Dr. Farhan Hashmi PT

Dr. Farhan Hashmi PT Consultant Physiotherapist
DPT, BSc, BS, B.Ed, MSc, M.Ed, M.Phil (MMG)

🧠 What is DYSTONIA? Learn in simple termsDystonia is a Neurological Movement Disorder, where muscles contract or spasm r...
25/12/2025

🧠 What is DYSTONIA? Learn in simple terms

Dystonia is a Neurological Movement Disorder, where muscles contract or spasm repeatedly without your knowledge. This can result in abnormal body posture, neck bending, twisting of the arms and legs, or difficulty speaking.

📌 Parts that Dystonia usually affects:
✔️ Eyes and face
✔️ Neck (Cervical dystonia)
✔️ Vocal cords
✔️ Limbs
✔️ Feet

🧩 What is the cause?
🔹 When the Basal Ganglia part of the brain does not function properly
🔹 Coordination between nerves and muscles is lost
🔹 Resulting in involuntary muscle spasms and contractions

🧑‍⚕️ Treatment and Management:
✅ Correct Neurological diagnosis
✅ Physiotherapy & Postural training
✅ Muscle relaxation & functional exercises
✅ Medication / injections as needed

⚠️ Remember:
Dystonia is not a mental illness—it is a neurological problem, and can be controlled with proper treatment.

📩 Inbox for suggestions
💬 Spread awareness—Share
🩺 Dr. Farhan Hashmi PT

عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ مریض کے مرنے کے بعد بھی ہسپتال والوں نے اسے وینٹیلیٹر پر لگائے رکھا اور کئی دنوں کا بل بنا ...
16/12/2025

عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ مریض کے مرنے کے بعد بھی ہسپتال والوں نے اسے وینٹیلیٹر پر لگائے رکھا اور کئی دنوں کا بل بنا لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ مکمل موت کے بعد ایسا ممکن ہی نہیں۔ وینٹیلیٹر صرف سانس لینے میں مدد دیتا ہے، یہ دل کو نہیں چلاتا، دماغ کو زندہ نہیں رکھتا اور مرے ہوئے جسم کو تازہ نہیں رکھ سکتا۔ اگر دل مستقل طور پر بند ہو جائے تو وینٹیلیٹر کچھ بھی نہیں کر سکتا۔
اصل کنفیوژن اکثر “برین ڈیتھ” کی وجہ سے ہوتی ہے۔ برین ڈیتھ میں دماغ مکمل طور پر ختم ہو چکا ہوتا ہے، مریض کو نہ ہوش ہوتا ہے، نہ درد، نہ شعور، اور طبی و قانونی طور پر اسے مردہ مانا جاتا ہے۔ لیکن چونکہ دل مشینوں کی مدد سے دھڑک رہا ہوتا ہے، جسم گرم محسوس ہوتا ہے اور سانس وینٹیلیٹر دے رہا ہوتا ہے، اس لیے عام آدمی کو لگتا ہے کہ مریض زندہ ہے۔ اس حالت میں مریض کو کچھ وقت کے لیے وینٹیلیٹر پر رکھا جا سکتا ہے، لیکن یہ لاش نہیں ہوتی بلکہ ایک ایسا جسم ہوتا ہے جو صرف مشینوں کے سہارے چل رہا ہوتا ہے۔

اگر مکمل موت ہو جائے، یعنی دل، دماغ اور خون کی گردش سب بند ہو جائیں، تو لاش چند گھنٹوں میں ٹھنڈی ہونا شروع ہو جاتی ہے، جسم سخت ہو جاتا ہے اور رنگ بدلنے لگتا ہے۔ بارہ سے چوبیس گھنٹوں میں بدبو آنا شروع ہو جاتی ہے، پیٹ میں گیس بنتی ہے اور جلد خراب ہونے لگتی ہے۔ دو سے تین دن کے اندر لاش میں شدید بدبو، سوجن اور گلنے سڑنے کے واضح آثار آ جاتے ہیں، خاص طور پر اگر فریج میں نہ رکھا گیا ہو۔ وینٹیلیٹر ان میں سے کسی عمل کو نہیں روک سکتا۔

یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ لاش کو محفوظ رکھنے کے لیے فریج یا ایمبالمنگ جیسے طریقے استعمال کیے جاتے ہیں، وینٹیلیٹر کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ اس لیے یہ بات درست نہیں کہ وینٹیلیٹر سے جڑے انسان کی لاش تین چار دن تک تازہ رہتی ہے، نہ اس میں بو آتی ہے اور نہ وہ خراب ہوتی ہے۔

اکثر ہسپتال پر الزام اس لیے لگتا ہے کیونکہ اہلِ خانہ کو برین ڈیتھ کی صحیح سمجھ نہیں ہوتی، جذباتی صدمہ ہوتا ہے یا سوشل میڈیا پر پھیلی آدھی سچائیاں ذہن میں ہوتی ہیں۔ بعض جگہ انتظامی یا اخلاقی مسائل ہو سکتے ہیں، لیکن سائنسی اور طبی لحاظ سے یہ ناممکن ہے کہ مکمل طور پر مرے ہوئے انسان کو دنوں تک وینٹیلیٹر پر “زندہ” رکھا جائے۔

گناہ کا حیاتیاتی میکانزم اور وائزمین بیریئر کا سقوط: کیا ہمارے اعمال ہمارے جینز کا ’سورس کوڈ‘ لکھ رہے ہیں؟ - بلال شوکت آ...
07/12/2025

گناہ کا حیاتیاتی میکانزم اور وائزمین بیریئر کا سقوط: کیا ہمارے اعمال ہمارے جینز کا ’سورس کوڈ‘ لکھ رہے ہیں؟ - بلال شوکت آزاد

(ایک تفصیلی، تحقیقی اور سائنسی مقالہ: ٹرانس جنریشنل ایپی جینیٹک انہیریٹنس اور انسانی بقا کا مقدمہ, دو قارئین کے سوالات کے مفصل و بحوالہ جوابات)

ہمیں دہائیوں تک بائیولوجی کی کلاسوں میں ایک قانون رٹایا گیا جسے "وائزمین بیریئر" (Weismann Barrier) کہتے ہیں۔

19ویں صدی کے جرمن بائیولوجسٹ اگسٹ وائزمین (August Weismann) نے یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ:

"جسمانی خلیات (Somatic Cells) میں ہونے والی تبدیلیاں تولیدی خلیات (Germline Cells - S***m/Egg) میں منتقل نہیں ہو سکتیں۔"

آسان الفاظ میں، اگر آپ جم جا کر باڈی بلڈر بن جائیں، تو آپ کا بچہ پٹھوں والا پیدا نہیں ہوگا۔ اگر آپ نے کوئی ہنر سیکھا، تو وہ بچے میں منتقل نہیں ہوگا۔

اس نظریے نے ہمیں یہ جھوٹی تسلی دی کہ ہم اپنی ذاتی زندگی میں جو چاہیں کریں (شراب پئیں، زنا کریں، ٹینشن لیں)، اس کا اثر ہماری اگلی نسل پر نہیں پڑے گا کیونکہ ہمارے "اسپرم" ایک محفوظ تجوری میں بند ہیں۔

لیکن خواتین و حضرات!

"سائنس جامد نہیں ہے"۔

اکیسویں صدی کے آغاز میں، خاص طور پر پچھلے 20 سالوں میں، ایپی جینیٹکس (Epigenetics) کے میدان میں ہونے والی تحقیق نے وائزمین کی اس دیوار کو گرا دیا ہے۔

آج سائنس چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ آپ کا لائف اسٹائل، آپ کا گناہ، آپ کا کھانا، اور آپ کا ڈر آپ کے اسپرم کے RNA اور Methylation Pattern کو بدل دیتا ہے، اور یہ تبدیلی اگلی نسل میں منتقل ہوتی ہے۔

آج ہم ان دو سوالوں کا مفصل جواب دیں گے:

1- کیا واقعی جسمانی تبدیلیاں نسل میں منتقل ہوتی ہیں؟ (وائزمین بیریئر کا رد)

2- اگر زنا یا گناہ سے اولاد پیدا نہ ہو، تو کیا پھر بھی اس کے اثرات مستقبل کی جائز اولاد تک پہنچیں گے؟

وہ دوست جنہوں نے کہا کہ

"یہ بائیولوجی کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے"،

ان کی خدمت میں عرض ہے کہ سائنس اب "Transgenerational Epigenetic Inheritance" (TEI) کو تسلیم کر چکی ہے۔

یہ عمل DNA Mutation (سیکونس کی تبدیلی) کے ذریعے نہیں ہوتا، بلکہ Gene Expression (جینز کے آن/آف ہونے) کے ذریعے ہوتا ہے۔

آئیے اس کے تین ٹھوس میکانزم اور مصدقہ تحقیقات (Case Studies) دیکھتے ہیں۔

1- میکانزم: خوف کی وراثت (The Inheritance of Fear)

یہ تجربہ بائیولوجی کی دنیا کا سب سے مشہور اور متنازعہ ترین تجربہ تھا جس نے ثابت کر دیا کہ "دماغی یادداشت" (Somatic Memory) اگلی نسل میں جا سکتی ہے۔

تحقیق کا سال: 2014
محققین: ڈاکٹر برائن ڈیاس اور ڈاکٹر کیری ریسلر (Dr. Brian Dias & Dr. Kerry Ressler)
ادارہ: ایموری یونیورسٹی، اسکول آف میڈیسن (Emory University, USA)
جریدہ: Nature Neuroscience
ریسرچ ٹائٹل: Parental olfactory experience influences behavior and neural structure in subsequent generations.

تجربہ کیا تھا؟

سائنسدانوں نے نر چوہوں کو "چیری بلاسم" (Cherry Blossom) کی خوشبو سنگھائی اور ساتھ ہی پاؤں میں ہلکا سا الیکٹرک شاک دیا۔

کچھ عرصے بعد، یہ چوہے صرف خوشبو سونگھ کر ہی ڈرنے لگے۔ (یہ خوف ان کے دماغ/Somatic cells میں تھا)۔

پھر ان چوہوں کے اسپرم لیے گئے اور مادہ چوہوں سے ملاپ کروایا گیا۔ جو بچے پیدا ہوئے، انہیں کبھی وہ خوشبو نہیں سنگھائی گئی تھی اور نہ کبھی کرنٹ دیا گیا تھا۔

لیکن!

جیسے ہی ان بچوں نے پہلی بار "چیری بلاسم" کی خوشبو سونگھی، وہ خوف سے کانپنے لگے۔ حتیٰ کہ ان کی تیسری نسل (Grandchildren) نے بھی یہی ردعمل دیا۔

سائنسی وجہ:

جب باپ نے خوف محسوس کیا، تو اس کے خون میں موجود سگنلز نے اس کے اسپرم میں موجود Olfactory Receptor gene (M71) کی Methylation (سوئچ) کو کم کر دیا، جس سے یہ جین "اوور ایکٹو" ہو گیا۔ یہ تبدیلی بچے میں منتقل ہوئی۔

ثابت ہوا: باپ کا "ذہنی صدمہ" (Somatic) بچے کے "جینز" (Germline) میں منتقل ہوا۔ وائزمین بیریئر ٹوٹ گیا۔

لنک: Nature Neuroscience - Olfactory Inheritance (https://www.jneurosci.org/content/33/21/9003)

2- میکانزم: اسپرم چھوٹا RNA (S***m small RNAs) - پیغام رساں

پرانی بائیولوجی کہتی تھی کہ اسپرم صرف DNA لے کر جاتا ہے۔ نئی تحقیق کہتی ہے کہ اسپرم اپنے ساتھ Non-coding RNAs (miRNAs & tRNAs) کا ایک "بستہ" بھی لے کر جاتا ہے جو باپ کی موجودہ حالت کی رپورٹ بچے کو دیتا ہے۔

تحقیق کا سال: 2013
محققین: راجرز، بیل اور دیگر (Rodgers AB, Bale TL et al.)
ادارہ: یونیورسٹی آف پنسلوانیا (University of Pennsylvania)
جریدہ: The Journal of Neuroscience
ریسرچ ٹائٹل: Paternal stress exposure alters s***m microRNA content and reprograms offspring HPA stress axis regulation.

تجربہ اور نتائج:

جب نر چوہوں کو شدید ذہنی دباؤ (Stress) دیا گیا، تو ان کے دماغ نے اسٹریس ہارمونز خارج کیے۔

یہ ہارمونز خون کے ذریعے Epididymis (جہاں اسپرم جمع ہوتے ہیں) تک پہنچے اور وہاں موجود اسپرم کے اندر microRNAs کی مقدار بدل دی۔

جب ان چوہوں نے بچے پیدا کیے، تو وہ بچے پیدائشی طور پر "Hypersensitive to Stress" (جلد گھبرانے والے) تھے۔ ان کے دماغ کا HPA Axis (جو اسٹریس کنٹرول کرتا ہے) پہلے سے خراب تھا۔

ثابت ہوا: باپ کی ٹینشن (Somatic State) نے اسپرم کے RNA کو بدلا اور بچے کی ذہنی صحت تباہ کر دی۔

لنک: Journal of Neuroscience - Paternal Stress (https://www.nature.com/articles/nn.3594)

اب آتے ہیں اس قاری کے سوال کی طرف جس نے کہا کہ

"اگر میں زنا کروں اور اولاد پیدا نہ کروں، تو میرے جینز کیسے خراب ہوں گے؟"

یہ سوال بظاہر منطقی ہے، لیکن حیاتیاتی طور پر غلط ہے۔ ایپی جینیٹکس یہ نہیں کہتی کہ تبدیلی صرف "ملاپ" (Conception) کے وقت ہوتی ہے۔ تبدیلی تو آپ کی "فیکٹری" (Testes/Brain) میں ہو رہی ہے۔

1- اسپرمیٹوجینیسز (S***matogenesis) اور اسٹیم سیلز کی آلودگی

مرد کے جسم میں اسپرم بننے کا عمل ایک دن کا نہیں، بلکہ یہ ایک مسلسل جاری رہنے والا سائیکل ہے جو تقریباً 74 دن لیتا ہے۔ یہ اسپرم "S***matogonial Stem Cells" سے بنتے ہیں۔

جب آپ زنا کرتے ہیں، فحاشی دیکھتے ہیں یا حرام کاری میں ملوث ہوتے ہیں، تو آپ کا جسم ایک شدید "Neuro-Chemical Imbalance" سے گزرتا ہے۔

ہائی ڈوپائن High Dopamine (ڈوپامائن کا سیلاب): حرام لذت دماغ کو نشے کی طرح ہٹ کرتی ہے۔

ہائی کورٹیسول High Cortisol (خوف اور دباؤ): گناہ کا احساس اور چھپنے کا عمل اسٹریس پیدا کرتا ہے۔

سائنسی اثر:

یہ کیمیکلز خون کے ذریعے آپ کے Stem Cell (جڑ) تک پہنچتے ہیں۔ اگر آپ کے اسٹیم سیلز پر "Epigenetic Scarring" (ایپی جینیٹک نشانات) لگ گئے، تو اب آپ جب بھی (چاہے 5 سال بعد) شادی کریں گے اور اولاد پیدا کریں گے، آپ کے وہ "نشان زدہ اسٹیم سیلز" ہی وہ اسپرم بنائیں گے جو آپ کی بیوی کے پیٹ میں جائیں گے۔

یعنی آپ نے "فیکٹری" کو خراب کر دیا ہے، اب پروڈکٹ کبھی بھی 100% خالص نہیں نکلے گی۔

2- خوراک اور میٹابولک سگنلز, صرف ایک ہفتے کا اثر

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ جینیاتی تبدیلی میں سالوں لگتے ہیں۔ لیکن یونیورسٹی آف کوپن ہیگن کی تحقیق نے اسے غلط ثابت کر دیا۔

تحقیق کا سال: 2016 / 2021
محققین: Romain Barrès اور دیگر
ادارہ: یونیورسٹی آف کوپن ہیگن، ڈنمارک
جریدہ: Cell Metabolism / Nature Communications

تحقیق:

انہوں نے صحت مند مردوں کو صرف ایک ہفتے تک چینی (Sugar) اور چکنائی والی خوراک کھلائی۔ صرف ایک ہفتے بعد ان کے اسپرم کا ٹیسٹ کیا گیا تو ان کے اسپرم میں tRNA fragments اور DNA Methylation میں ڈرامائی تبدیلیاں آ چکی تھیں، خاص طور پر ان جینز میں جو بچے کے دماغ اور میٹابولزم کو کنٹرول کرتے ہیں۔

نتیجہ:

اگر ایک ہفتے کی چینی آپ کے اسپرم کو بدل سکتی ہے، تو سوچیں کہ سالوں کی بدکاری، فحاشی اور ذہنی گندگی آپ کے "جرم لائن" (Germline) کے ساتھ کیا کر رہی ہوگی؟

یہ زہر آپ کے جسم میں جمع ہو رہا ہے (Bio-accumulation)، اور یہ آپ کی مستقبل کی جائز اولاد کا انتظار کر رہا ہے۔

ایک اور سائنسی حقیقت جو "زنا" کے اثرات کو مزید خوفناک بناتی ہے، وہ ہے Male Microchimerism۔

یہ تحقیق خاص طور پر Fred Hutchinson Cancer Research Center (سیٹل، امریکہ) نے کی۔ انہوں نے دریافت کیا کہ خواتین کے دماغ میں مردوں کا ڈی این اے (Y-Chromosome) پایا جاتا ہے۔

پہلے سمجھا جاتا تھا کہ یہ صرف ان کے بیٹوں کا ہے، لیکن بعد میں پتا چلا کہ یہ ان مردوں کا ڈی این اے بھی ہو سکتا ہے جن کے ساتھ ان کا جنسی تعلق رہا ہو (حمل ٹھہرے بغیر بھی)۔

اگر مرد زنا کرتا ہے: وہ مختلف عورتوں کے "مائیکرو بائیوم" (Microbiome) اور جینیاتی مواد کے ساتھ ایکسپوز ہوتا ہے۔ یہ "اجنبی مواد" اس کے اپنے مدافعتی نظام (Immune System) کو چھیڑتا ہے۔

جب یہ شخص اپنی پاک دامن بیوی کے پاس جاتا ہے، تو وہ نہ صرف اپنا اسپرم، بلکہ وہ تمام "وائرل لوڈ" اور "ایپی جینیٹک امپرنٹس" بھی منتقل کرتا ہے جو اس نے حرام تعلقات سے کمائے ہیں۔ یہ اس کی بیوی کی صحت اور اس سے پیدا ہونے والے بچوں کی نفسیات پر اثر انداز ہوتا ہے۔

اب ان سائنسی حقائق کو اسلام کی تعلیمات کے سامنے رکھیں۔

1- "زنا کے قریب بھی مت جاؤ" (الاسراء: 32):

اللہ نے یہ نہیں کہا کہ "زنا مت کرو"، بلکہ کہا "قریب بھی مت جاؤ"۔ کیوں؟

کیونکہ سائنس کہتی ہے کہ فحاشی دیکھنے (Visual Stimulation) سے ہی دماغ اور ہارمونز میں وہ تبدیلیاں شروع ہو جاتی ہیں جو آپ کے جینز کو متاثر کرتی ہیں (Mirror Neurons Effect)۔ عمل تو بعد کی بات ہے، صرف "خیال" اور "نظر" بھی بائیولوجیکل اثر رکھتی ہے۔

2- استبراء رحم اور عدت:

اسلام نے عورت کے لیے عدت رکھی تاکہ "رحم" پاک ہو جائے۔ سائنس اب "Telegony" (پرانے پارٹنرز کا اثر) اور مائیکرو کائیمرازم پر تحقیق کر رہی ہے کہ پچھلے تعلقات کے اثرات جسم میں رہ جاتے ہیں۔ اسلام نے نسل کی حفاظت کے لیے ان اثرات کو فلٹر کرنے کا نظام دیا ہے۔

3- توبہ بطور ’نیوروپلاسٹیٹی‘ (Neuroplasticity):

اگر کسی سے غلطی ہو گئی، تو کیا واپسی کا راستہ نہیں؟

سائنس کہتی ہے:

"Reversibility of Epigenetic Marks"

کچھ ایپی جینیٹک نشانات ہٹائے جا سکتے ہیں۔

کیسے؟

طرزِ زندگی کی مکمل تبدیلی (Radical Lifestyle Change) سے۔

جب اسلام کہتا ہے کہ "سچی توبہ" (Tawbah Nasuha) کرو، تو یہ محض الفاظ نہیں ہیں۔

سچی توبہ انسان کے دماغ میں ایک شدید "جذباتی اور کیمیائی شفٹ" لاتی ہے۔ رونا، ندامت، اور اللہ کے خوف سے پیدا ہونے والے ہارمونز پرانے "بیڈ مارکرز" کو دھو سکتے ہیں۔ یہ "Spiritual Epigenetic Reset" ہے۔

میرے دوستو!

سائنس اور مذہب متصادم نہیں ہیں، بلکہ سائنس تو اب مذہب کے قدموں کی دھول چاٹ رہی ہے۔

جو لوگ "وائزمین بیریئر" کا حوالہ دے رہے ہیں، وہ 19ویں صدی میں جی رہے ہیں۔ 21ویں صدی کی ایپی جینیٹکس نے ثابت کر دیا ہے کہ "باپ کا گناہ بیٹے کے ماتھے پر لکھا جاتا ہے۔"

جو لوگ سمجھ رہے ہیں کہ "اولاد پیدا نہ کرنے" سے وہ بچ جائیں گے، وہ احمق ہیں۔ وہ اپنی "جینیاتی مشینری" کو زنگ لگا رہے ہیں، اور جب وہ اس مشینری کو حلال کام (اولاد) کے لیے استعمال کریں گے، تو وہ زنگ ان کی نسلوں میں منتقل ہوگا۔

یہ زندگی کوئی "ویڈیو گیم" نہیں ہے جسے آپ جب چاہیں ری اسٹارٹ کر لیں۔ آپ کا ہر عمل آپ کے ڈی این اے پر کندہ ہو رہا ہے۔

اپنی نسلوں پر رحم کھائیں۔ اپنی جوانی کو "گٹر" میں مت بہائیں، بلکہ اسے "نور" سے محفوظ کریں، کیونکہ آپ صرف اپنی زندگی نہیں جی رہے، آپ آنے والی صدیوں کی تاریخ لکھ رہے ہیں۔

#ڈاکٹرـفرحانــمختارـہاشمی

17/11/2025

مرد ڈرائیور حضرات توجہ فرمائیں: سڑکوں پر آج کل نوجوان لڑکیاں اور خواتین رنگ برنگی سکوٹیاں چلاتی نظر آتی ہیں۔
کوئی گھومنے نکلی ہے تو کوئی اپنی یونیورسٹی ، کالج.
کوئی کسی کو ڈراپ کرنے جا رہی ہے تو کوئی اپنی اماں کو ہسپتال لے کر جا رہی ہے, یا گھر کیلئے روزمرہ کا سامان۔۔
ایسے میں سڑک پر ان کو دیکھ کر آپے سے باہر نہ ہوجائیں۔
ان کو راستہ دیں۔
ان کو تیز اوور ٹیک سے نا ڈرائیں۔
ان کے ساتھ ریس نہ لگائیں اور ان کو گزر جانے دیں۔۔
ان کے ساتھ عزت سے پیش آئیں، تحفظ کا احساس دلائیں، یہ ہماری عزتیں ہیں، یہ ہمارے گھروں کی رحمت ہیں۔۔
شکریہ

Brazilian doctors are experimenting with a unique approach to treating burns: using tilapia skin!In this innovative trea...
28/10/2025

Brazilian doctors are experimenting with a unique approach to treating burns: using tilapia skin!

In this innovative treatment, doctors wrap a child’s burnt skin with sterilized tilapia fish skin. Tilapia skin possesses non-infectious microbiota, abundant type I collagen, and a similar morphological structure to human skin, making it a potential xenograft for managing burn wounds.

Traditionally, doctors use sulfur sulfadiazine, a substance that typically heals wounds within two weeks. However, this treatment has its drawbacks. The dressings and bandages must be changed daily to maintain cleanliness, and patients must take anesthetic showers using antibacterial soap to prevent unpleasant odors from the wounds. Many patients resort to painkillers to cope with the entire procedure.

The tilapia skin treatment differs significantly. It involves directly applying the skin to the burned area and covering it with a bandage, eliminating the need for any creams. After approximately 10 days, the bandage is removed, and the tilapia skin, which has dried out and loosened from the burn, can be peeled away.

This treatment proves more effective than traditional bandages that require daily changes. It accelerates healing by several days and reduces the necessity for pain medication. The fish skin’s high levels of collagen type 1, moisture retention, and infrequent need for replacement make it a superior option.

Furthermore, the tilapia skin treatment is more cost-effective, simpler, and draws inspiration from nature.

یہ دل دہلا دینے والی تصویر 1950 کی ہے، جس میں بچے "آئرن لنگز" نامی دیو قامت مشینوں میں لیٹے ہوئے دکھائی دیتے ہیں — وہ مش...
24/10/2025

یہ دل دہلا دینے والی تصویر 1950 کی ہے، جس میں بچے "آئرن لنگز" نامی دیو قامت مشینوں میں لیٹے ہوئے دکھائی دیتے ہیں — وہ مشینیں جو اُن بچوں کی زندگی کا واحد سہارا تھیں، جب پولیو نے اُن سے سانس لینے کی صلاحیت چھین لی تھی۔
ایک زمانہ تھا جب پولیو دنیا کی سب سے خوفناک بیماریوں میں شمار ہوتا تھا۔ یہ اچانک حملہ کرتا، ہزاروں بچوں کو مفلوج کر دیتا، اور بعض اوقات اُنہیں ہمیشہ کے لیے ان مشینوں کے حوالے کر دیتا۔ جب سانس لینے والے عضلات ناکام ہو جاتے، تو مریضوں کو ان لوہے کے نلکی نما سانس دینے والے آلات میں رکھا جاتا — کبھی ہفتوں کے لیے، کبھی مہینوں کے لیے، اور بعض اوقات پوری زندگی کے لیے۔
آئرن لنگ کا نظام منفی دباؤ پیدا کر کے جسم کے باہر سے سانس لینے کا عمل ممکن بناتا تھا، تاکہ پھیپھڑے پھیلیں اور سکڑیں۔ یہ ایک معجزاتی ایجاد تھی، مگر بہت قید نما۔ بچے صرف اپنا سر ہلا سکتے تھے، باقی ہر کام کے لیے وہ نرسوں اور دیکھ بھال کرنے والوں پر مکمل انحصار کرتے تھے۔
پھر 1950 کی دہائی کے وسط میں ڈاکٹر جوناس سالک نے پولیو کی ویکسین ایجاد کی — اور دنیا بدل گئی۔ چند ہی برسوں میں کیسز تیزی سے کم ہو گئے۔ اکیسویں صدی آتے آتے پولیو دنیا کے زیادہ تر حصوں سے ختم ہو چکا تھا۔
یہ تصویر ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انسانی طب نے کتنی بڑی مسافت طے کی ہے — اور اس ویکسین سے پہلے زندگی کتنی اذیت ناک ہوا کرتی تھی۔

تحقیق و ترجمہ: حسین
#پولیو #تاریخ #ویکسین #انسانیت #صحت
مزید دلچسپ اور سبق آموز تاریخی کہانیوں کے لیے ہمیں فالو کریں۔

بدتمیزی کا جواب دینے کا مؤثر طریقہ 1️⃣ پر سکون رہیں – غصے کو غصے سے نہ جواب دیں، سکون آپ کی طاقت ہے۔2️⃣ نرم مگر مضبوط ال...
10/10/2025

بدتمیزی کا جواب دینے کا مؤثر طریقہ

1️⃣ پر سکون رہیں – غصے کو غصے سے نہ جواب دیں، سکون آپ کی طاقت ہے۔
2️⃣ نرم مگر مضبوط الفاظ – عزت کے ساتھ اپنا موقف واضح کریں۔
3️⃣ ضرورت پڑے تو فاصلہ – بات بگڑ جائے تو بحث ختم کر کے خود کو الگ کریں، یہ کمزوری نہیں بلکہ عقل مندی ہے۔

یاد رکھیں: جواب دینے کا مقصد دوسروں کو سبق دینا نہیں، اپنی عزت اور سکون برقرار رکھنا ہے۔

ان کا نام دھرا شاہ تھا ،گجرات بھارت سے ان کا تعلق تھا ،یہ چلبلی اور خوبصورت تھیں،2016میں انہوں نے ایک امریکی نژاد ہندی ن...
07/10/2025

ان کا نام دھرا شاہ تھا ،گجرات بھارت سے ان کا تعلق تھا ،یہ چلبلی اور خوبصورت تھیں،2016میں انہوں نے ایک امریکی نژاد ہندی نوجوان سے شادی کرلی اور امریکہ شفٹ ہوگئیں،انکی زندگی میں خوشیاں تھیں،2018 میں انکی زندگی میں ایک نئے مہمان کی آمد قریب تھی یہ امید سے تھی ،ان کے والدین بھی ہندوستان سے اپنے نواسے کا استقبال کرنے امریکہ پہنچ چکے تھے،گھر میں خوشی کا سماں تھا ،ڈیلیوری کا وقت قریب آ چکا تھا انہیں ہاسپٹل میں داخل کیا گیا،سب کچھ نارمل چل رہا تھا بچے کی ولادت بھی ہوچکی تھی ،لیکن ولادت کے ساتھ ہی یہ قومے میں چلی گئی،جب ہوش آیا تو معلوم ہوا کہ یہ ایک خطرناک بیماری کا شکار ہوچکی ہیں یہ بیماری اس کے جسم میں سرایت کرتی جا رہی ہے،ان کو بچانے کیلئے دونوں ٹانگیں کاٹ لی گئی،ان کا ایک ہاتھ کاٹا گیا اور ایک ہاتھ کی انگلیاں بھی،یہ ہاسپٹل کے بیڈ پر چار ماہ پڑی رہی ساتھ والے بیڈ پر ان کا مولود بچہ تھا لیکن یہ اسے چھو نہیں سکتی تھی ہاتھوں میں اٹھانے اور سینے سے لگانے سے معذور تھی،چار مہینے بعد یہ گھر لوٹ آئی پاؤں سے چل کر ہاسپٹل جانے والی دونوں ہاتھوں اور پاؤں سے معذور گھر آتی دیکھ کر سب کے حوصلے ٹوٹ گیے،گھر میں ماتم کا سماں تھا،لیکن ان کے چہرے پر اس سب بہت کچھ کھونے کے باوجود سب کچھ پانے کی خوشی تھی اور یہ ان کا بیٹا تھا،بیٹے کی ننھی شرارتوں کے آگے یہ اپنے دکھ بھلا بیٹھی تھی دس مہینے کے بعد مگر بچہ بھی اسے چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ہوچکا تھا ان کے آس پاس ہر طرف اندھیرا چھا چکا تھا گویا سب کچھ ختم ہوچکا ہو ،دنوں کو انہوں نے ستم رسیدہ سیاہ راتوں کی طرح کاٹا،مگر جلد انہوں نے پھر سے جینے کا ارادہ کرلیا،کئی سال گزر گیے یہ نہ صرف آج بھی جی رہی ہیں،بالکل یہ مصنوعی پاؤں اور ہاتھوں سے وہ سب کچھ کام کرتی ہیں جو پہلے کرتی تھی-
میں نے ابھی ان کی سٹوری پڑھی مجھے ان کی سٹوری میں دو باتوں نے چونکا دیا پہلی بات یہ کہ زندگی میں سب کچھ خوبصورت چلتے چلتے اچانک کچھ ایسا ہوجاتا ہے کہ جیسا سب کچھ ختم ہوگیا ہو یہ ہم سب میں سے کسی کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے لیکن ہم نے کبھی اس پر غور کیا ؟
دوسری بات ہم میں سے بہت سارے لوگ معمولی آزمائش پر ٹوٹ جاتے ہیں اور جینا چھوڑ دیتے ہیں -
مختصر یہ کہ ہماری زندگیوں میں کب کیا ہوگا ہمیں نہیں معلوم ،البتہ ہمیں اس بابت جو دعائیں سکھائی گئی ہیں ان کا اہتمام کرنا چاہئے،ایک حدیث شریف میں اچانک کے حادثات سے پناہ کی دعا وارد ہے-
اعوذ بِاللَّهِ مِنْ جَهْدِ الْبَلَاءِ ، وَدَرَكِ الشَّقَاءِ ، وَسُوءِ الْقَضَاءِ ، وَشَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ
کہ
میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں بلاؤں کی سختی سے،بدبختی کے لاحق ہونے سے،بری قضا و قدر اور دشمنوں کی خوش ہونے سے -

ہم سب کو CPR آنا چاہیےایک ٹرینر کی اچانک وفات کی ویڈیو وائرل ہوئی ہے…جسے دیکھ کر صرف ایک خیال بار بار آتا ہے:"کاش کوئی ا...
02/10/2025

ہم سب کو CPR آنا چاہیے

ایک ٹرینر کی اچانک وفات کی ویڈیو وائرل ہوئی ہے…
جسے دیکھ کر صرف ایک خیال بار بار آتا ہے:
"کاش کوئی ایک بھی شخص CPR کرنا جانتا ہوتا!"
لیکن سب لوگ صرف دیکھتے رہے…
اور دل بند ہو گیا۔

Cardiac Arrest کیا ہوتا ہے؟

یہ وہ حالت ہے جب دل اچانک دھڑکنا بند کر دیتا ہے۔
انسان سانس نہیں لے پاتا اور بے جان لگتا ہے،
لیکن اگر فوری CPR دی جائے،
تو زندگی واپس آ سکتی ہے۔

CPR (Cardiopulmonary Resuscitation) کیا ہے؟

یہ ایک ہنگامی طبی عمل ہے جو اس شخص پر کیا جاتا ہے:

جس کا دل بند ہو جائے

جو بے ہوش ہو

جو سانس نہ لے رہا ہو

---

کیسے کیا جاتا ہے؟

1. شخص کو سخت اور سیدھی سطح پر لٹائیں

2. 30 بار سینے پر زور سے دبائیں (Chest Compressions)

ہاتھ سینے کے درمیان رکھیں، دونوں ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں جُڑی ہوں

دباؤ اتنا ہو کہ سینہ 5 سے 6 سینٹی میٹر تک نیچے جائے

3. 2 بار منہ سے سانس دیں (Rescue Breaths)

ناک بند کر کے منہ سے سانس دیں اور دیکھیں کہ سینہ اوپر جا رہا ہے یا نہیں

4. یہ عمل مسلسل جاری رکھیں
جب تک متاثرہ شخص سانس نہ لینے لگے یا طبی مدد نہ پہنچ جائے

یاد رکھیں:

CPR کرنے والا شخص ڈاکٹر نہیں ہوتا
بس ایک عام انسان ہوتا ہے جو صحیح وقت پر ہمت کرتا ہے۔

آپ کی ایک کوشش،
کسی کی آخری سانس کو نئی زندگی میں بدل سکتی ہ

ایک اپیل:

خدارا! CPR سیکھیں۔
یہ صرف 5 منٹ کا علم ہے،
لیکن کسی کا پورا جہاں بچا سکتا ہے۔

اپنے بچوں کو بھی سکھائیں،
شاید کل وہ کسی کی سانسوں کے محافظ بن جائیں۔

زندگی بچانا سیکھیں — ہیرو بنیں۔

HbA1c Test (Glycated Hemoglobin Test)1. ObjectiveThe objective of the HbA1c test was to measure the percentage of glycat...
14/09/2025

HbA1c Test (Glycated Hemoglobin Test)
1. Objective
The objective of the HbA1c test was to measure the percentage of glycated hemoglobin in the blood to evaluate the average blood glucose level over the past 2–3 months.
It was mainly performed to monitor diabetes mellitus and assess long-term glycemic control.
2. Principle
The test was based on the principle that glucose in the blood binds irreversibly to hemoglobin in red blood cells, forming HbA1c.
Since red blood cells live about 120 days, the HbA1c value reflected the mean plasma glucose concentration during this period.
Detection was done by high-performance liquid chromatography (HPLC), immunoassay, or enzymatic assay methods.
3. Materials
• Patient’s venous blood sample (EDTA tube)
• Centrifuge
• HbA1c analyzer (HPLC, immunoassay machine, or enzymatic analyzer)
• Calibrators and controls
• Micropipettes and tips
4. Procedure (Laboratory Processing)
• Blood was collected in an EDTA tube and gently mixed to prevent clotting.
• The sample was either directly analyzed or processed through hemolysis to release hemoglobin.
• In HPLC method, hemoglobin fractions were separated based on charge differences, and HbA1c percentage was measured.
• In immunoassay/enzymatic methods, specific antibodies or enzymes reacted with HbA1c, and the reaction was quantified by analyzer.
• The HbA1c percentage was calculated and compared with reference values.
5. Result
• Normal: HbA1c < 5.7%
• Prediabetes: HbA1c 5.7–6.4%
• Diabetes: HbA1c ≥ 6.5%
• The results provided an average blood glucose estimate:
o 6% HbA1c ≈ 126 mg/dL average glucose
o 7% HbA1c ≈ 154 mg/dL
o 8% HbA1c ≈ 183 mg/dL (and so on)
6. Uses
• It was used to diagnose diabetes mellitus.
• It monitored long-term glycemic control in diabetic patients.
• It helped in adjusting treatment regimens for better management.
• It reduced reliance on frequent fasting or postprandial glucose measurements.
7. Conclusion
• The HbA1c test was a highly reliable marker for assessing long-term glucose control.
• It provided both diagnostic and prognostic value in diabetes management, making it one of the most widely used tests in clinical laboratories.

ہمیں یہ بھی غلط پڑھایا گیا کہ "انصاف ہونا چاہیے"۔حالانکہ قرآن میں انصاف کا کوئی تصور نہیں ہے۔یہ ایک غیر قرآنی اور غیر اس...
16/08/2025

ہمیں یہ بھی غلط پڑھایا گیا کہ "انصاف ہونا چاہیے"۔
حالانکہ قرآن میں انصاف کا کوئی تصور نہیں ہے۔
یہ ایک غیر قرآنی اور غیر اسلامی اصطلاح ہے۔
اسلام ہمیں انصاف کا نہیں، عدل کا حکم دیتا ہے۔

"انصاف" دراصل ایک مہذب شکل میں ظلم ہے —
یا یوں کہیے کہ یہ ظلم کی مہذب شکل ہے،
جو صدیوں سے ہمیں نظامِ عدل کے نام پر پڑھائی، سکھائی اور نافذ کی گئی ہے۔

1️⃣ تین لوگ ہیں: ایک طاقتور، ایک درمیانہ، اور ایک کمزور۔
آپ تینوں کو 10، 10 اینٹیں اٹھانے کو کہیں — یہ "انصاف" ہوگا، کیونکہ برابر دیا گیا۔
لیکن طاقتور کو 15، درمیانے کو 10، اور کمزور کو 5 اینٹیں دی جائیں —
تو یہ عدل ہے۔ ہر ایک کو اس کی طاقت کے مطابق ذمہ داری ملی۔

2️⃣ تین طلبہ ہیں: ایک اندھا، ایک ذہین، اور ایک جسمانی معذور۔
اگر آپ تینوں کو ایک جیسے سوالات والا پرچہ دیں — تو یہ "انصاف" ہے۔
لیکن دراصل یہ ظلم ہے، کیونکہ سب کی صلاحیتیں برابر نہیں۔
عدل یہ ہے کہ ہر طالب علم کا پرچہ اس کی استعداد کے مطابق ہو۔

3️⃣ تین افراد آپ کے پاس آتے ہیں: ایک بچہ، ایک بیمار، اور ایک صحت مند بالغ۔
آپ کے پاس تین روٹیاں، تین دودھ کے پیک، اور تین جوس ہیں۔
اگر آپ تینوں کو ایک ایک چیز دیں تو "انصاف" تو ہو جائے گا — مگر نتیجہ ظلم ہوگا۔
عدل یہ ہے کہ بچہ دودھ لے، مریض جوس لے، اور صحت مند روٹی لے —
جسے جو ضرورت ہو، وہی دیا جائے۔

4️⃣ پاکستان میں ایک رکشے والے کو 2000 روپے کا جرمانہ کیا جائے
اور مرسیڈیز والے کو بھی اتنا ہی —
تو یہ "انصاف" تو ہے، لیکن درحقیقت یہ بھی ظلم ہے۔
رکشے والا راشن کاٹ کر جرمانہ بھرے گا
اور مرسیڈیز والا جیب سے نوٹ نکال کر —
یہ کہاں کا انصاف ہے؟ یہاں عدل ہوتا تو جرمانہ آمدنی کے مطابق ہوتا۔

5️⃣ فن لینڈ میں واقعی ایسا ہوتا ہے —
جرمانے آمدنی کے حساب سے دیے جاتے ہیں۔
ایک امیر آدمی اگر تیز رفتاری کرے، تو لاکھوں روپے جرمانہ ہوتا ہے
اور ایک مزدور وہی قانون توڑے تو چند یورو کا چالان۔
یہی عدل ہے — سب پر قانون ایک ہو، مگر جزا و سزا ان کی حیثیت کے مطابق ہو۔

ہم سب کو ایک جیسا پرچہ دیتے ہیں، ایک جیسا قانون، ایک جیسا جرمانہ —
اور پھر حیران ہوتے ہیں کہ یہ معاشرہ ظالم کیوں بن گیا۔
یاد رکھیے: برابری ضروری نہیں، ضرورت کے مطابق دینا ضروری ہے۔
اور یہی عدل ہے۔

📖
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

> "إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ"

"بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔"
(سورہ النحل، آیت 90)

24/07/2025

آج بچوں کا رزلٹ دیکھ کر خوشی کے ساتھ دکھ بھی ہوا سوچ رہا ہوں ان کا مستقبل کیا ہو گا سارے محکمے پرائویٹ ہو گئے جابز رہی نہیں۔۔ جس ملک میں ایک زہین ترین ڈاکٹر کا کوئی مستقبل نہیں وہاں یہ بچے کیا کریں گے😭😭

Address

Layyah
Leiah
31200

Opening Hours

Monday 14:00 - 21:00
Tuesday 14:00 - 21:00
Wednesday 14:00 - 21:00
Thursday 14:00 - 21:00
Friday 15:00 - 21:00
Saturday 14:00 - 21:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr. Farhan Hashmi PT posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr. Farhan Hashmi PT:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category