03/06/2025
ٹک ٹاک ہر سال کتنے ہی نوجوانوں کی کے لیے جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔آخر ٹک ٹاکروں میں ہی یاری دوستیاں اور پھر بات لڑائی جھگڑوں اور جان لینے تک کیوں پہنچتی ہے۔آئے دن کوئی ٹک ٹاکر یا تو اپنی دوستیوں کے سبب قتل ہو رہا ہے یا پھر اس کی کوئی نازیبا ویڈیو لیک ہو رہی ہے۔ تو یہ ہے ہماری نئی نسل کا المیہ۔ راتوں رات شہرت کی ہوس۔ جسمانی نمائش سے دولت کا حصول۔ہر اوٹ پٹانگ کو نیو نارمل بنانے کی دُھن۔روز روز نت نئے کرتب دکھانے کا شوق۔ طوفانی محبتیں ۔ انتہائی نفرتیں۔انٹرنیٹ کھاتے ہیں، انٹرنیٹ پیتے ہیں، انٹرنیٹ جیتے ہیں۔
تعلیمی ادارے پولٹری شیڈ بنے ہوئے ہیں۔ ہر سال لاکھوں بیکار ڈگریاں بانٹی جاتی ہیں جن کی مارکیٹ میں کھپت نہ عالمی معیار کے مطابق۔
کاروبار میں بڑے سرمایہ دار آپس میں مل کر مناپلی بنا لیتے ہیں۔ بظاہر ایک دوسرے کے حریف لیکن پراڈکٹ پرائس کنٹرول کرنے میں ایک دوسرے کے حلیف ہیں۔ چھوٹا سرمایہ کار یا نیا بزنس سٹارٹ کرنے والا چند ماہ میں ڈوب جاتا ہے۔ مارکیٹ اسے سسٹم سے فلش کر دیتی ہے کیونکہ بڑے مگرمچھوں سے مقابلہ کرنے کو اس کے پاس استطاعت ہوتی ہے نہ مالی حیثیت۔
نیا بزنس ماڈل، نئی پراڈکٹ یا نیا ویژن یہاں نہیں پایا جاتا۔ سب بیرونی بزنس ماڈلز کی کاپیاں ہیں۔آئی بی اے اور لمز جیسے ادارے بھی بچوں کو آؤٹ آف باکس سوچنے پر مجبور کرنے سے قاصر ہو رہے ہیں۔کیا اوورسیز اور کیا پاکستان میں بستے لوگ سب کا ایک ہی بزنس رہا اور وہ تھا پراپرٹی خرید کر رکھ لینا، بیچ دینا یا کرایہ پر دے دینا۔ سارا کالا اور سفید پیسہ اسی سیکٹر میں لگ گیا۔ معیشت امپورٹ بیس رہی۔ مینوفیکچرنگ یونٹس میں سرمایہ کاری نہیں ہو سکی۔ اس کی وجہ یہ بھی کہ ریاستیں اپنے ایکسپورٹر کو ٹیکس ربیٹ بھی دیتی ہیں، ون ونڈو آپریشن کی سہولیات بھی مہیا کرتی ہیں تاکہ ایکسپورٹر پھلے پھولے اور ملک میں زرمبادلہ آئے۔ یہاں ایکسپورٹر کو تُن کے رکھنے کا رواج رہا۔امپورٹرز ٹیکس بچانے کو انڈر انوائسنگ کے بے تاج بادشاہ بنے ہوئے ہیں۔والدین کو دو وقت کی روٹی کمانے، تعلیمی اخراجات اٹھانے، گھر بنانے سے فرصت نہیں۔
طبقاتی تقسیم انتہا درجے کی گہری ہے۔ امیر بے تحاشہ دولت جمع کر لیتا ہے۔ غربت انتہا کی غربت ہے۔ بارہ کروڑ لوگ خط غربت کے نیچے سانس لے رہے ہیں۔پاکستان میں نئی گاڑیوں کی کمی نہیں۔ ڈالا اور گن مین کلچر نارمل ہے۔مہنگائی کا رونا روتے روتے بڑے شہروں کا کوئی ریسٹورنٹ بھی شام کو خالی نہیں ملتا۔ ان سب محرکات نے مل ملا کر ایسا سماج تشکیل دیا جس میں تیزی سے پیسہ کمانے، اوپر آنے یا نامور ہونے کی میراتھن میں حصہ لینے کے سوا نوجوان نسل کے ہاں کوئی اور سوچ نہیں اُبھر رہی۔
دنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میں
جو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹا رہا ہوں میں