03/01/2026
ممپس (Mumps)
ممپس ایک سے دوسرے کو لگنے والی ( متعدی ) بیماری ہے ۔ اس بیماری کو کن پیڑے اور گلسوئے کے ناموں سے بھی جانا جاتا ہے۔ ممپس ایک وائرس روبیلا کی وجہ سے ہوتی ہے۔ یہ وبا اس وقت سمجھی جاتی ہے جب کم از کم تین مصدقہ کیس سامنے آئیں۔ یہ بیماری سال کے کسی بھی حصے میں ہوسکتی ہے، تاہم زیادہ تر سردیوں اور بہار کے موسم میں پائی جاتی ہے۔
ممپس کی بیماری کیسے ہو تی ہے۔ یہ معلومات پڑھ کر اس بیماری کے بارے میں آگاہی حاصل کی جا سکتی ہے۔
علامات کیا ہیں؟
ممپس کی بیماری میں یہ علامات ظاہر ہوسکتی ہیں:
• ایک یا دونوں کانوں کے آگے اور نیچے، اور جبڑے کے ساتھ سوجن اور درد
• جبڑے میں اور کانوں کے آگے یا نیچے درد
• بخار
• تھکن
• پٹھوں میں درد
• بھوک نہ لگنا
زیادہ تر افراد چند ہفتوں میں مکمل طور پر صحت یاب ہوجاتے ہیں۔ جن افراد میں سوجن ظاہر نہ بھی ہو، وہ بھی وائرس دوسروں میں منتقل کرسکتے ہیں۔
اگر مجھے علامات ہوں تو کیا کروں؟
اگر آپ میں علامات ظاہر ہوں تو خود کو اور لوگوں سے الگ رکھیں اور اپنے ڈاکٹر یا قریبی طبی مرکز سے رابطہ کریں۔
ممپس کیسے پھیلتا ہے؟
ممپس متاثرہ شخص کے ناک یا گلے سے نکلنے والے قطرات کے ذریعے براہِ راست یا بالواسطہ پھیلتا ہے، جیسے۔
• کھانسی یا چھینک کے ذریعے
• مشروبات یا کھانے کے برتن شیئر کرنے سے
ممپس کا مریض علامات ظاہر ہونے سے 2 دن پہلے اور علامات شروع ہونے کے بعد 5 دن تک دوسروں کو بیماری منتقل کرسکتا ہے۔ اس عرصے میں مریض کو گھر پر رہنا چاہیے تاکہ بیماری نہ پھیلے۔
علامات عام طور پر انفیکشن کے 16 سے 18 دن بعد ظاہر ہوتی ہیں، لیکن یہ مدت 12 سے 25 دن تک بھی ہوسکتی ہے۔
ممپس سے بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
ایم ایم آر (MMR) ویکسین محفوظ ہے اور دو خوراکوں کے بعد اوسطاً 88 فیصد تک ممپس سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔
اگر آپ کو ممپس نہیں ہوا اور ویکسین کا ریکارڈ موجود نہیں ہے تو آپ کا ڈاکٹر ویکسین لگا سکتا ہے یا خون کا ٹیسٹ کروا کر مدافعت (Immunity) چیک کی جاسکتی ہے۔
ایم ایم آر ویکسین کی تیسری خوراک؟
بعض صورتوں میں، خاص طور پر وبا کے دوران، قریبی رابطے میں آنے والے یا جن کی ویکسین مکمل نہ ہو، انہیں ایم ایم آر ویکسین کی تیسری خوراک کی سفارش کی جاسکتی ہے۔
2018 میں ماہرینِ حفاظتی ٹیکہ جات کی کمیٹی نے سفارش کی کہ ممپس کی وبا کے دوران وہ افراد جو پہلے ہی ایم ایم آر کی دو خوراکیں لے چکے ہوں، انہیں تیسری خوراک دی جائے۔
صحت مند رہنے اور بیماری پھیلنے سے بچاؤ کے دیگر طریقے
• اپنے ویکسینیشن ریکارڈ کی جانچ کریں اور یقینی بنائیں کہ ایم ایم آر کی دو خوراکیں لگ چکی ہیں
• صفائی کی اچھی عادات اپنائیں: باقاعدگی سے ہاتھ دھوئیں، کھانستے یا چھینکتے وقت ٹشو یا کُہنی کا استعمال کریں، اور کھانے پینے کی چیزیں شیئر نہ کریں
• بیمار افراد سے دور رہیں
• ہجوم میں احتیاط کریں، کیونکہ ممپس تنگ اور بھیڑ والی جگہوں پر زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے
علاج کیسے کیا جاتا ہے؟
چونکہ ممپس وائرس سے ہوتا ہے، اس لیے اینٹی بائیوٹکس اس کا علاج نہیں کر سکتیں۔ علاج کا مقصد علامات میں کمی لانا ہوتا ہے۔
اکثر بستر پر آرام، نرم غذا (تاکہ چبانے میں درد کم ہو)، اور درد یا بخار کم کرنے والی ادویات تجویز کی جاتی ہیں۔
ممپس کی پیچیدگیاں کم ہوتی ہیں، لیکن ان میں یہ علامات بھی شامل ہوسکتی ہیں:
• خصیوں کی سوزش اور درد (Orchitis)
• میننجائٹس (1 سے 10 فیصد کیسز میں)
• دماغ کی سوزش (Encephalitis) — ایک فیصد سے کم کیسز میں
• سماعت میں کمی (انتہائی نایاب)
حمل کے پہلے تین ماہ میں ممپس ہونے سے اسقاط حمل کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
کس کو زیادہ خطرہ ہے؟
وہ تمام افراد جنہوں نے ممپس کی ویکسین کی دو خوراکیں نہیں لیں، انہیں ممپس کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔
حتیٰ کہ دو ایم ایم آر ویکسین لگوانے والے افراد کو بھی ممپس ہوسکتا ہے، کیونکہ ویکسین 100 فیصد تحفظ فراہم نہیں کرتی۔
کالج یا یونیورسٹی کیمپس میں وبا کے دوران رہنے والے افراد، خاص طور پر بین الاقوامی مسافر یا ان سے رابطے میں آنے والے افراد، زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔