07/12/2025
میں کسی کی غلط بات برداشت نہیں کرتا۔ اچھے کے ساتھ اچھا ہوں لیکن جب کوئی غلط کرے تو مجھ سے بُرا کوئی نہیں۔ مجھ سے منافت نہیں ہوتی، دل کا صاف ہوں “جو بات ہو منہ پر بولتا ہوں”۔ کسی کو بُری لگے یا اچھی۔ بھلائی کا تو زمانہ ہی نہیں۔
آپ نے ایسے اکثر لوگ اپنے آس پاس دیکھے ہو نگے۔ جو “منہ کے ساتھ ہمیشہ کتا باندھ” کر رکھتے ہیں۔ اگر نہیں سمجھ پائے تو ان کی کچھ نشانیاں ہیں۔
۱- سوچے بغیر بولتے ہیں
۲-ہر بات میں ٹانگ اڑانا
۳-لہجے میں سختی اور تلخی
۴-جلدی غصے میں آ جانا
۵-دوسروں کی بات کاٹ دینا
۶- تنقید برائے تنقید کرنا
۷-گالم گلوچ میں جلدی اُتر آنا
۸-کسی کی عزت یا مقام کا لحاظ نہ کرنا
اور سب سے بڑی بات کہ یہ لوگ Emotionally بہت weak ہوتے ہیں اور برداشت نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔
آس پاس کے لوگ شروع میں انہیں سمجھاتے ہیں لیکن پھر خودی سمجھ جاتے ہیں کہ یہ نہیں سدھرنے والا۔ اور آہستہ آہستہ ان سے دور ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
اچھوں کے ساتھ تو سبھی اچھے رہ لیتے ہیں۔ اعلی ظرفی تو یہ ہے کہ اُس کے ساتھ اچھائی کی جائے جس نے آپ کے ساتھ بُرا کیا۔
اور اگر کہیں اختلاف ہو بھی جائے تو اول تو درگزر کر دیں۔ ہر جگہ صفائی پیش کرنا بھی ضروری نہیں ہوتا۔ اگر اختلاف کرنا بھی ہے تو تہذیب کے دائرے میں رہ کر۔
گالی دینے یا الزام لگانے سے پہلے 1000 بار سوچیں اور پھر بھی ضبط کر جائیں تو بہتر ہے۔ کیونکہ معلامات سلجھ جاتے ہیں لیکن تلخ باتوں سے رشتے کمزور ہو جاتے ہیں۔
اور آخری بات منافقت یہ نہیں کہ کڑوی باتیں کریں اور منہ پر کریں۔ منافقت یہ ہے کہ آپ اچھائی کا ڈوھنگ رچائیں اور ہر دوسرے شخص کا دل دکھائیں جو کوئی غلطی کرے۔ آپ میں اتنا تحمل ہونا چاہیے کی کسی کی برائی کا جواب اچھائی سے دے سکیں۔ بُرائی کو اچھائی کے ساتھ مٹانا ہی اصل فن ہے ورنہ گالی دینا اور غصہ کا جواب غصے سے دینا تو تو کوئی انپڑھ جاہل بھی کر لے گا۔ امتحان تو بُروں کے ساتھ ہی ہوتا ہے۔ اچھوں کے ساتھ تو سبھی اچھے رہ لیتے ہیں۔
ہمارے آئڈیل اور ہمارے اسلاف نے قاتلوں کو معاف کر دیا اور لہو لہان کرنے والوں کیلئے بددعا تک نہ کی اور ہم اتنا عدم برداشت کا شکار ہیں کہ کسی سے نظریاتی اختلاف پر گالم گلوچ اور مارنے دھارنے پر اتر آتے ہیں۔
ڈاکٹر عبدالمنان