31/01/2026
جھٹکے یا دورے (fits) دماغ میں ایک غیر معمولی برقی کرنٹ یا اسپارک کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ یہ کرنٹ دماغ کے مختلف حصوں میں اچانک خارج ہوتا ہے، جس سے پٹھے اچانک حرکت کرتے ہیں، ہوش متاثر ہوتا ہے اور بچے کے جسم پر جھٹکے ظاہر ہوتے ہیں۔ جھٹکے کسی بھی عمر میں اور کسی بھی جگہ ہو سکتے ہیں، گھر، پارک، ہسپتال یا بلڈنگ میں۔
سب سے پہلی اور اہم بات یہ ہے کہ پریشان یا گھبراہٹ میں نہ آئیں۔ والدین کا سکون بچے کے لیے بہت ضروری ہے۔
جھٹکے کے دوران سب سے پہلے بچے کو محفوظ جگہ پر رکھیں اور بچے کے اردگرد کوئی سخت، نوکیلی یا خطرناک اشیاء ہٹا دیں۔ اگر بچے کے گلے میں کوئی سخت یا تنگ چیز ہو تو نکال دیں ، کالر کو ڈھیلا کردیں۔ بچے کے پاس پانی، آگ یا کوئی خطرناک چیز ہو تو اسے بھی دور کریں۔
جھٹکے کے دوران بچے کو ہمیشہ سائڈ پر لٹائیں، تاکہ اگر منہ سے الٹی یا جھاگ نکلے تو وہ پھیپھڑوں میں نہ جائے اور باہر نکل سکے۔ منہ میں جمع بلغم یا تھوک کو آرام سے صاف کریں اور بچے کو سکون کے ساتھ سانس لینے دیں۔ جھٹکے کے دوران بچے کے جسم کو زور سے دبانے یا قابو پانے کی کوشش نہ کریں، بس محفوظ جگہ پر رکھیں تاکہ کوئ چوٹ نہ لگ جائے۔
جھٹکے کے دوران کبھی بھی بچے کے منہ میں پانی نہ ڈالیں۔ بہت سے والدین سمجھتے ہیں کہ پانی دینے سے جھٹکے رک جائیں گے یا کم ہوں گے، لیکن یہ بالکل غلط ہے۔ جھٹکے کے دوران بچہ نا تو ہوش میں ہوتا ہے اور نہ ہی اسے کچھ معلوم ہوتا ہے۔ پانی دینے سے وہ سیدھا سانس کی نالی میں چلا جائے گا اور بچے کا سانس بند ہو سکتا ہے۔
بچے کے سر کو نرم سطح پر رکھیں، جیسے تکیہ یا ہاتھ وغیرہ۔ بازو یا ٹانگوں کو زور سے دبانے، پکڑنے کی کوشش نہ کریں۔ اکثر جھٹکے چند منٹ میں خود بخود ختم ہو جاتے ہیں کیونکہ دماغ کا خودکار نظام انہیں کنٹرول کر لیتا ہے۔ جھٹکے کے آغاز کے وقت سے ٹائم نوٹ کرنا شروع کریں۔ اگر جھٹکے تین منٹ سے زیادہ جاری رہیں تو فوری توجہ درکار ہے۔ اگر جھٹکے پانچ منٹ تک ختم نہ ہوں تو فوراً ایمبولینس یا ہسپتال سے رابطہ کریں۔ پانچ منٹ کے بعد اگر جھٹکے کنٹرول نہ ہوں تو دماغ میں نقصان کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ایسے طویل جھٹکوں کو Status Epilepticus کہا جاتا ہے اور یہ ایمرجنسی ہے۔
اگر جھٹکے گھر پر رک جائیں تو اکثر بچے جھٹکے کے بعد نیند میں چلے جاتے ہیں۔ جب بچہ اٹھتا ہے تو سر میں درد ہو سکتا ہے۔عام طور بچے کو جھٹکے کی چیزیں یاد نہیں رہتی ہیں۔ یہ اکثر معمول کی بات ہے اور یہ علامات کچھ گھنٹوں میں بہتر ہو جاتی ہیں۔ تاہم اگر جھٹکے کے رک جانے کے بعد بھی بچہ کئی گھنٹے تک ہوش میں نہ آئے، یا ہوش میں آئے لیکن جسم کے کسی حصے میں کمزوری ہو، یا شدید سر درد ہو جو وقت کے ساتھ بہتر نہ ہو، تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
باقاعدہ چائلڈ نیورولوجسٹ کے چیک اپ بھی بہت ضروری ہے کیونکہ جھٹکوں کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، جیسے بخار کے جھٹکے، یا مرگی (Epilepsy)۔ چائلڈ نیورولوجسٹ مکمل معائنہ کرکے وجہ کا تعین کرے گا اور مناسب علاج تجویز کرے گا۔
یہ بھی ضروری ہے کہ والدین جھٹکوں کے دوران پرانے روایتی یا غلط طریقے جیسے جراب یا جوتے سونگھانا وغیرہ استعمال نہ کریں۔ یہ عمل اور دیگر مشہور خرافات جھٹکوں کو روکنے میں کوئی فائدہ نہیں پہنچاتے اور صرف غلط فہمیاں پیدا کرتے ہیں۔
Credit
ڈاکٹر ارشد محمود
کنسلٹنٹ چائلڈ نیورولوجسٹ
فاطمہ میموریل ہاسپٹل لاہور