Dr Abdul Mannan

Dr Abdul Mannan Writer | Teacher | Rehab Specialist
Health & Safety | Special Educationist
(1)

جھٹکے یا دورے (fits) دماغ میں ایک غیر معمولی برقی کرنٹ یا اسپارک کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ یہ کرنٹ دماغ کے مختلف حصوں میں...
31/01/2026

جھٹکے یا دورے (fits) دماغ میں ایک غیر معمولی برقی کرنٹ یا اسپارک کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ یہ کرنٹ دماغ کے مختلف حصوں میں اچانک خارج ہوتا ہے، جس سے پٹھے اچانک حرکت کرتے ہیں، ہوش متاثر ہوتا ہے اور بچے کے جسم پر جھٹکے ظاہر ہوتے ہیں۔ جھٹکے کسی بھی عمر میں اور کسی بھی جگہ ہو سکتے ہیں، گھر، پارک، ہسپتال یا بلڈنگ میں۔
سب سے پہلی اور اہم بات یہ ہے کہ پریشان یا گھبراہٹ میں نہ آئیں۔ والدین کا سکون بچے کے لیے بہت ضروری ہے۔
جھٹکے کے دوران سب سے پہلے بچے کو محفوظ جگہ پر رکھیں اور بچے کے اردگرد کوئی سخت، نوکیلی یا خطرناک اشیاء ہٹا دیں۔ اگر بچے کے گلے میں کوئی سخت یا تنگ چیز ہو تو نکال دیں ، کالر کو ڈھیلا کردیں۔ بچے کے پاس پانی، آگ یا کوئی خطرناک چیز ہو تو اسے بھی دور کریں۔
جھٹکے کے دوران بچے کو ہمیشہ سائڈ پر لٹائیں، تاکہ اگر منہ سے الٹی یا جھاگ نکلے تو وہ پھیپھڑوں میں نہ جائے اور باہر نکل سکے۔ منہ میں جمع بلغم یا تھوک کو آرام سے صاف کریں اور بچے کو سکون کے ساتھ سانس لینے دیں۔ جھٹکے کے دوران بچے کے جسم کو زور سے دبانے یا قابو پانے کی کوشش نہ کریں، بس محفوظ جگہ پر رکھیں تاکہ کوئ چوٹ نہ لگ جائے۔
جھٹکے کے دوران کبھی بھی بچے کے منہ میں پانی نہ ڈالیں۔ بہت سے والدین سمجھتے ہیں کہ پانی دینے سے جھٹکے رک جائیں گے یا کم ہوں گے، لیکن یہ بالکل غلط ہے۔ جھٹکے کے دوران بچہ نا تو ہوش میں ہوتا ہے اور نہ ہی اسے کچھ معلوم ہوتا ہے۔ پانی دینے سے وہ سیدھا سانس کی نالی میں چلا جائے گا اور بچے کا سانس بند ہو سکتا ہے۔
بچے کے سر کو نرم سطح پر رکھیں، جیسے تکیہ یا ہاتھ وغیرہ۔ بازو یا ٹانگوں کو زور سے دبانے، پکڑنے کی کوشش نہ کریں۔ اکثر جھٹکے چند منٹ میں خود بخود ختم ہو جاتے ہیں کیونکہ دماغ کا خودکار نظام انہیں کنٹرول کر لیتا ہے۔ جھٹکے کے آغاز کے وقت سے ٹائم نوٹ کرنا شروع کریں۔ اگر جھٹکے تین منٹ سے زیادہ جاری رہیں تو فوری توجہ درکار ہے۔ اگر جھٹکے پانچ منٹ تک ختم نہ ہوں تو فوراً ایمبولینس یا ہسپتال سے رابطہ کریں۔ پانچ منٹ کے بعد اگر جھٹکے کنٹرول نہ ہوں تو دماغ میں نقصان کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ایسے طویل جھٹکوں کو Status Epilepticus کہا جاتا ہے اور یہ ایمرجنسی ہے۔
اگر جھٹکے گھر پر رک جائیں تو اکثر بچے جھٹکے کے بعد نیند میں چلے جاتے ہیں۔ جب بچہ اٹھتا ہے تو سر میں درد ہو سکتا ہے۔عام طور بچے کو جھٹکے کی چیزیں یاد نہیں رہتی ہیں۔ یہ اکثر معمول کی بات ہے اور یہ علامات کچھ گھنٹوں میں بہتر ہو جاتی ہیں۔ تاہم اگر جھٹکے کے رک جانے کے بعد بھی بچہ کئی گھنٹے تک ہوش میں نہ آئے، یا ہوش میں آئے لیکن جسم کے کسی حصے میں کمزوری ہو، یا شدید سر درد ہو جو وقت کے ساتھ بہتر نہ ہو، تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
باقاعدہ چائلڈ نیورولوجسٹ کے چیک اپ بھی بہت ضروری ہے کیونکہ جھٹکوں کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، جیسے بخار کے جھٹکے، یا مرگی (Epilepsy)۔ چائلڈ نیورولوجسٹ مکمل معائنہ کرکے وجہ کا تعین کرے گا اور مناسب علاج تجویز کرے گا۔
یہ بھی ضروری ہے کہ والدین جھٹکوں کے دوران پرانے روایتی یا غلط طریقے جیسے جراب یا جوتے سونگھانا وغیرہ استعمال نہ کریں۔ یہ عمل اور دیگر مشہور خرافات جھٹکوں کو روکنے میں کوئی فائدہ نہیں پہنچاتے اور صرف غلط فہمیاں پیدا کرتے ہیں۔
Credit
ڈاکٹر ارشد محمود
کنسلٹنٹ چائلڈ نیورولوجسٹ
فاطمہ میموریل ہاسپٹل لاہور

ایلکس ہونالڈ کی اصل صلاحیت صرف غیر معمولی جسمانی قوت تک محدود نہیں بلکہ اس کے ساتھ اس کی ذہنی پختگی، اعصابی توازن اور غی...
30/01/2026

ایلکس ہونالڈ کی اصل صلاحیت صرف غیر معمولی جسمانی قوت تک محدود نہیں بلکہ اس کے ساتھ اس کی ذہنی پختگی، اعصابی توازن اور غیر جذباتی فیصلہ سازی بھی شامل ہے، اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سب ایک نہایت سادہ، معصوم چہرے اور نرم مسکراہٹ کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ بظاہر اس کا پُرسکون انداز، عام سا لباس اور بے تکلف مسکراہٹ کسی ایسے انسان کی تصویر پیش نہیں کرتے جو زندگی اور موت کے بیچ بغیر رسی کے کھڑا ہو، مگر یہی سادگی اس کی شخصیت کی گہرائی کو نمایاں کرتی ہے۔ وہ خطرے کو نمائش نہیں بناتا، نہ ہی بہادری کو شور میں بدلتا ہے؛ اس کے چہرے کی معصومیت دراصل اس کے اندر کے غیر معمولی اعتماد اور خود پر مکمل قابو کی عکاس ہے، جو اسے ایک خاموش مگر انتہائی طاقتور استعارہ بنا دیتی ہے۔

credit: Yousaf Mahmood

30/01/2026

قطر میں بسنت ایسے منائی جاتی ہے۔

اسلام آباد:الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز کونسل (AHPC) نے ملک بھر میں کام کرنے والے تمام الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز کے لیے رجسٹریشن ...
30/01/2026

اسلام آباد:
الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز کونسل (AHPC) نے ملک بھر میں کام کرنے والے تمام الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز کے لیے رجسٹریشن لازمی قرار دے دی ہے۔

کونسل کے مطابق تمام سرکاری و نجی اسپتالوں، لیبارٹریوں اور طبی اداروں میں کام کرنے والے الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز کو 30 جون 2026 تک AHPC کے آن لائن پورٹل کے ذریعے رجسٹریشن مکمل کرنا ہوگی۔

⚠️ غیر رجسٹرڈ افراد کو پریکٹس میں پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

29/01/2026

Qatar Recognizes CPSP Fellowships.

Qatar has made it easier for Pakistani doctors and surgeons to get licensed by officially accepting Fellowships awarded ...
29/01/2026

Qatar has made it easier for Pakistani doctors and surgeons to get licensed by officially accepting Fellowships awarded by the College of Physicians and Surgeons Pakistan (CPSP). The Pakistani Embassy in Qatar says the country has recognized both the First and Second CPSP Fellowships, which can help more qualified Pakistani medical professionals secure jobs there.

Under the updated requirement, anyone applying on the basis of a Second Fellowship must already hold the relevant First Fellowship in their main specialty. Qatari authorities approved this after reviewing CPSP’s training quality, academic standards, and clinical competency.

A major relief for applicants is that CPSP fellows will no longer need to pass the Prometric exam, cutting delays, costs, and extra steps. Overall, the decision is expected to open more opportunities for experienced Pakistani specialists and strengthen medical cooperation between Pakistan and Qatar.

27/01/2026

Sharing Lunch with Seagulls 🐦
Mesmerising ♥️

‏مرد ڈرائیور حضرات توجہ فرمائیں:  سڑکوں پر آج کل نوجوان لڑکیاں اور خواتین رنگ برنگی سکوٹیاں چلاتی نظر آتی ہیں۔  کوئی گھو...
26/01/2026

‏مرد ڈرائیور حضرات توجہ فرمائیں:
سڑکوں پر آج کل نوجوان لڑکیاں اور خواتین رنگ برنگی سکوٹیاں چلاتی نظر آتی ہیں۔
کوئی گھومنے نکلی ہے تو کوئی اپنی یونیورسٹی ، کالج. کوئی کسی کو ڈراپ کرنے جا رہی ہے تو کوئی اپنی اماں کو ہسپتال لے کر جا رہی ہے, یا گھر کیلئے روزمرہ کا سامان۔۔ ایسے میں سڑک پر ان کو دیکھ کر آپے سے باہر نہ ہوجائیں۔ ان کو راستہ دیں۔ ان کو تیز اوور ٹیک سے نا ڈرائیں۔ ان کے ساتھ ریس نہ لگائیں اور ان کو گزر جانے دیں۔۔
ان کے ساتھ عزت سے پیش آئیں، تحفظ کا احساس دلائیں، یہ ہماری عزتیں ہیں، یہ ہمارے گھروں کی رحمت ہیں۔۔ شکریہ

The Qatar State Grand Mosque قطر کی سب سے بڑی اور معروف مسجد، جامع الإمام محمد بن عبد الوهاب، دوحہ 🕌یہ عظیم مسجد 2011 می...
25/01/2026

The Qatar State Grand Mosque

قطر کی سب سے بڑی اور معروف مسجد، جامع الإمام محمد بن عبد الوهاب، دوحہ 🕌

یہ عظیم مسجد 2011 میں تعمیر کی گئی اور شیخ محمد بن عبد الوہاب کے نام سے منسوب ہے، جو ایک مشہور عالم دین تھے۔ مسجد کا فنِ تعمیر روایتی عرب اسٹائل میں جدید عناصر کے ساتھ ایک حسین امتزاج پیش کرتا ہے۔ جس میں گرنائٹ اور سنگِ مرمر کا استعمال، متعدد گنبد، ایک منفرد مینار، کشادہ صحن اور روشن، وسیع اندرونی ہال شامل ہیں۔

✨ • مسجد کا کل رقبہ تقریباً 175,000 مربع میٹر ہے، بلندی پر واقع ہونے کی وجہ سے مسجد کے صحن سے دوحہ skyline کے نظارے دیکھنے کو ملتے ہیں۔
• اندرونی مرکزی نماز ہال میں تقریباً 11,000 افراد با آسانی نماز ادا کر سکتے ہیں، جبکہ خواتین کے لیے مخصوص حصہ تقریباً 1,200 افراد کی گنجائش رکھتا ہے۔
• بڑے صحن (courtyard) سمیت باہر کے حصے میں بھی لوگ نماز ادا کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ کل 30,000 لوگوں تک کی گنجائش ہے۔
• مسجد کی بیسمنٹ میں نمازیوں کی سہولت کیلئے بڑی پارکنگ اور وضو خانہ بھی موجود ہے۔

یہ مسجد صرف عبادت کی جگہ نہیں — بلکہ اسلامی تعلیم، مطالعہ اور سماجی میل جول کا مرکز بھی ہے۔ یہاں قرآن حفظ کا مرکز، کتب خانے، اسلامی تعلیمات کی کتابوں کا کاؤنٹر اور مختلف علمی سرگرمیاں بھی ہوتی ہیں۔

جمعہ کی نماز بعد بچوں میں چھوٹے چھوٹے تحائف تقسیم کیے گئے ۔ استقبالیہ (reception) پر بنیادی اسلامی تعلیمات پر مبنی مفت کتابوں / کتابچوں کا اسٹال بھی لگا ہوا تھا۔ مختلف زبانوں میں یہ کتابیں غیر مسلم سیاحوں کیلئے دعوتِ دین کا ایک بہترین نمونہ ہے۔
تصویر میں مسجد کے صحن سے دوحہ کے ہائی رائز عمارتوں کا خوبصورت منظر بھی دیکھ سکتے ہیں۔ جیسے شہر کا ایمان اور ترقی ایک ساتھ کھڑے ہوں۔
اس قسم کی جگہیں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ صرف عبادت ہی نہیں بلکہ علم، اتحاد اور خوشیوں کی بھی جگہ مسجدیں ہوتی ہیں۔ 🤍

#دوحہ #جمعہمبارک

تاریخ میں پہلی دفعہ پنجاب میں پرائیوٹ میڈیکل کالجز میں پانچویں لسٹ لگنے کے باوجود 426 سیٹیں خالی جارہی ہیں ۔ 109 امیدوار...
25/01/2026

تاریخ میں پہلی دفعہ پنجاب میں پرائیوٹ میڈیکل کالجز میں پانچویں لسٹ لگنے کے باوجود 426 سیٹیں خالی جارہی ہیں ۔ 109 امیدواروں نے ایم۔بی۔بی۔ایس میں داخلہ نہی لیا اور 317 داخلہ لینے کے باوجود چھوڑ گئے ۔
والدین کے پریشر کے باوجود Z جنریشن کو سمجھ آگئی کے مسقبل میں اس شعبے میں رسوائی کے سوا کچھ نہی ۔
ڈیڑھ کروڑ لگا کے بے روز گار ہونا رسوائی ہے ۔
ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں 20 سے 30 ہزار کے قریب ڈاکٹرز بے روزگار ہیں ۔

,

جب بچے کے لیے EEG ٹیسٹ تجویز کیا جاتا ہے تو اکثر والدین پریشان ہو جاتے ہیں کہ یہ ٹیسٹ کیسا ہوگا، درد تو نہیں ہوگا، اور ہ...
24/01/2026

جب بچے کے لیے EEG ٹیسٹ تجویز کیا جاتا ہے تو اکثر والدین پریشان ہو جاتے ہیں کہ یہ ٹیسٹ کیسا ہوگا، درد تو نہیں ہوگا، اور ہمیں گھر سے کیا تیاری کرنی چاہیے۔ سب سے پہلے یہ جان لینا ضروری ہے کہ EEG ایک محفوظ، بغیر درد کا ٹیسٹ ہے، جس میں نہ کوئی سوئی لگتی ہے اور نہ ہی بجلی کا جھٹکا دیا جاتا ہے۔ اس ٹیسٹ میں صرف بچے کے دماغ کی قدرتی برقی سرگرمی کو ریکارڈ کیا جاتا ہے۔

ٹیسٹ سے پہلے سب سے اہم تیاری بچے کے سر کے بالوں سے متعلق ہوتی ہے۔ بچے کا سر منڈوانے یا بال کٹوانے کی بالکل ضرورت نہیں ہوتی۔ البتہ ٹیسٹ سے ایک رات پہلے یا اسی دن بچے کے بال عام شیمپو سے اچھی طرح دھلوا دینا بہت ضروری ہے۔ صاف بال دماغ کی برقی سرگرمی کو بہتر طریقے سے ریکارڈ کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ بالوں میں تیل، کریم، جیل یا کوئی اور چیز لگانے سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ اس سے ریکارڈنگ متاثر ہو سکتی ہے۔

اکثر بچوں میں EEG ٹیسٹ جاگتے ہوئے اور سوتے ہوئے دونوں حالتوں میں کیا جاتا ہے، کیونکہ نیند کے دوران دماغ کی کچھ ایسی برقی تبدیلیاں سامنے آتی ہیں جو جاگتے ہوئے نظر نہیں آتیں۔ اسی لیے والدین کو اکثر یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ بچے کو ٹیسٹ والے دن جلدی جگایا جائے یا رات کو دیر سے سلایا جائے تاکہ وہ ٹیسٹ کے دوران آسانی سے سو سکے۔ نیند کی کمی سے EEG کی افادیت بڑھ جاتی ہے اور رپورٹ میں ابنارمل علامات آسانی سے نظر آجاتی ہیں۔

ٹیسٹ سے پہلے والدین کا بچے کو ذہنی طور پر تیار کرنا بھی بہت ضروری ہوتا ہے۔ بچے کو آسان الفاظ میں سمجھائیں کہ یہ ایک سادہ ٹیسٹ ہے، اس میں درد نہیں ہوگا، اور ڈاکٹر صرف سر پر کچھ تاریں لگائیں گے۔ بچے کو ڈرانے یا بار بار یہ کہنے سے کہ “حرکت نہیں کرنا” گھبراہٹ بڑھ سکتی ہے، اس لیے بچے کو پُرسکون رکھنا زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے۔ والدین میں سے کسی ایک کا بچے کے ساتھ رہنا بھی بچے کو اعتماد دیتا ہے۔

عام طور پر EEG ٹیسٹ کے لیے بچے کو بھوکا رکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بچہ معمول کے مطابق کھا پی سکتا ہے، خاص طور پر چھوٹے بچوں کو خالی پیٹ لانے سے وہ چڑچڑا ہو سکتے ہیں اور ٹیسٹ مشکل ہو جاتا ہے۔ البتہ چاکلیٹ، کیفین والے مشروبات یا بہت زیادہ میٹھی چیزوں سے پرہیز بہتر ہوتا ہے کیونکہ یہ دماغ کی برقی سرگرمی کو عارضی طور پر متاثر کر سکتی ہیں۔

اگر بچہ پہلے سے کسی دوا پر ہے، خاص طور پر مرگی کی دوا، تو عام طور پر وہ دوا بند نہیں کی جاتی جب تک ڈاکٹر خاص طور پر ایسا کہنے نہ۔ والدین کو چاہیے کہ بچے کی تمام پچھلی رپورٹس، نسخے اور اگر ممکن ہو تو دورے کی ویڈیو اپنے ساتھ لے آئیں، کیونکہ یہ معلومات EEG کے نتائج کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔

یہ بات بھی والدین کو معلوم ہونی چاہیے کہ EEG کے دوران بچے کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔ سر پر لگائے گئے الیکٹروڈز صرف ریکارڈنگ کے لیے ہوتے ہیں، ان کے ذریعے کوئی کرنٹ نہیں دیا جاتا۔ پورا ٹیسٹ عموماً بیس سے تیس منٹ میں مکمل ہو جاتا ہے، اور ٹیسٹ کے فوراً بعد بچہ اپنی معمول کی سرگرمیاں کر سکتا ہے۔

آخر میں یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ EEG ٹیسٹ کی اچھی تیاری سے رپورٹ کی افادیت بڑھ جاتی ہے۔ صاف بال، مناسب نیند یا نیند کی کمی، بچے کا پُرسکون ہونا، اور والدین کا تعاون — یہ سب مل کر ٹیسٹ کو آسان اور زیادہ مؤثر بناتے ہیں۔ والدین جتنا پُرسکون ہوں گے، بچہ بھی اتنا ہی مطمئن رہے گا اور ٹیسٹ بہتر انداز میں مکمل ہو سکے گا۔

Credit:
ڈاکٹر ارشد محمود
کنسلٹنٹ چائلڈ نیورولوجسٹ
فاطمہ میموریل ہاسپٹل لاہو

ہم لوگ ماڈرن کہلائے جانے کے چکر میں بہت قیمتی چیزیں چھوڑ بیٹھے ہیں۔ ہم نے آسانیاں ڈھونڈیں اور اپنے لیے مشکلیں کھڑی کر دی...
20/01/2026

ہم لوگ ماڈرن کہلائے جانے کے چکر میں بہت قیمتی چیزیں چھوڑ بیٹھے ہیں۔ ہم نے آسانیاں ڈھونڈیں اور اپنے لیے مشکلیں کھڑی کر دیں۔
-
آج ہم دھوتی پہن کے باہر نہیں نکل سکتے لیکن صدیوں کی آزمائش کے بعد یہ واحد لباس تھا جو ہمارے موسم کا تھا۔ ہم نے خود اپنے اوپر جینز مسلط کی اور اس کو پہننے کے لیے کمروں میں اے سی لگوائے۔ شالیں ہم نے فینسی ڈریس شو کے لیے رکھ دیں اور کندھے جکڑنے والے کوٹ جیکٹ اپنا لیے۔ ہمیں داڑھی مونچھ اور لمبے بال کٹ جانے میں امپاورمنٹ ملی اور فیشن بدلا تو یہ سب رکھ کے بھی ہم امپاورڈ تھے!
-
ہم نے حقہ چھوڑ کے سگریٹ اٹھایا اور ولایت سے وہی چیز جب شیشے کی شکل میں آئی تو ہزار روپے فی چلم دے کر اسے پینا شروع کر دیا۔ ہے کوئی ہم جیسا خوش نصیب؟
-
ہم نے لسی چھوڑی، کولا بوتلیں تھام لیں، ہم نے ستو ترک کیا اور سلش کے جام انڈیلے، ہم نے املی آلو بخارے کو اَن ہائی جینک بنا دیا اور وہی چیز ایسنس کے ساتھ جوس کے مہر بند ڈبے خرید کے بچوں کو پلائی، وہ پیک جس کے آر پار نہیں دیکھا جا سکتا کہ گتے کا ہوتا ہے۔ ہم نے ہی اس اندھے پن پہ اعتبار کیا اور آنکھوں دیکھے کو غیر صحت بخش بنا دیا۔
-
ہم نے دودھ سے نکلا دیسی گھی چھوڑا اور بیجوں سے نکلے تیل کو خوش ہو کے پیا، ہم نے چٹا سفید مکھن چھوڑا اور زرد ممی ڈیڈی مارجرین کو چاٹنا شروع کر دیا، اس کے نقصان سٹیبلش ہو گئے تو پھر ڈگمگاتے ڈولتے پھرتے ہیں۔ گوالے کا پانی ہمیں برداشت نہیں لیکن یوریا سے بنا دودھ ہم گڑک جاتے ہیں، الحمدللہ!
-
اصلی دودھ سے ہمیں چائے میں بو آتی ہے اور ٹی واٹنر ہم نوش جان کرتے ہیں جس پہ خود لکھا ہے کہ وہ دودھ نہیں۔ گھر کے نیچے بھینس باندھ کر ہم نے سوکھا دودھ باہر ملک سے خریدنے کا سودا کیا اور کیا ہی خوب کیا!
ہم تو وہ ہیں جو آم کے موسم میں بھی اس کا جوس شیشے کی بوتلوں میں پیتے ہیں۔
-
ہم گڑ کو پینڈو کہتے تھے، سفید چینی ہمیں پیاری لگتی تھی، براؤن شوگر نے ہوٹلوں میں واپس آ کے ہمیں چماٹ مار دیا۔ اب ہم ادھر ادھر دیکھتے ہوئے گال سہلاتے ہیں لیکن گڑ بھی کھاتے ہیں تو پیلے والا کہ بھورا گڑ تو ابھی بھی ہمیں رنگ کی وجہ سے پسند نہیں۔
-
آئیں، ہم سے ملیں، ہم ایمرجنسی میں پیاسے مر جاتے ہیں، گھروں کی ٹونٹی کا پانی نہیں پی سکتے، نہ ابال کر نہ نتھار کے، ہم پانی بھی خرید کے پیتے ہیں۔ ہم ستلجوں، راویوں، چنابوں اور سندھوں کے زمین زاد، ہم ولایتی کمپنیوں کو پیسے دے کے پانی خریدتے ہیں۔
-
ہم تو پودینے کی چٹنی تک ڈبوں میں بند خریدتے ہیں۔ چھٹانک دہی اور مفت والے پودینے کی چٹنی ہم ڈیڑھ سو روپے دے کے اس ذائقے میں کھاتے ہیں جو ہمارے دادوں کو ملتی تو انہوں نے دسترخوان سے اٹھ جانا تھا۔
-
سوہانجنا ہمیں کڑوا لگتا تھا، جب سے وہ مورنگا بن کر کیپسولوں میں آیا ہے تو ہم دو ہزار میں پندرہ دن کی خوراک خریدتے ہیں۔ وہی سوکھے پسے ہوئے پتے جب حکیم پچاس روپے کے دیتا تھا تو ہمیں یقین نہیں تھا آتا۔
-
پانچ سو روپے کا شربت کھانسی کے لیے خریدیں گے لیکن پانچ روپے کی ملٹھی کا ٹکڑا دانتوں میں نہیں دبانا، ’عجیب سا ٹیسٹ آتا ہے۔‘
-
ہم پولیسٹر کے تکیوں پہ سوتے ہیں، نائلون ملا لباس پہنتے ہیں، سردی گرمی بند جوتا چڑھاتے ہیں، کپڑوں کے نیچے کچھ مزید کپڑے پہنتے ہیں اور زندگی کی سڑک پہ دوڑ پڑتے ہیں، رات ہوتی ہے تو اینٹی الرجی بہرحال ہمیں کھانی پڑتی ہے۔
-
ہم اپنی مادری زبان ماں باپ کے لہجے میں نہیں بول سکتے۔ ہم زبان کے لیے نعرے لگاتے ہیں لیکن گھروں میں بچوں سے اردو میں بات کرتے ہیں۔ ہم اردو یا انگریزی کے رعب میں آ کے اپنی جڑیں خود کاٹتے ہیں اور بعد میں وجہ ڈھونڈتے ہیں کہ ہم ’مس فٹ‘ کیوں ہیں۔
-
عربی فارسی کو ہم نے مدرسے والوں کی زبان قرار دیا اور ہاتھ جھاڑ کے سکون سے بیٹھ گئے۔ ’فورٹی رولز آف لَو‘ انگریزی میں آئی تو چومتے نہیں تھکتے۔ الف لیلیٰ، کلیلہ و دمنہ اور اپنے دیسی قصے کہانیوں کو ہم نے لات مار دی، جرمن سے گورے کے پاس آئی تو ہمیں یاد آ گیا کہ استاد مال تو اپنا تھا۔

جا کے دیکھیں تو سہی، عربی فارسی کی پرانی ہوں یا نئی، صرف وہ کتابیں ہمارے پاس اب باقی ہیں جو مدرسوں کے نصاب میں شامل ہیں۔ باقی ایک خزانہ ہے جسے ہم طلاق دیے بیٹھے ہیں۔ پاؤلو کوہلو اسی کا ٹنکچر بنا کے دے گا تو بگ واؤ کرتے ہوئے آنکھوں سے لگا لیں گے۔ متنبی کون تھا، آملی کیا کر گئے، شمس تبریز کا دیوان کیا کہتا ہے، اغانی میں کیا قصے ہیں، ہماری جانے بلا!
-
ہماری گلیوں میں اب کوئی چارپائی بُننے والا نہیں آتا، ہمیں نیم اور بکائن میں تمیز نہیں رہ گئی، ہمارے سورج سخت ہوگئے اور ہمارے سائے ہم سے بھاگ چکے، ہمارے چاند روشنیاں نگل گئیں اور مٹی کی خوشبو کو ہم نے عطر کی شکل میں خریدنا پسند کیا۔
-
وہ بابا جو نیم کی چھاؤں میں چارپائی لگائے ٹیوب ویل کے ساتھ دھوتی پہنے لیٹا ہوتا ہے، وہ حقے کا کش لگاتا ہے، ہمیں دیکھتا ہے اور ہنس کے آنکھیں بند کر لیتا ہے۔ اسے کب کی سمجھ آ گئی ہے، ہمیں نہیں آئی۔________________

Address

Allama Iqbal Town
Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Abdul Mannan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr Abdul Mannan:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram