20/12/2025
⚖️ اہم عدالتی فیصلہ | لاہور ہائی کورٹ، ملتان بینچ ⚖️
لاہور ہائی کورٹ، ملتان بینچ نے
Punjab Protection of Ownership of Immovable Property Ordinance, 2025
کی نہایت واضح، جامع اور دوٹوک تشریح کرتے ہوئے ایک اہم اور رہنما فیصلہ صادر کر دیا ہے۔
عدالتِ عالیہ نے واضح طور پر قرار دیا کہ:
🔹 Dispute Resolution Committee (DRC) محض ایک ابتدائی، تفتیشی اور مفاہمتی فورم ہے،
اور اسے کسی بھی مرحلے پر
❌ بے دخلی
❌ زبردستی قبضہ چھڑوانے
❌ قبضہ بحال کرنے
کا کوئی اختیار حاصل نہیں — نہ عبوری طور پر اور نہ ہی حتمی طور پر۔
🔹 عدالت نے واضح کیا کہ Section 9 کے تحت DRC کے اختیارات صرف:
✔️ احتیاطی (Preventive)
✔️ عارضی (Temporary)
✔️ ریگولیٹری نوعیت
کے ہیں، مثلاً مناسب ضمانت لینا یا جائیداد کو سیل کرنا،
اور یہ اقدامات بھی صرف تحریری، وجوہات پر مبنی (Speaking Order) اور
نوٹس و مکمل سماعت کے بعد ہی کیے جا سکتے ہیں۔
🔹 عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ DRC کو:
❌ زبانی یا غیر رسمی ہدایات دینے
❌ کسی قسم کے جابرانہ اقدامات اپنانے
❌ پولیس یا انتظامیہ کے ذریعے قبضہ دلوانے
کا کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں۔
🔹 مزید یہ کہ اگر کسی مجاز عدالت کی جانب سے
Status-quo یا کوئی اور عدالتی حکم موجود ہو تو
DRC اس کی سختی سے پابند ہوگی، اور اس کے برعکس کوئی بھی اقدام
عدالتی اختیار میں مداخلت تصور ہوگا۔
🔹 عدالت نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ:
✔️ قبضہ بحال کرنا
✔️ بے دخلی
✔️ زبردستی عمل درآمد
کے تمام اختیارات صرف اور صرف Tribunal کو حاصل ہیں،
جیسا کہ Sections 16 اور 17 میں صراحت کے ساتھ درج ہے۔
🔹 آخر میں عدالت نے واضح ہدایت جاری کی کہ:
Tribunal کے باقاعدہ اور قانونی حکم کے بغیر
کسی بھی شہری کے خلاف
❌ Eviction
❌ Forcible dispossession
جیسے اقدامات ہرگز نہیں کیے جا سکتے۔
یہ فیصلہ:
✅ شہریوں کے آئینی حقوق کے مؤثر تحفظ
✅ Due Process of Law کے عملی نفاذ
✅ انتظامیہ کی قانونی حدود کی واضح نشاندہی
اور
✅ جائیداد کے تنازعات میں قانون کی بالادستی
کا ایک اہم سنگِ میل ہے۔
📌 یہ فیصلہ جائیداد کے مقدمات میں وکلاء، انتظامیہ اور عام شہریوں کے لیے ایک مستند اور قابلِ اعتماد رہنما اصول کی حیثیت رکھتا ہے۔
📖 (Approved for Reporting)
👨⚖️ جسٹس احمد ندیم ارشد
لاہور ہائی کورٹ، ملتان بینچ
⸻