Lahore pansar store

Lahore pansar store + DISCLAIMER + This is just an informal page Contact a specialist for Healthcare
+ خبردار +
?

حیرت انگیز دریافت ۔ کیا قوم سو رہی ہے؟اہم اعلان:سائنسدانوں نے ایک انقلابی شے دریافت کر لی ہے۔ اس سے آپ کی زندگی میں اضا...
30/04/2021

حیرت انگیز دریافت ۔ کیا قوم سو رہی ہے؟

اہم اعلان:

سائنسدانوں نے ایک انقلابی شے دریافت کر لی ہے۔ اس سے آپ کی زندگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس سے آپ کی یادداشت تیز ہو جائے گی اور تخلیقی صلاحیت بھی بہتر ہو گی۔ اس سے آپ کا زیادہ پرکشش لگیں گے۔ آپ کو موٹاپے سے بچا سکتی ہے، بے وقت بھوک نہیں لگے گی۔ کینسر کے خلاف دفاع کرنے میں مدد کرے گی۔ بھلکڑ پن سے حفاظت کرے گی۔ زکام اور فلو کو مار بھگائے گی اور اس سے جلد از جلد ریکوری میں مدد دے گی۔ دل کا دورہ پڑنے کے اور سٹروک کے امکان میں کمی کرے گی ، ذیابیطس کو بھی کنٹرول کرنے میں معاون ہوگی۔ آپ زندگی میں زیادہ خوشی اور سکون محسوس کریں گے، بے چینی میں اور ڈیپریشن میں کمی ہو گی۔

کیا آپ اس میں دلچسپی رکھتے ہیں؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگر آپ ایسا اشتہار دیکھیں تو کیا ردِعمل ہو گا؟ اگر یہ کسی نئی دوا کا اشتہار ہو تو کم ہی کوئی اس پر یقین کرے گا۔ اور اگر کوئی اس پر قائل ہو جائے گا وہ اس کے لئے بڑی قیمت دینے کو تیار ہو گا۔ اگر اس کو کلینیکل ٹرائل سے ثابت کیا جا سکے تو اس کو دریافت کرنے والی فارماسیوٹیکل کمپنی کے شئیر آسمان سے باتیں کرنے لگیں گے۔

اس اعلان میں کئے گئے دعوے بلند و بانگ ہیں لیکن غلط نہیں۔ ان دعووں کی بنیاد سترہ ہزار احتیاط سے پرکھی گئی سائنسی تحقیقات پر ہے۔ اور سب سے زبردست؟ اس کی قیمت۔ بالکل مفت۔

یہ دریافت روز کی مکمل نیند ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس بارے میں آگاہی کی یہ ناکامی ہے کہ ہم میں سے اکثر اس کا احساس نہیں کرتے کہ نیند اکسیرِ اعظم ہے۔ دنیا کے ہر شخص کے لئے ہیلتھ کئیر فراہم کرتی ہے۔ جسمانی اور ذہنی بیماریوں میں یہ سب سے اہم علاج ہے۔ اکیسویں صدی میں اس پر ہونے والی تحقیق کا خلاصہ شیکسپئیر کے لکھے مک بیتھ کے باب میں ایک فقرے میں ہے، “اس زندگی کی ضیافت کی سب سے غذائیت والی شے نیند ہے”۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کی والدہ نے بھی آپ کو کچھ ایسا ہی بتایا ہو۔ سائنس کو شکسپئیر کے اس فقرے اور آپ کی والدہ سے مکمل اتفاق ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس وقت شہروں کی دو تہائی آبادی نیند کی قلت کا شکار ہے۔ نیند کی اہمیت کے بارے معاشرے میں اس قدر لاعلمی اس وجہ سے پائی جاتی ہے کہ تاریخی طور پر سائنس یہ بتانے میں ناکام رہی کہ نیند کیوں؟ یہ ایک بائیولوجیکل اسرار رہی۔ سائنس کے کمالات ۔۔۔ جینیات، مالیکیولر بائیولوجی، ہائی پاور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی ۔۔۔ نیند کی تجوری کے قفل کھولنے میں ناکام رہی تھیں۔ اس لاعلمی کو بیان کرنے کے لئے ہم تصور کرتے ہیں کہ آپ کے گھر پہلی اولاد ہوئی ہے اور ڈاکٹر آ کر آپ کو بتاتی ہے،

“مبارک ہو! صحت مند لڑکا ہے۔ اس کے سارے ٹیسٹ ٹھیک ہیں۔ سب کچھ اچھا لگ رہا ہے۔ لیکن ایک بات ہے۔ اب سے لے کر اور اپنی تمام زندگی میں یہ بچہ بار بار بے ہوشی کی سی کیفیت میں چلا جایا کرے گا۔ اور اس دوران یہ کئی بار عجیب عجیب چیزیں بھی دیکھا کرے گا۔ یہ کیفیت اس کی زندگی کا ایک تہائی وقت اس پر طاری رہے گی اور مجھے کچھ پتا نہیں کہ یہ ایسا کیوں کرے گا اور ایسا ہوتا کیوں ہے”۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اب سے کچھ عرصہ پہلے تک یہی حقیقت تھی۔ ڈاکٹروں اور سائنسدانوں کے پاس اس کا کوئی اچھا جواب نہیں تھا کہ ہم سوتے کیوں ہیں۔ زندگی کی دوسری بنیادی جبلتوں ۔۔ کھانا، پینا اور نسل آگے بڑھانا ۔۔۔ کے برعکس ہزاروں سال سے ہمیں اس جبلت کی وجہ معلوم نہیں تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہم سوتے کیوں ہیں؟ یہ سوال بہت عرصہ معمہ رہا۔ یہ غلط سوال تھا کیونکہ اس کا مطلب یہ نکلتا تھا کہ نیند کا کوئی ایک فنکشن ہے۔ اس کے غلط یا نامکمل جواب بے بہا رہے ہیں۔ منطقی (توانائی محفوظ رکھنے کا وقت)، عجیب (آنکھ کی آکسیجینیشن کا موقع)، نفسیاتی (لاشعور میں اپنے نامکمل خواہشات کے اظہار کی حالت)، لیکن پچھلے بیس سال میں اس میں ہونے والی دریافتوں کی تیز پیشرفت نے اس بارے میں ہماری سوچ الٹا دی ہے۔

نیند سے جسم اور دماغ کیلئے ہونے والی فوائد کی ایک کہکشاں ہے۔ جسم کا کوئی ایک بھی ایسا عضو نہیں جو اس سے مستفید نہ ہوتا ہو اور نیند پوری نہ ہونے سے اس کو ضرر نہ پہنچتا ہو۔ یہ فطرت کا وہ نسخہ ہے جو آپ کے لئے لکھ دیا گیا ہے اور چوبیس گھنٹے کے سائیکل پر آپ نے اس پر عمل کرنا ہے۔ (کئی لوگ ایسا نہیں کرتے)۔

دماغ میں سیکھنے کی صلاحیت، یادداشت، منطقی فیصلے لینے اور ٹھیک انتخاب کرنے، گہری فکر، نفسیاتی استحکام میں نیند مددگار ہے ہے۔ ہم خوابوں کے فوائد بھی سمجھنا شروع ہو گئے ہیں۔ اس سے ایک پرسکون نیوروکیمیکل شاور تکلیف دہ تجربات سے مرہم کا کام کرتا ہے۔ اس دوران ایک ورچوئل حقیقت کی جگہ بنا دیتا ہے جہاں ہمارا ماضی اور حال کا نالج مل کر نئے تجربات جوڑتا ہے، تخلیقی صلاحیت کو جلا ملتی ہے۔

جسم میں امیون سسٹم کے ہتھیاروں کا سٹاک بنتا ہے، انفیکشن سے بچاوٗ میں مدد ملتی ہے۔ کئی بیماریاں اس حالت میں دور بھگائی جاتی ہیں۔ جسم کا میٹابولزم ایڈجسٹ ہوتا ہے۔ انسولین اور گلوکوز کی حالت ٹیون ہوتی ہے۔ آنتوں میں جراثیم کا صحت مند ماحول پنپتا ہے۔ دورانِ خون کے نظام میں فٹنس آتی ہے۔ بلڈ پریشر کم ہوتا ہے۔ دل کی حالت بہتر ہوتی ہے۔

صحت مند زندگی کے لئے متوازن غذا اور ورزش بہت ضروری ہیں لیکن اس مثلث میں نیند زیادہ ضروری فورس ہے۔ ایک رات کی خراب نیند ایک روز کی ورزش اور خوراک کی خرابی سے زیادہ مضر اثرات ڈالتی ہے۔

نیند کے بارے میں سائنس کی نئی سمجھ سے ہم اب یہ سوال نہیں کرتے کہ نیند کس کام کیلئے اچھی ہے بلکہ یہ کہ کیا کوئی بھی جسمانی نظام ایسا ہے جو ایک اچھی رات کی نیند سے فائدہ نہیں اٹھاتا؟ ہزاروں سٹڈیز سے ابھی تک جو نتیجہ نکلتا ہے، وہ یہ کہ شاید اس کا جواب نفی میں ہو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کا دوسرا اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ نیند پر تحقیق سے معلوم ہونے والے فوائد پبلک ہیلتھ پر ہونے والی بحث اور عام لوگوں تک پہنچنے والی آگاہی کا حصہ نہیں۔

اس حد تک کہ کلچر میں سونے کو سستی اور کاہلی سمجھا جاتا ہے۔ رات کو کم سونے کو اور دیر تک کام کرنے کے بارے میں فخریہ بتایا جاتا ہے۔ جس طرح تمباکونوشی کرنے یا کھانے میں الم غلم کھانا شرمندگی کا باعث سمجھا جاتا ہے اور اس کو چھپایا جاتا ہے۔ کم نیند بھی اپنے اوپر کیا گیا ویسا ہی ظلم ہے جس کو معاشرے میں ویسی ہی نگاہ سے دیکھا جانا چاہیے۔

اگر آپ اپنی زندگی اور لائف سٹائل میں ایک تبدیلی کرنا چاہتے ہیں تو وہ روزانہ کے آٹھ گھنٹے کی نیند ہے۔

کیا کہا؟ آپ چھ گھنٹے کی نیند کے ساتھ بھی چاق و چوبند رہ سکتے ہیں اور بالکل ٹھیک کام کر سکتے ہیں؟ بہت سے لوگوں کا ایسا خیال ضرور ہوتا ہے لیکن سات گھٹنے سے کم نیند کے ساتھ ایسا کر سکنے والوں کی تعداد دنیا میں صفر ہے۔

کیا کہا؟ آپ نیند ویک اینڈ پر پوری کر لیتے ہیں؟ آپ کے ساتھ بھی معذرت۔ نیند روز عمل کرنے والا نسخہ ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا قوم سو رہی ہے؟ اگر نہیں، تو یہ تشویش کی بات ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شربت دینار                                  ============وجہ تسمیہعباسی عہد کا ایک مشہور طبیب بختیشوع جو اِس شربت کا مؤجد...
07/05/2020

شربت دینار
============
وجہ تسمیہ
عباسی عہد کا ایک مشہور طبیب بختیشوع جو اِس شربت کا مؤجد ہے، وہ اِس کی ایک خاص مقدار ایک دینار میں فروخت کرتا تھا اِس لئے یہ شربت دینار کے نام سے مشہور ہوا۔
افعال و خواص

امراض جگر اور معدہ کے لئے مخصوص ہے۔ معدہ ، جگر ، رحم اور مثانہ کے اوجاع، استسقاء, ذات الجنب اور موسمی بخاروں میں مفید ہے۔

جزءِ خاص:-
تخم کشوث

دیگر اجزاء ا مع طریقۂ تیاری
پوست بیخ کاسنی 100 گرام، تخم کاسنی، گُلِ سُرخ ہر ایک 50 گرام گل نیلو فر،گلِ گاؤ زباں ہر ایک 25 گرام، تخم کشوث 80 گرام (در صرّہ بستہ یعنی تخم کثوث پوٹلی یا تھیلی میں باندھ کر استعمال کرنے ہیں)۔

جملہ ادویہ بمعہ تھیلی بند تخم کثوث کو 2 لٹر پانی میں رات بھر بھگو دیں اور صبح جوش دے کر چھان کر قند سفید ایک کلو شامل کر کے قوام بنائیں, شربت تیار ہونے کے بعد ریوند چینی 40 گرام سفوف کر کے داخل قوام کریں۔

مقدار خوراک
2 سے 3 کھانے کے چمچ آدھا گلاس پانی یا آدھا کپ عرق سونف میں استعمال کریں

تخم کثوت  ‘‘تخم افتیمون ‘‘ تخم آکاس بیل۔انگریزی میں ۔Vitis Carnose Seeds Ofدیگر نام۔عربی اور فارسی میں تخم برش ہندی میں ...
07/05/2020

تخم کثوت ‘‘تخم افتیمون ‘‘ تخم آکاس بیل۔
انگریزی میں ۔
Vitis Carnose Seeds Of
دیگر نام۔
عربی اور فارسی میں تخم برش ہندی میں امرلتہ کے بیج ۔

ماہیت۔
یہ آکاس بیل کے چھوٹے تخم ہیں۔جوسرخ مائل بزردی اور بعض زرد مائل بہ سفیدی ہوتے ہیں۔
مزاج۔
گرم درجہ اول خشک درجہ سوم
افعال۔
مقوی جگر و معدہ , ملین محلل اورام ،کاسرریاح دافع تپ کہنہ ،مدربول مدرحیض۔
استعمال۔
تخم آکاس بیل کو معدو جگر اور رحم کے اورام , پرانے بخاروں میں بکثرت استعمال کرایا جاتا ہے۔ کیونکہ یہ اورام کو تحلیل کرتا ہے۔قبض اور پرانے بخاروں کو دور کرتا ہے۔ یرقان کے لئے مفید ہے مدربول مدرحیض کے نسخوں میں شامل کیا جاتا ہے۔
آکاس بیل کو پانی میں جوش دے کر اس سے اورام کو بھپارہ دیتے ہیں۔اوراسی کو ہاتھوں سے کچل کر باندھتے ہیں ، جس سے اورام اور صلابتیں تحلیل ہوجاتی ہیں۔ اور درد ساکن ہوجاتاہے۔ بلغمی بخار جو اعضائے شکم کی خرابی سے ہوں، ان میں شیرہ تخم کثوث شیرہ بادیان کاسنی گلقند میں ملا کر پلانا مفید ہے۔
نفع خاص۔
مرض حمیات, اورام جگر و معدہ ۔
مصلح۔
کتیرا اور کاسنی ۔
مقدارخوراک۔
تین سے پانچ گرام تک

فالسہ:- ( شربت فالسہ موسم گرما میں بہترین مشروب)فالسہ موسم گرما کا خاص تحفہ ہے۔ یہ پھل تھوڑے عرصے کیلئے دستیاب ہوتا ہے ا...
06/05/2020

فالسہ:- ( شربت فالسہ موسم گرما میں بہترین مشروب)
فالسہ موسم گرما کا خاص تحفہ ہے۔ یہ پھل تھوڑے عرصے کیلئے دستیاب ہوتا ہے اور گرم ملکوں میں پیدا ہوتا ہے۔
فالسہ خواتین اور بچوں میں زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔ اس کا مزاج سرد اور خشک ہے۔ فالسہ دل، جگر اور معدے کو طاقت دیتا ہے۔ بالخصوص گرم مزاج والے افراد کے لیے یہ بہت مفید ثابت ہو تا ہے۔ پیچش، قے،اسہال، ہچکی اور پیاس کی زیادتی میں بہت ہی فوائد کا حامل ہے۔پیشاب کی جلن کو دور کرتا ہے اور گرمی کی وجہ سے بے ترتیب ہونے والی دھڑکنوں کو اعتدال پر لاتا ہے
اس کی دو اقسام ہیں چھوٹے جھاڑی نماپودے پر لگنے والے فالسے اور دوسرے بیس پچیس فٹ اونچے درخت سے حاصل ہونے والے فالسے۔ پہلی قسم کے فالسے بہت میٹھے ہوتے ہیں اسے شربتی فالسہ کہتے ہیں۔ دوسری قسم میں مٹھاس کے ساتھ مزے دار ترشی کا ذائقہ بھی پایا جاتا ہے۔ دونوں قسم کا پھل ابتداء میں سبز رنگ کا ہوتا ہے اور ذائقہ کسیلا۔اس کے بعد یہ سرخی مائل رنگت اختیار کرتے ہیں اور پھر پک کر سیاہی مائل ہوجاتے ہیں۔ فالسے میں نشاستہ‘ لحمیات‘ فولاد‘ پوٹاشیم‘ کیرٹین‘ آیوڈین اور چونے کے اجزاء پائے جاتے ہیں۔ اس میں وٹامن اے‘ بی اور سی میں بھی موجود ہیں۔ ایک پاؤ فالسے میں ایک روٹی کے برابر غذائیت ہوتی ہے۔
جن مریضوں کو جگر کی گرمی اور آنتوں کی خشکی کی وجہ سے دائمی قبض رہتی ہو‘ وہ صبح کے وقت فالسے چوس چوس کر گٹھلیوں سمیت کھائیں اس سے خاصا افاقہ ہوتا ہے۔ یہ چڑچڑاپن بھی دور کرتا ہے اور پیاس کی شدت میں کمی کرتا ہے۔ ذیابیطس کے مریضوں کیلئے فالسے بہت مفید ہیں۔ اسے کھانے سے جلد کی چمک اور تازگی میں اضافہ ہوتا ہے۔
گرمی کے تیز بخار میں ایک چھٹانک فالسہ آدھا کلو ٹھنڈے پانی میں مدھانی سے رگڑ کر اس میں چینی ملا کر گھونٹ گھونٹ پلاتے رہنے سے بخار‘ بے چینی اور اضطراب کم ہوجاتا ہے۔
فالسے کا شربت:-
فالسہ آدھا کلو‘ گل سرخ 100 گرام‘ چینی تین پاؤ
ترکیب:
فالسہ اور گلاب کی پتیاں 2 لٹر پانی میں ڈال کر رات بھر کیلئے رکھ دیں۔صبح اچھی طرح سےمل چھان لیں۔ چھنےہوئے پانی میں چینی شامل کرکے ہلکی آنچ پر پکائیں جب شربت کاقوام گاڑھا ہوجائے تو ٹھنڈا کرکے بوتل میں بھرلیں۔
گرمیوں میں یہ شربت بہترین ہے‘ فرحت بخش ہے۔ معدہ و جگر کی گرمی کو زائل کرتا ہے, پیاس کی شدت کو کم کرتا ہے. خوراک: 4 سے 6 کھانے کے چمچ ایک گلاس پانی میں دن میں دو, تین بار

شربت نیلو فر: (موسم گرما میں بہترین مشروب)خفقان قلب , ہاتھ پاؤں کی جلن, سوزش بول, تیزابیت اور معدہ و جگر کی گرمی میں لاج...
04/05/2020

شربت نیلو فر:
(موسم گرما میں بہترین مشروب)
خفقان قلب , ہاتھ پاؤں کی جلن, سوزش بول, تیزابیت اور معدہ و جگر کی گرمی میں لاجواب ہے. یرقان, درد سر,درد شقیقہ, بے خوابی اور الرجی میں بھی مفید ہے.
اجزاء و ترکیب تیاری:-
گل نیلوفر: 250 گرام
دانہ الائچی خورد: 20گرام
صندل سفید: 20 گرام
چینی: ڈیڑھ کلو گرام
گل نیلوفر, صندل, دانہ الائچی خرد کو 2 لٹر پانی میں بھکو دیں 12 گھنٹے بعد دھیمی آنچ پرجوش دیں۔ جب پانی 1 لٹر باقی بچے تو ٹھنڈا کریں اور مل چھان کر اس پانی میں چینی ڈال کر شربت بنانےکیلئے دھیمی آنچ پر پکائیں۔ گاڑھا ہونے پر بوتل میں محفوظ کرلیں۔ شربت دیر تک محفوظ رکھنےکیلئے ست لوبان ملایا جا سکتا ہے.
خوراک 4 سے 6 ٹیبل اسپون ایک گلاس پانی میں ملاکر
دن میں دو سے چار بار

گل نیلوفر , چھوٹا کنولWater Lilyنیلو فر ایک خوبصورت پھول ہے۔ اسے چھوٹا کنول بھی کہتے ہیں۔ پانی کے اندر خاص طور پر کھڑے پ...
04/05/2020

گل نیلوفر , چھوٹا کنول
Water Lily

نیلو فر ایک خوبصورت پھول ہے۔ اسے چھوٹا کنول بھی کہتے ہیں۔ پانی کے اندر خاص طور پر کھڑے پانی میں، گہرے تالابوں‘ جھیلوں میں اس کا پودا ہوتا ہے۔اصل حالت میں اس کے پھول بہت خوبصورت اور دلرباہوتے ہیں۔ مرجھانے اور خشک ہونے پر اپنی دلربائی اور حسن کھو دیتے ہیں۔ لیکن اس کے وہ فائدے ہرگزضائع نہیں ہوتے جو اس کے بطور دوا استعمال میں پوشیدہ ہیں۔
رنگ: ہلکا نیلا یا بنفشی
مزاج: سردتر درجہ دوم
خوراک: 3 گرام سے 7 گرام
فوائد:
خفقان قلب میں مفید ہے, مسکن حرارت, ہاتھ پاؤں کی جلن, پیشاب کی جلن, سوزش بول, تیزابیت اور معدہ و جگر کی گرمی میں لاجواب افادیت رکھتا ہے. یرقان اور الرجی میں بھی مفید ہے. درد سر,درد شقیقہ اور بے خوابی میں بھی مفید ہے.
شربت نیلوفر مشہور عام ہے.

29/04/2020

اس صفحہ پر پھلوں , خشک پھلوں ،سبزیوں , دیسی جڑی بوٹیوں کے فوائد اور صحت کی تجاویز کے متعلق معلومات ہیں،
آپ سےدرخواست ہے کہ اس صفحہ کو لائک اور اپنے دوستوں اور جاننے والوں کو invite کریں .
نوٹ : پیچیدہ اور سمجھ نہ آنے والی بیماری کے لئے اپنے معالج سے رابطہ کریں , شکریہ

This page contains information about fruits, dried fruits, vegetables, the benefits of indigenous herbs and health tips.
You are requested to like this page and invite your friends and acquaintances.

Note: Contact your doctor for a complex and incomprehensible illness, Thanks

ﻣﻌﺠﻮﻥ ﻓﻼﺳﻔﮧ ﮐﺒﯿﺮاجزائے ترکیبی,ﺳونٹھ, فلفل ﺳﯿﺎہ, ﻓﻠﻔﻞ ﺩﺭﺍﺯ , ﺩﺍﺭﭼﯿﻨﯽ , شیطرنج ,ﺑﺎﺑﻮﻧﮧ, زﺭﺍﻭﻧﺪ, ثعلبﺩﺍﻧﮧ ,ﺛﻌﻠﺐ ﻣﺼﺮﯼ, ﺛﻌﻠﺐ ...
28/04/2020

ﻣﻌﺠﻮﻥ ﻓﻼﺳﻔﮧ ﮐﺒﯿﺮ

اجزائے ترکیبی,
ﺳونٹھ, فلفل ﺳﯿﺎہ, ﻓﻠﻔﻞ ﺩﺭﺍﺯ , ﺩﺍﺭﭼﯿﻨﯽ , شیطرنج ,ﺑﺎﺑﻮﻧﮧ, زﺭﺍﻭﻧﺪ, ثعلبﺩﺍﻧﮧ ,ﺛﻌﻠﺐ ﻣﺼﺮﯼ, ﺛﻌﻠﺐ ﭘﻨﺠﮧ, خولنجاں ,ﻋﻘﺮﻗﺮﺣﺎ ,ﺳوﺮﻧﺠﺎﻥ ﺷﯿﺮﯾں , ﺗﺞ ,ﺑﺎﺩﺍﻡ ,ﺟﺎﺋﻔﻞ, اﺧﺮﻭﭦ ,ﻓﻨﺪﻕ, چلغوزہ, کھوپرا, ﭘﻨﺒﮧ ﺩﺍﻧﮧ, ﺳﻨﮕﮭﺎﮌﺍ ,ﻟﻮﻧﮓ ﺟاﻮﺗﺮﯼ, ﻣﻮﺻﻠﯽ ﺳﻔﯿﺪ, ﮔﻮﻧﺪ ﮐﺘﯿﺮﺍ ,ﺍﺳﻄﺨﺪﻭﺱ,
ﺍﻻﺋﭽﯽ خرد, ﺍﻻﺋﭽﯽ کلاں, ﺻﻨﺪﻝ ﺳﻔﯿﺪ, ﮐﺸﺘﮧﻓﻮﻻﺩ
ﮐﺸﺘﮧ ﻗﻠﻌﯽ, ﺗﺨﻢ ﺭﯾﺤﺎﻥ ,ﺧﺮﻓﮧ ,ﻻجوﻧﺘﯽ,ﺗﺎﻟﻤﮑﮭﺎﻧﮧ ۔
ﻣﻐﺰ ﺗﻤﺮﮬﻨﺪﯼ ﮐﻼں, ستاور, ﺩﺭوﻧﺞ ﻋﻘﺮﺑﯽ, ﮬﻠﯿﻠﮧ ﺳﯿﺎﮦ
مندرجہ بالا ادویات ہر ایک 10 گرام
ﻣﺼﻄﮕﯽ ﺭﻭﻣﯽ, جند بدستر, زﻋﻔﺮﺍﻥ, تینوں ادویہ ہر ایک 2گرام
ﻣﻨﻘﮧ, 30 گرام
شہد, 1200 گرام
تمام ادویات کوٹ چھان کر شہد میں ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﺻﻔﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﻔﺎﺳﺖ ﺳﮯ معجون تیار کریں,
نوٹ: اگر معجون کو کسی روغنی برتن یا شیشے کے جار میں رکھ کر زمین میں دبا دیجائے اور15 دن بعد نکال کر استعمال کی جائےتو فوائد دوچند ہوجائینگے.
خوراک:- 6 گرا.م صبح, شام خالی پیٹ
فوائد:-
ﺟﻮﮌﻭﻥ اور مہروں ﻣﯿﻦ ﺧﻼ ,ﮬﮉﯾوں کا ﺑﮭﺮ ﺑﮭﺮا ﮬﻮ ﺟﺎنا, ﺍﻋﺼﺎبی کمزوری, ﺩﻝ, ﺩﻣﺎﻍ , ﺟﮕﺮ , ﻣﻌﺪﮦ ,ﮔﺮﺩﮮ( اعضائرئیسہ ) کی کمزوری, جوانی میںﺑﮍﮬﺎپے کے آثار,
ﻣﮩﺮﻭﻥ ﮐﮯ ﺍﻣﺮﺍﺽ اور ﺍﻋﺼﺎبی ﺍﻣﺮﺍﺽ ﻣﯿﻦ ماشاءاللہ بہت ﺍﻋﻠﯽ ﺩﻭﺍ ﮬﮯ , مقوی بدن اور مبہی ہے, ﺟﮕﺮ ﺍﻭﺭ ﮔﺮﺩﻭﻥ ﮐﯽ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﻣﯿں ﺑﮩﺖ ﮬﯽ ﺍﻋﻠﯽ ﮬﮯ ﮐﻤﯽ ﺧﻮﻥ ﮬﻮ ﺗﺐ ﺑﮭﯽ ﻓﻮﺭﯼ ﺍﺛﺮ ﮬﮯ ﺟﻮ ﻟﻮﮒ ﭼﮭﮍﯼ ﮐﮯ ﺳﮩﺎﺭﮮ ﭼﻠﺘﮯ ﮬﯿﻦ ﯾﺎ ﺟﻮ ﮐﺒﮍﮮ ﮬﻮ ﮔﺌﮯ ﮬﯿں وہ یہ معجون ﮐﮭﺎﺋﯿں ﮔﮯ ﺗﻮ بفضل خداوند عزوجل ﺳﯿﺪﮬﮯ ﮬﻮ ﮐﺮ ﭼﻠﯿں ﮔﮯ ﺩﺍﺋﻤﯽ ﻧﺰﻟﮧ ﺯﮐﺎﻡ ﺳﮯ ﮬﻤﯿﺸﮧ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺟﺎﻥ ﭼﮭﻮﭦ ﺟﺎﺗﯽ ﮬﮯ, انشاءاللہ تعالی

18/04/2020

دوپہر کو کھانے کے بعد قیلولہ(آرام کرنا) اور رات کو کھانے کے بعد چہل قدمی صحت کیلئے بہت ضروری ہے

سفوف ٹھنڈک: دل کی گھبراہٹ‘ گرمی‘ اختلاج قلب اور بے چینی کیلئے موثر ہے۔جسم سے گرمی ختم کرتا ہے، حرارت کنٹرول کرتا ہے، پیش...
17/04/2020

سفوف ٹھنڈک:
دل کی گھبراہٹ‘ گرمی‘ اختلاج قلب اور بے چینی کیلئے موثر ہے۔جسم سے گرمی ختم کرتا ہے، حرارت کنٹرول کرتا ہے، پیشاب رُک رُک کر آنا, کیلئے مفید ہے, ہائی بلڈپریشر کو دور کرتا ہے، گرمی، خُشکی سے نیند نہ آنا کے لیے مفید ہیں، سوزاک میں بھی فائدہ مند ہیں۔
نوشادر پیکانی : 5گرام, جوکھار: 5گرام, ریوند چینی :10 گرام, الائچی دانہ: 15 گرام ,زیرہ سفید:15 گرام, طباشیر نقرہ: 25 گرام, تخم خرفہ : 25 گرام , ورق نقرہ :20 عدد, مصری: 100گرام
تمام اجزاء سفوف کرلیں, 3 گرام سے 5 گرام صبح, شام ہمراہ پانی یا شربت بزوری معتدل

گوکھرو’’خارخشک ‘‘ بھکڑاCaltropsدیگرنام۔عربی میں خسک فارسی میں خارخسک سندھی میں بکھڑو پنجابی میں بھکڑا بنگالی میں گوکھری ...
10/04/2020

گوکھرو’’خارخشک ‘‘ بھکڑا
Caltrops
دیگرنام۔
عربی میں خسک فارسی میں خارخسک سندھی میں بکھڑو پنجابی میں بھکڑا بنگالی میں گوکھری مرہٹی میں سرائے تامل میں نرانجی سنسکرت میں گوکھرو انگریزی میں سمال کارپس اور لاطینی میں ٹرالی بولس ٹے ریسٹرس کہتے ہیں ۔
ماہیت۔
ایک بیل دار بوٹی کا خاردار سہ گوشہ پھل ہے۔یہ بوٹی موسم برسات میں مفروش بیل کر شکل میں ہوتی ہے۔چارفٹ لمبی بیل کی بہت سی شاخیں ہوتی ہیں جو سفیدی مائل پتلی اور سبز رنگ کی ہوتی ہے اورجڑ کے ارد گرد پھیلتی ہیں پتے چنے کے پتوں کی طرح ذرا ان سے بڑے ہوتے ہیں ۔سردی کے موسم میں پتوں کی جڑوں سے نکلے ہوئے زرد رنگ کے پانچ پنکھڑی والے کانٹوں سمیت نکلتے ہیں پھول لگنے کے بعد چھوٹے گول چٹپے پھل پانچ کونوں تیز کانٹوں والے ہوتے ہیں ۔جڑ پتلی پانچ چھ انچ لمبی بھورے رنگ کی ہوتی ہے۔میدانی گوکھرو پہاڑی گوکھرو کی نسبت چھوٹاہوتاہے۔
اقسام ۔
خردوکلاں دو قسم کا ہوتاہے۔لیکن زیادہ تر خرد مستعمل ہے۔بڑے گوکھرو کا جھاڑ دار پیڑہوتاہے۔پتے سفیدی مائل لمبے قدرے گول اور کنگرے دارہوتے ہیں پھل چہار گوشہ ہوتے ہیں چاروں کونوں پر ایک ایک کانٹا ہوتاہے۔خام پھل کا رنگ ہرا ہوتاہے۔پکنے پر بیلا جبکہ خشک ہوکر مٹیالے رنگ کا ہوتاہے۔ان کا ذائقہ پھیکا ہوتاہے۔
مقام پیدائش۔
پاکستان ،ہندوستان ،اور ایران کے خشک مقامات پر فصل خریف میں بافراط ہوتاہے۔بڑاگوکھرو گجرات کاٹھیاواڑ بندھیاچل وغیرہ کی ریتلی اور پتھریلی زمین میں زیادہ ہوتاہے۔
مزاج۔
گرم خشک ۔۔۔درجہ اول۔
افعال۔
مدربول و حیض مفتت سنگ گروہ و مثانہ اور مقوی باہ۔۔۔
استعمال۔
گروہ و مثانہ کی چھوٹی کنکریوں کے اخراج کیلئے آلو بالو اور دوقو کے ساتھ شیرہ کی صورت میں استعمال کرتے ہیں ورم گردہ مزمن پیشاب میں البیومن آنے لگے اور استسقاء ہوکر جسم پرآناس ہوتو گوگھرو بہت مفید ہے۔آکھ سے پیدا شدہ ورم کو زائل کرنے کےلئے اس کو گھوٹ کر باندھتے ہیں مبنزلہ تریاق ہے پیشاب جل کر آتا ہو تو گوگھرو جوکھار کے ہمراہ استعمال کرناچاہیے سوزش بول اور سوزاک میں تخم خیارین اور تخم خرپزہ کے ہمراہ گھوٹ کرپلانا مفیدہے۔
مقوی باہ ہونے کی وجہ سے خشک گوکھرو کو باریک پیس کر تین دن تازہ گوکھرو کے پانی میں رکھیں پھرخشک کرکے مصری ملاکر دودھ کے ہمراہ پینا جریان اح**ام سرعت انزال کے علاوہ باہ کو طاقت دیتاہے۔
یہ دشمول کی دواؤں میں شامل ہے اس لئے وئید بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں ۔
نفع خاص۔
مدربول
مصلح۔
بادام اور روغن کنجد۔
مقدارخوراک۔
پانچ سے سات گرام
مشہور مرکب۔
شربت بزوری ،شربت مدرطمث سفو ف سیلان الرحم

نکسیر پھوٹنااردو نام: نکسیرطبی نام: رعافانگریزی نام:Epistaxisناک کےایک یا کبھی دونوں نتھنوں سے خون آنے کے عمل کو نکسیر ک...
31/03/2020

نکسیر پھوٹنا
اردو نام: نکسیر
طبی نام: رعاف
انگریزی نام:Epistaxis
ناک کےایک یا کبھی دونوں نتھنوں سے خون آنے کے عمل کو نکسیر کہتے
عام طور پر قطرہ قطرہ خون آنے لگتا ہے لیکن مرض کی شدت میں دھار کے ساتھ خون آتا ہے۔اکثر ناک میں دغدغہ(Itching) ہوتا ہے جس کی وجہ سے مریض نتھنوں میں کھجاتا ہے اور انہیں کریدتا ہے نتیجہ میں خون آنے لگتا ہے۔اگر دماغ میں خون اکٹھا ہو تو عموماًنکسیر سے پہلے سر بوجھل اور درد محسوس کرتا ہے اور نکسیر کا خون پہلے کی نسبت زیادہ خارج ہوتاہے۔اکثر توخون دموی اور گرم مزاج کے لوگوں کوآیا کرتا ہے۔بخار اور کمی خون بھی اس کے اسباب ہیں لیکن طب جدیدکی تحقیق کے مطابق جسم کے کسی بھی حصہ سے خون اس وقت تک نہیں آ سکتا جب تک جسم کے کسی مفرد عضو میں کیفیاتی نفسیاتی اور مادی اسباب سے زخم نہ ہوجا ئیں۔
اگر مریض کمزور اور عمر رسیدہ ہو اور اس کو نکسیر جاری ہو جائے تو اس کو فوری بند کرنے کی تدبیر کرنی چاہئیے
نکسیر کی وجوہات
٭نکسیر جن بیماریوں میں جاری ہوتی ہے‘ ان میں زیادہ تر عام اور معمولی نوعیت کی ہوتی ہیں جبکہ کچھ خطرناک بھی ہوتی ہیں۔کئی موروثی امراض اس کا موجب بن سکتے ہیں۔
٭دیگر وجوہات میں سب سے عام وجہ ناک پر چوٹ لگنا ہے۔
٭ناک کی سوزش ،نکسیر کی دوسری بڑی اور غیر موروثی وجہ ہے۔ اس میں ناک اور سانس کو متاثر کرنے والے وائرس‘ بیکٹیریا اور پھپھوندی (fungus)کی وجہ سے ہونے والے انفیکشن خاصے عام ہیں۔
٭ماحولیاتی آلودگی‘ خشک آب و ہوا، گرد و غبار اوردھوئیں والے ماحول میں رہنا یاکام کرنابھی اس کا سبب بن سکتا ہے۔ فصلوں اور پودوں پر سپرے یا اس سے ملتی جلتی صورت حال میں بعض کیمیائی اجزاءسانس لینے یا سونگھنے کے دوران ناک میں جاکر سوزش کا باعث بنتے یا اس میں اضافہ کرتے ہیں۔نسوار کو سونگھ کراستعمال کرنے والوں کو بھی اس مسئلے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
٭ ناک یا سانس کی نالی میں رسولی بھی اس کی وجہ بن سکتی ہے۔
٭کچھ دواﺅں مثلاً جسم اور جوڑوں کے درد اور خون کو پتلا کرنے کے لئے استعمال ہونے والی ادویات کا زیادہ استعمال بھی نکسیر کاسبب بن سکتا ہے۔
٭جگر کی بیماریاں‘ وٹامن C اور وٹامنK کی کمی بھی اس کی ایک وجہ ہے۔
٭تیز دھوپ میں چلنا ،سر میں خشکی اور بلڈپریشر کی زیادتی بڑی عمر کے لوگوں میں نکسیر کا موجب بنتی ہے۔

نکسیرمیں کرنے کے کام
اکثر صورتوں میں ناک پر لگنے والی چوٹ معمولی نوعیت کی ہوتی ہے لہٰذا خون نہیں نکلتا اور اگر نکلے بھی تو تھوڑی دیر بعد خودبخود رک جاتا ہے۔ شدید چوٹ لگنے کی صورت میں ناک سے بہت زیادہ خون بہنا شروع ہو سکتا ہے جو خود بخود نہیں رکتا۔ اگر ناک سے خون کا اخراج بار بار ہو اور اس کی مقدار بھی زیادہ ہو تو پھر کسی معالج سے رابطہ کرناضروری ہوتا ہے۔اس وقت مریض کو چاہئے کہ اپنے ناک کو ہاتھ کے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی سے 10 منٹ تک دبا کر رکھے اور سر کو آگے کی طرف جھکائے۔ ایسا کرنے سے اکثر اوقات خون آنا بند ہوجاتاہے۔خون اگر منہ میں آرہاہو تواسے چاہئے کہ تھوک کے ذریعے اسے باہر نکالتا رہے۔
نکسیر کے مریضوں کو زیادہ گرم اشیاءکھانے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ انہیں چاہیے کہ مصالحے دار اور تیز مرچوں والے کھانے نہ کھائیں۔ ان کی بجائے اپنی خوراک میں رس دار پھل ،ترکاری، دودھ،دہی، پانی ،لوکی اور مولی وغیرہ شامل کریں۔ ایسی صورت میں گرم پانی سے غسل نہ کریں‘ گرمی کے اوقات میں باہر نہ نکلیں۔اگر چھینک آئے تو منہ کھول کر چھینکیں۔
بعض لوگ نکسیر روکنے کے لئے سر پر ٹھنڈا پانی ڈالتے ہیں ۔ اگرنکسیر کا سبب سوزش ہو تو پانی ڈالنے سے سوزش میں اضافہ ہو سکتا ہے اور یہ خون روکنے کی بجائے اس کے اخراج کو تیز کر سکتا ہے۔ اس لئے خاص طور پر سردیوں میں ایسا کرنے سے اجتناب کرنا چاہئے۔
نکسیر کی وجہ سے کسی بڑی پیچیدگی کا سامنا بہت کم صورتوں میں ہوتا ہے۔ ایسے میں اگر بروقت طبی امداد نہ ملے تو مریض بے ہوش ہو سکتا ہے اور خون سانس کی نالی میں جا سکتا ہے۔ اگر بار بار نکسیر آ رہی ہو تو خون کی کمی کامسئلہ بھی سامنے آ سکتا ہے۔
اکثر اوقات خون دماغ سےنہیں بلکہ ناک سے ہی آرہا ہوتا ہے تاہم جن لوگوں کے سر کی ہڈی میں چوٹ لگی ہو‘ ان کے دماغ سے بھی خون آسکتا ہے۔ اس حالت میں بھی ناک سے خون بہنا زیادہ خطرناک نہیں ہوتا۔ اصل خطرہ چوٹ سے ہوتاہے اور اس کا انحصار بھی اس بات پر ہے کہ وہ کتنی شدید ہے۔
1:تخم ریحان (نازبو کے بیج) 50 گرام پنسار کی دوکان سے لیں, اور صاف کر کے پیس لیں. یہ سفوف آدھی چائے کی چمچ صبح نہار منہ اور شام کو ہمراہ پانی لیں, انشاءاللہ ایک ہفتہ میں نکسیر کا مرض دور ہوجائیگا.
2: سبز دھنیا کے دو یا تین پتے ٹہنی سمیت منہ میں رکھ کر آہستہ آہستہ چبانا نکسیر کو روکنے میں معاون ہے

Address

Lahore
54950

Opening Hours

Monday 11:30 - 22:30
Tuesday 11:30 - 22:30
Wednesday 11:30 - 22:30
Thursday 11:30 - 22:30
Friday 11:30 - 22:30
Saturday 11:30 - 22:30
Sunday 00:00 - 22:00

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Lahore pansar store posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Lahore pansar store:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram