05/10/2020
لیور سیروسیس : (Liver cirrhosis) اور الیکٹرو ہومیو پیتھی۔۔۔۔
ڈاکٹر مزمل کے قلم سے
5-10-2020
لیور سیروسیس یعنی جگر کا سکڑنا ایک عام سی بیماری ہے جس میں جگر پر زخم بن جاتے ہیں۔یہ بیماری بہت آہستہ سے پھیلتی ہے اور ابتداء میں کوئی بھی علامت ظاہر نہیں ہوتی ۔
#علامات:
اس کی علامات تب ظاہر ہوتی ہیں جب جگر کے خلیات مرنا شروع ہوتے ہیں ۔اور دوسرے جگر کی وینز میں بلڈ پریشر بھی بڑھ جاتا ہے ۔
جگر کی خرابی
1.سپائیڈر انجیومیٹا: (Spider Angioma)
اس میں جگر میں خون کی نالیوں پر زخم بن جاتے ہیں جس میں آرٹریویز مکڑی کے جالے کی طرح جالا بنا دیتی ہے ۔ایسا صرف 1/3 کیسز میں ہوتا ہے ۔
2۔گائینیکومیٹا: (Gynecomast)
اس حالت میں مردوں میں بریسٹ بڑھنے لگتے ہیں جو کہ کینسر نہیں ہوتا۔ ایسا صرف 2/3 کیسز میں ہوتا ہے۔جو کہ ہارمونز کے توازن میں بگاڑ کی وجہ سے ہوتا ہے ۔
3۔ہائپوگونیڈزم: (Hypogonadism)
مردوں میں جنسی کمزوری پیدا ہوجاتی ہیں کیونکہ جنسی ہارمون کا توازن بھی بگڑ جاتا ہے۔
4۔جگر کا سائز: (Liver size)
ایسی حالت میں جگر کا سائز نارمل بھی ہوسکتا ہے، بڑھ بھی سکتا ہے لیکن زیادہ تر سکڑ جاتا ہے ۔
5۔پیٹ میں پانی پڑ جانا:
ایسی حالت میں پیٹ میں پانی پڑ جاتا ہے جس سے پیٹ پھول جاتا ہے۔
6۔یرقان:
ایسی حالت میں پیلے رنگ کا مواد ظاہر ہونے سے جلد بھی پیلی ہو جاتی ہے ۔
#وجویات:
عام طور پر %57 سیروسیس، ہیپاٹائیٹس بی %30، اور سی %27۔جبکہ شراب نوشی والے میں% 20 رسک ۔
1۔الکوحلک لیور سیروسیس: یہ بیماری الکوحل استعمال کرنے والے لوگوں میں زیادہ ہوتی ہے جس کا تناسب %20-10 الکوحل استعمال کرنے والوں میں زیادہ ہوتا ہے۔شراب جگر کے نارمل میٹابولزم کو بلاک کردیتی ہے۔ جسے الکوحلک ہیپٹائٹس ہو جاتا ہے جس میں بخار، جگر کا بڑھنا، یرقان جیسی بیماریاں پیدا ہو جاتی ہے۔
2۔نان الکوحلک ہیپاٹائیٹس:
ایسی حالت میں فیٹس جگر میں جمع ہو جاتی ہے ایسا ہیپاٹائیٹس موٹاپے والا ہیپاٹائٹس بھی کہلاتا ہے۔ جس سے شوگر اور دل جیسی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔
نوٹ: اس کی تشخیص کے لیے بائپوپسی کی ضرورت ہوتی ہے ۔
3۔ہیپاٹائیٹس سی:
ایسی حالت میں HCV جگر میں سوزش پیدا کرتا ہے اور مختلف دوسرے اعضاء بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں ۔
4۔پرائمری بائلری سیروسیس:
ایسی حالت میں بائل ڈکٹ آٹو امیون سسٹم کی وجہ سے خراب ہو جاتی ہے۔ جس سے جگر کو شدید نقصان پہنچتا ہے ۔ایسی حالت میں الکلائن فاسفیٹ کی مقدار، کولیسٹرول اور بائی لوربن کی مقدار بڑھ جاتی ہے ۔
4۔آٹو امیون ہیپاٹائیٹس:
یہ بیماری اس وقت پیدا ہوتی ہے جب لمفو سائٹ جگر پر حملہ آور ہوتے ہیں اور اسے نقصان پہنچاتے ہیں ۔ایسی حالت میں گاما گلوبولین اور دوسری پروٹین کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔
پتھالوجی:
سیروسیس عام طور ہیپاٹائٹس اور فیٹی لیور کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اگر اس کی ان وجوہات پر قابو پایا جائے تو اس کی اسٹیج بھی تبدیل ہوکر نارمل کی طرف آنے لگے گی۔
#تشخیص:
سیروسیس کی عام تشخیص پلیٹلیٹس کی تعداد 160،000mm3سے کم اور AST/ALT کی نسبت ہو جاتی ہے۔
لیب ٹیسٹ :
مندرجہ ذیل ٹیسٹ سے لیور سیروسس کا پتہ چلایا جا سکتا ہے
1۔ پلیٹلیٹس اور تھرومبو پوئٹین کی مقدار کا کم ہو جانا۔
2۔ ALT اور AST کا بڑھ جانا۔
3. الکلائن فاسفیٹ کا بڑھ جانا۔
4۔ G.G.T ( گاما G.T) کا بڑھ جانا۔
5. بائی لوربن بھی ایسی حالت میں بڑھ جاتا ہے ۔
6۔ البیومن پروٹین کا لیول کم ہو جانا ۔
7۔ خون کے جمنے کا دورانیہ بھی بڑھ جاتا ہے کیونکہ خون کو جمانے والی پروٹین کی مقدار کم ہو جاتی ہے ۔
8۔ ADH اور ایلڈو سیٹرون کا لیول بھی بڑھ جاتا ہے۔
9. تلی کے بڑھنے سے وائٹ سیلز میں کمی آجاتی ہے ۔
10۔ سیروسس میں گلوکوگان بڑھ جانے سے شوگر کی مقدار بھی بڑھ جاتی ہے ۔
فائبرو ٹیسٹ :
یہ ٹیسٹ بائی اوپسی کے متبادل ہے جو کہ فائبروسیس کی پہچان کرتا ہے ۔اس کے علاوہ دوسرے لیبارٹری ٹیسٹ یہ ہیں۔
1۔ ہیپاٹائیٹس کے سیرولوجی ٹیسٹ۔
2۔ فیری ٹینین ٹیسٹ۔
اس سے خون میں آئرن کی مقدار چیک کی جاتی ہے کہ زیادہ ہے یا نارمل ۔
3۔ سیرولو پلازمین۔
یہ ٹیسٹ کاپر کی مقدار بتاتا ہے
4۔ الٹرا ساونڈ۔
یہ ٹیسٹ عضو کی طبعی حالت جاننے کے لئے کیا جاتا ہے ۔لیور سیروسس میں جگر کا طبی معائنہ کیا جاتا ہے کہ اس کا سائز کیا ہے اور اس پر زخم ہیں اگر ہے تو کیا صورتحال ہے ۔ایسی حالت میں عموماً تلی کا سائز بھی بڑھ جاتا ہے ۔اس کے علاوہ پورٹل وینز بھی تشخیص میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جس سے آرٹریل پریشر بڑھ جاتا ہے۔
اس کے علاوہ مزید ٹیسٹ بھی کیے جاتے ہیں جن میں مندرجہ ذیل ہیں۔
1۔ بائی اوپسی
2۔ Ct سکین
3. ایم ار آئی۔ MRI
4. اینڈو سکوپی
#علاج:
الیکٹرو ہومیوپیتھی میں لیور سیروسیس کی دیگر ادویہ کے ہمراہ جگر کی اپنی دوا F1 کو مرض کی شدت کے مطابق مختلف طاقتوں میں S2 کے ساتھ استعمال کروائی جاتی ہے۔۔۔
اور جگر پر F2+GE کا مساج کروانے سے مریض فورا سکون محسوس کرتا ہے۔۔۔۔زیادہ تر دکھ درد بیرونی مساج سے ہی دور ھو جاتے ہیں اور مریض کی ایمرجنسی کا خاتمہ ہونے لگتا ہے تو الیکٹرو کا جادو سر چڑھ کے بولنے لگتا ہے۔۔۔
ویسےہم کسی بھی طب کو مکمل طور پر غلط نہیں کہتے مگر غیر فطرتی عوامل یا ابھی تک مریض پر ہونے والے تجربات پر تنقید کا حق ضرور رکھتے ہیں جس میں پیسے اور زندگی کا نقصان مریض کا ہی ہواکرتا ہے۔۔۔۔
۔۔۔سٹیج کوئی بھی ہو الیکٹرو مریض کو جینے کا حوصلہ ضرور دیتی ہے۔۔۔۔موت چونکہ برحق ہے مگرالیکٹرو مریض کو ایک ماں کی طرح مرض کی شدت یا تکلیف سے بچائے رکھتی ہے۔
اس طریقہ علاج میں #لیور #ٹرانسپلانٹ کی کوئی ضرورت نہی ۔۔
باقی شفا اللہ پاک ہی دیتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احباب مایوس لوگوں سے اجتناب کریں۔۔۔۔باقی الیکٹرو سے آگاہی و علاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔۔
لیور سے متعلق کوئی بھی مسئلہ ہو اپنی رپورٹس ارسال کریں ۔
ڈاکٹر مزمل حسین
الیکٹرو ہومیو فزیشن