10/02/2026
مسلسل شکایت کرنا صرف ایک عادت نہیں بلکہ دماغی سطح پر ایک تربیت (Brain Training) بن جاتا ہے۔
جب انسان بار بار شکایت کرتا ہے تو دماغ کے وہ حصے بار بار متحرک ہوتے ہیں جو خطرے، خوف اور تناؤ (Threat Detection) سے متعلق ہیں، خاص طور پر امیگڈالا (Amygdala) اور اسٹریس نیٹ ورک۔ ہر شکایت دماغ کو یہ پیغام دیتی ہے کہ کچھ غلط ہے، خطرہ موجود ہے۔
یہ عمل بنیادی طور پر کیسے ہوتا ہے؟
1. امیگڈالا کا بار بار فعال ہونا
امیگڈالا دماغ کا الارم سسٹم ہے۔ جب شکایت کی جاتی ہے تو یہ حصہ متحرک ہو کر اسٹریس ہارمونز جیسے کارٹیسول (Cortisol) خارج کرواتا ہے۔ بار بار شکایت سے امیگڈالا حد سے زیادہ حساس ہو جاتا ہے، حتیٰ کہ معمولی مسائل کو بھی خطرہ سمجھنے لگتا ہے۔
2. پری فرنٹل کارٹیکس کمزور ہونا
بار بار منفی باتوں پر توجہ دینے سے پری فرنٹل کارٹیکس (Prefrontal Cortex) — جو منطق، فیصلے اور جذباتی کنٹرول کا مرکز ہے — دب جاتا ہے۔ نتیجتاً انسان مسئلے کو حل کرنے کے بجائے اسی پر اٹکا رہتا ہے۔
3. نیوروپلاسٹیسٹی (Neuroplasticity)
دماغ کا اصول ہے:
“جو نیورل راستہ زیادہ استعمال ہوگا وہ اتنا ہی مضبوط ہوگا”
مسلسل شکایت کرنے سے منفی سوچ کے نیورل سرکٹس مضبوط ہو جاتے ہیں، جبکہ مثبت، متوازن سوچ کے راستے کمزور پڑنے لگتے ہیں۔
4. دماغ کا نیگیٹو ڈیفالٹ موڈ
وقت کے ساتھ دماغ سیکھ لیتا ہے کہ ہر صورتحال کو منفی زاویے سے دیکھنا ہے، کیونکہ یہی راستے سب سے زیادہ استعمال ہو چکے ہوتے ہیں۔ یوں دماغ خود بخود منفی تشریح (Negative Interpretation Bias) پر چلا جاتا ہے۔
5. بیس لائن اسٹریس کا بڑھ جانا
جب دماغ مسلسل الرٹ موڈ میں رہے تو جسم کا اعصابی نظام کبھی مکمل طور پر ریلیکس نہیں ہو پاتا۔ نتیجتاً:
مستقل بے چینی
جذباتی عدم استحکام
جلد غصہ
تھکن اور مایوسی
سائنسی بنیاد
یہ میکانزم Affective Neuroscience کی تحقیق سے ثابت ہے اور Stanford University School of Medicine سمیت کئی تحقیقی اداروں نے وضاحت کی ہے کہ بار بار منفی جذباتی اظہار دماغی نیٹ ورکس کو اسٹریس کی طرف کنڈیشن کر دیتا ہے۔
خلاصہ
مسلسل شکایت کرنے سے:
دماغ خطرہ ڈھونڈنے کا عادی ہو جاتا ہے
منفی سوچ مضبوط ہوتی جاتی ہے
جذباتی ردعمل بے قابو ہو جاتا ہے
یعنی انسان خود نادانستہ طور پر اپنے دماغ کو تناؤ اور منفی سوچ پر ٹرین کر رہا ہوتا ہے۔
اسی لیے نفسیاتی علاج میں صرف مسائل پر بات نہیں بلکہ سوچ کے انداز کی تربیت کو بنیادی حیثیت دی جاتی ہے۔