01/12/2025
معاشرے کے یتیم اور بے سہارا بچوں کے لیے ایک توجہ طلب مسئلہ
آج ہمارے معاشرے میں ایسے بے شمار گھرانے موجود ہیں جہاں کوئی بڑا نہیں رہا۔ کچھ کے والدین پردیس میں ہیں، کچھ بچے یتیم ہیں، اور کچھ کے گھروں میں موجود واحد سہارا دنیا چھوڑ چکا ہے۔ ایسے گھروں میں 14–15 سال کے بچے اور بچیاں اپنی عمر سے بڑھ کر ذمہ داریاں نبھانے پر مجبور ہیں۔
یہی بچے اپنے گھروں کا نظام چلا رہے ہیں
انہی کو اسکول جانا ہوتا ہے، ٹیوشن جانا ہوتا ہے، ضروری کام نمٹانے ہوتے ہیں، اور کچھ کو تو بیمار والدہ کو اسپتال تک پہنچانے جیسی ذمہ دار ذمہ داریاں بھی تنہا پوری کرنا پڑتی ہیں۔ ❗ سوال یہ ہے کہ وہ کیسے جائیں؟
جب پنجاب پولیس نے موٹر سائیکل اور رکشوں پر سخت کریک ڈاؤن شروع کر رکھا ہے، تو ایسے چھوٹے بچے جن کے پاس کوئی بڑا موجود ہی نہیں ۔وہ آخر لائسنس کیسے بنوائیں؟ ان کے لیے کون سا راستہ اختیار کیا جائے؟
اگر ان کی ماں اچانک بیمار ہو جائے تو یہ کس کے آگے ہاتھ جوڑیں کہ ہمیں اسپتال پہنچا دو؟ کیا ان کے لیے کوئی نرمی، کوئی گنجائش، یا کوئی بہتر حل نہیں نکل سکتا؟
کیا قصور ہے ان بچے بچیوں کا جو اپنے حالات کے ہاتھوں مجبور ہیں؟
یہ نہ صرف کم سن ہیں بلکہ یتیم اور بے سہارا بھی ہیں۔ ان کا سہارا صرف اللہ ہے… اور یہ معاشرہ۔
مطالبہ
حکومتِ پنجاب، پولیس انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کو ایسے خاندانوں کے لیے کوئی واضح اور آسان حل نکالنا چاہیے
ایسے گھروں کی کھلی تحقیق کی جائے
معذور، بیمار یا بے سہارا والدین کے بچوں کے لیے خصوصی رعایت یا ورکنگ کارڈ جاری کیا جائے
اسکول جانے والے بچوں کے لیے محفوظ اور قانونی سفری سہولت فراہم کی جائے
یا لائسنس کے لیے کوئی خصوصی ریلیکسیشن متعارف کروائی جائے تاکہ یہ کم عمر بچے مجبوری میں غیر قانونی کام پر مجبور نہ ہوں
آخر یہ بھی ہمارے ہی بچے ہیں
ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم ان کی آواز بنیں، ان کی مشکل کو سمجھیں اور ان کے لیے راستہ نکالیں۔ قانون اپنی جگہ درست، مگر حالاتِ مجبوری کو دیکھتے ہوئے تھوڑی سی نرمی انسانیت کا تقاضا ہے۔
اللہ ایسے بے سہارا گھروں پر رحم فرمائے، اور حکمرانوں کے دلوں میں بھی ان بچوں کے لیے آسانی پیدا کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔