Dr.Hassan khan

Dr.Hassan khan Health is wealth

Celebrating my 5th year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉
09/05/2025

Celebrating my 5th year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉

Pakistan Zindabad Pak Army Zindabad
09/05/2025

Pakistan Zindabad
Pak Army Zindabad

I have reached 1.5K followers! Thank you for your continued support. I could not have done it without each of you. 🙏🤗🎉
17/08/2023

I have reached 1.5K followers! Thank you for your continued support. I could not have done it without each of you. 🙏🤗🎉

Brutal torture of a doctor with slaps & kicks.چلدرن ہسپتال لاہور میں ڈاکٹر پر بہیمانہ تشدد.معاملہ ہسپتال میں سیریس مریض ...
31/05/2023

Brutal torture of a doctor with slaps & kicks.
چلدرن ہسپتال لاہور میں ڈاکٹر پر بہیمانہ تشدد.

معاملہ
ہسپتال میں سیریس مریض لایا گیا جو بچ نہ سکا اور فوت ہو گیا , جس کے بعد فیملی اور رشتیداروں نے جھگڑا کیا اور تشدد پر اتر آئے.

میں اس معاشرے کا ڈاکٹر ہوں جہاں مریض کو موت ڈاکٹر کی وجہ سے آتی ہے اور شفاء پیر کی دعا کی وجہ سے
آج صبح چلڈرن کمپلیکس میں پیش آنے والے واقعے کی جیتنا بھی مذمت کی جائے کم ہے
یہ جو تھپڑ ڈاکٹر صاحب کو پر رہے ہیں یہ سسٹم اور معاشرے کا بھیانک چہرہ ہے
اگر ان ڈاکٹر صاحب کی جگہ کیسی بیوروکریسی کا بندہ ھوتا تو خاموشی نہ میڈیا پہ ہوتی نہ ہی اسمبلی میں
ڈاکٹروں کو سیکورٹی انکا بُنیادی حق ہے
لاہور میں موجود جتنج بھی ڈاکٹرز جماعتیں ہیں اس واقعے پر سخت ردعمل دیں ..............copied

05/05/2022

Difference between the ordinary thief and political thief .

08/02/2022

Please like and follow the page for medical information.

Vitamin Dوٹامن ڈی کیا ہے؟وٹامن ڈی کی غذائی  اہمیت:پاکستان سمیت دنیا کے متعدد ممالک میں لوگوں کو وٹامن ڈی کی کمی کا سامنا...
20/10/2021

Vitamin D
وٹامن ڈی کیا ہے؟وٹامن ڈی کی غذائی اہمیت:

پاکستان سمیت دنیا کے متعدد ممالک میں لوگوں کو وٹامن ڈی کی کمی کا سامنا ہے لیکن نصف کرہ شمالی میں سورج کی روشنی کی کم مقدار کی وجہ سے یہ مسئلہ بڑھ رہا ہے۔ وٹامن ڈی قوت مدافعت بڑھانے، اعصابی کمزوری کے خاتمے، اعصاب کی مضبوطی، ہڈیوں کے درد اور ڈپریشن کے خاتمے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ انھیں کینسر کے خاتمے اور بڑھاپے سے بچاؤ کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ وٹامن ڈی ہماری صحت میں اہم کردار ادا کرتا ہے یہ ہمارے جسم میں کیلشیم اور فاسفیٹ کی مقدار کو برقرار رکھتا ہے۔ درحقیقت نام کے باوجود وٹامن ڈی وٹامن نہیں ہے۔ اس کے بجائے اصل میں یہ ہارمون ہے جو کہ جسم میں کیلشیم کو جذب کرنے کی صلاحیت کو بڑھاتا ہے۔ اس میں چیلنج یہ ہے کہ بہت کم غذائیں ایسی ہوتی ہیں جن میں یہ موجود ہوتا ہے جیسا کہ آئلی فش۔ لیکن جسم میں عام طور پر وٹامن ڈی اس وقت بنتا ہے جب جلد پر سورج کی روشنی پڑتی ہے۔
وٹامن ڈی کی دو اقسام ہیں۔ وٹامن ڈی 3 جو کہ جانوروں سے حاصل ہونے والی خوراک میں پائی جاتی ہے۔ اس میں مچھلی شامل ہے۔ دوسری وٹامن ڈی2 ہے جو کہ پودوں سے حاصل ہونے والی خوراک میں شامل ہیں۔

جسم میں وٹامن ڈی کی کمی کی علامات:

وٹامن ڈی ہمارے جسم میں کسی ہارمون کی طرح کام کرتا ہے اور کسی اور وٹامنز کے مقابلے میں وٹامن ڈی کے لیے تمام خلیات ایک ریسیپٹر کی طرح کام کرتے ہیں۔ یہ وٹامن انسانی ہڈیوں کی صحت اور مدافعتی نظام کے لیے انتہائی ضروری ہے اور اس کی کمی کی چند علامات درج ذیل ہیں۔

عام امراض سے صحت یابی میں دیر ہونا:
وٹامن ڈی کے چند اہم ترین افعال میں سے ایک جسمانی مدافعتی نظام کو مضبوط بنانا ہے، تو اگر وٹامن ڈی کی کمی کا سامان ہو تو عام انفیکشن یا وائرسز کے حملے کے بعد ٹھیک ہونے میں بھی کافی وقت لگ جاتا ہے۔ درحقیقت وٹامن ڈی کی کمی کے نتیجے میں سانس کی نالی کے انفیکشن جیسے نزلہ زکام اور نمونیا وغیرہ اکثر شکار بنانے لگتے ہیں۔

چڑچڑا پن اور ڈپریشن:
ڈپریشن اور چڑچڑا پن کے درمیان تعلق ہے جس کے پیچھے متعدد جسمانی اور نفسیاتی عناصر ہوتے ہیں، ایسے سائنسی شواہد سامنے آئے ہیں کہ وٹامن ڈی کی کمی اور ڈپریشن کے درمیان تعلق موجود ہے، خصوصاً معمر افراد میں۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ڈپریشن کی شکار خواتین کو جب وٹامن ڈی کا سپلیمنٹ استعمال کرایا گیا تو اس میں بہتری آنے لگی۔ ایک اور تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ موٹاپے کے شکار افراد میں اگر وٹامن ڈی کی کمی ہو تو ان میں ڈپریشن کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔

مناسب نیند کے باوجود ہر وقت تھکاوٹ طاری رہنا:
ہر وقت تھکاوٹ طاری رہنے کے پیچھے متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں اور وٹامن ڈی کی کمی بھی ان میں سے ایک ہے۔ مختلف طبی تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا کہ وٹامن ڈی کی کمی بہت زیادہ ہونے پر شدید تھکاوٹ اور سردرد جیسی علامات سامنے آتی ہیں، یہاں تک کہ اس وٹامن کی معمولی کمی بھی جسمانی توانائی میں کمی اور تھکاوٹ کے احساس کا باعث بنتی ہے، خصوصاً اگر خواتین پر ہر وقت تھکاوٹ طاری رہتی ہو تو اس کا امکان زیادہ ہوتا ہے کہ انہیں وٹامن ڈی کی کمی کا سامنا ہے۔

کمردرد:
وٹامن ڈی ہڈیوں کی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے کیونکہ یہ جسم کو کیلشیم جذب کرنے میں مدد دیتا ہے جبکہ ڈھانچے کے نظام کو مضبوط کرتا ہے، اس وٹامن کی کمی کے نتیجے میں ہڈیوں کے مسائل اور کمردرد کا سامنا عام ہوتا ہے۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ وٹامن ڈی کی کمی کے باعث 9 ہزار خواتین کو شدید کمردرد کا سامنا ہوا۔

جوڑوں کے مسائل:
وٹامن ڈی کی کمی صرف کمردرد کا باعث ہی نہیں بنتی بلکہ یہ جسم کے تمام جوڑوں کی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ گھٹنے، کولہے اور ریڑھ کی ہڈی اس وٹامن کی کمی سے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں، اگر اکثر ان جگہوں پر درد کا سامنا ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کرکے ٹیسٹ کروائیں کہ یہ مسائل وٹامن ڈی کی کمی کا نتیجہ نہ ہوں۔

مسلز کی کمزوری یا تکلیف:
وٹامن ڈی کی کمی کے نتیجے میں مسلز کی کمزوری اور درد کا بھی سامنا ہوسکتا ہے۔ وٹامن ڈی ان اعصابی خلیات کی صحت میں اہم کردار ادا کرتا ہے جو کہ دماغ تک درد کا احساس پہنچاتے ہیں۔ اگرچہ مسلز کے مسائل کی وجوہات مختلف ہوسکتی ہیں، مگر ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 71 فیصد افراد میں مسلز کے شدید درد کی وجہ وٹامن ڈی کی کمی ہوتی ہے۔

بالوں کا گرنا یا نازک ہوجانا:
اگر آپ کو لگے کہ بال پہلے جیسے گھنے نہیں رہے تو وٹامن ڈی کا استعمال بڑھانا اس مسئلے کو دور کرسکتا ہے۔ اگرچہ وٹامن ڈی کی کمی اور بالوں کے گرنے کے درمیان زیادہ شواہد موجود نہیں، مگر ایک تحقیق میں وٹامن ڈی کی کمی اور خواتین کے بالوں کے گرنے میں تعلق دریافت کیا گیا۔

خراشوں کو ٹھیک ہونے میں تاخیر:
کیا آپ کو اکثر معمولی خراشوں یا رگڑ سے نجات میں کافی دن لگ جاتے ہیں؟ اگر ہاں تو یہ بھی وٹامن ڈی کی کمی کا نتیجہ ہوسکتی ہے۔ کچھ طبی تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا کہ یہ وٹامن نئی جلد بننے کے عمل کے لیے ضروری کمپا?نڈز کی مقدار بڑھانے میں مدد دیتا ہے۔ اسی طرح وٹامن ڈی ورم اور انفیکشن سے لڑنے میں بھی مدد دیتا ہے۔

مردوں میں کمزوری:
ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ وٹامن ڈی کی کمی مردوں میں مخصوص جسمانی کمزوری کا باعث بنتی ہے جس کے نتیجے میں erectile dysfunction نامی مرض کا خطرہ بڑھتا ہے، اس کا علاج ڈاکٹر کے مشورے سے ہی ممکن ہوتا ہے۔

بہت زیادہ پسینہ آنا:
اگر تو پیشانی پر پسینہ بہت اکثر چمکتا ہے تو یہ وٹامن ڈی کی کمی کی نمایاں علامات میں سے ایک ہے، خصوصاً اس وقت جب آپ کوئی خاص جسمانی محنت کا کام نہ کررہے ہوں اور پھر بھی پسینہ تیزی سے خارج ہورہا ہو، وہ بھی عام موسم میں۔ ان حالات میں وٹامن ڈی کا ٹیسٹ کرایا جانا چاہئے۔

وٹامن ڈی حاصل کرنے والی غذائیں:

چربی والی مچھلی اور سمندری غذائیں:
فیٹی فش اور سمندری غذاؤں میں وٹامن ڈی جیسا قدرتی اجزا کثیر مقدار میں پایا جاتا ہے۔مثلاً100گرام سامن مچھلی 386IU وٹامن کی مقدار فراہم کرتی ہے۔ وٹامن ڈی کی مقدار سمندری غذاؤں کی انواع و اقسام میں مختلف پائی جاتی ہے۔ جن سمندری غذاؤں میں وٹامن ڈی کی کثیر مقدار پائی جاتی ہے ان میں ٹونا،سرمئی مچھلی،کستورا مچھلی،جھینگے،سارڈین مچھلی،اور ین کووے (سبنا مورہ مچھلی)شامل ہیں۔

مشروم:
وٹامن ڈی کے حصول کے لیے مشروم کو ایک مکمل نباتاتی ذریعہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ انسانوں کی طرح مشروم بھی سورج کی الٹراوائلٹ شعاعوں کے ذریعے وٹامن ڈی بنانے کی صلاحیت سے مالا مال ہوتے ہیں۔ سمندری نوع کی طرح مشروم کی بھی مختلف اقسام کی وٹامن ڈی کی مختلف مقدار فراہم کرتی ہیں مثلاً100گرام جنگلی مشروم وٹامن ڈی کے 2,384IU فراہم کرتے ہیں۔

انڈے کی زردی:
انڈے کی زردی بھی ایک ایسی غذا ہے جسے اپنی روزمرہ روٹین میں شامل کرکے وٹامن ڈی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ لیکن وٹامن ڈی کے حصول ک لئے فارمی کے بجائے دیسی انڈوں کا استعمال زیادہ فائدہ مند تصور کیا جاتا ہے۔ طبی ماہرین کی رائے کے مطابق دیسی انڈوں میں فارمی انڈوں کے مقابلے وٹامن ڈی کی مقدار3 سے4 گنا زیادہ ہوتی ہے۔
سورج کی روشنی میں وقت گزاریں:
وٹامن ڈی کیلئے انگریزی میں ”Sunshine Vitamin“ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے کیونکہ سورج کی روشنی وٹامن ڈی کے حصول کا سب سے بہترین ذریعہ ہے۔ ماہرین کے مطابق وٹامن ڈی کی کمی پوری کرنے کے لیے روزانہ کم ازکم نصف گھنٹہ دھوپ میں گزارا جائے۔انسانی جِلد پر پایا جانے والا کولیسٹرول وٹامن ڈی کے پیشرو کے طور پر کام کرتا ہے اور جب یہ کولیسٹرول سورج کی UVBشعاعوں سے گزرتا ہے تو وٹامن ڈی میں تبدیل ہوجاتا ہے۔

فورٹیفائیڈ فوڈ:
کچھ غذاؤں میں قدرتی طور پر وٹامن ڈی کی اچھی مقدار موجود ہوتی ہے۔لیکن اکثر غذائیں ایسی ہیں، جن میں فورٹیفیکیشن پروسیس کے دوران وٹامن ڈی کا اضافہ کیا جاتا ہے۔ اس لیے فورٹیفائیڈ فوڈ خریدتے وقت ڈبے پر اجزا میں وٹامن ڈی کی موجودگی کو یقینی بنائیں۔ کچھ فورٹیفائیڈ غذائیں بھی وٹامن ڈی کا اچھا ذریعہ ثابت ہوتی ہیں۔ مثلاً گائے کا دودھ، سویا، بادام کادودھ، اورنج جوس، سیریل، دہی وغیرہ۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

Malaria ملیریا: علامات اور علاجملیریا ایک خطرناک اور مہلک خون کو متاثر کرنے والا مرض ہے جو کہ ایک پیراسائیٹ سے متاثرہ مچ...
15/10/2021

Malaria

ملیریا: علامات اور علاج

ملیریا ایک خطرناک اور مہلک خون کو متاثر کرنے والا مرض ہے جو کہ ایک پیراسائیٹ سے متاثرہ مچھر کے کاٹنے سے پھیلتا ہے جسے اینوفلیز ماسکیٹو کہتے ہیں۔ یہ اپنی خوراک انسانی خون سے حاصل کرتے ہیں اور اگر کوئی متاثرہ مچھر انسان کو کاٹ لے تو یہ بیماری انسان میں منتقل ہو جاتی ہے۔

یہ بیماری بہت ہی جلد پھیلنے کی وجہ سے کافی خطرناک ہو سکتی ہے اور بیماری کی نوعیت پیراسائیٹ کی قسم پر منحصر ہوتی ہے۔ چونکہ یہ پیراسائیٹس دنیا کے مختلف علاقوں میں مختلف اقسام کے ہوتے ہیں لہذا مرض کئ نوعیت بھی علاقوں کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے۔



ملیریا کی علامات:
ابتدائی علامات بیماری کی شدید نوعیت کی علامات سے مختلف ہوتی ہیں۔ شدت بڑھنے کے ساتھ ساتھ مختلف اعضاء کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور یہ مرض مہلک بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ اس میں شدید تیز بخار چڑھتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ جسم شدید کپکپاہٹ کا شکار ہو جاتا ہے اور انسان کو شدید سردی لگنے لگتی ہے اور وہ بے حوش بھی ہو سکتا ہے۔

متاثرہ شخص میں دورے پڑنے کے امکانات بھی ہوتے ہیں اور انسان کا سانس بھی جواب دینے لگتا ہے۔ جسم کے مختلف حصوں سے خون بہنے لگتا ہے اور انسان خون کی کمی کا شکار ہو جاتا ہے۔ شدید ملیریا میں انسان کی آنکھیں بھی پیلی پڑ جاتی ہیں جسے جانڈس کہتے ہیں۔

ابتدائی مراحل اور مناسب نوعیت کی بیماری میں اعضاء کے افعال میں کوئی کمی نہیں آتی اور علامات روزانہ 6 سے 10 گھنٹوں کے وقفے سے نمودار ہوتے ہیں۔ مختلف اقسام کے پیراسائیٹس مختلف نوعیت کے مرض کا باعث بنتے ہیں تاہم بغیر علاج کے ہلکی نوعیت والی بیماری بھی شدت پکڑ سکتی ہے بالخصوص اگر انسان کی قوت مدافعت پہلے سے متاثر ہو۔

چونکہ اس بیماری کی علامات عام کھانسی اور زکام سے ملتی جلتی ہیں اس لئے ابتدائی مراحل میں اس کی تشخیص نسبتا مشکل ہو جاتی ہے۔

علامات میں ٹھنڈے اور گرم پسینے،شدید سردی کی کیفیت، کپکپاہٹ اور تیز بخار شامل ہیں۔ دورے پڑنا عموما بچوں میں دیکھا گیا ہے جبکہ سر درد، بخار اور الٹی سب کو برابر متاثر کرتی ہیں۔



علاج اور احتیاط:
اس مرض کا علاج دراصل جسم سے پیراسائیٹ کو ختم کرنے پر منحصر ہوتا ہے۔ ایسے مریضوں کا بھی علاج ممکن ہے جن میں علامات ظاہر نہیں ہوتیں کیونکہ وہ انفیکشن پھیلا سکتے ہیں۔

عام نوعیت کے مرض کے علاج کیلئے ڈبلیو۔ایچ۔او ایکٹ(اے۔سی۔ٹی) تھراپی کا انتخاب بتاتی ہے جو کہ آرٹیمیسینن کے ساتھ مزید کسی ایک اور دوا پر مشتمل ہوتی ہے۔ یہ ادویات پیراسائیٹس کی تعداد کو ڈرامائی طور پر کافی کم کر دیتی ہیں۔ لیکن بری بات یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ پیراسائیٹس اس دوا کے خلاف بھی مزاحمت اختیار کر رہے ہیں اور آرٹیمیسینن کے ساتھ ساتھ کسی اور طاقتور ڈرگ کا استعمال بھی لازمی ہو گیا ہے۔ اس بیماری کے خلاف ویکسین کی عدم دستیابی کی وجہ سے علاج محض اینٹی ملیریئل ڈرگز پر ہی منحصر ہے لہذا بہترین حکمت عملی یہ ہے کہ اس مرض سے بچا جائے۔

مچھر سے بچاو کے کئی طریقے ہیں جن میں چند احتیاطی تدابیر مندرجہ ذیل ہیں:

۔ ایسی جگہوں پر رہا جائے جدھر کھڑکیاں اور دروازے اچھے طریقے سے بند ہوں یا ایئرکنڈیشنڈ کمروں کا انتخاب کیا جائے۔

۔ ایئرکنڈیشنڈ کمروں کی عدم موجودگی کی صورت میں مچھر دانی کا استعمال کیا جانا چاہئیے۔

۔ اپنی جلد پر مچھر مار ادویات یا سپرے کا استعمال کیا جائے۔

۔ بالخصوص شام اور رات کے وقت پورے بازوں والے کپڑے پہن کر جسم کو حتی الامکان ڈھکنا چاہیئے۔

Anemiaخون کی کمی، وجوہات، علامات اور علاج۔۔۔۔خون کی کمی (Anemia) ایک ایسے کیفیت ہے جس میں خون میں سرخ خلیے بننا کم ہوجات...
13/10/2021

Anemia

خون کی کمی، وجوہات، علامات اور علاج۔۔۔۔

خون کی کمی (Anemia) ایک ایسے کیفیت ہے جس میں خون میں سرخ خلیے بننا کم ہوجاتے ہیں۔ سرخ خلیوں کا سب سے اہم حصہ ہیموگلوبن ہوتا ہے اور یہ پھیپڑوں سے آکسیجن لے کر جسم کے باقی حصوں تک پہنچاتا ہے۔ اگر جسم میں سرخ خلیوں یا ہیموگلہبین کی کمی واقع ہوجائے تو جسم کے دیگر حصوں کو آکسیجن نہیں پہنچ پاتی جس کے باعث جسم کے دیگر حصوں کو کام کرنے میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے۔

وجوہات

خون کی کمی یا اینمیا 400 اقسام کی ہوتی ہے جنھیں تین گروپوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:

٭خون ضائع ہوجانے کے باعث ہونے والی خون کی کمی: کسی چوٹ کے لگنے، زچگی یا کینسر جیسی بیماریوں میں بعض اوقات زیادہ خون ذائع ہوجاتا ہے جس سے جسم میں خون کی کمی واقع ہوجاتی ہے۔

٭سرخ خلیوں کے بننے میں کمی یا خرابی کے باعث ہونے والی خون کی کمی: جسم میں سرخ خلیوں کی کمی کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ جیسے کہ جسم کو ضرورت کے مطابق وٹامنز نہ ملنا، آئرن کی کمی، ہڈیوں کا گودا کم ہوجانا یا دیگر امراض۔اس کے علاوہ سگریٹ نوشی، وزن زیادہ ہونے یا بڑھتی عمر کی وجہ سے بھی یہ مرض لاحق ہوسکتا ہے۔

٭سرخ خلیوں کے تباہ ہوجانے سے ہونے والی خون کی کمی: جن کے سرخ خلیات کمزور ہوتے ہیں وہ ذرا سے دباؤ سے ہی پھٹ جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ مریض کہ وا لدین میں سے کسی کو خون کی کمی رہی ہویا کسی انفیکشن کے باعث جسم میں جراثیم داخل ہو گئے ہوں۔ اس کے علاوہ جگر یا گردے کی بیماری میں جسم سے خارج ہونے والے زہریلے مواد سے بھی جسم میں خون کی کمی ہوجاتی ہے۔

علامات

خون کی کمی کی علامات خون کی کمی ہونے کی وجوہات پر منحصر ہیں۔ عام طور پر اینمیا کی مندرجہ ذیل علامات ظاہر ہوتی ہیں:

٭تھکاوٹ ہونا
٭کمزوری ہونا
٭جلد کا پیلا پڑ جانا
٭سانس لینے میں تکلیف
٭سینے میں درد
٭چکر آنا
٭ہاتھ اور پاؤں ٹھنڈے پڑنا

شروع شروع میں اینمیا کی علامات اتنی ہلکی نوعیت کی ہوتی ہیں کہ انہیں پہچان پانا مشکل ہوتا ہے۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان علامات میں شدت آنے لگتی ہے۔ اگر ایک عرصے تک بنا کسی جسمانی مشقت کے تھکاوٹ محسوس ہو تو کسی معالج سے ضرور مشورہ کرلیں۔

علاج

٭اینمیاکا علاج اس کی نوعیت پر منحصر ہے۔ اگر مرض کی شدت زیادہ نہ ہو اور وہ جسم میں آئرن کی کمی کی وجہ سے ہوا ہو تو عام طور پر ڈاکٹرز آئرن سپلیمنٹس کا استعمال کرنے کو کہتے ہیں۔

٭اگر خون کی کمی کسی انجری یا بیماری میں جسم سے وافر مقدار میں خون ذائع ہوجانے کی وجہ سے ہوئی ہوتو ذائع ہونے والے خون کی کمی پورا کرنے کے لیے خون کی بوتلیں چڑھائی جاتی ہیں۔ ساتھ ہی جسم سے خون ذائع ہونے کی وجہ کو بھی دور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

٭اگر کیمو تھیرپی یا ایسے کسی اور علاج میں خون کی کمی واقع ہوجائے تو اپیوٹن ایلفا Epoetin Alfa یا ایپوجن Epogen کا استعمال کیا جاتا ہے۔

٭بعض اوقات کسی خاص دوا سے بھی جسم میں خون کی کمی ہونے لگتی ہے۔ اگر ایسی علامات ظاہر ہونے لگیں تو ڈاکٹر اکثر نسخہ تبدیل کر دیتے ہیں یا خون کی کمی کو پورا کرنے کے لیے آئرن سپلیمنٹس لینے کا مشورہ دیتے ہیں۔

غذا سے علاج

اس کے علاوہ غذاکے ذریعے بھی خون کی کمی کو دور کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ خون کی کمی کرنے والی چند غذائیں مندرجہ ذیل ہیں:

٭پالک: پالک جسم میں فوری خون بناتا ہے۔ آپ اسے سالاد میں استعمال کر سکتے ہیں۔ روزانہ ایک پلیٹ ہری سبزیوں کا سلاد کھانے سے خون کی کمی کو دور کیا جاسکتا ہے۔اس کے علاوہ پالک کا جوس بھی صحت کے لیے مفید ہے۔

٭چقندر: یہ سبزی جسم میں آئرن کی کمی کو دور کرتی ہے۔ جس سے جسم کے سرخ خلیوں کی مرمت ہوتی ہے۔ اسے کسی بھی شکل میں اپنی روز مرہ کی غذا کا حصہ بنائیں۔

٭سرخ گوشت: خون کی کمی کا شکار افراد ہفتے میں دو سے تین بار گوشت ضرور کھائیں۔ تین اونز مرغی یا گائے کے گوشت سے جسم کو 2.2ملی گرام آئرن ملتا ہے۔

٭ٹماٹر: وٹامن سی حاصل کرنے کے لیے ٹماٹر بے حد مفید ہے۔ جسم میں موجود وٹامن سی زیادہ سے زیادہ آئرن جذب کرنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔

٭انڈے: یہ بھی آئرن کے حصول کا ایک بہترین ذریعہ ہیں۔ ایک بڑے انڈے میں تقریباًایک ملی گرام آئرن ہوتا ہے۔ ایک انڈا روزانہ کھانے سے خون کی کمی دور ہوسکتی ہے۔

خون کی کمی ایک قابل علاج بیماری ہے جسے اپنی طرز زندگی اور خوراک میں تبدیلی لا کر بڑی آسانی سے دور کیا جا سکتا ہے۔ انیمیا کی علامات محسوس ہونے پر اپنے معالج سے رابطہ کریں اور بتائی گئی احتیاط اور علاج کے طریقوں پر عمل کریں۔

Cholesterol *ﮐﻮﻟﯿﺴﭩﺮﻭﻝ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ؟ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﭽﺎﺅ ﮐﯽ ﺗﺪ ﺑﯿﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﻋﻼﺝ۔۔*کولیسٹرول موم کی طرح چکنا مادہ ہے جو ہمارے...
13/10/2021

Cholesterol

*ﮐﻮﻟﯿﺴﭩﺮﻭﻝ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ؟ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﭽﺎﺅ ﮐﯽ ﺗﺪ ﺑﯿﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﻋﻼﺝ۔۔*

کولیسٹرول موم کی طرح چکنا مادہ ہے جو ہمارے جگر میں تیار ہوتا ہے اور ہماری غذا سے حاصل ہو کر خون میں ذرات کی شکل میں شامل ہو جاتا ہے۔ کولیسٹرول کی معمولی سی مقدار ہمارے جسم کی ساخت میں شامل خلیوں کی نشوونما اور صحت کے لیے بہت ضروری ہے۔ یہ مختلف ہارمونز کی تیاری اور نظام ہاضمہ کی کارکردگی کا اہم جزو ہے۔ اس کے علاوہ یہ جسم میں حرارت پیدا کرنے کے لیے بھی استعما ل ہوتا ہے۔ خون میں کولیسٹرول ایک مقررہ حد تک رہے تو ہر چیز معمول کے مطابق کام کرتی ہے۔ تا ہم اگر یہ مقررہ حدسے بڑھ جائے تو بہت سارے مسائل جنم لیتے ہیں اور جسم کے مختلف اعضاء خصوصاً دل ،دماغ اور شریانوں پر بہت منفی اثر پڑتا ہے۔

خون میں کولیسٹرول کہاں سے آتا ہے؟

خون میں کولیسٹرول کی مقدار ، کسی حد تک ہماری غذا پر منحصر ہے ۔ لیکن اس کا زیادہ تر انحصا ر (80فیصد) ہمارے جگر میں اس کی پیداواری صلاحیت پر منحصر ہے۔ یہ سمجھیں کہ جگر ، کولیسٹرول پیدا کرنے کی فیکٹری ہے۔ کچھ لوگوں میں یہ فیکٹر ی موروثی طور پر ضرورت سے زیادہ کام کرکے خون میں کولیسٹرول کی مقدار مقرر کردہ حدود سے بڑھا دیتی ہے۔ یہ مقدار بڑھنے سے کولیسٹرول خو ن کی نالیوں کی اندرونی تہوں میں جمع ہوجاتا ہے اور کولیسٹرول کے ذخیرے ( Plaques ) بن جاتے ہیں۔جس کی وجہ سے خون کی گردش میں کمی واقعہ ہوجاتی ہے یا خو ن کی نالیاں بالکل بند ہو جاتی ہیں اور مختلف اعضاء کو نقصا ن پہنچتا ہے۔

*کولیسٹرول غذا کی کن کن اشیاء میں پایا جاتا ہے؟*

کولیسٹرول جانوروں سے حاصل شدہ غذا میں پایا جاتا ہے۔ اس غذا میں مندرجہ ذیل اشیاء نمایاں ہیں۔
* چھوٹا اور بڑا گوشت
* انڈے کی زردی
* ڈیری کی اشیاء مثلاًدودھ ، دہی ، مکھن ، پنیر۔
* گردہ ، کلیجی ، مغز وغیرہ میں کولیسٹروال بہت زیادہ ہوتا ہے۔
* مرغی اور مچھلی کے گوشت میں کولیسٹرول کی مقدار نسبتاً کم ہوتی ہے۔
* نباتات سے حاصل کردہ غذا مثلاً پھل ، سبزیاں ، دالیں ، میوہ جات میں بھی کولیسٹرول کافی کم ہوتا ہے۔

*کولیسٹرول کی کتنی اقسام ہیں؟*
* ایچ ڈی ایل ( HDL: High Density Lipoprotein) کولیسٹرول
* ایل ڈی ایل ( LDL: Low Density Lipoprotein ) کولیسٹرول
* ٹرائی گلیسرائیڈز ( Triglycerides)

کولیسٹرول کے ذرات بذات خودخون میں گردش نہیں کرتے بلکہ وہ ایک خاص پروٹین کے سہارے چلتے ہیں۔ اس پروٹین کو Lipoprotein کہا جاتا ہے۔ Lipoprotein کی مثال ایک گاڑی کی ہے جو سڑک پر چل رہی ہے اور اس پر سامان لدا ہوا ہے اور یہ سامان کولیسٹرول کی مختلف اقسام کا ہے جو خون کے ذریعے مختلف اعضاء تک پہنچتا ہے۔

*ایچ ڈی ایل ( HDL) کولیسٹرول*
اس کولیسٹرول کو “اچھا” سمجھا جاتا ہے ۔ وہ اس لیے کہ یہ کولیسٹرول کو خون کی نالیوں اور پٹھوں سے جگر کی طرف لے جاتا ہے اور چونکہ جگر ایک فیکٹری کی طرح ہے تو یہ کولیسٹرول وہاں پہنچ کر بھسم ہوجاتاہے۔ اس طرح سے خون میں کولیسٹرول کی مقدار مقررہ حد میں رکھنے میں مدد دیتا ہے اور اعضاء خصوصی طور پر دل کی حفاظت کرتے ہیں۔

*ایل ڈی ایل (LDL) کولیسٹرول*
یہ کولیسٹرول “برا” سمجھا جاتاہے کیونکہ یہی وہ قسم ہے جو خون کی نالیوں کی اندرونی تہوں میں جم کر ان کو موٹا کر کے خون کی گردش میں کمی لاتا ہے اور د ل کی شریانوں کے امراض کا باعث بنتا ہے۔

*ٹرائی گلیسرائیڈز ( Triglycerides )*
یہ وہ چکنائی ہے جو ذرات کی شکل میں اس وقت جمع ہوتی ہے۔ جب جسم میں ضرورت سے زیادہ کلو ریز بہم پہنچائی جائیں۔ اضافی توانائی کی ضرورت پڑنے کی صورت میں(مثلاً ورزش ، بھار ی جسمانی کام وغیرہ) ٹرائی گلیسرائیڈ کی ضرورت پڑتی ہے ۔ تاہم خون میں ان کی زیادتی لگاتار رہنے کی صورت میں یہ د ل کے امراض کا باعث بنتی ہے۔ ذیابیطس جیسے امراض میں ان کی مقدار بہت بڑھ جاتی ہے۔ *

*خون میں کولیسٹرول کی مقررہ حد اور ہائی کولیسٹرول کی مقدار کیا ہے؟*

* ٹوٹل کولیسٹرول کی نارمل یا معمول کی مقدار موجودہ درجہ بندی کے مطابق 180ملی گرا م یا اس سے کم ہے۔
* بارڈر لائن ہائی کولیسٹرول کی مقدار 181سے 199ملی گرا م ہے۔
* ہائی کولیسٹرول کی مقدار 200ملی گرام یا اس سے زیادہ ہے۔

خون میں کولیسٹرول کے بڑھنے کی وجوہات کیا ہیں؟

* موروثی اثرات بہت اہمیت کے حامل ہیں ۔ کولیسٹرول کچھ خاندانوں میں موجود ہوتا ہے۔یہاں تک کہ موروثی اثرات کے تحت بچوں اورنوجوانوں میں بھی کولیسٹرول کی زیادتی پائی جاتی ہے۔
* غذا میں چکنائی کی مقدار کی زیادتی بھی کولیسٹرول کو بڑھا دیتی ہے۔ زردی والا انڈہ ، مرغن غذائیں ، تلی ہوئی اشیاء ، ناریل ، مغز ، گردہ ، کلیجی ، نہاری ، پائے ، گائے کا گوشت چند ایک مثالیں ہیں جن کا مسلسل اور کثرت سے استعمال کولیسٹرول کی مقدار کو خون میں بڑ ھاتی ہیں ۔ خصوصی طور پر ان افراد میں جن کی فیملی میں کولیسٹرول بڑھنے کا رجحان ہے۔الکوحل کا استعمال بھی کولیسٹرول بڑھاتا ہے۔

* کچھ امراض بھی ایسے ہیں جن میں کولیسٹرول کی مقدار بڑھتی ہے۔ مثلاً تھائی رائیڈ thyroid کا مرض ، گردوں کامرض ، شوگر کا مرض وغیرہ۔
* موٹاپا، کولیسٹرول کو بڑھانے کا ایک اہم عنصر ہے۔
* ورزش کی کمی اور سگریٹ نوشی۔

*ہائی کولیسٹرول کی کیا علامات ہیں؟*
عمومی طور پر ہائی کولیسٹرول کی کوئی علامات نہیں ہوتی ۔ اس کا پتہ صرف خون میں کولیسٹرول کی مقدار کے لیے ٹیسٹ کروا کر ہی ہو سکتا ہے۔ تاہم کچھ افراد میں کولیسٹرول آنکھوں کے گرد ، جلد میں اور جوڑوں پر پیلے پیلے نشانات کی شکل میں جمع ہوجاتا ہے۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ کولیسٹرول آہستہ آہستہ کئی سالوں پر محیط عرصے میں خون کی نالیوں کی اندرونی تہوں میں جمتا رہتا ہے۔ اس کے نتیجے میں نالیاں تنگ اور سخت ہو جاتی ہیں ۔ خون کی گردش کی مقدار میں کمی واقعہ ہوجاتی ہے اور اس طریقہ سے مختلف اعضاء کو نقصان پہنچتا ہے۔

*خون کی نالیوں میں کولیسٹرول جمنے سے کیا منفی اثرات ہوتے ہیں؟*
خون کی نالیاں تنگ اورخون کی گردش کم ہونے سے مختلف اعضاء پر مندرجہ ذیل منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں:ٹانگوں کی شریانوں میں تنگی آنے کی صورت میں ٹانگوں میں شدید درد ہو سکتا ہے جو خصوصی طور پر چلنے کے وقت ہوتا ہے۔ خون جم جانے کی صورت میں ٹانگ ناکارہ ہو سکتی ہے اور یہاں تک کہ ٹانگ کاٹنی پڑتی ہے۔

*دماغ*
دماغ کی رگوں میں خون جم سکتا ہے یا نالیاں پھٹنے سے خون بہہ سکتا ہے ۔ اس کے نتیجے میں فالج کا اثر ہوجاتا ہے۔ فالج ایک جان لیوا مرض ثابت ہو سکتا ہے۔ خون جمنے کا عمل ، دل سے دماغ کی طرف جانے والی نالیوں میں بھی ہو سکتا ہے۔ اس سے یا تو فالج یا وقتی بیہوشی کی علامات ہو سکتی ہیں۔

*دل*
دل کی شریانیں تنگ ہونے سے
* دل کادرد ( Angina )
* د ل کا دورہ ( Heart Attack)
*ہارٹ فیلیر ( Heart failure)
جیسے موذی اثرات ہو سکتے ہیں۔

*دوسری شریانیں*
دل ، دماغ اور ٹانگوں کی شریانوں کی طرح باقی اعضاء مثلاً گردے ، آنتیں اور د ل سے نکلنے والی بڑی شریانوں میں بھی وہی عمل یعنی تنگی اور خون کے بہاؤ میں کمی کی وجہ سے ان اعضاء کو نقصان پہنچتا ہے۔
مزید معلومات کے لیے ڈاکٹر سے رابطہ کریں ۔

کینسر کیا ہے؟کینسر سے مراد ایک ایسی بیماری ہے جس میں جسمانی خلیے بے قابو ہو کر تقسیم ہونے لگتے ہیں اور پھر یہی خلیے نارم...
12/10/2021

کینسر کیا ہے؟

کینسر سے مراد ایک ایسی بیماری ہے جس میں جسمانی خلیے بے قابو ہو کر تقسیم ہونے لگتے ہیں اور پھر یہی خلیے نارمل خلیوں کو بھی تباہ کر کے پورے جسم میں پھیل جاتے ہیں۔ ہمارے جسم کا گروتھ کنٹرول کرنے والا نظام خراب ہو جاتا ہے اور اس طرح پرانے عمر رسیدہ سیلز اپنے متعین وقت پر ختم نہیں ہو پاتے اور نئے بننے والے سیلز بھی بلا ضرورت بنتے رہتے ہیں۔ یہ سیلز بے قابو ہو کر ایک گچھے کی شکل اختیار کر لیتے ہیں جسے ٹیومر کہتے ہیں۔

کینسر کی بنیادی خصوصیات:
کینسر سیلز میں مندرجہ ذیل خصوصیات متعلقہ جینز میں میوٹیشنز کی وجہ سے پائی جاتی ہیں:

۔ خود ساختہ گروتھ سگنلز

۔ گروتھ کو روکنے والے سگنلز سے غیر حساسیت

۔ سیل ڈیتھ سے ارتفاع

۔ بے قابو گروتھ

۔ نئی خون کی نالیاں بننے کے عمل کا مستقل ہو جانا

۔ مختلف آرگن اور سطحوں کو کراس کرنا اور جسم میں پھیلنے کی خاصیت



کینسر کیسے جنم لیتا ہے؟
کینسر ایک جینیاتی مسئلہ ہے جو کہ یا تو وراثتی انتقال سے جنم لیتا ہے یا ایسے عوامل سرزد ہوتے ہیں جن سے ہمارے جسم کا گروتھ کو قابو کرنے والا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔ یہ زندگی میں کسی بھی وقت ہمارے ڈی این اے میں نقائص کی وجہ سے ہو سکتا ہے اور یہ خرابیاں مختلف ماحولیاتی عناصر جیسا کہ یو۔وی ریڈی ایشنز، سموکنگ، وائرسز، کیمیکلز یا ریڈیوایکٹو اشیاء سے تا دیر رابطے کے باعث پیدا ہوتی ہیں۔ عام حالات میں ہمارے ڈی این اے میں ٹیومر سپریسر جینز پائے جاتے ہیں جو کہ کینسر ہونے سے تحفظ فراہم کرتے ہیں مگر ان جینز میں میوٹیشنز کی وجہ سے کینسر جنم لیتا ہے۔



کینسر کیسے پھیلتا ہے؟

کینسر جسم کے مختلف حصوں تک میٹاسٹیسز کے عمل کے ذریعے پھیلتا ہے۔ کینسر سیلز اپنی بنادی جگہ سے ٹوٹ کر بذریعہ خون یا لمف جسم کے دیگر حصوں تک رسائی حاصل کر لیتا ہے۔ پھیل کر دوسرے حصے میں جانے والے ٹیومر کا بھی وہی نام ہوتا ہے جو کہ بنیادی جگہ کے ٹیومر کا نام ہے۔ میٹاسٹیٹک ٹیومرز ذیادہ جان لیوا ہوتے ہیں اور ان کے اثرات ذیادہ خطرناک ہوتے ہیں۔

کینسر کی اقسام:

کینسر کی بہت سی اقسام ہیں۔ کینسر کو بننے والے ٹشوز یا آرگن کی وجہ سے نام دیا جاتا ہے جس طرح برین کینسر دماغ میں جبکہ بریسٹ کینسر چھاتی میں جنم لیتا ہے۔

کینسر سیلز کو 5 اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

1۔ کارسینوما

2۔ سارکوما

3۔ لمفوما

4۔ لوکیمیا

5۔ مائلوما

1۔کارسینوما:

یہ کینسر ایپیتھیلیئل سیلز سے جنم لیتا ہے جو کہ جلد سمیت مختلف آرگن میں پائی جاتی ہے۔ لہذا گردے کی ٹیوبیولز سے جنم لینے والا اور جلد کی اپیتھیلیم سے جنم لینے والے ٹیومرز درحقیقت ایک ہی طرح کے سیلز سے جنم لیتے ہیں اور انہیں کارسینوما کہا جاتا ہے۔

تمام کینسرز کا 90 فیصد کارسینوما پر مشتمل ہوتا ہے۔

کارسینوما کی اقسام:

۔ایڈینوکارسینوما:

اس کارسینوما میں مائیکروسکوپ کے نیچے گلینڈز کی طرح کا پیٹرن ملتا ہے۔

۔سکیمس سیل کارسینوما:

یہ کینسر سکیمس سیلز کی طرح کے خلیوں سے مل کر بنتا ہے۔

۔بیزل سیل کارسینوما:

یہ جلد کی بیزل لیئر میں جنم لیتا ہے اور ذیادہ تر الٹرا وائلٹ شعاعوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔

۔ایڈینوسکیمس کارسینوما:

اس میں ایڈینو اور سکیمس دونوں طرح کی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔

۔ایناپلاسٹک کارسینوما:

ان میں موجود خلیے نارمل خلیوں سے بہت ذیادہ مختلف ہوتے ہیں۔ انہیں ہائی گریڈ ٹیومرز بھی کہا جاتا ہے۔

2۔ سارکوماز:

یہ کنکٹیو ٹشو جیسا کہ ہڈیاں، کارٹیلیج یا مسلز سے جنم لیتا ہے۔ فائبرس ٹشو سے جنم لینے والا کینسر فائبروسارکوما جبکہ ہڈی سے نکلنے والا کینسر اوسٹیوسارکوما کہلاتا ہے۔

3۔ لمفوما:

یہ کینسر لمفیٹک سسٹم کے سیلز سے جنم لیتا ہے۔ اس سسٹم میں تلی، لمف نوڈز، تھائمس گلینڈ اور بون میرو شامل ہے۔

اس کی دو بنیادی اقسام ہیں:

ہاجکن لمفوما

نان ہاجکن لمفوما

4۔ لوکیمیا:

لوکیمیا یا بلڈ کینسر بنیادی طور پر بون میرو کا کینسر ہے۔ بون میرو بلڈ سیلز بناتا ہے جن میں وائٹ بلڈ سیلز، ریڈ سیلز اور پلیٹلیٹس شامل ہیں۔ لوکیمیا کی 4 اقسام ہیں:

۔ ایکیوٹ

۔ کرونک

۔ لمفوسٹک

۔ مائیلوجنس



مائلوما:

بون میرو میں موجود پلازما سیلز کے کینسر کو مائلوما کہتے ہیں۔ پلازما سیلز اینٹی باڈیز بنا کر ہمیں انفیکشنز سے روکتے ہیں۔



خدشاتی عناصر:

۔ بڑھتی ہوئی عمر

۔ تمباکو نوشی

۔ الکوہل

۔ مختلف کارسینوجنز سے تعلق مثلا چھالیا

۔ سورج میں کام کرنا

۔ ریڈی ایشن

۔ وائرسز(ہیومین پیپیلوما وائرس) اور کچھ بیکٹیریا

۔ جینیاتی عناصر

۔ مالنیوٹریشن

۔ جسمانی حرکات و سکنات میں کمی

۔ موٹاپا

احتیاطی تدابیر:

۔ الکوہل اور سموکنگ سے پرہیز

۔ سورج کی روشنی سے بچاو

۔ سن سکرین کا استعمال

۔ سورج کی روشنی سے بچاو کیلئے اپنے جسم کو ڈھانپے رکھنا

۔ چھاوں میں رہنا

۔ گھر

CONSTIPATION ”قبض کیوں ہوتی ہے؟ اسباب، علامات اور علاج“قبض کو ’ ام الامراض‘ بھی کہتے ہیں کیونکہ بعد میں یہ خود بہت سی تک...
09/10/2021

CONSTIPATION

”قبض کیوں ہوتی ہے؟ اسباب، علامات اور علاج“

قبض کو ’ ام الامراض‘ بھی کہتے ہیں کیونکہ بعد میں یہ خود بہت سی تکالیف کا باعث بن جاتا ہے۔

قبض کو معمولی سمجھ کر نظرانداز نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اس کی وجہ دریافت کرکے اس وجہ کا علاج کرکے اسے ختم کرنا چاہیے۔ تین طرح کی قبض عموماً دیکھنے میں آتی ہیں۔

(1)۔ انتڑیوں میں خشکی کی وجہ سے،
(2)۔غذا کی بے احتیاطی کی وجہ سے ،
(3)۔ اندرونی یا بیرونی بواسیر کی وجہ سے۔

قبض میں آج کل ہر چوتھا فرد مبتلا ہے۔ اگر اجابت معمول کے مطابق نہ آئے، تھوڑی تھوڑی ہو یا دوسرے تیسرے روز آئے تو یہ قبض کہلاتا ہے۔ باقاعدہ اجابت نہ ہونے سے طبیعت میں بھاری پن رہتا ہے اور بھوک بھی کم لگتی ہے کیونکہ جب آنتوں میں پہلے سے جگہ موجود نہ ہو تو نئی غذا کا داخل ہونا ممکن نہیں ہوتا ۔

جب غذا اندر نہ جائے تو توانائی میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ عضلات میں کمزوری ہو تو یہ بھی قبض کا باعث ہے ۔ بعض اوقات کچھ پسندیدہ کھانا ملنے پر ضرورت سے زیادہ کھانے سے بھی بدہضمی اور قبض جیسی شکایات ہو جاتی ہیں۔ اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو بیماری شدت اختیار کرسکتی ہے۔

بعض افراد رات کو کھانا نہیں کھاتے اور صبح تک بھوکے رہتے ہیں ، اتنے لمبے وقفے تک اگر جسم میں کچھ نہ جائے تو خون میں مٹھاس کی مقدار کم ہو جاتی ہے اور پھر غذا کو آگے بڑھانے والا عنصر نہ ہونے کی وجہ سے قبض کی بیماری پیدا ہو جاتی ہے۔ بہت سے افراد مرغ مسلم اور تلی ہوئی چٹ پٹی اشیا کھانے کو ترجیح دیتے ہیں جو قبض کا سبب بنتی ہیں۔

کھانا کھانے کے بعد مسلسل بیٹھے رہنے سے بھی قبض و بواسیر کی شکایات پیدا ہو جاتی ہیں۔ قبض کے علاج کے سلسلے میں سب سے اہم چیز غذا ہے۔ قبض کے پرانے مریضوں کو وقت پر کھانا کھانا چاہیے۔

وہ اپنی خوراک میں سبزیوں کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں۔ اور نہار منہ کم سے کم چار گلاس پانی پئیں۔ آٹا بغیر چھنا استعمال کریں۔ اگر چکی کا آٹا کھائیں تو بہترین ہے۔ بغیر چھنا آٹا قبض اور ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بہترین ہے ، اس میں ریشے کے علاوہ وٹامن B پایا جاتا ہے جو عضلات کے لیے مقوی اور جسم میں طاقت کا باعث بنتا ہے۔ قبض کا ایک اہم علاج حاجت کے اوقات کا تعین بھی ہے۔ صبح اٹھ کر کچھ کھانے کے بعد ایک مقررہ وقت پر بیت الخلا جانے سے اس ٹائم کی عادت بن جاتی ہے۔

پھر آہستہ آہستہ اس وقت ہی حاجت ہوتی ہے۔ اگر حاجت نہ ہو تب بھی جائیں تو عادت بن جائے گی مگر کچھ کھا کر جائیں خالی پیٹ نہ جائیں۔ رات کا کھانا ضرور کھائیں رات کو کھانے اور سونے کے درمیان تقریباً 3گھنٹے کا وقفہ ہونا چاہیے اس وقفے کے درمیان بیٹھنا نہیں چاہیے ،کم ازکم 500 سے 600 قدم چلنا چاہیے جس سے آنتوں میں توانائی پیدا ہوتی ہے نتیجتاً اگلے دن اجابت ضرور ہو جاتی ہے۔ نہار منہ شہد کا استعمال کریں اور ہرے پتے والی سبزیاں کھائیں۔

قبض سے بچنے کی احتیاطی تدابیر

قبض کشا دوا بار بار لینے کے بجائے فائبر سے بھرپور غذا کا استعمال کریں ، پانی زیادہ پئیں، معدے کو کنٹرول کریں، غذا میں دیسی لال آٹا استعمال کریں۔ میدہ اور بیکری کی غذا سے پرہیز کریں۔ نان اور بازاری روٹی کے بجائے گھر کی پکی ہوئی روٹی کھائیں۔ چائے، کافی، کولڈڈرنک کے بجائے قہوہ کو ترجیح دیں ، اجابت جب آئے تو اسے نظر انداز نہ کریں فوراً جائیں۔ کھانے کا وقت متعین کریں، کھانے کو اچھی طرح چبا کر کھائیں۔

Address

Lahore

Telephone

+923154118707

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr.Hassan khan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr.Hassan khan:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category