Hakeem Online

Hakeem Online مستند و تجربہ کار حکماء اور اطباء سے اپنی صحت کے بارے مش

"نظام حیدراباد کےمعالج خصوصی حکیم نابینا اور ڈاکٹر علامہ اقبال کا علاج"1934ء میں ایک بار  ڈاکٹر علامہ اقبال لاہور میں بہ...
19/04/2024

"نظام حیدراباد کےمعالج خصوصی حکیم نابینا اور ڈاکٹر علامہ اقبال کا علاج"

1934ء میں ایک بار ڈاکٹر علامہ اقبال لاہور میں بہت زیادہ بیمار ہوئے۔ ڈاکٹروں کو ان کی زندگی کی امید باقی نہ رہی گھر کے لوگ بھی مایوس ہو گئے۔ لیکن علامہ اقبال کی خواہش پر حکیم عبدالوہاب انصاری المعروف نابینا صاحب سے رجوع کیا گیا۔ ان دنوں حکیم صاحب دلی میں تھے۔ انہوں نے بغور تمام حالات سن کر یہ تشخیص کیا کہ اعضائے رئیسہ پر غیر معمولی دباؤ پڑنے کی وجہ سے انتہائی ضعف و نقاہت پیدا ہو گئی ہے۔ انہوں نے مقوی اعضائے رئیسہ دوائیں دینے کے ساتھ ساتھ اپنے خاص بکس کی مشہور دوا "روح الذ ہب" بھی (یہ ایک خاص مرکب تھا جس میں سونا کا جزو بھی شامل تھا ) ڈاکٹر علامہ اقبال صاحب کو بھیجی۔ کچھ دنوں کے بعد ڈاکٹر علامہ اقبال صاحب حکیم نابینا صاحب کے علاج سے اچھے ہو گئے اور اپنی صحت کے بعد دلی حکیم نابینا صاحب کے پاس بطور اظہار تشکر یہ دو شعر لکھ کر بھیج دیئے۔ سچ تو یہ ہے کہ انہیں دو شعروں نے اس شاہکار علاج کو زندہ جاوید بنا دیا۔

وہ دو شعر یہ تھے :-

ہے دو روحوں کا نشیمن یہ تن خاکی میرا
ایک میں ہے سوز و مستی ایک میں ہے تاب و تب
ایک جو الله نے بخشی مجھے صبح ازل
دوسری وه آپکی بھیجی ہوئی "روح الذہب"

حوالہ/اقتباس:

اطبا ء اور انکی مسیحائی
مصنف: حکیم مختار احمد اصلاحی

21/08/2023

پرل کانٹیننٹل ہوٹل لاہور میں قومی طبی کونسل کے زیر اہتمام الحجامہ سمپوزیم میں مولانا طارق جمیل صاحب کی شرکت

28/10/2022

ایک آدمی کو سرِ راہ حکیم صاحب مل گئے تو حیرت سے پوچھا : جناب آپ اپنا مطب بند کر کے چپکے سے کہیں چلے گئے اور کسی کو بتایا تک بھی نہیں؟
ایسا کیوں؟

حکیم صاحب نے حیرت سے کہا :
نہیں تو !! میرا مطب تو اب بھی وہیں پر ہے۔ تمہیں ایسا کس نے کہا؟

اس آدمی نے کہا:
آپ کے مطب کے نیچے چاول کی دکان والے نے اور اس کے برابر بیٹھے قصاب نے

حکیم صاحب سیدھا اس چاول والے اور قصاب کی دکان پر گئے اور پوچھا:
بھائی! تم لوگوں اور میرے بیچ میں ایسی کون سی بات ہو گئی ہے کہ تم میرے مریضوں کو میرے مطب کا راستہ بتانے کے بجائے بتاتے ہو کہ میں یہاں سے مطب چھوڑ کر کے کہیں اور چلا گیا ہوں۔ ایسا کیوں کر رہے ہو؟

ان دونوں نے کہا: حکیم صاحب!
آپ بھی تو جو مریض آتا ہے اسے کہتے ہیں کہ چاول نہ کھاؤ! بڑا گوشت نہ کھاؤ! ان کو زیادہ کھانے سے بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔
اگر کام کرنا ہے تو مل کر کرتے ہیں ورنہ دکان داری بند ہو گی تو سب کی ہوگی۔😜😜😜

لکھنؤ کی جہاں قدر بیگم لکھنؤ کی خواتین کا طریقہ تھا کہ اگر خود یا گھر میں کوئی بیمار ہوتا تو کہتیں دشمنوں کی طبیعت نا سا...
13/06/2022

لکھنؤ کی جہاں قدر بیگم

لکھنؤ کی خواتین کا طریقہ تھا کہ اگر خود یا گھر میں کوئی بیمار ہوتا تو کہتیں دشمنوں کی طبیعت نا ساز ہے۔
حکیم منے آغا کا گھر اور مطب احاطے كے بیچ و بیچ واقع تھا . جہاں قدر بیگم کا تانگہ احاطے كے پھاٹک پر آکر رکا اور وہ اپنی ایک عدد ملازمہ كے ہمراہ تانگے سے نمودار ہوئیں . کئی روز سے انکی طبیعت ناساز تھی . . . کچھ بدہضمی اور کھل كے بھوک نہ لگنے کی شکایت تھی . بہر حال جہاں قدر بیگم خِراماں خِراماں چلتی مطب کی طرف بڑھنے لگیں . بھاری بھرکم جسامت كے باوجود نزاکت و نخوت انکا خاصہ تھی . بہر صورت حکیم صاحب کو بیگم صاحبہ كے آنے کی اطلاع دی گئی . وہ آناً فاناً ناک پر عینک درست کرتے مطب میں داخل ہوئے . جہاں قدر بیگم نے حکیم صاحب کی مزاج پرسی كے جواب میں بیزاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرمایا كہ ہفتہ دس روز سے دشمنوں کو بھوک کم لگنے کی شکایت ہے . حکیم صاحب كے دریافت کرنے پہ بیگم صاحبہ نے بتایا كے حلق سے اب کچھ نہیں اترتا . ناشتے میں فقط چار روغنی ٹکیاں ، پاؤ بھر بالائی ، چند شامی کباب ، چھٹانگ بھر بادام کا حلوہ اور چار انڈوں کا خاگینہ ہی بس کھا پائیں . اتنے مختصر ناشتے کی تفصیل سن کے حکیم صاحب كے چہرے پہ ایک خفیف سی مسکراہٹ آئی اور انہوں نے نسخہ تجویز کرنے کو قلم اٹھا لیا . اور لکھا ’ ایک وقت كھانا چھوڑ دیں ’ . یہ سن کے بیگم صاحبہ بولیں مشکل نسخہ ہے . حکیم صاحب گویا ہوئے بگڑے ہوئے مزاج کو طبعی مزاج کی طرف لانے کی کوشش کیجئے . ساتھ میں کھڑی ملازمہ نے پھٹ سے کہا ، " اے حکیم صاحب بیگم صاحبہ کو اتنا مشکل نسخہ تجویز نہ کیجئے . ایک بار انہوں نے کوشش کی تھی جس سے دشمنوں كے پیٹ میں اینٹھن ہوگئی . بیل کا شربت اور امرود بھلبھلاکے نوش کئے تب کہیں طبیعت سنبھلی اور بیگم صاحبہ تو پِھر بھوک کم ہونے کی شکایت کر رہی ہیں . " حکیم صاحب نے تمتما كے کہا ، " زندہ رہنے كے لیے کھایئے ، کھانے كے لیے زندہ نہ رہیے . " پتہ نہیں حکیم صاحب کو کھانے کی قدر نہیں تھی یا جہاں قدر بیگم حکمت سے واقف نہیں تھیں۔ اللہ جانے۔

اقتباس از تحریر
مسرت شکوہ

اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت ؟جن کے گردے فیل کردئیے ان کا کیا بنے گا؟ اور جنکے گردے فیل کر کے قبروں میں اتار...
06/06/2022

اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت ؟

جن کے گردے فیل کردئیے ان کا کیا بنے گا؟ اور جنکے گردے فیل کر کے قبروں میں اتار دیا ان کا کیا بنے گا؟ وہ کس کے کھاتے میں شمار ہوں گے؟ اور جنہیں بیمار کر کے علاج کے بہانے لوٹا گیا گھر اجاڑ دئیے گئے، مقروض کر دیا ان کا کیا بنے گا؟ کیا سرکار نے ان کے نقصانات کا ازالہ کیا؟ کیا اس زہر کو استمال کرنے اور کروانے والوں پر پابندی لگائی گئی کہ تم آئندہ علاج معالجہ نہیں کرسکتے؟ کیا صرف لائسنس منسوخ کردینا کافی ہے؟ جو نقصانات ہوئے ہیں ان کا کا ازالہ کون کرے گا؟

یعنی ہم سالوں سے کَلپ رہے ہیں کہ ان کی ہر دواء زہر ہے۔ گردے فیل، جگر فیل، معدہ و امعاء تباہ و برباد، شوگر، کینسر موٹاپا، بے اولادی، بانجھ پن اور دل کے بیسیوں امراض انہی کے پیدا کردہ ہیں۔ کوئی توجہ نہیں دے رہا۔

ایلو پیتھک ادویات کے بے دریغ استعمالات گردے فیل کرتے ہیں اور ڈاکٹرز نام بدنام حکماء کا کرتے ہیں۔ کیوں بھئی؟ حکماء جاہل تھوڑی ہیں کہ تمہاری طرح سب مریضوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکتے ہوں؟

ذرا غور فرمائیں کہ یہ کیسی بات ہے۔ بڑھی ڈھٹائی سے کہتے ہیں کہ حکماء سٹیرائڈ استمال کرتے ہیں۔ اس وجہ سے گردے فیل ہوتے ہیں۔

ارے بوڑبک سٹیرائڈ بناتا کون ہے ؟ مطلب تم ہی بناتے ہو ؟ جی تو تم نہ بناؤ؟ اور اس سے بھی حیرانی کی بات یہ ہے اگر ایلو پیتھک ڈاکٹر سٹیرائڈ استمال کرے تو جائز اور مسیحا اگر کوئی اور کرے تو مجرم اور اتائی۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ یعنی اگر تم سٹیرائڈ استمال کرو تو باعث شفاء اگر کوئی اور کرے تو باعث داء کیا مطلب؟ تو تم نہ بناؤ نا تاکہ نہ کوئی استمال کرے۔ مجرم تو پھر بھی تم ہی ہو کیونکہ کیمیکلز اور زہروں کو آسانی سے بازار میں ہر راہگیر کے ہاتھ فروخت کردیتے ہو؟

ایک اور بکواس بھی ان کی سن لیں:
"اجی حکماء ویاگر استمال کرتے ہیں."
سوال یہ ہے کہ ویاگرا بناتا کون ہے؟
یعنی تم بناتے جاؤ، خود استمال کرو، بے دریغ، باآسانی ہرجگہ دستیاب ہو، تمہارے زیرسایہ فروخت ہو تم کرو تو کوئی گناہ اور جرم نہیں۔ اگر کوئی اور کرے تو راندہ درگاہ ؟
تو تم نہ بناؤ نہ کوئی استعمال کرے۔ اور یہی دو زہر ، تیسرا اینٹی بائیوٹک سب سے بڑے سبب ہیں کڈنی اور لیور فیلیئر کے۔ تو مطلب قصور تو پھر تمہارا ہی ہوا ؟ اور یہ جو ہر جگہ ملنے والی چار چھ گولیاں ہیں پیراسٹامول بروفین اور پیناڈول یہ اتنی سستی اور ہر جگہ باآسانی ملنے والی کیوں ہیں ؟ یہی تو اصل کمائی کا ذریعہ ہیں جو بیماریوں کو فروغ دیتی ہیں جس کو کوئی بھی مسئلہ ہو وہ چار آٹھ آنے کی گولی لے کر کھا لیتا ہے اور اس کی انرجی بوسٹ ہوجانے سے افاقہ محسوس کرتا ہے اور اس کے لیے وہ آب حیات ہے جبکہ اصل مرض کیا تھا کس وجہ سے تھا اسکا تدارک نہ کسی نے کیا، نہ کسی کو علم تھا، بس گولی اندر، بندہ چار چھ ماہ بعد جلندر، اور صرف جلندر ہی نہیں بلکہ ساتھ ساری زندگی کی کمائی بھی انہیں دیکر سرخرو ہوجاتا ہے۔

ذرا سوچیے!

حکیم آن لائن

06/10/2020
02/10/2020

ویسے تو اچھی خوراک ، اچھی نیند اور ورزش کا ہمیشہ خیا ل کرنا چاہیے لیکن تیس سال کی عمر کے بعد ان چیزوں کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ اس سلسلے میں کی جانے والی سُستی کی قیمت بہت مہنگی ہے۔ ہم اس حوالے سے کتنے فکر مند ہیں یہ جاننے کے لیے فجر کی نماز کے بعد باہر نکلیں۔ شاید سو میں سے ایک بندہ مشکل سے ملے گا جو رات کو نیند پوری کرکے علی الصبح جاگ کر ورزش کرتا ہوا ملے گا۔ دنیا کے کسی ڈاکٹر کا مشورہ یا کسی بھی سیانے حکیم کا خفیہ نسخہ آپ کی صحت پر دیرپا اثر نہیں کر سکتا اگر آپ خود پر محنت میں دلچسپی نہیں رکھتے۔

صبح بخیر

https://www.bbc.com/urdu/science/2013/10/131002_exercise_heart_effects_zs

09/06/2020

نیوزی لینڈ وزیر اعظم کی خوبصورت ہدایت:

"ہر شخص خود کو کرونا کا مریض سمجھتے ہوئے دوسروں کو اپنے سے بچائے!"

20/05/2020

قبولیت کا خطرہ

" دھیان کرنا۔۔۔!" وہ بولے.
" یہاں جو دعا کی جائے قبول ہو جاتی ہے۔"
"کیا مطلب؟" میری ہنسی نکل گئی۔
" کیا دعا قبول ہونے جانے کا خطرہ ہے؟"
" ہاں، کہیں ایسا نہ ہو کہ دعا قبول ہو جائے۔"

میں نے حیرت سے قدرت کی طرف دیکھا۔
بولے " اسلام آباد میں ایک ڈائریکٹر ہیں۔ عرصہِ دراز ہوا انہیں روز بخار ہو جاتا تھا۔ ڈاکٹر ، حکیم ، وید ، ہومیو سب کا علاج کر دیکھا۔ کچھ افاقہ نہ ہوا۔ سوکھ کر کانٹا ہو گئے۔ آخر چارپائی پر ڈال کر کسی درگاہ پر لے گئے۔ وہاں ایک مست سے کہا بابا دعا کر کہ انہیں بخار نہ چڑھے۔ انہیں آج تک پھر بخار نہیں چڑھا۔

اب چند سال سے ان کی گردن کے پٹھے اکڑے ہوئے ہیں۔ وہ اپنی گردن اِدھر اُدھر ہلا نہیں سکتے۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ یہ مرض صرف اس صورت میں دور ہو سکتا ہے کہ انہیں بخار چڑھے۔ انہیں دھڑا دھڑ بخار چڑھنے کی دوائیاں کھلائی جا رہی ہیں مگر انہیں بخار نہیں چڑھتا" میرے ہاتھوں سے دعاؤں کی کاپی گر پڑی۔ میں نے اللّٰہ کے گھر کی طرف دیکھا۔

" میرے اللّٰہ ! کیا کسی نے تیرا بھید پایا ہے ۔"

حاصلِ مطالعہ
ممتاز مفتی
لبیک صفحہ 76,77

29/04/2020

قرآنِ پاک میں مختلف اقوام کے حوالے سے بار بار ایک بات پڑھنے کو ملتی ہے۔ ان کی جانب جو انبیاء و رسل بھیجے گئے وہ انہیں مسلسل یاد دہانی کرواتے کہ اگر قوم نے اپنا وتیرہ نہ بدلا تو انہیں ایک بڑے عذاب کا سامنا ہو گا۔ جبکہ وہ قوم ان کی اس بات کا ٹھٹھا اڑاتی رہی اور بالآخر ایک دن ایسا آن پہنچا کہ اسی عذاب نے انہیں گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔ اپنے رویہ پر نظرثانی کے بجائے انہوں نے عذاب کے امکان پر سوالات کھڑے کرنے شروع کر دیے اور خود اسی صبح و شام میں مست رہے۔ پھر جب مصیبت سر پر آ پڑی تو لگے جائے پناہ کی تلاش میں بھاگنے، لیکن اب مفر کہاں۔ اس کے بعد جو ہؤا قرآن کے مطالعے سے وہ بھی ہم بخوبی جانتے ہیں۔

کرونا عذاب ہے یا نہیں اس بحث کو الگ رکھتے ہوئے یہ ضرور دکھائی دیتا ہے کہ ہمارا رویہ ان اقوام سے کسی طرح مختلف نہیں جو وقت پر درست اقدامات لینے سے قاصر رہیں اور ہر انتباہ کو محض قصے کہانی پر محمول کیا۔

یاد رکھیے وبا کوئی بھی ہو جب وہ معاشرے میں سرایت پزیر ہو کر حملہ آور ہوتی ہے تو کشتوں کے پشتے لگا دیتی ہے۔ اللہ تعالی ہمیں اس گھڑی سے محفوظ رکھیں۔ لیکن یہ فرض ہمارا بھی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو سکے احتیاط کا دامن مضبوطی سے تھامے رہیں۔ جو کر سکتے ہیں اسے اپنی اولین ذمہ داری سمجھ کر ضرور کریں۔ کم از کم ایسے ویڈیوز اور مضامین پڑھ کر غفلت کا شکار نہ ہوں جن کا سارا زور کرونا کو ایک سازش ثابت کرنے پر رہتا ہے۔

اگر یہ سازش بھی ہے تو اس نے انہیں بھی اپنی لپیٹ میں لیا جن کی جانب سازش کرنے کا اشارہ کیا جاتا ہے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ روس و جرمنی جیسے ممالک بھی اب کرونا وائرس سے شدید متاثر ہیں جن کے متعلق کہا جا رہا تھا کہ وہاں اس پر بروقت قابو پا لیا گیا۔

ہم طویل لاک ڈاؤن کے متحمل نہیں ہو سکتے، ہمیں جلد از جلد معاشی سرگرمیوں کی جانب لوٹنا ہے۔ لیکن ہم یہ بھی افورڈ نہیں کر سکتے کہ ہمارے اسپتال مریضوں سے اٹ جائیں اور بیماروں کی دیکھ بھال محال ہو کر رہ جائے۔ اس لیے ضروری ہے ہم ایسا رویہ رکھیں جو Win-Win صورتحال کا باعث بنے۔ اپنے پیاروں کی صحت و سلامتی یقینی بنانے کا یہی راستہ ہے۔

اہم نکتہ یہ ہے کہ کرونا وائرس ایک سازش ہو سکتا ہے، لیکن یہ مذاق ہرگز نہیں ہے۔ اسے سنجیدگی سے لیں، اور ممکن حد تک اس کی پیشبندی کریں۔ خاص طور سے یہ کہ بھیڑ بھاڑ سے بچیں ۔۔۔ نہ اس کا باعث بنیں اور نہ اس کا حصہ۔ فی الحال اسی میں کامیابی کی کنجی ہے۔

Address

Lahore

Opening Hours

Monday 09:00 - 21:00
Tuesday 09:00 - 21:00
Wednesday 09:00 - 21:00
Thursday 09:00 - 21:00
Friday 09:00 - 21:00
Saturday 09:00 - 21:00
Sunday 09:00 - 21:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hakeem Online posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram