20/08/2025
بہت سے والدین ہم سے یہ سوال کرتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب، ہمارے بچے کو بار بار ٹانسلز (Tonsils) کا انفیکشن کیوں ہو جاتا ہے؟ کیا یہ اس کی قوتِ مدافعت (immunity) کی کمزوری کی علامت ہے یا کسی قسم کی جینیاتی (Genetic) بیماری؟ یہ سوال بجا ہے کیونکہ بار بار ٹانسلز کی سوزش بچے کی صحت، تعلیم اور روزمرہ زندگی کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے ہمیں یہ جاننا ضروری ہے کہ ٹانسلز کیا ہوتے ہیں اور وہ کیا کام کرتے ہیں۔
ٹانسلز سائز میں چھوٹے مگر کام کے لحاظ سے بہت اہم ہوتے ہیں۔ یہ گلے کے پچھلے حصے میں موجود ہوتے ہیں اور جسم کے مدافعتی نظام کا ایک اہم جزو سمجھے جاتے ہیں۔ ان کا بنیادی کام یہ ہے کہ وہ منہ اور ناک کے ذریعے جسم میں داخل ہونے والے جراثیم کو روکیں، ان کی شناخت کریں اور پھر ان کے خلاف دفاعی ردِعمل (antibodies) پیدا کریں۔ یوں یہ ٹانسلز ہمارے جسم کے پہلے محافظ کی حیثیت رکھتے ہیں اور ہر آنے والے بیکٹیریا یا وائرس کو فلٹر کرتے ہیں تاکہ وہ جسم میں مزید داخل نہ ہو سکے۔ لیکن جب کچھ طاقتور بیکٹیریا یا وائرس ٹانسلز پر حملہ کرتے ہیں تو وہ سوج جاتے ہیں اور اس سوجن کو ٹانسلائٹس (Tonsillitis) کہا جاتا ہے۔ اس صورت میں بچوں کو گلے میں درد محسوس ہوتا ہے، کھانے پینے میں دقت ہوتی ہے، اور اکثر بخار بھی ہو جاتا ہے۔ ٹانسلائٹس کا سبب بننے والے سب سے عام بیکٹیریا کا نام Streptococcus pyogenes ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کچھ بچوں کو ہی بار بار ٹانسلز کا انفیکشن کیوں ہوتا ہے؟ اس کی دو اہم وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ جینیاتی یا موروثی ہے۔ جدید تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جن بچوں کو بار بار ٹانسلز کا انفیکشن ہوتا ہے، ان کے خاندان کے دیگر افراد کو بھی یہی مسئلہ درپیش ہوتا ہے۔ ان بچوں کے جینز میں کچھ ایسی تبدیلیاں پائی جاتی ہیں جو ان کے مدافعتی نظام کو کمزور بنا دیتی ہیں، جس کے باعث وہ بار بار بیکٹیریا اور وائرس کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ موروثی کمزوری ان کے جسم کو مکمل تحفظ فراہم نہیں کرنے دیتی۔
دوسری وجہ مدافعتی نظام میں مخصوص قسم کی تبدیلی ہے۔ عام طور پر ٹانسلز جسم میں داخل ہونے والے جراثیم کی شناخت کے لیے T-helper cells نامی خلیات استعمال کرتے ہیں۔ یہ خلیات جراثیم کی معلومات B cells کو منتقل کرتے ہیں تاکہ وہ اینٹی باڈیز بنا کر ان جراثیموں کا مقابلہ کر سکیں۔ لیکن جن بچوں کو بار بار ٹانسلز کا انفیکشن ہوتا ہے، ان میں T-helper cells کی تعداد تو زیادہ ہوتی ہے، مگر وہ B cells کی مدد کرنے کے بجائے انہیں نقصان پہنچاتے ہیں۔ اس کی وجہ سے B cells صحیح طریقے سے اینٹی باڈیز نہیں بنا پاتے، اور بچہ بار بار ٹانسلائٹس کا شکار ہو جاتا ہے۔
سائنسدان اس مسئلے کا دیرپا حل نکالنے کے لیے مسلسل تحقیق کر رہے ہیں اور ایک مؤثر ویکسین بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں تاکہ بچوں کو اس تکلیف دہ اور بار بار ہونے والے انفیکشن سے بچایا جا سکے۔
Ear Nose And thyroid Clinic
Dr M Furqan
Dr M Irfan