15/02/2026
“دل کے مریض بہتر رمضان کیسے گزاریں۔
"
رمضان میں دل کے مریضوں کا سب سے بڑا سوال یہ ہوتا ہے کہ “کیا میں روزہ رکھ سکتا ہوں؟” اس سوال کا جواب صرف ایک جملے میں نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ دل کے مریض ایک جیسے نہیں ہوتے۔ کچھ مریضوں میں بیماری مستحکم (stable) ہوتی ہے، وہ دواؤں کے ساتھ بہتر رہتے ہیں، اور ان میں روزہ اکثر محفوظ رہتا ہے۔ لیکن کچھ مریض ایسے ہوتے ہیں جن میں دل کی بیماری غیر مستحکم ہوتی ہے، یا حال ہی میں سینے میں درد، سانس پھولنا، یا ہسپتال کا مسئلہ ہوا ہوتا ہے۔ ایسے مریضوں کے لیے روزہ رکھنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ رمضان میں دل کے مریض کے لیے سب سے اہم چیز یہ ہے کہ فیصلہ جذبے سے نہیں، سمجھداری اور طبی پلان سے ہو۔
دل کے مریضوں میں سب سے زیادہ خطرہ اُن افراد کو ہوتا ہے جنہیں حال ہی میں سینے میں درد (angina) ہوا ہو، جنہیں حالیہ مہینوں میں دل کا دورہ پڑا ہو، جن کی سانس معمولی چلنے سے پھولتی ہو، یا جنہیں ہارٹ فیلیر بھی ساتھ ہو۔ اسی طرح جن مریضوں کو دواؤں کے باوجود بار بار chest tightness، پسینہ، یا دل کی دھڑکن بے ترتیب ہونے کی شکایت ہو، ان کے لیے روزہ رکھنے کا فیصلہ خود کرنا درست نہیں۔ دوسری طرف وہ مریض جنہیں اسٹنٹ یا بائی پاس ہو چکا ہو اور کئی ماہ سے علامات نہ ہوں، بلڈ پریشر کنٹرول میں ہو، اور دوائیں باقاعدگی سے چل رہی ہوں، وہ اکثر ڈاکٹر کی اجازت کے ساتھ روزہ رکھ سکتے ہیں۔
دل کے مریض کے لیے رمضان میں سب سے بڑی غلطی یہ ہوتی ہے کہ وہ دواؤں کی ٹائمنگ اپنی مرضی سے بدل دیتا ہے یا دوائیں چھوڑ دیتا ہے۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ “روزہ ہے تو دوائی کم کر دوں” یا “سحری نہیں کی تو دوائی بھی نہیں لوں گا”۔ یہ رویہ خطرناک ہو سکتا ہے۔ دل کے مریض کی زیادہ تر دوائیں رمضان میں بھی جاری رہتی ہیں، صرف ان کا وقت عموماً سحری اور افطار کے مطابق ایڈجسٹ کیا جاتا ہے۔ خاص طور پر وہ دوائیں جو دل کی حفاظت کرتی ہیں، جیسے بلڈ پریشر کی دوائیں، کولیسٹرول کی دوائیں، اور دل کی شریانوں کو محفوظ رکھنے والی دوائیں، ان کو چھوڑنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
دل کے مریضوں میں ایک بہت اہم موضوع blood thinners کا ہے، یعنی Aspirin اور Clopidogrel جیسی دوائیں۔ بہت سے مریض رمضان میں خوف کی وجہ سے یہ دوائیں بند کر دیتے ہیں کہ “پیٹ خراب ہو جائے گا” یا “خون بہہ جائے گا”۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر کسی مریض کو اسٹنٹ لگا ہوا ہے یا ڈاکٹر نے blood thinners جاری رکھنے کو کہا ہے تو انہیں اپنی مرضی سے بند کرنا خطرناک ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے شریان میں clot بننے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ اگر معدے کی تکلیف ہو تو اس کا حل دوائی بند کرنا نہیں، بلکہ ڈاکٹر سے مشورہ کر کے معدے کی حفاظتی دوا شامل کرنا ہے۔
رمضان میں دل کے مریض کے لیے غذا کا معاملہ بھی بہت حساس ہے۔ افطار میں بہت زیادہ نمک، تلی ہوئی چیزیں، میٹھے مشروبات اور زیادہ کھانا دل پر بوجھ ڈالتا ہے اور بلڈ پریشر کو بھی بگاڑ سکتا ہے۔ دل کے مریض کے لیے بہترین افطار وہ ہے جو سادہ ہو، کم نمک ہو، اور جس میں تیل اور شکر کم ہوں۔ اسی طرح سحری میں بہت زیادہ نمکین چیزیں، اچار، چپس اور پراسیسڈ فوڈ سے پرہیز ضروری ہے، کیونکہ یہ چیزیں دن بھر پیاس بھی بڑھاتی ہیں اور دل کے مریض کے لیے نقصان دہ بھی ہو سکتی ہیں۔
دل کے مریضوں میں رمضان کے دوران پانی کی کمی بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ خاص طور پر وہ مریض جو پیشاب والی دوائیں (diuretics) لیتے ہیں یا جنہیں گرمی میں پسینہ زیادہ آتا ہے۔ پانی کی کمی سے دل پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، دل کی دھڑکن تیز ہو سکتی ہے، اور بعض افراد میں کمزوری یا چکر بھی آ سکتے ہیں۔ اس لیے دل کے مریض کے لیے ضروری ہے کہ وہ افطار سے سحری تک پانی کی منصوبہ بندی کرے، اور بہت زیادہ چائے/کافی سے پرہیز کرے کیونکہ یہ جسم سے پانی کے اخراج کو بڑھا سکتی ہیں۔
دل کے مریض کو رمضان میں اپنی جسمانی علامات کو بہت سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ اگر روزے کے دوران یا افطار کے قریب سینے میں درد، سینے میں دباؤ، بائیں بازو یا جبڑے میں درد، سانس پھولنا، پسینہ، شدید کمزوری، یا بے ہوشی جیسا احساس ہو تو یہ خطرے کی علامات ہو سکتی ہیں۔ ایسی حالت میں روزہ جاری رکھنا مناسب نہیں، اور فوری طور پر طبی مدد لینی چاہیے۔ رمضان کا مقصد عبادت ہے، مگر عبادت کے نام پر اپنی جان کو خطرے میں ڈالنا درست نہیں۔
دل کے مریض کے لیے رمضان کے 10 سنہری اصول
1. رمضان سے پہلے اپنے کارڈیالوجسٹ/ڈاکٹر سے اجازت اور پلان لیں
2. دل کی دوائیں اپنی مرضی سے بند نہ کریں
3. Aspirin/Clopidogrel جیسی دوائیں خود سے نہ روکیں
4. سحری کبھی نہ چھوڑیں
5. افطار سادہ رکھیں، تلی ہوئی چیزیں روزانہ نہ کھائیں
6. نمک کم رکھیں (اچار، چپس، فاسٹ فوڈ سے پرہیز)
7. افطار کے بعد ہلکی واک مفید ہے (اگر ڈاکٹر نے منع نہ کیا ہو)
8. پانی کی منصوبہ بندی کریں (افطار سے سحری تک)
9. نیند بہتر رکھیں، رات گئے بھاری کھانے سے پرہیز کریں
🔟 سینے میں درد/سانس پھولے تو فوراً روزہ توڑیں اور ایمرجنسی کریں
دل کے مریض کے لیے رمضان کا بہترین اصول یہ ہے:
“دوائیں جاری رکھیں، افطار سادہ رکھیں، اور علامات کو نظر انداز نہ کریں۔”
رمضان میں دل کے مریض کا روزہ، Angina رمضان میں، Stent patient fasting, Aspirin Clopidogrel Ramadan Urdu, IHD in Ramadan, heart patient Ramadan guide Urdu, coronary artery disease fasting
#پاکستان
#اردو