Dr Muhammad Asad Raza

Dr Muhammad Asad Raza Medical specialist and Consultant Physician.

Online consultation at comfort of your homeDiabetes ReversalObesity CareHormonal IssuesChronic Painful ConditionsElderly...
14/03/2026

Online consultation at comfort of your home
Diabetes Reversal
Obesity Care
Hormonal Issues
Chronic Painful Conditions
Elderly Care
Dr Muhammad Asad Raza
Consultant Physician| Metabolic Health and Pain Expert
For appointment
whatsapp us at
03334903766


































کیا کمر کا درد بار بار ہو رہا ہے؟اور بیٹھنا یا چلنا مشکل ہوتا جا رہا ہے؟یہ صرف تھکن نہیں بھی ہو سکتی۔ کمر درد کیوں ہوتا ...
13/03/2026

کیا کمر کا درد بار بار ہو رہا ہے؟
اور بیٹھنا یا چلنا مشکل ہوتا جا رہا ہے؟
یہ صرف تھکن نہیں بھی ہو سکتی۔
کمر درد کیوں ہوتا ہے؟
کمر درد آج کل بہت عام مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔
اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔
عام وجوہات
* زیادہ دیر بیٹھ کر کام کرنا
* غلط پوسچر (Posture)
* وزن زیادہ ہونا
* بھاری چیز اٹھانا
* پٹھوں کی کمزوری
* ورزش کی کمی
* پرانی چوٹ
وہ علامات جنہیں نظرانداز نہیں کرنا چاہیے
* کمر میں مسلسل درد
* درد کا ٹانگوں تک پھیل جانا
* سن ہونا یا جھنجھناہٹ
* زیادہ دیر کھڑے ہونے یا بیٹھنے میں مشکل
* صبح کے وقت کمر کا اکڑ جانا
* چلنے پھرنے میں تکلیف
کمر درد کن سنگین مسائل کی علامت ہو سکتا ہے؟
بعض اوقات کمر درد درج ذیل بیماریوں کی طرف اشارہ کر سکتا ہے:
* ڈسک کا مسئلہ (Slip Disc)
* سائٹیکا (Sciatica)
* ریڑھ کی ہڈی کی کمزوری
* آرتھرائٹس (Arthritis)
* پٹھوں کی شدید کھچاؤ
* گردوں کے مسائل
اسی لیے مسلسل کمر درد کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
صحت مند کمر کیلئے احتیاط کیوں ضروری ہے؟
صحیح احتیاط سے:
✔ درد کم کیا جا سکتا ہے
✔ ریڑھ کی ہڈی کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے
✔ روزمرہ کے کام آسان ہو جاتے ہیں
✔ مستقبل کے بڑے مسائل سے بچاؤ ممکن ہوتا ہے
Back Pain Consultation میں کیا مدد ملتی ہے؟
✔ کمر درد کی اصل وجہ کی تشخیص
✔ پوسچر اور روزمرہ عادات کا جائزہ
✔ ادویات اور علاج کا مناسب پلان
✔ فزیوتھراپی یا ورزش کی رہنمائی
✔ درد کم کرنے کیلئے عملی مشورے
کمر درد کم کرنے کیلئے آسان مشورے
* زیادہ دیر ایک ہی پوزیشن میں نہ بیٹھیں
* سیدھا بیٹھنے کی عادت اپنائیں
* ہلکی ورزش اور اسٹریچنگ کریں
* بھاری وزن اٹھانے سے گریز کریں
* سخت اور مناسب میٹرس استعمال کریں
* وزن کو کنٹرول میں رکھیں
کنسلٹیشن کیلئے رابطہ کریں
📞 0333-4903766 | 0336-4404140
کمر درد کو معمولی مسئلہ سمجھ کر نظرانداز نہ کریں۔
بروقت توجہ صحت مند زندگی کیلئے ضروری ہے۔













#فزیوتھراپی







































#فزیوتھراپی




































Online consultation at comfort of your homeDiabetes ReversalObesity CareHormonal IssuesChronic Painful ConditionsElderly...
12/03/2026

Online consultation at comfort of your home

Diabetes Reversal
Obesity Care
Hormonal Issues
Chronic Painful Conditions
Elderly Care

Dr Muhammad Asad Raza
Consultant Physician| Metabolic Health and Pain Expert

For appointment
whatsapp us at
03334903766



































11/03/2026

کلینک کے کمرے میں خاموشی تھی۔ میز پر رپورٹس کی ایک فائل کھلی ہوئی تھی—خون کے ٹیسٹ، الٹراساؤنڈ، ECG۔ ڈاکٹر نے چند لمحے نمبرز دیکھے، قلم رکھا، اور اطمینان سے کہا:
آپ کے تمام ٹیسٹ نارمل ہیں۔ سب ٹھیک ہے۔
یہ وہ جملہ ہے جو عام طور پر مریض کو سکون دیتا ہے۔
مگر اس دن یہ جملہ سکون نہیں بنا۔
مریم بی بی خاموش بیٹھی رہیں۔ کچھ لمحوں بعد انہوں نے دھیمی آواز میں کہا:
ڈاکٹر صاحب… مگر میں ٹھیک محسوس نہیں کر رہی۔
ان کے چہرے پر تھکن صاف نظر آ رہی تھی۔ نیند ٹوٹی ٹوٹی رہتی تھی، جسم میں درد رہتا تھا، اور دل میں ایک مستقل بےچینی سی تھی۔ ڈاکٹر نے دوبارہ فائل کی طرف دیکھا اور وہی بات دہرائی:
“لیکن دیکھیں، رپورٹس بالکل نارمل ہیں۔ فکر کی کوئی بات نہیں۔
ملاقات ختم ہو گئی۔ نسخہ ہاتھ میں آیا، اور دروازہ بند ہو گیا۔
مگر ایک سوال دروازے کے باہر کھڑا رہ گیا:
اگر سب ٹھیک ہے… تو میں ٹھیک کیوں نہیں ہوں؟
گھر پہنچ کر مریم بی بی دیر تک یہی سوچتی رہیں۔ شاید مسئلہ واقعی ان ہی میں ہے۔ شاید وہ زیادہ حساس ہیں۔ شاید وہم ہے۔ مگر جسم کا بوجھ اور دل کی گھبراہٹ انہیں ہر روز یاد دلاتی تھی کہ کچھ تو ہے جو ٹھیک نہیں۔
کچھ ہفتوں بعد وہ دوبارہ آئیں۔ اس بار ان کے لہجے میں تھکن کے ساتھ مایوسی بھی شامل تھی۔ انہوں نے سیدھا کہا:
ڈاکٹر صاحب، میں جانتی ہوں رپورٹس نارمل ہیں… مگر میری زندگی نارمل نہیں رہی۔
یہ وہ لمحہ تھا جہاں ایک اہم حقیقت سامنے آتی ہے—وہ حقیقت جسے طب میں اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
میڈیکل رپورٹ جسم کے نمبرز بتاتی ہے، انسان کی کیفیت نہیں۔
ہم اکثر یہ فرض کر لیتے ہیں کہ اگر ٹیسٹ نارمل ہیں تو مسئلہ ختم ہو گیا۔ مگر طب کی دنیا اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ بہت سی حالتیں ایسی ہوتی ہیں جن میں مریض کی تکلیف حقیقی ہوتی ہے، مگر لیبارٹری خاموش رہتی ہے۔ نیند کی خرابی، مسلسل ذہنی دباؤ، functional pain syndromes، ابتدائی اضطراب یا burnout—یہ سب ایسی کیفیتیں ہیں جو اکثر ٹیسٹوں میں نظر نہیں آتیں، مگر زندگی کو شدید متاثر کر سکتی ہیں۔
جب مریض کو صرف یہ کہہ دیا جائے کہ “سب نارمل ہے”، تو اس کے دل میں دو زخم بنتے ہیں۔
پہلا زخم بیماری کا۔
اور دوسرا یہ احساس کہ شاید اس کی تکلیف کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔
حالانکہ ایک مختلف جملہ یہ احساس بدل سکتا تھا:
“آپ کی رپورٹس اچھی ہیں—یہ خوشخبری ہے۔ مگر آپ جو محسوس کر رہی ہیں وہ بھی حقیقی ہے۔ ہمیں مل کر یہ سمجھنا ہوگا کہ اس کی وجہ کیا ہو سکتی ہے۔”
یہ صرف الفاظ کا فرق نہیں۔
یہ احترام اور انکار کے درمیان فرق ہے۔
طب میں مہارت صرف تشخیص کرنے میں نہیں، مریض کی بات سننے میں بھی ہوتی ہے۔ کیونکہ بعض اوقات بیماری نمبروں میں نہیں چھپی ہوتی—وہ کہانی میں چھپی ہوتی ہے، جسے مریض بتانے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔
اور سچ یہ ہے:
نارمل رپورٹ ہمیشہ نارمل زندگی کی ضمانت نہیں ہوتی۔
کبھی کبھی اصل علاج اس لمحے سے شروع ہوتا ہے جب ڈاکٹر نمبرز سے نظریں اٹھا کر مریض کو دیکھتا ہے—اور کہتا ہے:
“میں آپ کی بات سن رہا ہوں۔”
رپورٹس بیماری کو ناپ سکتی ہیں، مگر انسان کو نہیں۔

رمضان میں آپ کی شوگر کتنی رہتی ہے؟ کیا روزے کے دوران شوگر بڑھ جاتی ہے؟ جانیں مکمل رہنمائی! رمضان میں شوگر کا لیول کتنا ہ...
11/03/2026

رمضان میں آپ کی شوگر کتنی رہتی ہے؟ کیا روزے کے دوران شوگر بڑھ جاتی ہے؟ جانیں مکمل رہنمائی!

رمضان میں شوگر کا لیول کتنا ہونا چاہیے؟

رمضان المبارک میں روزہ رکھنے کے دوران شوگر کے مریضوں کو اپنے بلڈ شوگر لیول پر خاص توجہ دینی چاہیے۔ عام طور پر صحت مند شوگر لیول یہ سمجھا جاتا ہے:

* روزہ کھولنے سے پہلے 80 سے 130 mg/dL
* افطار کے 1–2 گھنٹے بعد 180 mg/dL سے کم

اگر شوگر اس حد سے زیادہ ہو جائے تو اسے کنٹرول کرنا ضروری ہوتا ہے، ورنہ کمزوری، چکر اور دیگر مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

رمضان میں شوگر بڑھنے کی وجوہات

روزے کے دوران شوگر بڑھنے کی چند عام وجوہات یہ ہو سکتی ہیں:

* افطار میں زیادہ میٹھا یا تلی ہوئی چیزیں کھانا
* سحری چھوڑ دینا
* پانی کم پینا
* ادویات یا انسولین کا صحیح وقت پر استعمال نہ کرنا
* زیادہ مقدار میں سفید آٹا، چاول یا میٹھے مشروبات لینا

اگر رمضان میں شوگر بڑھ جائے تو کیا کریں؟

اگر روزے کے دوران شوگر لیول بڑھ جائے تو ان طریقوں سے اسے کنٹرول کیا جا سکتا ہے:

1. متوازن غذا کھائیں
افطار اور سحری میں فائبر والی غذائیں جیسے دالیں، سبزیاں، براؤن بریڈ اور سلاد شامل کریں۔

2. میٹھے اور فرائیڈ فوڈ کم کریں
سموسے، پکوڑے، جلیبی اور کولڈ ڈرنکس کم استعمال کریں۔

*3. پانی زیادہ پئیں*
افطار سے سحری تک کم از کم 8 گلاس پانی پینا ضروری ہے۔

4. ہلکی ورزش کریں
افطار کے بعد 15–20 منٹ کی واک شوگر لیول کو کنٹرول رکھنے میں مدد دیتی ہے۔

5. باقاعدگی سے شوگر چیک کریں
روزانہ کم از کم 2–3 بار شوگر چیک کریں تاکہ بروقت کنٹرول کیا جا سکے۔

6. ڈاکٹر کی ہدایت پر عمل کریں
اگر شوگر بہت زیادہ یا بہت کم ہو جائے تو روزہ توڑنا بھی ضروری ہو سکتا ہے۔

شوگر مریضوں کے لیے رمضان میں احتیاطی تدابیر

* سحری کبھی نہ چھوڑیں
* زیادہ نمک اور چکنائی والی غذا سے پرہیز کریں
* تازہ پھل اور سبزیاں استعمال کریں
* دوا یا انسولین ڈاکٹر کے مشورے سے لیں

خلاصہ

رمضان میں شوگر کے مریض اگر اپنی غذا، پانی اور روزمرہ عادات پر توجہ دیں تو وہ آسانی سے اپنا بلڈ شوگر لیول کنٹرول میں رکھ سکتے ہیں۔ یاد رکھیں، صحت کا خیال رکھنا بھی عبادت کا حصہ ہے۔

رمضان میں شوگر کنٹرول، رمضان میں شوگر لیول کتنا ہونا چاہیے، روزے میں شوگر کیوں بڑھتی ہے، شوگر مریض رمضان میں کیا کھائیں، رمضان میں شوگر کا علاج،













































#مائگرین













کیا آپ کو بھی رمضان میں افطاری کے بعد آدھے سر کا شدید درد ہوتا ہے؟اگر افطاری کے بعد اچانک سر کے ایک حصے میں درد شروع ہو ...
09/03/2026

کیا آپ کو بھی رمضان میں افطاری کے بعد آدھے سر کا شدید درد ہوتا ہے؟

اگر افطاری کے بعد اچانک سر کے ایک حصے میں درد شروع ہو جاتا ہے تو اسے نظر انداز نہ کریں۔ رمضان میں یہ مسئلہ بہت سے لوگوں کو ہوتا ہے اور اس کے پیچھے کچھ عام وجوہات ہو سکتی ہیں۔

Possible Reasons (ممکنہ وجوہات)

1️⃣ پانی کی کمی (Dehydration)
پورا دن پانی نہ پینے کی وجہ سے جسم میں پانی کی کمی ہو جاتی ہے، جس سے افطار کے بعد سر درد شروع ہو سکتا ہے۔

2️⃣ افطاری میں زیادہ میٹھا کھانا
افطار کے وقت زیادہ میٹھے مشروبات، جوس یا کولڈ ڈرنکس لینے سے بلڈ شوگر اچانک بڑھتا ہے، جو سر درد کی وجہ بن سکتا ہے۔

3️⃣ چائے یا کافی نہ پینا
جو لوگ روزانہ زیادہ چائے یا کافی پیتے ہیں انہیں روزے کے دوران کیفین نہ ملنے سے withdrawal headache ہو سکتا ہے۔

4️⃣ افطاری میں زیادہ کھانا
ایک دم زیادہ اور بھاری کھانا کھانے سے ہاضمہ متاثر ہوتا ہے جس سے سر درد اور تھکن ہو سکتی ہے۔

5️⃣ نیند کی کمی
سحری کے لیے جلدی اٹھنے اور نیند کا شیڈول بدلنے کی وجہ سے بھی مائیگرین یا سر درد ہو سکتا ہے۔

Solutions (حل)

✅ افطار کے بعد آہستہ آہستہ زیادہ پانی پئیں۔

✅ افطار کا آغاز کھجور اور پانی سے کریں، فوراً زیادہ میٹھا نہ لیں۔

✅ چائے اور کافی کی مقدار کم کریں۔

✅ افطاری میں ہلکی اور متوازن غذا کھائیں۔

✅ مناسب نیند اور آرام لینے کی کوشش کریں۔

اگر درد بار بار یا بہت شدید ہو تو ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں۔
تو آج ہی درست مشورہ لیں۔
اپائنٹمنٹ اور رہنمائی کے لیے ابھی رابطہ کریں
03364404140


























07/03/2026

اسپتال کے گیٹ کے باہر ایک بڑا سا بینر لگا تھا:
“Full Body Checkup Package — صرف 30,000 روپے
ایک دن میں تمام بیماریوں کی تشخیص!”
حاجی صاحب نے رک کر اسے غور سے دیکھا۔
پچھلے کچھ دنوں سے ہلکی سی چکر آتی تھی، دل گھبراتا تھا، اور نیند پوری نہیں ہو رہی تھی۔
بیٹے نے کہا تھا،
“ابو، آج کل بیماری پکڑنا مشکل ہو گیا ہے، بہتر ہے پورا پیکج کروا لیں۔”
کاؤنٹر پر مسکراتی لڑکی نے فائل بنائی۔
“انکل، اس پیکج میں CT scan، echo، thyroid profile، vitamin levels،Heart profile,Diabetes profile tumor markers — سب شامل ہیں۔
آج نہ کروایا تو کل ریٹ بڑھ جائے گا۔”
حاجی صاحب نے ہچکچاتے ہوئے پیسے دیے۔
دل میں ایک عجیب سا خوف بھی تھا، اور تسلی بھی —
اب سب پتا چل جائے گا۔
شام تک رپورٹس کا ڈھیر ان کے ہاتھ میں تھا،
مگر ذہن میں سوال وہی تھا:
“مجھے ہے کیا؟”
اگلے دن وہ رپورٹس لے کر کلینک آئے۔
ڈاکٹر نے فائل کھولی — صفحہ در صفحہ، تقریباً سب نارمل۔
کچھ نمبرز سرخ دائرے میں تھے، مگر کوئی واضح بیماری نہیں۔
ڈاکٹر نے سر اٹھا کر پوچھا،
“یہ سب ٹیسٹ کیوں کروائے گئے؟”
حاجی صاحب نے آہستہ سے جواب دیا،
“ڈاکٹر صاحب، آج کل یہ روٹین ہے… بہتر ہے سب دیکھ لیا جائے۔”
ڈاکٹر کرسی سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئے۔
یہ منظر وہ روز دیکھتے تھے —
ٹیسٹ بہت، تشخیص غائب۔
انہوں نے بات شروع کی،
“چکر کب آتے ہیں؟
پانی کتنا پیتے ہیں؟
نیند کیسی ہے؟
کچھ پریشانی تو نہیں چل رہی؟”
دس منٹ میں کہانی صاف ہو گئی۔
موسم کی تبدیلی، پانی کی کمی، بے وقت کھانا، اور مسلسل ذہنی دباؤ۔
ڈاکٹر نے مسکرا کر کہا،
“آپ کو کوئی خطرناک بیماری نہیں۔
آپ کو ٹیسٹ نہیں، ترتیبِ زندگی کی ضرورت ہے۔”
حاجی صاحب چونک گئے۔
“مگر ڈاکٹر صاحب… اتنے سارے سکین؟”
ڈاکٹر نے نرمی سے جواب دیا،
“مشینیں ہر سوال کا جواب نہیں دیتیں۔
کبھی کبھی زیادہ ٹیسٹ، زیادہ الجھن پیدا کر دیتے ہیں۔”
انہوں نے نسخہ نہیں لکھا۔
صرف ہدایات لکھیں:
پانی، نیند، سادہ خوراک، اور سکون۔
حاجی صاحب اٹھتے ہوئے بولے،
“اگر پہلے یہ بات کوئی کر لیتا،
تو شاید یہ پیکج ہی نہ کرواتا۔”
ڈاکٹر نے آہستہ سے کہا،
“آج کل بیماری کم، خوف زیادہ بیچا جا رہا ہے۔”
جب وہ چلے گئے،
ڈاکٹر نے فائل بند کی اور دل میں سوچا:
تشخیص اب گفتگو سے نہیں،
کاؤنٹر سے شروع ہو رہی ہے۔
جب تشخیص پیکج میں ملنے لگے، تو سمجھ لیں طب تجارت کے قریب پہنچ گئی ہے۔
ہر ٹیسٹ ضروری نہیں — مگر ہر ٹیسٹ کا بوجھ مریض ہی اٹھاتا ہے۔











































06/03/2026

نرمی کے ساتھ انکار — جب حکمت، ہمت بن جائے
کلینک میں خاموشی تھی۔
چالیس سالہ خاتون کرسی پر بیٹھی تھیں، ہاتھوں میں فائل، آنکھوں میں بےچینی۔
“ڈاکٹر صاحب،
پچھلے ڈاکٹر نے کہا تھا MRI کرا لیں۔
میری دوست نے بھی یہی مشورہ دیا۔
میں چاہتی ہوں سب ٹیسٹ ہو جائیں،
تاکہ کوئی کمی نہ رہ جائے۔”
ڈاکٹر نے فائل بند کی۔
نہ جلدی، نہ انکار، نہ طنز۔
بس توجہ۔
“آپ پہلے مجھے پورا بتائیں،
درد کب شروع ہوا؟
کیا رات کو جگاتا ہے؟
کیا کمزوری، بخار، وزن میں کمی ہوئی؟”
وہ سنتا رہا۔
پندرہ منٹ۔
کوئی خطرے کی علامت نہیں۔
درد positional تھا،
معائنہ نارمل،
نیورولوجیکل deficits نہیں۔
اس نے کمر، اعصاب، طاقت، reflexes سب چیک کیے۔
پھر خاموشی سے کہا:
“مجھے سمجھ آ گیا ہے۔
اور اچھی خبر یہ ہے —
فی الحال MRI کی ضرورت نہیں۔”
خاتون چونک گئیں۔
“مگر ڈاکٹر صاحب…
اگر اندر کچھ نکل آیا تو؟”
ڈاکٹر مسکرایا۔
“یہی وہ مقام ہے
جہاں طب اور حکمت الگ ہوتی ہیں۔
ہر درد بیماری نہیں،
اور ہر بیماری scan میں نہیں ملتی۔”
اس نے کاغذ پر ایک خاکہ بنایا۔
ریڑھ کی ہڈی، عضلات، اعصاب۔
“آپ کا مسئلہ یہاں ہے —
اور یہ بہتر ہوتا ہے
حرکت، posture اور وقت سے۔”
پھر نرمی سے مگر واضح کہا:
“غیر ضروری ٹیسٹ
اکثر فائدے سے زیادہ خوف پیدا کرتے ہیں۔
اور خوف، شفا کو سست کر دیتا ہے۔”
وہ رُکی، پھر بولیں:
“پہلی بار کسی نے مجھے
scan کے بجائے سمجھایا ہے۔”
ڈاکٹر نے کہا:
“یہ میرا فرض ہے —
صرف test لکھنا نہیں،
بلکہ test سے بچانا بھی۔”
اس نے واضح پلان دیا:
exercises، pain education،
red flags، follow-up timeline۔
“اگر علامات بدلیں،
رات کو درد بڑھے،
یا کمزوری آئے —
تو ہم اگلا قدم فوراً اٹھائیں گے۔”
وہ مطمئن ہو کر کھڑی ہوئیں۔
نہ اس لیے کہ ٹیسٹ ہوئے،
بلکہ اس لیے کہ
کوئی تھا جو ذمہ داری لینے کو تیار تھا۔
جب وہ چلی گئیں،
ڈاکٹر نے سوچا:
اصل اختیار
ٹیسٹ لکھنے میں نہیں،
ٹیسٹ نہ لکھنے کی ہمت میں ہے۔
> “اچھا ڈاکٹر وہ نہیں جو ہر ٹیسٹ لکھ دے،
بلکہ وہ ہے جو جانتا ہو
کب رکنا ہے، کب سمجھانا ہے،
اور کب نرمی سے انکار کرنا ہے۔”













#صحت







#ڈاکٹر


05/03/2026

عالیہ بی بی کئی ماہ سے جسمانی درد، تھکن اور نیند کی خرابی سے پریشان تھیں۔ کبھی کندھوں میں درد، کبھی ٹانگوں میں جلن، کبھی سر بھاری۔ ٹیسٹ بار بار نارمل آتے رہے۔ آخرکار ایک ماہر کے پاس گئیں۔ معائنہ ہوا، رپورٹس دیکھیں گئیں، اور ڈاکٹر نے فائل بند کرتے ہوئے کہا:

آپ کو Fibromyalgia ہے۔

لفظ کمرے میں ٹھہر گیا۔
عالیہ بی بی نے پہلے کبھی یہ نام نہیں سنا تھا۔
انہوں نے صرف اتنا پوچھا، “یہ خطرناک تو نہیں؟

جواب مختصر تھا، نہیں، chronic condition ہے۔ دوائیں لیں، exercise کریں۔

ملاقات ختم ہو گئی۔
مگر لفظ ختم نہیں ہوا۔

گھر جا کر انہوں نے انٹرنیٹ کھولا۔
Fibromyalgia… chronic pain… lifelong… incurable… disability۔
ہر صفحہ ایک نیا خوف لے کر آیا۔
انہیں لگا شاید ان کی زندگی اب نارمل نہیں رہے گی۔
شاید وہ کام نہ کر سکیں۔
شاید یہ بیماری بڑھتی جائے۔

چند دن بعد ان کی تھکن بڑھ گئی۔ درد وہی تھا، مگر اب اس میں خوف شامل ہو گیا تھا۔ کیونکہ اب انہیں صرف درد نہیں تھا، ایک “نام” تھا — اور نام نے بیماری کو بڑا بنا دیا تھا۔

حقیقت یہ تھی کہ fibromyalgia نہ کینسر ہے، نہ دل کی بیماری، نہ جوڑوں کو تباہ کرنے والی کوئی سوزش۔ یہ ایک functional pain syndrome ہے، جس میں اعصابی نظام درد کے سگنلز کو زیادہ شدت سے محسوس کرتا ہے۔ خطرناک نہیں، مگر تکلیف دہ ضرور۔ قابلِ انتظام، مگر صبر اور lifestyle تبدیلیوں کے ساتھ۔

مسئلہ تشخیص کا نہیں تھا۔ مسئلہ وضاحت کا تھا۔

اگر اسی لمحے ڈاکٹر یہ کہتا:
“دیکھیں، یہ جان لیوا بیماری نہیں۔ آپ کے جسم میں کوئی نقصان نہیں ہو رہا۔ یہ درد کی حساسیت کا مسئلہ ہے، جسے ہم آہستہ آہستہ exercise، نیند کی درستگی، stress control اور محدود دواؤں سے بہتر کر سکتے ہیں” —
تو شاید لفظ خوف نہ بنتا۔

طبی اصطلاحات ڈاکٹر کے لیے سادہ ہوتی ہیں۔
مریض کے لیے وہ تقدیر کا اعلان بن سکتی ہیں۔

جب ہم کہتے ہیں “Fibromyalgia”، ہم دراصل ایک سائنسی label استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔ مگر مریض کے ذہن میں یہ لفظ “لا علاج بیماری” بن سکتا ہے۔ اور جب خوف بڑھتا ہے تو علامات بھی بڑھتی ہیں۔ کیونکہ fibromyalgia میں ذہنی دباؤ خود درد کو بڑھا دیتا ہے۔

اچھی طب میں تشخیص دینا کافی نہیں، تشخیص سمجھانا ضروری ہے۔
لفظ کے ساتھ اس کا مطلب دینا ضروری ہے۔
ورنہ لفظ خود بیماری بن جاتا ہے۔

چند ہفتوں بعد عالیہ بی بی ایک follow-up پر آئیں۔ اس بار ڈاکٹر نے کرسی آگے کی اور کہا،
“آج ہم صرف یہ بات کریں گے کہ fibromyalgia کیا نہیں ہے۔ یہ آپ کے جوڑ خراب نہیں کر رہی، یہ آپ کے دل یا دماغ کو نقصان نہیں پہنچا رہی، اور آپ نارمل زندگی گزار سکتی ہیں۔ ہمیں صرف آپ کے درد کے سگنلز کو manage کرنا ہے۔”

اس دن دوا کم بدلی، مگر سمجھ بڑھ گئی۔ اور جب سمجھ بڑھتی ہے تو خوف کم ہوتا ہے۔ جب خوف کم ہوتا ہے تو درد بھی کم محسوس ہوتا ہے۔

کیونکہ بعض اوقات بیماری نہیں بڑھتی
لفظ بڑھ جاتا ہے۔

تشخیص کا نام دینا آسان ہے،
تشخیص کا مطلب سمجھانا ذمہ داری ہے۔
طبی زبان علم ہے، مگر سادہ زبان اعتماد ہے۔

Fibromyalgia














































خواتین میں جسمانی درد ہر گھر کا مسلہ ہے— یہ کمزوری نہیں، توجہ کا تقاضا ہےگھر سنبھالنا ہو یا دفتر،زیادہ تر خواتین دن بھر ...
03/03/2026

خواتین میں جسمانی درد ہر گھر کا مسلہ ہے— یہ کمزوری نہیں، توجہ کا تقاضا ہے

گھر سنبھالنا ہو یا دفتر،
زیادہ تر خواتین دن بھر کھڑی رہتی ہیں، جھک کر کام کرتی ہیں،
بچوں کو اٹھاتی ہیں،
اور اکثر اپنی صحت کو سب سے آخر میں رکھتی ہیں۔

اگر گردن، کمر، گھٹنوں یا کندھوں کا درد معمول بن چکا ہے
تو اسے نظر انداز نہ کریں۔

خواتین میں عام درد کی شکایات

گردن اور کندھوں کا درد

مسلسل جھک کر کام کرنے سے
موبائل اور کمپیوٹر کے زیادہ استعمال سے
ذہنی دباؤ سے

🔹 کمر کا درد

بار بار جھکنے سے
وزن اٹھانے سے
غلط بیٹھنے یا کھڑے ہونے سے

گھٹنوں کا درد

وزن زیادہ ہونے سے
کیلشیم اور وٹامن ڈی کی کمی سے
سیڑھیاں زیادہ چڑھنے سے

ایڑی اور پاؤں کا درد
زیادہ دیر کھڑے رہنے سے
غیر مناسب جوتوں سے

پٹھوں کی کمزوری اور جسم میں ہر طرف درد
آئرن، وٹامن ڈی یا دیگر غذائی کمیوں سے
نیند کی کمی سے
مسلسل تھکن سے

عام وجوہات

غلط پوسچر
غذائی کمی
دھوپ کی کمی
ورزش نہ کرنا
ذہنی دباؤ
ہارمونل تبدیلیاں
مسلسل جسمانی مشقت

درد کو معمول سمجھنا نقصان دہ ہے

اکثر خواتین سالوں تک:

درد کش ادویات

مرہم

وقتی آرام

پر گزارا کرتی رہتی ہیں،
مگر اصل وجہ جوں کی توں رہتی ہے۔

ہماری پین کلینک میں کیا مختلف ہے؟

ہم صرف درد نہیں دیکھتے،
بلکہ درد کی اصل وجہ تلاش کرتے ہیں۔

ہم فراہم کرتے ہیں:

مکمل معائنہ اور درست تشخیص۔
پٹھوں، جوڑوں اور اعصاب کا الگ جائزہ۔
غذائی کمی کی نشاندہی۔
ہدفی اور جدید پین مینجمنٹ۔
محفوظ اور بغیر بڑی سرجری کے علاج۔
ورزش اور پوسچر کی درست رہنمائی۔

خواتین میں جسمانی درد “عام بات” نہیں — یہ علاج طلب مسئلہ ہے۔

اگر آپ یا آپ کے گھر کی کوئی خاتون:

گردن یا کمر کے پرانے درد میں مبتلا ہے
گھٹنوں یا ایڑی کے درد سے پریشان ہے
جسم میں مسلسل تھکن اور درد محسوس کرتی ہے

تو آج ہی درست مشورہ لیں۔

اپائنٹمنٹ اور رہنمائی کے لیے ابھی رابطہ کریں
03364404140

خواتین کا درد
گھریلو خواتین کا کمر درد
ورکنگ ویمن گردن درد
وٹامن ڈی کی کمی اور درد
آئرن کی کمی اور تھکن
گھٹنوں کا درد خواتین
پین کلینک
بغیر سرجری درد کا علاج




















































Address

Mafaza Tul Hayat Hospital
Lahore
54000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Muhammad Asad Raza posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr Muhammad Asad Raza:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram