Hakeem Shams

Hakeem Shams Hakeem,Herbalist,Specialist in Tib-e-nabvi and alternative medicine

22/03/2024

Migraine - آدھے سر کا درد

میرے لئے یہ مفروضہ حیرت انگیز ہے کہ آدھے سر کے درد کا علاج ممکن نہیں۔ یہ بس ہو تو سر درد کی دوا لے لیں تاکہ آپ کو temporary relief مل جائے۔ ایسا ہرگز نہیں۔ Migraine کی بھی دو قسمیں ہوتی ہیں۔ ایک اعصابی اور دوسرا غدی۔ آسان الفاظ میں یہ کا اگر جسم میں ٹھنڈ یا تری زیادہ ہو جائے تو وہ اعصابی migraine ہے۔ درد سر کی دائیں جانب ہو گا۔ اسی طرح اگر migraine جسم میں گرمی بڑھنے کی صورت میں سامنے آے تو وہ غدی migraine کہلائے گا۔ اس میں درد سر کی بائیں جانب میں ہو گا۔ اب اس کے علاج کی طرف آتے ہیں۔ اعصابی migraine کے لئے لونگ، دارچینی اور لیموں کا قہوہ استعمال کریں۔ میٹھی اور ٹھنڈی چیزوں سے پرہیز کریں۔ آلو، مٹر، گوبھی، بینگن،کریلے،گوشت، چکن، چنے اور لوبیا کا استعمال زیادہ کریں۔ پھلوں میں آڑو، سٹرابیری، مالٹا اور انار کا استعمال زیادہ کریں۔ یہ خوراک جسم میں رطوبات کی زیادتی کو ختم کرنے میں معاون ثابت ہوں گی۔ ایک مہینے تک یہ روٹین اپنانے سے Migraine سے ہمیشہ کیلئے چھٹکارا مل جائے گا۔ اوپر بتایا گیا قہوہ بھی ایک مہینہ متواتر استعمال کرنا ہے۔ اب اگر غدی migraine کے علاج کی بات کی جائے تو اس کے لیے گلِ سرخ، سبز الائچی اور زیرا سفید کا قہوہ استعمال کریں۔ دودھ میں بنی اشیا کا استعمال زیادہ کریں۔ تلی ہوئی اشیاء کا استعمال ترک کر دیں۔ گوشت کا استعمال بھی گھٹا دیں۔ مرچ مصالحہ بھی کچھ عرصہ اپنی زندگی سے ختم کرنا ہو گا۔ کدو، ٹینڈے، توری، اروی، بھنڈی، دال ماش اور دنبے کے گاشت کا استعمال زیادہ کریں۔ پھلوں میں کیلا، سیب اور اناناس استعمال کریں۔ اس migraine سے بھی آپ کی جان چھوٹ جائے گی انشاللہ۔

یہ نوٹ کر لیں کہ اس کے علاوہ جو عموماً سر درد کی جن کو شکایت ہوتی ہے وہ گیس کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اس میں سر اور پر پٹی کی نسوں میں درد اور تناؤ رہتا ہے۔ اس کے لیے سونف، ہلدی اور سبز الائچی کے قہوے کے دو سے تین کپ استعمال کریں۔ کچھ ہی دیر میں آرام آ جائے گا۔
دعاؤں میں یاد رکھیئے گا

20/03/2024

‏گردے کی پتھری کی وجوہات اور علاج؟۔
Kidney stones
گردوں کی پتھری ایک نہایت تکلیف دہ بیماری ہے، پاکستان میں تقریباً %15 آبادی اس کا شکار ہوتی ہے،ہر سال، آدھے ملین سے زائد افراد گردے کی پتھری کے مسائل کے لیے ایمرجینسی روم میں جاتے ہیں۔پتھری؛ گردوں سمیت پیشاب کی نالی اور مثانے میں ہو سکتی ہے۔باقی بچوں میں گردوں کی پتھری بڑوں کی نسبت کم ہوتی ہے۔لیکن دمہ والے بچوں میں کچھ زیادہ امکان ہو سکتے ہیں۔

گردے کی پتھری کیا ہے؟
عام طور پر، آپ کے گردے پیشاب بنانے کے لیے آپ کے خون سے فضلہ نکالتے ہیں۔ جب آپ کے خون میں بہت زیادہ فضلہ ہوتا ہے اور آپ کا جسم کافی پیشاب نہیں بنا رہا ہوتا ہے، تو آپ کے گردوں میں کرسٹل بننا شروع ہو جاتے ہیں۔ یہ کرسٹل دوسرے فضلہ اور کیمیکلز کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں تاکہ ایک ٹھوس چیز (گردے کی پتھری) بن جائے جو اس وقت تک بڑی ہوتی جائے گی جب تک کہ یہ آپ کے پیشاب میں آپ کے جسم سے باہر نہ نکل جائے۔
باقی گردے کی پتھری ریت کے ایک دانے کی جتنی چھوٹی یا گولف کی گیند کی جتنی بڑی ہوسکتی ہے۔

گردے کی پتھری کی علامات
عموماً گردے کی چھوٹی پتھری درد یا دیگر علامات کا سبب نہیں بن سکتی۔ یہ “خاموش پتھر” جسم سے پیشاب کے ذریعے نکل جاتی ہیں۔لیکن، جب یہ حرکت کرنا شروع کر دیتی ہے یا بہت بڑی ہو جاتی ہے، تو پھر مریض کو علامات ہو سکتی ہیں جیساکہ
1:درد کے ساتھ متلی یا الٹی ہونا
2:کمر کے ایک یا دونوں اطراف میں شدید درد کا ہونا اور درد کمر سے پیٹ کی طرف جا تا ہے۔
3:پتھری کا درد لہروں کی شکل میں آۓ گا اور شدت اختیار کر دیگا۔
4:بخار یا سردی کا لگنا
5:پیشاب میں خون اور بد بو یا ابر آلود کا نظر آنا اور پیشاب کرتے وقت درد محسوس کرنا
6:زیادہ کثرت سے پیشاب کرنے کی ضرورت محسوس کرنا۔

گردے کی پتھری کی وجوہات / رسک فیکٹر
1. کم پانی پینے کی عادت کا ہونا (Dehydration)
2. موروثی طور پر پتھری کا ہونا
3 بار بار پیشاب کی نالی میں انفیکشن ہونا
4:پیشاب کی نالی میں رکاوٹ کا آنا
5. وٹامن سی یا کلیشیم والی دواؤں کا بے حد استعمال کرنا
6:لمبے عرصے تک شوگر کا مریض رہنا
7:ہائپر پائرا تھارائیڈ زم کی بیماری کا ہونا
8:ایسی غذا کا زیادہ استعمال کرنا جس میں پتھری بنانے والے مادے شامل ہوں (مثال کے طور پر، فاسفیٹ، گوشت، مچھلی، پھلیاں اور دیگر پروٹین سے بھرپور غذاؤں میں ہوتا ہے) اور سوڈیم (کھانے میں نمک زیادہ) شکر (فرکٹوز اور سوکروز کا زیادہ ہونا)
9:اور دیگر وجوہات میں جیسے ہائی بلڈ پریشر،موٹاپا
،آسٹیوپوروسس،گاؤٹ اور سسٹک فائبروسس،گردے کے سسٹ، آنتوں کی سوزش کی بیماری اور دائمی اسہال وغیرہ شامل ہو سکتی ہے۔

گردوں کی پتھری کی تشخیص و علاج
تشخیص اور علاج کےلئے ڈاکٹر سے رجوع کریں ،گردے کی پتھری کا علاج اس بات پر منحصر ہے کہ پتھری کا سائز کیا ہے، یہ کس چیز سے بنی ہے، اس سے درد ہو رہا ہے یا یہ پیشاب کی نالی کو روک رہا ہے یا نہیں ،
عموماً الٹراساؤنڈ سے گردے کی پتھری کی تشخیص کی جاتی ہے، لیکن CT scan سب سے اچھا ٹیسٹ مانا جاتا ہے۔
باقی پتھری کا علاج پتھری کے سائز اور مریض کی حالت پہ ڈیپنڈ کرتا ہے، 10mm سے چھوٹی پتھری کو میڈیسن کے زریعے اور وافر مقدار میں پانی پینے سے پیشاب کے ذریعے نکالا جا سکتا ہے، جتنا چھوٹی پتھری ہو گی ،اتنا پتھری نکلنے کے چانسز زیادہ ہوں گئے،جیسے 5mm سے چھوٹی پتھری کے تقریباً 70 پرسنٹ چانسز ہوتے ہیں ، پیشاپ کے زریعے نکلنے کے،اور 10mm سے زیادہ پتھری کے صرف 20 پرسنٹ چانسز ہوتے ہیں، جس مریض کی پتھری میڈیسن سے نہ نکل سکے تو پھر اس کے لیے شاک ویو لیتھوٹریپسی اور دیگر سرجری کی جاسکتی ہیں۔

25/10/2023

روزانہ میاں بیوی کی قربت صحت کے لیۓ مفید یا خطرناک جانیں

جنسی تعلق۔۔
صحت مند جنسی زندگی آپ کی مجموعی صحت کو فائدہ پہنچاتی ہے ا ۔ تولیدی فائدہ ہونے کے علاوہ، صحت مند جنسی تعلق جسمانی، ذہنی، جذباتی اور سماجی زندگی کو بھی بہتر بناتی ہے

جنسی تعلق یا سرگرمی کے فوائد۔۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ جنسی سرگرمی دل کی صحت کو بڑھاتی ہے اور آپ کے دل کو صحت مند رکھتی ہے؟۔

روزانہ جنسی تعلقات کے صحت کے حوالے سے فوائد مندرجہ ذیل ہیں

۔ ایک صحت مند جنسی زندگی کا مطلب ہے کہ اپنے ساتھی کے جذبات کو اچھی طرح سمجھیں اور یہ دیکھیں کہ وہ سب سے زیادہ کیا چاہتا ہے۔ یہ جنسی قربت کو فروغ دے گا اور آپ کی جنسی زندگی کو مزید دلچسپ بنا دے گا۔ یاد رکھیں جتنا آپ یہ کریں گے، آپ کی شادی یا رشتہ اتنا ہی بہتر ہوگا۔ یہاں ہر روز جنسی تعلقات کے کچھ صحت کے فوائد مندرجہ ذیل ہیں۔

جنسی تعلق۔۔۔۔

اچھی نیند
جنسی تعلق آپ کے جسم کو آکسیٹوسن اور اینڈورفنز نامی خوشی کے ہارمونز جاری کرتا ہے جو قربت اور ساتھ رہنے کی خواہش کو بڑھاتے ہے۔ یہ جنسی ہارمونز بہتر نیند میں مدد کرتے ہیں اور اچھی نیند مندرجہ ذیل فوائد کا باعث بنتی ہے:

لمبی زندگی مضبوط مدافعتی نظاممطمئن نیندآپ کو سارا دن توانائی بخشتا ہے۔ جنسی تعلق تناؤ کو کم کرتا ہے۔روزانہ جنسی تعلقات اینڈورفنز ہارمونز کو بڑھا کر تناؤ کو کم کرتے ہیں بلڈ پریشر کے خطرات کو کم کرتا ہے۔ضرورت سے زیادہ تناؤ کے نتیجے میں بلڈ پریشر بڑھنے کا خطرہ ہو سکتا ہے۔ زیادہ جنسی سرگرمی ، پریشر بڑھنے کے خطرات کو روکتی ہے

آپ جوان نظر آتے ہیں۔۔۔۔۔

اگر آپ جلد کے مسائل کا شکار ہیں تو آپ باقاعدگی کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے پر غور کریں چند دن کے اندر آپ محسوس کریں گے کہ آپ کی جلد ایک متحرک ساخت حاصل کر رہی ہے۔ اس قدرتی چمک کو تناؤ کے ختم ہونے اور مثبت سوچ سے منسوب کیا جا سکتا ہے

کینسر کے خطرات کو کم کرتا ہے۔۔۔

۔جی ہاں، روزانہ جنسی سرگرمی پروسٹیٹ کینسر کے خطرات کو کم کرتی ہے۔ پروسٹیٹ کینسر بنیادی طور پر غیر معمولی خلیوں کی نشوونما کی وجہ سے ہوتا ہے جو زیادہ عرصے تک سپرم کے اخراج نہ ہونے کی وجہ سے تیزی سے بڑھ سکتے ہیں

دل کی صحت کے لیے اچھا ہوتا ہے۔۔۔

۔روزانہ سیکس دل کی بیماریوں جیسے فالج اور بلڈ پریشر کے خطرات کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔ 9. کیلوریز جلتی ہے۔وزن کم کرنا چاہتے ہیں؟ باقاعدگی سے جنسی تعلقات ایسا کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔ جی ہاں، روزانہ سیکس کیلوریز جلانے کا ایک قدرتی طریقہ ہے۔
طویل زندگی کا دورانیہ۔۔۔۔۔
سوچ رہے ہیں کہ طویل عرصے تک زندہ رہنے کا راز کیا ہے؟ زیادہ جنسی تعلقات زندگ کا دورانیہ بڑھاسکتے ہیں اس کے علاوہ، اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ صحت مند غذا کا استعمال کریں جس میں بادام، اخروٹ، ایوکاڈو، ڈارک چاکلیٹ، کیلے، تربوز وغیرہ شامل ہیں۔ یاد رکھیں کہ ایک فعال طرز زندگی زیادہ خوشی اور لمبی عمر کا اضافہ کرتا ہے۔

ہارمونل بیلنس۔۔۔۔۔
باقاعدگی سے جنسی تعلقات ٹیسٹوسٹیرون اور ایسٹروجن دونوں کی سطح کو بڑھاتا ہے۔ عام طور پر، مردوں میں زیادہ ٹیسٹوسٹیرون اور کم ایسٹروجن ہوتا ہے، عورتوں کے لیے اس کے برعکس ہوتا ہے۔ باقاعدگی سے جنسی تعلقات مردوں اور عورتوں میں ان دونوں ہارمونز کی پیداوار کو بڑھاتا ہے۔

اس کے نتیجے میں ، ایک مضبوط عضلاتی نظام اور اعلیٰ ٹیسٹوسٹیرون سے دل کی صحت بہتر ہوتی ہے۔ اعلی ایسٹروجن کی سطح خواتین میں دل کی بیماری کے کم خطرے اور مردوں میں پرسکون شخصیت سے منسلک ہوتی ہے۔

ڈپریشن کا کم خطرہ۔۔۔۔۔
روزانہ سیکس کا ایک فائدہ باقاعدہ ورزش کے فوائد کی طرح ہے، یہ خوشی کے ہارمونز جیسے ڈوپامائن، سیروٹونن، اینڈورفنز اور آکسیٹوسن کو جاری کرتا ہے۔ یہ محسوس کرنے والے اچھے ہارمونز ڈپریشن کو روکنے میں مدد کرتے ہیں اور آپ کے ساتھ تناؤکے بڑھنے کے خطرے کو کم کر سکتے ہیں۔

بہتر یادداشت۔۔۔۔
کچھ مطالعات میں، باقاعدگی سے جنسی تعلقات خواتین کی یادداشت پر مثبت اثر دکھاتے ہیں، اس کا تعلق ہپپوکیمپس کے ہارمونز سے ہوتا ہے ۔ ہپپوکیمپس آپ کے دماغ کا ایک حصہ ہے جو حفظ کرنے اور سیکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے،

خواتین 40 سے 65 سال کی عمر کے درمیان کسی بھی وقت سیکس کرنے کی خواہش کھو دیتی ہیں۔

لہذا اس بات کو یقینی بنائیں کہ جب آپ کے پاس پوری توانائی، قربت اور اسے کرنے کی خواہش ہو تو آپ بہترین سے لطف اندوز ہوں۔

روزانہ سیکس کرنا آپ کی مجموعی صحت کے لیے بالکل ٹھیک اور فائدہ مند ہے۔ اچھی قلبی صحت ہو یا متحرک جلد، سیکس آپ کے رشتے کو زندہ، دلچسپ اور قریبی رکھنے کا بہترین طریقہ ہے۔

09/10/2022
12/11/2021

وہ نشانیاں جو گردوں کے امراض کی جانب اشارہ کریں
پاکستان میں لاکھوں افراد گردے کے مختلف امراض میں مبتلا جبکہ مریضوں کی تعداد میں سالانہ 15 سے 20 فیصد اضافہ ہو رہا
گردے انسانی جسم کا اہم عضو ہیں، دنیا میں ہر سال پچاس ہزار سے زائد افراد گردے کے مختلف امراض میں مبتلا ہو کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، جس کی ایک بڑی وجہ گردہ عطیہ کرنے والوں کی کمی ہے۔

پاکستان میں اس حوالے سے مستند اعدادوشمار تو دستیاب نہیں مگر ایک اندازے کے مطابق لاکھوں افراد گردے کے مختلف امراض میں مبتلا ہیں جبکہ ایسے مریضوں کی تعداد میں سالانہ 15 سے 20 فیصد اضافہ ہو رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اکثر افراد گردے کے امراض کو نظر انداز کر دیتے ہیں، لیکن یہ ایک ایسی بیماری ہے جو جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق گردوں کے امراض سے بچنے کے لیے پانی کا زائد استعمال، سگریٹ نوشی اور موٹاپے سے بچنا ضروری ہے۔

اگر درج ذیل نشانیاں سامنے آئے تو ڈاکٹر سے ضرور رجوع کیا جانا چاہیے۔

سونے میں مشکل
جب گردے اپنے افعال درست طریقے سے سرانجام نہیں دے پاتے تو اس کے نتیجے میں زہریلا مواد جسم سے پیشاب کے راستے خارج نہیں ہوپاتا اور خون میں موجود رہتا ہے، اس مواد کی سطح بڑھنے سے سونا مشکل ہوجاتا ہے اور بے خوابی کی شکایت پیدا ہوجاتی ہے۔ اسی طرح گردوں کے مریضوں میں نیند کے دوران سانس لینے میں مشکل کا عارضہ بھی سامنے آسکتا ہے اور اگر کوئی فرد اچانک خراٹے لینے لگے تو اسے ڈاکٹر سے رجوع کرنا جانا چاہیے۔

مسلز اکڑنا

گردوں کی کارکردگی میں کمی آنے سے الیکٹرولائٹ عدم توازن کا شکار ہوجاتے ہیں، مثال کے طور پر کیلشیئم کی سطح میں کمی اور فاسفورس کا کنٹرول سے باہر ہونا مسلز اکڑنے کا باعث بنتے ہیں۔

سردرد، تھکاوٹ اور جسمانی کمزوری
اگر گردے درست کام کررہے ہوں تو وہ جسم میں وٹامن ڈی کو ہڈیوں کی مضبوطی کے ساتھ ساتھ ایک ہارمون ای پی او بنانے کا کام بھی کرتے ہیں، یہ ہارمون خون کے سرخ خلیات بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اگر گردے مسائل کا شکار ہوں تو ای پی او کی مقدار کم بنتی ہے جس سے خون کے سرخ خلیات میں کمی آتی ہے جو جسم اور دماغ کو اچانک تھکاوٹ، سردرد اور جسمانی کمزوری کا شکار کردیتا ہے۔ خیال رہے کہ گردوں کے امراض میں اینیمیا کا مرض عام ہوتا ہے۔

دل کی دھڑکن میں خرابی

اگر گردوں کو نقصان پہنچے تو جسم میں پوٹاشیم کی مقدار بڑھنے لگتی ہے جو دل کی دھڑکن میں غیر معمولی تیزی کی شکل میں سامنے آتی ہے۔

خشک اور خارش زدہ جلد

جیسا بتایا جاچکا ہے کہ گردے جسم میں جمع ہونے والے کچرے کی صفائی کا کام کرتے ہیں، خون کے سرخ خلیات کی سطح بڑھانے اور جسم میں منزل کی سطح مناسب سطح پر رکھتے ہیں۔ خشک اور خارش زدہ جلد اس بات کی نشانی ہے کہ گردے منرلز اور غذائی اجزاءکا درست توازن نہیں رکھ پارہے۔ اگر آپ کی جلد خشک اور خارش زدہ ہورہی ہے تو زیادہ سے زیادہ پانی پینا چاہیے اور خارش کے لیے کوئی دوا لینے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ لینا چاہیے۔

دل خراب ہونا یا قے

اگر جسم میں کافی مقدار میں کچرا جمع ہوجائے تو دل متلانے یا قے کا تجربہ اکثر ہونے لگتا ہے، درحقیقت یہ جسم اپنے اندر جمع ہونے والے مواد سے نجات کی کوشش کا نتیجہ ہوتا ہے، دل متلانے کے نتیجے میں کھانے کی خواہش ختم ہونے لگتی ہے، اگر ایسا کچھ عرصے تک ہوتا رہے تو جسمانی وزن میں بہت تیزی سے کمی آتی ہے۔

سانس میں بو اور ذائقہ بدلنا

جب کچرا خون میں جمع ہونے لگتا ہے تو کھانے کا ذائقہ بدلا ہوا محسوس ہوتا ہے اور منہ میں دھات یا میٹالک ذائقہ رہ جاتا ہے۔ اسی طرح سانس میں بو پیدا ہونا بھی دوران خون میں بہت زیادہ زہریلا مواد جمع ہونے کی علامت ہے۔ مزید برآں ایسا ہونے پر گوشت کھانے یا کھانے کی ہی خواہش کم یا ختم ہوجاتی ہے، جس کے نتیجے میں جسمانی وزن میں غیرمتوقع کمی آتی ہے۔ ویسے منہ کا ذائقہ بدلنے کی متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں اور عام علاج سے مسئلہ دور ہوجاتا ہے، تاہم اگر یہ علاج کے باوجود برقرار رہے تو اپنے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

سانس گھٹنا یا لینے میں مشکل
گردوں کے امراض اور سانس گھٹنے کے درمیان تعلق پایا جاتا ہے، خصوصاً تھوڑی سی جسمانی سرگرمی کے بعد یہ مسئلہ لاحق ہوجاتا ہے۔ اس کی دو وجوہات ہوتی ہیں، ایک تو گردوں کے کام نہ کرنے سے جسم میں اضافی سیال پھیپھڑوں میں جمع ہونا، دوسری خون کی کمی جسم میں آکسیجن کی کمی کا باعث بنتی ہے جس کے نتیجے میں سانس گھٹنے لگتا ہے۔ اگر آپ کو تھوڑا کام کرنے کے بعد بھی سانس لینے میں مشکل ہوتی ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے کیونکہ یہ گردوں سے ہٹ کر دمہ، پھیپھڑوں کے کینسر اور ہارٹ فیلیئر کی نشانی بھی ہوسکتی ہے۔

زیادہ یا کم پیشاب آنا

چونکہ گردے پیشاب کے لیے ضروری ہیں، لہذا جب وہ کسی بیماری کا شکار ہوتے ہیں تو اکثر لوگوں کو پیشاب کی خواہش تو ہوتی ہے مگر آتا نہیں، جبکہ کچھ افراد ایسے ہوتے ہیں جو عام معمول سے ہٹ کر واش روم کے زیادہ چکر لگانے لگتے ہیں، متعدد افراد کو یہ مسئلہ راتوں کو جاگنے پر مجبور کرتا ہے۔

ٹخنوں، پیروں اور ہاتھوں کا سوجنا

جب گردے جسم سے اضافی سیال کو خارج کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو نمکیات کا اجتماع ٹخنوں، پیروں اور ہاتھوں کے سوجنے کا باعث بنتا ہے، زیریں جسم کے اعضا سوجنا دل اور جگر کے امراض یا ٹانگ کی شریان میں مسائل کی نشانی بھی ہوتی ہے۔ کئی مرتبہ ادویات کے استعمال سے نمک اور اضافی سیال میں کمی آتی ہے جس سے سوجن رک جاتی ہے، تاہم اگر اس سے مدد نہ ملے تو ڈاکٹر سے علاج میں تبدیلی کا مشورہ کرنا چاہیے۔

کمردرد
گردے کا کام روکنا یا کڈنی فیلیئر کمردرد کا باعث بنتا ہے جو عام طور پر دائیں جانب پسلی کے نیچے محسوس ہوتا ہے۔ یہ درد کولہوں میں بھی محسوس ہوسکتا ہے۔ کمر اور پیر میں درد گردوں میں مواد جمع ہونے کی نشانی ہوسکتی ہے۔ کڈنی فیلیئر کی شکل میں کمرمیں ہونے والا درد کے ساتھ بخار، متلی اور پیشاب زیادہ آنے کی تکلیف بھی ہوسکتی ہے۔

آنکھیں پھولنا
گردوں کے نظام میں خرابی کی ابتدائی علامات میں سے ایک آنکھوں کے ارگرد کا حصہ پھولنا ہوتا ہے، یہ اس بات کی جانب اشارہ ہوتا ہے کہ گردوں سے بڑی مقدار میں پروٹین کا اخراج پیشاب کے راستے ہورہا ہے۔ اگر ایسا ہونے پر جسم کو مناسب آرام اور پروٹین ملے اور پھر بھی آنکھوں کے ارگرد پھولنے کا عمل جاری رہے تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

ہائی بلڈ پریشر
دوران خون اور گردے ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہیں، گردے خون میں موجود کچرے اور اضافی سیال کو فلٹر کرتے ہیں اور اگر شریانوں کو نقصان پہنچے تو گردے کے اس حصے جو خون کو فلٹر کرتے ہیں، اسے آکسیجن اور غذائیت نہیں مل پاتی۔ یہی وجہ ہے کہ ہائی بلڈ پریشر کڈنی فیلیئر کا خطرہ بڑھانے والی دوسری بڑی وجہ ہے۔

پیشاب کی رنگت میں تبدیلی
گردے پیشاب بنانے کے ذمہ دار ہیں اور اس کے ذریعے کچرے کا اخراج کرتے ہیں، اگر پیشاب کی بو، رنگت وغیرہ میں تبدیلی آئے تو اسے کبھی نظرانداز مت کریں۔ ایسی تبدیلیاں جیسے پیشاب زیادہ کرنا خصوصاً رات کو، پیشاب میں خون آنا یا جھاگ بننا

Address

Near Dare Arqam School Lalian
Lalian
35470

Telephone

+923459126269

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hakeem Shams posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram