائیروکسن ہارمون آسانی سے پلے سینٹا سے گزر کر جنین پہ اثر انداز ہوتا ہے۔ تھائی روکسن ھارمون جنین کی دماغی نشونما کیلیے نہایت ضروری ہے۔ علاوہ ازیں یہ عام جسمانی نشونما میں بھی معاون ہے۔ جنین کے اعضاء کی پختگی بشمول پھیپھڑوں کی نشونما میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ کمزور تھائرائیڈ گلینڈ والی ماں کے ہاں ایبنارمل بچے کی پیدائش ہوتی ہے۔ جنین میں تھائرائیڈ ہارمون اس کی ذہنی نشونما کیلیئے لازمی ہوتا ہے لیکن خطرناک صورت حال اس وقت سامنے آتی ہے جب ماں کا تھائرائیڈ گلینڈ تھائروکسن ہارمون کی مطلوبہ ضرورت پوری نہیں کرسکتا۔ ماں میں تھائرائیڈ گلینڈ کی کمزوری سے درج زیل نقصانات ہوسکتے ہیں۔1۔ حمل کا ضائع ہوجانا۔
2۔ بچے کا وزن کم ہونا۔
3۔ بچہ ذہنی ایبنارمل پیدا ہونا
5۔ بچے کے پھیپھڑے۔ دماغ اور دیگر اعضاء کی نامکمل نشونما ہونا۔
اس بیماری کا سبب آٹوامیون ڈزیز ہے جس میں اینٹی تھائرائیڈ اینٹی باڈیز۔ پلے سینٹا سے گزر کر جنین کے تھائرائیڈ گلینڈ کو نقصان پہنچاتی ہے۔ ہائپوتھائرائیڈازم کا بے اولادی سے گہرا تعلق ہے۔ اس مرض کیلیئے ایلوپیتھی میں آئیوڈین سپلیمنٹ اور آئیوڈین ملا نمک دوران حمل تجویز کیا جاتا ہے۔
جنین کی گروتھ میں انسولین اہم رول ادا کرتی ہے۔ جنین کا لبلبہ دسویں ہفتہ میں انسولین کی پیدائش شروع کردیتا ہے۔ ماں کی انسولین پلےسینٹا سے نہیں گزر سکتی۔ اس لیئے جنین کو اپنی انسولین کی ضروریات خود پورا کرنی ہوتی ہیں۔ جنین کے خون میں انسولین کا لیول گلوکوز کے ارتکاز سے کنٹرول ہوتا ہے جو ماں کے خون میں گلوکوز لیول کے راست متناسب ہوتا ہے۔ ماں کی زائد بلڈ شوگر بچے کی قبل از وقت پیدائش کا سبب بن سکتی ہے۔ جب کہ جنین میں انسولین کی کمی اس کی شرائین کو تنگ اور سخت کرنے کا سبب بنتی ہے۔
پروسٹیٹ ہارمون جنین کے کارڈیوپلمونری سسٹم کی میچوریٹی کرتا ہے۔ جنین میں شرائین کی بناوٹ اور پھیپھڑوں کے ارتقاء میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
پروسٹا گلینڈ D-2 پروسٹاسائکلین کی ساتھ مل کر پیدائش کے فورا بعد بچے میں سانس کا نظام متحرک کرتا ہے۔ یہ ہارمون بچے کی پیدائش کے عمل میں بھی معاون ہے۔
پروجیسٹرون ہارمون جنین کی نشونما میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور ماں کے مدافعتی امیونی عمل کو جنین کے اینٹی جنز کے خلاف متحرک ہونے سے روکتا ہے۔
گلوکوکارٹی کوائیڈز جنین کی نشونما کیلیئے بہت ضروری ہیں جنین کا اپنا کارٹی سول اور کارٹی سون جنین کی پختگی میں بہت اہمیت رکھتے ہیں۔
جنین میں ٹیسٹوسٹیرون ہارمون کا لیول اس کی جنسی تخصیص واضح کرتا ہے۔ جنین میں ٹیسٹوسٹیرون مردانہ رجحان پیدا کرتا ہے۔ اور مردانہ جنسی اعضاء کی نشونما کرتا ہے۔ اگر فی میل جنین کو ٹیسٹوسٹیرون ہارمون کی اضافی مقدار ملے تو اس لڑکی میں پستانوں کی نشونما کم رہ جاتی ہے اور مردانہ خصوصیات کے ٹشوز باقی رہ جاتے ہیں۔
العزیز ہیلتھ کیئر کلینک الہ آباد تحصیل چونیاں ضلع قصور 03018004747

09/02/2019

امراض معدہ
معدہ کیا ہے
معدہ تین مختلف آرگن سے مل کر بنا ہے
معدہ واحد عضو ہے جس میں دل کے دماغ کے جگر کے عضلات ہوتے ہیں

۔
مرض اور علاج ۔۔۔۔جب معدہ میں خمیر ہو تو منہ سے بدبو اور رات سوتے وقت لعاب دہن نکلتا ہے یہ خالص سردی کی تحریک ہوتی ہے میں کوشش کروں گا کہ عوام الناس کو رگڑائی پسائی کے چکروں میں ناڈالوں
جن مریضوں کو لوز موشن وغیرہ آتے ہوں اور انتڑیوں میں کمزوری ہو ۔۔۔۔ھمدر کی جالینوس استعمال کریں لگاتار اک ماہ پہلے تین دن میں معدہ کی صحت بحال ھوگی

۔
۔اب معدے کے دوسرے مریض کی بات کرتے ہیں
یہ مریض قبض کا مادہ ہوتا ہے خالص خشکی کی تحریک کے زیر اثر ہوتا ہے ۔۔۔اور انتڑیوں میں سدے ہوتے ہیں یعنی گانٹھیں پڑی ہوتی ہیں اور کئی کئی ہفتوں مریض کو پاخانہ نہی آتا اور انتہائی تکلیف دہ مرحلہ ہوتا ہے ۔۔۔۔اہسے مریض کو چاہیئے ۔۔۔۔۔۔۔کسٹرائیل روغن بادام اور شہد سو سو گرام مکس کریں اور تین چمچ گرم دودھ کے ساتھ پی لیں انشاء اللہ پندرہ سے بیس منٹ میں معدہ صاف ہونا شروع ہو جائیگا ایسے مریض کو چاہیئے کہ وہ جوارش جالینوس کا استعمال مسلسل کریں اور ۔۔۔۔مزاج کے حوالے سے خشک چیزوں سے پرہیز کریں اور مربہ جات کا استعمال کریں
۔
۔
۔اب آتے ہیں تیسرے مرض کی طرف
اس مریض کو معدے کی جلن ہوتی ہے اور خوراک کی نالی سے لے کر معدے کے جوف تک آگ کا احساس ہوتا ہے یہ گرمی کا مریض ہوتا ہے ہم سب سے پہلے گرمی کا اخراج کرینگے اور ساتھ ہی معدہ کو تسکین دینگے
۔
۔علاج ۔۔۔۔رات کو املی بھگو کر رکھیں تھوڑی سی اک مٹی کے پیالے میں اور صبح نہار منہ نمک ڈال کر گھول کر پی لیں ۔۔۔۔۔۔۔۔اور جوارِش زرشک ھمدرد کی استعمال کریں
املی کا پانی حد تین سے چار دن کافی ہے
۔
۔
۔
۔اب آتے ہیں ایسے مریض کی طرف جو کہ کچھ ہضم نہیں کر سکتے دودھ گوشت وغیرہ تو بیچارے تو قطعی ہضم نہیں کرسکتے ۔۔۔۔۔پانچ ادویات ہیں وہ استعمال کریں
جو لوگ بڑی بڑی فیسیں دے کر لمبے لمبے پرچے سٹور پر جاتے ہیں اور نتیجہ مایوسی ۔۔۔۔۔۔۔ان کو یہ پانچ ادویات استعمال کرنا چاہیے
۔۔
۔سوسی۔۔ اندمالی ۔۔جگرین ۔۔قرحین ۔۔کیسری ۔۔۔۔یہ پانچ ادویہ لے اور انہیں مکس کریں اور گرائینڈر کریں اور میڈیکل سٹور خالی سے ڈبل زیرو کے کیپسول بھر لیں تین ٹائم لیں یہ کیپسول یہ معدہ کے لئے اکسیر ہے یہ پانچ ادویات ھمدرد کی لیں ۔۔۔۔۔۔

العزیز ہیلتھ کیئر کلینک الہ آباد تحصیل چونیاں ضلع قصور 03018004747

07/02/2019

السلام علیکم قوت باہ مردانہ کمزوری کے لئے انتہائی آسان اور مجرب ترین نسخہ پیش خدمت ہے
اولاد کیلئے جراثیم کم ہوں تو:

اگر اولاد کے جراثیم کم ہوں یا بالکل موجود ہی نہ ہوں یہ نسخہ جراثیم کوبھرپور پیدا کرتا ہے‘ ہر قسم کی جسمانی کمزوری کو ختم کرتا ہے اس نسخہ کے مزید فوائد استعمال کرنے والا خود ہی بتائے گا سمجھدار کیلئے اشارہ کافی ہے۔

ھوالشافی: ثعلب مصری پانچ تولہ‘ سفید موصلی انڈیا والی پانچ تولہ‘ مغزبنولہ پانچ تولہ‘ دانہ سبز الائچی تین تولہ (سبزالائچی کھول کر اس کے دانے نکال لیں) ان تمام چیزوں کا سفوف تیار کرکے اس میں پانچ تولہ چھلکا ملادیں۔

طریقہ استعمال: پاؤ دودھ نیم گرم کرکے اس میں بڑا چمچہ ڈال دیں۔ صبح کھانے سے پہلے استعمال کریں اس میں ہلکا میٹھا استعمال کرسکتے ہیں۔ اس نسخہ کو لگاتار چالیس دن استعمال کرنا ہے۔

نسخہ نمبر2:ھوالشافی: ثعلب مصری‘ ثعلب پنجہ دونوں کا وزن پانچ تولہ‘ سفید موصلی انڈیا والی تین تولہ‘ تمام چیزوں کا سفوف تیار کرکے اس میں تخم ریحان دس تولہ ملادیں۔

استعمال: ایک چمچ روزانہ دودھ کیساتھ‘نامرد کو مرد بنائے‘ معدہ کے زخم اور امراض معدہ ختم کرے‘ اولادی جراثیم پیدا کرے‘مردانہ امراض ختم کرے۔. العزیز ہیلتھ کیئر کلینک الہ آباد تحصیل چونیاں ضلع قصور

22/01/2019



قوت باہ

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎
جناب ایڈمن صاحبو عزیزو آداب

صاحبو عزیزو فقیر آج جس موضوع پر لکھنے کو تیاری کیے ہوے تھا لیکن کیا ہو کہ فقیر کا قلم ہی کھو گیا جس ملک میں انسانی جان کی کوی قیمت ہی نہ ہو وہاں کسی کے الفاظ اور جزبات کو کون پرکھتا ہے کیا قانون اور کیا قانون نافظ کرنے والے ادارے جو خد ہی قانون کا تماشہ بنا دیں ۔ جہاں انسان کی جان کی قدر و قیمت ہی نہ ہو ۔
صاحبو فقیر نے باہ کو جو سمجھا وہ عرض کیے دیتا ہوں امید ہے استاد صاحبان کم علمی اور بے مایگی کو درست فرما دیں گے ۔
صاحبو جب بچہ نوجوان ہوتا ہے تو اس کی تحریک غدی رہتی ہے جب جوان ہو جاتا ہے تو اسکی تحریک عضلاتی ہونا شروع ہو جاتی ہے اسمیں مادہ تولید کی پیدایش شروع ہو جاتی ہے جب یہ منی رکتی ہے تو اسمیں خمیر پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے اور خمیر کی وجہ سے حیوانات منویہ پیدا ہو جاتے ہیں ۔ اب بات کو روک کر مثال کے زریعے واضح کرتا ہوں کہ جسطرح دودھ کو ابال کر برتن میں ڈال کر ٹھنڈا کرتے ہیں جب مناسب درجہ حرارت پر دودھ کی حرارت پہونچ جاتی ہے تو اس کو ضامن لگا دیا جاتا ہے پھر کچھ وقت کے بعد دودھ دہی میں بدل جاتا ہے ۔ اب اگر دودھ میں ضامن لگا ہوا ہو لیکن اسمیں سے دودھ نکال کر تھوڑا چھوڑ دیں اور اسمیں مزید ڈال دیں پھر نکال اور ڈال دیں یعنی دودھ کو ڈسٹرب کرتے رہیں تو کیا دودھ دہی میں تبدیل ہو گا نہیں ہوگا اور اسی طرح اگر دودھ ابھی گرم ہی ہو اس میں ضامن لگا دیا جاۓ تو کیا وہ دہی بن پاے گا نہیں وہ خراب ہو جاۓ گا ۔
صاحبو اب واپس منی کی طرف چلیں اگر منی بنتی اور نکلتی رہے تو کیا اس میں خمیر پیدا ہوگا نہیں اور اگر طبیعت بہت ہی گرم ہو تو کیا منی جم کر بستہ ہو پاے گی نہیں نا اس کو پھر دودھ اور دہی والی مثال سے سمجھ لیں ۔اب مزید تھوڑی آگے بات چلاتا ہوں جب منی میں حیوانات منویہ پیدا ہو کر حرکت کرتے ہیں تو غدہ منی میں دغدغہ یعنی گدگدی پیدا ہوتی ہے اور طبیعت اس گدگدی کو ختم یا خارج کرنے کے لیے انشار اور اندرونی خواہش پیدا کرتی ہے کہ وہ اپنی منی کو خارج کرے یہ لہر انتشار پیدا کرتی ہے انسان مجبور ہو جاتا ہے کہ وہ ہمبستری کرے یا پھر کوی غیر فطری طریقہ اپناۓ اگر فطری راستہ نہ ہو تو وہ نا جایٸز راستہ اختیار کر لیتا ہے اب جو لوگ صبر سے کام لیا کرتے ہیں قدرت ان کو تنہا نہیں چھوڑتی بلکہ وہ اسکا انتظام کرتی ہے کہ مرد خواب میں اپنے جنسی جزبات کی تسکین حاصل کر لیتا ہے اور اسکی منی خارج ہو جاتی ہے جسے اح**ام کہا جاتا ہے ۔ اب اگر منی خارج ہو گیی ہے جب تک پھر حیوانات منویہ کی حرکت سے مجبور نہ ہو جاے وہ سکون میں رہتا ہے ۔
صاحبو پھر دودھ اور دہی کی مثال کو سامنے رکھیں فقیر نے عرض کی تھی کہ اگر دودھ گرم میں ظامن لگا دیا جاے تو دہی نہیں بنتی تو اسی طرح جب اندرونی حرارت بہت بڑھ جاتی ہے تو منی میں خمیر پیدا نہیں ہوتا اور منی اپنے قدرتی قوام پر بستہ نہیں ہوتی جب خمیر نہیں تو حیوانات بھی پورے نہیں اور ان کی حرکت بھی نہیں اور حرکت نہیں تو خواہش ہمبستری بھی نہیں اور انتشار بھی نہیں ۔صاحبو اس کے علاوہ جب منی کو بار بار نکالتے رہیں گے تو منی نے کیا اپنے قوام پر خمیر ہونا ہے اور کیا اس میں حیوانات منویہ پیدا ہونے ہیں ۔
صاحبو جب مریض جسکو انتشار کی کمی ہو اسکو ہمبستری کے خیال سے دور کر کے منی کو ٹھنڈا کرکے خمیر پیدا ہونے کا موقع دیں پھر خد بخد انتشار پیدا ہو جاتا ہے گو اسمیں گیسسز کا بھی اپنا حصہ ہے لیکن اصل محرک یہ دغدغہ ہی ہوتا ہے ۔ اور جن مریضوں کو ٹایم نہ ہونے کی شکایت ہے ان کی منی کو بستہ کرنے کے لیے ٹھنڈی غزا اور ادویات تجویز کر کے یہ شکایت دور کی جا سکتی ہے ۔ اب ایک مزید اگلی بات کہ باہ کی قوت اپنے عروج پر ہوتی ہے عضلاتی غدی مزاج میں یعنی خشک گرم مزاج میں انتشار شدید وقت بے بہا۶ اب پہلے مریض کی منی کو ٹھنڈا کر دیں اور معمولی سی دوا سے بھی کامیاب علاج ممکن ہے اور جوس سیب گاجر سے ٹھنڈا کریں کوی بھی اچھا مغلظ دیں پھر چند دن کے بعد خد بخد انتشار پیدا ہونا شروع ہو جاۓ گا اور ایک مرتبہ ہمبستری کے بعد انتظار کریں کہ پھر اندر سے لہر پیدا ہو تاکہ کبھی بھی جوانی ختم نہ ہو اب فقیر اجازت چاہتا ہے امید ہے فقیر کے کم علم الفاظ کی قدر فرمایں گے اور ان کی درستگی فرمایں گے ۔ اب اس دعا کے ساتھ کہ اے اللہ جن کا کوی نہیں ہے انکا صرف تو ہی سہارہ ہے ان کے دکھ درد اور امراض دور فرما بے اولادوں کو اولاد عطا فرما گناہ گاروں کے گناہ معاف فرما اپنا بندہ بنا آمین یا رب العالمین بحق محمد صلی علیہ و آلہ وسلم
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
حکیم محمد علی کنگن پور روڈ الہ آباد تحصیل چونیاں ضلع قصور العزیز ہیلتھ کیئر دواخانہ 03018004747

Address

Alaziz Market Kanganpur Road Ellah Abad
Kasur
54000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al-Aziz Health Care Clinic posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category