ESAR Health Centre

ESAR Health Centre ESAR Health Centre is a charity hospital. It is located in a remote area of KP, Kotli Pain, Mansehra

رمضان کریم کے ان بابرکت لمحات میں ایثار ہیلتھ سنٹر کی ٹیم کو اپنی دعاوں میں یاد رکھیں۔
07/03/2026

رمضان کریم کے ان بابرکت لمحات میں ایثار ہیلتھ سنٹر کی ٹیم کو اپنی دعاوں میں یاد رکھیں۔

چند روز سے میرا معمول ہے کہ میں دور ایک دشوار گزار پہاڑی کی چوٹی پر مقیم اس بوڑھے مریض کی پٹی کرنے کے لئے جاتا ہوں جس کا...
28/02/2026

چند روز سے میرا معمول ہے کہ میں دور ایک دشوار گزار پہاڑی کی چوٹی پر مقیم اس بوڑھے مریض کی پٹی کرنے کے لئے جاتا ہوں جس کا جسم ذیابطیس (Diabetes) کی بے رحمی کا شکار ہے۔ مرض اس قدر جڑ پکڑ چکا تھا کہ زخم کے گینگرین بن جانے کے باعث ناچار ان کی ٹانگ کاٹنی پڑی۔ کٹی ہوئی ٹانگ کے اسی زخم کی مرہم پٹی کرنے کے لئے مجھے روز جانا پڑتا ہے۔
گزشتہ روز حسبِ معمول میں پٹی کرکے لوٹ چکا تھا کہ عصر کے وقت بابا جی کے پوتے سراسیمگی کی حالت میں آئے اور بابا جی کو کینولا لگانے کی درخواست کی۔ معلوم ہوا کہ بابا جی کو ڈرپ لگانی ہے۔ میں نے احتیاطاً ان کے بڑے صاحبزادے سے فون پر رابطہ کیا اور مشورہ دیا کہ اگر ناگزیر نہیں تو یہ عمل صبح تک ٹالا جا سکتا ہے تاکہ میں پٹی اور ڈرپ دونوں کام ایک ساتھ کر لوں۔ ورنہ مجھے بے سبب ہی روزے کی حالت میں اتنی مشقت کرنی پڑے گی۔ لیکن وہاں سے اصرار کیا گیا کہ ڈاکٹر کے بقول ڈرپ ابھی لگانا لازم ہے۔

یوں روزے کی حالت میں سنگلاخ راستوں اور دشوار گزار چڑھائیوں کو عبور کرتے ہوئے میں جب وہاں پہنچا تو دیکھا کہ باباجی کو لگوانے کے لئے جو بوتل لائی گئی ہے وہ 5% Dextrose اور Ringer's Lactate کا ایک لیٹر پر مشتمل آمیزہ ہے۔ ذیابطیس کے مریض کے لئے اس قدر شکر (Glucose) کا براہِ راست رگوں میں جانا کسی خطرے سے کم نہ تھا مگر لواحقین کے ڈاکٹر کے مشورے والے پختہ بیان کے سامنے میں نے خاموشی سے ڈرپ لگائی اور واپس آ گیا۔

اگلی صبح جب میں دوبارہ پٹی کے لئے پہنچا تو منظر ہی بدلا ہوا تھا۔ بابا جی نقاہت سے نڈھال اور نیم بے ہوشی کے عالم میں تھے۔ جب ان کا شوگر لیول چیک کیا تو وہ 570 mg/dL کی خطرناک حد کو چھو رہا تھا۔ استفسار پر معلوم ہوا کہ ابھی تک انسولین بھی نہیں دی گئی۔ جب میں نے سختی سے پوچھا کہ کیا واقعی یہ ڈرپ انہی کے ڈاکٹر نے لکھی تھی؟ تو پتہ چلا کہ یہ مشورہ ان کے اپنے ڈاکٹر کا نہیں بلکہ ان صاحب کا تھا جنہیں ڈاکٹر سمجھا جا رہا تھا وہ اچھڑیاں میں کلینک چلانے والے ایک ٹیکنیشن ہیں جو انسانی زندگیوں سے کھیلنے کا خاصہ تجربہ رکھتے ہیں۔ طاقت کے نام پر لگائی جانے والی وہ ڈرپ دراصل بابا جی کے لئے زہرِ قاتل ثابت ہوئی۔

فوری طور پر ایثار ہسپتال کے ڈاکٹر حمزہ خان سے مشورہ کر کے انہیں صبح والی انسولین کی خوراک دے دی۔ مگر بابا جی کی حالت اس قدر ابتر تھی کہ وہ پٹی بدلنے کے صبر آزما عمل کی تاب لانے کے قابل نہیں تھے۔ سو میں بوجھل دل کے ساتھ واپس آ گیا۔

سمجھ سے بالاتر ہے کہ ہم کب تک نیم حکیم خطرۂ جان کے مصداق ان عطائیوں کو مسیحا مانتے رہیں گے؟ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ایک میڈیکل ٹیکنیشن محض طبی معاون ہوتا ہے، اسے تشخیص یا خود سے علاج تجویز کرنے کا کوئی قانونی یا اخلاقی حق حاصل نہیں۔ کسی ایرے غیرے نتھو خیرے کی رائے پر عمل کرنا محض جہالت نہیں بلکہ اپنے پیاروں کو خود اپنے ہاتھوں موت کے کنویں میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔

باقی ہمارے ڈاکٹر صاحبان بہتر سمجھا سکتے ہیں کہ اس ساری صورتحال کا آخر نچوڑ کیا ہے اور ایسی پریشانی سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟؟

آپ کی صحت، ہماری ترجیح
27/02/2026

آپ کی صحت، ہماری ترجیح

23/02/2026

ہماری خدمات:
24 گھنٹے ایمرجنسی
میڈیکل چیک اپ
فارمیسی
جدید اور قابل اعتماد لیبارٹری
مرکز نگہداشت زچہ و بچہ
ڈاکٹر حمزہ خان کی زیر سرپرستی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا حامل عملہ۔
سب سے پہلے صحت, ایثار ہیلتھ سنٹر
مین شاہراہ قراقرم، کوٹلی پائیں، مانسہرہ
03136192227
03458698978

رمضان المبارک کا ہر دن اور ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کی خاص رحمتوں اور برکتوں کا آئینہ دار ہے۔ تیسرے روزے کے حوالے سے اسلامی ر...
21/02/2026

رمضان المبارک کا ہر دن اور ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کی خاص رحمتوں اور برکتوں کا آئینہ دار ہے۔ تیسرے روزے کے حوالے سے اسلامی روایات اور احادیث میں جو فضائل بیان کیے گئے ہیں، وہ ایک مومن کے لیے انتہائی حوصلہ افزا ہیں۔
​تیسرے روزے کی فضیلت کے حوالے سے اہم نکات درج ذیل ہیں:
​1. جنت الفردوس میں محلات کی خوشخبری
​حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ایک طویل روایت (جس میں رمضان کے ہر دن کی فضیلت بیان ہوئی ہے) کے مطابق:
​"تیسرے روزے کے بدلے اللہ تعالیٰ روزہ دار کو جنت الفردوس میں موتیوں کے اتنے محلات عطا فرماتا ہے جن کی تعداد اس کے جسم کے بالوں کے برابر ہوتی ہے۔"
​2. رحمت کا عشرہ
​تیسرا روزہ عشرہِ رحمت کا حصہ ہے۔ یہ وہ دن ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کی رحمت اپنے بندوں پر موسلا دھار بارش کی طرح برستی ہے۔ اس دن کی عبادت اور روزہ بندے کو اللہ کے مزید قریب کر دیتا ہے۔
​3. گناہوں کی معافی اور درجات کی بلندی
​تیسرے روزے تک پہنچتے پہنچتے انسان روزے کی مشقت کا عادی ہونے لگتا ہے، جو اس کی روح کی پاکیزگی اور تقویٰ میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔ احادیث کے مطابق رمضان کا ہر روزہ پچھلے گناہوں کے لیے کفارہ بن جاتا ہے بشرطیکہ وہ ایمان اور احتساب کے ساتھ رکھا جائے۔
​ایک خوبصورت نکتہ
​تیسرے روزے کا مطلب ہے کہ آپ نے استقامت کی راہ پر قدم جما لیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس استقامت کی قدر فرماتا ہے اور فرشتے ایسے بندوں کے لیے مغفرت کی دعائیں کرتے ہیں۔
​آج کے دن کی خاص دعا
​اگرچہ پورے رمضان میں دعائیں قبول ہوتی ہیں، لیکن پہلے عشرے میں یہ دعا کثرت سے پڑھنی چاہیے:
"یَا حَیُّ یَا قَیُّومُ بِرَحْمَتِکَ اَسْتَغِیْثُ"
(اے زندہ اور قائم رہنے والے! میں تیری رحمت کے ذریعے تجھ سے فریاد کرتا ہوں)۔

دوسرا روزہ دراصل آپ کے ارادے کی پختگی کا امتحان ہوتا ہے۔ پہلے روزے کا جوش و خروش اپنی جگہ، لیکن دوسرے روزے سے آپ کا جسم ...
20/02/2026

دوسرا روزہ دراصل آپ کے ارادے کی پختگی کا امتحان ہوتا ہے۔ پہلے روزے کا جوش و خروش اپنی جگہ، لیکن دوسرے روزے سے آپ کا جسم اور دماغ اس نئی تبدیلی کو قبول کرنا شروع کرتے ہیں۔

یہاں دوسرے روزے کی مناسبت سے کچھ خوبصورت اور مثبت باتیں ہیں:

دوسرا روزہ: استقامت اور رحمت
عشرہ رحمت کی شروعات: رمضان کا پہلا عشرہ (10 دن) سراسر رحمت ہے۔ دوسرا روزہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم اللہ کی خاص رحمتوں کے سائے میں آ چکے ہیں۔

عادت کی تبدیلی: پہلا روزہ اکثر تھکن اور سر درد (کافی یا چائے کی کمی کی وجہ سے) میں گزرتا ہے، لیکن دوسرا روزہ وہ مقام ہے جہاں آپ کا نفس نظم و ضبط (Discipline) سیکھنا شروع کرتا ہے۔

نیت کی تجدید: آج کے دن اپنی نیت کو دوبارہ تازہ کریں کہ یہ روزہ صرف بھوک پیاس کا نام نہیں، بلکہ روح کی پاکیزگی کے لیے ہے۔

رمضان: رحمت اور برکت کا پیغامنفس پر قابو: روزہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم اپنی خواہشات کے غلام نہیں بلکہ ان کے مالک ہیں۔ یہ خو...
19/02/2026

رمضان: رحمت اور برکت کا پیغام
نفس پر قابو: روزہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم اپنی خواہشات کے غلام نہیں بلکہ ان کے مالک ہیں۔ یہ خود ضبطی (Self-discipline) کی بہترین مشق ہے۔

ہمدردی کا احساس: جب ہم بھوک اور پیاس محسوس کرتے ہیں، تو ہمیں معاشرے کے ان طبقوں کی تکلیف کا اندازہ ہوتا ہے جو سارا سال ان حالات سے گزرتے ہیں۔ یہ احساس ہمیں سخاوت اور صدقہ کی طرف راغب کرتا ہے۔

قرآن سے تعلق: رمضان اور قرآن کا گہرا رشتہ ہے۔ اس مہینے میں تلاوتِ قرآن دل کو وہ سکون فراہم کرتی ہے جو کسی اور چیز سے ممکن نہیں۔

صبر کی ڈھال: حدیثِ نبوی ﷺ کے مطابق روزہ ایک ڈھال ہے جو انسان کو گناہوں اور برائیوں سے بچاتا ہے۔

18/02/2026

ڈاکٹر حمزہ خان کی باتیں۔۔

جھگڑے اور فساد کا کوئی بھی موقع ہم ہاتھ سے جانے نہیں دیتے مگر رمضان کے دنوں میں لڑائی جھگڑا بڑھ جاتا ہے۔ اس رمضان ہم اپن...
18/02/2026

جھگڑے اور فساد کا کوئی بھی موقع ہم ہاتھ سے جانے نہیں دیتے مگر رمضان کے دنوں میں لڑائی جھگڑا بڑھ جاتا ہے۔ اس رمضان ہم اپنی حد تک خود پہ پابندی لگا سکتے ہیں کہ میں نے نہ تو خود لڑائی کرنی ہے اور نہ اپنے آس پاس ہوتی لڑائی کو بڑھنے دینا ہے۔۔

اس کے ساتھ ساتھ جہاں اور جس سے کسی بات پہ ان بن ہے، اسے ختم کر لیں تو سونے پہ سہاگہ۔ یقین کیجیے کہ بڑے سے بڑا اختلاف بھی ذرا جھک کر بات کرنے سے mitigate ہو سکتا ہے۔۔

چاچا، ماما، کزن، بھائی، بہن، پھوپھی، بیوی، سسرال اور دوست احباب باہم "مٹی پاؤ" کا رویہ اپنا لیں۔ سادہ سی افطاری پہ ایک دوسرے کو بلا لیں یا خود ان کے گھر چلے جائیں جن سے ناراضگی چل رہی ہے، تو بہت کچھ تبدیل ہو جائے گا۔۔

یہ رمضان کا سب سے بڑا سبق ہے۔ اپنا اور اپنے اپنوں کا خیال رکھیے۔۔

ایثار ہیلتھ سنٹر کی جانب سے تمام اہل اسلام کو مضان مبارک۔۔

1. ذہنی صحت:ماضی میں ذہنی تناؤ یا بے چینی (Anxiety) کو محض وہم سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا تھا، لیکن جدید طبی سائنس نے...
18/02/2026

1. ذہنی صحت:
ماضی میں ذہنی تناؤ یا بے چینی (Anxiety) کو محض وہم سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا تھا، لیکن جدید طبی سائنس نے ثابت کیا ہے کہ ذہنی دباؤ جسمانی بیماریوں جتنا ہی مہلک ہو سکتا ہے۔ * مسلسل تناؤ آپ کے مدافعت کے نظام کو کمزور کرتا ہے۔
بے چینی دل کے امراض اور بلڈ پریشر کی بڑی وجہ بن رہی ہے۔
ذہنی تندرستی کا مطلب صرف "پاگل پن سے بچنا" نہیں، بلکہ زندگی کے چیلنجز کا ہمت سے مقابلہ کرنا ہے۔
2. گٹ-برین ایکسس: پیٹ اور دماغ کا خفیہ رابطہ:
کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کا پیٹ آپ کا "دوسرا دماغ" کہلاتا ہے؟ جدید تحقیق (Gut-Brain Axis) کے مطابق ہمارے نظامِ انہضام میں موجود کھربوں جراثیم (Microbiome) براہِ راست ہمارے موڈ اور فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
خوشی کا ہارمون: جسم میں موجود 90% 'سیروٹونن' (خوشی محسوس کرانے والا کیمیکل) پیٹ میں پیدا ہوتا ہے۔
اچھی غذا، اچھی سوچ: اگر آپ کی خوراک میں چینی اور غیر معیاری تیل زیادہ ہے، تو آپ کا دماغ کبھی پرسکون نہیں رہ سکتا۔ دہی، فائبر اور قدرتی غذاؤں کا استعمال ذہنی صحت کے لیے ناگزیر ہے۔
3. ڈیجیٹل ڈیٹاکس: اسکرین کی غلامی سے آزادی:
سوشل میڈیا اور اسکرین کا بے جا استعمال ہمارے اعصابی نظام کو "مسلسل تھکاوٹ" (Burnout) کا شکار کر رہا ہے۔
ڈوپامین کا جال: نوٹیفیکیشنز کا بار بار چیک کرنا دماغ کو تھکا دیتا ہے اور توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کو ختم کر دیتا ہے۔
نیند کی کمی: موبائل سے نکلنے والی نیلی روشنی (Blue Light) نیند کے ہارمون 'میلاٹونن' کو روک دیتی ہے، جس سے ذہنی بے چینی بڑھتی ہے۔
حل: ہفتے میں کم از کم ایک دن یا دن میں چند گھنٹے تمام ڈیجیٹل آلات سے دوری اختیار کرنا (Digital Detox) اب ایک ضرورت بن چکا ہے۔
دماغی صحت کوئی منزل نہیں، بلکہ ایک سفر ہے۔ جب تک ہم اپنے معدے کی صحت اور ڈیجیٹل عادات کو درست نہیں کریں گے، حقیقی نفسیاتی تندرستی حاصل کرنا ناممکن ہے۔ یاد رکھیے ایک پرسکون دماغ ہی ایک کامیاب زندگی کی بنیاد ہے۔

17/02/2026

رمضان المبارک محض بھوکا پیاسا رہنے کا نام نہیں بلکہ یہ انسانیت سے ہمدردی، سماجی جکڑنوں کو توڑنے اور محروم طبقات کے دکھ بانٹنے کا مہینہ ہے۔ اس مبارک مہینے میں تین طبقات خصوصی توجہ کے مستحق ہیں:
1. سفید پوش طبقہ (خوددار لوگ)
یہ وہ لوگ ہیں جو شدید ضرورت کے باوجود اپنی غیرت اور خودداری کی وجہ سے کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے۔ قرآن پاک میں ان کی صفت بیان کی گئی ہے کہ "ناواقف انہیں غنی سمجھتا ہے"۔ ان کی مدد اس طرح کرنی چاہیے کہ ان کا بھرم قائم رہے اور انہیں احسان کا بوجھ محسوس نہ ہو۔
2. محنت کش اور دیہاڑی دار طبقہ
روزہ رکھ کر سخت دھوپ اور مشقت میں رزقِ حلال کمانے والے اللہ کے دوست ہیں۔ ان کی اجرت وقت پر دینا، ان کے کام میں تخفیف کرنا اور افطار و سحر میں انہیں شامل کرنا عظیم عبادت ہے۔
3. یتیم بچے
یتیموں کی کفالت اسلام کے معاشرتی نظام کا وہ ستون ہے جس پر جنت کی ضمانت دی گئی ہے۔ رمضان میں ان کے لیے نئے کپڑے، عیدی اور خوشیوں کا انتظام کرنا درحقیقت رسول اللہ ﷺ کی سنت کی پیروی ہے۔
فرمانِ نبوی ﷺ: "میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے (پھر آپ ﷺ نے اپنی شہادت کی انگلی اور درمیان والی انگلی کو ملا کر دکھایا)۔"
حضرت ابوبکر صدیقؓ کا قول: "کمزور میرے نزدیک تب تک طاقتور ہے جب تک میں اسے اس کا حق نہ دلا دوں۔"
ایک سبق آموز واقعہ: حضرت علی بن حسین (امام زین العابدین) کے متعلق مروی ہے کہ ان کی وفات کے بعد جب غسل دیا گیا تو ان کی کمر پر سیاہ نشان پائے گئے۔ تحقیق پر معلوم ہوا کہ وہ رات کی تاریکی میں آٹے کی بوریاں لاد کر مدینہ کے غریبوں اور سفید پوشوں کے گھروں تک پہنچاتے تھے تاکہ ان کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو۔ ان کی وفات کے بعد بہت سے گھروں کا چولہا ٹھنڈا ہو گیا، تب لوگوں کو علم ہوا کہ ان کا محسن کون تھا۔
رمضان کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی سحر و افطار کی رنگینیوں میں ان چہروں کو نہ بھولیں جو خاموشی سے صبر کی ڈھال بنے بیٹھے ہیں۔ اصل روزہ وہ ہے جو انسان کے اندر دوسرے کا درد محسوس کرنے کی تڑپ پیدا کر دے۔

Address

Silk Highway, Kotli Paain
Mansehra
21300

Telephone

+923458698978

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ESAR Health Centre posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to ESAR Health Centre:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram