09/03/2026
ایک وقت تھا جب پاکستان کے شہر اور محلے میں کچھ جنرل پریکٹیشنرز موجود تھے جو خاندانوں کی ابتدائی صحت کی ضروریات دیکھتے تھے۔ بچوں کی ویکسین، بزرگوں کے بلڈ پریشر، معمولی بیماریوں کا علاج , یہ سب کام وہ کرتے تھے۔ مریض اکثر انہی ڈاکٹرز کے پاس جاتے، اور غیر ضروری ٹیسٹ یا مہنگے علاج سے بچتے۔
مگر یہ کبھی ایک منظم، ملک گیر Family Physician سسٹم نہیں تھا جیسا کہ برطانیہ، کینیڈا یا یورپی ممالک میں ہوتا ہے۔ یہاں ہر خاندان کے لیے ایک مقررہ ڈاکٹر، واضح ریفرل سسٹم، اور مربوط پرائمری کیئر کبھی قائم نہیں ہوئی۔ جو ڈاکٹر تھے وہ زیادہ تر انفرادی بنیادوں پر کام کرتے تھے، اور National Health System کی طرح باقاعدہ structure موجود نہیں تھا۔
اب صورتحال یہ ہے کہ اکثر مریض براہِ راست اسپیشلسٹ کے پاس پہنچ جاتے ہیں۔ چھوٹی بیماری کے لیے بھی بڑے ہسپتال یا مہنگے کلینکس کا رخ کیا جاتا ہے، نتیجہ یہ کہ علاج کا خرچ بڑھتا ہے اور اسپیشلسٹ حقیقی پیچیدہ مریضوں کے لیے وقت اور وسائل کم پڑ جاتے ہیں۔
ایک اور اہم نقصان یہ ہے کہ مریض کو continuity of care نہیں ملتی۔ ہر بار نیا ڈاکٹر، نیا مشورہ، نئی ادویات، اور اکثر نئے ٹیسٹ۔ مریض کا علاج ایک مربوط نظام کے بجائے ٹکڑوں میں بٹ جاتا ہے۔
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے یہ مسئلہ پہلے ہی حل کر لیا تھا۔ وہاں General Practitioner یا Family Physician پورے نظام کا گیٹ کیپر ہوتا ہے: مریض پہلے اس کے پاس جاتا ہے، اور صرف ضرورت پڑنے پر اسپیشلسٹ کے پاس ریفر کیا جاتا ہے۔ اس سے نظام منظم رہتا ہے، اخراجات کم ہوتے ہیں، اور مریض محفوظ رہتا ہے۔
پاکستان میں اگر ہم صحت کے نظام کو مؤثر، سستا اور مریض کے لیے محفوظ بنانا چاہتے ہیں تو Family Physician ماڈل کو مضبوط کرنا ہوگا:
تربیت یافتہ جنرل فزیشنز
فیملی میڈیکل سپیشلسٹس
مضبوط پرائمری کیئر
واضح ریفرل سسٹم
ورنہ سلسلہ جاری رہے گا: چھوٹی بیماری کے لیے بڑے ہسپتال، اور ایک ایسا نظام جو ہر سال مزید مہنگا اور غیر مؤثر ہوتا جا رہا ہے۔