11/03/2026
دل کی باتیں ۔
ہر وقت ہارٹ اٹیک یا موت کا خوف صرف ایک ذہنی کیفیت ہے جسے بہت آرام سے ختم کیا جا سکتا ہے ۔
بعض اوقات ہمارے ماحول اور مسائل کی وجہ سے ہمارے جسم میں کچھ ایسی کیفیات پیدا ہوجاتی ہیں جو کچھ لوگوں میں شدید بے چینی ، ڈر ، خوف ، اندیشے ، وسوسے اور گھبراہٹ پیدا کر دیتی ہیں ۔
اسی طرح اکثر لوگ سر میں درد ، نیند کا نہ آنا ، ذرا سی آہٹ سے نیند کا ٹوٹ جانا اور گھبرا کے اٹھ جانا ، دھڑکن کا تیز ہوجانا ، جسمانی درد ، ،سانس لینے میں مشکل ، پیٹ میں درد ، سینے میں جلن ، بار بار بیت الخلا جانا ، بھوک کی کمی اور زندگی میں بے کیفی کی شکایت کرتے ہیں ۔
بعض افراد سے ہم نے سنا کہ سب کچھ ہونے کے باوجود خوشی کا احساس نہیں ہوتا ہے ۔ کچھ بھی تو اچھا نہیں لگتا ہے ۔ ہر وقت ہارٹ اٹیک اور موت کا خوف رہتا ہے۔
یہ سب کیفیات ہیں اور ان کی وجوھات ضرور ہوتی ہیں ۔ گھر کا ماحول ، والدین اور بہن بھائیوں کا آپس میں سلوک ، سکول میں اساتذہ کا کردار ، کاروباری معاملات ، بچپن میں ہونے والے صدمات ، حادثات و واقعات ، اپنے بہت ہی پیاروں کے ناروا سلوک اور سب سے اہم شخصیت سازی جو ان تمام عوامل پر منحصر پے ۔
کچھ جسمانی امراض بھی یہ کیفیات پیدا کرنے کہ ذمہ دار ہیں ۔
ہم ہر مرض کا علاج دواؤں میں ڈھونڈتے ہیں جبکہ درحقیقت ایسا نہیں ہوتا ۔ یہ لوگ اور ان کے تیمار دار بعض اوقات اتنا مجبور ہوجاتے ہیں کہ ہر طرح کا ٹوٹکہ ، طریقہ علاج آزمانے پر تیار ہوجا تے ہیں ۔
ایک دفعہ ان کا مکمل طبی معائنہ کرنے کے بعد ان کو اس بات کی یقین دھانی کرا دی جائے کہ انکے اپنے احساسات اپنی جگہ لیکن ان کا دل بالکل ٹھیک ہے اور ان خیالات کو ٹھیک بھی انہوں نے ہی کرنا ہے زندگی کے معمولات کو تبدیل کر کے یا اس ماحول اور ان تعلقات کو ٹھیک کر کے جن کی وجہ سے یہ کیفیات پیدا ہوئی تھیں ۔
سب سے اھم بات ۔
اللہ تعالی سے مدد کی طلب اور سچے دل سے کی جانے والی دعا ئیں ہماری زندگی میں سکون اور اطمینان پیدا کردیتی ہیں ۔
ڈاکٹر سید جاوید سبزواری ۔
کنسلٹنٹ کارڈیالوجسٹ ۔
لاہور ۔ پاکستان ۔
An AI generated illustrative image for the educational purpose.