Dr Umair Akram

Dr Umair Akram Resident Cardiologist

World diabetes day
14/11/2025

World diabetes day

25/07/2025

🩺 موٹاپا اور جگر کی چربی (Fatty Liver) کے علاج کے بنیادی اقدامات

1. وزن میں کمی

وزن کا 7–10٪ کمی جگر کی چربی اور سوزش کو نمایاں حد تک کم کر سکتی ہے، جبکہ کم از کم 3–5٪ کمی چربی میں کمی کے لیے مؤثر ہے ۔

مثال: اگر آپ کا وزن 90 kg ہے، تو تقریباً 6–9 kg وزن کم کرنا مفید ہو سکتا ہے۔

2. صحت مند غذا اپنا دیں (Mediterranean/Plant-based)

سبز پتوں والی سبزیات (spinach، kale)، پھل (berries، citrus)، اور legume اشیاء (دالیں، چنے، soya) شامل کریں ۔

سالم مچھلی (salmon، sardines) یا omega‑3 والے nuts / flaxseeds (اخروٹ، flax) استعمال کریں ۔

زیتون کا تیل اور ایوکاڈو آئل صحت مند چکنائیاں ہیں جو جگر کی سوزش کو کم کرتی ہیں ۔

جعلی اور سفید آٹے، white rice، soda سے پرہیز کریں کیونکہ یہ insulin resistance بڑھا سکتے ہیں ۔

3. باقاعدہ ورزش

کم از کم 150–200 منٹ ہفتہ وار moderate aerobic یا resistance training بہترین ہے ۔

کھانے کے بعد ہلکی چہل قدمی (2–10 منٹ) بلڈ شوگر کو معتدل کرنے میں مدد دیتی ہے ۔

طوالت وقت بیٹھنے سے بچیں — ہر گھنٹے تھوڑی حرکت کیجیے ۔

4. کھانے کے طریقہ کار میں بہتری

وقفہ رکھ کر کھانا (مثلاً intermittent fasting: 16/8) جگر پر چربی کو کم کر سکتا ہے اور metabolism بہتر کرتا ہے ۔

کھانا کھانے کے معمول کو برقرار رکھیں — pattern گڑبڑ insulin resistance کو بڑھا سکتا ہے ۔

5. سٹرونگ صحت مند اشیاء کا استعمال

کافی اور گرین ٹی جگر کے enzymes کو بہتر کر سکتی ہیں اور NAFLD خطرہ کم کرتی ہیں ۔

ginger-based drinks جگر کی صحت میں فائدہ مند ثابت ہوئے ہیں اور inflammation کو کم کرتے ہیں ۔

ہفتہ وار وزیر snack جیسے dates+walnuts، dark chocolate with nuts، apple+دار چینی، Greek yogurt with berries مفید ہوسکتے ہیں — لیکن صرف کبھی کبھار اور صحت مند رژیم کے ساتھ ۔

6. نقصان دہ عادات سے پرہیز

الکحل کی مقدار کو صفر یا انتہائی محدود کریں، کیونکہ NAFLD میں الکحل شدت بڑھا سکتی ہے ۔

تمباکو نوشی اور سگریٹ سے پرہیز کریں — یہ دل اور جگر دونوں کے لیے نقصان دہ ہیں ۔

7. دیگر عوامل اور نگرانی

stress, نیند کی کمی, اور بے وقت کھانے insulin resistance بڑھاتے ہیں — mindfulness، meditation یا yoga سے فائدہ ہو سکتا ہے ۔

ضروری ہے کہ blood sugar, cholesterol, blood pressure اور liver enzymes کی باقاعدہ جانچ ہو — جیسے کہ ultrasound یا ALT/AST ٹیسٹ ۔

اگر آپ کو already diabetes یا دل کے مسائل ہیں تو انہیں اچھی طرح manage کرنا شہرت رکھتا ہے ۔

اضافی: کیا دوائیں یا سپلیمنٹ لینے چاہئیں؟

دوائیں فی الحال محدود ہیں۔ 2023 میں FDA نے resmetirom (Rezdiffra) کو MASH کے علاج میں استعمال کے لیے منظور کیا تھا، مگر یہ مزید تحقیق کے ساتھ اور lifestyle کے ساتھ مل کر ہی فائدہ مند ہے ۔

Omega‑3 سپلیمنٹس بعض افراد میں فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں، مگر evidence mixed ہے اور ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے ۔

---

📋 عملی حکمتِ عملی (روزمرہ کی تجویز)

دن صبح کا کھانا دوپہر شام رات کا کھانا سرگرمی

1–7 گرم پانی، soaked almonds + pumpkin seedsسبزیوں سے بھرپور اُبلا یا دلیا (oats) سلاد + lean poultry یا legumes Greek yogurt + berries بھاپ میں پکی سبزی + fish یا tofu کھانے کے بعد 10 منٹ چہل قدمی
ہر دو دن بعد Ginger lemon drink یا green tea Dates + walnuts snack (once/week) Dark chocolate (70%) + nuts (once/week) Whole grains + spinach + legumes ہفتہ وار مجموعی 150 منٹ aerobic یا resistance

نوٹ: یہ صرف مثالیں ہیں — اپنی سہولت، صحت کی صورتحال اور غذائیت کے حساب سے ایڈجسٹ کریں۔

---

خلاصہ

موٹاپا اور جگر پر چربی کے درمیان گہرا تعلق ہے (MASLD/NAFLD) ۔

وزن میں کمی، صحت مند غذا، باقاعدہ ورزش، متوازن کھانے کے اوقات اور monitoring اس بیماری کو پلٹنے کے لیے بنیاد ہیں ۔

خود سپلیمنٹس سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے، خاص طور پر اگر دوائیں یا دیگر بیماری بھی موجود ہوں۔

اگر آپ چاہیں تو اپنا وزن، مرض کی grade (مثلاً grade 2) یا موجودہ بیماریوں کی تفصیل بتائیں، تاکہ ایک زیادہ مخصوص منصوبہ پیش کیا جائے۔

آپ کی صحت بہت قیمتی ہے — جلدی شروع کریں، اور مستقل مزاجی سے بہتری حاصل کریں!

اگر اپ یہ اپ سے جڑا کوئی بھی شخص جگر پہ چربی کا شکار ہے تو یاد رکھیں بیماری علاج کے قابل ہے

“او میری تے نارمل شوگر ای 400  رہندی اے“"میرا BP کدی 180  توں تھلے نئیں آیا،  مینوں تے کُج نئیں ہویا""شوگر بی پی دی پروا...
15/11/2024

“او میری تے نارمل شوگر ای 400 رہندی اے“
"میرا BP کدی 180 توں تھلے نئیں آیا، مینوں تے کُج نئیں ہویا"
"شوگر بی پی دی پرواہ نہ کرو، جیہڑی رات قبر اچ اے او باہر نئیں"

ایسی بھڑکیں ہم اپنے اردگرد روزانہ کی بنیاد پہ سنتے رہتے ہیں. مگر ان بھڑک بازوں کے انجام سے صرف ڈاکٹر ہی واقف ہوتا ہے کیونکہ شوگر کی آخری سٹیج پہ یہ بھڑکیں ختم ہو جاتی ہیں اور منتیں ترلے شروع ہو جاتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب اب کچھ ہو سکتا ہے تو کریں. مگر جواب صرف صبر اور دعا کی صورت میں ملتا ہے.

ِبحیثیت ڈاکٹر میرے لیے یہ ایک تکلیف دہ لمحہ ہوتا ہے جب مریض کو یہ بتانا پڑے کہ اب آپ کی بیماری کا علاج کرنا ممکن نہیں ہے اب دعا کریں.

تصویر میں نظر آنے والا یہ انجیکشن خالی نہیں ہے بلکہ اس کے پیندے میں جو چار پانچ قطروں کی دوائی نظر آ رہی ہے پاکستان میں اس وقت اس کی قیمت تقریباً سوا لاکھ روپے ہے.

یہ انجیکشن شوگر کے مریضوں کی آنکھ کے اندر لگایا جاتا ہے جن کی بینائی شوگر کی وجہ سے متاثر ہو چکی ہوتی ہے اور یہ انجیکشن ہر ماہ لگایا جاتا ہے.

پاکستان میں اس وقت کوئی بھی مڈل کلاس آدمی اس علاج کو افورڈ نہیں کر سکتا کیونکہ اس کا تین ماہ کا خرچ چار سے پانچ لاکھ روپے بنتا ہے.

اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ اور آپ کے پیارے اس تکلیف اور اذیت سے محفوظ رہیں تو صحیح اور بر وقت علاج ہی اس کا واحد حل ہے. دو کلو کھانا کھا کر پھیکی چائے پی کر آپ خود کو دھوکہ دے سکتے ہیں شوگر کو نہیں!

آپ کو اپنا لائف سٹائل تبدیل کرنا ہو گا. کسی ٹُونے ٹوٹکے اور جڑی بوٹی سے اس کا علاج نہیں ہو گا. کریلے کا جوس، نیم کے پتے، آملے کا سالن اور بھُنے ہوئے چنے وغیرہ سب بکواس باتیں ہیں. اس پہ صرف وقت ضائع کر کے آپ اصل علاج میں تاخیر کرتے اور پیچیدگیوں میں اضافہ کرتے ہیں.

سوشل میڈیا پہ بیٹھے فاتح ذیابیطس اور قاری خنیف ڈاروں سے بچیں جو آپ کو بتاتے ہیں کہ جلیبیاں کھانے سے بھی ان کی شوگر زیادہ نہیں ہوتی. یہ اپنے لائکس اور ویوز کی خارش کم کرنے کے لیے آپ کی صحت سے کھیلتے ہیں. یہ مہنگی دوائیوں کے متبادل آپ کو سستے علاج بھی فراہم کر سکتے ہیں مگر اس سستے علاج کی قیمت آپ اپنی صحت سے چکاتے ہیں.

دنیا علم اور تحقیق کے میدان میں بہت آگے نکل گئی ہے. وہاں ہر کام تحقیق، تجربات اور ان کے data analysis کی بنیاد پر ہو رہا ہے. یہ اربوں ڈالر کی میڈیسن انڈسٹری کسی یہودی کی سازش نہیں ہے بلکہ اس نے پوری انسانیت کی زندگی کو بہت آسان بنایا ہے. جبکہ ہمارے غیر مستند ٹوٹکوں نے صرف ہماری پیچیدگیوں میں اضافہ کر کے ہماری کوالٹی آف لائف کو برباد کیا ہے. ہم کیلے کی چھلکے سے کینسر کا اور پیاز کے پانی سے کرونا کا علاج کر رہے ہیں.

پاکستان ایک تحقیق کے مطابق شوگر سے متاثر دنیا میں پہلے نمبر پر ہے. برائے مہربانی اپنا اور اپنے پیاروں کا خیال رکھیں. ان کی صحیح اور درست علاج کی طرف رہنمائی کریں. کیونکہ بینائی جانے کے بعد جب مریض کے پاس علاج کروانے کے پیسے نہیں ہوتے اور میرے پاس کوئی علاج نہیں ہوتا تو یہ منظر بہت تکلیف دہ ہوتا ہے. اس منظر کو دیکھنے سے بچیں. شکریہ





Dr M UMAIR AKRAM
Resident Fcps Cardiologist

Happy independence day #Dr umair akram # resident cardiologist #
14/08/2024

Happy independence day #
Dr umair akram # resident cardiologist #

23/05/2024
13/08/2023

کلینک میں ایسے نئے شادی شدہ جوڑوں کو دیکھنے کا اتفاق ہوتا ہے جنکی شادی کو بمشکل تین سے چھ ماہ کا قلیل عرصہ ہوا ہوتا ہے اور وہ اولاد کے حصول کے لیے اسپتال کے چکر کاٹ رہے ہوتے ہیں۔

ہسٹری لینے پر پتا چلتا ہے کہ جوڑا اپنے بزرگوں کی ہدایات پر اسپتال آۓ ہیں اور مہنگے ترین ٹیسٹ کروانے پر مجبور ہو گۓ ہیں۔ ایسے جوڑے عموماً شدید زہنی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں جس سے انکے ازدواجی تعلقات سردمہری کا شکار ہوتے ہیں۔

والدین اور قریبی رشتے داروں کو اس سلسلے میں مثبت کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ شادی شدہ جوڑے سے انکی فیملی پلاننگ پر گفتگو کرنا اور غیر ضروری توقعات لگانا انتہائی بے حسی اور بے شرمی ہے۔

سائنسی طور پر نوے فیصد جوڑے شادی کے دو سال کے اندر اولاد کے حصول میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اس دوران اسپتال سے دور رہیں، غیر ضروری ٹیسٹ نہ کروائیں ، اپنی زندگی بھرپور انجوائے کریں اور کسی قسم کے ذہنی دباؤ میں نہ آئیں ۔

لِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ ۚ يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ الذُّكُورَ ﴿49﴾ أَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَإِنَاثًا ۖ وَيَجْعَلُ مَنْ يَشَاءُ عَقِيمًا ۚ إِنَّهُ عَلِيمٌ قَدِيرٌ ﴿50﴾

آسمانوں اور زمین کی بادشاہی خدا ہی کی ہے۔ وہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے جس کو چاہتا ہے بیٹیاں عطا فرماتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بیٹے عطا فرماتا ہے.
یا بیٹے اور بیٹیاں دونوں ملا کر ان کو بخشتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بےاولاد رکھتا ہے۔ وہی علم رکھنے والا اور قدرت رکھنے والا ہے.


Dr Muhammad Umair Akram

28/07/2023

شوگر ٹائپ 1 میں انسولین لگانا اس لیے ضروری ہے کیونکہ آپ کا لبلبہ انسولین بنا ہی نہیں پاتا یا انسولین بنتے ساتھ تباہ ہو جاتی ہے۔
یہ تو آپ جانتے ہیں انسولین جسم کو توانائی پہنچانے کے لیے انتہائی ضروری ہے
اگر جسم میں قدرتی انسولین نہیں ہو گی تو مریض کو لازمی انسولین لگانا پڑے گی
دوسری طرف شوگر ٹائپ 2 میں لبلبہ انسولین بناتا ہے لیکن جسم اس انسولین کو جذب نہیں کر پاتا
لیکن اگر مریض اپنا وزن کم کرے، خوراک میں پرہیز کرے اور روزانہ واک ایکسرسائز کرے تو جسم کی انسولین جذب کرنے کی صلاحیت بہتر ہو سکتی ہے
اور مصنوعی انسولین کا استعمال ترک کیا جا سکتا ہے
Dr Muhammad Umair Akram

10/07/2023

مغز کھانے والا جرثومہ۔۔۔
دماغ خور جراثیم نیگلیریا۔۔۔۔
Naegleria Fowleri....

پاکستان میں پچھلے سال 2022 میں جولائی کے مہینے میں کراچی میں مقیم ایک نیوروسرجن اور آٹھ سالہ بچے کی پراسرار طبی وجوہات کی بنا پر موت کی خبریں میڈیا میں نمایاں طور پرشائع اور نشر ہوئیں۔ یہ دونوں افراد پانی سے ہونے والے ایک ایسے انفیکشن کا شکار ہوئے تھے جو انتہائی کم پایا جاتا ہے لیکن جان لیوا ہے۔

اس سال مئی میں پھر سے اس انفیکشن کے باعث موت کی کچھ خبریں سامنے آئیں۔ ان کا آغاز کراچی سے ہوا اور اب پنجاب بھی اس فہرست میں شامل ہوگیا ہے۔

یہ کیسا انفیکشن ہے؟
یہ انفیکشن مٹی، قدرتی طور پر گرم اور تازہ پانی میں پائے جانے والے پیراسائٹ( Naegleria fowleri ) سے پھیلتا ہے جسے عام فہم زبان میں دماغ کھانے والا کیڑا کہا جاتا ہے۔
یہ گرمیوں میں افزائش پاتے ہیں اور تقریباً 45 ڈگری سنٹی گریڈ پر بھی زندہ رہ سکتے ہیں۔ اس کے برعکس سمندر کا نمکین پانی ان کی افزائش کو روکتا ہے۔

انہیں دماغ کھانے والا کہا جانے کا سبب یہ ہے کہ یہ ناک کے ذریعے دماغ میں داخل ہو کر اس کے ٹشوز کو نقصان پہنچاتے ہیں یعنی دماغ کو ہی اپنی خوراک بنا لیتے ہیں۔ بعض اوقات یہ نلکے سے آنے والے پانی میں بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔ اسے پینے سے کوئی شخص اس انفیکشن کا شکار نہیں ہوتا،تاہم اگر وہ اس پانی کو ناک صاف کرنے کے لئے استعمال کرے تو یہ جراثیم دماغ تک پہنچ جاتےہیں۔

گرمیوں کے موسم میں بچے اور نوجوان چونکہ پانی سے جڑی سرگرمیوں میں زیادہ متحرک ہوتے ہیں لہٰذا ان میں انفیکشن کا خطرہ نسبتاً بڑھ جاتا ہے۔

مرض کی علامات۔۔۔
اس کی ابتدائی علامات انفیکشن کے 2 سے 15 دنوں کے درمیان ظاہر ہونے لگتی ہیں جو یہ ہیں:

٭بخار۔

٭اچانک سے تیز سردرد ہونا۔

٭متلی اور قے۔

٭ناک بند ہوجانا یا زیادہ بہنے لگنا۔

٭سونگھنے اور ذائقے کی حس میں تبدیلی پیدا ہوجانا۔

یہ بہت تیزی سے بڑھتا ہے اور علامات ظاہر ہونے کے پانچ دنوں میں ہی فرد کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ لہٰذا اگر دریا یا جھیل وغیرہ کے گرم پانی میں جانے کے بعد یہ علامات ظاہر ہوں تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے۔ جیسے جیسے یہ انفیکشن پیچیدہ شکل اختیارکرتا ہے، ویسے ویسے علامات بھی تبدیل ہوتی رہتی ہیں جو یہ ہیں:

٭ہر وقت غشی طاری رہنا۔

٭فریب نظر(Hallucinations)۔

٭گردن اکڑ جانا۔

٭الجھن کا شکار ہونا۔

٭توازن برقرار نہ رکھ پانا۔

٭روشنی کی وجہ سے آنکھوں میں درد ہونا۔

٭جھٹکے لگنا۔

تشخیصی ٹیسٹ۔۔۔
اس کے لئے دماغ اور حرام مغز کے گرد بہنے والے مواد cerebrospinal fluid کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر دماغ کے اندر کی سوجن اور خون بہنےکا پتا لگانے کے لئے سی ٹی سکین اور ایم آر آئی سکین بھی تجویز کرتے ہیں۔

احتیاطی تدابیر۔۔۔
ڈاکٹر اس کے علاج کے لئے مختلف ادویات کا استعمال ضرور کرتے ہیں تاہم ابھی تک اس کا کوئی مؤثر علاج دریافت نہیں ہوسکا۔ لہٰذا اس سے بچاؤ کے لئے بہتر یہی کہ احتیاط کے پہلو پر عمل کیا جائےجو یہ ہیں:

٭بچاؤ کے لئے سب سے اہم بات یہ ہے کہ جن علاقوں میں یہ انفیکشن سامنے آ رہا ہو، ان میں بالخصوص کھلے پانی مثلاً تالابوں وغیرہ میں نہانے سے اجتناب کیا جائے۔

٭جھیل یا دریا کے پانی میں غوطہ لگانے یا تیراکی سے اجتناب کریں۔ اگر اس میں نہانا ہو تو اپنا سر پانی سے باہر رکھیں۔

٭اگر دریا یا جھیل کا پانی گرم ہو تو اس میں چھلانگ لگانےسے پہلے ناک کو انگلیوں کی مدد سے بند کر لیں، تیراکی کےلئے استعمال ہونے والے ماسک پہن لیں یاناک پر چٹکی(nose clip) لگا دیں۔

٭ایسے سوئمنگ پولز میں نہانے یا تیراکی سے گریز کریں جنہیں باقاعدگی سے صاف نہ کیا جاتا ہو۔

٭ 500 سے 1500 گیلن پانی کو صاف کرنے کے لئے دو کھانے کے چمچ بلیچنگ پاؤڈر تھوڑے سے پانی میں شامل کر کے ایک پیسٹ بنا لیں۔ اسے رات بھر کے لئے پانی میں ڈال دیں۔ اس سے پانی صاف ہو جائے گا۔
تالاب وغیرہ میں جہاں پانی کم یا گندا ہو، وہاں ہرگز نہ جائیں۔

٭دریا اور جھیل کی تہہ میں موجود ریت کے اندربھی یہ بیکٹیریا پائے جاتے ہیں لہٰذا اسے پاؤں یا ہاتھ سے مت چھیڑیں۔

*نگلیریا کے مرض میں مبتلا افراد کی اموات کی شرح 97 فیصد ہے۔یاد رہے کہ پاکستان نگلیریا سے متاثر ہونے والے ممالک میں امریکہ کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔

*طبی ماہرین کے مطابق نگلیریا صاف پانی میں افزائش پاتا ہے اور ناک کے ذریعے جسم میں داخل ہو کر انسانی دماغ کو کھا جاتا ہے، جس سے انسان کی موت بھی واقع ہوجاتی ہے،نگلیریا سے بچاؤ کیلئے پانی میں کلورین کا 50 فیصد ہونا ضروری ہے۔
A public service message
Dr umair akram resident cardiologist

19/06/2023

آجکل ہیپاٹائٹس ؛ A اور E جسے عرف عام میں پیلا یرقان کہا جاتا ہے ، کی وجہ سے جگر کی سوزش /یرقان بہت عام ہے ۔بروقت ڈاکٹر سے علاج کے ساتھ ساتھ ضروری احتیاطی تدابیر بھی اختیار کرنی چاہئیں ۔

ہیپاٹائٹس اے، ای کی روک تھام کے لیے احتیاطی تدابیر۔

*ہیپاٹائٹس اے اور ای کی ویکسین لگوا کر اس وائرل انفیکشن سے بچاؤ ممکن ہے۔
*کھانے کی اشیاء کو ہاتھ لگانے سے پہلے، ٹوائلٹ استعمال کرنے کے بعد ، نیپی یا کسی دوسرے شخص کے فضلے کو ہاتھ لگانے کے بعد صابن سے اچھی طرح ہاتھ صاف کریں۔
*اپنے ہاتھوں کو خشک کرنے کے لیے ہمیشہ ٹشو یا صاف تولیہ استعمال کریں۔
*صاف ستھرے بیت الخلاء اور واش رومز کا استعمال کریں ۔
*بازار سے بغیر ڈھانپی گئی اشیا،کٹے ہوئے پھل جنک اور پروسیسڈ فوڈز نہ کھائیں۔
*ایسے علاقوں کا سفر کرنے سے گریز کریں جہاں ہیپاٹائٹس اے اور ای پھیلے ہوئے ہو۔

ڈاکٹر عمير اكرم
ريزيدنت فزيشن كارديالوجست

Address

Masjid Bazar
Mian Channun

Opening Hours

Friday 17:00 - 20:00
Sunday 17:00 - 19:00

Telephone

+923055608280

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Umair Akram posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr Umair Akram:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category