06/02/2026
حکومت نے اعلان کیا:
"ڈاکٹر موبائل کو ہاتھ نہیں لگا سکتے"
عوام نے تالیاں بجائیں، خوشیاں منائیں 👏
ہم نے واقعی موبائل کو ہاتھ لگانا چھوڑ دیا۔
اب مریض ایکس رے، سی ٹی اسکین موبائل میں تصویر بنا کر لاتے ہیں،
ہم ہاتھ نہیں لگاتے۔
وہ منت سماجت کرتے ہیں: "ڈاکٹر صاحب دیکھ لیں"
ہم کہتے ہیں: "جائیں فلم ایشو کروائیں"
ریڈیالوجی والے کہتے ہیں: "اتنی فلمز کہاں سے لائیں؟"
نتیجہ؟
👉 سرکاری ہسپتالوں میں مریض خوار ہو رہے ہیں۔
پھر حکومت نے فرمایا:
"باہر کی ادویات پر ڈاکٹروں کا کمیشن ختم، اب باہر کی دوائیں نہیں لکھی جائیں گی"
عوام نے پھر جشن منایا 🎉
"قصائی نما ڈاکٹر اب بے روزگار ہو جائیں گے!"
ہم نے واقعی باہر کی دوائیں لکھنا بند کر دیں۔
اب ہسپتال میں موجود ہے صرف:
💊 رائزک
💊 پیناڈال
بس۔
ہر مریض کو یہی دے کر گھر بھیج رہے ہیں۔
اب جو عوام ہزاروں روپے خرچ کر کے
"لاہور" کے کسی ٹرشری کیئر ہسپتال آتی ہے
اور واپس صرف رائزک اور پیناڈال لے کر جاتی ہے—
👉 ہمیں کیا فرق پڑتا ہے؟
رل تو عوام ہی رہی ہے۔
ان ڈور مریضوں کی وہ چھوٹی چھوٹی ضروری چیزیں
جو پہلے ہسپتال میں نہ ہونے پر
ہم باہر سے منگوا لیا کرتے تھے،
اب وہ بھی نہیں منگواتے۔
کیوں؟
کیونکہ پالیسی یہی ہے۔
مرتا ہے تو؟
👉 مریض ہی مرتا ہے۔
آخر میں،
حکومتی پالیسیوں پر خوش ہونے والی
بھولی عوام کے لیے بس ایک پیغام:
❗ اگر ڈاکٹر کی تذلیل دیکھ کر آپ کو خوشی ہوتی ہے
تو اپنی بھی خیر منائیں۔
یہ پالیسیاں ہم سے زیادہ
آپ کے لیے نقصان دہ ہیں — اور رہیں گی۔
سوچ لیجیے۔
کیونکہ جب نظام گرتا ہے،
تو نیچے صرف ڈاکٹر نہیں آتا…
مریض بھی آتا ہے۔
Copied