Dr Muhammad Faisal

Dr Muhammad Faisal I'm Dr Muhammad Faisal, working as a Family Physician in Family Medicine clinic indus hospital Guramani Campus.

Online Medical Consultation
Mond to saturday( 6:00 pm to 9:00 pm)
sunday (9:00 am to 9:00 pm)
consultation Fee: 200 rupees

18/01/2022

کسی نے کہا کہ میں مرنا چاہتا ہوں،میں زندگی سے تنگ ہوں۔
میرا جواب
زندگی بہت خوبصورت ہے۔ اس میں ہمارے پیارے ہیں ۔بہت سے چاہنے والے ہیں۔ مرنا/خود کشی کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہوتا۔ کسی شخص کے مرنے/خودکشی سے پیارے اور زیادہ تکلیف میں آجاتے ہیں۔ زندگی میں ڈھیروں خوشیاں ہیں۔ زندگی کی خوشیوں کو تلاش کریں۔ اپنے پیاروں کے ساتھ وقت گزاریں۔ ان کے ساتھ خوشیاں بانٹیں۔ کسی ایک مسئلے کی وجہ سے زندگی ختم نہیں ہوتی۔ اپنے اردگرد کی خوشیاں تلاش کریں۔ خوش رہیں ہمیشہ ♥️🥰♥️
ڈاکٹر محمد فیصل
فیملی فزیشن

نوزائیدہ بچوں میں یرقان(Jaundice)  کی وجوہات،علامات اور احتیاطی تدابیرز: نوزائیدہ بچوں میں یرقان دراصل جلد اور آنکھوں کی...
08/01/2022

نوزائیدہ بچوں میں یرقان(Jaundice) کی وجوہات،علامات اور احتیاطی تدابیرز:

نوزائیدہ بچوں میں یرقان دراصل جلد اور آنکھوں کی رنگت کا پیلا ہونا ہے۔یہ اس لیے ہوتا ہے کیونکہ بچے کے خون میں موجود بیلیروبن(ایک پیلا مادہ جو خون کے سرخ خلیوں کی توڑ پھوڑ سے بنتا ہے) کی مقدار زیادہ ہوجاتی ہے ۔
نوزائیدہ بچوں میں یرقان ہونا ایک عام بات ہے خاص طور پہ ان بچوں میں جو قبل از وقت پیدا ہوتے ہیں اور کچھ دودھ پلانے والے بچوں میں بھی ہوسکتا ہے۔
یہ دارصل اس لیے ہوتا ہے کیونکہ نوزائیدہ بچوں کا جگر اس قابل نہیں ہوتا کہ خون میں موجود زیادہ مقدار کی بیلیروبن (پیلا مادہ) کو جسم سے خارج کر سکے۔

نوزائیدہ بچوں میں یرقان کی علامات:

نوزائیدہ بچوں میں یرقان کی سب سے اہم علامت جلد کی رنگت اور آنکھوں کی سفیدی کا پیلا ہونا ہے۔
اس کو چیک کرنے کے لیے اپنے بچے کے ماتھے یا ناک کو ہلکا سا دبائیں اگر اس کی رنگت پیلی ہوتی ہے تو آپ کے بچے کو یرقان ہو سکتا ہے۔
یرقان کی علامات اگر بچے کے پیدا ہونے کے 24 گھنٹوں کے بعد ظاہر ہوتی ہیں تو یہ زیادہ خطرے کی بات نہیں ہے اور اگر یہ علامات بچے کے پیدا ہونے کے 24 گھنٹوں کے اندر ظاہر ہوتی ہیں تو یہ بچے کے لیے خطرہ ہو سکتا ہے۔
دونوں صورتوں میں آپ فوراً بچے کو مستند ڈاکٹر سے چیک کروائیں۔

نوزائیدہ بچوں میں یرقان کی وجوہات:

1-جو بچے مقررہ تاریخ سے قبل از وقت پیدا ہوتے ہیں جیسا کہ 38 ہفتوں سے پہلے پیدا ہونے والا بچہ، ان بچوں کا جگر اتنا زیادہ طاقتور نہیں ہوتا کہ زیادہ مقدار میں موجود پیلے مادے کو جسم سے خارج کر سکے۔اسی طرح ان بچوں کی آنتیں بھی کمزور ہوتی ہیں جو اس قابل نہیں ہوتی کہ پاخانے کے ذریعے زیادہ پیلے مادے(بیلیروبن) کو جسم سے خارج کر سکیں۔
2-اگر پیدائش کے دوران بچے کو کسی قسم کی چوٹ لگتی ہے تو اس عمل میں بچے کے خون کے سرخ خلیے ٹوٹ سکتے ہیں جس سے جسم میں بیلیروبن (پیلا مادہ) کی مقدار حد سے بڑھ سکتی ہے۔
3- اگر ماں اور بچے کا بلڈ گروپ مختلف ہے تو ماں کے جسم میں موجود اینٹی باڈیز(غیر متعلقہ اجسام کی شناخت اور توڑ پھوڑ کرنے والی پروٹین) بچے کے خون میں شامل ہو کر خون کے سرخ خلیوں کو توڑ پھوڑ سکتی ہیں جس سے بچے کے خون میں پیلے مادے کی مقدار بڑھ سکتی ہے۔
4-بعض اوقات ماں کا دودھ پینے والے بچوں میں بھی یرقان کی علامات ہو سکتی ہیں ۔ یہ اس لیے ہوتا ہے کہ یا تو بچے کو ماں کا دودھ پینے میں مشکل ہو رہی ہے یا بچے کو ماں کے دودھ سے مکمل غزائیت نہیں مل رہی ہے۔بعض اوقات پانی کی کمی سے بھی ایسا ہو سکتا ہے۔لیکن کیونکہ ماں کا دودھ بچے کے لئیے بہت فائدہ مند ہے تو ہمیشہ اس سلسلے میں صحیح رہنمائی کے لیے مستند ڈاکٹر سے چیک کروائیں۔
5- نوزائیدہ بچوں میں یرقان کی وجوہات میں کچھ طبی بیماریاں بھی ہو سکتی ہیں جیسا کہ کسی وجہ سے بچے میں اندرونی طور پرخون کا بہنا،بچے میں کوئی انفیکشن کا ہونا وائرس یا بیکٹیریا کی وجہ سے یا جگر کا صحیح کام نہ کرنا ۔
کسی بھی وجہ سے یرقان ہو رہا ہو یا علامات ظاہر ہو رہی ہوں تو ہمیشہ بچے کو فوراً مستند ڈاکٹر سے چیک کروائیں۔

نوزائیدہ بچوں میں یرقان سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیرز:

1-ہمیشہ بچے کی ڈیلیوری گھر میں دائ سے کروانے کی بجائے کسی بھی ہسپتال میں کروائیں۔
2- اگر بچہ وقت سے پہلے پیدا ہو رہا ہے تو سپیشلسٹ ڈاکٹر سے چیک کرواتے رہیں اور بچے کو انتہائی نگرانی میں رکھیں۔
3-پیدائش کے بعد بچے کا بلڈ گروپ لازمی چیک کروائیں اور اگر ماں اور بچے کا بلڈ گروپ مختلف ہے تو بچے کا خاص خیال رکھیں اور مستند ڈاکٹر سے مشورہ کرتے رہیں۔
4-یرقان کی صورت میں بچے کو زیادہ سے زیادہ دودھ پلائیں تاکہ زیادہ مقدار میں موجود پیلا مادہ (بیلیروبن )پاخانے کے ذریعے سے خارج ہو سکے۔
5-اگر یرقان کی علامات پیدائش کے 24 گھنٹے بعد ظاہر ہوئی ہیں اور پیلا پن زیادہ نہیں ہے تو ہلکی سورج کی روشنی بچے کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے۔بچے کو دن میں 2 مرتبہ ہلکی سورج کی روشنی میں 10 سے 15 منٹ کے لیے رکھیں۔
کبھی بھی بچے کو تیز سورج کی روشنی میں نہ رکھیں۔
6-اگر بچے میں بیلیروبن کی سطح بہت زیادہ ہے اور سورج کی روشنی اور احتیاطی تدابیرز کے باوجود بچہ ٹھیک نہیں ہورہا تو فوراً بچے کو قریبی ہسپتال لے جائیں اور وہاں ڈاکٹر کے مشورے سے فوٹوتھیراپی کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

ڈاکٹر محمد فیصل
فیملی فزیشن

بچوں میں خون کی کمی(Anemia) کی وجوہات،علامات اور احتیاطی تدابیرز :بچوں میں خون کی کمی دراصل خون میں موجود سرخ خلیوں کی ک...
04/01/2022

بچوں میں خون کی کمی(Anemia) کی وجوہات،علامات اور احتیاطی تدابیرز :

بچوں میں خون کی کمی دراصل خون میں موجود سرخ خلیوں کی کمی کا نام ہے۔ ان سرخ خلیوں کو بنانے کیلئے جسم میں آئرن کا ہونا لازمی ہوتا ہے۔جن بچوں کے جسم میں آئرن کی کمی ہو ان میں خون کے سرخ خلیے کم بنتے ہیں جس سے خون کی کمی(Anemia) کا خطرہ ہوتا ہے۔

خون کی کمی کے خطرات کن بچوں میں ہوتے ہیں؟

1-ایسے بچے جو وقت سے پہلے پیدا ہوتے ہیں یا جن بچوں کا وزن پیدائش کے وقت بہت کم ہوتا ہے۔
2-ایسے لوگ جو بہت غربت میں زندگی گزارتے ہیں جو اپنے بچوں کو اچھی خوراک نہیں دے سکتے۔
3-ایک سال کی عمر سے پہلے گائے کے دودھ کا استعمال۔
4-ایسی خوراک کا استعمال جس میں آئرن،وٹامن اور منرلز کی کمی ہوتی ہے۔
5-کوئ حادثہ یا آپریشن جس میں بہت زیادہ خون ضائع ہو جائے۔
6-انفیکشن،جگر یا گردے کی کوئی ایسی بیماری جو لمبے عرصے تک رہے۔
7-خون کی وراثتی بیماریاں جن میں خون کی کمی ہو جاتی ہے۔

بچوں میں خون کی کمی کی علامات:

دل کی دھڑکن کا تیز ہو جانا،سانس کا پھول جانا،سستی اور تھکاوٹ،چکر کا آنا،سر میں درد ،چڑچڑا پن، آنکھوں اور جلد کی رنگت کا پیلا ہوجانا،جگر اور تلی کا بڑھ جانا، بچوں کی نشونما کا رک جانا یا کم ہو جانا،جسم میں درد رہنا۔

بچوں میں خون کی کمی سے بچنے کی احتیاطی تدابیرز:

1-اپنے بچے کو کم از کم دو سال تک ماں کا دودھ پلائیں۔ کیونکہ ماں کے دودھ میں آئرن موجود ہوتا ہے۔
2-اگر بچہ کسی وجہ سے ماں کا دودھ نہیں پی رہا تو ایسا فارمولا دودھ پلائیں جس میں آئرن موجود ہو۔
3-بچے کو ایک سال سے پہلے کبھی بھی گائے کا دودھ نہ پلائیں کیونکہ گائے کے دودھ میں اتنا آئرن موجود نہیں ہوتا کہ بچے میں مقررہ مقدار مین خون بن سکے۔
4- جب بچہ ٹھوس غذا کھانا شروع کردے تو اسے ایسی خوراک دیں جن میں آئرن کی اچھی خاصی مقدار موجود ہو جیسا کہ اناج،انڈے کی زردی،گوشت،آلو،ٹماٹر اور کشمش وغیرہ۔

اگر ان سب احتیاطی تدابیرز کے باوجود آپ کے بچے میں خون کی کمی ہے تو فوراً کسی بھی مستند ڈاکٹر سے اپنے بچے کا چیک اپ کرائیں۔

تحریر: ڈاکٹر محمد فیصل
فیملی فزیشن

فالج کی وجوہات، علامات اور احتیاطی تدابیرز:فالج ایک ایسی حالت ہے جو اس وقت ہوتی ہے جب کسی بھی وجہ سے دماغ کے کچھ حصوں کو...
02/01/2022

فالج کی وجوہات، علامات اور احتیاطی تدابیرز:

فالج ایک ایسی حالت ہے جو اس وقت ہوتی ہے جب کسی بھی وجہ سے دماغ کے کچھ حصوں کو خون کی فراہمی کم ہوجاتی ہے یا رک جاتی ہے۔
فالج دو طرح کا ہوتا ہے۔

ایک فالج کی قسم میں دماغ کو خون فراہم کرنے والی نالی میں خون کا لوتھڑا پھنسنے سے دماغ کو خون کی فراہمی کم ہو جاتی ہے یا رک جاتی ہے۔
فالج کی دوسری قسم میں دماغ کو خون فراہم کرنے والی نالی کسی وجہ سے پھٹ جاتی ہے جس کی وجہ سے دماغ کو خون کی فراہمی کم ہو جاتی ہے یا رک جاتی ہے۔

فالج کی علامات:
اگر کسی مریض کو فالج کا جھٹکا لگتا ہے تو اس میں مندرجہ ذیل علامات ہو سکتی ہیں۔
1-بولنے اور بات سمجھنے میں دشورای۔
2-منہ،ہاتھوں،پیروں،ٹانگوں کا سن ہو جانا۔
3-منہ کی ایک سائیڈ کا ٹیڑھا ہو جانا۔
4-ایک یا دونوں آنکھوں سے دیکھنے میں دشواری ہونا اور دھندلا نظر آنا۔
5-سر درد کا ہونا۔
6-چلنے پھرنے میں دشواری ہونا۔
7-جسم کی ایک سائیڈ یا دونوں سائیڈ کا مکمل طور پر کام نہ کرنا۔
8-کھانے پینے چبانے میں دشواری ہونا۔
9-یاد داشت کا چلے جانا
10- ہوش و حواس کا کھو جانا۔

فالج کی وجوہات:
فالج کی وہ قسم جس میں دماغ کو خون فراہم کرنے والی نالی میں لوتھڑا جمع ہو جاتا ہے اس کی وجوہات میں جسم میں چکنائی کی سطح کا بڑھنا،موٹاپا،دن بھر کوئی سرگرمی کا نہ ہونا یا سگریٹ نوشی ہو سکتا ہے۔
فالج کی وہ قسم جس میں دماغ کو خون فراہم کرنے والی نالی کسی وجہ سے پھٹ جاتی ہے اس کی وجوہات میں بلڈ پریشر کا تیز ہونا،ایسی دوائیوں کا زیادہ استعمال جن سے خون پتلا ہو جاتا ہے،کسی بھی قسم کا کوئی حادثہ جس میں دماغ کو چوٹ لگے ہو سکتا ہے۔

فالج سے بچنے کی احتیاطی تدابیرز:

1-اگر آپ بلڈ پریشر کے مریض ہیں تو اپنی دوائیں باقاعدگی سے استعمال کریں۔
2-اپنے خون میں چکنائی کی سطح کو کم کریں۔
3-اگر آپ کا وزن زیادہ ہے تو وزن کو کم کریں۔
4-سگریٹ،تمباکو کا استعمال ترک کر دیں۔
5-اگر آپ شوگر کے مریض ہیں تو دوائی کا استعمال باقاعدگی سے کریں ۔اور اپنی شوگر کو کنٹرول رکھیں
6-اپنی روزانہ کی خوراک میں تازہ پھل اور سبزیوں کا استعمال زیادہ کریں۔
7-ورزش کو روازنہ کا معمول بنائیں۔
8-کسی بھی قسم کا نشہ کوکین،تمباکو یا الکوحل سے بچیں۔
اگر آپ کو فالج کی کوئی بھی علامت محسوس ہو رہی ہو تو فوراً ہسپتال کی ایمرجنسی میں چیک اپ کرائیں۔

تحریر: ڈاکٹر محمد فیصل
فیملی فزیشن

خواتین میں لیکوریا کی وجوہات،علامات اور احتیاطی تدابیرزلیکوریا عورت کی اندام نہانی سے سفید، زرد یا سبز رنگ کے مادہ کا بہ...
01/01/2022

خواتین میں لیکوریا کی وجوہات،علامات اور احتیاطی تدابیرز

لیکوریا عورت کی اندام نہانی سے سفید، زرد یا سبز رنگ کے مادہ کا بہاؤ ہے جو کہ نارمل بھی ہو سکتا ہے یا یہ انفیکشن کی علامت ہو سکتا ہے۔ اس طرح کے اخراج اندام نہانی یا بیضہ دانی سے نکل سکتے ہیں۔یہ حمل کے دوران بھی ہو سکتا ہے۔
اگر تو یہ مادہ پتلا، سفید اور نسبتاً بو کے بغیر ہو تو یہ نارمل ہوتا ہے اس کے لیے کسی دوائی کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ نارمل لیکوریا ایک عام حالت ہے جو نوعمر لڑکیوں میں ماہواری کے آغاز کے کئی مہینوں سے ایک سال کے اندر ہوتی ہے اور بعض اوقات نوزائیدہ لڑکیوں میں بھی ہوتی ہے، جو عام طور پر ایک سے دو ماہ تک رہتی ہے۔
تاہم اگر خارج ہونے والا مادہ پیلا یا سبز ہو، اس میں ناگوار بو ہو، اور اس کے ساتھ جلن، خارش، درد، یا بافتوں کی سوزش ہوتی ہو تو یہ انفیکشن کی علامت ہوتی ہے ،جو بیکٹیریا یا فنگس کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔جس کے لیے آپ فوراً کسی بھی مستند ڈاکٹر سے اپنا چیک اپ کرائیں۔

لیکوریا سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیرز

عام اندام نہانی خارج ہونے والے مادہ کو روکنے کی ضرورت نہیں ہے۔ مگر ان تجاویز پر عمل کر کے اندام نہانی نہانی کو انفیکشن بچاکر کےخارج ہونے والے مادہ کو روکا جا سکتا ہے۔

ٹوائلٹ استعمال کرنے کے بعد، ہمیشہ آگے سے پیچھے تک مسح کریں۔ یہ آپ کی اندام نہانی میں بیکٹیریا کو پہنچنے سے روکنے میں مدد کرسکتا ہے۔
دن کے وقت سوتی انڈرپینٹس پہنیں۔ رات کو انڈرپینٹس نہ پہنیں۔
لمبے عرصے تک تنگ پتلون، سوئمنگ ڈریس پہننے سے گریز کریں۔
کنڈوم اور ڈایافرام میں موجود لیٹیکس اور نطفہ کو مارنے والے جیل جو پیدائش پر قابو پانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں کچھ خواتین کے لیے پریشان کن ہو سکتے ہیں۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ ان چیزوں میں سے کوئی ایک آپ کے لیے مسئلہ ہے، تو اپنے ڈاکٹر سے دوسری قسم کے برتھ کنٹرول کے بارے میں بات کریں۔
روزانہ نہائیں اور صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھیں۔

اگر ان تمام احتیاطی تدابیرز کے باوجود آپ کا مسئلہ حل نہیں ہورہا تو فوراً قریبی ڈاکٹر سے اپنا چیک اپ کرائیں۔
تحریر: ڈاکٹر محمد فیصل
فیملی فزیشن

31/12/2021

Address

Mehmood Kot City
Mahmud Kot
34200

Opening Hours

Monday 09:00 - 20:00
Tuesday 09:00 - 20:00
Wednesday 09:00 - 20:00
Thursday 09:00 - 20:00
Friday 09:00 - 20:00
Saturday 09:00 - 20:00
Sunday 09:00 - 20:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Muhammad Faisal posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category