AIN Vital Care

AIN Vital Care Health check-up, Medical Laboratory Tests. (Sampling services are offered at your place.)

Apart from a FB page, IDL care services also provide diagnostic and medical laboratory services.

ہاتھوں اور پیروں میں سنسناہٹ اور سن ہوناوجوہات، احتیاط اور ڈاکٹر سے رجوع کب کریںکیا آپ کو کبھی ہاتھوں یا پیروں میں سنسنا...
30/01/2026

ہاتھوں اور پیروں میں سنسناہٹ اور سن ہونا
وجوہات، احتیاط اور ڈاکٹر سے رجوع کب کریں
کیا آپ کو کبھی ہاتھوں یا پیروں میں سنسناہٹ محسوس ہوتی ہے؟
یہ کیفیت سوئیاں چبھنے، سن ہونے، یا جلنے جیسے احساس کی صورت میں ظاہر ہو سکتی ہے۔ ہاتھوں اور پیروں میں سنسناہٹ ہونا ایک عام مسئلہ ہے اور اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، جن کا تعلق زیادہ تر شوگر، اعصاب، خون کی روانی کے نقائص، دباؤ، یا کسی اندرونی بیماری سے ہوتا ہے۔
اگر یہ علامات کبھی کبھار اور تھوڑی دیر کے لیے ہوں تو عموماً تشویش کی بات نہیں ہوتی، لیکن اگر یہ بار بار یا مستقل ہوں تو یہ کسی طبی مسئلے کی علامت ہو سکتی ہیں جس پر توجہ دینا ضروری ہے۔ ان وجوہات کو سمجھنے کے لئے لیبارٹری ٹیسٹ، بہتر علاج اور اعصابی صحت کے لیے پہلا قدم ہے۔
ہاتھوں اور پیروں میں سنسناہٹ کی عام وجوہات میں شوگر کے علاوہ دوسری اور وجوہات یہ ہیں۔
1۔ اعصاب پر دباؤ یا جلن
جب اعصاب پر دباؤ پڑتا ہے تو اُن کے سگنلز متاثر ہوتے ہیں، جس سے سنسناہٹ یا سن ہونا محسوس ہوتا ہے۔
• ایک ہی پوزیشن میں زیادہ دیر بیٹھنا یا کھڑے رہنا (مثلاً ٹانگ پر ٹانگ رکھنا یا تنگ جوتے پہننا)
• کمر کے نچلے حصے میں نس کا دب جانا (جیسے شیاٹیکا)
• ریڑھ کی ہڈی کی ڈسک کا سرک جانا یا ابھر آنا
• سروائیکل اسپونڈیلوسس (گردن کا گٹھیا)، جس میں گردن کی ہڈیوں میں خرابی کے باعث بازوؤں اور ہاتھوں تک سنسناہٹ، درد، اکڑاؤ اور حرکت میں کمی ہو سکتی ہے
2۔ خون کی روانی میں کمی
خون کی مناسب فراہمی نہ ہونے سے اعصاب کو آکسیجن کم ملتی ہے۔
• زیادہ سردی (عموماً عارضی مسئلہ)
• پردیی شریانوں کی بیماری (Peripheral Artery Disease)
• سگریٹ نوشی، جو خون کی نالیوں کو تنگ کر دیتی ہے
• خون کی شریانوں کا سخت یا تنگ ہونا (Arteriosclerosis)
3۔ اعصابی نقصان (پیریفرل نیوروپیتھی)
اعصاب کو نقصان پہنچنا ہاتھوں اور پیروں میں سنسناہٹ کی ایک عام وجہ ہے۔
• ذیابیطس (شوگر) — ایک بہت عام سبب
• زیادہ شراب نوشی
• وٹامنز کی کمی، خاص طور پر وٹامن B12، B6 اور B1
• کچھ ادویات، جیسے کیموتھراپی کی دوائیں
وٹامنز کی کمی سے اعصاب کے گرد موجود حفاظتی تہہ (مایلین) متاثر ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں سنسناہٹ، سن ہونا، کمزوری اور درد ہو سکتا ہے۔
4۔ بے چینی اور ذہنی دباؤ
بے چینی جسم پر جسمانی اثرات بھی ڈالتی ہے۔
• جسم کے “لڑو یا بھاگو” ردِعمل کے دوران اسٹریس ہارمونز (کورٹیسول اور ایڈرینالین) خارج ہوتے ہیں
• یہ ہارمونز خون کی گردش اور اعصابی حساسیت کو متاثر کرتے ہیں
• اس کے ساتھ دل کی تیز دھڑکن، پسینہ آنا، سانس کا تیز یا ہلکا ہونا بھی ہو سکتا ہے
5۔ بار بار دباؤ یا چوٹ
مسلسل دباؤ یا چوٹ اعصاب کو متاثر کر سکتی ہے۔
• زیادہ دیر کھڑے رہنا یا دوڑنا
• ہاتھوں، پیروں، کلائی یا ٹخنوں کی چوٹ
• کارپل ٹنل جیسا مسئلہ مگر ٹخنے میں (ٹارسل ٹنل سنڈروم) 6۔ طبی بیماریاں
کچھ دائمی بیماریاں بھی ہاتھوں اور پیروں میں سنسناہٹ پیدا کر سکتی ہیں:
• ذیابیطس (شوگر)
• ملٹی پل اسکلروسیس (MS)، جو دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کو متاثر کرتی ہے اور سنسناہٹ، کمزوری، توازن کے مسائل، نظر کی خرابی اور تھکن کا باعث بن سکتی ہے
• خودکار مدافعتی بیماریاں
• تھائیرائیڈ کے مسائل
• فائبرومائیالجیا، جس میں پورے جسم میں درد، شدید تھکن، نیند اور یادداشت کے مسائل، اور ہاتھوں و پیروں میں مستقل یا وقفے وقفے سے سنسناہٹ ہو سکتی ہے
کب یہ مسئلہ عام سمجھا جا سکتا ہے؟
یہ کیفیت عموماً خطرناک نہیں ہوتی اگر:
• پوزیشن بدلنے یا حرکت کرنے سے ختم ہو جائے
• کبھی کبھار اور تھوڑی دیر کے لیے ہو
• درد، کمزوری یا توازن کا مسئلہ نہ ہو
کب ڈاکٹر سے فوراً رجوع کریں؟
اگر ہاتھوں یا پیروں میں سنسناہٹ:
• مسلسل ہو یا بڑھتی جا رہی ہو
• صرف ایک ہاتھ یا ایک پاؤں میں ہو
• درد، کمزوری، چلنے میں دشواری یا رنگ کی تبدیلی کے ساتھ ہو
• اچانک شروع ہو، خاص طور پر بولنے یا دیکھنے میں دقت کے ساتھ 🚨
بروقت طبی معائنہ درست تشخیص اور مناسب علاج میں مدد دیتا ہے، جس سے پیچیدگیوں کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔
اعصابی صحت کو بہتر بنانے کے لیے
طبی علاج کے ساتھ درج ذیل اقدامات بھی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں:
• متوازن اور صحت بخش غذا
• باقاعدہ ورزش
• ذہنی دباؤ کا بہتر انتظام
• ڈاکٹر کے تجویز کردہ لیبارٹری ٹیسٹ اور علاج پر عمل
• خود کی دیکھ بھال اور ڈاکٹر سے ربطہ میں رہنا
خلاصہ
اگر آپ کو ہاتھوں یا پیروں میں بار بار یا مسلسل سنسناہٹ محسوس ہو رہی ہے تو اسے نظرانداز نہ کریں۔ بروقت تشخیص (لیبارٹری ٹیسٹ) اور علاج سے تکلیف کم کی جا سکتی ہے اور زندگی کے معیار کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

"Don't wait for symptoms to act!🛑 Book your hassle-free health screening today.Get specialized age-based packages and th...
22/01/2026

"Don't wait for symptoms to act!
🛑 Book your hassle-free health screening today.
Get specialized age-based packages and the Essential Health Trio for a complete wellness deep-dive. Secure your appointment. Whatsapp +923557900123

HEALTH CHECK-UP PROGRAMDesigned for individuals of all ages, beginning with laboratory test–based pre-assessment. ASK FO...
16/01/2026

HEALTH CHECK-UP PROGRAM
Designed for individuals of all ages, beginning with laboratory test–based pre-assessment. ASK FOR YOUR PACKAGE

خارش کی بیماری     (Scabies)انسانی خارش جلد میں خارش پیدا کرنے والے باریک کیڑے (مائٹ) کے داخل ہونے سے ہوتی ہے۔ بالغ مادہ...
13/01/2026

خارش کی بیماری (Scabies)
انسانی خارش جلد میں خارش پیدا کرنے والے باریک کیڑے (مائٹ) کے داخل ہونے سے ہوتی ہے۔ بالغ مادہ مائٹ جلد کی اوپری تہہ کے اندر راستے بناتی ہے، وہیں رہتی ہے اور اپنے انڈے دیتی ہے۔
یہ مائٹس تقریباً ہمیشہ طویل اور براہِ راست جلد سے جلد کے رابطے کے ذریعے منتقل ہوتے ہیں۔ متاثرہ شخص میں اگر علامات ظاہر نہ بھی ہوں تو وہ پھر بھی خارش دوسروں کو منتقل کرسکتا ہے۔ جبکہ جانور انسانوں میں خارش منتقل نہیں کرتے۔
علامات
خارش کی علامات میں شامل ہیں:
• دانوں جیسی خارش یا جلد پر چھوٹے چھوٹے دانے
• جلد میں باریک سرنگیں یا خارش زدہ نشانات
• انگلیوں کے درمیان، کلائیوں، کہنیوں، گھٹنوں، سینے کے نیچے، کندھوں کے درمیان یا مردانہ عضو پر خارش یا دانے
• رات کے وقت شدید خارش ہونا، جو ابتدائی علامات میں سے ایک ہے
یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ پہلی بار خارش ہونے پر عموماً 2 سے 6 ہفتوں تک کوئی علامت ظاہر نہیں ہوتی، تاہم اس دوران بھی یہ بیماری دوسروں کو منتقل ہوسکتی ہے۔
علاج
خارش کے علاج میں استعمال ہونے والی ادویات کو اسکیبیسائیڈز (Scabicides) کہا جاتا ہے، جو مائٹس کو ختم کرتی ہیں اور بعض ان کے انڈے بھی مار دیتی ہیں۔ انسانی خارش کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی ادویات صرف ڈاکٹر کے نسخے پر دستیاب ہوتی ہیں۔
متاثرہ فرد اور اس کے گھر کے افراد، یا مریض کے استعمال میں آنے والی چادریں، کپڑے اور تولیے علاج سے پہلے کے تین دنوں کے اندر لازمی طور پر صاف کیے جائیں۔
یہ صفائی اس طرح کی جائے:
• گرم پانی میں دھونا اور دھوپ میں یا تیز گرم ڈرائر میں سکھانا
• یا ڈرائی کلین کرانا
• یا کم از کم 72 گھنٹے کے لیے پلاسٹک بیگ میں بند کرنا
خارش کے مائٹس عام طور پر انسانی جلد سے دور 2 سے 3 دن سے زیادہ زندہ نہیں رہتے۔
متاثرہ شخص کے ساتھ ساتھ گھر کے تمام افراد کا ایک ہی وقت میں علاج کرنا ضروری ہے تاکہ دوبارہ انفیکشن سے بچا جا سکے۔
بچاؤ
خارش سے بچاؤ کے لیے:
• متاثرہ شخص کے ساتھ براہِ راست جلد سے جلد کا رابطہ نہ کریں
• متاثرہ شخص کے استعمال شدہ کپڑوں، بستر یا تولیوں سے پرہیز کریں
بروقت تشخیص اور مکمل علاج سے خارش کو مؤثر طریقے سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

میڈیکل لیبارٹری ٹیسٹس کی اہمیت میڈیکل لیبارٹری ٹیسٹ اآپ کو اپنی صحت کے بارے میں باخبر اور بااختیار بناتے ہیں۔ اپنے ڈاکٹر...
08/01/2026

میڈیکل لیبارٹری ٹیسٹس کی اہمیت

میڈیکل لیبارٹری ٹیسٹ اآپ کو اپنی صحت کے بارے میں باخبر اور بااختیار بناتے ہیں۔ اپنے ڈاکٹر سے تجویز کردہ میڈیکل اسکریننگ ٹیسٹ کے بارے میں ضرور مشورہ کریں، کیونکہ بروقت آگاہی اور تشخیص زندگیاں بچا سکتی ہے۔
میڈیکل لیبارٹری ٹیسٹ، جن میں عام طور پر خون، پیشاب یا بافتوں (ٹشو) کے سیمپلز استعمال کئے جاتے ہیں، جدید میڈیکل نظام میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ جسم کے اندرونی نظام کے بارے میں صحیح اور مستند معلومات فراہم کرتے ہیں۔ یہ ٹیسٹ بیماریوں کی نشاندہی، تشخیص کی تصدیق، اور مناسب علاج کے فیصلوں میں مدد دیتے ہیں، جس کی وجہ سے اچھی صحت برقرار رکھنا ممکن ہوتا ہے۔
میڈیکل لیبارٹری ٹیسٹ کی ایک بڑی اہمیت ابتدائی تشخیص اور بیماریوں سے بچاؤ ہے۔ عام لیبارٹری ٹیسٹ، بڑھے ہوئے کولیسٹرول، شوگر یا انفیکشن جیسی بیماریوں کی علامات ظاہر ہونے سے پہلے ہی نشاندہی کر سکتے ہیں، جس سے بروقت علاج ممکن ہوتا ہے۔ اور تکلیف یا بیماری کے بڑھنے سے بچا جاسکتا ہے۔
مثال کے طور پر، ایک سادہ خون کا ٹیسٹ خون میں شوگر کی بڑھتی ہوئی سطح ظاہر کر سکتا ہے، جس کے ذریعے طرزِ زندگی میں تبدیلی یا ادویات کے استعمال سے ذیابیطس کو شدید ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔ لیبارٹری ٹیسٹ درست تشخیص میں بھی بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ اندازاً 70 فیصد میڈیکل فیصلے لیبارٹری نتائج کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں، چاہے وہ مکمل خون کے ٹیسٹ کے ذریعے انفیکشن کی تشخیص ہو یا بایوپسی کے ذریعے کینسر کی شناخت۔
میڈیکل لیبارٹری ٹیسٹوں سے اندازوں پر انحصار کم کرنے میں مدد ملتی ہے، مؤثر اور مخصوص علاج ممکن ہو جاتا ہے، جس سے مریض کے علاج کے نتائج بہتر ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ، لیبارٹری ٹیسٹ جاری بیماریوں کی نگرانی اور علاج کے اثرات جانچنے میں بھی مدد دیتے ہیں۔ ہائی بلڈ پریشر یا تھائرائیڈ کے امراض جیسے دائمی مسائل میں باقاعدہ ٹیسٹنگ سے علاج میں بروقت تبدیلی ممکن ہوتی ہے۔
جدید ذاتی نوعیت کے علاج (Personalized Medicine) میں بھی لیبارٹری نتائج اہم ہوتے ہیں، جہاں علاج مریض کی جینیاتی ساخت کے مطابق ترتیب دیا جاتا ہے، جس سے علاج زیادہ مؤثر اور مضر اثرات کم ہوتے ہیں۔

ممپس    (Mumps)ممپس ایک سے دوسرے کو لگنے والی ( متعدی )  بیماری ہے ۔ اس بیماری کو کن پیڑے اور گلسوئے کے ناموں سے بھی جان...
03/01/2026

ممپس (Mumps)
ممپس ایک سے دوسرے کو لگنے والی ( متعدی ) بیماری ہے ۔ اس بیماری کو کن پیڑے اور گلسوئے کے ناموں سے بھی جانا جاتا ہے۔ ممپس ایک وائرس روبیلا کی وجہ سے ہوتی ہے۔ یہ وبا اس وقت سمجھی جاتی ہے جب کم از کم تین مصدقہ کیس سامنے آئیں۔ یہ بیماری سال کے کسی بھی حصے میں ہوسکتی ہے، تاہم زیادہ تر سردیوں اور بہار کے موسم میں پائی جاتی ہے۔
ممپس کی بیماری کیسے ہو تی ہے۔ یہ معلومات پڑھ کر اس بیماری کے بارے میں آگاہی حاصل کی جا سکتی ہے۔
علامات کیا ہیں؟
ممپس کی بیماری میں یہ علامات ظاہر ہوسکتی ہیں:
• ایک یا دونوں کانوں کے آگے اور نیچے، اور جبڑے کے ساتھ سوجن اور درد
• جبڑے میں اور کانوں کے آگے یا نیچے درد
• بخار
• تھکن
• پٹھوں میں درد
• بھوک نہ لگنا
زیادہ تر افراد چند ہفتوں میں مکمل طور پر صحت یاب ہوجاتے ہیں۔ جن افراد میں سوجن ظاہر نہ بھی ہو، وہ بھی وائرس دوسروں میں منتقل کرسکتے ہیں۔
اگر مجھے علامات ہوں تو کیا کروں؟
اگر آپ میں علامات ظاہر ہوں تو خود کو اور لوگوں سے الگ رکھیں اور اپنے ڈاکٹر یا قریبی طبی مرکز سے رابطہ کریں۔
ممپس کیسے پھیلتا ہے؟
ممپس متاثرہ شخص کے ناک یا گلے سے نکلنے والے قطرات کے ذریعے براہِ راست یا بالواسطہ پھیلتا ہے، جیسے۔
• کھانسی یا چھینک کے ذریعے
• مشروبات یا کھانے کے برتن شیئر کرنے سے
ممپس کا مریض علامات ظاہر ہونے سے 2 دن پہلے اور علامات شروع ہونے کے بعد 5 دن تک دوسروں کو بیماری منتقل کرسکتا ہے۔ اس عرصے میں مریض کو گھر پر رہنا چاہیے تاکہ بیماری نہ پھیلے۔
علامات عام طور پر انفیکشن کے 16 سے 18 دن بعد ظاہر ہوتی ہیں، لیکن یہ مدت 12 سے 25 دن تک بھی ہوسکتی ہے۔
ممپس سے بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
ایم ایم آر (MMR) ویکسین محفوظ ہے اور دو خوراکوں کے بعد اوسطاً 88 فیصد تک ممپس سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔
اگر آپ کو ممپس نہیں ہوا اور ویکسین کا ریکارڈ موجود نہیں ہے تو آپ کا ڈاکٹر ویکسین لگا سکتا ہے یا خون کا ٹیسٹ کروا کر مدافعت (Immunity) چیک کی جاسکتی ہے۔
ایم ایم آر ویکسین کی تیسری خوراک؟
بعض صورتوں میں، خاص طور پر وبا کے دوران، قریبی رابطے میں آنے والے یا جن کی ویکسین مکمل نہ ہو، انہیں ایم ایم آر ویکسین کی تیسری خوراک کی سفارش کی جاسکتی ہے۔
2018 میں ماہرینِ حفاظتی ٹیکہ جات کی کمیٹی نے سفارش کی کہ ممپس کی وبا کے دوران وہ افراد جو پہلے ہی ایم ایم آر کی دو خوراکیں لے چکے ہوں، انہیں تیسری خوراک دی جائے۔
صحت مند رہنے اور بیماری پھیلنے سے بچاؤ کے دیگر طریقے
• اپنے ویکسینیشن ریکارڈ کی جانچ کریں اور یقینی بنائیں کہ ایم ایم آر کی دو خوراکیں لگ چکی ہیں
• صفائی کی اچھی عادات اپنائیں: باقاعدگی سے ہاتھ دھوئیں، کھانستے یا چھینکتے وقت ٹشو یا کُہنی کا استعمال کریں، اور کھانے پینے کی چیزیں شیئر نہ کریں
• بیمار افراد سے دور رہیں
• ہجوم میں احتیاط کریں، کیونکہ ممپس تنگ اور بھیڑ والی جگہوں پر زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے
علاج کیسے کیا جاتا ہے؟
چونکہ ممپس وائرس سے ہوتا ہے، اس لیے اینٹی بائیوٹکس اس کا علاج نہیں کر سکتیں۔ علاج کا مقصد علامات میں کمی لانا ہوتا ہے۔
اکثر بستر پر آرام، نرم غذا (تاکہ چبانے میں درد کم ہو)، اور درد یا بخار کم کرنے والی ادویات تجویز کی جاتی ہیں۔
ممپس کی پیچیدگیاں کم ہوتی ہیں، لیکن ان میں یہ علامات بھی شامل ہوسکتی ہیں:
• خصیوں کی سوزش اور درد (Orchitis)
• میننجائٹس (1 سے 10 فیصد کیسز میں)
• دماغ کی سوزش (Encephalitis) — ایک فیصد سے کم کیسز میں
• سماعت میں کمی (انتہائی نایاب)
حمل کے پہلے تین ماہ میں ممپس ہونے سے اسقاط حمل کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
کس کو زیادہ خطرہ ہے؟
وہ تمام افراد جنہوں نے ممپس کی ویکسین کی دو خوراکیں نہیں لیں، انہیں ممپس کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔
حتیٰ کہ دو ایم ایم آر ویکسین لگوانے والے افراد کو بھی ممپس ہوسکتا ہے، کیونکہ ویکسین 100 فیصد تحفظ فراہم نہیں کرتی۔
کالج یا یونیورسٹی کیمپس میں وبا کے دوران رہنے والے افراد، خاص طور پر بین الاقوامی مسافر یا ان سے رابطے میں آنے والے افراد، زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔

ہاتھ دھونے کی وجہ ؟ہاتھ دھونا بیماریوں سے بچاؤ کا ایک نہایت آسان، سستا اور مؤثر طریقہ ہے۔ہاتھ دھونا کیوں ضروری ہے؟ہمارے ...
14/12/2025

ہاتھ دھونے کی وجہ ؟
ہاتھ دھونا بیماریوں سے بچاؤ کا ایک نہایت آسان، سستا اور مؤثر طریقہ ہے۔
ہاتھ دھونا کیوں ضروری ہے؟
ہمارے ہاتھوں کو روزانہ کئی طرح کے جراثیم لگتے رہتے ہیں۔ اس طرح سے
• دروازوں کے ہینڈل، موبائل فون، کرنسی نوٹ
• دوسرے افراد سے مصافحہ
• کھانا، گندگی وغیرہ سے
اگر ہاتھ صاف نہ ہوں تو یہ جراثیم منہ، ناک، آنکھوں یا زخموں کے ذریعے جسم میں داخل ہو کر بیمار کر سکتے ہیں۔
ہاتھ دھونے سے کن بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے؟
• پیٹ خراب، پیچش، اسہال، ہیضہ
• ٹائیفائیڈ اور ہیپاٹائٹس A
• سانس کی بیماریاں (نزلہ، زکام، فلو، COVID)
• جلد اور آنکھوں کے انفیکشن
• فوڈ پوائزننگ
درست طریقے سے ہاتھ دھونے سے:
• اسہال کی بیماریوں میں 30–40٪ کمی
• سانس کی بیماریوں میں تقریباً 20٪ کمی ممکن ہے۔
ہاتھ کب دھونے چاہئیں؟
• کھانا کھانے یا بنانے سے پہلے
• ٹوائلٹ استعمال کرنے کے بعد
• کھانسنے یا چھینکنے کے بعد
• مریض یا زخم کو چھونے کے بعد
• کچرا اٹھانے کے بعد
• علاج یا دیکھ بھال سے پہلے اور بعد
ہاتھ دھونے کا صحیح طریقہ
1. صاف پانی سے ہاتھ گیلا کریں
2. صابن لگائیں
3. کم از کم 20 سیکنڈ تک ہاتھوں کو اچھی طرح رگڑیں
ہتھیلیاں، ہاتھوں کی پشت، انگلیوں کے درمیان اور ناخن
4. صاف پانی سے دھو لیں
5. صاف تولیے سے خشک کریں یا ہوا میں خشک ہونے دیں
اگر پانی اور صابن دستیاب نہ ہوں تو الکوحل بیسڈ سینیٹائزر استعمال کریں۔
ہاتھ دھونے سے اور کیا ہوتا ہے؟
• لوگوں میں انفیکشن کے پھیلاؤ میں رکاوٹ بنتا ہے
• فرد، خاندان اور معاشرے کو تحفظ فراہم کرتا ہے
• اسپتالوں، کلینکس، اسکولوں اور گھروں میں بیماریوں کے پھیلاؤ کو کم کرتا ہے
• اس طرح کم خرچ میں جانیں بچاتا ہے
خلاصہ:
ہاتھ دھونا متعدی بیماریوں سے بچاؤ کا بنیادی ستون اور صحت مند زندگی کی ضمانت ہے۔

MRSA  Methicillin Resistant Staphylococcus Aureus   (MRSA)ایک ایسی قسم کا بیکٹیریا ہے جو کئی اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مزاح...
11/12/2025

MRSA
Methicillin Resistant Staphylococcus Aureus (MRSA)ایک ایسی قسم کا بیکٹیریا ہے جو کئی اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مزاحمت رکھتا ہے۔
MSRA انفیکشن کی علامات۔
• سرخ، سوجے ہوئے، گرم اور دردناک دانے، پھوڑے یا چھالے
• پیپ یا زخم سے اخراج
• بخار اور کپکپی
• ایسا زخم جو مکھی کے کاٹنے جیسا لگے
یہ انفیکشن ایک سے دوسرے کو کیسے لگتا ہے۔ (Transmission)
MRSA ایک متاثرہ شخص کے ساتھ قریبی رابطے سے پھیلتا ہے، چاہے وہ براہِ راست جلد سے جلد کا رابطہ ہو یا مشترکہ چیزوں کے ذریعے، جیسے:
تولیے، ریزر، صابن، زخم کی پٹیاں، بستر کی چادریں، کپڑے، اور کھیلوں کا سامان۔
زخم سے نکلنے والی پیپ یا مادہ بہت زیادہ متعدی ہوتا ہے۔
بچاؤ (Prevention)
MRSA یا Staph انفیکشن کو دوسروں تک پھیلنے سے روکنے کے لیے درج ذیل ہدایات پر عمل کریں:
1۔ زخم کو ڈھانپ کر رکھیں
ایسے زخم جو پیپ چھوڑ رہے ہوں یا رس رہے ہوں، انہیں صاف اور خشک پٹی سے ڈھانپ کر رکھیں۔
اپنے ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق زخم کی دیکھ بھال کریں۔
استعمال شدہ پٹیاں یا ٹیپ مناسب طریقے سے بند کر کے عام کچرے میں پھینک دیں۔
2. ہاتھ صاف رکھیں
آپ، آپ کے گھر والے، اور آپ کے قریب رہنے والے لوگ ہاتھوں کو بار بار صابن اور گرم پانی سے دھوئیں یا الکوحل بیسڈ سینیٹائزر استعمال کریں، خاص طور پر پٹی تبدیل کرنے یا زخم کو چھونے کے بعد۔
3. ذاتی چیزیں مشترکہ نہ کریں
تولیہ، واش کلاتھ، ریزر، کپڑے یا یونیفارم جو زخم سے لگے ہوں، کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں۔
گندی چادریں، تولیے اور کپڑے دھوئیں، اور انہیں ہوٹ ڈرائر میں خشک کریں تاکہ جراثیم ختم ہو سکیں۔
4. اپنے ڈاکٹر کو ضرور بتائیں
اگر آپ کو کبھی MRSA یا Staph انفیکشن رہا ہے تو ہر نئے طبی معالج کو اس کے بارے میں ضرور بتائیں۔
علاج (Treatment)
اگر آپ کو شک ہو کہ آپ کو MRSA ہے تو فوراً اپنے ہیلتھ کیئر پرووائیڈر سے رابطہ کریں۔
وہ متاثرہ جگہ کا نمونہ لے کر لیبارٹری بھیج سکتے ہیں، جس کی بنیاد پر آپ کے لیے مناسب اینٹی بائیوٹک تجویز کی جائے گی۔
ابتدائی علاج انفیکشن کو بگڑنے سے روک دیتا ہے۔
اگر آپ کو دوا دی جائے تو اسے بالکل ہدایت کے مطابق استعمال کریں، مکمل کورس کریں، اور کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں۔

10/11/2024
You can also follow on Instagram to see more.
07/05/2024

You can also follow on Instagram to see more.

Address

Amna Memorial Children Clinic Barkat Town Stop GT Road. Shahdara
Lahore
54000

Opening Hours

Monday 09:00 - 21:00
Tuesday 09:00 - 21:00
Wednesday 09:00 - 21:00
Thursday 09:00 - 21:00
Friday 09:00 - 21:00
Saturday 09:00 - 21:00
Sunday 09:00 - 21:00

Telephone

+923357900123

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when AIN Vital Care posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to AIN Vital Care:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category