Dil ki Baat Shumaila k sath

Dil ki Baat Shumaila k sath اگر آپ بھی چاہتے ہیں
کہ کوئی بغیر ججمنٹ،
خاموشی سے آپ کی بات سنے...

تو مجھے انباکس کریں 💬

میں ایک Emotional Listener ہوں —
آپ کا درد صرف سننے کے لیے 💫

Let's talk about OCPD! 🤔 This personality disorder, marked by extreme perfectionism and a need for control, is often mis...
11/11/2025

Let's talk about OCPD! 🤔 This personality disorder, marked by extreme perfectionism and a need for control, is often misunderstood.
​We've created a simple 5-part infographic series to shed light on what OCPD is, its key symptoms, causes, and treatments.
​Knowledge is power, and empathy can change lives. Swipe to educate yourself and help us spread awareness! ✨ "

"Unmasking the complex realities of Antisocial Personality Disorder (ASPD). This powerful 5-part infographic series delv...
07/11/2025

"Unmasking the complex realities of Antisocial Personality Disorder (ASPD). This powerful 5-part infographic series delves deep into a condition often misunderstood, from its hidden manipulations to the profound impact it has on individuals and those around them, and finally, exploring pathways to hope and healing.
​Swipe through to navigate this crucial journey of understanding:
​What ASPD Is: The Mask of Manipulation
​How It Develops: Seeds of Shadow from Early Life
​Causes & Triggers: The Interplay of Mind, Body & Environment
​Effects & Impact: Shattered Trust & Emotional Emptiness
​Treatment & Hope: Towards Light & Recovery
​Knowledge sparks empathy. Let's foster understanding, challenge stigma, and open conversations around mental health. Your insights matter! "

07/11/2025

کبھی سوچا ہے ؟کچھ لوگ اکیلے فیصلے نہیں کر پاتے۔مگر کیوں
شخصیت کے اہم راز -قسط 9

کپڑے پہننے سے لے کر زندگی کے بڑے فیصلوں تک ہر قدم پر کسی کی رائے، کسی کے سہارے، کسی کے “ہاں” کی ضرورت
ہوتی ہے
اگر وہ سہارا ہٹ جائے تو ان کے اندر کی دنیا ٹوٹ جاتی ہے
یہ کمزوری نہیں، ایک ذہنی کیفیت ہے جسے کہتے ہیں
Dependent Personality Disorder
(محتاج شخصیت کا بگاڑ)

یہ ہوتا کیا ہے؟

ایسے لوگ دل سے یقین رکھتے ہیں کہ وہ اکیلے اپنی زندگی نہیں سنبھال سکتے۔
ہمیشہ کسی نہ کسی کے سہارے کی تلاش میں رہتے ہیں۔
انہیں خوف ہوتا ہے کہ اگر ان کا سہارا چلا گیا... تو وہ بکھر جائیں گے

علامات جو عام طور پر نظر آتی ہیں:

چھوٹے فیصلوں میں بھی دوسروں کی رائے کے بغیر قدم نہ اٹھا پانا
ذمہ داریوں سے بھاگ کر دوسروں پر ڈال دینا
اختلاف سے ڈرنا، کیونکہ “کہیں وہ ناراض نہ ہو جائیں”
اکیلے پن سے شدید خوف
ایک رشتہ ختم ہوتے ہی فوراً نیا سہارا تلاش کرنا
خود کو کم تر سمجھنا، اور اپنی قدر پہ شک کرنا

یہ کیوں ہوتا ہے؟

اکثر بچپن میں جب والدین بہت زیادہ تحفظ دیتے ہیں یا غیر مستقل توجہ دیتے ہیں
یا ایسا ماحول جہاں خودمختاری کی حوصلہ افزائی نہ ہو
دماغی کیمیائی تبدیلیاں بھی کردار ادا کر سکتی ہیں

زندگی پر اثر:

ایسے لوگ اکثر ایسے رشتوں میں پھنس جاتے ہیں جہاں دوسرا بندہ حاوی ہوتا ہے۔
اکثر ڈپریشن، اینزائٹی اور خوداعتمادی کی کمی کا شکار رہتے ہیں۔
کام، رشتے، اور خود کی پہچان — سب متاثر ہو جاتے ہیں۔

علاج موجود ہے:

Therapy (علاجِ نفسیات) سب سے مؤثر طریقہ ہے۔
CBT اور Psychodynamic therapy کے ذریعے خود پر بھروسہ اور آزادی واپس پانا ممکن ہے۔
اگر ساتھ میں ڈپریشن یا اینزائٹی ہو تو ادویات بھی مدد کرتی ہیں۔

یاد رکھیں:

یہ “محبت” نہیں، “سہارے کی عادت” ہے جو ہمیں بیمار کر دیتی ہے۔
وقت، سمجھ، اور صحیح مدد سے آپ ایک خودمختار، پُراعتماد، اور خوشحال زندگی گزار سکتے ہیں۔

"کبھی کبھی محبت نہیں، سہارے کی عادت بیمار کر دیتی ہے..."
اپنے اندر کے خوف کو پہچانیے، اور خود سے جینا سیکھئے۔

تحریر شمائلہ یوسف


"Behind every quiet person is a storm of thoughts they’re afraid to share."
06/11/2025

"Behind every quiet person is a storm of thoughts they’re afraid to share."









- "لوگوں سے نہیں... اپنے ڈر سے بھاگتے ہیں یہ لوگ!"شخصیت کے اہم راز-  قسط8کبھی آپ نے کسی کو دیکھا ہے جو بات کرتے ہوئے ہچک...
06/11/2025

- "لوگوں سے نہیں... اپنے ڈر سے بھاگتے ہیں یہ لوگ!"

شخصیت کے اہم راز- قسط8

کبھی آپ نے کسی کو دیکھا ہے جو بات کرتے ہوئے ہچکچاتا ہے؟
جو ہر وقت سوچتا ہے کہ "لوگ میرے بارے میں کیا سوچیں گے؟"
جو دوستی کرنا چاہتا ہے، مگر قدم نہیں بڑھا پاتا؟
یہ کمزور دل نہیں یہ
Avoidant Personality Disorder (اجتنابی شخصیتی عارضہ)
ہو سکتا ہے۔

یہ عارضہ کیا ہے؟

Avoidant Personality Disorder
ایک ذہنی و شخصی کیفیت ہے جس میں انسان خود کو دوسروں کے مقابلے میں کم تر، ناقص، یا غیر قابلِ محبت سمجھنے لگتا ہے۔
یہ لوگ تنقید یا مسترد کیے جانے کے شدید خوف میں مبتلا ہوتے ہیں۔
اس لیے وہ تعلقات سے، نئے مواقع سے، حتیٰ کہ خوشیوں سے بھی خود کو الگ کر لیتے ہیں۔

یہ کیوں ہوتا ہے؟

وجوہات مختلف ہو سکتی ہیں، جیسے:

بچپن میں تنقید، شرمندگی یا ریجیکشن کا سامنا

محبت یا قبولیت کی کمی

فیملی میں سخت رویّہ یا جذباتی دوری

بعض اوقات دماغی کیمیائی توازن
(Neurochemistry) کا بھی کردار ہوتا ہے

یاد رکھیں: یہ انسان کی اپنی "غلطی" نہیں ہوتی، بلکہ ایک نفسیاتی چوٹ ہوتی ہے جو وقت کے ساتھ گہری ہوتی جاتی ہے۔

زندگی پر اثرات

یہ عارضہ آہستہ آہستہ انسان کی زندگی کو گھیر لیتا ہے:

تنہائی اور اداسی بڑھتی ہے

خود اعتمادی ختم ہو جاتی ہے

محبت، تعلقات اور کیریئر میں مشکلات آتی ہیں

Anxiety اور Depression بھی ساتھ شامل ہو جاتے ہیں

یہ ایسا جال ہے جس میں انسان محبت چاہتا ہے مگر ڈرتا ہے مانگنے سے۔

علاج ممکن ہے — اگر پہچان لی جائے

علاج میں شامل ہو سکتا ہے:

Therapy (Cognitive Behavioral Therapy - CBT): منفی سوچوں کو بدلنے اور خود اعتمادی بڑھانے میں مدد دیتی ہے۔

Medication: اگر ساتھ میں anxiety یا depression ہو تو ڈاکٹر دوائیں تجویز کر سکتا ہے۔

Self-work: چھوٹے قدم، جیسے لوگوں سے آہستہ آہستہ بات کرنا، خود کو قبول کرنا، اپنے احساسات لکھنا۔

Support system: ایسے لوگوں کے ساتھ رہنا جو سمجھیں، نہ کہ جج کریں۔

یاد رکھیں:

یہ لوگ بے حد حساس، محبت کرنے والے، اور وفادار ہوتے ہیں — بس دل کے گرد خوف کی دیوار کھڑی کر لیتے ہیں۔
اگر آپ یا آپ کا کوئی جاننے والا اس دیوار کے پیچھے ہے…
تو ہاتھ بڑھائیں، دیوار نہیں۔

خاموش لوگ کمزور نہیں ہوتے — بس ان کے زخم نظر نہیں آتے!"

تحریر شمائلہ یوسف

"Manipulation, Gaslighting, Lack of Empathy. These are not 'normal' relationship struggles. These are traits of Narcissi...
05/11/2025

"Manipulation, Gaslighting, Lack of Empathy. These are not 'normal' relationship struggles. These are traits of Narcissistic Personality Disorder. Educate yourself on NPD."

(Narcissistic Personality Disorder)کی خوفناک حقیقت!شخصیت کے اہم راز — قسط 7کیا آپ کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں جو ہر وقت صر...
05/11/2025

(Narcissistic Personality Disorder)
کی خوفناک حقیقت!

شخصیت کے اہم راز — قسط 7

کیا آپ کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں جو ہر وقت صرف اپنی تعریف چاہتا ہے؟

یہ پڑھیں کیونکہ یہ زندگی بدل سکتا ہے۔

نارسیٹک پرسنالٹی ڈس آرڈر (NPD): کیا ہے اور کیوں ہوتی ہے؟

Narcissistic Personality Disorder (NPD) میں خود پسندی کا عارضہ یا نرگسیت پسند شخصیت کی خرابی کہا جاتا ہے۔

یہ کیا ہے؟

یہ ایک ذہنی صحت کا عارضہ ہے جس میں فرد کو اپنی اہمیت کا مبالغہ آمیز احساس ہوتا ہے۔

وہ دوسروں سے ضرورت سے زیادہ تعریف اور توجہ چاہتے ہیں، اور ان میں ہمدردی (Empathy) کا فقدان ہوتا ہے۔

باہر سے یہ لوگ بہت پُراعتماد اور خودغرض لگتے ہیں، لیکن اندر سے ان کی خود اعتمادی (Self-Esteem) بہت کمزور ہوتی ہے،

اور وہ معمولی تنقید بھی برداشت نہیں کر پاتے۔

یہ کیوں ہوتی ہے؟ (وجوہات)

NPD کی کوئی ایک واضح وجہ نہیں ہے، بلکہ یہ کئی عوامل کا مجموعہ ہے:

جینیاتی عوامل:

خاندان میں کسی اور کو NPD یا دیگر ذہنی عوارض ہونا۔

ماحولیاتی عوامل:

بچپن کے منفی تجربات جیسے جذباتی بدسلوکی (Abuse)، نظرانداز (Neglect)، یا صدمہ (Trauma)۔

والدین کا رویہ: بہت زیادہ تعریف (Excessive Adoration) یا بہت زیادہ تنقید (Excessive Criticism) —

ایسا رویہ جو بچے کی حقیقی صلاحیتوں اور کامیابیوں سے مطابقت نہ رکھتا ہو۔

نیورو بائیولوجی:

دماغ اور سوچ کے عمل کا باہمی ربط۔

زندگی پر اس کے اثرات (Life Asrat Kiya Hote Hain)

NPD نہ صرف متاثرہ شخص بلکہ اس کے آس پاس کے لوگوں کی زندگی کو بھی بری طرح متاثر کرتا ہے۔

متاثرہ شخص کے لیے:

تعلقات میں مسائل: دوستوں، خاندان اور شریکِ حیات کے ساتھ صحت مند رشتے برقرار رکھنے میں شدید مشکل۔

تنقید سے نفرت: معمولی تنقید یا ناکامی بھی غصے، شرمندگی اور خالی پن کے احساس کو جنم دیتی ہے۔

عملی زندگی میں چیلنجز: کام یا اسکول میں دوسرے لوگوں سے تنازعات اور عدم استحکام۔

دیگر دماغی صحت کے مسائل: ڈپریشن، بے چینی (Anxiety)، اور مادے کا غلط استعمال (Substance Misuse) کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

آس پاس کے لوگوں کے لیے:

جذباتی استحصال (Emotional Exploitation): NPD کا شکار شخص اپنے مقاصد کے لیے دوسروں کا استعمال کر سکتا ہے۔

ہمدردی کا فقدان: آپ کے جذبات اور ضروریات کو اہمیت نہ دینا۔

دائمی تناؤ: ایسے شخص کے ساتھ رہنے سے تعلقات میں مسلسل بے چینی اور ذہنی دباؤ رہتا ہے۔

علاج کیا ہے؟ (Ilaj Kiya)

NPD کا علاج آسان نہیں ہوتا کیونکہ متاثرہ فرد اکثر یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہوتا کہ اسے کوئی مسئلہ ہے۔

ذہنی صحت کے پیشہ ور سے مشاورت:

علاج کے لیے ماہر نفسیات (Psychiatrist) یا ماہرِ نفسیاتی معالج (Psychologist) سے رابطہ ضروری ہے۔

سائیکو تھراپی (Psychotherapy / Talking Therapy):

یہ سب سے مفید طریقہ علاج ہے، خاص طور پر Cognitive Behavioral Therapy (CBT) یا دیگر قسم کی تھراپی۔

مقصد: زیادہ حقیقت پسندانہ خودی کی تصویر بنانا، صحت مند تعلقات کو فروغ دینا،

تنقید کو برداشت کرنے کی مہارتیں سکھانا، اور ہمدردی کی صلاحیت کو بہتر بنانا۔

ادویات (Medication):

اگرچہ NPD کی کوئی خاص دوا نہیں ہے، لیکن ڈپریشن یا بے چینی جیسی ساتھ موجود علامات کے لیے ڈاکٹر ادویات تجویز کر سکتے ہیں۔

ذہن سازی اور یوگا (Mindfulness & Yoga):

بعض صورتوں میں جذبات کو سنبھالنے کے لیے یوگا یا سانس لینے کی تکنیک بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

یہ وہ خفیہ چابی ہے جس سے آپ اس رشتے کی قید سے
آزادی پا سکتے ہیں

تحریر شمائلہ یوسف

#خودپسندی #ذہنیصحت #خودغرضی

جب زندگی ایک ڈرامہ بن جائے: Histrionic Personality Disorder (HPD) کو سمجھیںشخصیت کے اہم راز - قسط 6کیا آپ نے کبھی کسی ای...
04/11/2025

جب زندگی ایک ڈرامہ بن جائے: Histrionic Personality Disorder (HPD) کو سمجھیں

شخصیت کے اہم راز - قسط 6

کیا آپ نے کبھی کسی ایسے شخص کو دیکھا ہے جو ہر حال میں توجہ کا مرکز رہنا چاہتا ہو؟ جو اپنے جذبات کو ضرورت سے زیادہ ظاہر کرتا ہو، یا جس کی زندگی کسی تھیٹر کے اسٹیج سے کم نہ ہو؟ یہ Histrionic Personality Disorder (HPD) کی علامات ہو سکتی ہیں، ایک ایسا ذہنی عارضہ جو انسان کی شخصیت اور تعلقات کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔

Histrionic Personality Disorder (HPD) کیا ہے؟
Histrionic Personality Disorder یا "ہسٹرائیونک شخصیتی اضطراب" ایک ذہنی صحت کی کیفیت ہے جس کی پہچان یہ ہے کہ متاثرہ شخص لگاتار حد سے زیادہ توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اس کے جذبات شدید، غیر مستحکم اور اکثر سطحی ہوتے ہیں۔ "Histrionic" کا مطلب ہی "ڈرامائی" یا "تھیٹر نما" ہے۔
متاثرہ شخص کی خود اعتمادی (Self-esteem) پوری طرح دوسروں کی تعریف اور منظوری پر منحصر ہوتی ہے، نہ کہ اپنی اندرونی قدر پر۔ جب وہ توجہ کا مرکز نہیں ہوتے تو انہیں بے چینی اور تکلیف محسوس ہوتی ہے۔

یہ کیوں ہوتی ہے؟
HPD کی کوئی ایک واضح وجہ نہیں ہے، بلکہ یہ متعدد عوامل کا مجموعہ ہو سکتی ہے:
وراثتی عوامل (Genetic Factors): یہ عارضہ خاندانوں میں چل سکتا ہے، جو بتاتا ہے کہ اس میں جینیاتی کمزوری شامل ہو سکتی ہے۔
بچپن کے تجربات (Childhood Experiences):
وہ بچے جن کے والدین نے انہیں غیر مستقل مزاجی سے توجہ دی ہو (صرف ڈرامائی یا زیادہ جذباتی ہونے پر ہی توجہ ملی ہو)۔
صدماتی واقعات (Traumatic Events) یا بچپن کا جذباتی استحصال (Emotional Abuse) بھی شخصیت کے بگاڑ کا سبب بن سکتا ہے۔
سماجی ماحول (Social Environment): ایسا ماحول جہاں صرف ظاہری خوبصورتی، سیکسی پن اور شدید جذبات کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہو۔

زندگی پر کیا اثرات ہوتے ہیں؟ (علامات اور نتائج)
HPD کے شکار افراد کی زندگی اور ان کے تعلقات (Relationships) پیچیدہ اور غیر مستحکم ہوتے ہیں:

اہم علامات:

توجہ کی شدید طلب: ہر محفل میں توجہ کا مرکز بننے کی خواہش۔ اگر وہ توجہ میں نہ ہوں تو پریشان ہو جاتے ہیں۔

جذباتی ڈرامہ: جذبات کا بہت زیادہ اظہار (جیسے معمولی بات پر بھی بہت بلند آواز میں رونا یا ہنسنا) جو اکثر غیر حقیقی یا سطحی لگتا ہے۔

تیزی سے بدلتے جذبات: ان کے جذبات بہت جلدی بدلتے ہیں، جس سے دوسرے انہیں مخلص (Sincere) یا گہرا نہیں سمجھتے۔

نامناسب جنسی رویہ: توجہ حاصل کرنے کے لیے اکثر نامناسب حد تک دلکش یا اشتعال انگیز (Seductive) برتاؤ کرتے ہیں۔

ظاہری شکل پر زیادہ توجہ: اپنی جسمانی شکل و صورت اور لباس پر حد سے زیادہ توجہ دینا تاکہ دوسروں کو متاثر کیا جا سکے۔

غیر واضح بات چیت: ان کی گفتگو اکثر مبہم اور تفصیلات سے خالی ہوتی ہے، لیکن ڈرامائی انداز سے بھرپور ہوتی ہے۔

تعلقات میں غلط فہمی: کسی معمولی جاننے والے کے ساتھ بھی بہت زیادہ قربت (Intimacy) کا دعویٰ کرنا۔

آسانی سے متاثر ہونا: دوسروں یا حالات سے بہت جلد متاثر ہو جاتے ہیں۔

زندگی پر نتائج:

ناکام تعلقات: ان کا ڈرامائی اور جذباتی برتاؤ اکثر دوستوں اور پارٹنرز کو دور کر دیتا ہے۔

پیشہ ورانہ مسائل: کام کی جگہ پر مستقل توجہ حاصل کرنے کی کوششیں اور جذباتی عدم استحکام کیرئیر میں رکاوٹ بنتا ہے۔

ذہنی تناؤ: انہیں اضطراب (Anxiety)، ڈپریشن اور جسمانی علامات کے اضطراب (Somatic Symptom Disorder) جیسے دیگر مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

خود کو نقصان پہنچانا: توجہ حاصل کرنے یا مایوسی کے عالم میں خودکشی کی کوششیں یا خود کو نقصان پہنچانے والے رویے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

علاج کیا ہے؟ (Treatment)
HPD کے علاج کا بنیادی مقصد متاثرہ شخص کو یہ سکھانا ہے کہ وہ صحت مند طریقے سے توجہ کیسے حاصل کر سکتا ہے، اپنی خود اعتمادی کو بہتر بنا سکتا ہے، اور گہرے، مخلص تعلقات کیسے قائم کر سکتا ہے۔

نفسیاتی علاج (Psychotherapy): یہ سب سے اہم علاج ہے۔
Psychodynamic Therapy: ماضی کے تجربات اور لاشعوری نفسیاتی محرکات کو سمجھنے میں مدد کرتا ہے جو موجودہ طرزِ عمل کو چلا رہے ہیں۔
Group Therapy: گروپ میں شامل ہو کر مریض اپنے رویے کا دوسروں پر پڑنے والا اثر دیکھ پاتے ہیں اور دوسرے مریضوں سے سیکھتے ہیں۔

ادویات (Medication): HPD کا کوئی خاص علاج ادویات سے نہیں ہوتا، لیکن اگر مریض کو ڈپریشن یا اضطراب جیسی ہم آہنگ بیماریاں ہوں تو ان کا علاج اینٹی ڈپریسنٹ (Antidepressants) یا اینٹی اینگزائٹی ادویات سے کیا جا سکتا ہے۔

ایک اہم بات: چونکہ یہ لوگ اکثر اپنے برتاؤ کو مسئلہ نہیں سمجھتے، اس لیے انہیں علاج کے لیے قائل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ علاج کی کامیابی کے لیے ان کا علاج کے عمل میں شامل رہنا بہت ضروری ہے۔

فوراً توجہ دیں!
اگر آپ یا آپ کا کوئی جاننے والا مستقل طور پر اس طرح کے رویوں کا مظاہرہ کر رہا ہے، تو کسی ماہر نفسیات یا ذہنی صحت کے پیشہ ور سے رابطہ کرنا بہت ضروری ہے۔
صحت مند زندگی ایک ڈرامہ نہیں، حقیقت ہوتی ہے۔

تحریر: شمائلہ یوسف











Can you imagine a world where you can't trust anyone? ​That’s the daily reality for someone with Paranoid Personality Di...
03/11/2025

Can you imagine a world where you can't trust anyone?

​That’s the daily reality for someone with Paranoid Personality Disorder (PPD).

​It's a condition marked by deep, pervasive mistrust and suspicion of others.
​They believe people are constantly trying to deceive or harm them, even friends and family.
​It’s not just overthinking; it's living in a constant, exhausting state of defense and fear.
​Their emotional shield is always up, leading to isolation and pain.

​PPD is complex, often rooted in past trauma, and it requires empathy and professional help.
​Understanding is the first step toward compassion.

​Swipe through this carousel to learn the key signs of PPD, and let's replace judgment with knowledge.

​👉 Save this post to remember this info.

​💬 Comment with a 💙 if you believe in mental health awareness.

شخصیت کے اہم راز- قسط4کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ کچھ لوگ دوسروں کے جذبات کو نظرانداز کیوں کرتے ہیں؟ یہ پڑھنا ضروری ہےAnti...
02/11/2025

شخصیت کے اہم راز- قسط4

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ کچھ لوگ دوسروں کے جذبات کو نظرانداز کیوں کرتے ہیں؟ یہ پڑھنا ضروری ہے

Antisocial Personality Disorder (غیر سماجی شخصیت کی خرابی)
ایک خاموش حقیقت جس کو سمجھنا ضروری ہے

غیر سماجی شخصیت کی خرابی (ASPD)
جسے عام زبان میں Sociopathy بھی کہا جاتا ہے، ایک سنجیدہ ذہنی حالت ہے جس میں مبتلا شخص مسلسل دوسروں کے حقوق کو نظر انداز کرتا ہے اور سماجی اصولوں کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ یہ صرف "برا" ہونا نہیں، بلکہ ایک صحت کا مسئلہ ہے جسے مدد کی ضرورت ہے۔

کیا ہے یہ؟ (Antisocial Personality Disorder)
ASPD میں مبتلا فرد اکثر دوسروں کو نقصان پہنچانے یا ان سے فائدہ اٹھانے کے بعد پچھتاوے یا شرمندگی کا احساس نہیں کرتا۔ وہ جھوٹ بول سکتے ہیں، فریب دے سکتے ہیں، اور اپنے یا دوسروں کی حفاظت کی پرواہ کیے بغیر خطرناک رویہ اختیار کر سکتے ہیں۔ ان کا رویہ بچپن یا ابتدائی نوجوانی میں ہی ظاہر ہونا شروع ہو جاتا ہے (Conduct Disorder کی شکل میں)۔

یہ کیوں ہوتا ہے؟
اس کی کوئی ایک وجہ نہیں ہے۔ یہ دراصل جینز اور ماحول کا ایک پیچیدہ امتزاج ہے۔

جینیاتی اور خاندانی تاریخ: اگر خاندان میں کسی کو یہ عارضہ ہو تو خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

بچپن کے تجربات: بچپن میں ہونے والی بدسلوکی، نظرانداز، یا شدید صدمے (Trauma) اس کے فروغ کا باعث بن سکتے ہیں۔

دماغی افعال میں تبدیلیاں: دماغ کے کچھ حصوں کا غیر معمولی کام کرنا بھی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔

علاج کیا ہے؟
ASPD کا علاج مشکل ہو سکتا ہے کیونکہ مریض اکثر محسوس نہیں کرتے کہ انہیں مدد کی ضرورت ہے۔ لیکن صحیح علاج سے بہتری ممکن ہے:

سائیکوتھراپی (Talk Therapy): خاص طور پر Cognitive Behavioral Therapy (CBT) غصے کے انتظام، جارحانہ رویے اور غلط سوچ کے نمونوں کو تبدیل کرنے میں مدد کر سکتی ہے۔

دواؤں کا استعمال: اگرچہ اس عارضے کے لیے کوئی مخصوص دوا نہیں ہے، لیکن ڈاکٹر غصے، چڑچڑاپن، یا ڈپریشن جیسی منسلک علامات کے لیے دوائیں تجویز کر سکتے ہیں۔

طویل مدتی سپورٹ: مستقل دیکھ بھال اور فالو اپ اس حالت کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے بہت اہم ہے۔

ہم کیا کر سکتے ہیں؟
اس عارضے میں مبتلا شخص کو مجرم سمجھنے کے بجائے، اسے ایک ذہنی صحت کا مسئلہ سمجھنا ضروری ہے۔ ہمدردی اور سپورٹ کا رویہ اپنا کر، ہم ان کے لیے علاج کا راستہ آسان بنا سکتے ہیں اور انہیں معاشرے کا فعال حصہ بننے میں مدد دے سکتے ہیں۔

اگر آپ یا آپ کا کوئی عزیز اس قسم کے رویے کا مظاہرہ کرتا ہے، تو پیشہ ورانہ مدد لینا پہلا قدم ہے۔ ذہنی صحت کے ماہر سے رابطہ کریں۔

اس پوسٹ کو شیئر کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس خاموش حقیقت کو سمجھ سکیں!

تحریر: شمائلہ یوسف
#سوشیوتھی

01/11/2025

شخصیت کے 10 راز - قسط 3

کیا آپ نے کبھی ایسے شخص سے ملاقات کی ہے جو 'عجیب و غریب' ہو، جس کے خیالات عام لوگوں سے بالکل مختلف ہوں، اور وہ ہمیشہ سماجی ماحول میں الجھا ہوا محسوس کرے؟

Schizotypal Personality Disorder:

Schizotypal Personality Disorder (STPD) کا شکار شخص اکثر تنہائی اور غلط فہمی کا شکار ہوتا ہے۔ انہیں عجیب و غریب یا سنکی سمجھا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں وہ اندرونی پریشانی اور ایک ایسی دنیا میں جی رہے ہوتے ہیں جہاں ان کی سوچ دوسروں سے میل نہیں کھاتی۔ ان کی انوکھی سوچ اور رویہ اکثر انہیں رشتے بنانے سے روکتا ہے۔ آئیے، آج اس خاموش جدوجہد کو سمجھیں اور ذہنی صحت کے بارے میں آگاہی کو فروغ دیں۔

Schizotypal Personality Disorder (STPD) شخصیت کے ان عوارض (Personality Disorders) میں سے ایک ہے جسے سمجھنا بہت ضروری ہے۔ یہ کوئی عام شرمیلا پن یا انوکھا پن نہیں ہے، بلکہ دماغی صحت کی ایک ایسی حالت ہے جو کسی شخص کے سوچنے، محسوس کرنے اور دوسروں سے تعلقات بنانے کے طریقے کو گہرائی سے متاثر کرتی ہے۔

یہ کیا ہے اور کیوں ہوتا ہے؟

STPD سے متاثرہ افراد کو عام طور پر قریبی تعلقات میں شدید بے چینی (discomfort) محسوس ہوتی ہے۔ وہ دوسروں کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ مختلف یا 'غیر معمولی' ہیں۔ ان کی دنیاوی سوچ اور رویے میں کچھ خاص انوکھی چیزیں ہو سکتی ہیں۔

عجیب و غریب عقائد:
جیسے جادوئی سوچ (Magical Thinking)، توہم پرستی پر حد سے زیادہ یقین، یا یہ سمجھنا کہ ان کے پاس کوئی خاص، غیر معمولی طاقت ہے۔

حقیقت کا بگاڑ:
عام باتوں یا واقعات کو اپنے لیے خاص معنی دینا (Idea of Reference)۔

شدید سماجی پریشانی:
لوگوں سے ملنے جلنے میں مسلسل خوف اور اضطراب محسوس کرنا، یہاں تک کہ جب ماحول آرام دہ ہو۔

انفرادی یا غیر معمولی بول چال:
ان کے بات کرنے کا انداز الجھا ہوا، مبہم یا غیر معمولی الفاظ کا استعمال کرنے والا ہو سکتا ہے۔

بے ڈھنگا پن یا شک:
ان کا لباس اور وضع قطع بے ترتیبی کا شکار ہو سکتا ہے، اور وہ اکثر دوسروں کے ارادوں پر شک کرتے ہیں یا وہمی (paranoid) ہوتے ہیں۔

کیوں ہوتا ہے؟ (وجوہات)

اس کی کوئی ایک یقینی وجہ نہیں ہے، لیکن زیادہ تر ماہرین کا خیال ہے کہ یہ کئی عوامل کا مجموعہ ہے:

جینیاتی پہلو:
یہ عارضہ اکثر ایسے خاندانوں میں زیادہ دیکھا جاتا ہے جہاں شیزوفرینیا (Schizophrenia) یا دیگر شخصیت کے عوارض (Personality Disorders) کی تاریخ موجود ہو۔ اسے اکثر شیزوفرینیا سپیکٹرم (Schizophrenia Spectrum) پر ایک کم شدید حالت سمجھا جاتا ہے۔

ماحولیاتی عوامل:
بچپن کے صدمے، لاپرواہی، یا خاندان میں مشکل تعلقات کا بھی کردار ہو سکتا ہے۔

دماغی کیمیا:
دماغ میں بعض کیمیکلز (نیورو ٹرانسمیٹرز) کا عدم توازن بھی اس کی ایک وجہ ہو سکتا ہے۔

علاج کیا ہے؟

یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو زندگی بھر ساتھ رہ سکتا ہے، لیکن مناسب علاج اور دیکھ بھال سے علامات کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے اور زندگی کا معیار بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

بات چیت کا علاج (Psychotherapy):
ایک ماہر معالج کے ساتھ اعتماد کا رشتہ قائم کرنے سے مریض سماجی مہارتیں سیکھ سکتا ہے، اپنی بے چینی کو سنبھالنا سیکھتا ہے، اور اپنی عجیب و غریب سوچ کو پہچاننا شروع کرتا ہے۔ Cognitive Behavioral Therapy (CBT) اس میں بہت مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

ادویات (Medication):
اگر علامات میں شدید اضطراب، ڈپریشن، یا شک شامل ہو تو ڈاکٹر کم خوراک والی اینٹی ڈپریسنٹ (Antidepressant) یا اینٹی سائیکوٹک (Antipsychotic) ادویات تجویز کر سکتے ہیں۔

مدد اور سپورٹ:
فیملی تھراپی اور سپورٹ گروپس بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں، جو مریض کو سماجی دوری اور تنہائی سے نکلنے میں مدد دیتے ہیں۔

یاد رکھیں: اگر آپ یا آپ کا کوئی عزیز ایسی علامات کا سامنا کر رہا ہے، تو ماہرِ نفسیات (Psychiatrist) یا ماہرِ نفسیاتی علاج (Psychologist) سے رابطہ کرنا پہلا اور سب سے اہم قدم ہے۔ مدد طلب کرنا کمزوری نہیں، بلکہ طاقت کی نشانی ہے۔

تحریر: شمائلہ یوسف










31/10/2025

شخصیت کے 10 راز - قسط 2

Schizoid Personality Disorder (SPD) اور وہ لوگ جو تنہائی کو ترجیح دیتے ہیں

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ کچھ لوگ خود کو سب سے الگ کیوں رکھتے ہیں؟
کیا وہ ہمیں ناپسند کرتے ہیں، یا پھر یہ کوئی اندرونی جدوجہد ہوتی ہے؟

ہم سب کو کبھی نہ کبھی تنہائی اچھی لگتی ہے، لیکن کچھ لوگوں کے لیے تنہا رہنا زندگی گزارنے کا واحد طریقہ بن جاتا ہے۔
Schizoid Personality Disorder (SPD) ایک ایسی حالت ہے جہاں ایک شخص کو دوسروں سے جذباتی لگاؤ پیدا کرنے یا قریبی رشتے بنانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی۔
یہ ان کا شعوری انتخاب نہیں ہوتا ۔ ان کا اندرونی نظام اسی طرح کام کرتا ہے۔

Schizoid Personality Disorder
کیا ہے؟
یہ ایک ذہنی عارضہ ہے جس کی بنیادی علامت سماجی تعلقات سے مسلسل لاتعلقی اور دوسروں کے سامنے جذبات کے اظہار میں شدید کمی ہے۔

وہ کیسا محسوس کرتے ہیں؟

تعلقات میں عدم دلچسپی
ایسے لوگ دوستوں، رومانوی رشتوں یا حتیٰ کہ قریبی خاندانی تعلقات کی نہ تو خواہش رکھتے ہیں اور نہ ہی ان سے خوشی حاصل کرتے ہیں۔

خود ساختہ تنہائی
یہ شعوری طور پر ایسے مشاغل یا ملازمتیں چنتے ہیں جہاں انہیں اکیلے کام کرنے کا موقع ملے۔
انہیں تنہا رہنا برا نہیں لگتا، بلکہ وہ اسی میں سکون محسوس کرتے ہیں۔

جذباتی کمزوری
دوسروں کو یہ افراد جذباتی طور پر سرد یا بے حس لگتے ہیں۔
تعریف یا تنقید — کسی کا ان پر خاص اثر نہیں ہوتا۔

روزمرہ کی زندگی
یہ اکثر خیالی دنیاؤں یا اپنی اندرونی سوچوں میں مصروف رہنا پسند کرتے ہیں۔

یہ کیوں ہوتی ہے؟ وجوہات کیا ہیں؟

جینیاتی اور حیاتیاتی عوامل
یہ عارضہ بعض اوقات خاندانوں میں چلتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس میں وراثتی عنصر شامل ہو سکتا ہے۔

بچپن کے تجربات
ایسے والدین جن کا رویہ جذباتی طور پر سرد یا بے توجہی والا ہو، اپنے بچوں کی جذباتی ضروریات پوری نہیں کرتے۔
ایسے ماحول میں پلنے والے بچے بعد میں لوگوں سے دور رہنے کا رجحان اختیار کر سکتے ہیں۔

علاج اور مدد

اکثر ایسے افراد کو مدد کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کا طرزِ زندگی بالکل معمول کے مطابق ہے۔
تاہم، اگر انہیں ڈپریشن یا گھبراہٹ جیسے مسائل لاحق ہوں تو علاج مددگار ثابت ہوتا ہے۔

تھراپی
Cognitive Behavioral Therapy (CBT) ان کی سماجی مہارتوں کو بہتر بنانے اور انسانی رابطوں کی قدر سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے۔
اگرچہ یہ ایک سست عمل ہے، مگر مقصد انہیں بدلنا نہیں بلکہ سماجی دباؤ سے بہتر طور پر نمٹنے کے قابل بنانا ہے۔

ادویات
SPD کا براہِ راست علاج دواؤں سے نہیں کیا جاتا۔
البتہ، ادویات اُن مسائل میں مدد کر سکتی ہیں جو اس کے ساتھ پیدا ہوں، جیسے کہ گھبراہٹ یا ڈپریشن۔

ہماری ذمہ داری

ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اُن لوگوں کو سمجھیں جو سماجی میل جول کے بجائے تنہائی کا انتخاب کرتے ہیں۔
انہیں صرف “عجیب” یا “تنہائی پسند” کہہ کر رد نہ کریں —
ہو سکتا ہے کہ وہ ایک خاموش اندرونی جنگ لڑ رہے ہوں۔

آپ کی رائے میں، ہم اپنے معاشرے میں ذہنی صحت کے بارے میں آگاہی کیسے بڑھا سکتے ہیں تاکہ ایسے لوگ مدد لینے میں ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں؟
نیچے کمنٹس میں اپنا خیال شیئر کریں اور اس پیغام کو دوسروں تک پہنچائیں تاکہ ہم سب ایک دوسرے کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔

تحریر شمائلہ یوسف

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dil ki Baat Shumaila k sath posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram