Psychologist Afshan

Psychologist Afshan Assessment,Treatment &Management of Psychological disorders.

We provide counselling, psychotherapy, cognitive behavioural therapy and mindfulness.

ہم علاج کے لئےمشورے، نفسیاتی علاج، رویوں میں تبدیلی لانے والی تھراپی اور ذہنی علاج مہیا کرتے ہیں۔

24/04/2026

جس کے پاس جو ہوتا ہے اس نے وہی تقسیم کرنا ہوتا ہے اس لیے لوگوں کے رویوں کا کبھی شکوہ نہیں کرنا چاہیے ضروری نہیں سب کی جھولیاں پیار خلوص اپنائیت اور بے غرضی جیسے موتیوں سے بھری ہوئی ہوں. جہاں جو ملے سمجھ لیں وہاں دینے والے کے پاس دینے کیلیے اپنے ظرف کے مطابق
اس سے بہتر اور کچھ نہیں تھا .
ماہر نفسیات افشاں۔

22/04/2026
16/04/2026

ماہر نفسیات افشاں حمید
نفسیاتی مسائل کے حل کے لیےوٹس ایپ انباکس میں رابطہ کریں

0309 4117304

🌿 انزائٹی — خاموشی سے بڑھنے والا مسئلہ اکثر لوگوں کو یہ اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ انزائٹی کب اور کیسے شروع ہو جاتی ہے۔شروع ...
15/04/2026

🌿 انزائٹی — خاموشی سے بڑھنے والا مسئلہ

اکثر لوگوں کو یہ اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ انزائٹی کب اور کیسے شروع ہو جاتی ہے۔
شروع میں کیا ہوتا ہے؟
آپ کے ذہن میں ایک چھوٹی سی فکر آتی ہے…
لیکن آپ اسے بار بار سوچتے ہیں —
اور آہستہ آہستہ وہ فکر حقیقت سے زیادہ بڑی محسوس ہونے لگتی ہے۔

⚠️ انزائٹی کے بڑھنے کے مراحل:
1️⃣ غیر حقیقت پسندانہ سوچ
“اگر ایسا ہو گیا تو؟”
“کہیں یہ غلط نہ ہو جائے…”

2️⃣ ضرورت سے زیادہ سوچنا
ایک ہی بات بار بار ذہن میں چلتی رہتی ہے

3️⃣ جذباتی بے چینی
دل گھبرانا، بے سکونی، چڑچڑاپن

4️⃣ جسمانی علامات
دل کی دھڑکن تیز ہونا، سانس میں مشکل، پسینہ آنا

🧠 حل — دو بنیادی طریقے

✅ 1. خود کو موجودہ لمحے میں رکھنا (مائنڈفلنیس)
جب آپ کا ذہن مستقبل میں بھاگے، تو اسے واپس لائیں:
🔹 سانس کی مشق
4 سیکنڈ سانس لیں — 4 سیکنڈ روکیں — 6 سیکنڈ میں چھوڑیں
🔹 گراؤنڈنگ ٹیکنیک (5-4-3-2-1)
5 چیزیں دیکھیں
4 چیزیں چھوئیں
3 آوازیں سنیں
2 چیزیں سونگھیں
1 چیز کا ذائقہ محسوس کریں

✅ 2. اپنے خیالات کو چیلنج کرنا (سی بی ٹی تکنیک)
✍️ پہلا مرحلہ: اپنی فکر لکھیں
“میں ناکام ہو جاؤں گا”
🔍 دوسرا مرحلہ: ثبوت دیکھیں
کیا واقعی ہمیشہ ایسا ہوا ہے؟
⚖️ تیسرا مرحلہ: متوازن سوچ بنائیں
“میں نے پہلے بھی مشکلات کا سامنا کیا ہے، اس بار بھی کر سکتا ہوں”

📚 تحقیق کیا کہتی ہے؟
✔️ سی بی ٹی انزائٹی کے علاج میں سب سے مؤثر طریقوں میں سے ایک ہے
✔️ یہ طریقہ خیالات اور جذبات کو بہتر انداز میں کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہے
✔️ مائنڈفلنیس تکنیکس ذہنی دباؤ اور بے چینی کو کم کرنے میں مؤثر ثابت ہوتی ہیں

💬 آخری بات:

انزائٹی ایک دم سے نہیں آتی…
یہ آہستہ آہستہ بڑھتی ہے —
اور اگر آپ اسے شروع میں ہی پہچان لیں، تو اسے کنٹرول کرنا آسان ہو جاتا ہے۔

کسی انسان میں خوبی دیکھو تو اسے بیان کرو، لیکن اگر خامی دیکھو تو وہاں تمھاری خوبی کا امتحان ہے!
15/04/2026

کسی انسان میں خوبی دیکھو تو اسے بیان کرو، لیکن اگر خامی دیکھو تو وہاں تمھاری خوبی کا امتحان ہے!

آزادی تو یہ ہے کہ رات کو سوتے وقت آخری خیال کسی شخص کا نہ ہو۔ آدھی رات کو آنکھ کھلے تو تمہارا ہاتھ پانی کے گلاس کی طرف ب...
14/04/2026

آزادی تو یہ ہے کہ رات کو سوتے وقت آخری خیال کسی شخص کا نہ ہو۔ آدھی رات کو آنکھ کھلے تو تمہارا ہاتھ پانی کے گلاس کی طرف بڑھے نہ کہ دھڑکتے دل پر۔

02/04/2026

اگر آپ اپنے وزن سے مطمئن نہیں ہو اور اس کی وجہ سے پریشانی محسوس کرتے ہو، لیکن آپ اپنی خوراک نہیں بدلتے اور نہ ہی جسمانی حرکت کرتے ہو، تو آپ ویسا ہی رہنے کا انتخاب کر رہے ہو، چاہے آپ روزانہ اس کا شکوہ ہی کیوں نہ کرو، اگر آپ کسی ایسے تعلق میں ہو جو آپ کو نفسیاتی طور پر تباہ کر رہا ہے اور آپ کو بے چینی و بوجھن کا احساس دلاتا ہے، لیکن آپ نہ تو کوئی حد مقرر کرتے ہو اور نہ ہی وہاں سے ہٹتے ہو، تو آپ تکلیف کا انتخاب کر رہے ہو، چاہے آپ کتنی ہی شدت سے تڑپ کیوں نہ رہے ہو تبدیلی ہمت مانگتی ہے، جو ہم کر نہیں پاتے.

02/04/2026

Online Psychological Consultation Available
I am a qualified psychologist offering confidential, one-on-one online therapy sessions for individuals seeking professional support with:

• Anxiety and stress management
• Postpartum emotional challenges
• Depression and mood concerns
• Self-esteem and personal development

My approach is evidence-based, client-centered, and strictly confidential, providing a safe and supportive environment to help you work through your concerns effectively.

Online sessions available
Flexible appointment scheduling

For inquiries or to schedule a session, please send a direct message.

02/04/2026

کیا آپ کو وسواس کے خیالات حقیقت لگتے ہیں؟

وسواس (OCD) ایک ایسی کیفیت ہے جو انسان کو بار بار ڈراتی ہے اور جھوٹے خیالات کو سچ بنا کر پیش کرتی ہے۔

یہ خیالات اکثر کہتے ہیں کہ اگر ایسا نہ کیا تو کچھ برا ہو جائے گا مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔

یاد رکھیں:
ہر سوچ حقیقت نہیں ہوتی
ہر خیال پر یقین کرنا ضروری نہیں

وسواس کا اصل مسئلہ یہی ہے کہ یہ ہمیں اپنے ہی دماغ سے ڈرنے لگاتا ہے۔

لیکن سچ یہ ہے کہ یہ صرف خیالات ہیں، حقیقت نہیں

02/04/2026

جب امیگڈالا (Amygdala) زیادہ متحرک ہو جائے اور پری فرنٹل کارٹیکس (Prefrontal Cortex) کمزور ہو جائے تو نفسیاتی مسائل پیدا ہوتے ہیں

انسانی دماغ میں دو اہم حصے جذباتی توازن برقرار رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں: امیگڈالا اور پری فرنٹل کارٹیکس۔

امیگڈالا دماغ کا خطرہ پہچاننے والا نظام ہے۔ اس کا کام ہمیں ممکنہ خطرے سے آگاہ کرنا اور فوری ردِعمل پیدا کرنا ہے۔ جب کوئی خطرہ محسوس ہوتا ہے تو امیگڈالا جسم کو الرٹ کر دیتا ہے، دل کی دھڑکن بڑھ جاتی ہے، جسم میں تناؤ آ جاتا ہے اور ذہن survival mode میں چلا جاتا ہے۔ یہ نظام اصل خطرے میں فائدہ مند ہے، لیکن نفسیاتی مسائل میں یہی نظام ضرورت سے زیادہ متحرک ہو جاتا ہے۔ پھر انسان معمولی حالات کو بھی خطرہ سمجھنے لگتا ہے۔

اس کے برعکس پری فرنٹل کارٹیکس دماغ کا وہ حصہ ہے جو سوچنے، فیصلہ کرنے، جذبات کو کنٹرول کرنے اور حالات کو منطقی انداز میں دیکھنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ حصہ امیگڈالا کو regulate کرتا ہے اور دماغ کو بتاتا ہے کہ صورتحال واقعی خطرناک ہے یا نہیں۔

نارمل حالت میں دونوں کے درمیان توازن ہوتا ہے۔ لیکن جب انسان طویل عرصے تک stress، trauma یا anxiety میں رہتا ہے تو امیگڈالا زیادہ طاقتور ہو جاتا ہے اور پری فرنٹل کارٹیکس کی کنٹرول کرنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔ نتیجتاً جذبات منطق پر حاوی ہو جاتے ہیں۔

یہ عدم توازن ان علامات کی صورت میں ظاہر ہو سکتا ہے: • ضرورت سے زیادہ بے چینی
• چھوٹی باتوں پر شدید ردِعمل
• خود کو پرسکون کرنے میں مشکل
• اوورتھنکنگ
• ہر چیز کو خطرہ محسوس کرنا
• فیصلہ سازی میں مشکل

اچھی خبر یہ ہے کہ دماغ لچکدار ہوتا ہے اور اسے دوبارہ متوازن کیا جا سکتا ہے۔ سائیکوتھراپی اس عمل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ تھراپی کے ذریعے فرد سیکھتا ہے: • خودکار خوف کے ردِعمل کو پہچاننا
• حالات کو حقیقت پسندانہ انداز میں دیکھنا
• جذبات کو regulate کرنا
• فوری ردِعمل کے بجائے سوچ کر جواب دینا
• ذہنی برداشت کو بڑھانا

جب یہ مہارتیں بڑھتی ہیں تو پری فرنٹل کارٹیکس مضبوط ہوتا ہے اور امیگڈالا کی overactivity کم ہونے لگتی ہے۔ نتیجتاً انسان زیادہ پرسکون، واضح اور متوازن محسوس کرتا ہے۔

سادہ الفاظ میں:
جب امیگڈالا غالب ہو تو انسان react کرتا ہے۔
جب پری فرنٹل کارٹیکس مضبوط ہو تو انسان respond کرتا ہے۔

اصل نفسیاتی بہتری اسی وقت آتی ہے جب دماغ کے ان دونوں نظاموں کے درمیان توازن بحال ہو جائے۔

02/04/2026

اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر بچہ زیادہ بولتا ہے تو وہ صرف شرارتی ہے یا اس میں ضرورت سے زیادہ توانائی ہے۔

لیکن نفسیاتی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ رویہ اکثر کسی گہرے جذباتی پہلو کی طرف اشارہ کرتا ہے یعنی جذباتی تحفظ.

جب بچہ بغیر جھجھک اپنی آواز بلند کرتا ہے، سوال پوچھتا ہے، یا خود کو کھل کر ظاہر کرتا ہے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ وہ اپنے ماحول میں خود کو محفوظ محسوس کر رہا ہے۔ اسے یہ خوف نہیں ہوتا کہ اسے ڈانٹا جائے گا، مسترد کیا جائے گا یا اس کا مذاق بنایا جائے گا۔ یہی احساس اسے اپنی اصل شخصیت کے ساتھ رہنے کی اجازت دیتا ہے۔

نفسیاتی طور پر اس کے پیچھے ایک بنیادی میکانزم کام کرتا ہے۔ جب بچے کو گھر یا اسکول میں قبولیت اور مثبت ردِعمل ملتا ہے تو اس کا دماغ سیفٹی سگنلز کو مضبوط کرتا ہے۔ اس سے اس کا نروس سسٹم ریلیکس حالت میں رہتا ہے اور وہ social engagement mode میں آ جاتا ہے۔ اس حالت میں بچہ زیادہ expressive ہوتا ہے، سوال پوچھتا ہے، اور اپنی تخلیقی صلاحیتیں ظاہر کرتا ہے۔

ماحول بچے کی self-confidence، creativity اور emotional development کو بہتر بناتا ہے۔ ایسے بچے بڑے ہو کر اپنی بات واضح انداز میں کہنے، فیصلے کرنے اور سماجی تعلقات بنانے میں زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔

اس کے برعکس اگر بچہ بار بار تنقید، ڈانٹ یا شرمندگی کا تجربہ کرے تو وہ آہستہ آہستہ خود کو محدود کرنا شروع کر دیتا ہے۔ وہ کم بولتا ہے، اپنے خیالات چھپاتا ہے.

ماہر نفسیات افشاں۔
0309 4117304
اپائنٹمنٹ کیلئے رابطہ کریں

Address

Lahore

Telephone

+923094117304

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Psychologist Afshan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Psychologist Afshan:

Share