Prof. Dr. Syed Asadullah Arslan Gilani

Prof. Dr. Syed Asadullah Arslan Gilani Prof.

Dr. Syed Asadullah Arslan Gilani
Professor, Superior University Lahore
Former Dean, Faculty of Rehabilitation Sciences, LMDC
Former HOD, University of Health Sciences, Lahore
Former HOD, UIPT, University of Lahore

14/01/2026

جب بڑی طاقتیں ٹکراتی ہیں، قیمت ہمیشہ چھوٹے ممالک ادا کرتے ہیں۔

14/01/2026

“امریکہ نواز ایران” ایک سیاسی خواب ہے، زمینی حقیقت نہیں۔

کامیاب زندگی کا اسلامی ماڈل: مثالی مسلمان شخصیتکیا آج کے دور میں ایک مثالی مسلمان ہونا ممکن ہے؟جب دنیا صرف کامیابی کو مق...
13/01/2026

کامیاب زندگی کا اسلامی ماڈل: مثالی مسلمان شخصیت
کیا آج کے دور میں ایک مثالی مسلمان ہونا ممکن ہے؟
جب دنیا صرف کامیابی کو مقصد سمجھتی ہو، اسلام ہمیں کردار، خدمت اور توازن سکھاتا ہے۔انسان کی شخصیت اس کی سوچ، عمل اور کردار سے بنتی ہے، اور ایک مضبوط اور متوازن شخصیت زندگی میں کامیابی کی بنیاد ہوتی ہے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ زندگی فراہم کرتا ہے، جس میں اخلاق، علم، عمل اور روحانیت کا توازن موجود ہے۔ ایک مثالی مسلمان شخصیت وہ ہوتی ہے جو نہ صرف اپنے آپ میں مضبوط اور ذمہ دار ہو بلکہ دوسروں کے لیے بھی فائدہ مند اور مثال قائم کرنے والا ہو۔
مثالی مسلمان کی سب سے بڑی خوبی اس کا ایمان اور اخلاق ہے۔ وہ سچ بولتا ہے، وعدے پورے کرتا ہے اور انصاف کے اصولوں پر عمل کرتا ہے۔ اس کی زندگی میں دوسروں کے حقوق کا خیال ہمیشہ رہتا ہے اور وہ کسی بھی موقع پر ظلم یا زیادتی کو برداشت نہیں کرتا۔ اس کے اعمال اس کے اخلاق کی عکاسی کرتے ہیں، اور لوگ اس کی شخصیت سے متاثر ہوتے ہیں۔
ایک مثالی مسلمان شخصیت میں علم اور عقل کا امتزاج بھی ضروری ہے۔ وہ نہ صرف دینی تعلیمات سے واقف ہوتا ہے بلکہ دنیاوی علم سے بھی آگاہ ہوتا ہے۔ وہ فیصلہ کرتے وقت صرف جذبات یا رائے کی بنیاد پر نہیں بلکہ علم اور تجربے کی روشنی میں عمل کرتا ہے۔ یہی علم اسے صحیح اور غلط میں تمیز سکھاتا ہے اور معاشرے میں رہنمائی کرنے کے قابل بناتا ہے۔
عمل بھی مثالی مسلمان شخصیت کا لازمی جزو ہے۔ وہ اپنی محنت اور کوشش سے زندگی میں آگے بڑھتا ہے اور دوسروں کے لیے مددگار بنتا ہے۔ وہ کسی کام کو چھوڑنے یا چھوٹے راستے اختیار کرنے کے بجائے صبر اور استقامت کے ساتھ مشکلات کا سامنا کرتا ہے۔ یہی مستقل مزاجی اور ہمت اسے مضبوط اور بااعتماد بناتی ہے۔
روحانیت اور خدا سے تعلق بھی ایک مثالی مسلمان کے کردار میں نمایاں ہوتا ہے۔ وہ اپنی عبادات اور ذاتی تعلق کے ذریعے اپنے دل و دماغ کو صاف اور پرامن رکھتا ہے۔ یہ روحانی طاقت اسے زندگی کے نشیب و فراز میں حوصلہ اور سکون فراہم کرتی ہے اور اسے دوسروں کے ساتھ محبت اور ہمدردی کے رویے اپنانے کی تربیت دیتی ہے۔
مزید برآں، ایک مثالی مسلمان شخصیت سماجی ذمہ داری کا حامل بھی ہوتا ہے۔ وہ اپنے خاندان، دوستوں اور معاشرے کے لیے مثبت مثال قائم کرتا ہے۔ وہ اپنی طاقت اور علم کو دوسروں کی خدمت میں استعمال کرتا ہے اور معاشرتی بہتری کے لیے کام کرتا ہے۔ ایک ایسا انسان معاشرے میں امن، اتحاد اور ترقی کی راہ ہموار کرتا ہے۔
آج کے دور میں، جب دنیا میں اخلاقی قدریں کمزور ہو رہی ہیں اور لوگ صرف اپنی فلاح و ترقی پر توجہ دے رہے ہیں، ایک مثالی مسلمان شخصیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زندگی کا مقصد صرف اپنی خوشی نہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی فائدہ مند ہونا ہے۔ حقیقی کامیابی اور مقام وہی حاصل کرتا ہے جو ایمان، اخلاق، علم، محنت اور خدمت کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے۔
آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ مثالی مسلمان شخصیت ایک مکمل اور متوازن انسان کی تصویر ہے۔ وہ ایمان، اخلاق، علم، محنت، صبر، روحانیت اور خدمت سب کو اپنی زندگی میں ایک ساتھ لے کر چلتا ہے۔ ایسی شخصیت نہ صرف اپنے آپ کے لیے باعث فلاح ہے بلکہ معاشرے اور قوم کے لیے بھی مشعل راہ بنتی ہے۔ اگر ہم واقعی اپنی زندگی اور معاشرے کو بہتر بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں اسی قسم کی شخصیت کو اپنا نصابِ عمل بنانا ہوگا۔


#اخلاق
#کردار
#روحانیت





11/01/2026
طلبہ کی ذہنی صحت: یونیورسٹی کا بوجھ یا ہماری اجتماعی ذمہ داری؟ایک طالب علم کی خاموش چیخ ہماری اجتماعی ذمہ داری کی عکاس ہ...
11/01/2026

طلبہ کی ذہنی صحت: یونیورسٹی کا بوجھ یا ہماری اجتماعی ذمہ داری؟
ایک طالب علم کی خاموش چیخ ہماری اجتماعی ذمہ داری کی عکاس ہے۔پاکستانی جامعات میں حالیہ افسوسناک واقعات نے طلبہ کی ذہنی صحت کی اہمیت کو ایک بار پھر قومی سطح پر اجاگر کیا ہے ۔ ایسے سانحات کے بعد فطری طور پر عوامی ردعمل کسی ایک ادارے یا انتظامیہ کو ذمہ دار ٹھہرانے کی طرف مائل ہو جاتا ہے، مگر یہ طرزِ فکر نہ تو مسئلے کی جڑ تک پہنچتا ہے اور نہ ہی دیرپا حل کی بنیاد رکھتا ہے۔ یونیورسٹیاں کسی خلا میں قائم نہیں ہوتیں؛ وہ خاندان، ثقافت، ریاستی پالیسیوں اور اخلاقی اقدار کے اندر کام کرتی ہیں۔ اس لیے طلبہ کی نفسیاتی پریشانی محض تعلیمی مسئلہ نہیں بلکہ ایک نظامی اور اخلاقی مسئلہ بھی ہو سکتا ہے۔
جامعات انسانی ترقی، پیشہ ورانہ مہارت اور معاشرتی فلاح کے اہم ترین ستون ہوتی ہیں۔ قدیم مدارس، یونانی درسگاہوں سے لے کر جدید تحقیقی جامعات تک، اعلیٰ تعلیم نے ہمیشہ علم، اخلاقی شعور اور سماجی ترقی میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ دنیا بھر کی تحقیق اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ یونیورسٹی کی تعلیم روزگار کے بہتر مواقع، صحت مند زندگی، شہری شعور اور معاشرتی شمولیت کو فروغ دیتی ہے۔ جامعات طلبہ کو صرف ڈگریاں نہیں دیتیں بلکہ انہیں سوچنے، سوال اٹھانے، اخلاقی فیصلے کرنے اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہیں۔ جب نفسیاتی بحران یونیورسٹی میں ظاہر ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ یونیورسٹی مسئلہ پیدا کرتی ہے بلکہ یہ وہ جگہ ہے جہاں طلبہ کے ساتھ گذشتہ برسوں کے دباؤ اور غیر حل شدہ جذبات سامنے آتے ہیں۔
طلبہ میں ذہنی دباؤ ایک عالمی مسئلہ ہے۔ امریکہ، یورپ، ایشیا اور مسلم دنیا کی جامعات اس چیلنج سے دوچار ہیں۔ تحقیق بتاتی ہے کہ اس کی بنیادی وجوہات برسوں پر محیط سماجی، خاندانی اور معاشی دباؤ ہوتے ہیں، نہ کہ صرف یونیورسٹی کا ماحول۔ اکثر طلبہ یونیورسٹی میں داخل ہوتے وقت پہلے ہی امتحان زدہ نظام، خاندان کی غیر حقیقی توقعات، ناکامی کا خوف اور معاشی غیر یقینی صورتحال اپنے ساتھ لائے ہوتے ہیں۔ یونیورسٹی وہ جگہ ہوتی ہے جہاں یہ تمام دباؤ ایک ساتھ ظاہر ہو جاتے ہیں۔
یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ بعض جامعات میں انتظامی رویے طلبہ کی مشکلات میں اضافہ کرتے ہیں۔ دنیا بھر میں ایسے تعلیمی ادارے موجود ہیں جہاں انتظامیہ تعلیم اور انسانی فلاح کے بجائے مارکیٹنگ، ریٹنگز اور منافع کو ترجیح دیتی ہے۔ جب تعلیمی قیادت میں نفسیاتی فہم اور تعلیمی بصیرت کی کمی ہو تو طلبہ کے مسائل کو ہمدردی کے بجائے سخت قوانین اور تحقیر کے ذریعے نمٹایا جاتا ہے۔ مگر ان کمزوریوں کا مطلب یہ نہیں کہ یونیورسٹی خود قصور وار ہے یا نقصان دہ ہے۔ اصل مسئلہ انتظامی اہلیت اور ادارہ جاتی مقصد کے درمیان عدم توازن ہے، جس کا حل اصلاحات میں ہے، الزام تراشی میں نہیں۔
خاندان اور ثقافت بھی اس معاملے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ اکثر بچوں کو اس طرح پروان چڑھایا جاتا ہے کہ محبت اور عزت کو کامیابی سے مشروط کر دیا جاتا ہے۔ جذبات کے اظہار کو کمزوری سمجھا جاتا ہے اور ناکامی کو ذاتی ناکامی یا اخلاقی جرم بنا دیا جاتا ہے۔ ثقافتی سطح پر ذہنی صحت کو آج بھی شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور نفسیاتی مدد حاصل کرنا کمزوری یا ایمان کی کمی سمجھا جاتا ہے، جس کے باعث طلبہ طویل عرصے تک خاموشی میں مبتلا رہتے ہیں۔ جب کوئی سانحہ پیش آتا ہے تو ہم اداروں کو موردِ الزام ٹھہرا کر اپنی اجتماعی ذمہ داری سے فرار اختیار کر لیتے ہیں۔
ریاست کی ذمہ داری بھی کم اہم نہیں۔ کوئی بھی یونیورسٹی کمزور قومی ذہنی صحت کے نظام کا متبادل نہیں بن سکتی۔ جن ممالک میں طلبہ کی ذہنی صحت بہتر ہوئی ہے وہاں ریاست نے جامع ذہنی صحت پالیسیاں، کونسلنگ اور کرائسز سسٹمز، ماہر نفسیات تک آسان رسائی اور تعلیمی نظام میں ذہنی صحت کے انضمام کو یقینی بنایا ہوتا ہے۔ پاکستان میں ان سہولیات کی کمی جامعات کو شدید دباؤ میں رکھتی ہے اور ریاستی معاونت کے بغیر اداروں سے غیر معمولی توقعات رکھنا حقیقت پسندانہ نہیں۔
اسلامی تعلیمات میں انسانی جان کا تحفظ اعلیٰ ترین مقاصد میں شامل ہے۔ رحم، عدل اور انسانی وقار کو اسلام میں بہت اہمیت دی جاتی ہے ۔ نبی کریم ﷺ کا طرزِ عمل ہمیں سکھاتا ہے کہ ذہنی اور جذباتی تکلیف کو نظر انداز نہیں کیا جاتا بلکہ ہمدردی اور فہم کے ساتھ نمٹا جاتا ہے۔ اس تناظر میں طلبہ کی ذہنی صحت کا خیال رکھنا کوئی مغربی تصور نہیں بلکہ اسلامی اخلاقیات کا تقاضا ہے۔
فلسفیانہ نقطہ نظر سے بھی تعلیم کو محض معاشی پیداوار تک محدود کرنا انسانی وقار کے منافی ہے۔ تعلیم کا مقصد فکری، اخلاقی اور جذباتی لحاظ سے ایک انسان کی تکمیل ہے ۔ جب طلبہ کو صرف ڈگری حاصل کرنے والی مشینوں میں بدل دیا جائے تو نفسیاتی بحران ناگزیر ہو جاتا ہے۔ انسانی فلاح کو تعلیمی نظام کے مرکز میں لانا کوئی رومانوی خیال نہیں بلکہ ایک ضرورت ہے۔
جامعات کو دفاعی رویہ اختیار کرنے کے بجائے خود احتسابی اور اصلاح کی راہ اپنانی چاہیے۔ موثر کونسلنگ، اساتذہ کی تربیت، انسانی تعلیمی پالیسیاں اور مکالمے پر مبنی ماحول اس سمت میں اہم اقدامات ہیں۔ مگر یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب خاندان، سماج اور ریاست بھی اپنی ذمہ داری قبول کریں۔ یونیورسٹیاں اکیلے یہ بوجھ نہیں اٹھا سکتیں۔
جب کوئی طالب علم اپنی جان گنواتا ہے تو یہ ایک فرد یا ایک ادارے کی ناکامی نہیں بلکہ ہم سب کی اجتماعی ناکامی ہوتی ہے۔ الزام تراشی وقتی سکون تو دے سکتی ہے مگر اصلاح کی راہ نہیں دکھاتی۔ جامعات طلبہ اور معاشرے کے مستقبل کے لیے ناگزیر ہیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ یونیورسٹیاں اہم ہیں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا ہم بطور معاشرہ نوجوان ذہنوں کے لیے وہ ہمدردی، پالیسیاں اور اخلاقی سنجیدگی فراہم کرنے کو تیار ہیں جن کے وہ حق دار ہیں؟ اگر مشترکہ ذمہ داری قبول نہ کی گئی تو کوئی ادارہ اکیلا جانوں کی حفاظت نہیں کر سکتا۔ لیکن اگر ہم سب اپنا کردار ادا کریں تو یونیورسٹیاں اپنا اصل مقصد پورا کر سکتی ہیں۔


• #جامعات



عقل اور روحانیت ساتھ چلیں تو انسان کہاں پہنچتا ہے؟ہم میں سے زیادہ تر لوگ یا تو حد سے زیادہ عقل پر چلتے ہیں یا آنکھیں بند...
10/01/2026

عقل اور روحانیت ساتھ چلیں تو انسان کہاں پہنچتا ہے؟
ہم میں سے زیادہ تر لوگ یا تو حد سے زیادہ عقل پر چلتے ہیں یا آنکھیں بند کر کے روایت کے مطابق چلتے ہیں مگر اصل راستہ کہاں ہے؟
کیا صرف عقل انسان کو کامیاب بنا سکتی ہے؟ یا روحانیت کے بغیر سب ادھورا ہے؟
انسان کے لیے زندگی کا سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ کیسے اپنے علم، سوچ اور عقل کو استعمال کرے اور ساتھ ہی روحانی بصیرت اور اخلاقی رہنمائی کو بھی سمجھے۔ دنیا میں بہت سے لوگ صرف عقل پر انحصار کرتے ہیں، صرف حقائق اور تجربات کو دیکھ کر فیصلے کرتے ہیں، اور روحانیت یا اخلاقی اصولوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ دوسرے لوگ صرف مذہبی نصوص یا روایت پر یقین رکھتے ہیں اور عقل یا تجربے کو اہمیت نہیں دیتے۔ دونوں رویے اپنی جگہ خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس لیے انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ عقل اور روحانیت کے درمیان توازن قائم کرے۔
عقل انسان کو سوچنے، سمجھنے، سوال کرنے اور مسائل کا حل تلاش کرنے کی طاقت دیتی ہے۔ یہ اسے دنیاوی حقیقتوں سے روشناس کراتی ہے اور زندگی کے عملی پہلوؤں میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ بغیر عقل کے انسان دھوکہ، خوف اور الجھن میں رہ سکتا ہے۔ تاہم صرف عقل پر انحصار کرنے والا انسان اکثر اخلاقی رہنمائی اور روحانی سمت کھو دیتا ہے، اور اپنی زندگی کے مقصد سے دور ہو سکتا ہے۔
روحانی رہنمائی انسان کو اخلاق، مقصد اور اعلیٰ اصولوں کی پہچان سکھاتی ہے۔ یہ انسان کو سچائی، انصاف، محبت اور قربانی کی راہ دکھاتی ہے۔ اگر انسان صرف نصوص پر عمل کرے مگر عقل کا استعمال نہ کرے، تو وہ محدود فہم، جہالت یا غیر منطقی رویے اختیار کر سکتا ہے۔ اسی لیے عقل اور روحانیت کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑنا ضروری ہے۔
زندگی میں توازن کے لیے یہ ضروری ہے کہ عقل کو فیصلہ سازی اور تنقیدی سوچ کے لیے استعمال کیا جائے اور روحانیت کو اخلاقی رہنمائی کے لیے۔ مثال کے طور پر، ہم اپنے کاروبار یا کام میں عقل سے منصوبہ بندی کرتے ہیں، مگر فیصلوں میں ایمانداری، انصاف اور انسانیت کے اصولوں کو روحانی بصیرت سے پرکھتے ہیں۔ اسی طرح تعلیم حاصل کرتے ہوئے تحقیق اور تجربے کی طاقت کو استعمال کریں، مگر سچائی اور ذمہ داری کے اصولوں کو نظر انداز نہ کریں۔
تاریخ میں ایسے بہت سے انسان اور قومیں ہیں جنہوں نے عقل اور روحانی اصولوں کو ساتھ استعمال کیا اور ترقی کی راہ پر گامزن ہوئیں۔ جو قومیں صرف عقل یا صرف روایت پر یقین رکھتی ہیں، وہ یا تو مادیت کی غلامی میں آ جاتی ہیں یا جمود کا شکار ہو جاتی ہیں۔ اس لیے توازن ہی انسان اور معاشرے کی کامیابی کی کلید ہے۔
آج کے دور میں یہ توازن پہلے سے زیادہ اہم ہے، کیونکہ سائنس، ٹیکنالوجی اور معلومات کی دنیا نے عقل کی طاقت کو بڑھا دیا ہے، لیکن روحانی اور اخلاقی رہنمائی کے بغیر انسان مایوسی، تضاد اور فکری الجھن کا شکار ہو سکتا ہے۔ اگر ہم عقل اور روحانیت کو ساتھ ساتھ استعمال کریں تو نہ صرف ہم بہتر فیصلے کر سکتے ہیں بلکہ اپنی زندگی اور معاشرے کو مثبت سمت دے سکتے ہیں۔
آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ عقل اور روحانیت کے درمیان توازن انسان کو مضبوط، با شعور اور بامقصد زندگی گزارنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ یہ توازن انسان کو نہ صرف دنیاوی کامیابی دلاتا ہے بلکہ اس کے اخلاقی اور روحانی معیار کو بھی بلند کرتا ہے۔ جو شخص عقل اور روحانیت کے درمیان اس توازن کو برقرار رکھتا ہے، وہ نہ صرف اپنی زندگی بلکہ اپنے معاشرے کے لیے بھی روشنی کا سبب بنتا ہے۔









احساس کمتری ناکامی کی اصل وجہ ہوتی ہے کیا آپ جانتے ہیں کہ اکثر لوگ ناکام اس لیے نہیں ہوتے کہ وہ کمزور ہیں، بلکہ اس لیے ک...
09/01/2026

احساس کمتری ناکامی کی اصل وجہ ہوتی ہے
کیا آپ جانتے ہیں کہ اکثر لوگ ناکام اس لیے نہیں ہوتے کہ وہ کمزور ہیں، بلکہ اس لیے کہ وہ خود کو کمزور سمجھتے ہیں؟ سب سے خطرناک دشمن کوئی اور نہیں، بلکہ وہ سوچ ہے جو ہمیں احساس کمتری میں مبتلا کرتی ہے۔
انسان کی زندگی میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ وہ اپنی ذات کو کس طرح سے دیکھتا ہے۔ بعض لوگ اپنے آپ کو چھوٹا، کمزور یا غیر اہم سمجھ کر زندگی گزار دیتے ہیں، اور اسی سوچ کی وجہ سے اپنے خواب، صلاحیتیں اور مواقع ضائع کر دیتے ہیں۔ خودی کا فنا اسی کو کہا جاتا ہے ۔ اس کے برعکس، کچھ لوگ اپنے آپ کو پہچانتے ہیں، اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھتے ہیں اور اپنی زندگی کے ہر لمحے کو مقصد کے ساتھ جیتے ہیں، جسے خودی کی تصدیق یا خود کی مضبوطی کہا جا سکتا ہے ۔
خودی کا فنا انسان کو اندر سے کمزور اور خوف زدہ بنا دیتا ہے۔ وہ دوسروں کی تقلید کرتا ہے، فیصلے کرنے سے ڈرتا ہے، اور اکثر حالات کو موردِ الزام ٹھہراتا ہے۔ ایسی سوچ انسان کو اپنے خوابوں سے دور کر دیتی ہے اور اس کے اندر چھپی صلاحیتیں کبھی ظاہر نہیں ہو پاتیں۔ یہ وہ رویہ ہے جو مایوسی اور ناکامی کی طرف لے جاتا ہے۔ زندگی میں کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ انسان خودی کو مٹانے کی بجائے اسے پہچانے اور مضبوط کرے۔
دوسری طرف، خودی کی تصدیق انسان کو اعتماد، حوصلہ اور عمل کی طاقت دیتی ہے۔ جب انسان اپنی خوبیوں اور خامیوں دونوں کو پہچانتا ہے، تو وہ اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے قابل ہوتا ہے۔ محنت، صبر، مستقل مزاجی اور اخلاقی اصولوں پر قائم رہنا خودی کی تصدیق کے اہم اشارے ہیں۔ ایسے لوگ مشکلات کا سامنا ڈٹ کر کرتے ہیں، اپنے فیصلوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں اور دوسروں کے لیے بھی مثبت مثال بنتے ہیں۔
یہ تصور صرف فلسفیانہ بحث نہیں بلکہ عملی زندگی سے بھی جڑا ہوا ہے۔ تاریخ میں ہر کامیاب انسان یا معاشرہ وہی رہا ہے جس نے خودی کی تصدیق کی، نہ کہ جو اپنی صلاحیتوں کو کم تر سمجھ کر حالات کے ہاتھوں خود کو شکست خوردہ بنایا۔ ہر کامیاب شخص نے اپنے اندرونی اعتماد اور خود اعتمادی کو بڑھایا اور پھر دنیا میں اپنی قابلیت کا مظاہرہ کیا۔
روزمرہ زندگی میں بھی یہی حقیقت دہرائی جاتی ہے۔ جو طالب علم اپنی صلاحیتوں پر یقین نہیں کرتا، وہ امتحان میں کم نمبر حاصل کرتا ہے، جبکہ جو اپنی محنت اور قابلیت پر اعتماد رکھتا ہے، وہ بہترین کارکردگی دکھاتا ہے۔ جو ملازم خود کو دوسروں سے کمتر سمجھتا ہے، وہ ترقی سے محروم رہتا ہے، جبکہ جو اپنے کام اور خود پر یقین رکھتا ہے، وہ مسلسل ترقی کرتا ہے۔ یہ چھوٹی مثالیں ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ خودی کی تصدیق ہی زندگی کی کامیابی کی کنجی ہے۔
آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ انسان کی ترقی اور خوشحالی اس بات پر منحصر ہے کہ وہ اپنے آپ کو کس نظر سے دیکھتا ہے۔ خود کو مٹانے یا خوفزدہ کرنے والے ہمیشہ پیچھے رہ جاتے ہیں، جبکہ جو اپنی قدر پہچانتے ہیں، اپنی ذمہ داری قبول کرتے ہیں اور مسلسل سیکھتے ہیں، وہ نہ صرف اپنی زندگی بہتر بناتے ہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی روشنی کا سبب بنتے ہیں۔ حقیقی زندگی کا سفر اسی خودی کی تصدیق سے شروع ہوتا ہے، اور یہی انسان کو کامیابی اور سکون کی طرف لے جاتا ہے۔
#خودی


#کامیابی
#زندگی





/Pakistan

ہم اپنی ذات کے مالک نہیں، نگہبان ہیںانسان کو اس دنیا میں صرف جینے کے لیے نہیں بھیجا گیا بلکہ اسے کچھ ذمہ داریاں بھی دی گ...
08/01/2026

ہم اپنی ذات کے مالک نہیں، نگہبان ہیں
انسان کو اس دنیا میں صرف جینے کے لیے نہیں بھیجا گیا بلکہ اسے کچھ ذمہ داریاں بھی دی گئی ہیں۔ ان ذمہ داریوں میں سب سے اہم ذمہ داری انسان کی اپنی ذات سے متعلق ہے۔ انسان کی عقل، شعور، اختیار اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت محض اتفاق نہیں بلکہ ایک امانت ہیں۔ اسی امانت کو مختلف تہذیبوں اور مذاہب میں مختلف نام دیے گئے ہیں، مگر اس کا مفہوم ایک ہی ہے: انسان اپنی ذات کا مالک نہیں بلکہ اس کا نگہبان ہے۔
خودی کو امانت الہی سمجھنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی صلاحیتوں، اپنی سوچ، اپنے وقت اور اپنی طاقت کو ضائع کرنے کا مجاز نہیں۔ جس طرح کوئی شخص کسی امانت کی حفاظت میں کوتاہی نہیں کرتا، اسی طرح اپنی ذات کے ساتھ لاپرواہی بھی دراصل ایک اخلاقی ناکامی ہے۔ جو انسان اپنی صلاحیتوں کو پہچان کر انہیں بہتر مقصد کے لیے استعمال کرتا ہے، وہ اس امانت کا حق ادا کرتا ہے۔
دنیا میں بہت سے لوگ اپنی زندگی کو محض حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ ان کے اختیار سے باہر ہے، اس لیے کوشش بے فائدہ ہے۔ مگر خودی کو امانت سمجھنے والا انسان اس سوچ سے مختلف ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اسے جو عقل اور اختیار ملا ہے، اس کے بارے میں اس سے سوال کیا جائے گا، اس لیے وہ فیصلے سوچ سمجھ کر کرتا ہے اور اپنی ذمہ داری سے فرار اختیار نہیں کرتا۔
یہ تصور انسان کو غرور سے بھی بچاتا ہے۔ جب انسان خودی کو اپنی ذاتی ملکیت سمجھنے لگتا ہے تو وہ خود کو دوسروں سے برتر سمجھنے لگتا ہے۔ لیکن جب وہ اسے امانت مان لیتا ہے تو اس کے اندر عاجزی پیدا ہوتی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کی کامیابی اس کی ذاتی بڑائی نہیں بلکہ اس امانت کا صحیح استعمال ہے۔ یہی سوچ انسان کو متوازن، شکر گزار اور ذمہ دار بناتی ہے۔
خودی بطور امانت انسان کو اخلاقی حدود کا احساس بھی دلاتی ہے۔ وہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ اس کی آزادی بے لگام نہیں بلکہ مقصد سے جڑی ہوئی ہے۔ آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ انسان جو چاہے کرے، بلکہ یہ ہے کہ وہ درست اور غلط میں فرق کر کے بہتر راستہ چنے۔ یہی فرق انسان کو حیوان سے ممتاز کرتا ہے۔
معاشرتی زندگی میں یہ تصور بہت اہم ہے۔ جب انسان خودی کو امانت سمجھتا ہے تو وہ دوسروں کے حقوق کا خیال رکھتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کی ذات کا اثر دوسروں پر بھی پڑتا ہے۔ وہ اپنی ذمہ داری کو صرف اپنی ذات تک محدود نہیں رکھتا بلکہ خاندان، معاشرے اور آنے والی نسلوں کے بارے میں بھی سوچتا ہے۔
آج کے دور میں جہاں مادہ پرستی، مقابلہ بازی اور ذاتی فائدہ سب سے آگے نظر آتا ہے، خودی کو امانت الہی سمجھنے کا تصور انسان کو ایک نئی سمت دیتا ہے۔ یہ اسے یاد دلاتا ہے کہ اصل کامیابی صرف دولت یا شہرت نہیں بلکہ یہ ہے کہ انسان اپنی صلاحیتوں کو کسی مثبت مقصد کے لیے استعمال کرے اور اپنی ذات کے ساتھ انصاف کرے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ خودی بطور امانت الہی انسان کو ذمہ دار بناتی ہے، اسے غرور سے بچاتی ہے اور اسے زندگی کا مقصد عطا کرتی ہے۔ جو شخص اس امانت کو سمجھ کر جیتا ہے، وہ نہ صرف اپنی زندگی کو بامعنی بناتا ہے بلکہ اپنے وجود سے دوسروں کے لیے بھی فائدہ پہنچاتا ہے۔ یہی شعور انسان کو محض زندہ رہنے سے اٹھا کر واقعی انسان بناتا ہے۔
#خودی #الٰہی_امانت

بغیر نظم و ضبط کے آزادی، اور بغیر اخلاق کے طاقتہر وہ شخص آزاد نہیں ہوتا جو جو چاہے کر سکتا ہے۔اصل آزادی کچھ نہ کرنے کا ح...
07/01/2026

بغیر نظم و ضبط کے آزادی، اور بغیر اخلاق کے طاقت
ہر وہ شخص آزاد نہیں ہوتا جو جو چاہے کر سکتا ہے۔اصل آزادی کچھ نہ کرنے کا حوصلہ رکھنے میں ہے۔
انسانی زندگی میں اصل فرق طاقت، دولت یا تعلیم سے نہیں بلکہ اس بات سے پیدا ہوتا ہے کہ انسان اپنے آپ کو کس حد تک قابو میں رکھ سکتا ہے اور درست و غلط کا فیصلہ خود کر سکتا ہے۔ خود نظم و ضبط اور اخلاقی خود مختاری دراصل وہ صلاحیتیں ہیں جو انسان کو ہجوم سے الگ کرتی ہیں اور اسے باوقار، قابلِ اعتماد اور ذمہ دار بناتی ہیں۔ بغیر نظم و ضبط کے انسان خواہشات کے پیچھے چلنے لگتا ہے اور بغیر اخلاقی خود مختاری کے وہ دوسروں کے دباؤ یا فائدے کے مطابق فیصلے کرنے لگتا ہے۔
خود نظم و ضبط کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنی زندگی کو سختی اور پابندیوں میں جکڑ لے، بلکہ اس کا اصل مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے وقت، اپنے جذبات اور اپنے فیصلوں پر اختیار رکھے۔ جو شخص ہر خواہش کے پیچھے فوراً چل پڑتا ہے، وہ وقتی خوشی تو حاصل کر لیتا ہے مگر طویل مدت میں نقصان اٹھاتا ہے۔ اس کے برعکس، جو انسان صبر کرنا سیکھ لیتا ہے اور صحیح وقت کا انتظار کرتا ہے، وہ آہستہ آہستہ مضبوط بنتا جاتا ہے۔
ہم روزمرہ زندگی میں دیکھتے ہیں کہ کامیاب لوگ اکثر معمولات کے پابند ہوتے ہیں۔ وہ اپنے کام، نیند، مطالعہ اور ذمہ داریوں کے لیے وقت مقرر کرتے ہیں۔ یہ عادتیں اتفاقاً نہیں بنتیں بلکہ خود نظم و ضبط کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہیں۔ یہی نظم و ضبط انسان کو انتشار، سستی اور بے مقصد زندگی سے بچاتا ہے۔
اخلاقی خود مختاری کا مطلب ہے کہ انسان اپنے فیصلے دوسروں کے دباؤ، لالچ یا خوف کے بغیر کرے۔ ایک اخلاقی طور پر خود مختار شخص وہ ہوتا ہے جو جانتا ہے کہ کیا درست ہے اور کیا غلط، اور پھر اسی بنیاد پر عمل کرتا ہے، چاہے اس کا فوری فائدہ ہو یا نہ ہو۔ ایسے انسان کو وقتی نقصان تو ہو سکتا ہے، مگر وہ اپنی عزتِ نفس اور اعتماد کو برقرار رکھتا ہے۔
اکثر لوگ غلط کام اس لیے نہیں کرتے کہ وہ غلط نہیں سمجھتے، بلکہ اس لیے کرتے ہیں کہ ماحول، معاشرہ یا مفاد انہیں مجبور کر دیتا ہے۔ اخلاقی خود مختاری اسی مقام پر انسان کا امتحان لیتی ہے۔ جو شخص حالات کے باوجود سچ پر قائم رہتا ہے، وہ اندر سے مضبوط ہوتا ہے، جبکہ جو ہر بدلتی ہوا کے ساتھ اپنا رخ بدل لیتا ہے، وہ آہستہ آہستہ خود اعتمادی کھو دیتا ہے۔
خود نظم و ضبط اور اخلاقی خود مختاری ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ جو انسان اپنے جذبات اور خواہشات پر قابو نہیں رکھ سکتا، وہ آزادانہ اخلاقی فیصلے بھی نہیں کر سکتا۔ اسی طرح، جس کے اندر اخلاقی وضاحت نہیں ہوتی، اس کے لیے نظم و ضبط قائم رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ دونوں مل کر انسان کی شخصیت کو توازن اور استحکام عطا کرتے ہیں۔
خاندان، تعلیم اور معاشرہ ان اوصاف کی تربیت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، مگر آخرکار ذمہ داری خود فرد پر آتی ہے۔ کوئی نظام یا قانون اس وقت تک اثر نہیں کر سکتا جب تک انسان خود اپنے ضمیر کی آواز سننے کے لیے تیار نہ ہو۔ حقیقی اخلاق وہ ہے جو نگرانی کے بغیر بھی قائم رہے۔
آج کے دور میں، جب معلومات کی بہتات اور فوری تسکین نے انسان کو بے صبر بنا دیا ہے، خود نظم و ضبط کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔ موبائل فون، سوشل میڈیا اور مسلسل مصروفیت نے انسان کی توجہ منتشر کر دی ہے۔ ایسے ماحول میں اپنے وقت اور ذہن کو سنبھالنا ایک بڑی کامیابی ہے۔ اسی طرح، جب مفاد اور شہرت کو اخلاق پر فوقیت دی جا رہی ہو، اخلاقی خود مختاری انسان کو سیدھا راستہ دکھاتی ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ خود نظم و ضبط انسان کو مضبوط بناتا ہے اور اخلاقی خود مختاری اسے باوقار رکھتی ہے۔ جو شخص خود پر قابو رکھنا سیکھ لیتا ہے اور صحیح و غلط کا فیصلہ خود کر سکتا ہے، وہ نہ صرف اپنی زندگی بہتر بناتا ہے بلکہ دوسروں کے لیے بھی مثال بن جاتا ہے۔ حقیقی آزادی وہی ہے جو نظم و ضبط اور اخلاق کے ساتھ جڑی ہو، کیونکہ بغیر اصولوں کے آزادی بے راہ روی بن جاتی ہے۔



#کردار
#ضمیر
Roman:




حقوق مانگنے سے پہلے ذمہ داری کیوں ضروری ہے؟ہم اکثر کہتے ہیں: “حالات ایسے تھے مگر کیا واقعی ہماری زندگی کا اختیار ہمارے ہ...
06/01/2026

حقوق مانگنے سے پہلے ذمہ داری کیوں ضروری ہے؟
ہم اکثر کہتے ہیں: “حالات ایسے تھے مگر کیا واقعی ہماری زندگی کا اختیار ہمارے ہاتھ میں نہیں؟
انسان کی زندگی میں سب سے اہم باتوں میں سے ایک یہ سمجھنا ہے کہ وہ اپنے فیصلوں، رویّوں اور اعمال کا خود ذمہ دار ہے۔ اکثر لوگ اپنی ناکامیوں کا سبب حالات، قسمت، نظام یا دوسروں کو قرار دے دیتے ہیں، جبکہ کامیابی کو خوش قسمتی کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔ یہ رویّہ وقتی طور پر دل کو تسلی دے سکتا ہے، مگر طویل عرصے میں انسان کو کمزور اور بے اختیار بنا دیتا ہے۔ اصل طاقت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان یہ تسلیم کر لے کہ اس کی زندگی کا رخ بڑی حد تک اس کے اپنے انتخاب طے کرتے ہیں۔
انفرادی ذمہ داری کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ہر چیز پر مکمل اختیار رکھتا ہے یا اسے کبھی مشکلات کا سامنا نہیں ہوگا۔ زندگی میں ایسے حالات ضرور آتے ہیں جو انسان کے بس میں نہیں ہوتے، جیسے بیماری، معاشی تنگی یا سماجی دباؤ۔ مگر ان حالات میں انسان کا ردِعمل، اس کی کوشش اور اس کا رویّہ اس کے اختیار میں ہوتا ہے۔ یہی ردِعمل اس کے کردار کو ظاہر کرتا ہے اور یہی اس کی شخصیت کو بناتا یا بگاڑتا ہے۔
جو لوگ اپنی ذمہ داری قبول کرتے ہیں، وہ اپنی غلطیوں سے سیکھتے ہیں۔ وہ یہ نہیں کہتے کہ “یہ مجھ سے ہو گیا”، بلکہ یہ سوچتے ہیں کہ “میں اسے کیسے بہتر بنا سکتا ہوں”۔ اس کے برعکس، جو لوگ ہر غلطی کا الزام دوسروں پر ڈال دیتے ہیں، وہ خود کو سیکھنے کے موقع سے محروم کر لیتے ہیں۔ ذمہ داری قبول کرنا دراصل خود کو بہتر بنانے کی پہلی سیڑھی ہے۔
انفرادی ذمہ داری کا تعلق محض ذاتی کامیابی سے نہیں بلکہ سماجی بہتری سے بھی ہے۔ ایک ایسا فرد جو وقت کی پابندی کرتا ہے، دیانت داری سے کام کرتا ہے اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھتا ہے، وہ معاشرے کے لیے بوجھ نہیں بلکہ سہارا بنتا ہے۔ اگر ہر شخص یہ سوچے کہ “میرا چھوٹا سا عمل کیا فرق ڈالے گا؟” تو نظام بگڑ جاتا ہے، لیکن اگر ہر فرد یہ سمجھے کہ “میرا عمل اہم ہے”، تو معاشرہ خود بخود بہتر ہونے لگتا ہے۔
گھر، دفتر، تعلیمی ادارے اور ریاست سب انفرادی ذمہ داری کے اصول پر ہی مضبوط ہوتے ہیں۔ والدین کی ذمہ داری بچوں کی تربیت ہے، اساتذہ کی ذمہ داری علم کے ساتھ کردار سازی ہے، اور شہریوں کی ذمہ داری قانون کی پابندی اور ایمانداری ہے۔ جب ہر سطح پر لوگ اپنی ذمہ داری سے پہلو تہی کرتے ہیں تو مسائل بڑھتے چلے جاتے ہیں، اور جب ذمہ داری کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے تو مسائل حل ہونے لگتے ہیں۔
آج کے دور میں ایک عام مسئلہ یہ ہے کہ لوگ حقوق کی بات تو بہت کرتے ہیں مگر ذمہ داریوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ حالانکہ حقوق اور ذمہ داریاں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ جو شخص اپنی ذمہ داری ادا نہیں کرتا، وہ دوسروں سے اپنے حقوق کا مطالبہ اخلاقی طور پر کمزور ہو جاتا ہے۔ ذمہ داری انسان کو باوقار بناتی ہے اور اس کے مطالبات کو وزن دیتی ہے۔
انفرادی ذمہ داری انسان کو خود اعتمادی بھی عطا کرتی ہے۔ جب انسان جانتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے فیصلوں میں سنجیدہ ہے، تو اسے خود پر یقین پیدا ہوتا ہے۔ وہ حالات سے بھاگنے کے بجائے ان کا سامنا کرتا ہے۔ یہی خود اعتمادی اسے مشکل وقت میں بھی متوازن رکھتی ہے۔
آخر میں یہ کہنا درست ہوگا کہ انفرادی ذمہ داری کوئی بوجھ نہیں بلکہ آزادی کی بنیاد ہے۔ جو انسان اپنی زندگی کی ذمہ داری خود اٹھاتا ہے، وہی حقیقی معنوں میں آزاد ہوتا ہے۔ ایسے افراد نہ صرف اپنی زندگی کو بہتر بناتے ہیں بلکہ اپنے خاندان، معاشرے اور آنے والی نسلوں کے لیے بھی مثبت مثال قائم کرتے ہیں۔ اگر ہم واقعی تبدیلی چاہتے ہیں تو اس کا آغاز کسی اور سے نہیں، بلکہ خود سے کرنا ہوگا۔
اگر متفق ہوں تو شیئر کریں، شاید کسی اور کو بھی سوچنے کا موقع مل جائے۔

#زندگی

زندگی وسائل سے نہیں، خودی سے بنتی ہے۔اکثر ہم اپنی ناکامی کا الزام حالات پر ڈال دیتے ہیں، مگر اصل سوال یہ ہے کہ ہم خود کو...
04/01/2026

زندگی وسائل سے نہیں، خودی سے بنتی ہے۔
اکثر ہم اپنی ناکامی کا الزام حالات پر ڈال دیتے ہیں، مگر اصل سوال یہ ہے کہ ہم خود کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
انسان کی زندگی کا سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ وہ کہاں پیدا ہوا یا اس کے پاس کیا وسائل ہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ خود کو کس نظر سے دیکھتا ہے۔ دنیا میں بہت سے لوگ صلاحیتوں سے بھرپور ہوتے ہیں، مگر خود پر یقین نہ ہونے کی وجہ سے آگے نہیں بڑھ پاتے، جبکہ بعض لوگ محدود وسائل کے باوجود اپنی محنت، حوصلے اور خود اعتمادی سے نمایاں مقام حاصل کر لیتے ہیں۔ اس فرق کی اصل وجہ انسان کی اپنی ذات سے وابستہ سوچ، یعنی خودی یا خود شناسی ہے۔
خودی کا مطلب خود غرضی یا غرور نہیں، بلکہ یہ اپنی قدر پہچاننے، اپنی ذمہ داری سمجھنے اور اپنی زندگی کو بامقصد بنانے کا نام ہے۔ جب انسان خود کو بے بس، کمزور یا دوسروں کا محتاج سمجھتا ہے تو وہ آہستہ آہستہ ہمت ہار بیٹھتا ہے۔ اس کے برعکس، جب وہ یہ مان لیتا ہے کہ اس کے فیصلے، اس کی محنت اور اس کا کردار اس کی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں تو اس کے اندر تبدیلی کی طاقت پیدا ہو جاتی ہے۔
دنیا کی ہر کامیاب تہذیب اور ہر کامیاب انسان کی کہانی میں ایک بات مشترک نظر آتی ہے: مشکل حالات کے باوجود ہمت نہ ہارنا۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ترقی ہمیشہ انہی لوگوں کے حصے میں آئی ہے جنہوں نے حالات کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے خود کو بہتر بنانے کی کوشش کی۔ یہی سوچ انسان کے اندر اعتماد پیدا کرتی ہے اور یہی اعتماد خودی کو مضبوط کرتا ہے۔
خودی کی مضبوطی کا تعلق تعلیم، ماحول اور تربیت سے ضرور ہے، مگر اس کا اصل تعلق انسان کے رویے سے ہے۔ جو شخص اپنی غلطیوں کو ماننے اور ان سے سیکھنے کی ہمت رکھتا ہے، وہ وقت کے ساتھ مضبوط بنتا جاتا ہے۔ اس کے برعکس، جو شخص ہر ناکامی کا الزام دوسروں یا قسمت پر ڈال دیتا ہے، وہ اندر سے کمزور ہوتا چلا جاتا ہے۔ زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ انسان خود کو بدلنے کی ذمہ داری قبول کرے۔
محنت خودی کی بنیاد ہے۔ بغیر کوشش کے نہ اعتماد پیدا ہوتا ہے اور نہ شخصیت نکھرتی ہے۔ وہ افراد جو مشکل راستے اختیار کرتے ہیں، ناکامیوں کا سامنا کرتے ہیں اور پھر دوبارہ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں، دراصل اپنی خودی کو مضبوط کر رہے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ محنتی انسان صرف مالی طور پر ہی نہیں بلکہ ذہنی اور اخلاقی طور پر بھی مضبوط ہو جاتا ہے۔
اخلاق اور کردار بھی خودی کا اہم حصہ ہیں۔ سچائی، دیانت، صبر اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنا انسان کو اندر سے طاقت دیتا ہے۔ جو شخص وقتی فائدے کے لیے اپنے اصول چھوڑ دیتا ہے، وہ شاید وقتی طور پر کامیاب ہو جائے، مگر اس کی خودی کمزور ہو جاتی ہے۔ مضبوط خودی والا انسان مشکل حالات میں بھی اپنے اصولوں پر قائم رہتا ہے۔
خودی صرف فرد کی بہتری تک محدود نہیں رہتی بلکہ معاشرے پر بھی اثر ڈالتی ہے۔ ایک بااعتماد اور ذمہ دار فرد اپنے خاندان، اپنے کام اور اپنے اردگرد کے لوگوں کے لیے مثبت مثال بنتا ہے۔ اسی طرح جب کسی معاشرے میں زیادہ لوگ خوددار، محنتی اور باکردار ہوں تو وہ معاشرہ خود بخود ترقی کی راہ پر گامزن ہو جاتا ہے۔
آج کے دور میں جب بے یقینی، مایوسی اور خوف عام ہوتا جا رہا ہے، خودی کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ سوشل میڈیا، مقابلے اور تیز رفتار زندگی نے انسان کو دوسروں سے موازنہ کرنا سکھا دیا ہے، مگر خود کو سمجھنا بھلا دیا ہے۔ ایسے وقت میں یہ ضروری ہے کہ انسان اپنی اصل صلاحیتوں کو پہچانے، اپنی رفتار خود طے کرے اور اپنی زندگی کو دوسروں کی توقعات کے بجائے اپنے اصولوں کے مطابق جئے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ خودی کوئی فلسفیانہ بحث نہیں بلکہ عملی زندگی کا اصول ہے۔ جو انسان اپنی ذات کی قدر کرتا ہے، اپنی ذمہ داری قبول کرتا ہے اور مسلسل سیکھنے پر یقین رکھتا ہے، وہ نہ صرف اپنی زندگی بہتر بناتا ہے بلکہ دوسروں کے لیے بھی روشنی کا سبب بنتا ہے۔ حقیقی ترقی کا سفر باہر سے نہیں، اندر سے شروع ہوتا ہے، اور یہی خودی کی اصل طاقت ہے۔
“اگر آپ اس بات سے متفق ہیں تو اسے شیئر کریں،
شاید کسی کی سوچ بدل جائے۔”
#خودی
#خودشناسی
#زندگی
#فکر
#حوصلہ
#اردومضمون



Address

Model Town
Lahore
5400

Opening Hours

Monday 10:00 - 22:00
Tuesday 10:00 - 22:00
Wednesday 10:00 - 22:00
Thursday 10:00 - 22:00
Friday 10:00 - 22:00
Saturday 10:00 - 22:00
Sunday 10:00 - 22:00

Telephone

+923001760117

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Prof. Dr. Syed Asadullah Arslan Gilani posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Prof. Dr. Syed Asadullah Arslan Gilani:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram