08/12/2025
ایبٹ آباد دوستی کا بھیانک چہرہ — ’’ردا‘‘ کی غداری نے سب کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا
ایبٹ آباد ڈاکٹرز برادری کا اج سے صوبے کی تمام ہسپتالوں میں سروسز کا بائیکاٹ شدید احتجاج کا اعلان
چیرمین ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے پی کے —
ایبٹ آباد متعلقہ اداروں کے لیے سوالیہ نشان باوجود مرکزی ملزم ردا اس کا خاوند وحید اور سہولت کاروں نے اقبال جرم اور نشاندہی کرنے کے باوجود اور ملزمان قانون کی تحویل ہوے کے آج چار دن گزرنے کے باوجود ڈاکٹر وردا مشتاق بازیاب نہیں ہوسکی
ایبٹ آباد ڈاکٹر وردا مشتاق کی بچپن کی دوستی، دھوکے اور درندگی کی وہ بھیانک داستان جس ن پورے شہر کو خوف میں مبتلا کر دیا
ایبٹ آباد… کئی روز گزر چکے
مرکزی ملزمان گرفتار، اقرارِ جرم بھی ہو چکا…
لیکن ڈاکٹر وردا کا کوئی سراغ نہیں— پولیس کی جانب سے ایک خوفناک خاموشی، ایک ڈراؤنی گمشدگی!
وہ سہیلی… جس پر ڈاکٹر وردا نے اندھا اعتماد کیا….
وہی ردا اس ہولناک کھیل کی مرکزی مجرم نکلی۔
ذرائع کے کے مطابق ردا نے اپنے شوہر وحید کے ساتھ مل کر ڈاکٹر وردا کو DHQ ہسپتال سے اپنی گاڑی میں اغواء کر کے جدون پلازہ میں واقع زیر تعمیر گھر پہنچایا—
جہاں پہلے سے لڑی بنوٹہ ٹھنڈیانی کا بدنام زمانہ ڈکیت و منشیات فروش گینگ گھات لگائے بیٹھا تھا۔
ایبٹ آباد گھر کے اندر موجود سفاک مجرموں کے حوالے کر کے
ملزمہ ردا پرسکون انداز میں ’’اپنی گاڑی، اپنے ڈرائیور‘‘ کے ساتھ وہاں سے روانہ ہو گئی۔
ایبٹ آباد پولیس کیبجانب سے اتنے سنگین مسئلہ پر خاموشی سستی و کاہلی کیوں اگر پولیس بروقت کاروائی
تفتیش کرتی ڈاکٹر مل سکتی تھی
ڈاکٹر ایسوسی ایشن
ڈاکٹر وردا کو اغواء کرنے والے مرکزی ملزمان ردا اور اس کے شوہر کو “پہلے ہی دن” چھوڑ دیا گیا
دو دن تک SHO کینٹ نے ڈی پی او کو کیس سے مکمل طور پر لاعلم رکھا
اگر یہ مجرمانہ غفلت نہ ہوتی تو شاید آج وردا…
زندہ، محفوظ، ہنستی مسکراتی اپنے گھر میں ہوتی۔
گرفتاریوں کے بعد لرزا دینے والا انکشاف — وردا کہاں گئی؟
جب ڈی پی او ہارون الرشید نے مداخلت کی، کیس دوبارہ کھولا تو تفتیشی ٹیم نے ردا سے اصل سچ اگلوا لیا۔
ردا کے مطابق
ڈاکٹر وردا کو جدون پلازہ والے گھر میں ڈکیت گینگ کے سرغنہ شمعریز اور ندیم کے حوالے کیا گیا
وہاں سے اسے سوزوکی کے ذریعے نامعلوم مقام منتقل کیا گیا
ردا کی نشاندہی پر نواں شہر کے علاقے سے ندیم گرفتار ہوا تو اس کے خوفناک اعتراف نے پورے شہر کو دہلا دیا۔
اس کے بعد پولیس نے ٹھنڈیانی کے گھنے جنگلات، ندی نالوں اور ویران راستوں میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
لیکن حقیقت یہی ہے کہ:
ہر گزرتے لمحے کے ساتھ یہ خدشہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے کہ شاید… ڈاکٹر وردا کو قتل کر دیا گیا ہو۔
اہلِ خانہ پر قیامت صغریٰ ٹوٹ پڑی
ڈاکٹر کے والد اور گھر والے شدید ذہنی کرب میں ہیں۔
ہر فون کال، ہر دروازے کی دستک ان کے دل کو کانپ دیتی ہے—
لیکن بیٹی کا کوئی پتا نہیں۔
ڈاکٹرز برادری کا شدید احتجاج — نااہلی کے خلاف اعلانِ بغاوت
ڈاکٹرز کمیونٹی کا کہنا ہے:
چار دن گزر گئے
پولیس کی نااہلی، سستی اور غفلت سامنے ہے
ڈاکٹر وردا کی عدم بازیابی ایک مجرمانہ ناکامی ہے
اسی غصے کے اظہار کے لیے:
(سوموار)
کو بینظیر بھٹو شہید ہسپتال سمیت صوبہ بھر میں میں تمام الیکٹو سروسز کا مکمل بائیکاٹ ہوگا— پورا سسٹم بند!
ڈاکٹرز نے واضح اعلان کر دیا ہے کہ:
“ڈاکٹر وردا کی محفوظ بازیابی کے بغیر ہم کوئی بات نہیں سنیں گے— کوئی سمجھوتہ نہیں، کوئی رعایت نہیں۔”
**یہ کیس اب صرف ایک ڈاکٹر کا اغوا نہیں…
یہ دوستی کے نام پر دھوکے، پولیس کی غفلت، اور سماج میں پھیلے بھیانک جرم کا آئینہ ہے۔**
ایبٹ آباد خوف، بے چینی اور دہشت کے سائے میں ڈوبا ہوا ہے—
اور ہر کوئی ایک ہی سوال پوچھ رہا ہے:
’’آخر ڈاکٹر وردا کہاں ہیں؟ زندہ ہیں یا…؟‘‘