Professor Dr. Muhammad Zafar Iqbal

Professor Dr. Muhammad Zafar Iqbal My page is about spreading health education & approaching the patients in very legal & ethical way

24/02/2026

🚨 گریگ چیپل کا cricinfo پر دھماکہ خیز مضمون: دنیا عمران خان کو بھول نہیں سکتی!

"ایک طوفانی رات کی خاموشی میں، لائٹ ہاؤس کا نگہبان صرف لہروں کو نہیں دیکھتا؛ وہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ روشنی ایک تھکے ہوئے مسافر کے لیے امید کی ایک مستقل علامت بنی رہے، بڑھتی ہوئی تاریکی کے مقابل ایک واحد نقطۂ روشنی۔ یہ نگہبان جانتے ہیں کہ ان کی پہرہ داری صرف حال کی ذمہ داری نہیں بلکہ نسلوں پر پھیلی حفاظت کی روایت سے وابستگی ہے۔

اسی نگہبانی کے جذبے کے تحت میں خود کو قدم اٹھانے پر مجبور پایا۔ جب مجھے اپنے پرانے دوست اور حریف عمران خان کے گرد موجود سنگین حالات کی خبر ملی تو مجھے احساس ہوا کہ جنگل میں جلتا ایک چراغ کافی نہیں ہوگا۔ کرکٹ کے عظیم ترین ستاروں میں سے ایک کے گرد گہراتے اندھیرے کو چیرنے کے لیے مجھے آوازوں کا ایک قافلہ جمع کرنا تھا — کپتانوں کا ایسا اجتماعی گروہ جس کی مشترکہ تاریخ سیاسی بے حسی کی آندھی میں نظرانداز نہ کی جا سکے۔

میں عمران کو کئی دہائیوں سے جانتا ہوں، اور ہمارا تعلق ہمیشہ باہمی احترام پر مبنی رہا ہے، جو باؤنڈری لائن سے کہیں آگے تک جاتا ہے۔ ہم پہلے حریف تھے، ٹیسٹ کرکٹ کے میدان میں جہاں کردار تیز گیندبازی اور ذہنی مضبوطی کی بھٹی میں ڈھلتا ہے۔ مجھے وہ بے پناہ کشش رکھنے والا اور اس سے بھی زیادہ مضبوط ارادے کا مالک یاد ہے۔ وہ ایسا رہنما تھا جو صرف اپنی ٹیم کی قیادت نہیں کرتا تھا بلکہ ایک قوم کو متاثر کرتا تھا۔ جب اس نے 1992 میں پاکستان کو تاریخی ورلڈ کپ جتوایا تو اس نے ایسی ثابت قدمی دکھائی جو اس کی زندگی کی پہچان بن گئی۔ اس نے وہ ٹرافی اپنی ذات کی نمائش کے لیے نہیں بلکہ اپنے لوگوں کو یہ دکھانے کے لیے ملک بھر میں گھمائی کہ وہ عظمت حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس سفر کے دوران کسانوں اور عام لوگوں سے سنی کہانیوں نے اس کے دل کو چھو لیا اور اس کے سیاسی مستقبل کے بیج بو دیے۔

ہماری راہیں کھیل کے دن ختم ہونے کے بعد بھی ملتی رہیں۔ 2004 میں، جب میں لاہور میں نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں کوچنگ کر رہا تھا، ہم نے ایک ڈنر اکٹھا کیا جو مجھے آج بھی یاد ہے۔ میں مانتا ہوں کہ پاکستانی سیاست میں آنے کے اس کے فیصلے پر مجھے حیرت تھی۔ میں نے اس سے پوچھا کہ وہ خود کو اتنے غیر یقینی میدان میں کیوں ڈالنا چاہتا ہے۔ اس کا جواب سادہ مگر گہرا تھا: وہ چاہتا تھا کہ اس کا ملک وہ بنے جو بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس نے زندگی اور سیاست کے سات سالہ چکروں کا ذکر کیا۔ اس نے کہا کہ اگر ایک چکر چھوٹ بھی جائے تو وہ اگلے کا انتظار کرے گا، اور اسے یقین تھا کہ تین چکروں میں وہ اپنی جماعت کو اقتدار تک لے آئے گا۔ اس کی پیش بینی حیران کن تھی، کیونکہ تقریباً اسی وقت کے مطابق وہ اپنے ملک کے اعلیٰ ترین منصب تک پہنچا۔

اس سے میری آخری ملاقات فروری 2020 میں ہوئی، دنیا بدلنے سے کچھ پہلے۔ وہ اس وقت وزیر اعظم تھا اور میں کاروباری سلسلے میں پاکستان آیا ہوا تھا۔ سر ویوین رچرڈز اور شین واٹسن کے ساتھ ہم اس کے اسلام آباد دفتر گئے۔ ہماری ملاقات صرف 15 منٹ کی طے تھی، مگر عمران نے، اپنی میزبانی کے انداز کے مطابق، اسے 45 منٹ تک بڑھا دیا۔ اس کا چیف آف اسٹاف بار بار کمرے میں آ کر اگلی ملاقاتوں کی یاد دہانی کروا رہا تھا، جو بعد میں معلوم ہوا کہ سینئر امریکی اور سعودی حکام کے ساتھ تھیں۔ عمران مسکرا کر کہتا رہا کہ اسے اس دفتر میں آنے کے بعد اتنا لطف نہیں آیا تھا۔ تب بھی وہ اپنے اوپر پڑنے والے شدید دباؤ اور آنے والی گرمی کی بات کر رہا تھا۔ اس نے اسے اسی ٹھہراؤ سے قبول کیا جیسے نئی گیند کا سامنا سبز وکٹ پر کرتا تھا، ایک اعلیٰ طاقت اور اپنے مقدر پر یقین رکھتے ہوئے۔

آج وہی زندہ دل اور باوقار رہنما ایسی جگہ قید ہے جسے رپورٹس کے مطابق سزائے موت کی کوٹھڑی سے تشبیہ دی جا رہی ہے۔ وہ 2023 سے جیل میں ہے، 186 قانونی مقدمات کے طوفان کا سامنا کرتے ہوئے — ایک ایسی سزا جو اس عمر میں عملاً عمر قید کے مترادف ہے۔ سب سے زیادہ پریشان کن اس کی صحت سے متعلق خبریں ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس کی بینائی کمزور ہو رہی ہے اور دائیں آنکھ کی روشنی تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ اسے تنہائی میں رکھا گیا ہے، جسے عالمی انسانی حقوق تنظیمیں تشدد کے مترادف قرار دیتی ہیں۔ یہ کسی سابق قومی رہنما کے شایان شان سلوک نہیں، نہ ہی اس عالمی کھیل کے آئیکون کے لیے جس نے دنیا کو بہت کچھ دیا۔

اگر ہم اپنے ہی کسی ساتھی کو اس طرح غائب ہونے دیں تو ہم کھیل کی روح کے ساتھ ناانصافی کر رہے ہیں۔ ہم اپنی مشترکہ تاریخ کو ان ہاتھوں میں دے رہے ہیں جو کھیل کی اقدار کو نہیں سمجھتے۔

اسی احساسِ ناانصافی نے مجھے دیگر کپتانوں سے رابطہ کرنے پر مجبور کیا۔ میں جانتا تھا کہ ایک آواز اکثر سمندر میں قطرہ بن کر گم ہو جاتی ہے۔ اثر ڈالنے کے لیے مجھے ان لوگوں کی اجتماعی طاقت درکار تھی جنہوں نے اپنی قوموں کی قیادت کی ہے۔ میں نے تقریباً 20 لوگوں سے رابطہ کیا۔ کچھ نے سیاسی پیچیدگیوں کی وجہ سے انکار کیا، مگر 13 نے حیرت انگیز سرعت سے ساتھ دیا۔ چند ہی منٹوں میں ایلن بارڈر، مائیکل ایتھرٹن اور سر کلائیو لائیڈ جیسے نام شامل ہو گئے۔ سنیل گواسکر اور کپل دیو کا ردعمل خاص طور پر قابل ذکر تھا؛ اپنے ملک میں دباؤ کے باوجود انہوں نے ایک لمحہ ضائع نہ کیا۔ انہیں اپنے دوست اور برصغیر کی بے شمار یادیں یاد تھیں، اور انہوں نے اس کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا۔

یہ مضبوط گروہ کسی سیاسی بیان کے لیے اکٹھا نہیں ہوا۔ ہم پالیسی یا حکومت پر بحث نہیں کر رہے۔ ہم انسانی حقوق کی بات کر رہے ہیں — اس کھیل کی اقدار کی بنیاد پر جس نے ہمیں منصفانہ کھیل اور شرافت سکھائی۔ ہم پاکستان کی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ عمران کو فوری طور پر اپنی مرضی کے ماہر ڈاکٹروں سے طبی سہولت دی جائے، انسانی سلوک فراہم کیا جائے، اہلِ خانہ سے ملاقات کی اجازت ہو، اور شفاف قانونی عمل تک رسائی دی جائے۔ یہ کوئی انتہا پسند مطالبات نہیں بلکہ ایک مہذب معاشرے کی بنیادی شرائط ہیں۔

کرکٹ ہمیشہ قوموں کے درمیان پل رہی ہے — ایک مشترکہ زبان جو سفارتی تناؤ کے باوجود قائم رہتی ہے۔ ہماری اپیل پر موجود ناموں میں ایک ایسی کشش اور وزن ہے جو کھیل کے دنوں کے بعد بھی باقی رہتا ہے۔ ہم ایک ورثے کے نگہبان ہیں، جیسے فن کے ماہرین جنگ کے دوران شاہکاروں کو بچاتے ہیں۔ اگر ہم اپنے ہی کسی کو اس بے حسی سے غائب ہونے دیں تو ہم کھیل کی روح سے غداری کریں گے۔

مجھے اس اپیل کے ردعمل سے حوصلہ ملا ہے۔ اس نے ایک ایسی صورتحال پر دوبارہ روشنی ڈال دی جسے شاید دنیا معمول سمجھنے لگی تھی۔ اس نے لوگوں کو یاد دلایا کہ عمران خان کون ہے: ایک بہادر انسان، جس نے خطرات جانتے ہوئے سیاست میں قدم رکھا۔ اس نے کبھی کہا تھا کہ اگر اس راستے پر اس کی زندگی مختصر بھی ہو جائے تو یہ خدا کی مرضی ہوگی۔ وہ آخری گیند تک لڑا ہے، جیسے اس نے اپنے کھلاڑیوں کو سکھایا تھا۔

وقت کے ساتھ شاید مخصوص میچوں کی یادیں دھندلی ہو جائیں، مگر ایک دوسرے کے لیے احترام واضح رہتا ہے۔ ہمیں مقابلے، کہانیاں اور دوستی یاد ہیں۔ ہم خاموش نہیں رہ سکتے جب ایک ساتھی کے ساتھ ایسا سلوک ہو۔ ہم آواز اٹھاتے رہیں گے کیونکہ کرکٹ صرف رنز اور وکٹوں کا نام نہیں۔ یہ کردار کا نام ہے، اور اس احترام کا جو کھیل ختم ہونے کے بعد باقی رہتا ہے۔

ہم طویل روشنی کے نگہبان ہیں، تاکہ انصاف کی کرن بجھنے نہ پائے — ایک ایسے انسان کے لیے جس نے دنیا کو بہت کچھ دیا۔ عمران خان اس منصفانہ کھیل کا مستحق ہے جس کا وہ ہمیشہ داعی رہا۔ ہمیں امید ہے کہ شرافت کی اقدار غالب آئیں گی اور ہماری اجتماعی آواز اسے تنہائی کی تاریکی میں بھلانے نہیں دے گی۔ کھیل کا تقاضا بھی یہی ہے، اور آنے والی نسلیں بھی یہی چاہتی ہیں کہ ہم حق کے لیے کھڑے ہوں۔"

10/02/2026

Drop afridi against india.

06/02/2026

حکومت نے اعلان کیا:
"ڈاکٹر موبائل کو ہاتھ نہیں لگا سکتے"
عوام نے تالیاں بجائیں، خوشیاں منائیں 👏
ہم نے واقعی موبائل کو ہاتھ لگانا چھوڑ دیا۔
اب مریض ایکس رے، سی ٹی اسکین موبائل میں تصویر بنا کر لاتے ہیں،
ہم ہاتھ نہیں لگاتے۔
وہ منت سماجت کرتے ہیں: "ڈاکٹر صاحب دیکھ لیں"
ہم کہتے ہیں: "جائیں فلم ایشو کروائیں"
ریڈیالوجی والے کہتے ہیں: "اتنی فلمز کہاں سے لائیں؟"
نتیجہ؟
👉 سرکاری ہسپتالوں میں مریض خوار ہو رہے ہیں۔
پھر حکومت نے فرمایا:
"باہر کی ادویات پر ڈاکٹروں کا کمیشن ختم، اب باہر کی دوائیں نہیں لکھی جائیں گی"
عوام نے پھر جشن منایا 🎉
"قصائی نما ڈاکٹر اب بے روزگار ہو جائیں گے!"
ہم نے واقعی باہر کی دوائیں لکھنا بند کر دیں۔
اب ہسپتال میں موجود ہے صرف:
💊 رائزک
💊 پیناڈال
بس۔
ہر مریض کو یہی دے کر گھر بھیج رہے ہیں۔
اب جو عوام ہزاروں روپے خرچ کر کے
"لاہور" کے کسی ٹرشری کیئر ہسپتال آتی ہے
اور واپس صرف رائزک اور پیناڈال لے کر جاتی ہے—
👉 ہمیں کیا فرق پڑتا ہے؟
رل تو عوام ہی رہی ہے۔
ان ڈور مریضوں کی وہ چھوٹی چھوٹی ضروری چیزیں
جو پہلے ہسپتال میں نہ ہونے پر
ہم باہر سے منگوا لیا کرتے تھے،
اب وہ بھی نہیں منگواتے۔
کیوں؟
کیونکہ پالیسی یہی ہے۔
مرتا ہے تو؟
👉 مریض ہی مرتا ہے۔
آخر میں،
حکومتی پالیسیوں پر خوش ہونے والی
بھولی عوام کے لیے بس ایک پیغام:
❗ اگر ڈاکٹر کی تذلیل دیکھ کر آپ کو خوشی ہوتی ہے
تو اپنی بھی خیر منائیں۔
یہ پالیسیاں ہم سے زیادہ
آپ کے لیے نقصان دہ ہیں — اور رہیں گی۔
سوچ لیجیے۔
کیونکہ جب نظام گرتا ہے،
تو نیچے صرف ڈاکٹر نہیں آتا…
مریض بھی آتا ہے۔
Copied

06/02/2026

ہمارے محلے میں ایک شیخ صاحب کرائے دار ہو کر آئے۔ وہ ملتان کے علاقے سے تھے اور نمک کے کاروبار سے وابستہ تھے۔ بڑے نفیس، متوازن اور شائستہ انسان تھے۔
“میرے عزیز” ان کا مخصوص تکیۂ کلام تھا۔

اکثر مارننگ واک کے دوران ان سے ملاقات ہو جاتی۔ وہ بھی میری طرح خاموشی سے واک کرنے کے عادی تھے، کیونکہ وہ واک کے دوران تسبیحات پڑھتے تھے۔

میں تین چار دن واک پر نہ جا سکا۔ پانچویں چھٹے دن ملاقات ہوئی تو انہوں نے خلافِ معمول تسبیح لپیٹ کر جیب میں رکھی اور مسکراتے ہوئے بولے:
“میرے عزیز! آج میرے ساتھ چلیں، اپنے ہاتھ سے چائے پلاتا ہوں۔”

میں ان کے ساتھ چل پڑا۔ جب ان کے ڈرائنگ روم میں داخل ہوا تو حیرت ہوئی؛ وہ ڈرائنگ روم کم اور لائبریری زیادہ لگ رہا تھا۔ دیواروں پر قیمتی، تاریخی اور قدیم کتب سجی تھیں، گویا علم کا ایک خاموش خزانہ ہو۔

وہ مجھے وہاں چھوڑ کر کچن میں چلے گئے۔ میں نے کتب پر نگاہ ڈالنا شروع کی۔ واقعی نایاب اور قیمتی ذخیرہ تھا۔ مطالعہ کے میز پر تصوف سے متعلق چند کتابیں کھلی پڑی تھیں، ساتھ ایک نوٹ بک اور اس کے بیچ میں پنسل رکھی تھی۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وہ ابھی ابھی نوٹس لکھتے ہوئے اٹھے ہوں۔

اتنی دیر میں شیخ صاحب ایک ٹرے لے کر آ گئے، جس میں چائے کے دو کپ، نمکین بسکٹ، چند کھجوریں اور دو السی کے لڈو تھے۔

گفتگو کا آغاز ہوا تو ان کی علمیت، سادگی اور گہرائی کا اندازہ ہوتا چلا گیا۔ سوال و جواب، دین اور زندگی کے موضوعات پر بات چلتی رہی۔ پھر اچانک وہ کہنے لگے:

“میرے عزیز! زندگی میں ایک سوال ایسا تھا جس کا جواب میں نے ان کتابوں میں بہت تلاش کیا۔ جواب ملے بھی، مگر دل کو وہ سکون نہ ملا۔ ایک دن ملازم چھٹی پر تھا، میں خود بیکری کا سامان لینے مارکیٹ چلا گیا۔ پیدل جا رہا تھا کہ ایک چھ سات سال کا بچہ میرے آگے آگے چل رہا تھا۔ غور کیا تو اس کے جوتے ٹوٹے ہوئے تھے۔ میں نے آواز دے کر اسے روکا۔”

وہ میرے پاس آیا۔ میں نے پوچھا:
“بیٹا، تمہارے جوتے کیوں ٹوٹے ہوئے ہیں؟”

اس کے جواب نے مجھے اندر تک ہلا کر رکھ دیا۔
وہ بس اتنا بولا:
“میرے ابو جی فوت ہو گئے ہیں…”
اور خاموش ہو گیا۔

میں چند لمحے مبہوت رہا، پھر اس کا ہاتھ تھاما اور کہا:
“چلو بیٹا، میں تمہیں جوتے لے دیتا ہوں۔”

میں اسے جوتوں کی دکان پر لے گیا، دکاندار سے کہا:
“اس بچے کو سب سے اچھے جوتے پہنا دو۔”

بچہ جوتے پہن کر خوشی سے کھل اٹھا۔ میں نے اسے کچھ نقد رقم دی اور خدا حافظ کہہ کر چل دیا۔

چند لمحوں بعد وہ بچہ دوڑتا ہوا میرے پیچھے آیا، میری ٹانگوں سے لپٹ گیا اور پوچھنے لگا:
“آپ اللہ ہو؟”

میں نے اسے اٹھا کر پیار سے کہا:
“نہیں بیٹے، میں تو عام انسان ہوں۔”

وہ بولا:
“اچھا… تو پھر آپ اللہ کے دوست ہو۔ میں نے رات دعا مانگی تھی۔ ابو کہتے تھے جو اللہ سے مانگو، اللہ دے دیتا ہے۔ میں نے کہا تھا:
اللہ جی! میرے جوتے ٹوٹ گئے ہیں، مجھے نئے جوتے دے دو۔”

یہ سن کر میں شدتِ جذبات سے کانپ اٹھا۔ آنکھوں سے آنسو بے اختیار بہنے لگے۔

شیخ صاحب رُک گئے۔ ان کی آنکھیں نم تھیں۔ بولے:
“اس دن مجھے سمجھ آیا کہ اللہ کا دوست بننا کوئی مشکل کام نہیں۔ کسی یتیم کے سر پر ہاتھ رکھ دو، کسی بیوہ کی مدد کر دو، کسی محتاج کی ضرورت پوری کر دو۔ بس… یہی دوستی ہے۔”

وہ بار بار دہرا رہے تھے:
“میرے عزیز! اللہ کا دوست بننا بہت آسان ہے، بس کوئی کوشش تو کرے۔”

احبابِ گرامی!
بے شک دوسروں کے کام آنا محض ایک اخلاقی خوبی نہیں، بلکہ قربِ الٰہی کا ذریعہ ہے۔ ہم اکثر اللہ کی دوستی، ولایت اور قرب کے بڑے بڑے راستے ڈھونڈتے ہیں، حالانکہ وہ راستہ ہمارے اردگرد بکھرا ہوا ہے۔ کسی کی ضرورت بن جانا، کسی کی دعا کا جواب بن جانا، یہی اصل عبادت ہے۔
چنانچہ
اللہ تک پہنچنے کے لیے لمبے سفر نہیں کرنے پڑتے، بس کسی ضرورت مند کا سہارا بن جائیے، اللہ خود قریب آ جاتا ہے۔

Alhamdolilah,My youngest Duughter also joined as Medical Student at QAMC Bahawalpur in MBBS class.May ALMIGHTY ALLAH HEL...
31/01/2026

Alhamdolilah,
My youngest Duughter also joined as Medical Student at QAMC Bahawalpur in MBBS class.
May ALMIGHTY ALLAH HELP her in her cause successfully & with dignity .Ameen.

27/01/2026
My SONMuhammad Ali Zafar Ready for Admission in MBBS At my alma materNISHTAR MEDICAL UNIVERSITY MULTAN .He would be ente...
21/01/2026

My SON
Muhammad Ali Zafar
Ready for Admission in MBBS
At my alma mater

NISHTAR MEDICAL UNIVERSITY MULTAN .
He would be entering
&
I would be leaving this GREAT Institution in a few months times .
I hope he would follow me & also the traditions of THE GREAT NISHTAR in true letters & spirit .

18/01/2026

ایران کا آخری بادشاہ جو خود کو شہنشاہ — بادشاہوں کا بادشاہ — کہلواتا تھا۔ وہی شخص اپنی بیوی کے ساتھ ، زندگی کی آخری سانسوں کا منتظر تھا… اقتدار، تخت، تاج، لشکر، سب پیچھے رہ چکے تھے۔

مصری مفکر و صحافی محمد حسنین ہیکل اپنی کتاب “مدافعِ آیات اللہ” میں لکھتے ہیں کہ خمینی انقلاب کے بعد محمد رضا پہلوی جب ایران سے فرار ہوا تو اس کی زندگی دربدر ہونے کی تصویر بن گئی۔ ایک ملک سے دوسرے ملک بھٹکتا رہا، مگر کوئی ریاست اسے دل سے قبول کرنے کو تیار نہ تھی۔ جن دروازوں پر کبھی شاہی وقار کے ساتھ دستک دی جاتی تھی، وہ اب خوف اور بوجھ سمجھ کر بند کیے جا رہے تھے۔

کچھ عرصہ پانامہ میں قیام نصیب ہوا، مگر وہاں بھی زمین تنگ پڑ گئی۔ بالآخر پانامہ نے بھی صاف الفاظ میں کہہ دیا کہ شاہ اور اس کا خاندان ملک چھوڑ دے۔
اسی بے بسی اور اضطراب کے عالم میں اس کی بیوی فرح دیبا نے اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے، عالمی مہاجرین کمیشن کے سربراہ آغا خان سے رابطہ کیا۔ درخواست یہ تھی کہ کوئی ایسی سفری دستاویز فراہم کر دی جائے جس کے سہارے وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ جا سکیں۔

جب جواب میں تاخیر ہوئی اور پانامہ میں قیام کی آخری تاریخ قریب آ پہنچی تو فرح دیبا نے ایک رات دیر گئے دوبارہ فون کیا۔ اس کی آواز لرز رہی تھی، آنسو بہہ رہے تھے، اور الفاظ درد میں ڈوبے ہوئے تھے:

> “ہم اس وقت کسی بھی کاغذ کے شدید محتاج ہیں، بس کوئی ایسی دستاویز دے دیجیے جس کی بنیاد پر ہم پانامہ سے نکل سکیں…
چاہے وہ صرف مہاجرین کی دستاویز ہی کیوں نہ ہو!”

ذرا اس لمحے کی ذلت اور کرب کا تصور کیجیے۔
وہ عورت جو کبھی ایران کی ملکہ کہلاتی تھی، جس کے سر پر سونے کا تاج سجتا تھا، جس تاج میں دنیا کا نایاب ترین جواہر جڑا تھا — آج وہی عورت ایک پناہ گزین کے کاغذ کی بھیک مانگنے پر مجبور تھی۔

یہی ہے وقت کا انتقام…
یہی ہے ربّ کی مشیت…
کہ چاہے تو بادشاہ کو فقیر بنا دے، اور چاہے تو تخت کو خاک میں ملا دے۔

اسی لیے تکبر نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ اقتدار مستقل نہیں، دولت وفادار نہیں، اور دنیا کسی کی نہیں۔
اور موت کے بعد انسان کی حیثیت اس سے زیادہ نہیں رہتی کہ وہ مٹی کے کیڑوں کی خوراک بن جائے۔

تاریخ محض قصوں کا مجموعہ نہیں، یہ عبرت کا آئینہ ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ﴾
“قصے بیان کرو، شاید کہ وہ غور و فکر کریں۔”
(سورۃ الاعراف: 176)

یہ تحریر کسی فرد کے زوال کی نہیں،
بلکہ انسان کے غرور کے انجام کی داستان ہے۔

16/01/2026

Do root cause analysis and work that way.
I loved only thing from medical representatives ,they always introduced new medicine and research papers.They are alternative of Drugs and therapeutic teams alternatives.
Do you have hospital drugs and therapeutic committees?Answer will be no.
So you need someone like DTG type activity.
Medical reps are bridging that gap.
Quality ,price and research new drugs is government responsibility.Clinicians can not do all those jobs.AI may replace this role but money will go AI (corporates)not poor public.
Copied from my friend 's comments .

12/01/2026

Address

Circuit House Road Street, , Near KHIZRA MOSQUE
Multan
60000

Opening Hours

Monday 15:00 - 18:00
20:00 - 22:00
Tuesday 15:00 - 18:00
20:00 - 22:00
Wednesday 15:00 - 18:00
20:00 - 22:00
Thursday 15:00 - 18:00
20:00 - 22:00
Friday 15:00 - 18:00
20:00 - 22:00
Saturday 15:00 - 18:00
20:00 - 22:00

Telephone

+923007305443

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Professor Dr. Muhammad Zafar Iqbal posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram