Natural cure & remedies

Natural cure & remedies natural cure

24/10/2023

*قبض بیماریوں کی ماں*......جی قبض بیماریوں کی ماں هے اس لئے اس پر کچھ لکه رها هوں
موٹاپے کی ابتدا قبض
جوڑوں کا درد.........
بلیڈپریشر..............
دل کی بیماریاں......
پرانا سر درد........
نظر کی کمزوری.....
دانتوں کا میلا هونا....
کان کا بند هونا....
آنتوں کی شوزش زخم.
پیٹ کے کیڑے.........
بڑی آنت کا سرطان...
بواسیر...................
ناسور بهگندر...........
پنڈلیوں کا درد.........
کمر درد.................
اعصابی کمزوری.......
اور سیکس پرابلیم......
عورتوں میں لیکوریا.....
نید کا غلبہ یا کمی.....
یہ کیوں هوتی هے وجہ کیا هے
بازاری کهانے مرغن غذا
هوٹلینگ فاسٹ فوڈ
بیکری ایٹم کولڈرنک
آرام دے زندگی
جلدی کهانا کها کر جلدی لیٹ جانا
بهت ٹهنڈا پانی لینا تلی اشیاء دیر هضم چیزوں کا کهانا واک یا ورزش نہ کرنا
شوگر مسلسل میڈسن لینا
کچا یا زیاده میٹها دوده پینا
علاج بےشمار هیں ایک آسان
سستا سا نسخہ لکه رها هوں
قبض کا بہتر حل هے۔
ھوالشافی۔،۔
مصبر نمبر ایک
5 تولہ
سنڈه بغیر ریشہ
5 تولہ
گوند کیکر
1 تولہ
علیحدہ علیحدہ پیس کر ملا لو نخودی گولی بنا لو
دو صبح دو شام کهانے کے بعد
ہر بنده مقدار خوراک کم یا زیاده کر سکتا هے اپنی طبیعت کے مطابق
صاف پانی کا استعمال بهت زیاده کریں۔
فائبر والی غذا زیاده سے زیاده ......
جو وجوهات بتائی ان کو چهوڑا جاے
گوشت همشہ سبزی ملا کر۔۔
رات کا کهانا یا دوده سونے سے چار گهنٹے پہلے لے لو
چہل قدمی ضروری هے.
دن میں فروٹ لازمی لیں سستا هو یا مہنگا
ملازم سے کام لینے سے بہتر خود کریں
اچها سوچیں اپنے لئے لوگوں کے لئے بهی
میرے لئے دعا کریں

30/01/2022

حضرت یوسف کو بادشاہی کا خواب دکھایا ،، باپ کو بھی پتہ چل گیا ، ایک موجودہ نبی ہے تو دوسرا مستقبل کا نبی ہے ! مگر دونوں کو ہوا نہیں لگنے دی کہ یہ کیسے ہو گا !

خواب خوشی کا تھا ،، مگر چَکہ غم کا چلا دیا !

یوسف دو کلومیٹر دور کنوئیں میں پڑا ہے ،،خوشبو نہیں آنے دی !

اگر خوشبو آ گئی تو باپ ے رہ نہیں سکے گا ،، جا کر نکلوا لے گا ! جبکہ بادشاہی کے لئے سفر اسی کنوئیں سے لکھا گیا تھا !

سمجھا دوں گا تو بھی اخلاقی طور پہ بہت برا لگتا ہے
کہ ایک باپ اپنے بیٹے کو بادشاہ بنانے کے لئے اسے کنوئیں میں ڈال کر درخت کے پیچھے سے جھانک جھانک کے دیکھ رہا ہے کہ قافلے والوں نے اٹھایا ہے یا نہیں ! لہذا سارا انتظام اپنے ہاتھ میں رکھا ہے !

اگر یوسف کے بھائیوں کو پتہ ہوتا کہ اس کنوئیں میں گرنا بادشاہ بننا ہے اور وہ یوسف کی مخالفت کر کے اصل میں اسے بادشاہ بنانے میں اللہ کی طرف سے استعمال ہو رہے ہیں تو وہ ایک دوسرے کی منتیں کرتے کہ مجھے دھکا دے دو !

یوسف عزیز کے گھر گئے تو نعمتوں بھرے ماحول سے اٹھا کر جیل میں ڈال دیا کہ ، ان مع العسرِ یسراً ،

جیل کے ساتھیوں کی تعبیر بتائی تو بچ جانے والے سے کہا کہ میرے کیس کا ذکر کرنا بادشاہ کے دربار میں ،،مگر مناسب وقت تک یوسف کو جیل میں رکھنے کی اسکیم کے تحت شیطان نے اسے بھلا دیا۔

یوں شیطان بھی اللہ کی اسکیم کو نہ سمجھ سکا اور بطورِ ٹول استعمال ھو گیا ،اگر اس وقت یوسف علیہ السلام کا ذکر ہو جاتا تو یوسف سوالی ہوتے اور رب کو یہ پسند نہیں تھا ،، اس کی اسکیم میں بادشاہ کو سوالی بن کر آنا تھا ، اور پھر بادشاہ کو خواب دکھا کر سوالی بنایا

اور یوسف علیہ السلام کی تعبیر نے ان کی عقل و دانش کا سکہ جما دیا ،، بادشاہ نے بلایا تو فرمایا میں : این آر او " کے تحت باہر نہیں آؤں گا جب تک عورتوں والے کیس میں میری بے گناہی ثابت نہ ہو جائے ،،عورتیں بلوائی گئیں،، سب نے یوسف کی پاکدامنی کی گواہی دی اور مدعیہ عورت نے بھی جھوٹ کا اعتراف کر کے کہہ دیا کہ : انا راودتہ عن نفسہ و انہ لمن الصادقین ،،،

وہی قحط کا خواب جو بادشاہ کو یوسف کے پاس لایا تھا ،، وہی قحط ہانکا کر کے یوسف کے بھائیوں کو بھی ان کے دربار میں لے آیا ، اور دکھا دیا کہ یہ وہ بےبس معصوم بچہ ہے جسے تمہارے حسد نے بادشاہ بنا دیا ،

فرمایا پہلے بھی تم میرا کرتہ لے کر گئے تھے ،جس نے میرے باپ کی بینائی کھا لی کیونکہ وہ اسی کرتے کو سونگھ سونگھ کر گریہ کیا کرتے تھے ،، فرمایا اب یہ کرتہ لے جاؤ ،، یہ وہ کھوئی ھوئی بینائی واپس لے آئے گا !

اب یوسف نہیں یوسف کا کرتا مصر سے چلا ہے تو : کنعان کے صحراء مہک اٹھے ہیں،یعقوب چیخ پڑے ھیں : انی لَاَجِدُ ریح یوسف لو لا ان تفندون۔

تم مجھے سٹھیایا ہوا نہ کہو تو ایک بات کہوں " مجھے یوسف کی خوشبو آ رہی ھے :

سبحان اللہ ،،جب رب نہیں چاہتا تھا تو 2 کلومیٹر دور کے کنوئیں سے خبر نہیں آنے دی ،،جب سوئچ آن کیا ہے تو مصر سے کنعان تک خوشبو سفر کر گئی ہے !

اللہ جو چاھتا ہے وہ کر کے ہی رہتا ھے مگر لوگوں کی اکثریت یہ بات نہیں جانتی !

19/01/2022

لڑکی:
مستقیم میں اب تمہارے بغیر نہیں رہ سکتی, پلیز اپنے گھر والوں ںسے کہو کہ میرے گھر رشتہ لے کر آئیں,

مستقیم: ارے تم کیوں اتنی فکر کرتی ھو, چلو کوئی اور بات کرتے ھیں ,
ایسا کرو تم اپنی کوئی پیاری سی تصویریں بناکر بھیجو,
لڑکی:
نہیں مستقیم, کل بھیجوں گی,
لڑ کا:
میری جان تمہیں دیکھنے کو بہت من کررہا ہے, پلیز ایک..
لڑکی: اچھا بھیج رھی ھوں, پر دیکھ کے ڈیلیٹ کر دینا..

لڑکی اسے تصویر بھیج دیتی ھے

اب لڑکا کہنے لگا تھوڑی سی پیار بھری باتیں ویڈ یو میں ریکارڈ کر کے بھیجو نا سونی..

اب عورت ذات پیار کی بہت بھوکھی ہوتی ہےکوئی تھوڑا سا پیار سے بات کیا کر لے,عورت اسکے پیارمیں
پاگل ھوجاتی ھے...
لڑکی نے وڈیو بنائی اور بھیج دی..
کچھ دن بعد پھر سے لڑکی نے شادی کی بات کی,
پہلے تو لڑکا
ٹال مٹول کرنے لگا ..
پھر لڑکی نے کہا گھر میں بات تو کر کے دیکھو,
لڑکا نوٹنکی میں روتا ھوا کہ گھر میں میری بات کوئی مانتا ہی نہیں,اب تم ھی بتاؤ کہ کیا کروں ؟؟
لڑکی:
آنسوں بہاتے ھوئے,,, 😥😥
مستقیم میں تمہارے بغیر مر جاؤں گی,,
لڑکا:
نہیں, تم میری جان ھو پلیز, ایسے نہ کہا کرو میں بھی نہیں رہ سکتا تمہارے بنا,

لڑکی زاروقطار رونے لگی,

لڑکا:
ارے روتی کیوں ھو,
سنو, میرے پاس اس کا ایک حل ھے,
ایسے کرتے ھیں کہ بھاگ کر شادی کر لیتے ھیں,
لڑکی:
پر بھاگ کر کیسے؟؟
ھم کہاں رہیں گے؟؟ کھائیں گے کہاں سے؟؟
لڑکا:
ارے کتنی پاگل ھو میری جان, تمہاری ماں کا جو زیور پڑا ھے, وہ کب کام آئے گا,
لڑکی: ہاں,
میں ماما کے زیورات اور کچھ ماما کی جمع پونجی جو انہوں نے مجھے سنبھالنے کو دی ہے میں لے آؤں گی,

لڑکا:
خوشی میں فون پر بوسہ دیتے ھوئے,
میری زندگی, جب تم آ جاؤ گی میرے پاس, تو کتنا سکون ہوگا نا..
لڑکی:
اچھا جی,
بس کل کی ہی بات ہے, میں آجاؤں گی تمہارے پاس,

صبح ھوئی تو لڑکی کالج بیگ میں سب بھاگنے کا سامان لے کر نکلی,
ماں:
بیٹی روٹی تو کھا کر جاؤ,

بیٹی:
نہیں ماما, بھوک نہیں ہے,
واپس آکرکھا لوں گی,,
ماں:
نہیں بیٹی,
اگر تم ایسے بھوکی چلی جاؤ گی تو میرا سارا دھیان تمہاری طرف ھی ٹھہرا رھے گا ,,
بیٹی:
ماں تم بھی نہ,,
لیٹ ھو رہی ھوں میں, پلیز جانے دیجیے نا,,
ماں:
آنسوں بہاتے ہوئے,
کیسے بتاؤں بیٹی, جب میری اولاد بھوکی ھوتی ھے تو خود کے حلق میں نوالہ نہیں جاتا,,
لڑکی چلی جاتی ہے..

بیٹی اس لڑکے کے ساتھ کہیں دور نکل جاتی ھے,,

ماں کو گھر میں جب سکون نہیں ھوتا, کہ میری بچی بھوکھی ہی چلی گٸ تو کھانے کا باکس نکالتی ہے,اس میں کھانہ ڈالتی ھے اور کالج کی طرف چل دیتی ہے,😥😥😥

کالج میں جا کر ماں کو پتہ چلتا ھے کہ بیٹی تو آج کالج آئی ہی نہیں, تو اس کی ممتا تڑپ اٹھتی ہے,,
ماں دوڑتی ھوئی کبھی اس طرف جاتی ہے تو کبھی اس طرف,,لیکن بیٹی نظر نہیں آ رہی تھی..😥😥😥

کیونکہ بیٹی اس لڑکے کے بہکاوے میں خود کی اور اپنے ماں باپ کی عزت رولنے نکلی تھی
"
اور ماں ادھر تڑپ رہی تھی

اب وہ لڑکا لڑکی کو لے کر ایک چھوٹے سے جھونپڑی نما گھر میں گیا,,
اور وہاں جا کر لڑکی سے کہنے لگا,
لو,تم کہتی تھی نا کہ میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتی,
اب یہاں رھو ,,
یہ میری مفلوج ماں ھے,
یہ میری باعزت بیوی ہے,
یہ میرے ٣ بچے ھیں,
اور میرا باپ دوسرے بیٹے کے ساتھ رہتا کیوں کہ میری بیوی سے 2,,2 بیمار سنبھالے نہیں جاتے,
لیکن اب میں اپنے باپ کو بھی یہی لے آتا ھوں,
کیوں کہ جس نوکرانی کی ضرورت تھی اب وہ بھی مل گٸ ہے,

لڑکی:
روتے ھوئے,
مستقیم آپ ایسے تو نہیں تھے,

مستقیم:
ھاھاھا,,
چلو میری جان, کام پر لگ جاؤ. ..

ادھر لڑکی کا باپ اور بھائی محلے کی مسجد میں بھی جانے سے گئے,,😥😥
جب بھی مسجد جاتے تو لوگ طرح طرح کی باتیں کرتے,,
اگر ماں کسی محلے کی عورت کے پاس رک جاتی تو وہ اس کی تربیت کو دوش دیتی,,

کچھ دن گزرے تو لڑکی لڑکے کے آگے گڑگڑاتی اور کہتی,
مستقیم,ایک بار مجھے اس قید سے آزاد کردو,,

لیکن مستقیم کہتا تمہیں میرے ساتھ رہنا تھا نا,
اب رہو ہمیشہ,,,

لڑکی اگر کہتی کہ ایک بار مجھے میرے گھر والوں سے مل آنے دو,
تو مستقیم کہتا کہ بیوقوف, مجھے الو بناتی ہو.
جیسے اپنی ماں کو الو بنایا,,

وہ ماں جس نے 9 ماہ تک تمہیں اپنے پیٹ میں رکھا,
اگر تمھیں دودھ بھی دیتی تو پہلے اپنے الٹے ہاتھ پہ دودھ گرا کے چیک کرتی,,
خود کو تکلیف دیتی کہ دودھ ٹھنڈا ھوا بھی ہے یا نہیں,,,

اگر اس ماں کو تم میرے لیے چھوڑ سکتی ھو تو میں کیا چیز ھوں,,,

میں تو خود اس ماں کا ایک دن کا قرض نہیں اتار سکتا..

تم کل کو کسی اور کی خاطر مجھے بھی چھوڑ سکتی ھو,,

لڑکی ہاتھ جوڑ کر رورو کر فریاد کرتی ہے کہ ایک بار بس مجھے میرے گھر والوں سے ملنے دو,, میرا اور کوئی نہیں, جس کے ساتھ میں بھاگوں گی,,

تو لڑکا کہنے لگا وہ علی,, امان اور سہیل وہ اتنے لڑکے,,
جو روز تمہاری پوسٹ پہ کمنٹ کرتے تھے اور تم بھی ان کو کمنٹ کرتی وہ تمہارے چاچا کے بیٹے تھے۔؟

اور لڑکی پر طرح طرح کے ظلم
کرتا,,
لڑکی نے بہت بار بھاگنے کی بھی
کوشش کی,,
آخربھاگنےمیں کامیاب ھوہی گٸ,,

واپس آ کرکیادیکھتی ھے کہ گھر کو تالہ لگا ھوا ہے..
محلے کے لوگوں سے پتہ چلتا ھے کہ اس کی ماں اس کے غم میں پاگل ھو گئی ہے,,😥😥😥

اسکا باپ اور بھائی اپنی عزت پہ اٹھتی انگليوں کو برداشت نہ کر سکے اوراپنی جان دےدی,,😥😥

لڑکی روتے ھوئے ,,
اور میری ماں ھے کہاں ؟

توجواب ملاکہ ہر روز آتی ہے تیری ماں,
اور روتےھوئےکہتی ھےکہ میری بیٹی بھوکی ہی کالج چلی گٸ تھی,,
نہ جانےبھوک سےاس کاکیاحال ھوگا,,
مجھےتھوڑی سی روٹی دےدو,,

میری بچی بھوکی ھوگی,,
اور روز وہ روٹی ہاتھ میں لیے تیرا انتظارکرتی ہے,,

بیٹی جب ماں کوڈھونڈ لیتی ہےتو اسکی ماں نے روٹی کو اپنی چادر میں باندھ رکھا ھوتا ھے,,
لیکن افسوس,,

اس ماں کےجسم میں جان نہیں ھوتی
😭😭😭😭😭😭
میری بہنو....
اگر ہمارے ماں باپ یا بھائی نے ہمیں فون لے ہی دئیے ھیں,
اور فیسبک کی اجازت مل ہی گٸ ھے تو پلیییییییییز
خداکےلیےکوئی غلط قدم نہ اٹھاناجس کی وجہ سےآپ کا باپ یا بھائی محلے کی مسجد میں بھی نہ جا سکیں
🙏🙏🙏🙏🙏🙏

*اللھم صلی اللہ محمد وآل محمد*
*سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم*

16/12/2021

بلڈ بینک نسخہ پیش خدمت ھے

سنڈھ 60گرام
نوشادر ٹھکری 30 گرام
مرچ سیاہ 15 گرام
کشتہ فولاد میٹھا سوڈاء والہ
10گرام
ریوند خطای 30گرام
ترکیب تیاری ؟
سب اجزاء باریک سفوف کرے آخر مین کشتہ فولاد ملادے
خوراک 500 ملی گرام کپسول تین ٹایم شربت انار کے ساتھ
فواید خون کی کمی چکر آنا بلڈ پریشر لو ھونا جگر اور تلی کا
ورم جسمانی ورم کے لیے آب حیات ھے اس نسخہ کی قدر میرے قابل استادزاء ھی جانتے ھین ایک بار ضرور بناے ۔

12/10/2021

اپنا کوکنگ آئل خود بنائیں۔

تیل سرسوں 2 کلو میں ادرک کی لمبی لمبی قاشیں 100 گرام جلا لیں۔جب ادرک جل کر سیاہی ماٸل ہونے لگے اور تیل جوش کھانے لگے۔یہ تیل کھانے پکانے میں استعمال کریں۔اعضاۓ رٸیسہ کیلٸے بہترین ٹانک ہے۔
تیل سرسوں ایک کلو میں دہی ایک پاٶ ڈال کر ہلکی آنچ پر پکا لیں۔جب دہی کی پُھٹیاں ہلکی سرخی ماٸل ہونے لگیں تو اتار لیں۔تیل کی جھاگ اور بُو سب ختم ہو جاۓ گی۔یہ تیل بناسپتی گھی سے ہزار درجے بہتر ہے۔بنا سکتی گھی صرف کیمیکل ہے۔بلکہ یہ صابن کا فارمولہ ہے۔صرف چند کیمیکلز کا فرق ہے۔تجربہ کر لیں۔ ہر صابن والی فیکٹری گھی کیوں بناتی ہے؟اور ہر گھی والی فیکٹری صابن کیوں بناتی ہے؟۔کیونکہ میٹیریل ملتا جلتا ہے۔اس لٸے بقیہ مواد کو ضاٸع نہیں کرتے۔
خود بنایا ہوا تیل کھانے میں استعمال کرنے سے ہزاروں بیماریاں ختم ہو جاتی ہیں۔اور کھانے کا ذائقہ اور کرارا پن کافی دیر تک قاٸم رہتا ہے۔اعضاۓ رٸیسہ کو طاقت دیتا ہے۔جگر کیلٸیے اکسیر ہے۔
مزید آسان طریقہ یہ بھی ہے کہ حسب ضرورت سالن میں یہ تیل ڈالنے سے پہلے اس میں روٹی کا ٹکڑاڈال دیں ۔اسے جلائیں پھر تیل صاف کر کے استعمال کریں۔
خواتین کیلئے سب سے آسان طریقہ یہی ہے۔۔۔

20/05/2021

سن سٹروک
اب درجہ حرارت 40 سے 45 ڈگری تک روز پہنچ رھا ھے اس لئے اس بارے میں کچھ عرض کرنا چاہ رھا ھوں۔
انسانی جسم کا درجہ حرارت 41 ڈگری پر پہنچ جائے تو موت واقع ہونے کے امکانات 90 فیصد تک بڑھ جاتے ہیں۔ (موسمی درجہ حرارت نہیں انسانی جسم کا درجہ حرارت) اسی لئے شدید گرمی سے بزرگ لوگ بہت زیادہ متاثر ھوتے ھیں۔ لہذا بہتر ھے کے انتہائی احتیاط سے کام لیا جائے ۔
احتیاط :
گوشت ، انڈہ ، اچار ، کوک ، پیسی ، تیز مرچ مصالحے ، پالک ، میتھی وغیرہ کھانے سے اجتناب کریں
کالا ، نیلا ، لال ، میرون ، جامنی اور گہرے رنگ والے کپڑے پہننے سے پرہیز کریں
انتہائی گرمی کے اوقات صبح 9 سے شام 6 بجے تک بلا ضروری سفر نا کریں
نمک کا کم سے کم استمعال کریں
کالے رنگ کے اور مکمل بند جوتے کم سے کم پہنیں
کرنے والے کام :
کدو ، ٹینڈے ، اروی ، گھیا توری ، شلجم ، پیٹھا ، مولی ، گاجر ، کھیرا ، دودھ ، دیسی گھی ، شربت بزوری ، بلنگو اور شربت بادام پھلوں میں تربوز ، کیلا , خوبانی اور خربوزے کا استمعال کریں ۔
سفید ، گلابی ، سبز اور ہلکے رنگ کے کپڑوں کا استمعال کریں
گھر سے نکتے وقت گیلا تولیہ ضرور ساتھ رکھیں ۔ ممکن نا ہو تو سر اور گردن کسی کپڑے سے ضرور ڈھانپیں اور عینک کا استمعال بھی کریں ۔
سونف اور الائچی کا قہوہ گرمی کا بہترین توڑ ھے
املی اور آلو بخارے کا زلال پیاس کی شدت کو انتہائی کم کر دیتا ھے
پانی جس قدر ممکن ہو پئیں ۔ ٹھنڈے پانی سے بجائے گھڑے کا پانی استمعال کریں۔ پیاس کی شدت کنٹرول میں رہتی ہے۔
جتنی بار ممکن ہو دن میں غسل کریں
ہوا دار جوتا پہنیں جو کالے رنگ کا نا ھو
اپنے گھر کی سایہ دار جگہوں پر پرندوں کے لئے لازمی "پانی" کا بندوبست کریں۔
درخت لگائیں جو نا صرف موجودہ گرمی کو کم کریں گے ۔ بلکہ سردی میں پڑنے والی سموگ کا بھی توڑ ہیں ۔
ضرورت پڑھنے پر اپنے معالج سے رابطہ کریں
اللہ تعالی ہم سب پر رحم و کرم فرمائے

18/05/2021

یہ نسخہ مخصوص لوگوں کو ادوار قدیم میں استمعال کروایا جاتا تھا جو خصوص بلخصوص جگر کے لیے آب حیات سے کم نہیں ھے جگر انسانی جسم کا وہ عضو ھے جس کے تابع تمام انسانی عضو ہیں جگر کے فعل میں زرا سی خرابی انسانی بدن میں کئی کمزوریاں پیدا کرتی ھے جگر ہی جسم سے تمام وائرس اور فاسد رطوبات کو ختم کرتا ھے ربطوبات صالح تبھی پیدا ھوں گئی جب جگر کا فعل درست اور قوی ھو گا اجکل کے دور میں ہر دوسرا فرد جگر کے مسائل کا شکار ھے جیسا کہ ہیپاٹائٹس بی سی اور دیگر امراض جگر میں مبتلا نظر آتے ہیں قوت ہاضمہ کی خرابی غذا کا ہضم نہ ھونا چہرے کا پھیکا پن خون کی کمی جسم کا سکڑ جانا گوشت کا ڈھیلا پن یہاں تک کہ تمام جسم کا قبل از وقت ضعیف ھونا بھی جگر کی خرابی کی وجہ ھوتا ہے اس نسخہ سےجگر کی تمام شکایات نیست و نابود ھوں گئی جگر پر چربی چند روز میں ختم ھو جائے گی اور جسم سرخ انار جیسا ھو جائے گا تمام قوتیں بحال ھو کر جسم کی نشونما ھوگی ۔
نسخہ ۔
کلیجی بکرا پانچ کلو ۔ نوشادر اپاو۔سفوف کالی مرچ اپاو۔پتری فولاد ادھ پاو۔ عرق مکو خانہ ساز بیس کلو ۔ سرکہ انگوری تین بوتل۔
ترکیب۔کلیجی پر چھری سے پچھ لگا کر کالی مرچ نوشادر پتری فولاد کا سفوف سرکہ انگوری ڈال کر روغنی ہانڈی میں رات بھر کھلی شبنم میں رکھ دیں صبح دیکھیں اس میں سے پانی خارج شدہ ملے گا مقطر کرلیں یہ تین بوتل مقصود ھے مطلوبہ پانی کو بیس کلو عرق مکوہ میں ڈال کر قرع انبیق میں دوبارہ کشید کریں اور پانچ بوتل حاصل کریں یہ تیار ھے ۔
دوسرا مرحلہ۔پانچ تولہ زعفران خالص۔ پانچ بوتل مذکورہ تیار شدہ۔میں شہد خالص ڈال کر شربت تیار کریں ۔
خوراک دوچمچ صبح نہار منہ استمعال کریں اور دو چمچ شام ۔
قدرت کا مشاہدہ فرمائیں یہ شربت صرف سوا مہینہ مسلسل استمعال کرلینے بوڑھا بھی جوان ھو جاتا ھے جسم کی نشونما دوبارہ ھونے لگتی ھے لکڑ پتھر ہضم ھوجاتا ھے معدے کو غضب کی طاقت بخشتا ھے بچے بوڑھے جوان سب استمعال کرسکتے ہیں ۔

09/05/2021

یہ انفارمیشن ہر پاکستانی شہری کے لیے جاننا ضروری ہے

* دفعہ 307 * = قتل کی کوشش کی
* دفعہ 302 * = قتل کی سزا
* دفعہ 376 * = عصمت دری
* دفعہ 395 * = ڈکیتی
* دفعہ 377 * = غیر فطری حرکتیں
* دفعہ 396 * = ڈکیتی کے دوران قتل
* دفعہ 120 * = سازش
* سیکشن 365 * = اغوا
* دفعہ 201 * = ثبوت کا خاتمہ
* دفعہ 34 * = سامان کا ارادہ
* دفعہ 412 * = خوشی منانا
* دفعہ 378 * = چوری
* دفعہ 141 * = غیر قانونی جمع
* دفعہ 191 * = غلط ھدف بندی
* دفعہ 300 * = قتل
* دفعہ 309 * = خودکش کوشش
* دفعہ 310 * = دھوکہ دہی
* دفعہ 312 * = اسقاط حمل
* دفعہ 351 * = حملہ کرنا
* دفعہ 354 * = خواتین کی شرمندگی
* دفعہ 362 * = اغوا
*دفعہ 320* = بغیر لائسنس یا جعلی لائیسنس کے ساتھ ایکسڈنٹ میں کسی کی موت واقع ہونا(ناقابلِ ضمانت)
,*دفعہ 322 = ڈرائیونگ لائسنس کے ساتھ ایکسیڈنٹ میں کسی کی موت واقع ہونا (قابلِ ضمانت)
* دفعہ 415 * = چال
* دفعہ 445 * = گھریلو امتیاز
* دفعہ 494 * = شریک حیات کی زندگی میں دوبارہ شادی کرنا
* دفعہ 499 * = ہتک عزت
* دفعہ 511 * = جرم ثابت ہونے پر جرم ثابت ہونے پر عمر قید کی سزا۔
4
ہمارے ملک میں، قانون کے کچھ ایسے ہی حقائق موجود ہیں، جس کی وجہ سے ہم واقف ہی نہیں ہیں، ہم اپنے حقوق کا شکار رہتے ہیں۔

تو آئیے اس طرح کچھ کرتے ہیں
* پانچ دلچسپ حقائق * آپ کو معلومات فراہم کرتے ہیں،
جو زندگی میں کبھی بھی کارآمد ثابت ہوسکتی ہے۔

* (1) شام کو خواتین کو گرفتار نہیں کیا جاسکتا * -

ضابطہ فوجداری کے تحت، دفعہ 46، شام 6 بجے کے بعد اور صبح 6 بجے سے قبل، پولیس کسی بھی خاتون کو گرفتار نہیں کرسکتی، چاہے اس سے کتنا بھی سنگین جرم ہو۔ اگر پولیس ایسا کرتی ہوئی پائی جاتی ہے تو گرفتار پولیس افسر کے خلاف شکایت (مقدمہ) درج کیا جاسکتا ہے۔ اس سے اس پولیس افسر کی نوکری خطرے میں پڑسکتی ہے۔

* (2.) سلنڈر پھٹنے سے جان و مال کے نقصان پر 40 لاکھ روپے تک کا انشورینس کا دعوی کیا جاسکتا ہے۔

عوامی ذمہ داری کی پالیسی کے تحت، اگر کسی وجہ سے آپ کے گھر میں سلنڈر ٹوٹ جاتا ہے اور آپ کو جان و مال کے نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، تو آپ فوری طور پر گیس کمپنی سے انشورنس کور کا دعوی کرسکتے ہیں۔ آپ کو بتادیں کہ گیس کمپنی سے 40 لاکھ روپے تک کی انشورنس دعویٰ کیا جاسکتا ہے۔ اگر کمپنی آپ کے دعوے کو انکار کرتی ہے یا ملتوی کرتی ہے تو پھر اس کی شکایت کی جاسکتی ہے۔ اگر جرم ثابت ہوتا ہے تو ، گیس کمپنی کا لائسنس منسوخ کیا جاسکتا ہے۔

* (3) کوئی بھی ہوٹل چاہے وہ 5 ستارے ہو… آپ مفت میں پانی پی سکتے ہیں اور واش روم استعمال کرسکتے ہیں * -

سیریز ایکٹ، 1887 کے مطابق، آپ ملک کے کسی بھی ہوٹل میں جاکر پانی مانگ سکتے ہیں اور اسے پی سکتے ہیں اور اس ہوٹل کے واش روم کا استعمال بھی کرسکتے ہیں۔ اگر ہوٹل چھوٹا ہے یا 5 ستارے، وہ آپ کو روک نہیں سکتے ہیں۔ اگر ہوٹل کا مالک یا کوئی ملازم آپ کو پانی پینے یا واش روم کے استعمال سے روکتا ہے تو آپ ان پر کارروائی کرسکتے ہیں۔ آپ کی شکایت کے سبب اس ہوٹل کا لائسنس منسوخ ہوسکتا ہے۔

* (4) حاملہ خواتین کو برطرف نہیں کیا جاسکتا * -

زچگی بینیفٹ ایکٹ 1961 کے مطابق، حاملہ خواتین کو اچانک ملازمت سے نہیں ہٹایا جاسکتا۔ حمل کے دوران مالک کو تین ماہ کا نوٹس اور اخراجات کا کچھ حصہ دینا ہوگا۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا ہے تو پھر اس کے خلاف سرکاری ملازمت تنظیم میں شکایت درج کی جاسکتی ہے۔ یہ شکایت کمپنی بند ہونے کا سبب بن سکتی ہے یا کمپنی کو جرمانہ ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔

*(5) پولیس افسر آپ کی شکایت لکھنے سے انکار نہیں کرسکتا*

پی پی سی کے سیکشن 166 اے کے مطابق، کوئی بھی پولیس افسر آپ کی شکایات درج کرنے سے انکار نہیں کرسکتا ہے۔ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو پھر اس کے خلاف سینئر پولیس آفس میں شکایت درج کی جاسکتی ہے۔ اگر پولیس افسر قصوروار ثابت ہوتا ہے تو، اسے کم سے کم * (6) * ماہ سے 1 سال قید ہوسکتی ہے یا پھر اسے اپنی ملازمت سے ہاتھ دھونے پڑ سکتے ہیں۔
یہ دلچسپ حقائق ہیں، جو ہمارے ملک کے قانون کے تحت آتے ہیں، لیکن ہم ان سے لاعلم ہیں۔

*یہ پیغام اپنے پاس رکھیں، یہ حقوق کسی بھی وقت کارآمد ثابت ہوسکتے ہیں۔* _
* muhammad ijazz gujjar

29/04/2021

عورت_برائے_فروخت
وہ شکل سے شریف گھر کی بیٹی لگ رہی تھی میں پاس گیا
میرے قریب ہو کر بولی
چلو گے صاحب
میں نے پوچھا کتبے پیسے لو گی
کہنے لگی آپ کتنے دیں گے
میں نے اس کی نیلی سی آنکھوں میں جھانک کر دیکھا
وہ بے بس سی تھی میں نے بولا آو کار میں بیٹھو
وہ ڈر رہی تھی
کہنے لگی کتنے آدمی ہو میں نے کہا ڈرو نہیں
میں اکیلا ہی ہوں
وہ خاموش بیٹھی رہی
پھر کہنے لگی آپ مجھے سگریٹ سے اذیت تو نہیں دو گے نا
میں مسکرایا بلکل بھی نہیں
پھر اس نے ایک لمبی سانس بھری
آپ میرے ساتھ کوئی ظلم تو نہیں کریں گے نا
آپ چاہے مجھے 500 کم دے دینا لیکن میرے ساتھ برا نہ کرنا پلیز
وہ بہت خوبصورت تھی معصومیت اس کی باتوں سے ٹپک رہی تھی
پھر بھی خدا جانے وہ کیوں جسم بیچنے پہ مجبور تھی
وہ نہیں جانتی تھی میں کون ہوں
میں نے پوچھا کھانا کھایا ہے کہنے لگی نہیں
میں ہوٹل کے سامنے کار رکی ہوٹل والا مجھے جانتا تھا
اس نے جلدی سے کھانا پیک کیا مجھے دیا
میں کار میں بیٹھ گیا آ کر
میں اپنے آفس کی طرف چل دیا
چوکیدار نے دروازہ کھولا میں کار پارک کی
رات کے 11 بج رہے تھے سب اپنااپنا کام کر رہے تھے
وہ مسلسل میری طرف دیکھے جا رہی تھی
میں نے کھانا پلیٹ میں ڈالا
اسے کہا ہاتھ دھو لو
وہ کہنے لگی میں نے نہیں کھانا
میں نے پیار سے کہا ڈرو نہیں کچھ نہیں ہو گا
وہ ہاتھ دھو کر آئی
میرے سامنے کرسی پہ بیٹھ گئی اور کھانا کھانے لگی
جب کھانا کھا لیا تو کچھ کھانا بچ گیا کہنے لگی یہ میں گھر لے جا سکتی ہوں میں مسکرایا بلکل بھی نہیں
وہ چپ ہو گئی برقع اتارنے لگی میں نے کہا رک جائیں
میرے پاس آ کر بیٹھ جائیں
وہ حیران تھی
میری آنکھوں میں دیکھ کر بولی جلدی سے اہنا کام کریں مجھے واپس چھوڑ آئیں
میں نے کہا نہیں پوچھوں گا کیوں کرتی ہو ایسا
کیوں بیچتی ہو جسم
بس اتنا کہوں گا چھوڑ سکتی ہو کیا یہ سب
وہ میرے چہرے کی طرف دیکھنے لگی آپ پاگل لگ رہیں مجھے
میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھا
ہاں پاگل ہی ہوں میں
سب پاگل ہی سمجھتے ہیں مجھے
وہ کہنے لگی اگر کچھ کرنا نہیں ہے تو مجھے واپس چھوڑ کر آو
میں نے اس کے سر پہ ہاتھ رکھا
پھر پرس سے 10k نکالے اس کے ہاتھ پہ رکھے
وہ حیران تھی کہنے لگی میں نے نہیں لینے
آپ کیوں دے رہے ہیں یہ پیسے مجھے
میں نے اس کے چہرے پہ ایک تھکن محسوس کی تھی
وہ اپنے آنسو روکے بیٹھی تھی
بار بار کہہ رہی تھی مجھے بس واپس چھوڑ کر آو
مجھے ڈر لگ رہا ہے
میں نے اسے یقین دلایا ڈرنے کی کوئی بات نہیں ہے
اچھا بتاو نا بہت درد دیا نا زندگی نے
یہ سننا تھا
اس کی آنکھیں نم ہو گئی تھیں
جیسے کوئی قیامت گر گئی ہو اس پہ
میں سمجھ چکا تھا کوئی بہت بڑا درد لیئے گھوم رہی ہے دروازہ کھولا کانپتی آواز میں بولی مجھے چھوڑ کر آو واپس
میں نے اسے بیٹھنے کا کہا
بتایا میرا نام .........ہے ڈرو نہیں
خود کو محفوظ سمجھو
اسے جب یقین ہو گیا پریشانی والی کوئی بات نہیں تو
بتانے لگی
شوہر مر گیا تین بیٹیاں ہیں
سسرال والوں نے نکال دیا
ماں باپ فوت ہو چکے ہیں بھائی کوئی ہے نہیں ماموں کے گھر آئی
ماموں کے بیٹے نے میرے ساتھ زیادتی کی
میں نے جب مامی کو بتایا تو سب نے مجھے غلط کہا
مجھے دھکے دے کر گھر سے نکال دیا
دور کے رشتہ دار نے ایک بڈھے سے میری شادی کروائی اس کے بھی بچے تھے
اس کے بچوں نے مجھے بہت ذلیل کیا
پھر وہ شوہر بھی فوت ہو گیا
بیٹیوں کو لیئے در بدر لیئے بھٹکنے لگی
نہ چھت تھی نہ روٹی تھی
بھوک افلاس تھی
سڑک پہ کھڑی تھی ایک صاحب آئے کہنے لگے ایک گھنٹے کے 5 ہزار دوں گا
نہ چاہتے ہوئے ماں کی ممتا حالات کی ستائی ہوئی کیا کرتی آخر چل دی
اب ہر روز جسم بیچتی ہوں کرائے گا گھر لیا ہے بیٹیوں کو اکیلا چھوڑ کر آتی ہوں
کیا کروں بہت بار سوچا خود کشی کر لوں لیکن بیٹیوں کو دیکھ کر ہمت نہیں ہوتی
وہ رو رہی تھی میں زمانے کی بے حسی محسوس کر رہا تھا
اس کے سر پہ ہاتھ رکھا اس کہا ....... تمہارا بھائی ہے آج سے
تم اپنی بیٹیوں کو لو اور میرے آفس کے اوپر والے ایک روم میں رہو
وہ یقین نہیں کر پا رہی تھی
کار میں بٹھایا اس کے گھر پہنچا
بیٹیاں سوئی ہوئی تھیں بہت پیاری تھیں
گود میں اٹھایا دل کو سکون ملا
وہ مسلسل روئے جا رہی تھی
مجھے کہنے لگی آپ فرشتے ہیں
آپ کون ہیں
میں اسے اپنے آفس لے آیا
وہ دعائیں دینے لگی جھولی اٹھا کر نہ جانے کتنی دعائیں دیتی رہی میں نے اسے کہا جا کر سو جائیں
اپنے آفس روم میں گیا میرے سامنے سے وہ چہرہ گزرا جو ایک لڑکی اپنے شوہر سے جھگڑا رہی تھی
اسے کہہ رہی تھی مجھے طلاق دو تم کو میری قدر ہی نہیں ہے وہ اپنا گھر جلا رہی تھی اپنی بے وقوفی کی وجہ سے
وہ بیچاری کیا جانے زمانے کی تلخیاں کیا ہوتی ہیں
زمانے کا ڈسنا کیا ہوتا ہے میں بتانا چاہتا تھا اپنا گھر جان بوجھ کر اجاڑنے والی لڑکیوں کو طلاقیں لینا آسان ہے اس کے بعد جینا موت ہے
کبھی ساس کا رونا کبھی نند کا سیاپا کبھی جھٹانی سے لڑائی یہ ہر گھر کی بات ہے
اس کا ہرگز مطلب طلاق لینا یا گھر اجاڑنا نہیں ہے کم عمری میں ہی میرے سر کے بال سفید ہو گئے ہیں ہزاروں آنکھوں کے آنسو دیکھ کر
اپنے گھروں کو آباد رکھو
خدا کی قسم ایک وقت آتا کے نا بھائی حال پوچھتے ہیں نا سگی بہنیں
سب وقت کے ساتھ چہرے کے نقاب بدل لیتے ہیں ..... ہر جگہ ہر کسی کو تھامنے کے لیئے کھڑا نہیں ملے گا ہاں میری قلم شاید کسی کو بربادی سے پہلے بچا لے
ہمسفر کیسا بھی ہے وہ تمہاری ڈھال ہے
شادی کے بعد سگے بھائی سے خرچہ لینا بھی بھیگ مانگنے جیسا لگتا ہے
میری باتیں وہ عورت سمجھ سکتی ہیں جس پہ ایسا کچھ گزرا یے
ہمسفر جیسا بھی ہے وہ تمہارا لباس ہے یاد رکھنا زمانے کے لیئے تم صرف گوشت کا ایک ٹکڑا ہو
وہ زمانے گزرے مدت ہوئی جب رشتوں کا پاس رکھا جاتا تھا
اب رشتوں سے کھیلا جا سکتا ہے ہوس پوری کی جا سکتی ہے پھر پھینک دیا جاتا ہے
ہاں قسمت میں لکھا ہم بدل نہیں سکتے لیکن قسمت خود لکھ بھی سکتے ہیں صبر برداشت اور جھک کر
نہ جانے کتنی عورتیں صرف اس لیئے گھر اجاڑ لیتی ہیں کے اس کا شوہر اس کو ٹائم نہیں دیتا ہاں یہ شکوہ کرنا درست ہے لیکن کیا گارنٹی ہے اس کے بعد زندگی میں آنے والا اس سے بھی زیادہ برا ہو
صرف ایک زندگی ہے اس کو محبت پیار سمجھداری کے ساتھ گزار لو
میں اس معاشرے کو معاشرہ نہیں کہتا بلکہ بدبودار سماج کہتا ہوں
یہاں جگہ جگہ پہ لٹیرے کھڑے ہیں عزتوں کے خواہشوں کے بھرم کے بھروسے کے اعتبار کے...
بس آخر پہ ایک بات کہوں گا
اگر تم کو پیٹ بھرنے کے لیئے چاردیواری سے باہر نہیں جانا پڑ رہا
اگر تم کو جسم نہیں بیچنا پڑ رہا
اگر تمہارے سر پہ چادر ہے
اگر لوگ تمہارا سودا نہیں کرتے
اگر لوگ تم کو وحشیہ نہیں کہتے
اگر تمہارا دامن پاکیزہ ہے
اگر تم رات کو محفوظ پناہ گاہ میں سوتی ہو تو
نہ کرنا برباد اپنا آشیانہ
ورنہ روند دی جاو گی نوچ لی جاو گی
جو طلاق لیئے بیٹھی ہیں پوچھو ان سے
وہ سوچ رہی ہوتی ہیں نہ جانے کتنے بچوں کے باپ کی ہمسفر بنوں گی
نہ جانے وہ کیسا سلوک کرے گا
اور پھر ساری زندگی یہ طعنہ سنتے گزر جاتی ہے اتنی ہی اچھی ہوتی تو طلاق کیوں لیتی
خیر وہ لڑکی الحمداللہ محفوظ ہے لیکن وہ روتی ہے
زمانے کی بے حسی پہ
اور جانتے ہو کسی عورت کی بربادی میں کہیں نہ کہیں مرد ہوتا ہے
محبت کر کے چھوڑنے والا دعویدار ہو یا نکاح کر کے طلاق دینے والا بدبخت
عورت خدا کی قسم میرے معاشرے کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ایک قیدی ہے
کبھی باپ کی پگڑی پہ لٹ گئی تو کبھی ساس کے زہر آلود لہجے پہ
کبھی شوہر کی انا پہ خاک ہو گئی تو کبھی اولاد کی وجہ سے
مرد اگر سمجھ جائیں میری اس تحریر کو تو شاید میرا معاشرہ بدل جائے
ہاں کچھ عورتیں ہوتی ہیں بازارو جن کو جتنی بھی عزت دے دو وہ عزت کی چادر سے زیادہ بازار کی رونق بننا پسند کرتی ہیں پھر ایسی بدبخت عورتیں ایک بدبودار معاشرے کو جنم دیتی ہیں_🙏🙏🙏

07/04/2021

خوش رہنا شروع کیجئے
چائے میں بسکٹ ڈبو کر تو دیکھئے، اگر ٹوٹ کر گِر گیا تو کونسی قیامت آ جائے گی

ایک وقت تھا خوشی بہت آسانی سے مل جاتی تھی۔
دوستوں سے ملکر،
عزیز رشتہ داروں سے ملکر،
نیکی کرکے،
کسی کا راستہ صاف کرکے،
کسی کی مدد کرکے۔
خربوزہ میٹھا نکل آیا،
تربوز لال نکل آیا،
آم لیک نہیں ھوا،
ٹافی کھا لی،
سموسے لے آئے،
جلیبیاں کھا لیں،
نیا جوتا مل گیا,
عید پر نئے کپڑے مل گئے.
قسمت پوری سے انعام نکل آیا.
عید پر یا میلے پر 10 روپے مل گئے.
باتھ روم میں پانی گرم مل گیا،
داخلہ مل گیا،
پاس ھوگئے،
میٹرک کرلیا،
ایف اے کرلیا،
بی اے کر لیا،
ایم اے کرلیا،
کھانا کھالیا،
دعوت کرلی،
شادی کرلی،
عمرہ اور حج کرلیا،
چھوٹا سا گھر بنا لیا،
امی آبا کیلئے سوٹ لے لیا،
بہن کیلئے جیولری لے لی،
بیوی کیلئے وقت سے پہلے گھر پہنچ گئے،
اولاد آگئی اولاد بڑی ھوگئی، انکی شادیاں کردیں-
نانے نانیاں بن گئے -
دادے دادیاں بن گئے -
سب کچھ آسان تھا
اور سب خوش تھے.

پھر ہم نے پریشانی ڈھونڈنا شروع کردی،

بچہ کونسے سکول داخل کرانا ھے،
پوزیشن کیا آئے،
نمبر کتنے ہیں،
جی پی اے کیا ھے،
لڑکا کرتا کیا ہے،
گاڑی کونسی ہے،
کتنے کی ہے،
تنخواہ کیا ہے،
کپڑے برانڈڈ چاہیئں
یا پھر اس کی کاپی ہو،
جھوٹ بولنا پھر اسکا دفاع کرنا، سیاست انڈسٹری بن گئی.

ھم سے ھمارے دور ھوگئے

شاید ہی ہمارے بچوں کو فوج کے عہدوں کا پتہ نہ ہو
پر ان کو ڈی ایچ اے کونسے شہر میں ہیں، سب پتہ ہے،
گھر کتنے کنال کا ہو،
پھر آرچرڈ سکیمز آگیئں،
گھر اوقات سے بڑے ہو گئے،
اور ہم دور دور ہو گئے،
ذرائع آمدن نہیں بڑھے پر قرضوں پر گاڑیاں، موٹر سائیکل، ٹی وی، فریج، موبائل سب آگئے،
سب کے کریڈٹ کارڈ آگئے -
پھر ان کے بل بجلی کا بل،
پانی کا بل، گیس کا بل، موبائل کا بل، سروسز کا بل،
پھر بچوں کی وین،
بچوں کی ٹیکسی،
بچوں کا ڈرائیور،
بچوں کی گاڑی،
بچوں کے موبائل،
بچوں کے کمپیوٹر،
بچوں کے لیپ ٹاپ،
بچوں کے ٹیبلٹ، وائی فائی، گاڑیاں،
جہاز،
فاسٹ فوڈ،
باھر کھانے،
پارٹیاں،
پسند کی شادیاں،
دوستیاں، طلاق پھر شادیاں، بیوٹی پارلر،
جم،
پارک،
اس سال کہاں جائیں گے،
یہ سب ہم نے اختیار کئے
اور اپنی طرف سے ہم زندگی کا مزا لے رہے ہیں -
کیا آپ کو پتہ ھے آپ نے خوشی کو کھودیا ہے۔
جب زندگی سادہ تھی تو خوشی کی مقدار کا تعین ناممکن تھا -
اب اسی طرح دھوم دھڑکا تو بہت ھے پر پریشانی کا بھی کوئی حساب نہیں۔

اپنی زندگی کو سادہ بنائیے

تعلق بحال کیجئے،
دوست بنایئے،
دعوت گھر پر کیجئے،
بے شک چائے پر بلائیں،
یا پھر آلو والے پراٹھوں کا ناشتہ ساتھ کیجئے،
دور ھونے والے سب چکر چھوڑ دیجئے،
واٹس ایپ, فیس بک زرا کم استعمال کیجئے ، آمنے سامنے بیٹھئیے،
دل کی بات سنیئے اور سنائیے، مسکرائیے۔
یقین کیجئے خوشی بہت سستی مل جاتی ہے -
بلکہ مفت،
اور پریشانی تو بہت مہنگی ملتی ہے
جس کیلئے ہم اتنی محنت کرتے ہیں،
اور پھر حاصل کرتے ھیں۔
خوشی ہرگز بھی چارٹر طیارے میں سفر کرنے میں نہیں ھے۔ کبھی نئے جوتے پہن کر بستر پر رھیئے پاؤں نیچے رکھے تو جوتا گندا ھوجائے گا۔
بس محسوس کرنے کی بات ہے ،

"چائے میں بسکٹ ڈبو کر تو دیکھئے-
ٹوٹ کر گر گیا تو کونسی قیامت آجائے گی "۔
ہمسائے کی بیل تو بجائیے -
ملئے مسکرائیے،
بس مسکراھٹ واپس آجائے گی، دوستوں سے ملئے دوستی کی باتیں کیجئے
ان کو دبانے کیلئے ڈگریاں، کامیابیاں، فیکٹریوں کا ذکر ھرگز مت کیجئے۔
پرانے وقت میں جایئے جب ایک ٹافی کے دوحصے کرکے کھاتے تھے
،فانٹا کی بوتل آدھی آدھی پی لیتے تھے.
ہم نے کیا کرنا چائے خانہ کا جہاں پچاس قسم کی چائے ہے۔
آؤ وہاں چلیں جہاں سب کیلئے ایک ہی چائے بنتی ہے ملائی مارکے، چینی ہلکی پتی تیز۔

*آؤ پھر سے خوش رہنا شروع کرتے ھیں.
خوش رہنے کے لئے بچوں جیسے بن کے تو دیکھے
شکریہ

28/03/2021

اج اتوار دی گل اے 😂🙏

ایک شادی پر جانا ھوا، ھال کے ایک کونے پر اک جان پہچان والے شخص پر نظر پڑی جو اکیلا بیٹھا تھا. اس کے ساتھ جاکر میں بھی بیٹھ گیا. بڑی گرمجوشی سے ملا وہ شخص-
اس کا گاڑیوں کے پرزے اور انجن آئل وغیرہ کا کام ہے-
حال احوال پوچھنے کے بعد وھی عام طور پر کی جانے والی باتیں شروع ھوگئیں یعنی مہنگائی اور کاروباری مندے کا رونا.
کہنے لگا آج کل کام کوئی نہیں چل رھا- ابھی پرسوں کی بات ھے، اک بندے نے گاڑی کا آئل تبدیل کروایا- پچیس (2500) سو بل بنا- اس نے پیسے دیئے اور چلا گیا... بعد میں پتا چلا کہ اک ہزار کا نوٹ جعلی دے گیا...
اوہ... میرے منہ سے نکلا، پھر--؟
پھر کیا.... بڑی گالیاں نکالی اسے- پتا نھیں کون تھا- پہلی بار آیا تھا- وہ تو شکر ھے میں نے *آئل"جعلی" ڈالا اس کی گاڑی میں* ورنہ میں تو مارا جاتا.

اس دوران “کھانا کھل گیا” کا نعرہ لگا اور پورے ھال میں گویا بھونچال آگیا. وہ مرغ قورمے کا ڈھیر پلیٹ میں لئے فاتحانہ انداز لیے واپس آیا- میں سمجھا شاید میرے لئے بھی کھانا لے آیا ہو گا-
کہنے لگا، *پہاجی, لے آو آپ بھی- بعد میں شادی ھال والے خراب کھانا دینا شروع کر دیتے ھیں.*
میں اٹھا اور بریانی لے کر واپس آگیا- اس سے پوچھا، اس جعلی ہزار کے نوٹ کا کیا کیا تم نے-
کرنا کیا ھے. لڑکے والوں نے شادی پر بلایا ھے. دلہے کے والد کو سلامی میں دے دیا ہے🤪
پھر میز کے نیچے چھپائی ہوئی چار بوتلوں سے ایک نکال کر دو گھونٹ میں خالی کی. چھ سیکنڈ دورانیے کا لمبا ڈکار لینے کے بعد دونوں ھاتھ جوڑے. عقیدت سے آنکھیں بند کی اور بولا....
*شکر الحمدللہ۔*

Address

Lahore

Telephone

+923009121109

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Natural cure & remedies posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Natural cure & remedies:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram