Dr Muhammad Asad Raza

Dr Muhammad Asad Raza Medical specialist and Consultant Physician.

“دل کے مریض  بہتر رمضان کیسے گزاریں۔ "رمضان میں دل کے مریضوں کا سب سے بڑا سوال یہ ہوتا ہے کہ “کیا میں روزہ رکھ سکتا ہوں؟...
15/02/2026

“دل کے مریض بہتر رمضان کیسے گزاریں۔
"

رمضان میں دل کے مریضوں کا سب سے بڑا سوال یہ ہوتا ہے کہ “کیا میں روزہ رکھ سکتا ہوں؟” اس سوال کا جواب صرف ایک جملے میں نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ دل کے مریض ایک جیسے نہیں ہوتے۔ کچھ مریضوں میں بیماری مستحکم (stable) ہوتی ہے، وہ دواؤں کے ساتھ بہتر رہتے ہیں، اور ان میں روزہ اکثر محفوظ رہتا ہے۔ لیکن کچھ مریض ایسے ہوتے ہیں جن میں دل کی بیماری غیر مستحکم ہوتی ہے، یا حال ہی میں سینے میں درد، سانس پھولنا، یا ہسپتال کا مسئلہ ہوا ہوتا ہے۔ ایسے مریضوں کے لیے روزہ رکھنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ رمضان میں دل کے مریض کے لیے سب سے اہم چیز یہ ہے کہ فیصلہ جذبے سے نہیں، سمجھداری اور طبی پلان سے ہو۔

دل کے مریضوں میں سب سے زیادہ خطرہ اُن افراد کو ہوتا ہے جنہیں حال ہی میں سینے میں درد (angina) ہوا ہو، جنہیں حالیہ مہینوں میں دل کا دورہ پڑا ہو، جن کی سانس معمولی چلنے سے پھولتی ہو، یا جنہیں ہارٹ فیلیر بھی ساتھ ہو۔ اسی طرح جن مریضوں کو دواؤں کے باوجود بار بار chest tightness، پسینہ، یا دل کی دھڑکن بے ترتیب ہونے کی شکایت ہو، ان کے لیے روزہ رکھنے کا فیصلہ خود کرنا درست نہیں۔ دوسری طرف وہ مریض جنہیں اسٹنٹ یا بائی پاس ہو چکا ہو اور کئی ماہ سے علامات نہ ہوں، بلڈ پریشر کنٹرول میں ہو، اور دوائیں باقاعدگی سے چل رہی ہوں، وہ اکثر ڈاکٹر کی اجازت کے ساتھ روزہ رکھ سکتے ہیں۔

دل کے مریض کے لیے رمضان میں سب سے بڑی غلطی یہ ہوتی ہے کہ وہ دواؤں کی ٹائمنگ اپنی مرضی سے بدل دیتا ہے یا دوائیں چھوڑ دیتا ہے۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ “روزہ ہے تو دوائی کم کر دوں” یا “سحری نہیں کی تو دوائی بھی نہیں لوں گا”۔ یہ رویہ خطرناک ہو سکتا ہے۔ دل کے مریض کی زیادہ تر دوائیں رمضان میں بھی جاری رہتی ہیں، صرف ان کا وقت عموماً سحری اور افطار کے مطابق ایڈجسٹ کیا جاتا ہے۔ خاص طور پر وہ دوائیں جو دل کی حفاظت کرتی ہیں، جیسے بلڈ پریشر کی دوائیں، کولیسٹرول کی دوائیں، اور دل کی شریانوں کو محفوظ رکھنے والی دوائیں، ان کو چھوڑنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

دل کے مریضوں میں ایک بہت اہم موضوع blood thinners کا ہے، یعنی Aspirin اور Clopidogrel جیسی دوائیں۔ بہت سے مریض رمضان میں خوف کی وجہ سے یہ دوائیں بند کر دیتے ہیں کہ “پیٹ خراب ہو جائے گا” یا “خون بہہ جائے گا”۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر کسی مریض کو اسٹنٹ لگا ہوا ہے یا ڈاکٹر نے blood thinners جاری رکھنے کو کہا ہے تو انہیں اپنی مرضی سے بند کرنا خطرناک ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے شریان میں clot بننے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ اگر معدے کی تکلیف ہو تو اس کا حل دوائی بند کرنا نہیں، بلکہ ڈاکٹر سے مشورہ کر کے معدے کی حفاظتی دوا شامل کرنا ہے۔

رمضان میں دل کے مریض کے لیے غذا کا معاملہ بھی بہت حساس ہے۔ افطار میں بہت زیادہ نمک، تلی ہوئی چیزیں، میٹھے مشروبات اور زیادہ کھانا دل پر بوجھ ڈالتا ہے اور بلڈ پریشر کو بھی بگاڑ سکتا ہے۔ دل کے مریض کے لیے بہترین افطار وہ ہے جو سادہ ہو، کم نمک ہو، اور جس میں تیل اور شکر کم ہوں۔ اسی طرح سحری میں بہت زیادہ نمکین چیزیں، اچار، چپس اور پراسیسڈ فوڈ سے پرہیز ضروری ہے، کیونکہ یہ چیزیں دن بھر پیاس بھی بڑھاتی ہیں اور دل کے مریض کے لیے نقصان دہ بھی ہو سکتی ہیں۔

دل کے مریضوں میں رمضان کے دوران پانی کی کمی بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ خاص طور پر وہ مریض جو پیشاب والی دوائیں (diuretics) لیتے ہیں یا جنہیں گرمی میں پسینہ زیادہ آتا ہے۔ پانی کی کمی سے دل پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، دل کی دھڑکن تیز ہو سکتی ہے، اور بعض افراد میں کمزوری یا چکر بھی آ سکتے ہیں۔ اس لیے دل کے مریض کے لیے ضروری ہے کہ وہ افطار سے سحری تک پانی کی منصوبہ بندی کرے، اور بہت زیادہ چائے/کافی سے پرہیز کرے کیونکہ یہ جسم سے پانی کے اخراج کو بڑھا سکتی ہیں۔

دل کے مریض کو رمضان میں اپنی جسمانی علامات کو بہت سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ اگر روزے کے دوران یا افطار کے قریب سینے میں درد، سینے میں دباؤ، بائیں بازو یا جبڑے میں درد، سانس پھولنا، پسینہ، شدید کمزوری، یا بے ہوشی جیسا احساس ہو تو یہ خطرے کی علامات ہو سکتی ہیں۔ ایسی حالت میں روزہ جاری رکھنا مناسب نہیں، اور فوری طور پر طبی مدد لینی چاہیے۔ رمضان کا مقصد عبادت ہے، مگر عبادت کے نام پر اپنی جان کو خطرے میں ڈالنا درست نہیں۔

دل کے مریض کے لیے رمضان کے 10 سنہری اصول

1. رمضان سے پہلے اپنے کارڈیالوجسٹ/ڈاکٹر سے اجازت اور پلان لیں

2. دل کی دوائیں اپنی مرضی سے بند نہ کریں

3. Aspirin/Clopidogrel جیسی دوائیں خود سے نہ روکیں

4. سحری کبھی نہ چھوڑیں

5. افطار سادہ رکھیں، تلی ہوئی چیزیں روزانہ نہ کھائیں

6. نمک کم رکھیں (اچار، چپس، فاسٹ فوڈ سے پرہیز)

7. افطار کے بعد ہلکی واک مفید ہے (اگر ڈاکٹر نے منع نہ کیا ہو)

8. پانی کی منصوبہ بندی کریں (افطار سے سحری تک)

9. نیند بہتر رکھیں، رات گئے بھاری کھانے سے پرہیز کریں
🔟 سینے میں درد/سانس پھولے تو فوراً روزہ توڑیں اور ایمرجنسی کریں

دل کے مریض کے لیے رمضان کا بہترین اصول یہ ہے:
“دوائیں جاری رکھیں، افطار سادہ رکھیں، اور علامات کو نظر انداز نہ کریں۔”

رمضان میں دل کے مریض کا روزہ، Angina رمضان میں، Stent patient fasting, Aspirin Clopidogrel Ramadan Urdu, IHD in Ramadan, heart patient Ramadan guide Urdu, coronary artery disease fasting























#پاکستان
#اردو




























































رمضان میں صحت مند وزن کیسے کم کریں؟رمضان فطری طور پر وزن کم کرنے اور جسم کو ہلکا کرنے کا بہترین موقع ہے۔ کیونکہ اس مہینے...
14/02/2026

رمضان میں صحت مند وزن کیسے کم کریں؟

رمضان فطری طور پر وزن کم کرنے اور جسم کو ہلکا کرنے کا بہترین موقع ہے۔ کیونکہ اس مہینے میں کھانے کے اوقات محدود ہو جاتے ہیں، مسلسل اسنیکنگ ختم ہو سکتی ہے، اور جسم کو میٹابولک آرام ملتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں رمضان کے بعد بہت سے لوگ پہلے سے زیادہ بھاری اور تھکے ہوئے محسوس کرتے ہیں۔ اس کی وجہ روزہ نہیں، بلکہ افطار کے بعد کی بے اعتدالی، میٹھے مشروبات، تلی ہوئی اشیاء، اور رات گئے کھانے کی عادت ہے۔ اگر رمضان کو صحیح طریقے سے گزارا جائے تو وزن کم کرنا بالکل ممکن ہے، اور وہ بھی کمزوری کے بغیر۔

رمضان میں وزن کم کرنے کا پہلا اصول یہ ہے کہ آپ افطار کو “کھانے کا آغاز” نہیں بلکہ “روزہ کھولنے کا مرحلہ” سمجھیں۔ جب آپ افطار پر تلی ہوئی چیزوں اور میٹھے مشروبات سے آغاز کرتے ہیں تو آپ کا جسم فوری طور پر شوگر اور انسولین کے جھٹکے میں چلا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں بھوک بڑھ جاتی ہے اور آپ ضرورت سے زیادہ کھا لیتے ہیں۔ وزن کم کرنے کے لیے افطار سادہ ہونا چاہیے: پانی، 1 کھجور (یا ضرورت کے مطابق)، اور پھر چند منٹ کا وقفہ۔ اس کے بعد کھانا اعتدال سے۔ یہی وقفہ وزن کم کرنے کی سب سے بڑی چابی ہے، کیونکہ یہ دماغ کو پیغام دیتا ہے کہ “میں نے کچھ کھا لیا ہے”، اور بے قابو کھانے سے بچاتا ہے۔

رمضان میں وزن کم کرنے کا دوسرا اصول یہ ہے کہ آپ سحری کو کمزور نہ بنائیں۔ بہت سے لوگ وزن کم کرنے کے شوق میں سحری چھوڑ دیتے ہیں یا صرف چائے پر گزارا کرتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دن بھر کمزوری ہوتی ہے، پھر افطار پر شدید بھوک لگتی ہے اور آپ زیادہ کھا لیتے ہیں۔ صحت مند وزن کم کرنے کے لیے سحری میں پروٹین اور فائبر ضروری ہیں، جیسے انڈا، دہی، دال/چنے، سبزی یا سلاد، اور روٹی محدود مقدار میں۔ ایسی سحری آپ کو دن بھر توانائی بھی دیتی ہے اور بھوک بھی قابو میں رکھتی ہے۔

تیسرا اصول یہ ہے کہ رمضان میں وزن کم کرنے کا سب سے بڑا دشمن “مشروبات کی کیلوریز” ہیں۔ شربت، کولڈ ڈرنکس، پیکٹ جوس، اور زیادہ میٹھی چائے ایک دن میں اتنی کیلوریز دے دیتے ہیں کہ روزہ رکھنے کے باوجود وزن کم نہیں ہوتا۔ وزن کم کرنے کے لیے بہترین انتخاب پانی ہے۔ اگر ذائقہ چاہیے تو سادہ لیموں پانی (بغیر چینی) یا ہلکی سی سونف/الائچی والی چائے استعمال کی جا سکتی ہے، مگر روزانہ شربت اور کولڈ ڈرنک وزن کم کرنے کے راستے میں دیوار بن جاتے ہیں۔

چوتھا اصول یہ ہے کہ افطار اور رات کے کھانے میں پلیٹ کا نظام درست کریں۔ رمضان میں وزن کم کرنے کے لیے ضروری نہیں کہ آپ بھوکے رہیں، ضروری یہ ہے کہ آپ پلیٹ کو ترتیب دیں۔ بہترین پلیٹ یہ ہے کہ آدھی پلیٹ سبزی یا سلاد ہو، ایک حصہ پروٹین ہو (دال، مرغی، مچھلی، گوشت مناسب مقدار میں)، اور روٹی یا چاول محدود ہوں۔ اگر آپ نے پلیٹ کا یہ اصول اپنا لیا تو وزن کم ہونا شروع ہو جاتا ہے، کیونکہ اس سے انسولین کا بگاڑ کم ہوتا ہے اور جسم چربی کو بہتر طریقے سے استعمال کرنے لگتا ہے۔

پانچواں اصول یہ ہے کہ تراویح کے بعد دوبارہ بھاری کھانا وزن کم کرنے کو ختم کر دیتا ہے۔ بہت سے لوگ افطار پر بھی کھاتے ہیں، پھر تراویح کے بعد دوبارہ کھاتے ہیں، اور پھر رات گئے چائے کے ساتھ کچھ اور۔ یہ دراصل “ایک لمبی رات کی eating cycle” ہے، جس میں روزہ کے فائدے ضائع ہو جاتے ہیں۔ اگر وزن کم کرنا ہے تو تراویح کے بعد کھانا ہلکا رکھیں، یا اگر افطار میں مناسب کھا لیا ہے تو صرف پانی اور ہلکی چائے کافی ہے۔

چھٹا اصول یہ ہے کہ رمضان میں وزن کم کرنے کے لیے سخت ورزش ضروری نہیں، مگر روزانہ ہلکی واک بہت ضروری ہے۔ افطار کے 30–60 منٹ بعد 10 سے 20 منٹ کی واک ہاضمے کو بہتر کرتی ہے، شوگر کو کنٹرول میں رکھتی ہے، اور چربی کم کرنے کے عمل کو تیز کرتی ہے۔ رمضان میں سب سے آسان اور محفوظ ورزش یہی ہے۔

ساتواں اور آخری اصول یہ ہے کہ رمضان میں وزن کم کرنے کا تعلق صرف کھانے سے نہیں، نیند سے بھی ہے۔ اگر آپ بہت کم سوئیں گے، دیر سے سوئیں گے، اور پورا دن سست رہیں گے تو جسم کے بھوک والے ہارمونز بگڑ جاتے ہیں اور cravings بڑھ جاتی ہیں۔ رمضان میں اگر آپ نیند بہتر کر لیں تو وزن کم کرنا حیرت انگیز طور پر آسان ہو جاتا ہے۔

رمضان میں وزن کم کرنے کے 10 آسان اصول (ایک جگہ)

1. افطار سادہ رکھیں، وقفہ ضرور دیں
2. تلی ہوئی چیزیں روزانہ نہ کھائیں
3. شربت/کولڈ ڈرنک کو “روزانہ” سے نکال دیں
4. سحری کبھی نہ چھوڑیں
5. سحری میں پروٹین + فائبر لازمی رکھیں
6. پلیٹ رول: آدھی سبزی، مناسب پروٹین، کم روٹی/چاول
7. میٹھا روزانہ نہ ہو
8. تراویح کے بعد بھاری کھانا نہ ہو
9. افطار کے بعد 10–20 منٹ واک
10. نیند بہتر کریں (کم از کم 6 گھنٹے مجموعی)

رمضان میں وزن کم کرنے کا راز یہ نہیں کہ آپ کمزور ہو جائیں،
راز یہ ہے کہ آپ سحری و افطار کو نظم اور اعتدال سے کریں۔

رمضان میں وزن کم کرنے کا طریقہ، Ramzan weight loss Urdu، روزے میں وزن کم کیسے کریں، افطار میں کیا کھائیں وزن کم کرنے کے لیے، سحری وزن کم کرنے کے لیے، Ramadan diet plan for weight loss






































LahoreHealth








“بلڈ پریشر کے مریض کے لیے رمضان میں تندرست رہنے کے لازمی اصول"رمضان میں بلڈ پریشر کے مریضوں کی بڑی تعداد روزہ رکھ سکتی ہ...
14/02/2026

“بلڈ پریشر کے مریض کے لیے رمضان میں تندرست رہنے کے لازمی اصول"

رمضان میں بلڈ پریشر کے مریضوں کی بڑی تعداد روزہ رکھ سکتی ہے، اور بہت سے لوگوں میں رمضان کے دوران بلڈ پریشر بہتر بھی ہو جاتا ہے۔ مگر مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب مریض یہ سمجھ لے کہ “روزہ ہے، تو دوائی کی ضرورت کم ہو گئی ہوگی” یا پھر افطار میں نمک، تلی ہوئی چیزیں، اور چائے/کافی کی زیادتی معمول بن جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ بلڈ پریشر کا تعلق صرف دوائی سے نہیں، بلکہ پانی، نمک، نیند، ذہنی دباؤ اور کھانے کے انداز سے بھی ہوتا ہے۔ رمضان میں اگر یہ چیزیں بے ترتیب ہو جائیں تو بلڈ پریشر بڑھ بھی سکتا ہے اور خطرناک حد تک گر بھی سکتا ہے۔

بلڈ پریشر کے مریض کے لیے پہلی بات یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہر مریض کا رسک ایک جیسا نہیں ہوتا۔ وہ مریض جن کا بلڈ پریشر دوائی کے ساتھ مناسب کنٹرول میں ہو، جنہیں حالیہ دنوں میں چکر، بے ہوشی، سینے کا درد یا فالج جیسی علامات نہ ہوئی ہوں، اور جنہیں گردوں یا دل کی شدید بیماری نہ ہو—وہ عام طور پر روزہ رکھ سکتے ہیں۔ لیکن وہ مریض جن کا بلڈ پریشر بار بار بہت زیادہ رہتا ہو، یا جنہیں حال ہی میں فالج، دل کا دورہ، شدید ہارٹ فیلیر، یا گردوں کی بیماری ہو، ان کے لیے رمضان میں روزہ رکھنے کا فیصلہ اپنی مرضی سے نہیں ہونا چاہیے۔ ایسے مریضوں کو رمضان سے پہلے ڈاکٹر سے پلان بنانا ضروری ہے۔

رمضان میں بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے سب سے بڑی غلطی دوائی کی ٹائمنگ بگاڑنا ہے۔ اکثر مریض سحری میں جلدی کے چکر میں دوائی چھوڑ دیتے ہیں، یا افطار کے وقت ایک ساتھ کئی دوائیں لے لیتے ہیں۔ کچھ لوگ یہ بھی کر دیتے ہیں کہ دوائی ہی بند کر دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں چند دن بعد بلڈ پریشر خطرناک حد تک بڑھ جاتا ہے اور سر درد، ناک سے خون، چکر، یا سینے کی گھبراہٹ شروع ہو جاتی ہے۔ اصول بہت واضح ہے: بلڈ پریشر کی دوائی رمضان میں بھی جاری رہتی ہے، صرف اس کا وقت بدلتا ہے۔ عام طور پر زیادہ تر مریضوں میں دوائی کا وقت افطار کے بعد یا سحری میں ایڈجسٹ کیا جاتا ہے، مگر یہ فیصلہ دوائی کی قسم اور مریض کی حالت کے مطابق ہوتا ہے۔

بلڈ پریشر کے مریضوں میں ایک خاص مسئلہ وہ دوائیں ہیں جو پیشاب زیادہ کرتی ہیں (یعنی diuretics)۔ رمضان میں اگر یہ دوائیں سحری میں لی جائیں تو دن کے دوران پانی کی کمی اور کمزوری بڑھ سکتی ہے۔ اسی لیے ایسے مریضوں کو رمضان سے پہلے ڈاکٹر سے خاص طور پر مشورہ کرنا چاہیے کہ ان کی دوائی کا وقت کیسے ایڈجسٹ کیا جائے۔ اسی طرح کچھ مریضوں میں افطار کے بعد اچانک بہت زیادہ کھانا، زیادہ نمک اور زیادہ چائے لینے سے بلڈ پریشر تیزی سے بڑھ جاتا ہے۔ اس لیے رمضان میں بلڈ پریشر کا سب سے بڑا علاج صرف دوا نہیں، بلکہ نمک اور طرزِ زندگی کا کنٹرول ہے۔

رمضان میں بلڈ پریشر کے مریض کے لیے سحری اور افطار میں چند اصول بہت ضروری ہیں۔ سحری میں بہت زیادہ نمکین چیزیں، اچار، پکوڑے، چپس، یا تلی ہوئی چیزیں لینے سے دن بھر پیاس بھی بڑھتی ہے اور بلڈ پریشر بھی بگڑ سکتا ہے۔ افطار میں کولڈ ڈرنکس اور مصنوعی شربت وقتی طور پر سکون دیتے ہیں مگر اصل میں پانی کی کمی اور شوگر اسپائکس کو بڑھا دیتے ہیں، جس سے بلڈ پریشر پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ رمضان میں بہتر یہ ہے کہ افطار سادہ ہو، پانی مناسب مقدار میں ہو، اور چائے/کافی کو حد میں رکھا جائے۔

بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے ایک اور بہت اہم بات نیند ہے۔ رمضان میں دیر سے سونا، کم سونا، اور پھر سحری کے بعد دوبارہ نیند کا بے ترتیب نظام جسم کے ہارمونز اور اعصابی نظام کو متاثر کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں بلڈ پریشر بھی غیر متوازن ہو سکتا ہے۔ اسی لیے رمضان میں بلڈ پریشر کو کنٹرول رکھنے کے لیے صرف کھانے کی اصلاح کافی نہیں، نیند اور routine کی اصلاح بھی ضروری ہے۔

آخر میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ بلڈ پریشر کے مریض کو رمضان میں اپنے جسم کے سگنلز کو سننا چاہیے۔ اگر شدید سر درد، نظر دھندلانا، سینے میں درد، سانس پھولنا، ہاتھ پاؤں سن ہونا، یا شدید چکر محسوس ہوں تو یہ خطرے کی علامات ہو سکتی ہیں۔ ایسی حالت میں بلڈ پریشر چیک کرنا ضروری ہے، اور اگر علامات شدید ہوں تو روزہ جاری رکھنے کے بجائے فوری طبی مدد لینی چاہیے۔ رمضان کا مقصد نقصان نہیں، حفاظت کے ساتھ عبادت ہے۔

بلڈ پریشر کے مریض کے لیے رمضان کے 8 سنہری اصول

1. دوائی خود سے بند نہ کریں۔
2. دوائی کی ٹائمنگ رمضان سے پہلے ڈاکٹر سے فائنل کریں۔
3. سحری میں نمک کم رکھیں (اچار، چپس، فاسٹ فوڈ سے پرہیز)۔
4. افطار میں تلی ہوئی چیزیں روزانہ نہ کھائیں۔
5. پانی کی منصوبہ بندی کریں (افطار سے سحری تک)۔
6. چائے/کافی حد میں رکھیں۔
7. نیند اور routine بہتر بنائیں۔
8. سر درد، سینے کا درد، چکر یا نظر دھندلانا ہو تو فوراً BP چیک کریں

بلڈ پریشر کے مریض کے لیے رمضان کا اصول یہ ہے:
“دوائی جاری رکھیں، نمک کم کریں، اور پانی و نیند کو منظم رکھیں۔”

رمضان میں بلڈ پریشر، بلڈ پریشر کے مریض کا روزہ، BP کی دوائیں رمضان میں، ہائی بلڈ پریشر رمضان، low BP رمضان میں، hypertension in Ramadan Urdu, blood pressure medicine timing Ramada


#بلڈپریشر








































12/02/2026

سرکاری اسپتال کی OPD میں حسبِ معمول رش تھا۔ عبدالرحمٰن صاحب فجر کے بعد آئے تھے، نمبر دوپہر میں لگا۔ پیٹ کے دائیں حصے میں بار بار درد، متلی، اور کھانے کے بعد گھبراہٹ—ڈاکٹر نے تفصیل سے ہسٹری لی، مکمل معائنہ کیا، اور الٹراساؤنڈ دیکھا: Gallstones with recurrent biliary colic۔ فیصلہ طبی اعتبار سے واضح تھا۔ ڈاکٹر نے صاف کہا کہ سرجری ضروری ہے؛ یہ elective cholecystectomy کا کیس ہے اور دواؤں سے اب مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ عبدالرحمٰن صاحب نے سکھ کا سانس لیا—کم از کم تشخیص درست تھی۔
پھر اگلا جملہ آیا، اور وزن رکھتا تھا: waiting list تقریباً چھ ماہ کی ہے۔ ڈاکٹر نے فوراً وضاحت کی کہ یہ محض تاریخ نہیں؛ بار بار درد کے ساتھ اتنا طویل انتظار محفوظ نہیں، کیونکہ پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھتا ہے۔ یعنی نہ تو سرجری غیر ضروری ہے، نہ ہی اسے محض فہرست کے سہارے ٹالا جانا چاہیے۔ مسئلہ یہاں سسٹم کا تھا، بیماری کا نہیں۔
OPD سے نکلتے ہی ایک شخص قریب آیا—نہ ڈاکٹر، نہ نرس۔ اس نے دھیمے لہجے میں کہا کہ پرائیویٹ میں جلد آپریشن ہو سکتا ہے؛ سرجن وہی ہے جو یہاں آپریٹ کرتا ہے۔ “بس بات کرنی پڑے گی۔” یہ جملہ عبدالرحمٰن صاحب کو چونکا گیا۔ وہ سمجھ گئے کہ سرجری کی ضرورت کو کمیشن کے راستے میں بدلا جا رہا ہے—گویا اختیار مریض کے ہاتھ سے نکل رہا ہے۔
گھر آ کر انہوں نے خود سے سوال کیا: سرجری ضروری ہے—یہ مان لیا۔ مگر کیا فیصلہ بھی کسی اور نے کرنا ہے؟ اگلے دن وہ دوسری رائے کے لیے گئے۔ یہاں بات بالکل صاف رکھی گئی۔ ڈاکٹر نے پہلے سرکاری فائل دیکھی، پھر مریض کو۔ اس نے واضح کہا کہ سرجری کی indication درست ہے اور delay کا خطرہ بھی حقیقی ہے؛ مگر اس کے ساتھ یہ بھی کہا کہ مریض کو کسی ایک راستے پر دھکیلنا غلط ہے۔ درست عمل یہ ہے کہ مریض کو بتایا جائے: سرجری elective ہے یا urgent، انتظار کے خطرات کیا ہیں، اور کہاں کہاں بروقت اور محفوظ طریقے سے ہو سکتی ہے۔
ڈاکٹر نے وہ بات کہی جو کم کہی جاتی ہے: cholecystectomy اور herniotomy جیسے عام آپریشنز میں paid referrals زیادہ دیکھے جاتے ہیں—خاص طور پر جب سرکاری waiting lists لمبی ہوں۔ یہ نہ تو سرجری کے خلاف دلیل ہے، نہ نجی شعبے کے خلاف؛ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب waiting list کے خوف کو کمیشن کے موقع میں بدلا جائے۔ صحیح راستہ یہ ہے کہ اگر سرکاری نظام بروقت سرجری نہیں دے پا رہا تو مریض کو متبادل محفوظ آپشنز دیے جائیں—شفاف انداز میں، بغیر دباؤ کے۔
آخر میں عبدالرحمٰن صاحب کو ایک واضح، متوازن منصوبہ ملا: سرجری کرنی ہے، غیر ضروری تاخیر نہیں کرنی، اور فیصلہ مریض کا ہوگا—سرکاری یا نجی، جس جگہ بروقت، محفوظ اور قابلِ اعتماد ہو۔ کمرے سے نکلتے ہوئے ایک بات ذہن میں ٹھہر گئی: غیر ضروری جلد بازی بھی غلط ہے، اور غیر ضروری تاخیر بھی۔
سرجن کی طرف referral ضروری ہے جب clinical indication موجود ہو۔ اتنا ہی ضروری یہ بھی ہے کہ سرجری کو محض waiting list کی وجہ سے خطرناک حد تک مؤخر نہ کیا جائے۔ غلط وہ راستہ ہے جو مریض سے اختیار چھین لے اور ضرورت کو کمیشن میں بدل دے۔ اچھی طب وہ ہے جہاں ضرورت بھی سچی ہو، وقت بھی درست ہو، اور فیصلہ مریض کے پاس ہو۔















#ادویات #دوائیں #نسخہ #علاج

ہمارے بزرگ خاموشی سے تکلیف برداشت کرتے ہیں…اور بیماری اچانک بگڑ جاتی ہے۔وقت پر نگہداشت ضروری ہے۔ بزرگوں کی صحت کیوں اچان...
11/02/2026

ہمارے بزرگ خاموشی سے تکلیف برداشت کرتے ہیں…
اور بیماری اچانک بگڑ جاتی ہے۔
وقت پر نگہداشت ضروری ہے۔

بزرگوں کی صحت کیوں اچانک بگڑ جاتی ہے؟

عمر کے ساتھ جسم کی طاقت اور مدافعت کم ہو جاتی ہے۔
اس لیے معمولی سا مسئلہ بھی:
* شدید کمزوری
* بے ہوشی
* گرنے
* انفیکشن
* یا دل/دماغ کے حادثات
میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

بزرگوں میں عام طبی مسائل (Common Conditions)

* ہائی بلڈ پریشر
* شوگر
* کولیسٹرول
* دل کی بیماریاں
* سانس کی تکالیف (دمہ، COPD)
* گردوں کی کمزوری
* جوڑوں اور کمر کا درد
* یادداشت کی کمزوری
* نیند کی خرابی
* قبض، گیس اور کم بھوک
* پیشاب کے مسائل
* کمزوری، چکر، گرنے کا خطرہ

بزرگوں میں خطرناک بگاڑ کی علامات (Deterioration Signs)

اگر بزرگ میں یہ علامات آئیں تو فوراً توجہ ضروری ہے:

* اچانک شدید کمزوری یا غنودگی
* بے ہوشی یا گر جانا
* سانس پھولنا یا سینے میں درد
* بولنے میں لڑکھڑاہٹ
* جسم کے ایک حصے میں کمزوری
* اچانک الجھن یا یادداشت میں شدید تبدیلی
* تیز بخار یا کپکپی
* پانی کم پینا، پیشاب کم ہونا
* بار بار الٹی یا شدید اسہال

بزرگوں میں بڑے خطرناک واقعات (Major Adverse Events)

بزرگوں میں عام طوریہ واقعات اچانک ہو سکتے ہیں:

* فالج (Stroke)
* دل کا دورہ (Heart Attack)
* نمونیا اور شدید انفیکشن
* پانی کی کمی (Dehydration)
* شوگر بہت کم یا بہت زیادہ
* بلڈ پریشر بہت کم یا بہت زیادہ
* گر کر ہڈی ٹوٹ جانا
* ادویات کے غلط اثرات (Overdose / Side effects)

آن لائن Elderly Care Consultation میں کیا ملتا ہے؟

مکمل میڈیکل اسیسمنٹ
رپورٹس کا جائزہ اور دواؤں کی درست ترتیب
شوگر، بلڈ پریشر، گردے، دل کی نگرانی
کمزوری، نیند، بھوک، قبض کا حل
گرنے سے بچاؤ کی رہنمائی
گھر بیٹھے
Care Plan + Follow-up
✔ خاندان والوں کیلئے واضح ہدایات

یہ کنسلٹیشن خاص طور پر کن کیلئے مفید ہے؟

* وہ بزرگ جو بار بار اسپتال نہیں جا سکتے
* وہ جن کے ساتھ caretaker موجود ہے
* وہ جن کی دوائیں زیادہ ہیں (Multiple medicines)
* وہ جنہیں بار بار کمزوری، چکر یا سانس کی شکایت رہتی ہے
یاد رکھیں

بزرگوں کی بہترین دیکھ بھال
“ایمرجنسی” سے پہلے شروع ہوتی ہے۔

آن لائن کنسلٹیشن کیلئے رابطہ کریں:

0333-4903766 | 0336-4404140

اپنے والدین کی صحت کو
وقت پر سنبھالیں—
کیونکہ بعد میں پچھتاوا فائدہ نہیں
ٹرینڈنگ ہیش ٹیگز:

لاہور سٹی ہیش ٹیگز:
#لاہوریز
انگلش میڈیکل ہیش ٹیگز:

“شوگر کے مریض رمضان کیسے گزاریں!"رمضان میں شوگر کے مریضوں کے ذہن میں سب سے اہم سوال یہ ہوتا ہے:“کیا میں روزہ رکھ سکتا ہو...
10/02/2026

“شوگر کے مریض رمضان کیسے گزاریں!"
رمضان میں شوگر کے مریضوں کے ذہن میں سب سے اہم سوال یہ ہوتا ہے:
“کیا میں روزہ رکھ سکتا ہوں؟”
یہ سوال بالکل درست ہے، کیونکہ شوگر کے مریض کے لیے روزہ کبھی فائدہ مند ہو سکتا ہے اور کبھی خطرناک بھی۔ اصل مسئلہ روزہ نہیں ہوتا، مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ مریض اپنی حالت سمجھے بغیر، دواؤں کی ٹائمنگ درست کیے بغیر اور سحری و افطار کے اصول سمجھے بغیر روزہ رکھ لیتا ہے۔ پھر کمزوری، لو شوگر، ہائی شوگر، یا پانی کی کمی جیسے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔
شوگر کے مریضوں کے لیے پہلی بات یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہر مریض ایک جیسا نہیں ہوتا۔
کچھ لوگوں کی شوگر صرف پرہیز سے کنٹرول میں ہوتی ہے، کچھ گولیاں لیتے ہیں، اور کچھ انسولین پر ہوتے ہیں۔ اسی لیے روزہ رکھنے کا فیصلہ سب کے لیے ایک جیسا نہیں ہو سکتا۔ طبی طور پر شوگر کے مریضوں کو عام طور پر تین درجوں میں دیکھا جاتا ہے: کم خطرہ، درمیانہ خطرہ، اور زیادہ خطرہ۔ کم خطرے میں وہ مریض آتے ہیں جن کی شوگر مناسب کنٹرول میں ہو، جنہیں بار بار لو شوگر نہ ہوتی ہو، اور جو سحری و افطار میں نظم کے ساتھ رہ سکتے ہوں۔ درمیانے خطرے میں وہ مریض آتے ہیں جن کی شوگر کبھی کنٹرول میں اور کبھی خراب رہتی ہو، یا جو ایسی دوائیں لیتے ہوں جن سے لو شوگر ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ جبکہ زیادہ خطرے میں وہ مریض شامل ہوتے ہیں جنہیں حالیہ دنوں میں شدید لو شوگر ہوئی ہو، شوگر بہت زیادہ رہتی ہو، گردوں یا دل کی بیماری ساتھ ہو، یا جو انسولین کے پیچیدہ نظام پر ہوں۔ ایسے مریضوں کو خود فیصلہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ رمضان سے پہلے ڈاکٹر کے ساتھ واضح پلان بنانا ضروری ہے۔
اگر آپ روزہ رکھنے کے قابل ہیں تو یاد رکھیں: شوگر کے مریض کے لیے رمضان میں کامیابی صرف “کم کھانے” میں نہیں، بلکہ سمجھداری سے کھانے میں ہے۔ سحری شوگر کے مریض کے لیے دن بھر کا سب سے مضبوط سہارا ہے۔ سحری چھوڑ دینا یا سحری میں صرف چائے اور پراٹھا کھا لینا اکثر دن بھر کمزوری، چکر اور لو شوگر کی وجہ بن جاتا ہے۔ بہترین سحری وہ ہوتی ہے جس میں پروٹین اور فائبر ضرور ہوں، مثلاً انڈا یا دال/چنے، دہی، سبزی یا سلاد، اور روٹی محدود مقدار میں۔ سحری میں بہت زیادہ نمک، میٹھا، یا چائے/کافی رکھنے سے پیاس بھی بڑھتی ہے اور شوگر کا توازن بھی خراب ہو سکتا ہے۔
افطار کے وقت شوگر کے مریض کی سب سے عام غلطی یہ ہوتی ہے کہ وہ افطار کو “پیٹ بھرنے کا وقت” سمجھ لیتا ہے۔ روزہ کھولتے ہی میٹھے مشروبات، شربت، کولڈ ڈرنکس اور تلی ہوئی چیزیں شوگر کو تیزی سے اوپر لے جاتی ہیں۔ شوگر کے مریض کے لیے بہتر طریقہ یہ ہے کہ افطار پانی اور 1 کھجور سے کیا جائے (اگر شوگر بہت زیادہ رہتی ہو تو کھجور کے بارے میں ڈاکٹر سے مشورہ کیا جائے)، پھر چند منٹ کا وقفہ رکھا جائے، اور اس کے بعد کھانے میں آدھی پلیٹ سبزی یا سلاد، مناسب مقدار میں پروٹین، اور روٹی/چاول محدود رکھ کر کھائیں جائیں۔ اگر افطار سادہ ہو تو شوگر کے مریض کے لیے رمضان واقعی آسان اور مفید بن سکتا ہے۔
ایک بہت اہم بات یہ بھی ہے کہ شوگر کے مریض کے لیے روزہ صرف “جذبے” سے نہیں رکھا جاتا، بلکہ احتیاط اور حکمت سے رکھا جاتا ہے۔ اگر دورانِ روزہ شدید کمزوری ہو، چکر آئیں، پسینہ آئے، کپکپی ہو، نظر دھندلا جائے، یا بے ہوشی محسوس ہو تو یہ لو شوگر کی علامات ہو سکتی ہیں۔ اسی طرح اگر شوگر خطرناک حد تک بڑھ جائے اور شدید پیاس، بار بار پیشاب یا الٹی جیسی علامات ہوں تو یہ بھی خطرے کی بات ہے۔ ایسی صورت میں روزہ توڑنا گناہ نہیں بلکہ ضرورت ہے۔ رمضان انسان کو نقصان میں ڈالنے کے لیے نہیں، بلکہ نظم، صحت اور تقویٰ کی طرف لے جانے کے لیے ہے۔
شوگر کے مریض کے لیے رمضان کا اصول یہ ہے:
“روزہ رکھیں، مگر پلان کے ساتھ — بے احتیاطی کے ساتھ نہیں۔”
رمضان اور شوگر
شوگر کے مریض کا روزہ
شوگر کے مریض کے لیے سحری
شوگر کے مریض کے لیے افطار
رمضان میں لو شوگر
رمضان میں شوگر کنٹرول
Diabetes in Ramadan Urdu
Ramadan diet for diabetics
انسولین رمضان میں
شوگر کی دوائیں رمضان میں


































































“رمضان کھانے کا تہوار نہیں، یہ تربیت کا مہینہ ہے۔”رمضان کے بارے میں سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ ہم اسے ایک ایسے مہینے کے...
09/02/2026

“رمضان کھانے کا تہوار نہیں، یہ تربیت کا مہینہ ہے۔”

رمضان کے بارے میں سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ ہم اسے ایک ایسے مہینے کے طور پر گزارنے لگتے ہیں جس میں افطار اور رات کے کھانے “خصوصی” ہونے چاہئیں۔ آہستہ آہستہ یہ سوچ ایک کلچر بن جاتی ہے: افطار پر کئی ڈشیں، پھر میٹھا، پھر چائے، پھر تراویح کے بعد دوبارہ کھانا، اور پھر رات گئے کچھ نہ کچھ۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ رمضان کے آخری عشرے تک بہت سے لوگ عبادت میں ہلکا پن محسوس کرنے کے بجائے جسمانی بوجھ، بدہضمی، قبض، سستی اور نیند کی خرابی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس کا سبب روزہ نہیں ہوتا، اس کا سبب ہمارا طرزِ زندگی ہوتا ہے۔

رمضان دراصل جسم کو ایک نایاب موقع دیتا ہے کہ وہ کھانے کے مسلسل دباؤ سے نکل کر توازن کی طرف واپس آئے۔ مگر جب افطار کو ہم “پیٹ بھرنے کی اجازت” سمجھ لیتے ہیں تو روزہ جسم کے لیے ری سیٹ کے بجائے ایک سخت جھٹکا بن جاتا ہے۔ پورا دن بھوک کے بعد اچانک زیادہ مقدار، زیادہ تیل، زیادہ نمک اور زیادہ شکر لینے سے جسم کو سکون نہیں ملتا بلکہ وہ دفاعی حالت میں چلا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے افراد رمضان میں ہی معدے کی جلن، گیس، سر درد، تھکن اور چڑچڑاہٹ بڑھنے کی شکایت کرتے ہیں
رمضان کو دعوتوں اور پکوانوں کا مہینہ بنانے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اس سے روزے کا اصل مقصد کمزور ہو جاتا ہے۔ روزہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ خواہش کے باوجود رک جانا، ضرورت کے مطابق لینا، اور اعتدال کے ساتھ جینا کیا ہوتا ہے۔ اگر افطار پر ہمارا نفس بے قابو ہو جائے تو دن بھر کا ضبط عملی طور پر ضائع ہو جاتا ہے۔ اسی لیے رمضان میں کھانے کی سادگی کوئی “ڈائٹ” نہیں بلکہ روزے کی روح کے مطابق طرزِ زندگی ہے۔

اس مہینے میں سب سے بہترین حکمت یہ ہے کہ افطار کو مختصر، سادہ اور باوقار رکھا جائے، اور کھانے کو عبادت کے اوقات پر غالب نہ آنے دیا جائے۔ اگر گھر میں افطار ہو تو 2–3 چیزیں کافی ہیں، اور اگر کہیں دعوت ہو تو بھی اصول وہی ہے: پہلے روزہ کھولیں، چند منٹ توقف کریں، پھر اعتدال سے کھائیں۔ رمضان میں اصل کامیابی یہ نہیں کہ آپ نے کتنی ڈشیں چکھیں، بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ آپ نے اپنے نفس کو کتنی بار “نہیں” کہا اور اپنے جسم کو کتنی بار “آرام” دیا۔

رمضان کو feast season بنانے کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ اس سے وزن اور شوگر جیسے مسائل اکثر بہتر ہونے کے بجائے بڑھ جاتے ہیں، اور عید کے بعد لوگ خود کو رمضان سے پہلے سے زیادہ بھاری اور تھکا ہوا محسوس کرتے ہیں۔ جبکہ رمضان کا حقیقی مزاج یہ ہے کہ انسان جسمانی طور پر ہلکا، ذہنی طور پر صاف اور روحانی طور پر مضبوط ہو کر نکلے۔ یہ تبھی ممکن ہے جب رمضان میں کھانا زندگی کا مرکز نہ بنے، بلکہ کھانا صرف ضرورت کے مطابق ہو اور باقی وقت عبادت، نیند، پانی اور معمول کی حرکت کے ساتھ منظم ہو۔

رمضان میں اصل جشن دسترخوان پر نہیں، اپنے نفس پر قابو پانے میں ہے۔ Ramadan mindset

Ramadan training month
Ramadan and health
Ramadan eating habits
Islamic lifestyle Ramadan
Fasting and self control
Ramadan nutrition
Spiritual benefits of fasting
Ramadan discipline
Islamic self improvement
Ramadan routine
Nafas control in Ramadan
Healthy iftar habits
Ramadan lifestyle change















































Address

Mafaza Tul Hayat Hospital
Lahore
54000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Muhammad Asad Raza posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr Muhammad Asad Raza:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram