04/12/2025
گردن توڑ بخار یا میننجائٹس (Meningitis)
بیکٹیریل اور وائرل میننجائٹس
میننجائٹس دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کی حفاظتی جھلیوں کی سوزش کو کہتے ہیں۔ یہ بیماری مختلف جراثیم سے ہوسکتی ہے جن میں زیادہ تر بیکٹیریا یا وائرس ہوتے ہیں جو ان حصوں کے گرد موجود مائع کو متاثر کرتے ہیں۔
بیماری کا ایک سے دوسرے میں منتقل ہونا (Transmission of Disease)
بیکٹیریل میننجائٹس
یہ بیماری کھانسی، بوسہ لینے، یا بغیر دھلے برتن اور گلاس شیئر کرنے سے پھیلتی ہے۔ بیکٹیریل میننجائٹس سنگین اور جان لیوا انفیکشن کا باعث بن سکتی ہے، جس کے لیے فوری طبی امداد ضروری ہے۔
وائرل میننجائٹس
وائرل میننجائٹس مختلف وائرسز کے ذریعے مختلف طریقوں سے پھیلتی ہے۔ اگرچہ یہ بھی سنگین بیماری ہے مگر بیکٹیریل میننجائٹس کے مقابلے میں نسبتاً کم خطرناک ہوتی ہے۔
علامات (Symptoms)
میننجائٹس کی عام علامات میں شامل ہیں:
• 101°F سے زیادہ بخار
• اچانک اور شدید سر درد
• ذہنی الجھن یا رویے میں تبدیلی
• گردن اور کمر میں سختی
• متلی اور الٹیاں
• روشنی سے حساسیت
• جسم پر دانے (Rash)
بچاؤ (Prevention)
کچھ اقسام کی بیکٹیریل میننجائٹس سے بچاؤ کا سب سے مؤثر طریقہ حفاظتی ٹیکوں کا مکمل کورس ہے۔
میننجائٹس پیدا کرنے والے تین اہم بیکٹیریا کے خلاف ویکسین دستیاب ہیں:
• Neisseria meningitidis میننگوکوکس
• Streptococcus pneumoniae پنیوکوکس
• Haemophilus influenzae ٹائپ b (Hib)
وائرل میننجائٹس کی عام وجہ نان پولیو انٹرو وائرس ہوتے ہیں جن کے خلاف کوئی ویکسین موجود نہیں۔ تاہم کچھ احتیاطی تدابیر سے انفیکشن کے پھیلاؤ کو کم کیا جاسکتا ہے:
• بار بار صابن اور پانی سے ہاتھ دھونا
• گندے ہاتھوں سے چہرہ نہ چھونا
• بیمار افراد کے ساتھ قریبی رابطے سے گریز، جیسے بوسہ دینا، جھپی ڈالنا یا برتن شیئر کرنا
• کھانستے یا چھینکتے وقت ٹشو یا بازو کا اوپری حصہ استعمال کرنا
• کھلونوں، دروازوں کے ہینڈلز جیسی چیزوں کو صاف اور جراثیم سے پاک رکھنا
• بیماری کی صورت میں گھر پر آرام کرنا
علاج (Treatment)
بیکٹیریل میننجائٹس کا علاج اینٹی بائیوٹکس سے کیا جاتا ہے اور جلد علاج شروع کرنا بہت ضروری ہے۔ درست علاج کے بعد اموات کا خطرہ 15٪ سے کم رہتا ہے، تاہم شیر خوار بچوں اور ضعیف افراد میں یہ خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
وائرل میننجائٹس کے لیے عام طور پر کوئی مخصوص دوا نہیں ہوتی۔ زیادہ تر مریض 7 سے 10 دن میں خود ٹھیک ہوجاتے ہیں۔ البتہ اگر بیماری کچھ خاص وائرسز جیسے ہرپس وائرس یا انفلوئنزا سے ہو تو اینٹی وائرل دواؤں سے فائدہ ہوسکتا ہے۔