21/01/2026
ایک عورت، ایک جملہ اور 20 کروڑ زندگیاں
ان کے پاس نہ پی ایچ ڈی کی ڈگری تھی، نہ کوئی بین الاقوامی تجربہ اور نہ ہی کوئی عالمی پہچان۔ لیکن انہوں نے محض 1,600 سال پرانی ایک کتاب کا ایک جملہ پڑھ کر 20 کروڑ انسانوں کی جان بچا لی۔
بات ہے چین کی، جہاں تو یو یو نامی ایک محقق کو ایک ناممکن مشن سونپا گیا: ایک ایسی بیماری کا علاج دریافت کرنا جو جنگ سے زیادہ سپاہیوں کو مار رہی تھی۔
ملیریا ناقابلِ شکست بن چکا تھا۔ دنیا بھر کے سائنسدانوں نے 240,000 مرکبات (compounds) کا تجربہ کیا تھا، مگر ہر کوشش ناکام رہی۔ ملیریا کا پیراسائٹ جدید ادویات کو مات دے چکا تھا۔
تو یو یو کی عمر اس وقت 39 سال تھی اور وہ ایک ایسے ملک میں کام کر رہی تھیں جو سیاسی خلفشار کا شکار تھا۔ ان کے پاس ڈاکٹریٹ نہیں تھی، انہوں نے کبھی بین الاقوامی سطح پر کچھ شائع نہیں کیا تھا، اور نہ ہی کبھی چین سے باہر قدم رکھا تھا۔ یہاں تک کہ ان کے شوہر بھی "دانشور" ہونے کے جرم میں جلاوطنی کاٹ رہے تھے۔
لیکن ان کے پاس ایک ایسا خیال تھا جس پر کسی اور نے غور نہیں کیا تھا۔ انہوں نے سوچا کہ اگر جدید سائنس کے پاس جوابات نہیں ہیں، تو شاید قدیم حکمت میں کوئی حل چھپا ہو۔
وہ پرانی لائبریریوں میں گم ہو گئیں اور صدیوں پرانے طبی نسخوں کا مطالعہ شروع کیا۔ انہوں نے پورے چین کا سفر کیا، قدیم معالجین کے انٹرویوز لیے اور صدیوں سے سینہ بہ سینہ چلے آنے والے علاج اپنی نوٹ بکس میں درج کیے۔
ان کی ٹیم نے 2,000 روایتی نسخوں کا جائزہ لیا اور 380 جڑی بوٹیوں کے عرق (extracts) تیار کیے۔ انہوں نے ایک ایک کر کے ان کا تجربہ متاثرہ چوہوں پر کیا۔ اکثر نسخے بے اثر رہے، لیکن چند میں امید کی کرن نظر آئی۔
ایک پودا 'قنگہاؤ' (qinghao) یعنی 'سویٹ ورم ووڈ' (Sweet wormwood) قدیم تحریروں میں بار بار نظر آ رہا تھا، جو ہزار سال سے بخار کے علاج کے لیے استعمال ہو رہا تھا۔ انہوں نے اس کا عرق نکالا اور ٹیسٹ کیا، لیکن نتائج غیر مستقل تھے۔ کبھی یہ کام کرتا، کبھی نہیں۔
کچھ تو ایسا تھا جو اس علاج کو دریافت ہونے سے پہلے ہی تباہ کر رہا تھا۔
تو یو یو دوبارہ قدیم مسودات کی طرف لوٹیں۔ انہوں نے ہر حوالے کو دوبارہ پڑھا اور وہ چیز تلاش کرنے کی کوشش کی جو ان سے چھوٹ رہی تھی۔ پھر انہیں 340 عیسوی کی ایک کتاب میں، جسے طبیب جی ہونگ نے لکھا تھا، یہ سطر ملی:
> "ایک مٹھی قنگہاؤ کو دو لیٹر پانی میں بھگو دیں، اس کا رس نچوڑیں اور پی لیں۔"
>
ٹھنڈا پانی۔ ابالنا نہیں تھا۔
تو یو یو کو فوراً اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ ان کی ٹیم لیبارٹری کے رائج طریقہ کار کے مطابق پودے کو ابال کر عرق نکال رہی تھی، لیکن حرارت اس خاص مالیکیول کو تباہ کر رہی تھی جو زندگیاں بچا سکتا تھا۔
انہوں نے پورا طریقہ کار بدل دیا اور حرارت کے بجائے ٹھنڈے محلول (cold solvents) استعمال کیے۔ 4 اکتوبر 1971 کو انہوں نے نئے عرق کا تجربہ کیا اور نتیجہ 100 فیصد رہا۔ تمام پیراسائٹس ختم ہو گئے۔
لیکن اس وقت چین میں کلینیکل ٹرائلز کی سہولیات نہیں تھیں۔ کوئی سیفٹی پروٹوکول نہیں تھا اور نہ ہی کوئی رضاکار۔ تب تو یو یو نے ایک ایسا فیصلہ کیا جو آج بھی حیران کر دیتا ہے۔
انہوں نے وہ دوا خود پر آزمائی۔
وہ کہتی ہیں، "اس ریسرچ گروپ کی سربراہ ہونے کے ناطے، یہ میری ذمہ داری تھی۔" وہ اور ان کے دو ساتھی اس عرق کو پینے والے پہلے انسان بنے۔ جب وہ محفوظ رہے، تو اسے ملیریا کے مریضوں پر آزمایا گیا اور تمام 21 مریض مکمل طور پر صحت یاب ہو گئے۔
1972 تک انہوں نے اس کے فعال جزو 'آرٹیمیسینن' (Artemisinin) کو الگ کر لیا تھا۔ یہ ملیریا کی تاریخ کی طاقتور ترین دوا ثابت ہوئی۔
لیکن دنیا کو اس کا علم ہونے میں 43 سال لگے۔ چین کی تنہائی کی وجہ سے یہ دریافت ایک راز رہی۔ 2001 میں جا کر عالمی ادارہ صحت (WHO) نے اسے تجویز کرنا شروع کیا۔
مگر اس دوا نے پہچان کا انتظار نہیں کیا۔ افریقہ میں جہاں ہر 60 سیکنڈ میں ایک بچہ ملیریا سے مر رہا تھا، وہاں اموات کی شرح میں 30 فیصد کمی آگئی۔ صرف افریقہ میں سالانہ ایک لاکھ سے زیادہ جانیں بچنے لگیں۔
2015 میں، 84 سال کی عمر میں، تو یو یو کو بالآخر طب کا نوبل انعام دیا گیا۔
وہ نوبل انعام پانے والی پہلی چینی خاتون بنیں۔ اپنی تقریر میں انہوں نے تمام کریڈٹ لینے کے بجائے اپنی ٹیم، قدیم اطباء اور اس پودے کا شکریہ ادا کیا جو 1,600 سال سے اپنا راز ظاہر کرنے کا منتظر تھا۔
انہوں نے ثابت کیا کہ حکمت کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی (Wisdom doesn't expire) اور یہ کہ ڈگریاں آپ کی قدر و قیمت کا تعین نہیں کرتیں۔ کبھی کبھی سب سے بڑی کامیابی وہاں ملتی ہے جہاں باقی سب دیکھنا چھوڑ دیتے ہیں۔
صرف ایک عورت، ایک جملہ، اور دو الفاظ: "ٹھنڈا پانی"۔ اور آج 20 کروڑ انسان زندہ ہیں۔بشکریہ.
ڈاکٹر آصف۔ ڈاکٹر حکیم شبیر۔