FAZAL AMEEN

FAZAL AMEEN علاج کی بھترین راہنامائ کے لیےایک فون کال کیجیے

https://youtu.be/Qum2dnwA91Q
29/02/2020

https://youtu.be/Qum2dnwA91Q

Live, Pakistan’s first HD Plus news channel brings you the crispiest live news, headlines, delineate and relevant updates, current affairs, viral n...

https://youtu.be/4bYgIo5Qyec
19/02/2020

https://youtu.be/4bYgIo5Qyec

ASALAM U ALEKUM, Viewers & Spectators! First of all, I would like to express thanks & show gratitude for appreciation & admiration for this remedy. This reme...

30/01/2020

مٹی کے برتنوں سے اسٹیل اور پلاسٹک کے برتنوں تک اور پھر کینسر کے خوف سے دوبارہ مٹی کے برتنوں تک آجانا،
انگوٹھا چھاپی سے پڑھ لکھ کر دستخطوں (Signatures) پر اور پھر آخرکار انگوٹھا چھاپی (Thumb Scanning) پر آجانا،
پھٹے ہوئے سادہ کپڑوں سے صاف ستھرے اور استری شدہ کپڑوں پر اور پھر فیشن کے نام پر اپنی پینٹیں پھاڑ لینا،
زیادہ مشقت والی زندگی سے گھبرا کر پڑھنا لکھنا اور پھر پی ایچ ڈی کرکے واکنگ ٹریک (Walking Track) پر پسینے بہانا،
قدرتی غذاؤں سے پراسیس شدہ کھانوں (Canned Food) پر اور پھر بیماریوں سے بچنے کے لئے دوبارہ قدرتی کھانوں (Organic Foods) پر آجانا،
پرانی اور سادہ چیزیں استعمال کرکے ناپائدار برانڈڈ (Branded) آئٹمز پر اور آخر کار جی بھرجانے پر پھر (Antiques) پر اِترانا،
بچوں کو جراثیم سے ڈراکر مٹی میں کھیلنے سے روکنا اور ہوش آنے پر دوبارہ قوتِ مدافعت (Immunity) بڑھانے کے نام پر مٹی سے کھلانا ۔ ۔ ۔ ۔
*اسکی اگر تشریح کریں تو یہ بنے گی کہ ٹیکنالوجی نے صرف یہ ثابت کیا ہے کہ مغرب نے تمہیں جو دیا اس سے بہتر وہ تھا جو تمہارے دین نے اور تمہارے رب نے تمہیں پہلے سے دے رکھا تھا.
سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم

https://youtu.be/jZ1oNFDG_IA
27/01/2020

https://youtu.be/jZ1oNFDG_IA

Walnut Milk Health Benefits In Urdu | Anam Home Remedy This milk will cure your hearth problems, intestine worm in children , and boost metabolism. ►Backgrou...

24/01/2020
24/01/2020

ہمارے سکولوں کا ماحول اور اساتذہ کا پڑھانے کا طریقہ اس قدر ڈراونا ہوتا ہے کہ بچے سکول جانے سے محنت مزدوری کرنا آسان سمجھتے ہیں

23/01/2020

پنجاب میں اس وقت مزارات کی تعداد 598 ہے،
ان میں 64 درباروں کے گدی نشین،
متولی اور پیر آج بھی براہ راست سیاسی نظام میں حصہ دار ہیں۔

سرگودھا، جھنگ، پاکپتن، ساہیوال، وہاڑی، منڈی بہاو الدین، اوکاڑہ، حجرہ شاہ مقیم، ملتان، چشتیاں، خیرپور ٹامیوالا کے گدی نشین براہ راست انتخابات میں حصہ لیتے ہیں،

یہاں کے گدی نشین پہلی بار جنگ آزادی کے مجاہدین کو کچلنے کے لیے ایسٹ انڈیا کمپنی کے دست راست بنے اور ان گدی نشینوں نے انگریزوں کے حق میں فتویٰ دیے
اور
جنگ کو بغاوت قرار دیا اور انعام کے طور پر جاگیریں پائیں۔

یہی وجہ تھی کہ ان گدی نشینوں کو انگریزوں نے نوآبادیاتی عہد کے پاور سٹرکچر میں شامل کیا اور کورٹ آف وارڈز کے ذریعے سے انھیں مستقل سیاسی طاقت دی گئی۔

کورٹ آف وارڈز سسٹم کے تحت جن گدی نشینوں کو جاگیریں دی گئیں ان کی تفصیلات بھی ملاحظہ کیجئے:

1930ء میں شاہ پور کے غلام محمد شاہ، ریاض حسین شاہ کو 6423 ایکٹرز جاگیر،

اٹک کے سردار شیر محمد خان کو 25185 ایکٹرز،

جھنگ کے شاہ جیونا خاندان کے خضر حیات شاہ، مبارک علی، عابد حسین کو 9564 ایکٹرز،

ملتان کے سید عامر حیدر شاہ، سید غلام اکبر شاہ، مخدوم پیر شاہ کو 11917 ایکٹرز،

ملتان کے گردیزی سید جن میں سید محمد نواز شاہ، سید محمد باقر شاہ، جعفر شاہ کو 7165 ایکٹرز،

جلال پور پیر والا کے سید غلام عباس، سید محمد غوث کو 34144 ایکٹرز،

گیلانی سید آف ملتان جس میں سید حامد شاہ اور فتح شاہ کے نام 11467 ایکٹرز،

دولتانہ خاندان کے اللہ یار خان آف لڈھن کو 21680 ایکٹرز،

ڈیرہ غازی خان کے میاں شاہ نواز خان آف حاجی پور کو 726ایکٹرز،

مظفر گڑھ کے ڈیرہ دین پناہ خاندان کے ملک اللہ بخش، قادر بخش، احمد یار اور نور محمد کو 2641 ایکٹرز
اور
ستپور کے مخدوم شیخ محمد حسن کو 23500ایکٹرز جاگیر دی گئی۔

آج ان خانوادوں کے جانشین اور اولادیں صوبائی اور قومی اسمبلی کی نشستوں پر براجمان ہیں
اور جمہوریت کے چمپئن ہیں۔

برطانوی استعمار نے جاگیریں دینے کے ساتھ ساتھ درباروں کے گدی نشین خاندانوں کو ذیلدار کے عہدوں پر بھی تعینات کیا۔

اس میں مظفر گڑھ سے دیوان محمد غوث، سید باندے شاہ، خان صاحب مخدوم محمد حسن، سید تراب علی شاہ، سید عامر احمد شاہ، سید غلام سرور شاہ، سید جند وڈا شاہ، میانوالی سے سید قائم حسین شاہ، غلام قاسم شاہ، شاہ پور سے پیر چن پیر، سید نجف شاہ، فیروز دین شاہ، پیر سلطان علی شاہ، علی حیدر شاہ، جھنگ سے محمد شاہ، اللہ یار شاہ، محمد غوث اور بہادر شاہ کو ذیلدار کا عہدہ دیا گیا۔

ہندستان پر برطانوی تسلط کے 180 سال بعد 1937ء میں محدود جمہوری انتخابات کرائے تو یونینسٹ پارٹی میں شامل یہی جاگیردار، گدی نشین اور پیروں کو منتخب کرایا گیا،

1946ء کے انتخابات میں بھی یہی خاندان برسر اقتدار آئے۔
جنوبی پنجاب کے گیلانی، قریشی،

ڈیرہ غازی خان کے علاوہ وسطی پنجاب سے پیر نصیر الدین شاہ آف کمالیہ، شاہ جیونا آف جھنگ، مخدوم سید علی رضا شاہ آف سندھلیانوالی، مخدوم ناصر حسین شاہ، پیر محی الدین لال بادشاہ آف مکہد شریف اٹک نمایاں تھے۔

یہی خاندان یونینسٹ پارٹی کو چھوڑ کر آل انڈیا مسلم لیگ میں شامل ہوئے اور اپنے مفادات کو پاکستان کی حمایت سے جوڑ دیا۔

قیام پاکستان کے بعد ان گدی نشین پیروں نے قومی جمہوری اور مارشل لاء کی سیاست میں مستقل طور پر اپنا وجود قائم کر لیا۔

ایوب خان کے بنیادی جمہوریتوں کے تصور سے لے کر ضیاء الحق کی مجلس شوریٰ میں اسلامائزیشن کے تصور کو رائج کرنے اور جنرل پرویز مشرف کے روشن خیال تصورات کی حمایت میں یہ گدی نشین پیش پیش رہے۔

قومی و صوبائی سیاست میں نمائندہ درباروں کے یہ با اثر گدی نشین اور پیروں کے حلقہ جات کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہاں شرح خواندگی تشویش ناک حد تک کم ہے۔

درباروں کے یہ مذہبی نمائندے اپنے مُریدوں سے نزرانے، منتیں، مرادیں لیتے ہیں اور محکمہ اوقاف پر ان کا ہمیشہ مکمل کنٹرول رہا ہے۔

گزشتہ دنوں پنجاب اسمبلی میں وزیر اوقاف نے رپورٹ جمع کرائی کہ محکمہ کے زیر انتظام مزارات کی تعداد 544 ہے اور ان مزارات سے سالانہ آمدن ڈیڑھ ارب سے زائد ہوتی ہے،

یعنی سرکار کے کھاتے میں مُریدوں اور زائرین کے نذرانوں سے بس اتنی رقم جمع ہوتی ہے۔

مزارات سے منسلک زرعی جاگیروں پر ملی بھگت سے مقامی افراد قابض ہیں اور ان جاگیروں کا رقبہ سینکڑوں ایکڑز ہے۔

متعدد مزارات کی گدی نشینی دراصل اب جانشینی میں تبدیل ہو چکی ہے اور انھی گدی نشینوں یا متولیوں کے تحت ہی سالانہ عرُس تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔

22/01/2020

نزلہ زکام سے فوری نجات

Address

53 Main Ravi Road
Lahore
55000

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Telephone

+923004243791

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when FAZAL AMEEN posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram