Homeopath Abdulmojood Wajidullah

Homeopath Abdulmojood Wajidullah کھوئی ھوئی چیزوں سے زیادہ "پائی ھوئی" نعمتوں پر "شکر" ادا کریں۔

29/12/2025

Fibrocystic Breast Changes (فائبروسسٹک تبدیلیاں) دراصل کوئی بیماری نہیں ھے، بلکہ یہ ایک جسمانی کیفیت ھے جو بہت سی خواتین میں پائی جاتی ھے۔ اس کی وجہ سے چھاتی میں گٹھلیاں، درد یا بھاری پن محسوس ھوتا ھے۔
اس کی اہم وجوہات درج ذیل ھیں۔

1. ھارمونز کا عدم توازن (Hormonal Imbalance)
یہ سب سے بڑی وجہ ھے۔ خواتین کے جسم میں ایسٹروجن (Estrogen) ھارمون کی زیادتی اور پروجیسٹرون (Progesterone) کی کمی اس کا سبب بنتی ھے۔

* ماہواری (Periods)
کے دوران ان ھارمونز کی سطح اوپر نیچے ھوتی ھے، جس سے چھاتی کے ٹشوز میں پانی جمع ھونے لگتا ھے اور وہ سوج جاتے ھیں۔

2. چھاتی کے ٹشوز کی حساسیت
کچھ خواتین کے چھاتی کے ٹشوز (Breast Tissues) عام ھارمونل تبدیلیوں کے خلاف زیادہ حساس ھوتے ھیں۔ اس حساسیت کی وجہ سے ٹشوز میں سختی (Fibrosis) اور پانی کی چھوٹی تھیلیاں (Cysts) بننا شروع ھو جاتی ھیں۔

3. عمر کا اثر
یہ کیفیت زیادہ تر 20 سے 50 سال کی عمر کی خواتین میں دیکھی جاتی ھے۔ مینوپاز (ماہواری رکنے) کے بعد یہ مسئلہ اکثر خود بخود ختم ھو جاتا ھے کیونکہ ھارمونز کی سطح مستقل ھو جاتی ھے۔

4. غذا اور طرزِ زندگی
کچھ تحقیقات کے مطابق، طرزِ زندگی کے یہ عوامل بھی اثر انداز ہو سکتے ھیں۔

* کیفین (Caffeine): زیادہ چائے، کافی یا سافٹ ڈرنکس پینا بعض خواتین میں درد کو بڑھا سکتا ھے۔

* چربی والی غذا: زیادہ چکنائی والی خوراک ھارمونز پر اثر انداز ھوتی ھے۔

* تناؤ (Stress):
ذہنی تناؤ بھی ھارمونز کے توازن کو بگاڑ سکتا ھے۔
علامات جو آپ محسوس کر سکتی ھیں۔

* چھاتی میں گٹھلیاں جو ماھواری سے پہلے بڑی اور بعد میں چھوٹی ھو جاتی ھیں۔

* ماھواری سے ایک ہفتہ پہلے چھاتی میں شدید درد یا حساسیت۔

* بغل کے نیچے بھاری پن محسوس ھونا۔

یاد رکھیں: فائبروسسٹک تبدیلیاں کینسر نہیں ھوتیں اور نہ ھی یہ کینسر کا خطرہ بڑھاتی ھیں۔ تاہم، اگر آپ کو کوئی ایسی گٹھلی محسوس ھو جو ماھواری کے بعد بھی ختم نہ ھو، تو ڈاکٹر سے معائنہ کروانا بہتر ھے۔

29/12/2025

ہائی پرولیکٹن (High Prolactin)
کیا ھے؟

پرولیکٹن ایک ہارمون ھے جب یہ غیر ضروری طور پر زیادہ ھو جائے تو خواتین میں بہت سی ھارمونل خرابیاں پیدا ھو جاتی ھیں۔

🩸 ماہواری کے مسائل:
پیریڈز جلدی جلدی آنا (20 سے 25 دن میں)
کبھی بہت کم، کبھی بہت زیادہ خون
پیریڈز کے ساتھ شدید درد

🧠 دماغی و جذباتی علامات:
بلا وجہ غصہ آنا
رونا، خوف، بے چینی
کسی کی بات برداشت نہ ھونا
ڈپریشن جیسی کیفیت

💇‍♀️ جسمانی تبدیلیاں:
سر کے بال زیادہ گرنا
چہرے پر غیر ضروری بال آنا
چھاتی میں درد یا بھاری پن
وزن کا بڑھنا

🤰 تولیدی (Fertility) مسائل:
بار بار مس کیرج (حمل ضائع ہونا)
انڈے کا صحیح نہ بننا
ٹیوب بلاک ھونے کا خطرہ
اینڈومیٹریوسس
اووری میں سِسٹ

29/12/2025

ایک سے زائد مردوں کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنے سے خواتین کی صحت پر کئی سنگین جسمانی اور نفسیاتی اثرات مرتب ھو سکتے ھیں۔ طبی نقطہ نظر سے اس کے بڑے نقصانات درج ذیل ھیں۔
1. جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماریاں (STIs/STDs)
مختلف ساتھیوں کے ساتھ تعلقات رکھنے سے STIs کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ھے۔ ان میں سے کچھ بیماریاں خاموش قاتل ھوتی ھیں جن کی علامات فوری ظاہر نہیں ھوتیں۔

* HIV/AIDS:
یہ سب سے خطرناک ہے جو مدافعتی نظام کو تباہ کر دیتا ھے۔

* ہیومن پیپیلوما وائرس (HPV):
یہ وائرس خواتین میں رحم کے منہ کے کینسر (Cervical Cancer) کی سب سے بڑی وجہ ھے۔

* سوزاک (Gonorrhea) اور کلیمائڈیا: یہ دونوں بیماریاں بانجھ پن کا سبب بن سکتی ھیں۔

* آتشک (Syphilis)
اور ہرپیز: یہ جسم پر زخم اور اعصابی پیچیدگیاں پیدا کر سکتے ھیں۔

2. بانجھ پن کا خطرہ (Infertility)
کئی مردوں سے تعلقات کے نتیجے میں بار بار ہونے والے انفیکشنز سے PID (Pelvic Inflammatory Disease) ہو سکتی ھے۔ یہ انفیکشن بچہ دانی کی نالیوں (Fallopian Tubes) کو بلاک کر دیتا ھے، جس سے حمل ٹھہرنے میں مستقل رکاوٹ پیدا ھو جاتی ھے۔

3. رحم کے کینسر کا خطرہ
طبی تحقیقات کے مطابق، جنسی ساتھیوں کی تعداد جتنی زیادہ ھوگی، Cervical Cancer
ھونے کا امکان اتنا ھی زیادہ ہوگا۔ اس کی وجہ HPV وائرس کی مختلف اقسام کا جسم میں منتقل ھونا ھے۔

4. نفسیاتی اور جذباتی اثرات
کئی مردوں سے تعلقات اکثر ذہنی تناؤ، اضطراب (Anxiety) اور ڈپریشن کا باعث بنتے ھیں۔ سماجی دباؤ اور جذباتی عدم استحکام خاتون کی ذہنی صحت کو بری طرح متاثر کر سکتا ھے۔

5. غیر ارادی حمل (Unintended Pregnancy)
مختلف ساتھیوں کے ساتھ جنسی سرگرمی غیر ارادی حمل کے خطرے کو بڑھاتی ھے، جس کے نتیجے میں غیر محفوظ اسقاطِ حمل (Abortion) جیسے خطرناک مراحل سے گزرنا پڑ سکتا ھے، جو جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ھے۔

بچاؤ اور احتیاط
* وفاداری: ایک ھی وفادار ساتھی تک محدود رہنا ان تمام بیماریوں سے بچنے کا بہترین طریقہ ھے۔

* حفاظتی تدابیر: اگر خطرہ موجود ہو تو حفاظتی تدابیر (Condoms) کا استعمال ضروری ھے، اگرچہ یہ سو
فیصد تحفظ کی ضمانت نہیں دیتیں۔

* باقاعدہ چیک اپ:
ایسی صورتحال میں ہر 6 ماہ بعد اپنا مکمل طبی معائنہ (Screening) کروانا ضروری ھے۔

29/12/2025

کمزور عضو تناسل تناؤ سختی کی 10 وجوہات جنہیں مرد اکثر نظر انداز کر دیتے ھیں۔

بہت سے مردوں کا خیال ھے کہ کمزور کھڑا ھونا "صرف تناؤ" یا "عارضی" ھے۔
لیکن زیادہ تر معاملات میں، یہ آپ کا جسم ایک انتباہ بھیجتا ھے ناکامی نہیں۔

وہ عام وجوھات ھیں جو مرد نظر انداز کرتے ھیں۔

1. خون کی ناقص گردش
ایک سخت سخت تناؤ بھرا عضو تناسل خون کے بہاؤ پر منحصر ھے۔
ہائی بی پی، ذیابیطس، تمباکو نوشی، اور ہائی کولیسٹرول بہاؤ کو کم کرتے ھیں، کوئی بہاؤ، کوئی طاقت نہیں۔

2. کم ٹیسٹوسٹیرون
کم ٹیسٹوسٹیرون لیبیڈو، سٹیمینا، موڈ، اور عضو تناسل کے معیار کو متاثر کرتا ھے۔
بہت سے مرد کبھی بھی اس کی جانچ نہیں کرتے۔

3. زیادہ تناؤ اور اضطراب
تناؤ کورٹیسول کو بڑھاتا ھے، جو جنسی ھارمونز اور خون کے بہاؤ کو روکتا ھے۔

4. کم نیند
نیند کی کمی ٹیسٹوسٹیرون کو کم کرتی ھے اور سوزش میں اضافہ کرتی ھے۔

5. پیٹ کی اضافی چربی
پیٹ کی چربی ایسٹروجن کو بڑھاتی ھے اور مردوں میں ٹیسٹوسٹیرون کو کم کرتی ھے۔

6. ہائی بلڈ شوگر (ذیابیطس)
ذیابیطس اعصاب اور خون کی نالیوں کو نقصان پہنچاتی ھے جو عضو تناسل کے لیے ضروری ھیں۔

7. فحش مواد کا کثرت سے استعمال
ضرورت سے زیادہ محرک قدرتی جنسی ردعمل کو کم کر دیتا ھے۔

8. شراب اور تمباکو نوشی
وہ اعصاب، خون کی وریدوں اور ہارمون کے توازن کو نقصان پہنچاتے ھیں۔

9. پروسٹیٹ کے مسائل
ایک بڑھا ھوا یا سوجن پروسٹیٹ عضو تناسل اور انزال کو متاثر کر سکتا ھے۔

10. غذائی اجزاء کی کمی
کم زنک، میگنیشیم، وٹامن ڈی، یا بی وٹامنز جنسی کارکردگی کو کمزور کرتے ھیں۔

کمزور کھڑا ھونا "معمول کی عمر" نہیں ھے۔
یہ صحت کا اشارہ ھے۔
بنیادی وجہ کو درست کریں۔
صرف علامت ہی نہیں۔
♦️✿✿نوٹ
پوسٹ شئیرنگ مفید معلومات و مفاد عامہ ایجوکیشنل پرپوز کے لیے ھے، برائے مہربانی صحت کے مسائل کے کسی بھی علاج کے لیے اپنے ہیلتھ فزیشن سے رجوع کریں۔
بلا ضرورت و بلا تشخیص کے بغیر کوئی دواء ہرگز استعمال نہ کریں, اپنی صحت کا خیال رکھیں۔

کچھ مرد دیکھتے ھیں کہ ان کے خصیے دن بہ دن بڑے ھوتے جا رھے ھیں۔ خصیے کے سائز میں بتدریج اضافہ جوانی میں کوئی عام تبدیلی ن...
29/12/2025

کچھ مرد دیکھتے ھیں کہ ان کے خصیے دن بہ دن بڑے ھوتے جا رھے ھیں۔

خصیے کے سائز میں بتدریج اضافہ جوانی میں کوئی عام تبدیلی نہیں ھے اور یہ کسی بنیادی طبی حالت کی علامت ھو سکتی ھے۔ مناسب تشخیص اور تشخیص کے لیے ڈاکٹر، خاص طور پر یورولوجسٹ سے مشورہ کرنا ضروری ھے، کیونکہ اس کی وجہ ایک معمولی مسئلے سے لے کر خصیوں کے کینسر جیسی سنگین چیز تک ھو سکتی ھے۔

خصیوں کے بتدریج بڑھنے کی ممکنہ● وجوھات۔
کئی حالات ایک یا دونوں خصیوں (یا ارد گرد کے سکروٹم) کے سائز میں اضافہ کا سبب بن سکتے ھیں۔

ھیڈروسیل، فوطوں میں پانی اترنا• Hydrocele۔
اسکروٹم کے اندر خصیے کے ارد گرد سیال کا ایک بے درد جمع ہونا، جو چوٹ، انفیکشن، یا بالغوں میں بغیر کسی وجہ کے پیدا ھو سکتا ھے۔ یہ اکثر "بھاری کھینچنے کا احساس" کی طرح محسوس ھوتا ھے۔

ویریکوسیل، خصیوں کی رگوں کا پھولنا• Varicocele۔
سکروٹم کے اندر پھیلی ہوئی رگیں، جنہیں اکثر "کیڑے کی تھیلیوں" کے طور پر بیان کیا جاتا ھے۔ وہ عام طور پر آہستہ آہستہ بڑھتے ھیں اور بائیں جانب زیادہ عام ھوتے ھیں۔ عام طور پر بے ضرر ھونے کے باوجود، وہ تکلیف یا زرخیزی کے مسائل پیدا کر سکتے ھیں۔

سپرماٹوسیل •
Spermatocele
یا
( Epididymal Cyst)۔
ایک سیال سے بھرا ھوا سسٹ جو ایپیڈیڈیمس میں بنتا ھے (خصیے کے پچھلے حصے میں موجود کوائلڈ ٹیوب جو سپرم کو ذخیرہ کرتی ھے)۔ یہ عام طور پر بے درد ھوتے ھیں لیکن یہ اتنے بڑے ھو سکتے ھیں کہ تکلیف یا بھاری پن کا احساس ھو جائے۔

ایپیڈیڈیمٹس •
Epididymitis/orchitis: epididymis اور/یا خصیے کی سوزش یا انفیکشن۔
یہ بیکٹیریل انفیکشن (بشمول ایس ٹی آئی جیسے کلیمائڈیا یا سوزاک) یا وائرس (جیسے ممپس) کی وجہ سے ھوسکتے ھیں۔ علامات میں اکثر درد، بخار اور سرخی شامل ھوتی ھے۔

انگوائنل ہرنیا •
Inguinal Hernia:
جب آنتوں کا کوئی حصہ یا فیٹی ٹشو پیٹ کی دیوار اور سکروٹم میں کمزور جگہ سے دھکیلتا ھے، جس کی وجہ سے سکروٹم بڑا ھوتا ھے۔

خصیوں کا کینسر۔•
اگرچہ کم عام ھے، لیکن درد کے بغیر گانٹھ یا بتدریج بڑھنا یا خصیے کی شکل یا احساس میں تبدیلی ورشن کے کینسر کی علامت ھوسکتی ھے۔ کامیاب علاج کے لیے ابتدائی تشخیص بہت ضروری ھے۔

سیال برقرار رکھنا (ایڈیما)۔•
نظامی حالات جیسے دل کی خرابی یا گردے کی بیماری پورے جسم میں سیال جمع ھونے کا سبب بن سکتی ھے، بشمول سکروٹم۔

ڈاکٹر کو کب دیکھنا ھے۔•
آپ کے خصیوں کے سائز، شکل یا احساس میں کسی بھی مستقل تبدیلی کا صحت کی دیکھ بھال فراہم کرنے والے کے ذریعہ جائزہ لیا جانا چاہئے تاکہ سنگین حالات کو مسترد کیا جا سکے اور مناسب علاج کو یقینی بنایا جا سکے۔

اگر آپ کو تجربہ ھو تو فوری طبی امداد حاصل کریں (ایمرجنسی روم میں جائیں)
خصیے یا کمر میں اچانک، شدید درد۔
متلی، الٹی، یا بخار کے ساتھ تیز سوجن۔

بتدریج، کم تکلیف دہ تبدیلیوں کے لیے، آپ کو ابھی اپنے ڈاکٹر یا یورولوجسٹ سے فوری طور پر تشخیص کے لیے ملاقات کا وقت طے کرنا چاہیے۔ باقاعدگی سے ٹیسٹ کروا کر خود معائنہ کرنے سے آپ کو اس بات سے واقف ھونے میں مدد مل سکتی ھے۔

26/12/2025

ویجائنا یا بچہ دانی (یوٹرس) نہ ھو تو لڑکی کا کیا کریں؟

"سنا کچھ تم نے"

کیا؟

عشرت کی منجھلی اٹھارھویں میں لگ گئی اور اب تک ماھواری شروع نہیں ھوئی ۔

ھائے یہ کیا غضب ھوا؟ کیا وجہ ھوئی آخر؟

سنا ھے اس کے جسم میں بچے دانی / رحم ھی نہیں ھے۔

یہ کیسے ھو سکتا ھے کہ کسی لڑکی کا رحم ھی نہ ھو؟ اے بہن وہ تو ہیجڑا ھوئی نا پھر ۔

ہیجڑوں جیسی لگتی تو نہیں ھے۔ نازک نین نقش بھی لڑکیوں والے ھیں، آواز بھی مہین سی ھے۔ لڑکی دکھتی ھے بھئی۔

لو اور سنو، ماھواری کے بنا کسی کو عورت کیسے کہا جا سکتا ھے؟ ہیجڑوں کے یہی تو مسائل ھوتے ھیں، نہ ادھر کے، نہ ادھر کے۔

کسی محفل میں یہ گفتگو ھم نے اتفاقاً سن لی جس کی تپش روح تک جا پہنچی اور ھم نے بے اختیار سوچا کہ کیا عورت بچے دانی/ رحم کے بغیر کچھ بھی نہیں؟ اگر عورت کو بچے دانی/ رحم کی میزان میں ھی تول کر اس کی حیثیت کا فیصلہ کرنا ھے تب تو ہر لڑکی کی پیدائش پہ مبارک بھی کچھ یوں دینی چاہئیے

مبارک ھو، آپ کے گھر بچے دانی آئی ھے

برا مت مانئیے اور شرمائیے بھی نہیں کیونکہ یہی تو ھیں ھمارے معاشرے کی اقدار جہاں پاجامے کے اندر کی دنیا انسان کے مقام کا تعین کرتی ھے۔

ایک سوچ در آتی ھے، اگر بچے دانی/ رحم کا خالق کچھ خام مال زمین پہ بھیج دیتا ھے تو اس کا حساب کتاب اس انسان سے کیوں؟

ہمیں بے اختیار وہ بچی یاد آگئی جس کی پریشان حال ماں اسے ہسپتال لے کر آئی تھی۔

ڈری سہمی سولہ سترہ سالہ بچی اس سوال کے عذاب سے بارھا گزر چکی تھی کہ اسے ماھواری کیوں نہیں آتی؟ اس کے ساتھ کی سب لڑکیاں ماھواری کے مرحلے سے گزر چکی تھیں۔ سو اس کے لئے مسئلہ کیا تھا آخر؟

بچی کی حالت دیکھی نہیں جاتی تھی۔ بنا کسی جرم کے وہ سزا کاٹ رھی تھی اور نہ جانے کب تک بے شمار سوال و جواب کا نشانہ بننا اس کا مقدر تھا۔

الٹراساؤنڈ کی مشین نے جسم کے اندر کا حال کھول کر بیان کر دیا تھا جس کی تائید ایم آر آئی (MRI) نے بھی کی تھی۔ بچی کے جسم میں بیضہ دانیاں یا اووریز تو موجود تھیں لیکن پیدائشی نقص کے طور پہ بچے دانی یا رحم نہ ھونے کے برابر، بہت ھی چھوٹے حجم کے ساتھ، بس اصل کی بجائے اس کی نشانی ھی سمجھیے۔

بیرونی جنسی اعضا کسی کمی بیشی کے بغیر اپنی اصلی ہئیت میں تھے۔

ھمارے لئے اگلا مرحلہ یہ تھا کہ کروموسومز چیک کروائے جائیں تاکہ گڑبڑ کی بنیاد پتہ چل سکے۔ لیجئیے جناب کروموسومز کا نتیجہ نکلا، 46 XX , یعنی جنیاتی طور پہ عورت !

تصویر اب مکمل ھو چکی تھی۔

ایک عورت جو دیکھنے میں عورت نظر آرہی ہے۔ ماں باپ کی طرف سے حاصل کردہ کروموسومز بھی ٹھیک ہیں ۔ ہارمونز بھی موجود ہیں کہ چھاتی بن چکی ہے۔ لیکن رحم یا بچے دانی غائب یا نہ ہونے کے برابر…… لیجئے جناب معمہ حل ہو چکا۔ اس صورت حال کو مئیر روکیٹینسکی کسٹر ہاسر سنڈروم کہتے ہیں (Mayer-Rokitansky-Küster-Hauser Syndrome)

یہ طویل اور مشکل نام ان چار ڈاکٹرز کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے اس بیماری کو شروع میں دریافت کیا اور دنیا کو اس کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔

حمل کے ابتدائی مرحلے میں جب اعضا بن رہے ہوتے ہیں اور جسم یہ تعین کر رہا ہوتا ہے کہ جنیٹک کوڈنگ کے مطابق کیا کچھ بنے گا؟ اس وقت کروموسومز نارمل ہونے کے باوجود متعلقہ جینز میں کچھ ایساردوبدل یا میوٹیشن ہوتی ہے کہ رحم اور ویجائنا یا تو بن ہی نہیں پاتے، یا بے حد چھوٹے سائز کے بنتے ہیں۔

ایم آر کے ایچ (MRKH) سنڈروم پانچ ہزار بچیوں میں سے ایک کو ہو سکتا ہے۔ سنڈروم کی علامات میں کافی ورائٹی پائی جاتی ہے لیکن ایک عنصر جو سب میں لازم ہوتا ہے، وہ ہے ماہواری کا نہ آنا۔

ایسی بچیوں کی تشخیص کا مرحلہ بلوغت کے وقت ہی سامنے آتا ہے جب بظاہر نارمل نظر آنے والی لڑکی کو ماہواری شروع نہیں ہوتی اور ماں باپ کے لئے یہ سوال عذاب بن جاتا ہے کہ اب کیا ہو گا؟

اس سوال کی شدت اور اذیت کا مقابلہ کسی بھی اور صورت حال سے نہیں کیا جا سکتا کہ معاشرہ انسان کو انسان اس وقت تک نہیں سمجھتا جب تک صنفی شناخت کی مہر مکمل نہ ہو۔

صنفی شناخت میں کجی ویسی ہی ہے جیسے جام کے بقیہ اعضا میں کوئی کمی بیشی ہو۔ جس طرح معاشرہ لنگڑے پن، لولے پن، اندھا ہونے کو قبول کرتا ہے اسی طرح ماہواری کے نہ آنے یا رحم کی غیر موجودگی کے ساتھ بھی بھرپور زندگی گزاری جا سکتی ہے۔

بس معاشرے کو یہ سمجھنا پڑے گا کہ ضروری نہیں کہ ہر عورت حاملہ ہو سکے۔ ایسے لوگوں کے لئے جدید سائنس نے بچہ پیدا کرنے کا خواب تو پورا کر دکھایا ہے اگر بیضہ دانی سے انڈہ لے کر سروگیٹ عورت کے رحم میں رکھوانا قبول ہو تو۔ اور اگر بچہ نہیں چاہئیے تو پھر ویسے ہی ستے خیراں!

مان لیجئے کہ ڈی ایس ڈی Disorders of sexual differentiation کے متعلق آگہی ہر گھر کی ضرورت ہے وہ گھر چاہے چیچو کی ملیاں میں ہو یا ڈیفنس میں۔
ماخوذ

26/12/2025

موٹاپا اور جوڑوں کا درد
(Obesity & Joint Pain)

آپ کے جسمانی وزن میں اضافے اور جوڑوں کے درد کی وجوہات کا پتہ لگانے کے لیے سب سے پہلے درج ذیل نکات پر غور کرنا ھوگا۔

ممکنہ تشخیص (Diagnosis)

ہارمونل عدم توازن (Hormonal Imbalance) – ہسٹریکٹومی (Uterus Removal) کے بعد ہارمونل تبدیلیاں آتی ھیں، جو موٹاپے اور جوڑوں کے درد کا باعث بن سکتی ھیں۔
آسٹیوآرتھرائٹس (Osteoarthritis) – وزن بڑھنے سے جوڑوں پر دباؤ بڑھتا ھے، خاص طور پر گھٹنوں، کمر اور کولہوں پر۔
ہائیپوتھائیرائڈزم (Hypothyroidism) – تھائیرائڈ ہارمون کی کمی وزن بڑھنے اور سستی کا سبب بن سکتی ھے۔
انسولین ریزسٹینس (Insulin Resistance) – میٹابولزم کی خرابی کی وجہ سے وزن بڑھ سکتا ھے اور ذیابیطس کا خطرہ بھی ھو سکتا ھے۔
وٹامن ڈی اور کیلشیم کی کمی
(Vitamin D & Calcium Deficiency) – ہڈیوں کی کمزوری اور جوڑوں کے درد کی عام وجہ ھو سکتی ھے۔

بیماری کی وجوہات (Causes)

ہارمونی تبدیلیاں (Hormonal Changes)
غیر متوازن خوراک اور زیادہ کیلوریز (Unhealthy Diet)
جسمانی سرگرمی میں کمی (Lack of Physical Activity)
ذہنی دباؤ اور نیند کی کمی (Stress & Lack of Sleep)
ادویات کے اثرات (Side Effects of Medicines)

ضروری لیبارٹری ٹیسٹ (Laboratory Tests)

ہارمونل ٹیسٹ (Hormonal Tests)
تھائیرائڈ فنکشن ٹیسٹ (Thyroid Function Test - TSH, T3, T4)
ایسٹروجن اور پروجیسٹرون لیول (Estrogen & Progesterone Levels)

وٹامن اور معدنیات کی جانچ (Vitamin & Mineral Tests)
وٹامن ڈی (Vitamin D - 25 Hydroxy Test)
کیلشیم لیول (Serum Calcium Test)

بلڈ شوگر ٹیسٹ (Blood Sugar Tests)
فاسٹنگ بلڈ شوگر (Fasting Blood Sugar - FBS)
ایچ بی اے ون سی (HbA1c - Glycated Hemoglobin Test)

انسولین ریزسٹینس ٹیسٹ (Insulin Resistance Test - Fasting Insulin & HOMA-IR Index)

یورک ایسڈ لیول (Serum Uric Acid Test)

احتیاطی تدابیر (Precautions)

متوازن خوراک لیں، خاص طور پر پروٹین، فائبر اور کم کیلوریز والی غذا۔
روزانہ ہلکی پھلکی ورزش کریں، جیسے چہل قدمی اور یوگا۔
ہارمونل تبدیلیوں کے دوران ڈاکٹر سے مشورہ لیتے رہیں۔
نیند پوری کریں اور ذہنی دباؤ کو کم کریں۔
دودھ، دہی اور کیلشیم سے بھرپور غذائیں استعمال کریں۔

ہومیوپیتھک علاج (Homeopathic Medicines)

کالی فاس (Kali Phos 6x)
جسمانی اور ذہنی تھکن کے ساتھ موٹاپا
نیند کی کمی اور ہر وقت چڑچڑاپن
جوڑوں میں شدید درد جو آرام سے کم ہوتا ہے
پٹھوں میں کمزوری اور نرمی محسوس ہونا
ذہنی دباؤ کی وجہ سے وزن میں اضافہ

کالی کارب (Kali Carb 200)
ہسٹریکٹومی کے بعد وزن میں تیزی سے اضافہ
جوڑوں میں سوجن اور سختی، خاص طور پر صبح کے وقت
کمر اور گھٹنوں میں درد جو دبانے سے بہتر ہوتا ہے
پسینے کے ساتھ کمزوری اور سانس لینے میں دشواری
زیادہ وزن کے باوجود جسمانی کمزوری محسوس ہونا

بیرائٹا کارب (Baryta Carb 200)
موٹاپا جو ہارمونی تبدیلیوں کے بعد بڑھ گیا ہو
چلنے پھرنے میں دقت اور آسانی سے تھک جانا
زیادہ ٹھنڈ محسوس ہونا اور سردی میں درد بڑھ جانا
ہاتھ اور پاؤں میں سن ہونے کی شکایت
کولہوں اور گھٹنوں میں درد، خاص طور پر بیٹھنے کے بعد کھڑے ہونے پر

نیٹرم موریٹیکم
(Natrum Muriaticum 200)
انسولین ریزسٹینس اور میٹابولزم کے مسائل
وزن زیادہ ہونے کے باوجود بھوک کم لگنا
جوڑوں کے درد کے ساتھ پانی کی کمی محسوس ہونا
ذہنی دباؤ اور غم کی کیفیت میں وزن کا بڑھ جانا
جسم میں سوجن، خاص طور پر چہرے اور پیروں میں

کاسٹی کم (Causticum 200)
ہڈیوں اور جوڑوں میں مستقل درد، خاص طور پر گھٹنوں میں
چلنے میں دقت اور سستی، خاص طور پر صبح کے وقت
کھڑے ہونے یا زیادہ دیر بیٹھنے پر درد کا بڑھ جانا
جلد پر خشکی اور پانی کی کمی محسوس ہونا
پٹھوں کی کمزوری اور تھکن کا زیادہ ہونا

ادویات کا استعمال (Dosage & Usage)

صبح، دوپہر اور رات 5 قطرے یا 4 گولیاں زبان پر رکھیں۔
مسلسل 2 ماہ تک استعمال کریں اور علامات کے مطابق خوراک ایڈجسٹ کریں۔
دوا لینے کے 15 منٹ بعد کھانے پینے سے گریز کریں۔

نوٹ

مندرجہ بالا ادویات کو علامات کے مطابق منتخب کریں۔ اگر یہ ادویات آپس میں اینٹی ڈوٹ نہ ہوں تو انہیں اکٹھا استعمال کیا جا سکتا ہے۔

15/12/2025

Address

Behind Government Technology College For Boys, Rahman Town, Multan Road
Mailsi

Opening Hours

Monday 10:00 - 16:00
Tuesday 10:00 - 16:00
Wednesday 10:00 - 16:00
Thursday 10:00 - 16:00
Saturday 10:00 - 16:00
Sunday 10:00 - 16:00

Telephone

+923004339293

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Homeopath Abdulmojood Wajidullah posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Homeopath Abdulmojood Wajidullah:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram