07/03/2026
اسپتال کے گیٹ کے باہر ایک بڑا سا بینر لگا تھا:
“Full Body Checkup Package — صرف 30,000 روپے
ایک دن میں تمام بیماریوں کی تشخیص!”
حاجی صاحب نے رک کر اسے غور سے دیکھا۔
پچھلے کچھ دنوں سے ہلکی سی چکر آتی تھی، دل گھبراتا تھا، اور نیند پوری نہیں ہو رہی تھی۔
بیٹے نے کہا تھا،
“ابو، آج کل بیماری پکڑنا مشکل ہو گیا ہے، بہتر ہے پورا پیکج کروا لیں۔”
کاؤنٹر پر مسکراتی لڑکی نے فائل بنائی۔
“انکل، اس پیکج میں CT scan، echo، thyroid profile، vitamin levels،Heart profile,Diabetes profile tumor markers — سب شامل ہیں۔
آج نہ کروایا تو کل ریٹ بڑھ جائے گا۔”
حاجی صاحب نے ہچکچاتے ہوئے پیسے دیے۔
دل میں ایک عجیب سا خوف بھی تھا، اور تسلی بھی —
اب سب پتا چل جائے گا۔
شام تک رپورٹس کا ڈھیر ان کے ہاتھ میں تھا،
مگر ذہن میں سوال وہی تھا:
“مجھے ہے کیا؟”
اگلے دن وہ رپورٹس لے کر کلینک آئے۔
ڈاکٹر نے فائل کھولی — صفحہ در صفحہ، تقریباً سب نارمل۔
کچھ نمبرز سرخ دائرے میں تھے، مگر کوئی واضح بیماری نہیں۔
ڈاکٹر نے سر اٹھا کر پوچھا،
“یہ سب ٹیسٹ کیوں کروائے گئے؟”
حاجی صاحب نے آہستہ سے جواب دیا،
“ڈاکٹر صاحب، آج کل یہ روٹین ہے… بہتر ہے سب دیکھ لیا جائے۔”
ڈاکٹر کرسی سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئے۔
یہ منظر وہ روز دیکھتے تھے —
ٹیسٹ بہت، تشخیص غائب۔
انہوں نے بات شروع کی،
“چکر کب آتے ہیں؟
پانی کتنا پیتے ہیں؟
نیند کیسی ہے؟
کچھ پریشانی تو نہیں چل رہی؟”
دس منٹ میں کہانی صاف ہو گئی۔
موسم کی تبدیلی، پانی کی کمی، بے وقت کھانا، اور مسلسل ذہنی دباؤ۔
ڈاکٹر نے مسکرا کر کہا،
“آپ کو کوئی خطرناک بیماری نہیں۔
آپ کو ٹیسٹ نہیں، ترتیبِ زندگی کی ضرورت ہے۔”
حاجی صاحب چونک گئے۔
“مگر ڈاکٹر صاحب… اتنے سارے سکین؟”
ڈاکٹر نے نرمی سے جواب دیا،
“مشینیں ہر سوال کا جواب نہیں دیتیں۔
کبھی کبھی زیادہ ٹیسٹ، زیادہ الجھن پیدا کر دیتے ہیں۔”
انہوں نے نسخہ نہیں لکھا۔
صرف ہدایات لکھیں:
پانی، نیند، سادہ خوراک، اور سکون۔
حاجی صاحب اٹھتے ہوئے بولے،
“اگر پہلے یہ بات کوئی کر لیتا،
تو شاید یہ پیکج ہی نہ کرواتا۔”
ڈاکٹر نے آہستہ سے کہا،
“آج کل بیماری کم، خوف زیادہ بیچا جا رہا ہے۔”
جب وہ چلے گئے،
ڈاکٹر نے فائل بند کی اور دل میں سوچا:
تشخیص اب گفتگو سے نہیں،
کاؤنٹر سے شروع ہو رہی ہے۔
جب تشخیص پیکج میں ملنے لگے، تو سمجھ لیں طب تجارت کے قریب پہنچ گئی ہے۔
ہر ٹیسٹ ضروری نہیں — مگر ہر ٹیسٹ کا بوجھ مریض ہی اٹھاتا ہے۔