Tib-e-Jadeed

Tib-e-Jadeed Easy and usefull herbal treatment

گاجر کا مربّہ سردی کا موسم جایا ہی چاہتا ہے ۔ گاجر بے حد سستی مل رہی ہے مربہ ڈال لیجیے  تاکہ سال بھر کھاتے رہیں  دل کو ت...
01/02/2026

گاجر کا مربّہ
سردی کا موسم جایا ہی چاہتا ہے ۔ گاجر بے حد سستی مل رہی ہے مربہ ڈال لیجیے تاکہ سال بھر کھاتے رہیں دل کو تقویت دینے کے ساتھ ساتھ نظر کے لئے بھی بہترین ہے اور مثمنِ بدن بھی ہے فربہ لوگ احتیاط برتیں ۔

ترکیب ۔۔۔
اجزاء ۔۔ گاجر چھیل کر صاف کی ہوئی پانچ کلو
چینی پانچ کلو ۔۔۔ لیموں پانچ سے چھ عدد ۔ پندرہ بیس الائچی سبز کے دانے ۔۔۔
کھولتے ہوئے گرم پانی میں آ ٹھ سے دس منٹ تک گاجریں ابال کر نکال لیجئے اب ایک فورک کی مدد سے گاجروں کو گود لیجئے گودنے کا مطلب ہے فورک سے گاجر میں مسام ڈالنا ۔۔ ( کہیں گاجروں کو گود میں اٹھا لیں ) ایک بڑے پتیلے میں چینی ڈال دیجئے اور چھ کپ پانی ڈال کر ایک تار کا شیرہ تیار کر لیجئے ساتھ ہی سبز الائچی اور لیموں کاٹ کر شامل کر دیجئے لیموں کی وجہ سے چینی کا میل کٹ جائے گا اوپر آ نے والا میل کفگیر کی مدد سے ہٹا دیجئے اب گاجریں ڈال کر ایک گھنٹہ پکنے دیجئے چمچہ احتیاط سے چلائیں تاکہ گاجریں ٹوٹیں نہیں ۔ ایک گھنٹہ بعد چولہا بند کر دیجئے اور چوبیس گھنٹوں کے لیئے چھوڑ دیں ۔ اگلے دن پھر درمیانی آ نچ پر ایک گھنٹہ پکائیں اور چولہا بند کر دیں ۔ چوبیس گھنٹے یونہی رہنے دیں اور تیسرے دن دوبارہ پکائیں ۔۔۔۔ٹھنڈا ہونے پر صبح ناشتے میں استعمال کریں جیب اجازت دے تو من پسند خشک میوہ جات بھی شامل کر لیں کھانے سے پہلے شیرے سے نکال کر دھو لیں تاکہ زائدچینی اتر جائے یہ مربہ آپ سال بھر فریج کے بغیر رکھ کے استعمال کر سکتے ہیں ۔
نوٹ ۔۔۔ شیرے میں لیموں کا استعمال اس لئے کیا جاتا تاکہ شیرہ سموتھ رہے چینی جم نہ جائے اور چینی کی میل بھی کٹ جائے ۔
بشکریہ.
✍ زارا مظہر ۔

دل کے امراض   آج کے دور میں دل کے امراض جس تیزی سے بڑھ رہے ہیں وہ محض ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ ہمارے **طرزِ زندگی، رہن سہ...
31/01/2026

دل کے امراض

آج کے دور میں دل کے امراض جس تیزی سے بڑھ رہے ہیں وہ محض ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ ہمارے **طرزِ زندگی، رہن سہن اور روزمرہ عادات** کا واضح نتیجہ ہیں۔ دل انسانی جسم کا مرکزی پمپ ہے جو خون کے ذریعے آکسیجن اور غذائی اجزاء پورے بدن تک پہنچاتا ہے، مگر جب دل کی شریانوں (Coronary Arteries) میں چکنائی، کولیسٹرول اور سوزش کے باعث تنگی یا بندش پیدا ہو جائے تو **وین یا شریانوں کا بند ہونا** سامنے آتا ہے، جس کا نتیجہ ہارٹ اٹیک، سینے میں درد اور اچانک موت کی صورت میں بھی نکل سکتا ہے۔ اسی طرح دل کا کمزور ہو جانا یا **ہارٹ فیل ہونا** دراصل اس کیفیت کو کہتے ہیں جب دل اتنی طاقت سے خون پمپ نہیں کر پاتا کہ جسم کی ضروریات پوری کر سکے، یہ مسئلہ عموماً لمبے عرصے کے ہائی بلڈ پریشر، شوگر، موٹاپے، سگریٹ نوشی اور مسلسل ذہنی دباؤ کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔ دل کے **والوز کا خراب ہونا** بھی ایک سنگین مسئلہ ہے، جس میں دل کے دریچے صحیح طرح بند یا کھل نہیں پاتے، نتیجتاً خون کا بہاؤ متاثر ہوتا ہے، یہ خرابی کبھی پیدائشی ہوتی ہے مگر آج کے دور میں زیادہ تر انفیکشن، گٹھیا نما سوزش، نمکین اور غیر متوازن غذا اور علاج میں تاخیر کے باعث بڑھتی جا رہی ہے۔ ان تمام امراض میں ہمارے رہن سہن کا کردار انتہائی بنیادی ہے؛ فاسٹ فوڈ، بازاری چکنائی، میٹھے مشروبات، جسمانی محنت سے دوری، رات دیر تک جاگنا، نیند کی کمی، سگریٹ اور نسوار کا استعمال، اسکرین کے سامنے طویل وقت اور مسلسل ذہنی تناؤ دل کو خاموشی سے کمزور کرتا رہتا ہے۔ مزید یہ کہ غصہ، حسد، بے چینی اور جلد بازی جیسے نفسیاتی عوامل بھی دل کی دھڑکن، فشارِ خون اور شریانوں کی صحت پر گہرا اثر ڈالتے ہیں، گویا دل صرف گوشت کا لوتھڑا نہیں بلکہ ہماری عادات، سوچ اور طرزِ حیات کا آئینہ دار ہے۔ اگر ہم اپنی خوراک کو سادہ، متوازن اور قدرتی بنائیں، روزانہ کچھ نہ کچھ جسمانی حرکت اپنائیں، نیند پوری کریں، ذہنی سکون کو عبادت، ذکر اور مثبت طرزِ فکر سے مضبوط کریں اور تمباکو نوشی سے مکمل اجتناب کریں تو دل کے بہت سے امراض سے بچاؤ ممکن ہے، کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ دل کی اکثر بیماریاں اچانک نہیں آتیں بلکہ برسوں کی غلطیوں کا نتیجہ ہوتی ہیں، اور اصلاح بھی اسی وقت ممکن ہے جب ہم اپنے رہن سہن کو بدلنے کا سنجیدہ فیصلہ کریں۔
بشکریہ.حکیم زاھد۔

#دل



#شریانیں
#طرزِزندگی
#صحت




دل_کی_بیماریاں





#طرزِزندگی









*آنکھ: ساخت، رطوبات اور امراض **آنکھ انسانی جسم کا ایک نہایت نازک، پیچیدہ اور اعلیٰ حیاتیاتی عضو ہے جو بصارت کے عمل کو م...
30/01/2026

*آنکھ: ساخت، رطوبات اور امراض **

آنکھ انسانی جسم کا ایک نہایت نازک، پیچیدہ اور اعلیٰ حیاتیاتی عضو ہے جو بصارت کے عمل کو ممکن بناتا ہے اور روشنی کو محسوس کر کے دماغ تک بصری پیغام منتقل کرتا ہے، سائنسی اعتبار سے اس کی ساخت تین بنیادی طبقات پر مشتمل ہے جن میں بیرونی حفاظتی طبقہ (قرنیہ اور صلبیہ)، درمیانی عروقی طبقہ (عنبیہ، جسمِ مژگانی اور مشیمیہ) اور اندرونی عصبی طبقہ (شبکیہ) شامل ہیں، قرنیہ ایک شفاف اگلا پردہ ہے جو روشنی کو اندر داخل کر کے اس کے انکسار میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے، عنبیہ آنکھ کے رنگ اور پتلی کے پھیلاؤ و سکڑاؤ کے ذریعے روشنی کی مقدار کو منظم کرتی ہے، عدسہ ایک شفاف اور لچکدار ساخت ہے جو روشنی کو فوکس کر کے شبکیہ پر واضح تصویر بناتا ہے، شبکیہ میں موجود حساس خلیات (Rods اور Cones) روشنی کو برقی اعصابی سگنلز میں تبدیل کرتے ہیں جو بصری عصب کے ذریعے دماغ تک پہنچتے ہیں جہاں بصارت کا ادراک مکمل ہوتا ہے، آنکھ کے اندر موجود رطوبات میں زلالیہ رطوبت (Aqueous Humor) قرنیہ اور عدسے کو غذائیت فراہم کرتی، اندرونی دباؤ کو متوازن رکھتی اور شفافیت برقرار رکھتی ہے، جبکہ زجاجیہ رطوبت (Vitreous Humor) آنکھ کے پچھلے حصے کو بھر کر اس کی گولائی، شبکیہ کے استحکام اور بصری توازن کو قائم رکھتی ہے، اسی طرح آنسوؤں کی تہہ قرنیہ کو نم، صاف اور جراثیم سے محفوظ رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے، آنکھوں کی بیماریوں میں اضطراری نقائصِ بصارت (قریب و دور کی نظر)، آشوبِ چشم، خشک آنکھوں کا مرض، قرنیہ کے زخم، موتیا بند، کالا پانی، ذیابیطسی ریٹینوپیتھی اور عمر رسیدگی سے وابستہ شبکیہ کی بیماریاں شامل ہیں جن کے اسباب میں موروثی عوامل، متابولک بے اعتدالیاں، غذائی قلت، آکسیڈیٹو اسٹریس اور غیر متوازن طرزِ زندگی نمایاں حیثیت رکھتے ہیں، تحقیقی شواہد اس حقیقت کی تائید کرتے ہیں کہ آنکھوں کی صحت محض مقامی عضو تک محدود نہیں بلکہ اعصابی نظام، جگر کے افعال، خون کی کیفیت اور مجموعی مدافعتی توازن سے گہرا تعلق رکھتی ہے، اسی لیے جدید طب اور روایتی حکمت دونوں اس امر پر متفق ہیں کہ آنکھوں کے امراض کی مؤثر پیشگیری اور علاج کے لیے متوازن غذا، مناسب نیند، اسکرین کے استعمال میں اعتدال اور پورے جسمانی نظام کی اصلاح ناگزیر ہے، کیونکہ آنکھ محض دیکھنے کا آلہ نہیں بلکہ انسانی صحت کا ایک حساس آئینہ ہے جو اندرونی کیفیت کی خاموش مگر واضح عکاسی کرتا ہے۔
بشکریہ.
حکیم محمدزاہد

جگرول ٹیباکسیر جگر دواءالسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہکیسے ہیں آپ سب دوست و احباب امید ہے کہ آپ سب دوست و احباب خیریت س...
29/01/2026

جگرول ٹیب
اکسیر جگر دواء
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیسے ہیں آپ سب دوست و احباب امید ہے کہ آپ سب دوست و احباب خیریت سے ہوں گے دعا ہے اللہ پاک آپ سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے آمین
انسانی جسم میں معدہ کے بعد جگر کی بڑی اہمیت ہے جب جگر اپنا کام صیح طریقے سے انجام دینا چھوڑ دیتا ہے تو سب سے پہلے منہ کا ذائقہ خراب ہونا شروع ہو جاتا ہے بھوک کم لگتی ہے یہاں تک کہ کھانے کو دل ہی نہیں کرتا جسم کی رنگت خراب ہونا شروع ہو جاتی ہے یورن کا رنگ تبدیل ہو جاتا ہے اور یورن میں جلن بھی ہونا شروع ہو جاتی ہے جگر کے مقام پر اکثر کھچاؤ یا درد بھی ہوتا ہے اور اکثر تو جسم پر سوجن آنا شروع ہو جاتی ہے ان تمام علامات کو دیکھیں تو یہ سب خرابی جگر کی ہیں ان کے اسباب پر بات کریں تو یہ سب ہماری ناقص غذاؤں تلی ہوئی اشیاء بادئ اشیاء جیسے چاول اچار پکوڑے سموسے فاسٹ فوڈ برگر شوارمے مصالحہ دار اشیاء کا بکثرت استعمال اور صحت کے معیار پر پورا نہ اترنے والے ناقص اور 2 نمبر گھی
اس کے علاج پر بات کریں تو آج آپ کو ایک ایسا نسخہ دیا جا رہا ہے جو نہ صرف جگر کو از سر نو مکمل طور پر ٹھیک کر دیتا ہے بلکہ جگری بخار ملیریا بخار سے ہونے والی کمزوری اور اگر تلی بڑھ گئی ہو تو اس کو بھی ٹھیک کرتا ہے خون کی کمی میں مفید ہے جگر کی سوجن کو دور کرتا ہے جگر کی خرابی سے جسم پر ہونے والی سوجن کو ختم کرتا ہے جگر کو ٹھیک کر کے خوراک کو جزو بدن بناتا ہے پیلا پن یرقان میں بھی مفید ہے قبض کشاء دوا ہے لہذا جگر و آنتوں میں سدوں بن جاہیں تو ان کو بھی ٹھیک کرتا ہے گرمی معدہ و جگر میں بھی مفید ہے پیشاب آور ہے مثانہ کی گرمی کو دور کرتا ہے
سب سے پہلے آتے ہیں نسخے کی طرف
اجزاء نسخہ ۔ قلمی شورہ زمینی ۔100 گرام ۔ہیرا کیسیں۔50 گرام ۔ریوند خطائی ۔100 گرام ۔فلفل سیاہ ۔50 گرام ۔ زنجیبل ۔25 گرام ۔نوشادر ٹھیکری ۔100 گرام ۔کشتہ فولاد ۔25 گرام ۔فلفل دراز ۔25 گرام
تمام ادویات کو باریک پیس لیں اور دانہ مٹر کے برابر گولیاں بنا لیں
صبح شام ایک تا دو گولی ہمراہ سادہ پانی یا شربت جگرینا کے ساتھ استعمال کریں شربت جگرینا کی پوسٹ اسی گروپ میں شامل ہے سرچ فرما لیں
ایک ماہ کا کورس آپ کو حیرت انگیز رزلٹ دے گا ان شاءاللہ تعالیٰ
فوائد اوپر لکھ دیے ہیں بناہیں استعمال کریں.
دعا کیجیے کہ اللہ پاک مجھے آسانیاں تقسیم کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین.
بشکریہ.
حکیم خواجہ محمد نعیم

سردیوں کی صبح خالی پیٹ نہانا ایک عام عادت ہے، مگر یہی عادت دن بھر جسم کو خاموش نقصان پہنچا سکتی ہے۔اکثر لوگ سمجھتے ہیں ک...
29/01/2026

سردیوں کی صبح خالی پیٹ نہانا ایک عام عادت ہے، مگر یہی عادت دن بھر جسم کو خاموش نقصان پہنچا سکتی ہے۔

اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ ٹھنڈا یا نیم گرم پانی تازگی دے گا، لیکن اصل مسئلہ اندر سے شروع ہوتا ہے۔

رات بھر فاقہ رہنے کے بعد جسم کی توانائی کم ہوتی ہے اور خون کی روانی پہلے ہی سست پڑ چکی ہوتی ہے۔

ایسے میں اچانک نہانا جسم کے درجہ حرارت کو مزید گرا دیتا ہے، جس سے دل اور دماغ پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔

یہ مسئلہ فوراً نظر نہیں آتا، لیکن کچھ دیر بعد سر بھاری ہونا، چکر آنا اور کمزوری محسوس ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

اصل وجہ یہ ہوتی ہے کہ جسم کے پاس فوری حرارت اور توانائی نہیں ہوتی، جس سے توازن برقرار نہیں رہ پاتا۔

اس عادت کے مسلسل اثرات میں بلڈ پریشر کا اچانک کم ہونا، سردی کا دیر تک لگے رہنا اور دل کی دھڑکن کا بےترتیب ہونا شامل ہے۔

بہتر یہ ہے کہ نہانے سے پہلے ہلکی سی غذا لی جائے اور پانی ہمیشہ نیم گرم استعمال کیا جائے۔

یہ چھوٹی سی تبدیلی جسم کو محفوظ رکھتی ہے اور سردیوں میں دن بھر توانائی برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے۔

یہ بات دوسروں تک ضرور پہنچائیں اور اپنی روزمرہ عادات پر غور کریں۔
منقول۔

دماغ: کائناتِ صغریٰ کا سب سے پیچیدہ رازتحریر: حکیم زاہدانسانی جسم میں اگر کسی عضو کو *کائناتِ صغریٰ* کہا جائے تو وہ بلا ...
27/01/2026

دماغ: کائناتِ صغریٰ کا سب سے پیچیدہ راز

تحریر: حکیم زاہد

انسانی جسم میں اگر کسی عضو کو *کائناتِ صغریٰ* کہا جائے تو وہ بلا شبہ **دماغ** ہے۔ یہی وہ مرکز ہے جہاں خیال جنم لیتا ہے، فیصلہ پکتا ہے، یادداشت محفوظ ہوتی ہے اور شخصیت کی عمارت تعمیر ہوتی ہے۔ انسان کی عقل، شعور، اخلاق، خوف، محبت، غصہ اور عبادت—سب اسی ایک عضو کے مرہونِ منت ہیں۔
**دماغ کی ماہیت (Nature of Brain)**
دماغ محض گوشت کا لوتھڑا نہیں بلکہ **برقی، کیمیائی اور حیاتیاتی سگنلز** کا ایک زندہ سمندر ہے۔ اوسطاً انسانی دماغ کا وزن تقریباً **1300 سے 1400 گرام** ہوتا ہے، مگر یہی محدود وزن لامحدود سوچ پیدا کرتا ہے۔
یہ عضو جسم کے کل آکسیجن کا تقریباً **20 فیصد** استعمال کرتا ہے، جو اس کی شدید توانائی طلب فطرت کا ثبوت ہے۔

دماغ کی حیاتیاتی ساخت (Biology of Brain)**

دماغ بنیادی طور پر تین بڑے حصوں پر مشتمل ہے:
1. **سیریبرم (Cerebrum)**
یہ دماغ کا سب سے بڑا حصہ ہے اور سوچ، یادداشت، شعور، زبان، فیصلے اور ارادے کا مرکز ہے۔
یہی حصہ انسان کو جانور سے ممتاز کرتا ہے۔
2. **سیریبیلم (Cerebellum)**
یہ توازن، حرکات کی ہم آہنگی اور جسمانی کنٹرول کا ذمہ دار ہے۔
اس کی خرابی سے لڑکھڑاہٹ اور ہاتھ پاؤں کا بے قابو ہونا ظاہر ہوتا ہے۔
3. **برین اسٹیم (Brain Stem)**
یہ زندگی کا محافظ حصہ ہے۔ سانس، دل کی دھڑکن، بلڈ پریشر اور نیند—سب اسی کے کنٹرول میں ہیں دماغ کے اندر کیا ہوتا ہے؟**

دماغ کے اندر تقریباً **86 ارب نیورونز (Nerve Cells)** موجود ہوتے ہیں۔
ہر نیورون دوسرے نیورون سے **Synapse** کے ذریعے جڑا ہوتا ہے۔
یہ نیورونز **نیوروٹرانسمیٹرز** (جیسے Dopamine، Serotonin، Acetylcholine) کے ذریعے پیغام رسانی کرتے ہیں۔

- **ڈوپامین**: خوشی، تحریک اور انعام کا احساس
- **سیروٹونن**: سکون، نیند اور موڈ
- **ایسیٹائل کولین**: یادداشت اور سیکھنے کا عمل

دماغ کے گرد **Cerebrospinal Fluid (CSF)** ہوتا ہے جو اسے جھٹکوں سے بچاتا ہے۔
دماغ اور اعصاب کا باہمی رشتہ**
دماغ پورے اعصابی نظام کا بادشاہ ہے۔
ریڑھ کی ہڈی اور اعصاب اس کے قاصد ہیں جو ہر لمحہ جسم سے معلومات لا کر دماغ تک پہنچاتے اور دماغ کے احکامات جسم تک لے جاتے ہیں۔

دماغ کے اہم امراض**

1. **فالج (Stroke)**
دماغ کو خون کی فراہمی رک جائے تو خلیے مرنے لگتے ہیں۔
نتیجہ: بولنے، چلنے یا یادداشت کی خرابی۔

2. **الزائمر (Alzheimer’s Disease)**
یادداشت کا بتدریج زوال۔
یہ بیماری بڑھاپے میں شخصیت کو آہستہ آہستہ مٹا دیتی ہے۔
3. **پارکنسنز (Parkinson’s Disease)**
ڈوپامین کی کمی سے ہاتھوں کا کانپنا، حرکت میں سستی۔
4. **مرگی (Epilepsy)**
دماغی برقی سگنلز کا بگڑ جانا، جس سے دورے پڑتے ہیں۔
5. **ڈپریشن اور اینگزائٹی**
یہ کمزوری نہیں بلکہ **دماغی کیمیاء کی خرابی** ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اسے اب بھی کردار کی کمزوری سمجھا جاتا ہے۔

6. **برین ٹیومر**
دماغ کے خلیوں کی غیر معمولی افزائش، جو جان لیوا بھی ہو سکتی ہے۔
دماغ کی صحت: نظرانداز کیوں؟*
ہم دل کے لیے دوا کھاتے ہیں، جگر کے لیے پرہیز کرتے ہیں، مگر دماغ کو
- نیند نہیں دیتے
- سکون نہیں دیتے
- حد سے زیادہ اسکرین، اسٹریس اور نشہ دیتے ہیں
پھر شکایت کرتے ہیں کہ *یادداشت کمزور کیوں ہے؟ غصہ کیوں بڑھ رہا ہے؟*

دماغ کو مضبوط بنانے کے لیے
- معیاری نیند
- متوازن غذا
- ذکر، مطالعہ اور خاموشی
- اسٹریس سے نجات

یہ سب دوا سے زیادہ مؤثر ہیں۔:
**جس قوم کا دماغ بیمار ہو جائے، اس کے بازو سلامت رہ بھی جائیں تو وہ قوم معذور ہی رہتی ہے۔**بشکریہ.حکیم زاھد۔

ایک بہترین حکیمی نسخہ اعصابی دردیں پٹھوں کا کھینچاؤ، جوڑوں کادرد، یورک ایسڈ، کولیسٹرول،معدہ وجگرکےامراض، شوگر کی ذیادتی،...
26/01/2026

ایک بہترین حکیمی نسخہ اعصابی دردیں پٹھوں کا کھینچاؤ، جوڑوں کادرد، یورک ایسڈ، کولیسٹرول،
معدہ وجگرکےامراض، شوگر کی ذیادتی، بار بار پیشاب کا آنا، کمر درد، قبض دائمی، نزلہ زکام،
سانس کا پھولنا، دمہ دل کی کمزوری، لیکوری
ان سب کا کامیاب علاج


لونگ10گرام،
تخم پیاز10گرام،
تیزپات10گرام،
زیرہ سیاہ10گرام،
اجوائن دیسی10گرام
ترکیب تیاری:
تمام ادویہ کا سفوف بنالیں

#طریقہ استعمال:
ایک گرام سے دو گرام تک ایک پاؤپانی میں پکائیں.
جب ایک چائے کےکپ کے برابر رہ جائےتوچھان کرگرم گرم چائےکی طرح پیئں صبح وشام خالی پیٹ ہلکا سا کڑوا کسیلا ہو گا حسب ذائقہ چینی ملا سکتے ہیں.
فوائد:
اعصابی دردیں،❣️
پٹھوں کا کھینچاؤ،❣️
جوڑوں کادرد،❣️
یورک ایسڈ،
کولیسٹرول،❣️
معدہ وجگرکےامراض،❣️
شوگر کی ذیادتی،
بار بار پیشاب کا آنا،❣️
کمر درد،❣️
قبض دائمی،❣️
نزلہ زکام،❣️
سانس کا پھولنا،❣️
دمہ،
دل کی کمزوری،❣️
لیکوریا.❣️
بشکریہ.حکیم اعجاز خان

برفانی سردی، ایل پی جی گیس کا حملہ اور خوبانیAbdul Rehman Ghazi تحریر: ڈاکٹر عبدالرحمن غازیاپنے اوپر گزرنے والی ایک ڈراو...
25/01/2026

برفانی سردی، ایل پی جی گیس کا حملہ اور خوبانی
Abdul Rehman Ghazi تحریر: ڈاکٹر عبدالرحمن غازی

اپنے اوپر گزرنے والی ایک ڈراونی رات ایک نصیحت آموز واقعہ ۔
محترم داود صاحب اور سالک صاحب استاذ جامعہ علوم غواڑی، بلتستان کے اصرار پر یہ تحریر لکھ رہا ہوں تاکہ دوسرے لوگوں تک یہ آزمودہ نسخہ پہنچے۔

نومبر کے ماہ میں اس سال سکردو میں بہت سردی تھی۔ رات کا درجہ حرارت بہت گر جاتا تھا۔ میں نے سکردو اورگلگت کی سردی میں کبھی بھی اپنے کمرے میں کسی قسم کا ہیٹر یا انگیٹھی نہی لگائ۔ میری غواڑی سکردو موجودگی میں ایک مہمان آ گیا۔ میں اور میرے ملازم تو عادی تھے لیکن مہمان کی حالت پتلی ہوگئ۔ میں نے سوچا کمرہ کچھ گرم کر لیتے ہیں تاکہ اسکو تھوڑا سکون ملے۔ ہیٹر وغیرہ تو موجود نہی تھا لیکن ایل پی جی گیس کا چھوٹا سلندر اور اسکے اوپر لگا سٹوو موجود تھا جس پرکبھی کبھار چائے وغیرہ بنا لیتے تھے۔ میں نے ایک چھوٹی پتیلی میں پانی ڈال کر اس پر رکھا اور آگ لگا دی۔ مقصد صرف پانی گرم کرنا اور کمرے کو ہلکہ سا گرم کرنا مقصود تھا۔ پانی کے دیگر مقاصد کمرے میں نمی پیدا کرنا اور ان جلی گیس کو ٹریپ کرنا بھی تھا۔
ایک گھنٹہ بعد مہمان گہری نیند سوگیا۔ میں نے گیس سلنڈر بند کیا اور خود بھی سوگیا۔ ناجانے مہمان کب اٹھا اس نے گیس سلنڈر کے چوہلےکو پھر چلا دیا۔ اور سو گیا۔
صبح تین بجے کے قریب واش روم جانے کی غرض سے اٹھا۔ دماغ پرسکوں ہلکہ پھلکہ لیکن بیڈ سے اتر کر کھڑے ہوتے ہی گرگیا۔ کوئ سمجھ نہ آئ کیا ہوا۔ دوبارہ اٹھا واش روم کے دروازہ تک گیا پھر گرگیا۔ دماغ بلکل خالی اور ننیند کا غلبہ لیکن پیشاب بھی تیز آیا ہوا۔ دروازہ اور دیوار کو پکڑ کر اندر گیا۔ انڈین ٹائلٹ تھا اٹھ کر آزار بند باندھا جونہی سنک تک پہنچا پھر گرگیا۔ اب کی بار سر اتنی شدت سے پھٹنے لگا کہ ناقابل برداشت۔ تب جا کر احساس ہوا کہ کوئ گڑ بڑ ہوگئ ہے۔ رینگتے ہوئے کمرے میں داخل ہوا اور جلتا چوہلا بند کیا۔ اسی کھٹ پٹ میں ساتھ والے بیڈ پر پڑے ہوئے مہمان نے آواز دی کہ کیا ہوا۔ میں نے بولا فورن اٹھو چوہلا باہر نکالو، کھڑکیاں دروازے کھولو اور میں بھی دیوار کو پکڑ کر باہر نکل گیا۔
ہمارا کمرہ دریا کی طرف تھا باہر بہت زیادہ ٹھنڈ تھی۔ سر پر کمبل ڈالوں تو پٹھنے لگے اتاروں تو سردی سے جمنے لگے۔ باہر حال سر نیچے اور ٹانگیں اوپر ہوگیئں۔
مہمان پر نیند کا غلبہ رہا اسنے سوچا کہ سفر کی تھکاوٹ ہے وہ کمرے میں جا کر سوگیا۔ اسکا دماغ اتنا ماوف ہوگیا تھا کہ اس ساری کاروائ کو آنکھوں سے دیکھنے کے بعد بھی اسے کچھ پتہ نہ چلا کہ کیا ہوگیا۔
میں نے اپنے دو ملازم بلائے اور انسے کہا مہمان کو باہر نکالیں۔ جب اس کو باہر لایا گیا تو انتہائ بری حالت۔ اسکا سر بھی پھٹنے لگا تھا۔ غواڑی ایک چھوٹا قصبہ ہے۔ ہسپتال اور ڈاکٹرز کی رسائ ہر وقت دستیاب نہ ہے۔ بڑا ہسپتال دو گھنٹے کی مسافت پر سکردو شہر میں تھا۔ گاڑی تو موجود تھی لیکن چلانے والا میں خود تھا۔ انہی برے حالات میں ریسٹ ہاوس کے ساتھ والے کمرے میں سویا ہوا شگر کا ایک بندہ آوازوں کے شور سے بیدار ہوکر باہر نکلا۔ اسنے جب سارے ماحول کو دیکھا تو بولا ڈاکٹر صاحب خشک خوبانی کھاو خشک خوبانی۔ جب ہم پہاڑوں کی چوٹیوں پر جاتے ہیں تو کبھی کبھی آکسیجن کم ہونے سے سر نیچے اور ٹانگیں اوپر ہو جاتی ہیں۔ خوبانی کھانے سے ہم ٹھیک ہوجاتے ہیں۔
میرا ملازم خشک خوبانیاں لے آیا۔ بس پھر کیا تھا جادو ہوگیا۔ ایک پر نہی پورے دو بندوں پر ایک ہی وقت میں خالص تجربات۔ ایک ایک خوبانی کھاتے گئے اور زندگی میں واپس آتے گئے۔ حیرت انگیز نتائیج۔ آٹھ دس دانے کھانے کے بعد ہم دونوں کے پلاہٹ زادہ چہرے اور کان لال سرخ ہوگئے۔ ہم نے ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر ہنسنا شروع کردیا۔ باقی لوگوں نے ہماری ہنسی کو دیکھ کر سکون کا سانس لیا۔ اتنے میں آٹھ بج گئے۔ باہر دھوپ میں بیٹھے۔ بھر پور ناشتہ کیا۔ سارا دن اس طرح کام کیا کہ کبھی کچھ ہوا ہی نہ تھا۔
اگلے کئ روز تک مہمان سہما رہا اور بار بار تزکرہ کرے کہ آپ رات کو بیدار نہ ہوتے تو گیس اپنا کام کر گئ تھی۔ ہم نے سوئے رہنا تھا ہمیشہ کے لیئے۔ اور ہوتا بھی یہ ہی ہے۔ گیس دماغ کو ماوف کر دیتی ہے بندہ پڑا ہوا آنکھیں کھول بھی لے تو اس کو پتہ ہی نہی چلتا کہ کیا ہورہا ہے۔ جب تھوڑی آکسیجن ملے تو یہ شدید پھٹنا شروع ہوجاتا ہے۔
بلند وبالا پہاڑوں پر کثرت سے اگنے والی خوبانی میرے اللہ کا ان لوگوں کے لیئے حسین تحفہ ہے۔ یہاں پر آکسیجن کم ہو جاتی ہے جسے خوبانی کا ایک دانہ ہی درست کرنا شروع کردیتا ہے۔
یہ مشاہدہ میرے پاس ایک امانت تھی آپ تک پہچا دیا کہ شائد اس طریقہ سے اللہ کسی کی جان آپ کے ہاتھوں بچا لے۔

شکریہ۔ دعا گو اور طالب دعا
ڈاکٙر عبدالرحمان غازی۔

بیماری موجود ہے، مگر رپورٹس خاموش ہیں  اصل مسئلہ یہی ہےیہ ایک عجیب مگر تلخ حقیقت ہے کہ آج کا مریض کہتا ہے: “مجھے کچھ ٹھی...
24/01/2026

بیماری موجود ہے، مگر رپورٹس خاموش ہیں اصل مسئلہ یہی ہے
یہ ایک عجیب مگر تلخ حقیقت ہے کہ آج کا مریض کہتا ہے: “مجھے کچھ ٹھیک نہیں لگتا”، جبکہ رپورٹ کہتی ہے: “سب نارمل ہے”۔ مریض دن بدن کمزور ہو رہا ہے، تھکن بڑھ رہی ہے، نیند خراب ہے، بھوک ختم ہو رہی ہے، دل گھبرا رہا ہے، جسم درد میں ہے — مگر لیب رپورٹس میں بیماری کا کوئی نام نہیں۔
سوال یہ ہے: کیا مریض جھوٹ بول رہا ہے یا رپورٹس ادھورا سچ دکھا رہی ہیں؟
یہ حقیقت جھٹلائی نہیں جا سکتی کہ جدید تشخیص زیادہ تر آخری درجے کی بیماری پکڑتی ہے، ابتدائی بگاڑ نہیں۔ جب تک خون، ہارمون، شوگر یا کسی عضو کی رپورٹ حد سے باہر نہ جائے، مریض کو “صحت مند” کہہ دیا جاتا ہے، چاہے وہ اندر سے ٹوٹ چکا ہو۔ بیماری جب رپورٹ میں آتی ہے، تب نہیں بنتی — تب ظاہر ہوتی ہے۔
پچھلے دنوں کی بات ہے ایک مریض بیچارہ
پیٹ کے السر میں مبتلا تھا آنتوں میں ورم ہونے کی وجہ سے
بڑا پیشاب بھی بار بار آتا تھا اور چھوٹا پیشاب بھی بار بار آ رہا تھا لیکن شوگر بھی نہیں تھی
رپورٹس کروائیں لیکن نہ تو شوگر نہ کوئی اور مسئلہ بھی جوں کا توں
مطلب درد بھی نہیں جا رہا تھا میرے پڑوسی تھے اور میرے کلینک پر آتے رہتے تھے مجھے چیک کروایا تو میں نے نبض دیکھ کر ساری وضاحت کھول دی اور وہ بیچارہ حیران رہ گیا میری تشخیص کے مطابق اندر آنتوں میں السر تھا اور ساتھ دماغ کی بیرونی جھلی میں بھی انفیکشن تھا چونکہ موصوف نسوار بھی کھاتے تھے اور ساتھ چائے بھی پیتے تھے تو ایسے لوگوں میں یہ بیماری عام سی بات ہے جو کہ نبض سے واضح تھی خیر ایسے میری زندگی میں سینکڑوں واقعات موجود ہیں کہ بیماری کسی رپورٹ میں نہیں آتی لیکن علامات موجود رہتی ہیں اور آرام دوا کے باوجود بھی نہیں آتا
ایک اور سچ جس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا:
آج تقریباً ہر گھر میں، ہر تین افراد میں سے ایک فرد مستقل کسی نہ کسی مسئلے میں مبتلا ہے۔ کوئی معدے کا مریض ہے، کوئی اعصابی کمزوری کا، کوئی جوڑوں کا، کوئی ہارمونی بگاڑ کا، کوئی شوگر یا بلڈ پریشر کا — اور یہ سب عمر رسیدہ لوگ نہیں، نوجوان اور حتیٰ کہ بچے بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔
اب ذرا رک کر سوچنے کی بات ہے:
کیا پچاس، ساٹھ یا سو سال پہلے بھی لوگ اتنی ہی کثرت سے بیمار ہوتے تھے؟
کیا ہر گھر میں مستقل ادویات کے ڈبے موجود ہوتے تھے؟
کیا تیس سال کا انسان خود کو بوڑھا محسوس کرتا تھا؟
یہ سوال کسی تحقیق کے محتاج نہیں، ہر بزرگ سے پوچھ لیجیے۔ بیماریاں تھیں، مگر اتنی عام، اتنی مسلسل اور اتنی عمر سے پہلے نہیں تھیں۔ آج بیماری پھیل نہیں رہی، نارمل بنتی جا رہی ہے — اور یہی سب سے خطرناک بات ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم بیماری کو صرف اُس وقت بیماری مانتے ہیں جب وہ رپورٹ میں قید ہو جائے، جبکہ جسم کا بگاڑ اس سے بہت پہلے شروع ہو چکا ہوتا ہے۔ جسم پہلے اشارے دیتا ہے: کمزوری، بے چینی، سستی، بے خوابی، ہاضمے کی خرابی، یادداشت کی کمزوری — مگر ہم انہیں “چھوٹے مسائل” کہہ کر نظرانداز کر دیتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ آج کا انسان بیمار کم، بوجھل زیادہ ہے۔ بوجھ خوراک کا، ماحول کا، کیمیکل کا، جذباتی دباؤ کا — اور جب جسم اس بوجھ کو نکال نہیں پاتا تو بیماری کا آغاز ہوتا ہے، چاہے رپورٹ کچھ بھی کہے۔
یہ مضمون کسی خوف کے لیے نہیں، ایک سوال کے لیے ہے:
اگر واقعی ہم پہلے سے زیادہ بیمار نہیں ہو رہے، تو پھر ادویات بڑھ کیوں رہی ہیں؟ ہسپتال بھر کیوں رہے ہیں؟ نوجوان کیوں تھک رہے ہیں؟ اور رپورٹس “نارمل” ہونے کے باوجود انسان اندر سے کیوں ختم ہو رہا ہے؟
اصل بیماری شاید جسم میں نہیں، ہماری سوچ میں ہے — کہ ہم بیماری کو پہچاننے کے لیے کاغذ کے منتظر ہیں، جبکہ جسم چیخ چیخ کر بول رہا ہے۔
یہ سوال ہر باشعور انسان کو خود سے پوچھنا چاہیے، کیونکہ اس کا تعلق کسی نظریے سے نہیں، ہر گھر کی حقیقت سے ہے
مجھے کبھی کبھی یہ لگتا ہے کہ کہ یہ بیماریاں ہمارے اردگرد پھیلائی جا رہی ہیں ہم خود ان کے پھیلنے کے ذمہ دار ہیں
ہائی بریڈ سیڈز
کھادیں
اسپرے
کیمیکلز
ٹریفک
بیکری مصنوعات
جانوروں کے ٹیکے
ہمارے ندی نالے جو ہمارے پانی تھے وہ سو فیصد آلودہ ہو چکے ہیں
فیکٹریوں کا دھواں اور کیمیکلز
اس کے علاوہ بے شمار ایسی غیر فطری چیزیں جو ہمیں قدرت سے دور کر رہی ہیں اور یہ ایک منصوبہ بندی کے ذریعے کیا جا رہا ہے
ہماری 90 فیصد بیماریوں کی وجہ ہمارے ملک کی غیر ملکی کمپنیاں ہیں جو کیمیکلز کا زہر پھیلا رہے ہیں فطرت سے دور کر رہے ہیں میرے پاس ایسے متعدد کیسز آتے ہیں جو ان وجوہات سے لبریز ہوتے ہیں
اللہ پاک ہم سب کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے آمین ثم آمین
اور صحت مند زندگی عطاء فرمائے آمین ثم آمین

اور خالص قدرتی اچھی کوالٹی کی غذا اور ہوا اور پانی
اور باقی اجزاء اللہ پاک عطا فرمائے آمین ثم آمین
ورنہ عنقریب جس طرح اس دنیا پر روبوٹس بڑھ رہےہیں اور انسان بیمار ہو رہےہیں دنیا پر صرف روبوٹس ہی رہ سکیں گے انسان نہیں.
بشکریہ حکیم احسن چشتی۔

ایک عورت، ایک جملہ اور 20 کروڑ زندگیاںان کے پاس نہ پی ایچ ڈی کی ڈگری تھی، نہ کوئی بین الاقوامی تجربہ اور نہ ہی کوئی عالم...
21/01/2026

ایک عورت، ایک جملہ اور 20 کروڑ زندگیاں
ان کے پاس نہ پی ایچ ڈی کی ڈگری تھی، نہ کوئی بین الاقوامی تجربہ اور نہ ہی کوئی عالمی پہچان۔ لیکن انہوں نے محض 1,600 سال پرانی ایک کتاب کا ایک جملہ پڑھ کر 20 کروڑ انسانوں کی جان بچا لی۔
بات ہے چین کی، جہاں تو یو یو نامی ایک محقق کو ایک ناممکن مشن سونپا گیا: ایک ایسی بیماری کا علاج دریافت کرنا جو جنگ سے زیادہ سپاہیوں کو مار رہی تھی۔
ملیریا ناقابلِ شکست بن چکا تھا۔ دنیا بھر کے سائنسدانوں نے 240,000 مرکبات (compounds) کا تجربہ کیا تھا، مگر ہر کوشش ناکام رہی۔ ملیریا کا پیراسائٹ جدید ادویات کو مات دے چکا تھا۔
تو یو یو کی عمر اس وقت 39 سال تھی اور وہ ایک ایسے ملک میں کام کر رہی تھیں جو سیاسی خلفشار کا شکار تھا۔ ان کے پاس ڈاکٹریٹ نہیں تھی، انہوں نے کبھی بین الاقوامی سطح پر کچھ شائع نہیں کیا تھا، اور نہ ہی کبھی چین سے باہر قدم رکھا تھا۔ یہاں تک کہ ان کے شوہر بھی "دانشور" ہونے کے جرم میں جلاوطنی کاٹ رہے تھے۔
لیکن ان کے پاس ایک ایسا خیال تھا جس پر کسی اور نے غور نہیں کیا تھا۔ انہوں نے سوچا کہ اگر جدید سائنس کے پاس جوابات نہیں ہیں، تو شاید قدیم حکمت میں کوئی حل چھپا ہو۔
وہ پرانی لائبریریوں میں گم ہو گئیں اور صدیوں پرانے طبی نسخوں کا مطالعہ شروع کیا۔ انہوں نے پورے چین کا سفر کیا، قدیم معالجین کے انٹرویوز لیے اور صدیوں سے سینہ بہ سینہ چلے آنے والے علاج اپنی نوٹ بکس میں درج کیے۔
ان کی ٹیم نے 2,000 روایتی نسخوں کا جائزہ لیا اور 380 جڑی بوٹیوں کے عرق (extracts) تیار کیے۔ انہوں نے ایک ایک کر کے ان کا تجربہ متاثرہ چوہوں پر کیا۔ اکثر نسخے بے اثر رہے، لیکن چند میں امید کی کرن نظر آئی۔
ایک پودا 'قنگہاؤ' (qinghao) یعنی 'سویٹ ورم ووڈ' (Sweet wormwood) قدیم تحریروں میں بار بار نظر آ رہا تھا، جو ہزار سال سے بخار کے علاج کے لیے استعمال ہو رہا تھا۔ انہوں نے اس کا عرق نکالا اور ٹیسٹ کیا، لیکن نتائج غیر مستقل تھے۔ کبھی یہ کام کرتا، کبھی نہیں۔
کچھ تو ایسا تھا جو اس علاج کو دریافت ہونے سے پہلے ہی تباہ کر رہا تھا۔
تو یو یو دوبارہ قدیم مسودات کی طرف لوٹیں۔ انہوں نے ہر حوالے کو دوبارہ پڑھا اور وہ چیز تلاش کرنے کی کوشش کی جو ان سے چھوٹ رہی تھی۔ پھر انہیں 340 عیسوی کی ایک کتاب میں، جسے طبیب جی ہونگ نے لکھا تھا، یہ سطر ملی:
> "ایک مٹھی قنگہاؤ کو دو لیٹر پانی میں بھگو دیں، اس کا رس نچوڑیں اور پی لیں۔"
>
ٹھنڈا پانی۔ ابالنا نہیں تھا۔
تو یو یو کو فوراً اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ ان کی ٹیم لیبارٹری کے رائج طریقہ کار کے مطابق پودے کو ابال کر عرق نکال رہی تھی، لیکن حرارت اس خاص مالیکیول کو تباہ کر رہی تھی جو زندگیاں بچا سکتا تھا۔
انہوں نے پورا طریقہ کار بدل دیا اور حرارت کے بجائے ٹھنڈے محلول (cold solvents) استعمال کیے۔ 4 اکتوبر 1971 کو انہوں نے نئے عرق کا تجربہ کیا اور نتیجہ 100 فیصد رہا۔ تمام پیراسائٹس ختم ہو گئے۔
لیکن اس وقت چین میں کلینیکل ٹرائلز کی سہولیات نہیں تھیں۔ کوئی سیفٹی پروٹوکول نہیں تھا اور نہ ہی کوئی رضاکار۔ تب تو یو یو نے ایک ایسا فیصلہ کیا جو آج بھی حیران کر دیتا ہے۔
انہوں نے وہ دوا خود پر آزمائی۔
وہ کہتی ہیں، "اس ریسرچ گروپ کی سربراہ ہونے کے ناطے، یہ میری ذمہ داری تھی۔" وہ اور ان کے دو ساتھی اس عرق کو پینے والے پہلے انسان بنے۔ جب وہ محفوظ رہے، تو اسے ملیریا کے مریضوں پر آزمایا گیا اور تمام 21 مریض مکمل طور پر صحت یاب ہو گئے۔
1972 تک انہوں نے اس کے فعال جزو 'آرٹیمیسینن' (Artemisinin) کو الگ کر لیا تھا۔ یہ ملیریا کی تاریخ کی طاقتور ترین دوا ثابت ہوئی۔
لیکن دنیا کو اس کا علم ہونے میں 43 سال لگے۔ چین کی تنہائی کی وجہ سے یہ دریافت ایک راز رہی۔ 2001 میں جا کر عالمی ادارہ صحت (WHO) نے اسے تجویز کرنا شروع کیا۔
مگر اس دوا نے پہچان کا انتظار نہیں کیا۔ افریقہ میں جہاں ہر 60 سیکنڈ میں ایک بچہ ملیریا سے مر رہا تھا، وہاں اموات کی شرح میں 30 فیصد کمی آگئی۔ صرف افریقہ میں سالانہ ایک لاکھ سے زیادہ جانیں بچنے لگیں۔
2015 میں، 84 سال کی عمر میں، تو یو یو کو بالآخر طب کا نوبل انعام دیا گیا۔
وہ نوبل انعام پانے والی پہلی چینی خاتون بنیں۔ اپنی تقریر میں انہوں نے تمام کریڈٹ لینے کے بجائے اپنی ٹیم، قدیم اطباء اور اس پودے کا شکریہ ادا کیا جو 1,600 سال سے اپنا راز ظاہر کرنے کا منتظر تھا۔
انہوں نے ثابت کیا کہ حکمت کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی (Wisdom doesn't expire) اور یہ کہ ڈگریاں آپ کی قدر و قیمت کا تعین نہیں کرتیں۔ کبھی کبھی سب سے بڑی کامیابی وہاں ملتی ہے جہاں باقی سب دیکھنا چھوڑ دیتے ہیں۔
صرف ایک عورت، ایک جملہ، اور دو الفاظ: "ٹھنڈا پانی"۔ اور آج 20 کروڑ انسان زندہ ہیں۔بشکریہ.
ڈاکٹر آصف۔ ڈاکٹر حکیم شبیر۔

سلاجیت ( جادوئی طاقت کا خزانہ )عربی ۔حجر الموسی انگلش Shilajeetایک قسم کی کی سیاہ رطوبت ہے ۔جو پہاڑوں کی سطح سے ماہ مئی ...
14/01/2026

سلاجیت ( جادوئی طاقت کا خزانہ )
عربی ۔حجر الموسی
انگلش Shilajeet
ایک قسم کی کی سیاہ رطوبت ہے ۔جو پہاڑوں کی سطح سے ماہ مئی اور جون کی سخت گرمی میں تراوش پا کر منجمد ہو جاتی ہے ۔لالچی تاجر سلاجیت کی جگہ سڑا ہوا گڑ بھی دے دیتے ہیں ۔سلاجیت، جسے پہاڑوں کا فاتح اور کمزوری کو ختم کرنے والا بھی کہا جاتا ہے، ہمالیہ کے پہاڑی سلسلوں میں پایا جانے والا ایک قدرتی، تارکول جیسا مادہ ہے۔ سلاجیت ایک طویل مدت سے ایک ایسے قدرتی مادے کے طور پر مقبول ہے جوتوانائی کو بڑھاتا ہے اور صحت کے مختلف حالات کو بہتر بنانے میں ممکنہ طور پر مددگار ہے۔ ایک حالیہ مطالعہ کے مطابق، یہ پٹھوں کی طاقت کو برقرار رکھنے اور بافتوں کو جوڑنے میں مدد کرتا ہے۔
قوت مدافعت کو بڑھانے میں مددگار ہے ۔آج ہم سلاجیت کے مختلف صحت کے فوائد سے متعلق آگاہی حاصل کریں گے۔
رنگ ۔سیاہ
ذائقہ ۔پھیکا قدرے تلخ
مزاج ۔گرم خشک

مقام پیدائش ۔ افغانستان گلگت چترال ہمالیہ ، نیپال ۔زیادہ تر کھٹمنڈو سے ہندوستان اور پاکستان میں سیل ہوتی ہے ۔
گردہ اور مثانہ کو تقویت دیتا ہے ۔اس لئے سلسل البول میں تنہا یا دیگر ادویات کے ساتھ استعمال انتہائی فائدہ مند ہوتی ہے ۔اس میں ایک مومی مادہ ہوتا ہے جسے تیز آنچ پر رکھنے سے نقصان پہنچتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ آفتابی سلاجیت کو فوقیت دی جاتی ہے ۔
دائمی تھکاوٹ
تھکاوٹ ایک ایسا عارضہ ہے جس کا تعلق خلیات کی خرابی سے ہے۔ سلاجیت اس خرابی کو روکنے اور دائمی تھکاوٹ کے خلاف لڑنے میں مدد کرسکتی ہے۔اگر آپ بلاوجہ تھکاوٹ کا شکار رہتے ہیں تو دیر نہ کریں ۔ان سردیوں میں سلاجیت استعمال کر کے دیکھیں ۔انشاءاللہ اپ کو بہت فائدہ ہو گا ۔
یہ آنتوں کی سوزش اور آکسیڈیٹیو تناؤ جیسے مسائل سے بچا سکتی ہے۔ اس میں بینزوک ایسڈ ہوتا ہے جو کہ اینٹی بیکٹیریل ہے۔ یہ معدہ اور آنتوں کے انفیکشن اور پیٹ کے دیگر مسائل کو روکنے میں مدد کر سکتی ہے۔
یہ مردوں میں ٹیسٹوسٹیرون testosterone کی سطح بڑھانے کے لیے برسوں سے استعمال ہوتی رہی ہے۔ جو مرد سلاجیت کا استعمال کرتے ہیں ان میں سپرم کاؤنٹ اور سپرم کی حرکت پذیری زیادہ ہوتی ہے۔ یہ دونوں عوامل اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ سپرم کتنی اچھی طرح سے انڈے کی طرف بڑھتا ہے، جس کے نتیجے میں حاملہ ہونے کے امکانات کا تعین ہوتا ہے۔
تحقیق کے مطابق پینتالیس سے پچپن سال کی عمر کے مردوں کا مسلسل نوے دن تک سلاجیت استعمال کروائی گئی ۔ ایک مدت کے بعد ان میں ٹیسٹوسٹیرون کی مجموعی سطح میں نمایاں اضافہ ہوا تھا۔
مزید
خون کی کمی کو دور کرنے کے علاج میں موثر ہے ۔
دماغی دباؤ ، سٹریس اضطرابی کیفیات کو دور کرتی ہے ۔
بڑھاپے کو جلد آنے سے روکتی ہے ۔
جوڑوں کے درد ،نقرس ،یورک ایسڈ میں مفید ہے
پرانے نزلہ زکام کو ختم کرتی ہے ۔
بادی مزاج والوں کو انتہائی نافع ہے ۔
استعمال کا طریقہ ۔۔
ایک کالے چنے کے برابر سلاجیت دودھ میں حل کر کے استعمال بشکریہ.کریں ۔
حکیم مظفر علی زیدی

صرف ایک منٹ… اور جسم کو اندر سے پورسکون کرنے کا قدرتی طریقہاگرآپ کو کولھوں کا اکڑاؤ محسوس ہوتا ہے،کمر میں اکڑاؤ یا کمر ک...
12/01/2026

صرف ایک منٹ… اور جسم کو اندر سے پورسکون کرنے کا قدرتی طریقہ

اگر
آپ کو کولھوں کا اکڑاؤ محسوس ہوتا ہے،
کمر میں اکڑاؤ یا کمر کے نچلے حصے میں درد رہتا ہے،
اور چاہے جتنا بھی آرام کر لیں، جسم کو پُرسکون احساس نہیں ملتا—

تو صرف ایک سادہ سا پوز آزمائیں:
ہیپی بیبی پوز (Happy Baby Pose)

یہ پوز نہایت نرمی کے ساتھ:
• ریڑھ کی ہڈی کو قدرتی الائنمنٹ میں لاتا ہے
• کولھوں کو کھولتا ہے
• پیلوک فلور کو ریلیکس کرتا ہے
• اور اعصابی نظام کو یہ پیغام دیتا ہے کہ اب جسم کو پُرسکون ہونے دیں

زیادہ تر لوگ یہ بات نہیں جانتے کہ:
• کولھوں کا اکڑاؤ = کمر پر دباؤ
• کمر پر مسلسل دباؤ = اعصاب میں جلن
• مسلسل ٹینشن = جسم اور دماغ کا ہر وقت سٹریس میں رہنا

ہیپی بیبی پوز اس پورے سلسلے کو قدرتی طور پر توڑ دیتا ہے۔

صرف 30 سیکنڈ میں آپ یہ فرق محسوس کریں گے:
• کولھوں میں فوری نرمی
• کمر کا زمین میں دھیرے دھیرے ریلیکس ہونا
• ریڑھ کی ہڈی کا قدرتی طور پر ہلکا اور پورسکون محسوس ہونا
• اعصابی نظام کا سکون میں آ جانا
• پورے جسم میں ایک گہرا، آرام دہ “ری سیٹ” احساس

یہ وہ اسٹریچ ہے جس پر جسم خود ردِعمل دیتا ہے:
“ہاں… یہی سکون مجھے چاہیے تھا”

اسے روزانہ صبح یا رات کریں۔
چند دنوں میں آپ کی کمر اور جسم کی کیفیت واضح طور پر بہتر محسوس ہوگی۔

اس پوسٹ کو محفوظ کریں، شیئر کریں—
آپ کی ریڑھ کی ہڈی اس نرمی کو ضرور محسوس کریں ۔بشکریہ.
ڈاکٹر سلمان۔

Address

Sabzazar Lahore
Lahore

Telephone

+923234226763

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tib-e-Jadeed posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Tib-e-Jadeed:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram