23/11/2025
آٹزم کے ساتھ بچوں کی پرورش: والدین کے لیے ایک جامع رہنمآٹزم کے ساتھ بچوں کی پرورش: والدین کے لیے ایک جامع رہنما
آج کے دور میں آٹزم ایک ایسا موضوع ہے جس پر تیزی سے آگاہی اور تحقیق بڑھ رہی ہے۔ بہت سے والدین اپنے بچے کی غیر معمولی حرکات، رویوں یا سیکھنے کے انداز کو دیکھ کر پریشان ہو جاتے ہیں اور اکثر تشخیص کے بعد ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ آٹزم کوئی بیماری نہیں، نہ ہی کوئی کمی — یہ ایک نیورولوجیکل فرق ہے، یعنی دماغ کا دنیا کو سمجھنے اور معلومات پر ردِعمل دینے کا ایک منفرد طریقہ۔
یہ مضمون والدین کے لیے ایک مکمل اور پیشہ ورانہ رہنمائی فراہم کرتا ہے، جس کا مقصد آٹزم کو سمجھنا، قبول کرنا، اور بچے کی بہتر تربیت کے لیے ضروری حکمتِ عملیوں سے آگاہ کرنا ہے۔
1. آٹزم کیا ہے؟ ایک سائنسی اور سادہ وضاحت
آٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر (ASD) ایک نیوروڈیولپمنٹل کنڈیشن ہے جو بچے کی:
سماجی رابطوں
گفتگو اور زبان
رویوں اور دلچسپیوں
سینسری حساسیت
پر اثر انداز ہوتی ہے۔
یہ اثر ہر بچے میں مختلف ہوتا ہے، اسی لیے اسے اسپیکٹرم کہا جاتا ہے۔
کچھ بچے لفظوں میں کمزور ہوتے ہیں، کچھ رویوں میں مشکلات دکھاتے ہیں، اور کچھ غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل ہوتے ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ آٹزم کوئی ذہنی پسماندگی نہیں، اور نہ ہی یہ کسی غلط پرورش یا غلطی کی وجہ سے ہوتا ہے۔
2. والدین کے جذبات: تشخیص کے بعد ذہنی کیفیت
تشخیص سننا والدین کے لیے اکثر مشکل ہوتا ہے۔ خوف، انکار، تشویش، غصہ، اور غم — یہ سب عام احساسات ہیں۔
لیکن اس سفر کا سب سے اہم قدم یہ سمجھنا ہے کہ:
آپ کا بچہ وہی ہے، وہ نہیں بدلا۔
صرف آپ کو اب یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ اسے دنیا میں بہتر طریقے سے کیسے ساتھ لے کر چلنا ہے۔
3. ہر آٹزم والا بچہ منفرد ہوتا ہے
ضروری نہیں کہ دو آٹزم والے بچے ایک جیسے ہوں۔
کچھ بچے:
کم بولتے ہیں
زیادہ متحرک (Hyperactive) ہوتے ہیں
ایک ہی چیز بار بار کرتے ہیں
مخصوص کھانوں، جگہوں یا آوازوں سے بچتے ہیں
گفتگو سمجھ لیتے ہیں مگر جواب دینے میں مشکل محسوس کرتے ہیں
غیر معمولی ذہانت کا مظاہرہ کرتے ہیں
والدین کے لیے سب سے بڑا قدم ہر بچے کو اس کی انفرادیت کے ساتھ قبول کرنا ہے، نہ کہ دوسروں سے تقابل کرنا۔
4. کمیونیکیشن: بچے کی اپنی زبان کو سمجھیں
آٹزم والے بچوں کی گفتگو ہمیشہ الفاظ میں نہیں ہوتی۔ وہ:
اشاروں
ہاتھ پکڑ کر
مخصوص آوازوں
چہروں کے تاثرات
یا رویوں
سے اپنی بات بیان کر سکتے ہیں۔
والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ غیر لفظی پیغام رسانی کو سمجھیں۔
مثلاً:
کان بند کرنا → شور سے تکلیف
زمین پر بیٹھ جانا → اوورلوڈ
ہاتھ ہلانا → خوشی یا خود کو پرسکون کرنے کی کوشش
جتنا والدین اس زبان کو سمجھیں گے، رابطہ اتنا مضبوط ہوگا۔
5. سینسری حساسیت کو سمجھنا کیوں ضروری ہے؟
بہت سے آٹزم والے بچے روشنی، آواز، خوشبو، ٹچ یا حرکت کو عام بچوں سے زیادہ شدت سے محسوس کرتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ بعض بچے:
اونچی آواز سے گھبرا جاتے ہیں
کپڑے پہننے میں مشکل محسوس کرتے ہیں
مجمع سے پریشان ہو جاتے ہیں
چھونے سے گھبرا جاتے ہیں
والدین ایسے بچوں کے لیے سینسری فرینڈلی ماحول بنائیں:
نرم روشنی
کم شور
پرسکون کمرہ
سینسری کھلونے
وزن دار کمبل (weighted blanket)
یہ سب بچے کے ذہنی بوجھ کو کم کرتے ہیں۔
6. رویّے (Behaviors) کو سمجھنا — سزا نہیں، حکمتِ عملی
آٹزم والے بچوں کے رویّے اکثر غلط سمجھ لیے جاتے ہیں۔
مثلاً:
چیخنا
رونا
دوڑ جانا
ایک ہی بات بار بار کہنا
یہ سب جذبہ نہیں بلکہ کمیونیکیشن ہوتا ہے۔
والدین کو چاہیے کہ وہ رویے کے پیچھے وجہ جانیں، جیسے:
بھوک
تھکن
شور
تبدیلی
جذبات پر قابو نہ پانا
سزا کسی بھی طرح مفید نہیں۔
مثبت تربیت (positive reinforcement) ہمیشہ زیادہ مؤثر ہوتی ہے۔
7. تعلیم اور سیکھنا — رفتار مختلف، صلاحیتیں زبردست
آٹزم والے بچے عام نصاب کو مختلف انداز سے سیکھتے ہیں۔
انہیں:
Visual aids
Short instructions
Hands-on activities
Repetition
کی ضرورت ہوتی ہے۔
متعدد بچے اپنی دلچسپیوں کے ذریعے بہت تیزی سے سیکھتے ہیں، جیسے:
نمبرز
میوزک
ٹیکنالوجی
ڈرائنگ
پزلز
والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ بچے کی طاقتوں (strengths) کو تلاش کریں۔
8. والدین کے لیے عملی مشورے
✔ روزمرّہ کا شیڈول بنائیں
روٹین بچوں کو تحفظ دیتا ہے۔
✔ تبدیلیاں آہستہ آہستہ کریں
اچانک تبدیلیوں سے بچہ پریشان ہوتا ہے۔
✔ بچے کو سوشل اسکلز سکھائیں
آہستہ آہستہ، آسان قدموں کے ساتھ۔
✔ اسکرین ٹائم محدود لیکن منظم کریں
صرف تعلیمی اور مثبت مواد۔
✔ بچے کو بار بار حوصلہ دیں
تعریف ان کے لیے ایک طاقت ہے۔
9. تھراپیز — کب اور کیوں ضروری ہوتی ہیں؟
ہر بچے کی ضرورت مختلف ہوتی ہے، مگر عام طور پر یہ تھراپیز مدد کرتی ہیں:
Speech Therapy
Occupational Therapy
Behavioral Therapy (ABA)
Special Education
Sensory Integration Therapy
تھراپی کا مقصد بچے کو "نارمل" بنانا نہیں، بلکہ زیادہ خود مختار اور پراعتماد بنانا ہے۔
10. والدین کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے
یہ سفر کبھی کبھار تھکا دینے والا ہوتا ہے۔
والدین کو چاہیے کہ:
خود کو وقت دیں
سپورٹ گروپس میں شامل ہوں
جذبات شیئر کریں
اپنی ذہنی صحت کا خیال رکھیں
ایک پُرسکون والدین ہی بہتر تربیت دے سکتا ہے۔
اختتامی پیغام
آٹزم ایک چیلنج نہیں — ایک منفرد اندازِ زندگی ہے۔
آپ کا بچہ خاص ہے، منفرد ہے، اور دنیا کو اپنے زاویے سے دیکھتا ہے۔
والدین کا سب سے اہم کردار اس فرق کو محبت، صبر اور قبولیت کے ساتھ اپنانا ہے۔
جب والدین خود کو مضبوط کرتے ہیں، تو بچہ بھی پھول کی طرح کھِلنے لگتا ہے۔
آج کے دور میں آٹزم ایک ایسا موضوع ہے جس پر تیزی سے آگاہی اور تحقیق بڑھ رہی ہے۔ بہت سے والدین اپنے بچے کی غیر معمولی حرکات، رویوں یا سیکھنے کے انداز کو دیکھ کر پریشان ہو جاتے ہیں اور اکثر تشخیص کے بعد ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ آٹزم کوئی بیماری نہیں، نہ ہی کوئی کمی — یہ ایک نیورولوجیکل فرق ہے، یعنی دماغ کا دنیا کو سمجھنے اور معلومات پر ردِعمل دینے کا ایک منفرد طریقہ۔
یہ مضمون والدین کے لیے ایک مکمل اور پیشہ ورانہ رہنمائی فراہم کرتا ہے، جس کا مقصد آٹزم کو سمجھنا، قبول کرنا، اور بچے کی بہتر تربیت کے لیے ضروری حکمتِ عملیوں سے آگاہ کرنا ہے۔
By Dr. Zafar Iqbal Mian
Mind Neuro Scientist
MD ,PhD
Gold 🥇 Medalist
CEO Chairman
Global Institute for Autism Special Needs Mind Behavioral Sciences Pakistan
www gias.infi