04/07/2017
بہت اہم بات !
دل کی دواؤں کے بارے احتیاط ۔
دل کی جو دوائیں آپ کو تجویز کی گئ ہیں وہ صرف آپکے ہی لئے ہیں ۔ اگر خاندان میں کسی دوسرے فرد کو آپ جیسی علامات پیدا ہوں تو کبھی اپنی دوائی انہیں مت دیں کیونکہ بعض اوقات علامات ایک جیسی ہی ہوتی ہیں لیکن بیماری کچھ اور ہوتی ہے ۔ دوا کا استعمال ہمیشہ بیماری کی تشخیص کے بعد کیا جاتا ہے ۔
دوا جتنی مقدار ، جتنے وقفے سے اور جس وقت پر تجویز کی گئی ہے، اسی طرح لیں ، خود سےکبھی ردوبدل نہ کریں ۔ اگر آپ کو جسم کے کسی اور حصے یا عضو کی تکلیف ھو گئ ھے یا کوئی آپریشن تجویز کیا گیا ہے تو ڈاکٹرز کو اپنی بیماری اور دواؤں کے بارے تفصیل سے آگاہ کریں ۔
دل کی کچھ دواؤں کی مقدار کو خون میں ایک خاص لیول تک رکھنا پڑتا ہے کیونکہ دوائی کی ذرا بھی زیادتی یا کمی شدید قسم کے نقصانات پیدا کر سکتی ہے اس لئے اس کی مقدار کو کچھ وقفے کے بعد بار بار چیک کرنا پڑتا ہے اور رپورٹ کے مطابق دوا کی مقدار کو ایڈجسٹ کرنا پڑتا ہے ۔ دوا کی مقدار چیک کروانے میں کبھی دیر یا غفلت نہ کریں ۔ ٹیسٹس ہمیشہ مستند لیبارٹری سے کروا کر رپورٹ فورآ ڈاکٹر صاحب کو دکھائیں تاکہ وہ آپکی دوائی کی خوراک ایڈجسٹ کر سکیں ۔
کچھ دواؤں سے جسم پر نیلے دھبے پڑ سکتے ہیں یا ناک ، مسوڑھوں یا پیشاب پاخانے کے ذریعے خون آسکتا ہے ۔ بعض دوائیں شدید قسم کی خشک کھانسی پیدا کرسکتی ہیں ۔ اسی طرح کچھ افراد میں پاؤں پر سوجن آجاتی ہے یا کندھوں کولہوں ٹانگوں میں درد شروع ھو جاتا ہے یا کھڑے ھونے سے چکر آنے لگتے ہیں یا کمزوری کا احساس شروع ہوجاتا ہے یا سردی لگنے لگتی ہے آواز میں تبدیلی آنے لگی ھے وزن کم یا زیادہ ھونے لگا ہے ۔ ان علامات کے پیدا ھوتے ھی فورآ ڈاکٹرز سے رجوع کریں ۔۔
دل کی کچھ دوائیں دینے کے بعد ہمیں جسم کے بعض غدود کے کام کرنے کی صلاحیت پر نگاہ رکھنی پڑتی ہے ۔ دھوپ میں چلنے سے منع کرنا پڑتا ہے ۔کچھ خوراک کے بارے احتیاط بتائی جاتی ھے
اگر دوائیں دل کی بیماری کی صحیح تشخیص کے بعد تجویز کی جائیں اور آپ ان اصولوں کے مطابق دوائیں استعمال کریں تو پھر دل کی بیماری آپکے لئے باعث پریشانی نہیں بلکہ جینے کا ایک نیا ڈھنگ سکھاتی ہے ۔
Panacea pharmacy
Johr town lahore