Pakistan Rehab Center Lahore

Pakistan Rehab Center Lahore Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Pakistan Rehab Center Lahore, Medical and health, 26-B main Boulevard road BOR society, Lahore.

منشیات اور ذہنی بیماریوں کا جدید، محفوظ اور مؤثر علاج
لاہور میں ریہیب، ڈیٹاکس، سائیکاٹری اور کونسلنگ کی سہولیات
🌿 رازداری کا مکمل خیال
🌼 خوشگوار اور معاون ماحول
👨‍⚕️ ماہر ٹیم کی زیر نگرانی علاج
📅 آج ہی اپنا مفت سیشن بُک کریں
📱 واٹس ایپ پر رابطہ کریں

نشہ ایک ایسی جنگ ہے جس میں داخل تو انسان خود ہوتا ہے، مگر اس کے زخم پورے گھر اور رشتے سہتے ہیں۔ یہ جنگ ایسی ہے کہ چاہے ج...
21/12/2025

نشہ ایک ایسی جنگ ہے جس میں داخل تو انسان خود ہوتا ہے، مگر اس کے زخم پورے گھر اور رشتے سہتے ہیں۔ یہ جنگ ایسی ہے کہ چاہے جیت بھی جائیں تو ویسے کے ویسے واپس نہیں آ سکتے، اور اگر ہار گئے تو کبھی لوٹ کر آنا ہی ممکن نہیں ہوتا۔ نشے کی عادت روح کو کھوکھلا کر دیتی ہے، جسم کو برباد کر دیتی ہے اور اعتماد کو ریزہ ریزہ کر دیتی ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جو وقتی سکون کا دھوکا دیتا ہے مگر حقیقت میں ہمیشہ اندھیروں کی طرف لے جاتا ہے۔ اصل بہادری یہ نہیں کہ آپ نشے کو جاری رکھیں، اصل بہادری یہ ہے کہ آپ اس جنگ کو ختم کرنے کا فیصلہ کریں، علاج کا راستہ اختیار کریں اور اپنی زندگی، اپنے رشتے اور اپنے خواب واپس جیت لیں۔
Contact us today for professional Support!
⦿ 𝐂𝐚𝐥𝐥/𝐖𝐡𝐚𝐭𝐬𝐚𝐩𝐩:
Peshawar: 03449703108
Lahore: 03127090747

اپنے پیاروں کی زندگی بچائیے۔ آج ہی رابطہ کیجیے!🌿 Pakistan Drugs Rehabilitation & Psychiatry Center📍 لاہور | پشاور | پبی📞...
16/12/2025

اپنے پیاروں کی زندگی بچائیے۔ آج ہی رابطہ کیجیے!
🌿 Pakistan Drugs Rehabilitation & Psychiatry Center
📍 لاہور | پشاور | پبی
📞 Lahore: +92 312 7090747
📞 Pabbi / Peshawar: 0344 9703108

15/12/2025

ورزش نہ صرف جسم کو صحت مند رکھتی ہے بلکہ ذہنی دباؤ کم کرنے میں بھی مدد دیتی ہے۔ باقاعدہ ورزش سے ذہن پرسکون رہتا ہے، نیند بہتر ہوتی ہے اور موڈ میں بہتری آتی ہے۔ روزانہ تھوڑی سی واک، اسٹریچنگ یا ہلکی پھلکی ایکسرسائز بھی اسٹریس کم کرنے میں مؤثر ثابت ہوتی ہے۔

کسی بھی نفسیاتی بیماری جن میں نشہ کا  استعمال بھی شامل ہے  کا  علاج کرنے کے لیئے ضروری  ہوتا ہے کہ مریض کو اس کی بیماری ...
12/12/2025

کسی بھی نفسیاتی بیماری جن میں نشہ کا استعمال بھی شامل ہے کا علاج کرنے کے لیئے ضروری ہوتا ہے کہ مریض کو اس کی بیماری کے بارے میں علم ہو اس کے نقصانات کا علم ہو۔ جسے ہم Insight کہتے ہیں تب ہی مریض اپنی بیماری سے ٹھیک ہونے کی طرف راغب ہو گا۔

کیوں کہ نشہ ایک ایسی بیماری ہے جس میں مریض کو Insight عموماً کم ہوتی ہے اور وہ علاج کے لیئے راضی ہوتا ہی نہیں ایسے میں معالجین اور فیملی کے لیئے ایک بڑا چیلنج بن جاتاہے اور دوسری طرف مریض کی ہر دن صورت حال بد تر ہوتی جاتی ہے۔

ایسے میں نہ صرف اس کی میڈیکل بلکہ مریض کی زاتی زندگی، اس کی شادی شدہ زندگی، اس کی نوکری، اس کے بچے، اس کے والدین، اس کے بہن بھائی یہاں تک کہ محلے دار تک متاثر ہوتے ہیں

اور آئس کے نشہ میں Delusional کیفیت ہونے کی وجہ سے وہ شک کرنے لگتا ہے اور سب کو اپنا دشمن سمجھنا شروع کر دیتا ہے یا اسے یہ بھی لگنے لگتا ہے کہ کوئی اسے بڑا نقصان پہنچا دے گا

ہر گزرتے دن کے ساتھ نشہ کا کیس مزید Complex ہوتا جاتا ہے اور کچھ حادثات بھی کر بیٹھتے ہیں یا پھر ان کے ہاتھوں کچھ ایسا ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے ان کو پولیس کیسسزکا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اگر مرض شادی شدہ ہے تو گھریلو ناچاکیاں بڑھ جاتی ہیں اور طلاق تک بات جا پہنچتی ہے

یعنی کہ ایک ہی انسان بیک وقت اپنی نوکری، اپنی گھریلو زندگی، اپنی معاشرتی زندگی اور اپنے زہنی اضطراب کے ساتھ لڑ رہا ہوتا ہے

ایسے میں اس کو صرف قید کر دینا مسائل کا حل نہیں ہوتا بلکہ اس کا Detox کے بعد مکمل Treatment پلان بنانا اور اس پر عمل کرنا بے حد ضروری ہوتا ہے

یہی وجہ ہے کہ ہم مریض کو اس کی فیملی کو فوکس رکھتے ہیں اور نفسیاتی طریقہ علاج یعنی کہ CBT کے زریعے مریض کی Distorted Thoughts کو بہتر بنانے میں مدد کرتے ہیں

کوشش کرتے ہیں کہ مریض کی سوچیں بہتر ہوں پھر ان سے منسلک اس کے جذبات جن میں نشہ آور اشیاء کے بارے میں بھی خیالات یا رائے ہوتی ہے سب پر کام کیا جاتا ہے اور بعد میں یہ سب مریض کے Behaviour میں Reflect ہوتا ہے

جس کا نتیجہ ایک صحت مند انسان ہوتا ہے۔

اس لیئے ہم مریض کو ہر Step پر Educateکرتے ہیں کیوں کہ Educate کرنے اور اس پر عمل کرنے کے بعد چیز Unlearn کرنا مشکل ہوتا ہے۔

اس طرح مریض زندگی کے تمام تر مسائل کو حل کرنے کے قابل ہو جاتا ہے اور روزمرہ زندگی کے کاموم میں مشغول ہو جاتا ہے۔

اب تک ہم نے سینکڑوں مریضوں کا علاج کیا اور یہی سارا عمل ان کے ساتھ کیا۔ ہم سے علاج کروانے کے لیئےابھی رابطہ کریں۔

08/12/2025
04/12/2025

اپنے مسائل دوسروں سے شیئر کرنا ایک قدرتی اور صحت مند عمل ہو سکتا ہے، لیکن یہ ہمیشہ اس بات پر منحصر ہے کہ آپ کس سے بات کر رہے ہیں۔ عام طور پر جب انسان اپنا دل کسی بھروسے مند شخص کے سامنے کھولتا ہے تو اس سے اس کے ذہنی دباؤ میں کمی آتی ہے، اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ اکیلا نہیں ہے اور کوئی اس کی بات سننے کے لیے موجود ہے۔ مسائل بیان کرنے سے انسان اپنے جذبات کو بہتر سمجھ پاتا ہے، غلط فیصلوں سے بچ سکتا ہے اور کبھی کبھی وہ حل بھی سامنے آ جاتا ہے جو شاید خود سے سوچنے پر نظر نہ آتا۔ لیکن اس کے ساتھ یہ احتیاط بھی ضروری ہے کہ اپنی بات صرف ایسے شخص سے شیئر کریں جو راز کو راز رکھ سکے، آپ کا بھروسہ نہ توڑے اور آپ کی کمزوریوں کا غلط فائدہ نہ اٹھائے۔ غلط انسان سے بات شیئر کرنا فائدے کے بجائے نقصان کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ اس لیے مسائل بتانا برا نہیں، لیکن یہ سمجھداری کے ساتھ، صحیح انسان کو منتخب کر کے کرنا چاہیے۔

منشیات استعمال کرنے والے والدین کے بچے: وہ کیسے متاثر ہوتے ہیں؟بہت سے الکوحل یا منشیات استعمال کرنے والے لوگ سمجھتے ہیں ...
03/12/2025

منشیات استعمال کرنے والے والدین کے بچے: وہ کیسے متاثر ہوتے ہیں؟

بہت سے الکوحل یا منشیات استعمال کرنے والے لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کی شراب نوشی یا منشیات کا مسئلہ کسی اور کو متاثر نہیں کرتا۔ وہ سوچتے ہیں کہ وہ صرف خود کو نقصان پہنچا رہے ہیں، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ وہ نہ صرف اپنے آپ کو بلکہ اپنے آس پاس کے کئی لوگوں کو نقصان پہنچا رہے ہوتے ہیں — اور اگر ان کے بچے ہوں تو وہ سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

الکوحل یا منشیات استعمال کرنے والے والدین کے بہت سے بچے، اپنی ماں یا باپ کے استعمال کے اثرات کو جوانی تک محسوس کرتے رہتے ہیں۔ یہاں وہ طریقے بیان کیے گئے ہیں جن سے ایسے بچے متاثر ہوتے ہیں:

وہ اکثر یہ نہیں سمجھ پاتے کہ "عام" کیا ہوتا ہے۔ جب بچے کے والدین میں سے کوئی منشیات یا شراب کا عادی ہو، تو وہ عام گھرانوں کی طرح صحت مند تعلقات اور رویّے نہیں دیکھ پاتے۔

گھر میں تعلقات اکثر تناؤ کا شکار ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں بچہ صحت مند تعلقات قائم کرنا نہیں سیکھ پاتا، اور نہ ہی وہ اس بات کو سمجھ پاتا ہے کہ دوسروں کے ساتھ ’’عام‘‘ طریقے سے کیسے پیش آنا ہے۔

وہ اکثر خود کو دوسروں سے مختلف محسوس کرتے ہیں۔ اس سوچ کی وجہ سے وہ اداس اور تنہا بھی ہو سکتے ہیں، کیونکہ وہ صحت مند تعلقات بنانے میں مشکل محسوس کرتے ہیں۔

وہ اکثر اپنے والدین کو اپنے رویّوں یا جذبات کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ یہ عادت بعد کی زندگی کے تعلقات میں بھی برقرار رہ سکتی ہے۔

وہ عام طور پر بہت سنجیدہ ہوتے ہیں۔ اگر وہ کبھی خوشگوار یا ہلکے پھلکے انداز میں پیش آئیں، تو انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہو سکتا ہے، جس کی وجہ سے وہ لطف اندوز ہونا نہیں سیکھ پاتے۔

کئی بار انہیں ’’مذاق‘‘ یا خوشی کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ کیونکہ جب بھی کوئی اچھا وقت آنے والا ہوتا، ان کے والدین کی وجہ سے وہ لمحہ خراب ہو جاتا تھا۔

انہیں جھگڑے یا اختلاف سے خوف محسوس ہوتا ہے۔ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ کہیں دوسرا شخص غصے میں آکر جسمانی یا جذباتی طور پر نقصان نہ پہنچائے، اس لیے وہ ہر قیمت پر ٹکراؤ سے بچتے ہیں۔

وہ دوسروں سے منظوری لینے کی کوشش میں رہتے ہیں۔ چاہے وہ عمل صحت مند ہو یا نہ ہو، انہیں ہر طرف سے تعریف اور قبولیت کی تلاش رہتی ہے۔

وہ دوسروں کو خوش کرنے کے لیے حد سے زیادہ کوشش کرتے ہیں۔ وہ کسی کو ناراض نہیں دیکھ سکتے، کیونکہ اس سے ان کے پرانے زخم تازہ ہو سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے وہ اکثر حد سے زیادہ پرفیکشنیسٹ بھی بن جاتے ہیں تاکہ کوئی ان سے مایوس نہ ہو۔

انہیں رومانی یا ازدواجی تعلقات میں مشکل ہوتی ہے۔ جب بچپن میں والدین پر بھروسہ یا اعتماد نہ ملے تو بڑے ہو کر کسی شریکِ حیات پر اعتماد کرنا آسان نہیں ہوتا۔

جھوٹ اور دھوکے کے ماحول میں پرورش پانے کی وجہ سے انہیں پتا نہیں چلتا کہ کس پر بھروسہ کیا جائے۔ بعض اوقات عدم اعتماد اتنا شدید ہو جاتا ہے کہ وہ کسی بھی تعلق میں خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتے۔

پنی اور اپنے پیاروں کی زندگی بچائیے۔ آج ہی رابطہ کیجیے!🌿 Pakistan Drugs Rehabilitation & Psychiatry Center📍 لاہور | پشاو...
29/11/2025

پنی اور اپنے پیاروں کی زندگی بچائیے۔ آج ہی رابطہ کیجیے!
🌿 Pakistan Drugs Rehabilitation & Psychiatry Center
📍 لاہور | پشاور | پبی
📞 Lahore: +92 312 7090747
📞 Pabbi / Peshawar: 0344 9703108

پاکستان میں نوجوانوں کی ذہنی صحت کے مسائلپاکستان بھر کے نوجوانوں نے کہا کہ وہ بڑھتی ہوئی بے چینی (anxiety)، تنہائی (lone...
28/11/2025

پاکستان میں نوجوانوں کی ذہنی صحت کے مسائل

پاکستان بھر کے نوجوانوں نے کہا کہ وہ بڑھتی ہوئی بے چینی (anxiety)، تنہائی (loneliness)، بدنامی/بدگمانی (stigma) اور معاونتی نظام (support systems) کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ انکشافات پاکستان مینٹل ہیلتھ کولیشن (PMHC) کے چوتھے سالانہ جنرل ایونٹ میں ہوئے، جو کراچی میں منعقد ہوا اور جس کا مقصد نوجوانوں کی ذہنی صحت کی حقیقتوں اور ان کی حمایت کے لیے درکار فوری اصلاحات کا جائزہ لینا تھا۔

اس اجلاس میں ماہرین، محققین، سول سوسائٹی گروپس اور یوتھ فیسیلیٹیٹرز نے شرکت کی۔ اس کا مرکزی نقطہ ان دباؤ پر تھا جن کا سامنا اس نسل کو ہے جو پاکستان کی آبادی کا تقریباً 65 فیصد ہے۔ شیئرنگ سرکلز کے ذریعے، نوجوان شرکاء نے مدد تک رسائی میں روزمرہ کی رکاوٹوں کی وضاحت کی، جن میں فیصلے کا خوف (fear of judgment)، صنفی تعصب (gender bias)، جذباتی پریشانی کے گرد خاموشی، اور محفوظ جگہوں (safe spaces) کی کمی شامل ہیں۔

بصیرت سے یہ بات سامنے آئی کہ نسلوں کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ، کووِڈ کے بعد تنہائی میں اضافہ، اور مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کی صورتحال ہے۔ بہت سے نوجوانوں کو گھر اور تعلیمی ماحول میں شدید دباؤ کا سامنا ہے، جسے "پریشر ککر کا ماحول" قرار دیا گیا۔

ایک بڑی تشویش اسکولوں اور کالجوں میں ذہنی صحت کے مشیروں (mental-health counsellors) کی عدم موجودگی تھی۔ شرکاء نے کہا کہ بدنامی (stigma) ایک بنیادی رکاوٹ بنی ہوئی ہے اور خودکشی کی روک تھام کی خدمات (su***de prevention services) کے بارے میں لوگ کم جانتے ہیں یا ان تک رسائی مشکل ہے۔

ایک اور بار بار سامنے آنے والا موضوع پالیسی سازی میں نوجوانوں کو شامل نہ کرنا تھا۔ صنفی تعصبات، دفتری رکاوٹیں (bureaucratic barriers) اور منظم یوتھ پلیٹ فارمز کی عدم موجودگی کو بارہا ان وجوہات کے طور پر بیان کیا گیا ہے کہ کیوں نوجوان پاکستانی خود کو ان سنا (unheard) محسوس کرتے ہیں۔

Address

26-B Main Boulevard Road BOR Society
Lahore
54000

Telephone

+923127090747

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pakistan Rehab Center Lahore posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Pakistan Rehab Center Lahore:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram