Serenity & Wellness

Serenity & Wellness we are here to provide complete solution for your mental troubles and try to heal your mind and soul.

ٹک ٹاک ہر سال کتنے ہی نوجوانوں کی کے لیے جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔آخر ٹک ٹاکروں میں ہی یاری دوستیاں اور پھر بات لڑائی جھگڑو...
03/06/2025

ٹک ٹاک ہر سال کتنے ہی نوجوانوں کی کے لیے جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔آخر ٹک ٹاکروں میں ہی یاری دوستیاں اور پھر بات لڑائی جھگڑوں اور جان لینے تک کیوں پہنچتی ہے۔آئے دن کوئی ٹک ٹاکر یا تو اپنی دوستیوں کے سبب قتل ہو رہا ہے یا پھر اس کی کوئی نازیبا ویڈیو لیک ہو رہی ہے۔ تو یہ ہے ہماری نئی نسل کا المیہ۔ راتوں رات شہرت کی ہوس۔ جسمانی نمائش سے دولت کا حصول۔ہر اوٹ پٹانگ کو نیو نارمل بنانے کی دُھن۔روز روز نت نئے کرتب دکھانے کا شوق۔ طوفانی محبتیں ۔ انتہائی نفرتیں۔انٹرنیٹ کھاتے ہیں، انٹرنیٹ پیتے ہیں، انٹرنیٹ جیتے ہیں۔

تعلیمی ادارے پولٹری شیڈ بنے ہوئے ہیں۔ ہر سال لاکھوں بیکار ڈگریاں بانٹی جاتی ہیں جن کی مارکیٹ میں کھپت نہ عالمی معیار کے مطابق۔
کاروبار میں بڑے سرمایہ دار آپس میں مل کر مناپلی بنا لیتے ہیں۔ بظاہر ایک دوسرے کے حریف لیکن پراڈکٹ پرائس کنٹرول کرنے میں ایک دوسرے کے حلیف ہیں۔ چھوٹا سرمایہ کار یا نیا بزنس سٹارٹ کرنے والا چند ماہ میں ڈوب جاتا ہے۔ مارکیٹ اسے سسٹم سے فلش کر دیتی ہے کیونکہ بڑے مگرمچھوں سے مقابلہ کرنے کو اس کے پاس استطاعت ہوتی ہے نہ مالی حیثیت۔

نیا بزنس ماڈل، نئی پراڈکٹ یا نیا ویژن یہاں نہیں پایا جاتا۔ سب بیرونی بزنس ماڈلز کی کاپیاں ہیں۔آئی بی اے اور لمز جیسے ادارے بھی بچوں کو آؤٹ آف باکس سوچنے پر مجبور کرنے سے قاصر ہو رہے ہیں۔کیا اوورسیز اور کیا پاکستان میں بستے لوگ سب کا ایک ہی بزنس رہا اور وہ تھا پراپرٹی خرید کر رکھ لینا، بیچ دینا یا کرایہ پر دے دینا۔ سارا کالا اور سفید پیسہ اسی سیکٹر میں لگ گیا۔ معیشت امپورٹ بیس رہی۔ مینوفیکچرنگ یونٹس میں سرمایہ کاری نہیں ہو سکی۔ اس کی وجہ یہ بھی کہ ریاستیں اپنے ایکسپورٹر کو ٹیکس ربیٹ بھی دیتی ہیں، ون ونڈو آپریشن کی سہولیات بھی مہیا کرتی ہیں تاکہ ایکسپورٹر پھلے پھولے اور ملک میں زرمبادلہ آئے۔ یہاں ایکسپورٹر کو تُن کے رکھنے کا رواج رہا۔امپورٹرز ٹیکس بچانے کو انڈر انوائسنگ کے بے تاج بادشاہ بنے ہوئے ہیں۔والدین کو دو وقت کی روٹی کمانے، تعلیمی اخراجات اٹھانے، گھر بنانے سے فرصت نہیں۔

طبقاتی تقسیم انتہا درجے کی گہری ہے۔ امیر بے تحاشہ دولت جمع کر لیتا ہے۔ غربت انتہا کی غربت ہے۔ بارہ کروڑ لوگ خط غربت کے نیچے سانس لے رہے ہیں۔پاکستان میں نئی گاڑیوں کی کمی نہیں۔ ڈالا اور گن مین کلچر نارمل ہے۔مہنگائی کا رونا روتے روتے بڑے شہروں کا کوئی ریسٹورنٹ بھی شام کو خالی نہیں ملتا۔ ان سب محرکات نے مل ملا کر ایسا سماج تشکیل دیا جس میں تیزی سے پیسہ کمانے، اوپر آنے یا نامور ہونے کی میراتھن میں حصہ لینے کے سوا نوجوان نسل کے ہاں کوئی اور سوچ نہیں اُبھر رہی۔

دنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میں
جو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹا رہا ہوں میں

03/06/2025

بہاولپور میں بھوک کے باعث معمر خاتون انتقال کر گئی، دوسری بہن ہسپتال منتقل، دونوں بہنیں کئی روز سے بھوکی پیاسی تھیں، اہل محلہ کے مطابق دونوں خواتین گھر میں اکیلی رہتی تھیں، کوئی کمانے والا نہیں تھا، بہنوں کا ایک بھائی بھی تھا جو کافی عرصےسے لاپتا ہے

https://www.siasat.pk/threads/924696

( رعایت اللہ فاروقی صاحب کی وال سے)عورت سے متعلق ہماری تحاریر میں آپ نے یہ جملہ بارہا نوٹ کیا ہوگا"عورت تہذیب کی خالق ہے...
03/06/2025

( رعایت اللہ فاروقی صاحب کی وال سے)
عورت سے متعلق ہماری تحاریر میں آپ نے
یہ جملہ بارہا نوٹ کیا ہوگا
"عورت تہذیب کی خالق ہے"
پوسٹ کی حد تک جتنی ممکن ہوتی ہے
اتنی وضاحت بھی اس کی ہم نے کر رکھی ہے
آج ہم آپ کو اس کا ایک عملی ثبوت دکھانے جا رہے ہیں
ایک جوان لڑکی جنگل پہنچتی ہے
جنگل سے ہی اجزائے ترکیبی مستعار لے کر
ایک ہٹ کھڑا کرتی ہے
اس ہٹ کی تعمیر میں وہ بازار کی
صرف کیلیں اور پلاسٹک شیٹ استعمال کرتی ہے
کیونکہ یہ دوچیزیں جنگل میں نہیں اگتیں
یہ ٹاسک وہ ڈیڑھ دن میں بالکل تن تنہا پورا کرتی ہے
اگر آپ سطحی نظر سے دیکھیں گے تو آپ کو
بس ایک ہٹ تعمیر ہوتا نظر آئے گا
لیکن اگر آپ دماغ کا استعمال کریں گے
تو آپ پر واضح ہوگا
کہ یہ ہٹ اس لڑکی کے ذہن میں موجود تھا
کسی نقشے پر نہیں
اس نے فیصلہ کیا کہ ذہن میں موجود اس ہٹ کو
اس نے حقیقت کی دنیا میں وجود دے کر
اپنی نظروں کے سامنے کھڑا کرنا ہے
یہ ہوتا ہے تصور سے حقیقت یا ذہنی سے وجودی تک کا سفر
پھر اہم ترین یہ کہ اگر آپ ہٹ کی تکمیل پر صرف یہ سوچنے پرقانع ہوگئے کہ ایک خوبصورت ہٹ تعمیر ہوگیا
تو پھر آپ نے کچھ نہیں سمجھا تعمیر کے بعد والے مرحلے میں آپ ذرا یہ تصور کیجئے
یہ لڑکی صرف معمار ہے
اگر اس کے ساتھ دیگر تخلیقی صلاحیتوں والی
دو چار لڑکیاں اور ہوتیں تو وہ اس جنگل کو کیا رنگ ڈھنگ دیتیں ؟
بات یہیں تک نہیں کہ عورت ایک فطری تخلیق کار ہے

بلکہ عورت بچے جن کر ان کو تربیت کے مراحل سے بھی خود گزارتی ہے
اور یہی ہے عورت کا تہذیب کا خالق ہونا
یہ اتنی غیر معمولی قدرت ہے جس کا احساس ماڈرن دور کی عورت سے چھین لیا گیا ہے اور اسے جسم کی نمائش کے دھندے میں الجھا دیا گیا ہے یوں عورت اب محض دو ٹکے کی نوکری کو اپنی اصل طاقت اور کامیابی تصور کرنے لگی ہے۔مرد امیجری میں ہی عورت کا مقابلہ نہیں کرسکتا
تو تعمیر میں کیا کرے گا ؟
یہ ہٹ اگر آپ مرد سے تعمیر کرواتے تو وہ کہتا
پہلے مجھے نقشہ لا کر دو اور ہاں ! دو تین ہیلپرز کا بھی انتظام کردو
جنہیں میں گالیا دے دے کر رگڑا دوں
عورت کے مقابلے میں مرد قدرت تخریب کی ہے
دنیا کی ہر تباہی اس کا کارنامہ ہے
اس سے آپ بس تباہی مچوا لو
سو اگر کوئی عورت یہ خواہش ظاہر کرتی ہے
کہ اس نے مرد کی برابری کرنی ہے
تو یہ وہ اپنے مقام سے نیچے آنے کی خواہش پالتی ہے
سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر مرد کو بالادستی کیوں حاصل ہے ؟
تو جانی وہ اس لئے حاصل ہے کہ "طاقت" اس کے پاس ہے
اور تحفظ طاقت کے دم پر ہی فراہم ہوتا ہے
کسی خطرے کی صورت میں عورت کو وہ محفوظ مقام پر منتقل کرکےاپنی جان داؤ پر لگاتا ہے
جو جان کی بازی لگائے گا وہ لیڈ تو کرے گا !

12/03/2025

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Serenity & Wellness posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category