24/02/2026
🚨 گریگ چیپل کا cricinfo پر دھماکہ خیز مضمون: دنیا عمران خان کو بھول نہیں سکتی!
"ایک طوفانی رات کی خاموشی میں، لائٹ ہاؤس کا نگہبان صرف لہروں کو نہیں دیکھتا؛ وہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ روشنی ایک تھکے ہوئے مسافر کے لیے امید کی ایک مستقل علامت بنی رہے، بڑھتی ہوئی تاریکی کے مقابل ایک واحد نقطۂ روشنی۔ یہ نگہبان جانتے ہیں کہ ان کی پہرہ داری صرف حال کی ذمہ داری نہیں بلکہ نسلوں پر پھیلی حفاظت کی روایت سے وابستگی ہے۔
اسی نگہبانی کے جذبے کے تحت میں خود کو قدم اٹھانے پر مجبور پایا۔ جب مجھے اپنے پرانے دوست اور حریف عمران خان کے گرد موجود سنگین حالات کی خبر ملی تو مجھے احساس ہوا کہ جنگل میں جلتا ایک چراغ کافی نہیں ہوگا۔ کرکٹ کے عظیم ترین ستاروں میں سے ایک کے گرد گہراتے اندھیرے کو چیرنے کے لیے مجھے آوازوں کا ایک قافلہ جمع کرنا تھا — کپتانوں کا ایسا اجتماعی گروہ جس کی مشترکہ تاریخ سیاسی بے حسی کی آندھی میں نظرانداز نہ کی جا سکے۔
میں عمران کو کئی دہائیوں سے جانتا ہوں، اور ہمارا تعلق ہمیشہ باہمی احترام پر مبنی رہا ہے، جو باؤنڈری لائن سے کہیں آگے تک جاتا ہے۔ ہم پہلے حریف تھے، ٹیسٹ کرکٹ کے میدان میں جہاں کردار تیز گیندبازی اور ذہنی مضبوطی کی بھٹی میں ڈھلتا ہے۔ مجھے وہ بے پناہ کشش رکھنے والا اور اس سے بھی زیادہ مضبوط ارادے کا مالک یاد ہے۔ وہ ایسا رہنما تھا جو صرف اپنی ٹیم کی قیادت نہیں کرتا تھا بلکہ ایک قوم کو متاثر کرتا تھا۔ جب اس نے 1992 میں پاکستان کو تاریخی ورلڈ کپ جتوایا تو اس نے ایسی ثابت قدمی دکھائی جو اس کی زندگی کی پہچان بن گئی۔ اس نے وہ ٹرافی اپنی ذات کی نمائش کے لیے نہیں بلکہ اپنے لوگوں کو یہ دکھانے کے لیے ملک بھر میں گھمائی کہ وہ عظمت حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس سفر کے دوران کسانوں اور عام لوگوں سے سنی کہانیوں نے اس کے دل کو چھو لیا اور اس کے سیاسی مستقبل کے بیج بو دیے۔
ہماری راہیں کھیل کے دن ختم ہونے کے بعد بھی ملتی رہیں۔ 2004 میں، جب میں لاہور میں نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں کوچنگ کر رہا تھا، ہم نے ایک ڈنر اکٹھا کیا جو مجھے آج بھی یاد ہے۔ میں مانتا ہوں کہ پاکستانی سیاست میں آنے کے اس کے فیصلے پر مجھے حیرت تھی۔ میں نے اس سے پوچھا کہ وہ خود کو اتنے غیر یقینی میدان میں کیوں ڈالنا چاہتا ہے۔ اس کا جواب سادہ مگر گہرا تھا: وہ چاہتا تھا کہ اس کا ملک وہ بنے جو بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس نے زندگی اور سیاست کے سات سالہ چکروں کا ذکر کیا۔ اس نے کہا کہ اگر ایک چکر چھوٹ بھی جائے تو وہ اگلے کا انتظار کرے گا، اور اسے یقین تھا کہ تین چکروں میں وہ اپنی جماعت کو اقتدار تک لے آئے گا۔ اس کی پیش بینی حیران کن تھی، کیونکہ تقریباً اسی وقت کے مطابق وہ اپنے ملک کے اعلیٰ ترین منصب تک پہنچا۔
اس سے میری آخری ملاقات فروری 2020 میں ہوئی، دنیا بدلنے سے کچھ پہلے۔ وہ اس وقت وزیر اعظم تھا اور میں کاروباری سلسلے میں پاکستان آیا ہوا تھا۔ سر ویوین رچرڈز اور شین واٹسن کے ساتھ ہم اس کے اسلام آباد دفتر گئے۔ ہماری ملاقات صرف 15 منٹ کی طے تھی، مگر عمران نے، اپنی میزبانی کے انداز کے مطابق، اسے 45 منٹ تک بڑھا دیا۔ اس کا چیف آف اسٹاف بار بار کمرے میں آ کر اگلی ملاقاتوں کی یاد دہانی کروا رہا تھا، جو بعد میں معلوم ہوا کہ سینئر امریکی اور سعودی حکام کے ساتھ تھیں۔ عمران مسکرا کر کہتا رہا کہ اسے اس دفتر میں آنے کے بعد اتنا لطف نہیں آیا تھا۔ تب بھی وہ اپنے اوپر پڑنے والے شدید دباؤ اور آنے والی گرمی کی بات کر رہا تھا۔ اس نے اسے اسی ٹھہراؤ سے قبول کیا جیسے نئی گیند کا سامنا سبز وکٹ پر کرتا تھا، ایک اعلیٰ طاقت اور اپنے مقدر پر یقین رکھتے ہوئے۔
آج وہی زندہ دل اور باوقار رہنما ایسی جگہ قید ہے جسے رپورٹس کے مطابق سزائے موت کی کوٹھڑی سے تشبیہ دی جا رہی ہے۔ وہ 2023 سے جیل میں ہے، 186 قانونی مقدمات کے طوفان کا سامنا کرتے ہوئے — ایک ایسی سزا جو اس عمر میں عملاً عمر قید کے مترادف ہے۔ سب سے زیادہ پریشان کن اس کی صحت سے متعلق خبریں ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس کی بینائی کمزور ہو رہی ہے اور دائیں آنکھ کی روشنی تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ اسے تنہائی میں رکھا گیا ہے، جسے عالمی انسانی حقوق تنظیمیں تشدد کے مترادف قرار دیتی ہیں۔ یہ کسی سابق قومی رہنما کے شایان شان سلوک نہیں، نہ ہی اس عالمی کھیل کے آئیکون کے لیے جس نے دنیا کو بہت کچھ دیا۔
اگر ہم اپنے ہی کسی ساتھی کو اس طرح غائب ہونے دیں تو ہم کھیل کی روح کے ساتھ ناانصافی کر رہے ہیں۔ ہم اپنی مشترکہ تاریخ کو ان ہاتھوں میں دے رہے ہیں جو کھیل کی اقدار کو نہیں سمجھتے۔
اسی احساسِ ناانصافی نے مجھے دیگر کپتانوں سے رابطہ کرنے پر مجبور کیا۔ میں جانتا تھا کہ ایک آواز اکثر سمندر میں قطرہ بن کر گم ہو جاتی ہے۔ اثر ڈالنے کے لیے مجھے ان لوگوں کی اجتماعی طاقت درکار تھی جنہوں نے اپنی قوموں کی قیادت کی ہے۔ میں نے تقریباً 20 لوگوں سے رابطہ کیا۔ کچھ نے سیاسی پیچیدگیوں کی وجہ سے انکار کیا، مگر 13 نے حیرت انگیز سرعت سے ساتھ دیا۔ چند ہی منٹوں میں ایلن بارڈر، مائیکل ایتھرٹن اور سر کلائیو لائیڈ جیسے نام شامل ہو گئے۔ سنیل گواسکر اور کپل دیو کا ردعمل خاص طور پر قابل ذکر تھا؛ اپنے ملک میں دباؤ کے باوجود انہوں نے ایک لمحہ ضائع نہ کیا۔ انہیں اپنے دوست اور برصغیر کی بے شمار یادیں یاد تھیں، اور انہوں نے اس کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا۔
یہ مضبوط گروہ کسی سیاسی بیان کے لیے اکٹھا نہیں ہوا۔ ہم پالیسی یا حکومت پر بحث نہیں کر رہے۔ ہم انسانی حقوق کی بات کر رہے ہیں — اس کھیل کی اقدار کی بنیاد پر جس نے ہمیں منصفانہ کھیل اور شرافت سکھائی۔ ہم پاکستان کی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ عمران کو فوری طور پر اپنی مرضی کے ماہر ڈاکٹروں سے طبی سہولت دی جائے، انسانی سلوک فراہم کیا جائے، اہلِ خانہ سے ملاقات کی اجازت ہو، اور شفاف قانونی عمل تک رسائی دی جائے۔ یہ کوئی انتہا پسند مطالبات نہیں بلکہ ایک مہذب معاشرے کی بنیادی شرائط ہیں۔
کرکٹ ہمیشہ قوموں کے درمیان پل رہی ہے — ایک مشترکہ زبان جو سفارتی تناؤ کے باوجود قائم رہتی ہے۔ ہماری اپیل پر موجود ناموں میں ایک ایسی کشش اور وزن ہے جو کھیل کے دنوں کے بعد بھی باقی رہتا ہے۔ ہم ایک ورثے کے نگہبان ہیں، جیسے فن کے ماہرین جنگ کے دوران شاہکاروں کو بچاتے ہیں۔ اگر ہم اپنے ہی کسی کو اس بے حسی سے غائب ہونے دیں تو ہم کھیل کی روح سے غداری کریں گے۔
مجھے اس اپیل کے ردعمل سے حوصلہ ملا ہے۔ اس نے ایک ایسی صورتحال پر دوبارہ روشنی ڈال دی جسے شاید دنیا معمول سمجھنے لگی تھی۔ اس نے لوگوں کو یاد دلایا کہ عمران خان کون ہے: ایک بہادر انسان، جس نے خطرات جانتے ہوئے سیاست میں قدم رکھا۔ اس نے کبھی کہا تھا کہ اگر اس راستے پر اس کی زندگی مختصر بھی ہو جائے تو یہ خدا کی مرضی ہوگی۔ وہ آخری گیند تک لڑا ہے، جیسے اس نے اپنے کھلاڑیوں کو سکھایا تھا۔
وقت کے ساتھ شاید مخصوص میچوں کی یادیں دھندلی ہو جائیں، مگر ایک دوسرے کے لیے احترام واضح رہتا ہے۔ ہمیں مقابلے، کہانیاں اور دوستی یاد ہیں۔ ہم خاموش نہیں رہ سکتے جب ایک ساتھی کے ساتھ ایسا سلوک ہو۔ ہم آواز اٹھاتے رہیں گے کیونکہ کرکٹ صرف رنز اور وکٹوں کا نام نہیں۔ یہ کردار کا نام ہے، اور اس احترام کا جو کھیل ختم ہونے کے بعد باقی رہتا ہے۔
ہم طویل روشنی کے نگہبان ہیں، تاکہ انصاف کی کرن بجھنے نہ پائے — ایک ایسے انسان کے لیے جس نے دنیا کو بہت کچھ دیا۔ عمران خان اس منصفانہ کھیل کا مستحق ہے جس کا وہ ہمیشہ داعی رہا۔ ہمیں امید ہے کہ شرافت کی اقدار غالب آئیں گی اور ہماری اجتماعی آواز اسے تنہائی کی تاریکی میں بھلانے نہیں دے گی۔ کھیل کا تقاضا بھی یہی ہے، اور آنے والی نسلیں بھی یہی چاہتی ہیں کہ ہم حق کے لیے کھڑے ہوں۔"