Liver Health

Liver Health We are providing best treatment on live diseases.

02/01/2023
لیور سیروسیس : (Liver cirrhosis) اور الیکٹرو ہومیو پیتھی۔۔۔۔ڈاکٹر مزمل کے قلم سے5-10-2020لیور سیروسیس یعنی جگر کا سکڑنا ...
05/10/2020

لیور سیروسیس : (Liver cirrhosis) اور الیکٹرو ہومیو پیتھی۔۔۔۔

ڈاکٹر مزمل کے قلم سے

5-10-2020

لیور سیروسیس یعنی جگر کا سکڑنا ایک عام سی بیماری ہے جس میں جگر پر زخم بن جاتے ہیں۔یہ بیماری بہت آہستہ سے پھیلتی ہے اور ابتداء میں کوئی بھی علامت ظاہر نہیں ہوتی ۔

#علامات:

اس کی علامات تب ظاہر ہوتی ہیں جب جگر کے خلیات مرنا شروع ہوتے ہیں ۔اور دوسرے جگر کی وینز میں بلڈ پریشر بھی بڑھ جاتا ہے ۔

جگر کی خرابی

1.سپائیڈر انجیومیٹا: (Spider Angioma)
اس میں جگر میں خون کی نالیوں پر زخم بن جاتے ہیں جس میں آرٹریویز مکڑی کے جالے کی طرح جالا بنا دیتی ہے ۔ایسا صرف 1/3 کیسز میں ہوتا ہے ۔

2۔گائینیکومیٹا: (Gynecomast)

اس حالت میں مردوں میں بریسٹ بڑھنے لگتے ہیں جو کہ کینسر نہیں ہوتا۔ ایسا صرف 2/3 کیسز میں ہوتا ہے۔جو کہ ہارمونز کے توازن میں بگاڑ کی وجہ سے ہوتا ہے ۔

3۔ہائپوگونیڈزم: (Hypogonadism)

مردوں میں جنسی کمزوری پیدا ہوجاتی ہیں کیونکہ جنسی ہارمون کا توازن بھی بگڑ جاتا ہے۔

4۔جگر کا سائز: (Liver size)

ایسی حالت میں جگر کا سائز نارمل بھی ہوسکتا ہے، بڑھ بھی سکتا ہے لیکن زیادہ تر سکڑ جاتا ہے ۔

5۔پیٹ میں پانی پڑ جانا:

ایسی حالت میں پیٹ میں پانی پڑ جاتا ہے جس سے پیٹ پھول جاتا ہے۔

6۔یرقان:

ایسی حالت میں پیلے رنگ کا مواد ظاہر ہونے سے جلد بھی پیلی ہو جاتی ہے ۔

#وجویات:

عام طور پر %57 سیروسیس، ہیپاٹائیٹس بی %30، اور سی %27۔جبکہ شراب نوشی والے میں% 20 رسک ۔
1۔الکوحلک لیور سیروسیس: یہ بیماری الکوحل استعمال کرنے والے لوگوں میں زیادہ ہوتی ہے جس کا تناسب %20-10 الکوحل استعمال کرنے والوں میں زیادہ ہوتا ہے۔شراب جگر کے نارمل میٹابولزم کو بلاک کردیتی ہے۔ جسے الکوحلک ہیپٹائٹس ہو جاتا ہے جس میں بخار، جگر کا بڑھنا، یرقان جیسی بیماریاں پیدا ہو جاتی ہے۔

2۔نان الکوحلک ہیپاٹائیٹس:

ایسی حالت میں فیٹس جگر میں جمع ہو جاتی ہے ایسا ہیپاٹائیٹس موٹاپے والا ہیپاٹائٹس بھی کہلاتا ہے۔ جس سے شوگر اور دل جیسی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔
نوٹ: اس کی تشخیص کے لیے بائپوپسی کی ضرورت ہوتی ہے ۔

3۔ہیپاٹائیٹس سی:

ایسی حالت میں HCV جگر میں سوزش پیدا کرتا ہے اور مختلف دوسرے اعضاء بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں ۔

4۔پرائمری بائلری سیروسیس:

ایسی حالت میں بائل ڈکٹ آٹو امیون سسٹم کی وجہ سے خراب ہو جاتی ہے۔ جس سے جگر کو شدید نقصان پہنچتا ہے ۔ایسی حالت میں الکلائن فاسفیٹ کی مقدار، کولیسٹرول اور بائی لوربن کی مقدار بڑھ جاتی ہے ۔

4۔آٹو امیون ہیپاٹائیٹس:

یہ بیماری اس وقت پیدا ہوتی ہے جب لمفو سائٹ جگر پر حملہ آور ہوتے ہیں اور اسے نقصان پہنچاتے ہیں ۔ایسی حالت میں گاما گلوبولین اور دوسری پروٹین کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔

پتھالوجی:

سیروسیس عام طور ہیپاٹائٹس اور فیٹی لیور کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اگر اس کی ان وجوہات پر قابو پایا جائے تو اس کی اسٹیج بھی تبدیل ہوکر نارمل کی طرف آنے لگے گی۔

#تشخیص:

سیروسیس کی عام تشخیص پلیٹلیٹس کی تعداد 160،000mm3سے کم اور AST/ALT کی نسبت ہو جاتی ہے۔

لیب ٹیسٹ :

مندرجہ ذیل ٹیسٹ سے لیور سیروسس کا پتہ چلایا جا سکتا ہے
1۔ پلیٹلیٹس اور تھرومبو پوئٹین کی مقدار کا کم ہو جانا۔
2۔ ALT اور AST کا بڑھ جانا۔
3. الکلائن فاسفیٹ کا بڑھ جانا۔
4۔ G.G.T ( گاما G.T) کا بڑھ جانا۔
5. بائی لوربن بھی ایسی حالت میں بڑھ جاتا ہے ۔
6۔ البیومن پروٹین کا لیول کم ہو جانا ۔
7۔ خون کے جمنے کا دورانیہ بھی بڑھ جاتا ہے کیونکہ خون کو جمانے والی پروٹین کی مقدار کم ہو جاتی ہے ۔
8۔ ADH اور ایلڈو سیٹرون کا لیول بھی بڑھ جاتا ہے۔
9. تلی کے بڑھنے سے وائٹ سیلز میں کمی آجاتی ہے ۔
10۔ سیروسس میں گلوکوگان بڑھ جانے سے شوگر کی مقدار بھی بڑھ جاتی ہے ۔

فائبرو ٹیسٹ :

یہ ٹیسٹ بائی اوپسی کے متبادل ہے جو کہ فائبروسیس کی پہچان کرتا ہے ۔اس کے علاوہ دوسرے لیبارٹری ٹیسٹ یہ ہیں۔
1۔ ہیپاٹائیٹس کے سیرولوجی ٹیسٹ۔
2۔ فیری ٹینین ٹیسٹ۔
اس سے خون میں آئرن کی مقدار چیک کی جاتی ہے کہ زیادہ ہے یا نارمل ۔
3۔ سیرولو پلازمین۔
یہ ٹیسٹ کاپر کی مقدار بتاتا ہے

4۔ الٹرا ساونڈ۔

یہ ٹیسٹ عضو کی طبعی حالت جاننے کے لئے کیا جاتا ہے ۔لیور سیروسس میں جگر کا طبی معائنہ کیا جاتا ہے کہ اس کا سائز کیا ہے اور اس پر زخم ہیں اگر ہے تو کیا صورتحال ہے ۔ایسی حالت میں عموماً تلی کا سائز بھی بڑھ جاتا ہے ۔اس کے علاوہ پورٹل وینز بھی تشخیص میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جس سے آرٹریل پریشر بڑھ جاتا ہے۔

اس کے علاوہ مزید ٹیسٹ بھی کیے جاتے ہیں جن میں مندرجہ ذیل ہیں۔

1۔ بائی اوپسی
2۔ Ct سکین
3. ایم ار آئی۔ MRI
4. اینڈو سکوپی

#علاج:

الیکٹرو ہومیوپیتھی میں لیور سیروسیس کی دیگر ادویہ کے ہمراہ جگر کی اپنی دوا F1 کو مرض کی شدت کے مطابق مختلف طاقتوں میں S2 کے ساتھ استعمال کروائی جاتی ہے۔۔۔
اور جگر پر F2+GE کا مساج کروانے سے مریض فورا سکون محسوس کرتا ہے۔۔۔۔زیادہ تر دکھ درد بیرونی مساج سے ہی دور ھو جاتے ہیں اور مریض کی ایمرجنسی کا خاتمہ ہونے لگتا ہے تو الیکٹرو کا جادو سر چڑھ کے بولنے لگتا ہے۔۔۔

ویسےہم کسی بھی طب کو مکمل طور پر غلط نہیں کہتے مگر غیر فطرتی عوامل یا ابھی تک مریض پر ہونے والے تجربات پر تنقید کا حق ضرور رکھتے ہیں جس میں پیسے اور زندگی کا نقصان مریض کا ہی ہواکرتا ہے۔۔۔۔
۔۔۔سٹیج کوئی بھی ہو الیکٹرو مریض کو جینے کا حوصلہ ضرور دیتی ہے۔۔۔۔موت چونکہ برحق ہے مگرالیکٹرو مریض کو ایک ماں کی طرح مرض کی شدت یا تکلیف سے بچائے رکھتی ہے۔
اس طریقہ علاج میں #لیور #ٹرانسپلانٹ کی کوئی ضرورت نہی ۔۔

باقی شفا اللہ پاک ہی دیتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احباب مایوس لوگوں سے اجتناب کریں۔۔۔۔باقی الیکٹرو سے آگاہی و علاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔۔

لیور سے متعلق کوئی بھی مسئلہ ہو اپنی رپورٹس ارسال کریں ۔

ڈاکٹر مزمل حسین
الیکٹرو ہومیو فزیشن

27/09/2020

ایچ پائلوری H.Pylori اور الیکٹرو ہومیو پیتھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

3-6-2018

ڈاکٹر مزمل کے قلم سے۔۔۔۔۔۔

کچھ احباب نے مختلف گروپس میں میرا نام کاٹ کر کاپی پیسٹ کر کے کافی نام کمایا اللہ تعالی انکا بھی بھلا کرے کیونکہ علم تو بہر حال پھر بھی پھیلا ہی ہے۔۔۔۔۔

معدہ کی جراثیمی بیماری ہے جیسے ٹائیفائیڈ کی طرح نظرانداز کردیا جاتا ہے اور اسکی طرف توجہ اس ٹائم ہی دی جاتی ہے جب معدہ کے شدید مسائل جیسا کہ السر وغیرہ ہو جائے۔

H.Pylori bacterium

اس کا مکمل نام ہیلوبیکٹر پائلوری( Helobector Pylori ) ہے۔ یہ بیکٹیریا اپنے گروپ بندی کے لحاظ سے گرام نیگٹو بیکٹیریا میں آتا ہے۔ جسکا مسکن معدہ ہے۔ دنیا کی 50% آبادی H.Pylori کا شکار ہے۔

(ڈاکٹر مزمل حسین)
( الیکٹرو ہومیو فزیشن)

ہمارے معدہ میں تیزابیت سے بچاؤ کے لئے اللہ تعالی نے ایک مخصوص نمکیات والے مائع کی تہہ بنا رکھی ہے جو کہ معدہ کو تیزاب اور طاقتور انزائمز کے اثرات سے محفوظ رکھتی ہے جسے میوکس ممبرین کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ بیکٹیریا اس میوکس ممبرین کو توڑ کر معدہ کی دیواروں تک پہنچ جاتا ہے اور السر کا باعث بھی بنتا ہے۔

اقسام :
اس بیماری کی 2 اقسام دورانیے کے لحاظ سے ہیں۔

1۔ ایکیوٹ H.Pylori

2۔ کرونک H.Pylori

1۔ ایکیوٹ H. Pylori

یہ ابتدائی کنڈیشن ہے جس میں بیماری اپنا کام شروع کرتی ہے۔

2۔ کرونک H.Pylori

اگر بروقت علاج نہ کیا جائے اور یہ مسئلہ کافی پرانہ ہوجائے تو ایسی حالت کرونک کہلائے گی۔

لیکن دو صورتوں میں علامات میں فرق پایا جاتا ہے۔

ایکیوٹ H.Pylori کی علامات:

1۔ گیسٹرائیٹس یعنی معدہ کی سوزش
2۔ معدہ کی درد
3۔ متلی ہونا

کرونک H.Pylori کی علامات:

1۔ معدہ کی دائمی سوزش
2۔ بدہضمی رہنا
3۔ معدہ کی دائمی درد یں
4۔ متلی
5۔ معدہ میں گیس کیوجہ سے سوزش
6۔ معدہ کا سخت پن
7۔ بار بار قے آنا
8۔ سیاہ پاخانا
9۔ السر
10۔ معدہ میں گیس

ایچ پائلوری سے متاثرہ افراد پیپٹک السر کا چانس 10% سے 20% اور 1% سے 2% چانس معدہ کے کینسر کے ہو سکتے ہیں۔ اسکی وجہ سے انتڑیوں میں سوزش اور کینسر بھی ہو سکتا ہے۔

مزید براں اسکی وجہ سے مقعد کا کینسر بھی ہو سکتا ہے جسکی وجہ سے یہ علامات ظاہر ہوگئی ۔

1۔ جسم میں تھکاوٹ
2۔ پاخانہ میں خون آنا
3۔ وزن میں کمی

عام علامات:

اسکی عام علامت درج ذیل ہیں۔

1۔ سینے میں جلن
2۔ متلی
3۔ بخار
4۔ بھوک کی کمی
5۔ غیر متوقع وزن میں کمی
6۔ ڈکار زیادہ آنا
7۔ معدہ کی گیس

علاج :

ایلوپیتھی میں اسکے لئے اینٹی بائیو ٹک میڈیسنز اور سٹیرائڈز سے کام چلایا جاتا ہے جس کے نتیجہ میں ایک معمولی سی بیماری خوفناک شکل اختیار کرلیتی ہے اور پھر مریض پر لاعلاج کا لیبل لگا کر مایوس کردیا جاتا ہے۔

الیکٹروپیتھی اور H.Pylori :

الیکٹروہومیو ایک ایسا مفید طریقہ علاج ہے کہ H.Pylori کے مایوس مریض کے لئے امید کی کرن ثابت ہوتی ہے اور یہ نہ صرف کہ H.Pylori کے مسئلے کو حل کرتی ہے بلکہ اس سے ہونے والے نقصانات کو بھی ریکور کرتی ہے۔

وہ لوگ جو مستقل طور پر معدے میں تیزابیت کا طوفان جمع رکھتے ہیں،ہر طرح کی دوائیں استعمال کرنے کے بعد بھی وہ تیزابیت کے عذاب کا شکار ہیں انکے اس روگ کا بہترین علاج الیکٹرو ہومیو پیتھی میں ہے

۔معدہ کا کوئی بھی مسئلہ ہو ،تیزابیت ،جلن ،بد ہضمی ،بھوک کا نہ لگنا،گیس کا رہنا وغیرہ۔۔

ڈاکٹر مزمل حسین
الیکٹرو ہومیو فزیشن

جگر انسان جسم کے ان حصوں میں سے ایک ہے جن کو عام طور پر اس وقت تک سنجیدہ نہیں لیا جاتا جب تک وہ مسائل کا باعث نہیں بننے ...
11/09/2020

جگر انسان جسم کے ان حصوں میں سے ایک ہے جن کو عام طور پر اس وقت تک سنجیدہ نہیں لیا جاتا جب تک وہ مسائل کا باعث نہیں بننے لگتے اور کچھ لوگوں کے لیے بہت تاخیر ہوجاتی ہے۔

جگر کا درست طریقے سے کام کرنا متعدد وجوہات کے باعث اچھی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے تاہم اس کی بڑی اہمیت یہ ہے کہ ہم جو کچھ بھی کھاتے ہیں اسے ہضم کرنے کے لیے جگر کی ضرورت ہوتی ہے۔

تو اس میں کسی بھی قسم کی خرابی یا بیماری کی صورت میں جو علامات سامنے آتی ہیں وہ بھی اکثر افراد نظر انداز کردیتے ہیں۔

یہاں جگر کو نقصان پہنچنے کی ایسی ہی خاموش علامات کا ذکر کیا گیا ہے جن سے واقفیت ہر ایک کے لیے ضروری ہے۔
تھکاوٹ
ہر ایک کو کسی نہ کسی وقت تھکاوٹ کا سامنا ہوتا ہی ہے مگر جگر کے امراض کے باعث جس تکان کا تجربہ ہوتا ہے وہ بالکل متختلف ہوتی ہے۔ جگر میں خرابی کی صورت میں یہ عضو توانائی پر کنٹرول کرکے دن کو پورا کرنا انتہائی مشکل بنا دیتا ہے۔ کافی اور دیگر کیفین والے مشروبات جگر کی حالت کو زیادہ بدترین بنادیتے ہیں، لہذا توانائی کو واپس حاصل کرنے کے لیے پانی، پھل اور صحت مند پروٹین تک محدود رہیں۔

پلیٹ لیٹس کی کمی
پلیٹ لیٹس خون کے اندر وہ ننھے ذرات ہوتے ہیں جو جریان خون سے موت کے خطرے کو ٹالنے کے لیے ضروری ہیں۔ جگر کے بیشتر مریضوں میں پلیٹ لیٹس کی کمی ہوجاتی ہے اور یہ جگر کے امراض کی شناخت کا بھی بڑا ذریعہ ثابت ہوتے ہیں۔

متلی
قے کا احساس ہونا کسی کے لیے بھی خوشگوار ثابت نہیں ہوتا اور جگر کے امراض کے شکار افراد کو اس کا تجربہ اکثر ہوتا ہے۔

ورم
جب آپ کے جسم کے مختلف حصے سوجنا خاص طور پر ٹانگوں کا سوجنا جگر کے امراض میں عام ہوتا ہے۔ اگر آپ کے پیر اکثر سوج جاتے ہیں تو روزانہ 20 منٹ تک چہل قدمی کو عادت بنانے سے خون کی روانی کو ٹانگوں میں بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

یرقان
یرقان کے مرض سے تو سب ہی واقف ہیں اور بالغ افراد کو اس کا تجربہ عام طور پر اس وقت ہوتا ہے جب ان کے جگر کے اندر کچھ گڑبڑ چل رہی ہو۔ اس مرض میں جلد کی رنگت بدلنے لگتی ہے اور وہ چند گھنٹوں یا دنوں میں زرد یا اورنج شیڈ کی ہوجاتی ہے۔

جلد خراشیں پڑجانا
جگر کے مختلف امراض کے شکار افراد میں خون کی بیماریاں بھی پیدا ہوجاتی ہیں، جیسے خون زیادہ بہنے لگتا ہے یا بغیر کسی وجہ کہ جلد پر خراشیں پڑجانا وغیرہ۔ اگر آپ ایسا ہوتے دیکھیں اور جلد پر خراش کی کوئی وجہ نہ مل سکے تو ڈاکٹر سے ایک بار ضرور مشورہ لیں۔

معدے میں درد
جب شکم میں موجود کسی عضو کو مسائل کا سامنا ہو تو پورے معدے میں درد کا سامنا تو ہوتا ہی ہے۔ جگر کا درد بہت تیز ہوتا ہے اور ایسا لگتا ہے جیسے خنجر سے مارا جارہا ہو۔ ایسا درد لبلبے میں خرابی کے باعث بھی ہوتا ہے تو ایسا درد ہونے پر ڈاکٹر سے رجوع ضرور کرنا چاہئے۔

ہیضہ
عام طور پر جب نظام ہاضمہ میں کسی قسم کی خرابی ہو تو ہیضہ سب سے پہلی نشانی ہوتا ہے جو آپ کو چوکنا کرنے کی کوشش کررہی ہوتی ہے۔

کھانے کی خواہش ختم ہونا
اگر آپ کا معدہ تکلیف کا شکار ہو تو کھانا ذہن میں آنے والی آخری چیز ہوسکتا ہے۔ یہ حیران کن امر نہیں کہ جگر کے امراض میں مبتلا بیشتر افراد کو جسمانی وزن میں کمی اور کھانے کی خواہش ختم ہونے کا سامنا علاج سے قبل، اس کے دوران اور بعد میں کرنا پڑتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

فیٹی لیور اور الیکٹرو ہو میو پیتھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 22.02.2019ڈاکٹر مزمل حسین کے قلم سےانسانی جسم بہت سے سیلز سے مل کر...
10/09/2020

فیٹی لیور اور الیکٹرو ہو میو پیتھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
22.02.2019

ڈاکٹر مزمل حسین کے قلم سے

انسانی جسم بہت سے سیلز سے مل کر بنا ہوتا ہے جو کہ بہت سے اہم آرگن بناتے ہیں۔ یہ آرگن مشین کے مختلف پرزوں کی طرح کام کرتے ہیں۔ انسانی مشین کو چلانے کے لئے بھی ایندھن درکار ہوتا ہے جسے خوراک کہتے ہیں۔ انسانی خوراک تین اہم اجزاء پر مشتمل ہوتی ہے۔
جن میں بہت ہی اہم فیٹس یعنی چکنائیاں ہیں۔ ان چکنائیوں کو توڑ کر قابل استعمال بنانے کا کام بھی لیور کے ذمہ ہے۔ اگر فیٹس کو توڑا نہ جائے تو بہت نقصان کے ساتھ جسم کو کمزور کردیتی ہیں۔

جب لیور کا فیٹس کو توڑ کر محفوظ کرنے کا عمل ڈسٹرب ہوتا ہے۔ اس دوران بہت زیادہ فیٹس لیور میں جمع ہوجاتی ہے۔ جو جگر کے نارمل فنکشن کو ڈسٹرب کرتے ہوئے لیور انزائمز بھی بڑھا دیتی ہے۔ اس کنڈیشن کو فیٹی لیور کا نام دیا جاتا ہے۔

وجوہات:

اس کی وجوہات یہ ہیں۔

1۔ موٹاپا
2۔ انسولین کا استعمال
3۔ شوگر
4۔ خون میں فیٹس کی زیادہ مقدار خاص طور پر ٹرائی گلیسرائیڈ
کچھ لوگوں میں یہی فیٹس لیورفیبروسیس کا باعث بنتے ہیں۔
5۔ اینٹی بائیوٹکس کا استعمال

علامات:

1۔ جگر کا سائز بڑھنا
2۔ تھکاوٹ
3۔ دائیں طرف پسلیوں کے نیچے درد
4۔ پیٹ میں سوزش
5۔ جلد کے نیچے موجود خون کی نالیوں کا سائز بڑھنا
6۔ سپلین یعنی تلی کا سائز بڑھنا
7۔ یرقان
8۔ بھوک کا نہ لگنا

فیٹی لیور کے ریسک فیکٹرز :

1۔ کولیسٹرول کی زیادتی

2۔ ٹرائی گلیسرائیڈ کی بلڈ میں زیادتی

3۔ موٹاپا

4۔ عورتوں میں اووری میں سسٹ

5۔ ذایابطیس ٹائپ 2

6۔ ہائپوتھائرائیڈزم

7۔ جسم میں ہارمونل سسٹم ڈسٹرب ہونا۔

ڈایاگونوسسز:

فیٹی لیور کے ڈایاگونوز کے مختلف طریقے ہیں۔

1۔ بلڈ سے
2۔ الٹراساونڈ
3۔ CT سکین
4۔ MRI

اگر فیٹی لیور میں احتیاط نہ برتی جائے یا مناسب علاج نہ کروایا جائے تو یہی فیٹی لیور سیروسیس کا باعث بنتا ہے۔

سیروسیس 3 سٹیج ہوتی ہے اور جب یہ مسئلہ مزید کرونک ہوجائے تو یہ 4 سٹیج میں داخل ہوجاتا ہے جسے لیور کینسر بھی کہتے ہیں۔

الیکٹرو ہومیو پیتھی میں علاج :

الیکٹروہومیو پیتھی طریقہ علاج میں جگر کے چکنائیاں توڑنے والے نظام کو بہتر بنایا جاتا ہے تاکہ وہ مقررہ مقدار سے زائد چکنائیاں کو توڑ کر جسم کے تعمیری کاموں میں استعمال کرے اس طرح فیٹی لیور یا بلڈ میں موجود چکنائیاں اپنے نارمل لیول پر آ کر مرض کو ختم کردیتی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ الیکٹرو ہومیو پیتھی کو بے ضرر جبکہ فائدہ مند سسٹم مانا جاتا ہے۔
یہ الیکٹرو پیتھی کی میڈیسن ہے استعمال کریں مسئلہ حل ہو جائے گا
F1 30x
Ven1 30x
S1 200x

الیکٹروہومیو پیتھی کا شاندار رزلٹ بھی ساتھ منسلک ہے۔

تحریر

ڈاکٹر مزمل حسین
الیکٹرو ہومیو فزیشن

Address

Model Town
Lahore
54000

Opening Hours

Monday 09:00 - 11:00
Tuesday 09:00 - 11:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Liver Health posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Liver Health:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram