30/01/2026
ہاتھوں اور پیروں میں سنسناہٹ اور سن ہونا
وجوہات، احتیاط اور ڈاکٹر سے رجوع کب کریں
کیا آپ کو کبھی ہاتھوں یا پیروں میں سنسناہٹ محسوس ہوتی ہے؟
یہ کیفیت سوئیاں چبھنے، سن ہونے، یا جلنے جیسے احساس کی صورت میں ظاہر ہو سکتی ہے۔ ہاتھوں اور پیروں میں سنسناہٹ ہونا ایک عام مسئلہ ہے اور اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، جن کا تعلق زیادہ تر شوگر، اعصاب، خون کی روانی کے نقائص، دباؤ، یا کسی اندرونی بیماری سے ہوتا ہے۔
اگر یہ علامات کبھی کبھار اور تھوڑی دیر کے لیے ہوں تو عموماً تشویش کی بات نہیں ہوتی، لیکن اگر یہ بار بار یا مستقل ہوں تو یہ کسی طبی مسئلے کی علامت ہو سکتی ہیں جس پر توجہ دینا ضروری ہے۔ ان وجوہات کو سمجھنے کے لئے لیبارٹری ٹیسٹ، بہتر علاج اور اعصابی صحت کے لیے پہلا قدم ہے۔
ہاتھوں اور پیروں میں سنسناہٹ کی عام وجوہات میں شوگر کے علاوہ دوسری اور وجوہات یہ ہیں۔
1۔ اعصاب پر دباؤ یا جلن
جب اعصاب پر دباؤ پڑتا ہے تو اُن کے سگنلز متاثر ہوتے ہیں، جس سے سنسناہٹ یا سن ہونا محسوس ہوتا ہے۔
• ایک ہی پوزیشن میں زیادہ دیر بیٹھنا یا کھڑے رہنا (مثلاً ٹانگ پر ٹانگ رکھنا یا تنگ جوتے پہننا)
• کمر کے نچلے حصے میں نس کا دب جانا (جیسے شیاٹیکا)
• ریڑھ کی ہڈی کی ڈسک کا سرک جانا یا ابھر آنا
• سروائیکل اسپونڈیلوسس (گردن کا گٹھیا)، جس میں گردن کی ہڈیوں میں خرابی کے باعث بازوؤں اور ہاتھوں تک سنسناہٹ، درد، اکڑاؤ اور حرکت میں کمی ہو سکتی ہے
2۔ خون کی روانی میں کمی
خون کی مناسب فراہمی نہ ہونے سے اعصاب کو آکسیجن کم ملتی ہے۔
• زیادہ سردی (عموماً عارضی مسئلہ)
• پردیی شریانوں کی بیماری (Peripheral Artery Disease)
• سگریٹ نوشی، جو خون کی نالیوں کو تنگ کر دیتی ہے
• خون کی شریانوں کا سخت یا تنگ ہونا (Arteriosclerosis)
3۔ اعصابی نقصان (پیریفرل نیوروپیتھی)
اعصاب کو نقصان پہنچنا ہاتھوں اور پیروں میں سنسناہٹ کی ایک عام وجہ ہے۔
• ذیابیطس (شوگر) — ایک بہت عام سبب
• زیادہ شراب نوشی
• وٹامنز کی کمی، خاص طور پر وٹامن B12، B6 اور B1
• کچھ ادویات، جیسے کیموتھراپی کی دوائیں
وٹامنز کی کمی سے اعصاب کے گرد موجود حفاظتی تہہ (مایلین) متاثر ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں سنسناہٹ، سن ہونا، کمزوری اور درد ہو سکتا ہے۔
4۔ بے چینی اور ذہنی دباؤ
بے چینی جسم پر جسمانی اثرات بھی ڈالتی ہے۔
• جسم کے “لڑو یا بھاگو” ردِعمل کے دوران اسٹریس ہارمونز (کورٹیسول اور ایڈرینالین) خارج ہوتے ہیں
• یہ ہارمونز خون کی گردش اور اعصابی حساسیت کو متاثر کرتے ہیں
• اس کے ساتھ دل کی تیز دھڑکن، پسینہ آنا، سانس کا تیز یا ہلکا ہونا بھی ہو سکتا ہے
5۔ بار بار دباؤ یا چوٹ
مسلسل دباؤ یا چوٹ اعصاب کو متاثر کر سکتی ہے۔
• زیادہ دیر کھڑے رہنا یا دوڑنا
• ہاتھوں، پیروں، کلائی یا ٹخنوں کی چوٹ
• کارپل ٹنل جیسا مسئلہ مگر ٹخنے میں (ٹارسل ٹنل سنڈروم) 6۔ طبی بیماریاں
کچھ دائمی بیماریاں بھی ہاتھوں اور پیروں میں سنسناہٹ پیدا کر سکتی ہیں:
• ذیابیطس (شوگر)
• ملٹی پل اسکلروسیس (MS)، جو دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کو متاثر کرتی ہے اور سنسناہٹ، کمزوری، توازن کے مسائل، نظر کی خرابی اور تھکن کا باعث بن سکتی ہے
• خودکار مدافعتی بیماریاں
• تھائیرائیڈ کے مسائل
• فائبرومائیالجیا، جس میں پورے جسم میں درد، شدید تھکن، نیند اور یادداشت کے مسائل، اور ہاتھوں و پیروں میں مستقل یا وقفے وقفے سے سنسناہٹ ہو سکتی ہے
کب یہ مسئلہ عام سمجھا جا سکتا ہے؟
یہ کیفیت عموماً خطرناک نہیں ہوتی اگر:
• پوزیشن بدلنے یا حرکت کرنے سے ختم ہو جائے
• کبھی کبھار اور تھوڑی دیر کے لیے ہو
• درد، کمزوری یا توازن کا مسئلہ نہ ہو
کب ڈاکٹر سے فوراً رجوع کریں؟
اگر ہاتھوں یا پیروں میں سنسناہٹ:
• مسلسل ہو یا بڑھتی جا رہی ہو
• صرف ایک ہاتھ یا ایک پاؤں میں ہو
• درد، کمزوری، چلنے میں دشواری یا رنگ کی تبدیلی کے ساتھ ہو
• اچانک شروع ہو، خاص طور پر بولنے یا دیکھنے میں دقت کے ساتھ 🚨
بروقت طبی معائنہ درست تشخیص اور مناسب علاج میں مدد دیتا ہے، جس سے پیچیدگیوں کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔
اعصابی صحت کو بہتر بنانے کے لیے
طبی علاج کے ساتھ درج ذیل اقدامات بھی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں:
• متوازن اور صحت بخش غذا
• باقاعدہ ورزش
• ذہنی دباؤ کا بہتر انتظام
• ڈاکٹر کے تجویز کردہ لیبارٹری ٹیسٹ اور علاج پر عمل
• خود کی دیکھ بھال اور ڈاکٹر سے ربطہ میں رہنا
خلاصہ
اگر آپ کو ہاتھوں یا پیروں میں بار بار یا مسلسل سنسناہٹ محسوس ہو رہی ہے تو اسے نظرانداز نہ کریں۔ بروقت تشخیص (لیبارٹری ٹیسٹ) اور علاج سے تکلیف کم کی جا سکتی ہے اور زندگی کے معیار کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔