13/03/2026
حمل میں بچہ بچائیں
حاملہ خاتون جو دیکھتی سنتی محسوس کرتی ھے جو سوچتی ھے جو کھاتی ھے جتنا سوتی ھے خوش ھے یا دکھی ھے یعنی اسکی زندگی کا ایک ایک لمحہ ایک ایک جذبہ چاہے وہ خوشی کا ھو یا غم کا اس تک پہنچنے کے بعد اسکے بچے کو فورا بہترین انرجی بھی دیتا ھے یا پھر شدید متاثر کرتا ھے ،، ایسا بلکل نہیں ھے کہ حاملہ خاتون دکھی ھو غم میں ہو چیخو پکار چل رہی ھو اور اسکے اندر بننے والے بچے کے دل و دماغ پر ٹراما یعنی صدمے کے زور دار ہتھوڑے نہ پریں بلکہ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں ایک انسان 40 کی عمر میں ایک زور دار چیخ کی آواز سے کس حد تک ڈرتا اور متاثر ہوتا ھے جبکہ وہ اعصابی طور پر ایک ہاتھ کے سائز جتنے بچے سے کس حد تک مضبوط ھے اسکے مقابلے میں ایک ہاتھ کے سائز جتنے بچے تک اگر اسی زور دار فریکوئنسی سے چیخیں پہنچ رہی ہوں تو اندازہ کیجئے اس ہاتھ کے سائز جتنے بچے کا دل جو ابھی والدہ کے جسم کے اندر دھڑکنوں سے جڑا ہوا ھے جذبات سے جڑا ہوا ھے کس قدر ڈر خوف اور ٹراما کا شکار ہو گا ،، جو ماں کے پیٹ میں اسی فریکوئنسی پر سننے والی چیخ کو برداشت کر رہا ھے کیا وہ ہیلتھی Growing condition میں رہے گا ؟؟؟؟ سہم جائے گا وہ چھوٹا سا لوتھرا ، ہاف بوائلڈ انڈے جیسا نرم نرم جسم کیا اتنی شدید صدمے کی انرجی کو برداشت کر سکے گا ؟؟؟ نہیں کر سکتا اسکا دل مردہ ھو جائے گا دماغ ریزہ ریزہ ھو جائے گا کیونکہ اتنا کچا جسم نرم نرم سا۔۔۔
جسے ایک 30 یا 40 سال کی ماں برداشت کر رہی ھے چیخ کا مطلب دکھ درد تکلیف لڑائی جھگڑوں کی وائبریشن ،، یہی ٹراما انرجی یعنی صدمے سے بھری انرجی جو حاملہ لڑکی کے پاس تھی اس سے دس گناہ زیادہ اس ایک ہاتھ کے سائز جتنے بچے کے دل اور دماغ کے اندر پہنچ کر بچے کے دل دماغ کے سیلز اور جسم کے باقی حصوں کے مسلز کو پیٹ کے اندر ہی زخمی کرتی جاتی ھے بچے کے دماغ کی نشونما خراب " اوٹزم " شروع کیونکہ سیلز ڈیمیج مسلز ٹوٹے پھوٹے رہ گئے ،، اتنی خطرناک انرجی جب بچے کے اندر سٹور ہو جاتی ھے تب پیدائشی مسائل رونما ہوتے ہیں اور الزام پیدا کرنے والی پہ لگتے ہیں جبکہ اس کے ذمہ دار سسرال اور ہذبینڈ خود ہیں یہی پیٹ کے اندر ملنے والا ٹراما بچے کو پیدائش کے بعد درجنوں نفسیاتی اور جسمانی مسائل کا شکار کرتے ہیں اور آج کے بیشتر GEn Z اسی ٹراما کو پیٹ میں برداشت کرتے ہوتے جوان ھو چکے ہیں انکی عادات یا تو نیلی فلمز یا لڑکیاں کیونکہ انہیں ویلیو ملے جو انہیں انکی والدہ کے اندر رہتے ہوئے نہیں ملی ایسے ٹراما شکار جوان لڑکے اور لڑکیاں کئ بار کینسر سیل کو ایکٹو کر لیتے ہیں ذہنی طور پر کمزور ڈرے سہمے یا مجرم ذہنیت کے فراڈئیے نکل آتے ہیں اور کئ بار شدید جنسی ڈیزائز کئ ساتھ دن میں 4 سے پانچ بار س ی ک س کرنے کے بعد بھی نئی پراسٹیٹیوٹ ڈھونڈتے پھرتے ہیں کہ ہماری جنسی ڈیزائز بہت ہیں ہمیں چار شادیاں کرنی ہیں اور ابھی تو ایک ہوئی ھے جبکہ ایسا جنسی جنونی رویہ ایک نفسیاتی ٹراما کا شکار مرد ٹراما کی وجہ سے دیتا ھے جو کئ بار والدہ کے پئٹ میں ملا ہوتا ھے اور کئ بار بچپن کے کسی حادثے کا رزلٹ ہوتا ھے ۔
لیکن مزے کی بات یہ ھے کہ ان سب گہری سائنٹیفک باتوں کا ہماری 80 فیصد جاہل عوام پر کوئی اثر نہیں انہیں صرف اپنی جاہل گنوار لالچی کم ظرفی سے بھری سوچوں اور حرکتوں سے پیار ھے اور جہالت سے پیار ہمیشہ قائم رہے گا کیونکہ خود جاہل جو ہوئے ۔
___________////___________
゚
Clinician Sania Khaleeq