Siddiqui Clinic

Siddiqui Clinic اللہ پاک نے ہر بیماری کا علاج رکھا ہے۔ آپ Siddiqui clinic پر تش? contact on WhatsApp No

صدیقی کلینک مین گیٹ عثمانیہ بازارکی جانب سے تمام مسلمانوں کو دل کی گہراہی سے عید مبا رک ہو۔ڈاکڑ عامر علی صدیقیجنرل کونسل...
01/04/2025

صدیقی کلینک مین گیٹ عثمانیہ بازارکی جانب سے تمام مسلمانوں کو دل کی گہراہی سے عید مبا رک ہو۔
ڈاکڑ عامر علی صدیقی
جنرل کونسلر علمدی سورہ سورج میانی ملتان
ممبر امن کمیٹی تھانہ صدر ملتان
نائب صدر YHDWAملتان

Unique science school main training
20/04/2023

Unique science school main training

14/11/2022

نئے شادی شدہ جوڑوں میں جوش زیادہ ہوتا ہے تواکثر ماہواری کے دوران بھی ہم بستری کرلیتے ہیں۔اس سے اکثر ان میں سوزاکی علامات پیدا ہوجاتی ہیں۔جیسے پیشاب جل کر آنا۔ پیشاب قطرہ قطرہ آنا۔ درد کے ساتھ آنا۔ پیشاب میں خون آنا وغیرہ ایسی حالتوں میں اکثرکینتھرس۔ ٹیری بن تھینا۔ تھوجا۔کینابس انڈیکا دوائیں ہوتی ہیں۔
مزید بہترین معلومات کیلئے دئیے گئے نمبر پر رابطہ کریں
ڈاکٹر عامر علی صدیقی۔
ماہر برائے بانجھ پن و جنسی امراض زنانہ و مردانہ۔
واٹس ایپ۔ 03064845001

صدیقی کلینک مین گیٹ عثمانیہ بازارکی جانب سے تمام مسلمانوں کو دل کی گہراہی سے عید مبا رک ہو۔ڈاکڑ عامر علی صدیقیممبر امن ک...
02/05/2022

صدیقی کلینک مین گیٹ عثمانیہ بازارکی جانب سے تمام مسلمانوں کو دل کی گہراہی سے عید مبا رک ہو۔
ڈاکڑ عامر علی صدیقی
ممبر امن کمیٹی تھانہ صدر ملتان
ممبر مصالحتی کمیٹی تھانہ صدر ملتان

صدیقی کلینک جگر کے امراض، اہم علامات، ہومیوپیتھک دوائیںLiver Disease                   جگر کی خرابی کیسے سنگین مسائل پید...
28/03/2022

صدیقی کلینک
جگر کے امراض، اہم علامات، ہومیوپیتھک دوائیں
Liver Disease جگر کی خرابی کیسے سنگین مسائل پیدا کرسکتی ہے؟؟
جگر انسان جسم کے ان حصوں میں سے ایک ہے جن کو عام طور پر اس وقت تک سنجیدہ نہیں لیا جاتا جب تک وہ مسائل کا باعث نہیں بننے لگتے اور کچھ لوگوں کے لیے بہت تاخیر ہوجاتی ہے۔تو اس میں کسی بھی قسم کی خرابی یا بیماری کی صورت میں جو علامات سامنے آتی ہیں وہ بھی اکثر افراد نظر انداز کردیتے ہیں۔
جگر کا درست طریقے سے کام کرنا متعدد وجوہات کے باعث اچھی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے تاہم اس کی بڑی اہمیت یہ ہے کہ ہم جو کچھ بھی کھاتے ہیں اسے ہضم کرنے کے لیے جگر کی ضرورت ہوتی ہے۔ہوسکتا ہے کہ یقین کرنا مشکل ہو مگر جگر 500 کے قریب افعال سرانجام دیتا ہے اور سو سے زیادہ مختلف امراض ہوتے ہیں، جن کی وجوہات بھی مختلف ہوتی ہے جیسے کوئی انفیکشن، بہت زیادہ الکحل کا استعمال، مخصوص ادویات، منشیات، موٹاپا اور کینسر وغیرہ۔
اگرچہ مختلف وجوہات کے باعث مختلف امراض کا سامنا ہوسکتا ہے مگر جگر کے بیشتر امراض سے عضو کو لگ بھگ ایک جیسے انداز سے ہی نقصان پہنچتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ ایک جیسے لگتے ہیں اور ان کی علامات بھی ملتی جلتی ہوتی ہیں۔
اکثر اوقات جگر کے کسی بیماری اور اس سے متعلق علامات بہت تیزی سے ابھرتی ہیں، جس کی متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں مگر زیادہ تر جگر کے امراض دائمی ہوتے ہیں، یعنی ان میں عضو کو وقت کے ساتھ بتدریج نقصان پہنچتا ہے اور علامات بھی بتدریج سامنے آتی ہیں۔
جگر کے امراض کی ابتدائی علامات
بیشتر افراد جگر کے مختلف امراض کی ابتدائی علامات کو پہچان نہیں پاتے، اور اگر ان پر توجہ چلی بھی جائے تو یہ جاننا مشکل ہوسکتا ہے کہ ان کی وجوہات کیا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے جگر کے مسائل کی ابتدائی نشانیاں بہت عام ہوتی ہیں جیسے پیٹ میں درد، بھوک کا احساس نہ ہونا، تھکاوٹ یا توانائی کی کمی اور ہیضہ۔
ان علامات سے لوگوں کو یہ احساس ہوسکتا ہے کہ یہ عام سی بیماری ہے۔
تاہم وقت کے ساتھ زیادہ نمایاں علامات ابھرتی ہیں جو کچھ یوں ہوسکتی ہیں۔
جلد یا آنکھوں کی رنگت پیلی ہوجانا (یرقان)
جیسے جیسے جگر کے نقصان میں اضافہ ہوتا ہے، تو مسئلے کی واضح نشانیاں ابھرنے لگتی ہیں، جلد کی رنگت معمول سے زیادہ زرد ہوسکتی ہیں جبکہ آنکھوں کی سفیدی میں بھی پیلاہٹ غالب آجاتی ہے، ڈاکٹر اسے یرقان کہتے ہیں۔
ایسا اس وقت ہوتا ہے جب خون کے سرخ خلیات میں ایک زرد رنگ کے مواد کا بہت زیادہ اجتماع ہونے لگتا ہے، عام طور پر جگر اس مواد کو صاف کردیتا ہے مگر اسے نقصان پہنچ جائے تو وہ ایسا کرنے سے قاصر ہوتا ہے۔
خارش
اگر جگر کے مسائل دائمی ہو تو خارش کا احساس بھی ایک علامت ہوسکتا ہے۔ ایسا اس وقت بھی ہوسکتا ہے جب کسی قسم کے جلدی مسائل کا سامنا نہ بھی ہو، یہ خارش سونا مشکل کرسکتی ہے، اگر ایسا ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا بہتر ہے۔
پیٹ پھول جانا
اگر جگر داغ دار ہوجائے تو اس سے جگر کے لیے خون کی روانی رک سکتی ہے جس سے ارگرد کی خون کی شریانوں میں دبائو بڑھ جاتا ہے۔ ایسا ہونے سے سیال کا اخراج ہوتا ہے اور وہ پیٹ میں جمع ہوتا ہے۔

یہ سیال اور سوجن کم بھی ہوسکتی ہے اور زیادہ بھی۔

پیڑوں اور ٹخنوں میں ورم
ٹانگوں کا سوجنا جگر کے امراض میں عام ہوتا ہے۔ اگر آپ کے پیر اکثر سوج جاتے ہیں، تو یہ جگر میں مسائل کی نشانی ہوسکتی ہے کیونکہ یہ بھی سیال کے اجتماع کا نتیجہ ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں نمک کا کم استعمال یا ادویات سے مدد حاصل کی جاسکتی ہے۔
پیشاب کی رنگت گہری ہونا
جب جگر معمول کے مطابق بائل نامی سیال کو بنا نہیں پاتا یا جگر سے اس کا بہائو رکتا ہے، تو فضلے کی رنگت لکڑی کی طرح زرد ہوجاتی ہے جس کے ساتھ عموماً زرد جلد یا یرقان بھی نمودار ہوتا ہے۔ اسی طرح پیشاب کی رنگت بہت گہری ہوجاتی ہے۔
معدے میں گڑبڑ
دل متلانا اور قے آنا جگر میں خرابی کی ابتدائی علامات ہوسکتی ہیں جو عام طور پر ڈپریشن، فوڈ پوائزننگ اور آدھے سر کے درد جیسے امراض کے ساتھ بھی سامنے آتی ہیں، تاہم جگر کے امراض میں ہر وقت دل متلاتا رہتا ہے جو جگر میں نقصان کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ ایسا اس وقت ہوتا جب میٹابولزم اور نظام ہاضمہ میں جگر کی خرابی کی وجہ سے تبدیلیاں آتی ہیں، اگر ہر وقت متلی، قے اور معدے میں خرابی کی شکایت ہو تو طبی مدد کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔
تھکاوٹ اور الجھن
ہر ایک کو کسی نہ کسی وقت تھکاوٹ کا سامنا ہوتا ہی ہے مگر جگر کے امراض کے باعث جس تکان کا تجربہ ہوتا ہے وہ بالکل متختلف ہوتی ہے۔ جگر میں خرابی کی صورت میں یہ عضو توانائی پر کنٹرول کرکے دن کو پورا کرنا انتہائی مشکل بنا دیتا ہے۔
اس کی وجہ جگر میں زہریلے مواد کا جمع ہونا ہے، اسی طرح خون اور جسم میں زہریلا مواد جمع ہونے سے بھی دماغی افعال متاثر ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں الجھن یا توجہ مرکوز کرنا مشکل ہوجاتا ہے، چیزوں کو بھولنا عام ہوتا ہے۔
متلی اور قے
جگر کے امراض کے نتیجے میں معدہ اکثر خراب رہنے لگتا ہے، جب مرض کی شدت بڑھتی ہے تو معاملہ بدتر ہوجاتا ہے، جس کے نتیجے میں مسلسل قے یا متلی کا سامنا ہوتا ہے، جو جگر کے مسائل کی نشانی ہے۔
اگر جگر کے افعال تھم رہے ہیں یا جگر فیل ہورہا ہے تو قے میں خون بھی نظر آسکتا ہے۔
ہر وقت تھکاوٹ
جگر پر چربی چڑھنے کی کوئی جسمانی علامت نہیں ہوتی اور بظاہر خون کے ٹیسٹ یا جگر کے معائنے کے بغیر اس کی شناخت ممکن نہیں ہوتی، مگر جگر کے امراض کی شدت بڑھ رہی ہو تو تھکاوٹ اور کمزوری جیسی علامات ضرور سامنے آسکتی ہیں۔ اگر آپ کو ہر وقت تھکاوٹ اور کمزوری کا احساس ہوتا ہے جبکہ ماضی میں کبھی ایسا نہ ہوا ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر کے پاس جاکر معائنہ کرانا چاہیے۔
جلد پر آسانی سے خراشیں
جگر کے مختلف امراض کے شکار افراد میں خون کی بیماریاں بھی پیدا ہوجاتی ہیں، جیسے خون زیادہ بہنے لگتا ہے یا بغیر کسی وجہ کہ جلد پر خراشیں پڑجانا وغیرہ۔ اگر آپ ایسا ہوتے دیکھیں اور جلد پر خراش کی کوئی وجہ نہ مل سکے تو ڈاکٹر سے ایک بار ضرور مشورہ لیں۔
بھوک ختم ہوجانا
جب خوراک مناسب طریقے سے ہضم نہ ہو تو کھانے کی خواہش ختم ہونے لگتی ہے اور ہوسکتا ہے کہ وزن میں انتہائی تیزی سے بہت زیادہ کمی ہوجائے۔ جگر میں بائل کی پروڈکشن کی کمی بھی اس کی وجہ ہوتی ہے جو کہ چربی کو ہضم کرنے میں مدد دینے والا سیال ہوتا ہے۔ اگر طویل عرصے تک کھانے کی اشتہا نہ ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کیا جانا چاہیے۔
پیشاب کی رنگت بدل جانا
جگر میں خرابی ہو تو پیشاب کی رنگت گہری ہونے گلتی ہے، اگر وہ بھورے، اورنج رنگ کا ہو تو یہ جگر کو نقصان پہنچنے کی واضح نشانی ہوتی ہے۔
یہ بھی دیکھیں : جگر کے لیے نقصان دہ غذائیں
یرقان
جب جسم خون کے پرانے خلیات کو توڑتا ہے تو اس کے نتیجے میں ایک زرد سا مرکب بنتا ہے جسے بلی روبن (bilirubin) کہا جاتا ہے، صحت مند جگر کو اس مرکب کو تلف کرنے میں کسی مسئلے کا سامنا نہیں ہوتا، تاہم اگر وہ بیمار ہو تو یہ زرد مرکب خون میں جمع ہونے لگتا ہے جس کے نتیجے میں جلد اور آنکھوں کی رنگت زرد ہونے لگتی ہے، اسے یرقان بھی کہا جاتا ہے اور گہرے رنگ کا پیشاب بھی اس کی ایک علامت ہے۔
معدے میں درد
جب شکم میں موجود کسی عضو کو مسائل کا سامنا ہو تو پورے معدے میں درد کا سامنا تو ہوتا ہی ہے، جگر کا درد بہت تیز ہوتا ہے اور ایسا لگتا ہے جیسے خنجر سے مارا جارہا ہو۔ ایسا درد لبلبے میں خرابی کے باعث بھی ہوتا ہے، لہذا ایسا درد ہونے پر ڈاکٹر سے رجوع ضرور کرنا چاہیے۔
جسمانی ورم
جب آپ کے جسم کے مختلف حصوں میں سوجن شروع ہوجائے، خاص طور پر ٹانگیں سوج جائیں تو یہ جگر کے امراض میں عام ہوتا ہے، اگر آپ کے پاؤں اکثر سوج جاتے ہیں تو روزانہ 20 منٹ تک چہل قدمی کو عادت بنانے سے خون کی روانی کو ٹانگوں میں بہتر بنایا جاسکتا ہے۔
جلدی خارش
جگر میں مسائل کی ایک نشانی جلد کی حساسیت بڑھ جانا ہے جو کہ پرتوں کی طرح ہوسکتی ہے جبکہ خارش ہونے لگتی ہے۔ جسمانی رگیں نمایاں ہونا اور بے وجہ زخم ابھر آنا بھی اسی بیماری کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔ اگر جلد کی خارش پر کریمیں بے اثر ثابت ہورہی ہیں تو بہتر ہے کہ ہسپتال جاکر جگر کا چیک اپ کروالیں۔
ہیضہ، قبض اور آنتوں سے خون رِسنا
عام طور پر جب نظام ہاضمہ میں کسی قسم کی خرابی ہو تو ہیضہ سب سے پہلی نشانی ہوتا ہے جو آپ کو چوکنا کرنے کی کوشش کر رہی ہوتی ہے، اسی طرح قبض بھی اکثر یہی عندیہ دے رہا ہوتا ہے۔
بلڈ پریشر بڑھ جانا
ایک جرمن تحقیق کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ بلڈ پریشر کے شکار افراد میں جگر کے امراض کا خطرہ تین گنا زیادہ ہوتا ہے۔ اپنے بلڈ پریشر کو چیک کرنا اور دل کی صحت کو بہتر بنانا جگر کے امراض کی صورت میں بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے، دوسری صورت میں موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
توند نکلنا
موٹاپا ایک عالمی وباء بن چکا ہے مگر امریکا کی کیلیفورنیا یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق جن لوگوں کے پیٹ کے گرد اضافی چربی اکھٹی ہوجاتی ہے یا یوں کہہ لیں کہ توند نکل آتی ہے، ان میں جگر پر چربی چڑھنے کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے بلکہ یہ اکثر اس کی ابتدائی علامت ثابت ہوتی ہے۔
کولیسٹرول میں اضافہ
خون میں چربی کی مقدار میں اضافہ یا کولیسٹرول بھی اس بات کی طرف توجہ دِلاتا ہے کہ جگر میں بہت زیادہ چربی جمع ہو رہی ہے۔ یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ خون میں کولیسٹرول کی مقدار کا اضافہ جگر سے خارج ہونے والی چربی سے ہی ہوتا ہے۔
شوگر اور ذیابیطس / ذیابطیس (Diabetes Mellitus) کا مرض
اگر خدانخواستہ کوئی ذیابیطس / شوگر کے مرض کا شکار ہو جائے تو اُسے کچھ عرصے بعد جگر پر چربی چڑھنے کے ٹیسٹ کو عادت بنا لینی چاہئے۔ تحقیق کے مطابق ذیابیطس ٹائپ ٹو (Diabetes Mellitus Type 2) کے شکار افراد میں جگر کے امراض کا خطرہ 60 فیصد تک ہوتا ہے اور اکثر انہیں اس کا علم بھی نہیں ہوتا۔
خاندانی اور موروثی مرض
اگر کسی قریبی رشتہ دار میں جگر پر چربی چڑھنے کا مرض ہو تو خاندان کے دیگر افراد میں بھی اس کا امکان خاصا بڑھ جاتا ہے۔ یہ مرض موروثی طور پر بھی ایک سے دوسرے میں منتقل ہوتا ہے اِس لئے ہومیوپیتھک طریقہ علاج میں اِس پہلو کو خصوصی طور پر مدِ نظر رکھنا بے حد ضروری ہے۔
مرض کو جلد پکڑنا بہتر
ایسا ممکن ہے کہ جگر کے امراض کا علم نہ ہو، کیونکہ بیشتر افراد بظاہر بیمار نہیں ہوتے۔ جگر کو نقصان بڑھنے سے زیادہ سنگین علامات نمودار ہوتی ہیں اور اس کی روک تھام نہ ہو تو پھر وہ لاعلاج بھی ہوسکتا ہے۔
تاہم معمولی چیزوں پر توجہ دے کر جگر کے امراض کو بہت جلد پکڑنا ممکن ہوسکتا ہے، جس سے نقصان کو روکنا اور جگر کی صحت بحال کرنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
جگر کے لیے نقصان دہ غذائیں.
کیا آپ کو علم ہے کہ کونسی غذا جگر کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے؟
چربی سے بھرپور غذائیں
جنک یا فاسٹ فوڈ چربی سے بھرپور خوراک ہے جو کہ جگر کو صحت مند رکھنے کے حوالے سے انتہائی تباہ کن انتخاب ثابت ہوتی ہے۔ ایسی غذا کو اکثر کھانا جگر کے لیے اپنا کام کرنا مشکل ترین بنا دیتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ جگر میں ورم ہوسکتا ہے جو کہ جگر کے زخم وغیرہ میں تبدیل ہوسکتا ہے۔ تو فاسٹ فوڈ کا کم از کم استعمال جگر کے لیے فائدہ مند ہے۔
چینی
بہت زیادہ میٹھا کھانے کے شوق کی قیمت بھی جگر کو چکانا پڑتی ہے (ذیابیطس اور دیگر امراض کا خطرہ الگ بڑھتا ہے)، اس کی وجہ یہ ہے کہ جگر کا کام ہی شکر کو چربی میں بدلنا ہے، اگر خوراک میں مٹھاس بہت زیادہ ہوگی تو جگر بہت زیادہ چربی بنانے لگے گا جو کہ آخر میں وہاں جمع ہونے لگے گی جہاں اسے نہیں ہونا چاہئے، طویل المعیاد بنیادوں پر یہ فیٹی لیور امراض کا باعث بنتا ہے، تو منہ میٹھا کرنے کا شوق بہت زیادہ نہیں ہونا چاہئے۔
بہت زیادہ نمک
جسم کو نمک کی ضرورت ہوتی ہے مگر اتنی زیادہ نہیں جتنی خوراک میں استعمال کی جاتی ہے۔ زیادہ نمک والی غذاﺅں کے نتیجے میں جگر کے امراض کی ابتدائی سطح کا سامنا ہوسکتا ہے جس سے بچنا آسان ہے یعنی نمک کا معتدل استعمال۔ اسی طرح پراسیس غذائیں بھی بہت زیادہ نمک پر مشتمل ہوتی ہیں جو کہ جگر کے لیے نقصان دہ ہے۔
چپس اور بیکری کی چیزیں
اگر تو آپ کو چپس اور بیک ہونے والے اسنیکس پسند ہیں تو یہ جان لیں کہ وہ چینی، نمک اور چربی سے بھرپور ہوتے ہیں، جن کے نقصانات آپ اوپر پڑھ ہی چکے ہیں، اگر بے وقت بھوک لگی ہے تو پھل اس کا زیادہ بہتر متبادل ہیں۔
ہومیوپیتھک دوا اور علاج
یرقان (Jaundice)کا عارضہ جگر میں خرابی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ خون میں زہریلے مواد جگر اپنے اندر جمع کرتا ہے۔ اس مواد سے صفرا پیدا کر کے پتہ میں پہنچتا ہے تو ضرورت کے مطابق صفراء معدہ میں داخل کرتا ہے۔ اس سے غذا ہضم ہونے میں مدد ملتی ہے۔ خرابی جگر سے یہ صفراء مطلوبہ مقدار میں معدہ میں نہ پہنچے تو خون میں داخل ہو جاتا ہے جس سے پاخانہ کا رنگ و سفید ہو جاتا ہے۔ اور جسم جلد کا رنگ، آنکھیں وغیرہ پتلی ہو جاتی ہیں۔ اگر یہ صفرا جگر کی خرابی کے باعث معدہ میں زیادہ چلا جائے تو پاخانہ (Stool) کا رنگ سیاہی مائل یا سیاہ ہو جاتا ہے۔ اس لئے اسے کالا برقان (Hepatitis) کہتے ہیں۔ یہ بعض اوقات خطرناک ہو کر جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔
یرقان بہت چھوٹے بچوں سے لے کر بوڑھوں تک کو ہو سکتا ہے۔ اگر بار بار ہو تو یہ بہت زیادہ فکرمندی کی بات ہے کیوں کہ اس طرح سرطان یعنی کینسر (Cancer) کا خطرہ ہوتا ہے۔ ایسے مریض کے علاج میں بہت ہی زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہومیوپیتھک ڈاکٹر کو چاہئے کہ وہ مکمل کیس لے کر مریض کے موروثی مزاج کو سمجھ کر علاج کرے تو مریض کا یرقان بھی ٹھیک ہو سکتا ہے اور اُسے کینسر کی طرف جانے سے بچانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔
نومولود بچوں کے لئے مرکسال (Mercurius solubilis 30) کی صرف ایک خوراک کافی ہے۔ ایک دو دن میں یرقان کے اثرات ختم ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ بڑوں کے یرقان میں بھی میرے تجربے میں مرک سال (Mercurius solubilis 30) عام طور پر بہت کامیاب دوا ثابت ہوئی ہے۔
جب پیشاب کا رنگ بہت پیلا، اسی طرح آنکھوں اور جسم کا رنگ پیلا ہو جائے اور براز پاخانہ سفید مگر سخت خارش نہ ہو تو ہومیوپیتھک دوا کالی میور (کوئی بھی چھوٹی طاقت) (Kali Muriaticum) تقریباً فائنل دوا ہے اور شاید ہی کبھی ناکام ہوئی ہو۔
یرقان میں یا کسی بھی تکلیف میں پاخانہ سیاہ ہو تو فاسفورس (Phosphorus 30) سے بہتر کوئی دوا نہیں۔
جگر کی خرابی، یرقان، ہیپاٹائٹس بی اور ہیپاٹائٹس سی (Hepatitis) میں بعض اوقات جسم پر خشک خارش ہوتی ہے، پاخانہ سفید ہوتا ہے مگر سخت خارش کے باوجود جلد پر کوئی ابھار نہیں ہوتا۔ اس کے لئے ہومیوپیتھی ریپرٹری میں ڈولیکس (Dolichos pruriens 30) واحد دوا ہے۔
یرقان کے مریضوں کا علاج بہت ساری ہومیوپیتھی دواوں سے کیا جا سکتا ہے۔ اہم ترین دوائیوں کا ذکر اوپر ہو چکا ہے اور باقی اہم دوائیں مندرجہ ذیل ہیں۔
(China officinalis) چائنا
(Podophyllum peltatum) پوڈوفائلم
(Natrum sulphuricum) نیٹرم سلف
(Kali Phosphoricum) کالی فاس
(Chelidonium majus) چیلیڈونیم
(Chamomilla) کیمومیلا
(Lycopodium clavatum) لائیکوپوڈیم
(Lupulus) لوپولس
نکس وامیکا (Nux Vomica)
کارڈیووس میریانیس (Carduus marianus)
جگر کا بڑھ جانا: کارڈؤس مدر ٹنکچر (Carduus Marianus)۔
جگر کا سکڑ جانا (سرہوسس liver cirrhosis ۔ ): فاسفورس (Phosphorus)۔ چائنا (China)۔ آورم میور (Aurum Muriaticum)۔

جگر کا درد: برائیونیا (Bryonia)، امونیم میور (Ammonium Muriaticum)، ڈایوسکوریا (Dioscorea)، چیلیڈونیم (Chelidonium)۔
جگر کا فعلی بگاڑ: کارڈؤس مدر ٹنکچر (Carduus Marianus)۔
جگر کا ورم: برائی اونیا (Bryonia)، مرکسال (Mercurius Solubilis)، ہیپر سلفر (Hepar Sulphuris)۔
جگر پر چربی چڑھ جانا: فاسفورس (Phosphorus)۔
جگر کا سرطان، کینسر: کولسٹرینم (Cholesterinum)۔
کسی دوا کو استعمال کرنے سے پہلے اپنا کیس تفصیلی ڈسکس کرنا بہت ضرورتی ہوتا ہے کیوں کہ دوا کی طاقت (پوٹینسی) اور خوراک کا ٖفیصلہ مرض کی کیفیت، مریض کی موجودہ کیفیت کو سمجھ کر ہومیوپیتھک ڈاکٹر ہی کر سکتا ہے۔ جگر کی خرابی اور ہیپاٹائٹس کے مریضوں کی تکلیف بڑھنے کی اہم ترین وجہ ہی باقاعدہ علاج نہ کروانا ہے۔جگر کے تمام امراض میں موروثی مزاج کو ضرور ملحوظ رکھنا چاہئے اور اُسی کے مطابق علاج کرنا ہی مستقل، مکمل اور دیرپا صحت کی ضمانت ہے۔ مذکورہ بالا دوائیاں اِسی انداز سے علاج کرنے پر مفید ثابت ہو سکتی ہیں ورنہ جگر کے اَمراض کے لئے ہومیوپیتھی دوائیوں کی تعداد تو سینکڑوں میں ہے۔ اِس لئے جگر کے صحیح علاج کے لئے کسی ماہر ڈاکٹر کی راہنمائی بے حد ضروری ہے بصورتِ دیگر نقصان کا اِمکان زیادہ ہے
ڈاکٹر عامر علی صدیقی

عورتوں کے امراض مخصوصہ
16/01/2022

عورتوں کے امراض مخصوصہ

09/11/2021

انسانی جسم: پاک ہے خدا، خالق، خالق، فوٹوگرافر
1: ہڈیوں کی تعداد: 206
2: پٹھوں کی تعداد: 639
3: گردے کی تعداد: 2
4: دودھ کے دانتوں کی تعداد: 20
5: پسلیوں کی تعداد: 24 (12 جوڑے)
6: دل کے چیمبرز کی تعداد: 4
7: سب سے بڑی شریان: شہ رگ
8: نارمل بلڈ پریشر: 120/80 ایم ایم ایچ جی
9: خون کا پی ایچ: 7.4
10: ریڑھ کی ہڈی میں ریڑھ کی ہڈی کی تعداد: 33
11: گردن میں ریڑھ کی ہڈی کی تعداد: 7
12: درمیانی کان میں ہڈیوں کی تعداد: 6
13: چہرے پر ہڈیوں کی تعداد: 14
14: کھوپڑی میں ہڈیوں کی تعداد: 22
15: سینے میں ہڈیوں کی تعداد: 25
16: بازو میں ہڈیوں کی تعداد: 6
17: انسانی بازو میں پٹھوں کی تعداد: 72
19: قدیم ترین رکن: چمڑا
20: سب سے بڑی خوراک: جگر
21: سب سے بڑا خلیہ: مادہ بیضہ
22: سب سے چھوٹا خلیہ: سپرم سیل
23: سب سے چھوٹی ہڈی: درمیانی کان کی رکاب
24: پہلا ٹرانسپلانٹ شدہ عضو: ایک گردہ
25: پتلی آنت کی اوسط لمبائی: 7 میٹر
26: بڑی آنت کی اوسط لمبائی: 1.5 میٹر
27: نوزائیدہ بچے کا اوسط وزن: 3 کلوگرام
28: ایک منٹ میں دل کی دھڑکن: 72 بار
29: جسمانی درجہ حرارت: 37 °C
30: خون کا اوسط حجم: 4 سے 5 لیٹر
31: خون کے سرخ خلیوں کی عمر: 120 دن
32: سفید خون کے خلیات کی عمر: 10 سے 15 دن
33: حمل کی مدت: 280 دن (40 ہفتے)
34: انسانی پاؤں کی ہڈیوں کی تعداد: 33
35: ہر کلائی میں ہڈیوں کی تعداد: 8
36: ہاتھ کی ہڈیوں کی تعداد: 27
37: سب سے بڑا اینڈوکرائن غدود: تھائرائڈ گلینڈ
38: سب سے بڑا لمفیٹک عضو: تللی
40: سب سے بڑی اور مضبوط ہڈی: فیمر
41: سب سے چھوٹا پٹھوں: سٹیپیڈیئس (درمیانی کان)
41: کروموسوم نمبر: 46 (23 جوڑے)
42: نوزائیدہ بچے کی ہڈیوں کی تعداد: 306
43: خون کی واسکاسیٹی: 4.5 سے 5.5 تک
44: یونیورسل ڈونر بلڈ گروپ: O
45: یونیورسل ریسیور بلڈ گروپ: AB
46: سب سے بڑا leukocyte: monocyte
47: سب سے چھوٹی leukocyte: lymphocyte
48: خون کے سرخ خلیات کی تعداد میں اضافے کو پولی گلوبولی کہتے ہیں۔
49: جسم کا بلڈ بینک ہے: تللی
50: زندگی کے دریا کو خون کہا جاتا ہے۔
51: عام خون میں کولیسٹرول کی سطح: 100 ملی گرام/ڈی ایل
52: خون کا مائع حصہ ہے: پلازما
تُو پاک ہے، اے رب، تو کتنا عظیم ہے۔
(اللہ نے سب کچھ کامل بنایا)

Clinic time subha 8 say 12
08/09/2021

Clinic time subha 8 say 12

02/07/2021

Welcome to my page.
Siddiqui Clinic

Address

Usmania Bazar Surij Miani Multan
Multan
60000

Opening Hours

Monday 08:00 - 12:00
Tuesday 08:00 - 12:00
Wednesday 08:00 - 12:00
Thursday 08:00 - 12:00
Friday 08:00 - 12:00
Saturday 08:00 - 12:00
Sunday 08:00 - 12:00

Telephone

+923064845001

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Siddiqui Clinic posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Siddiqui Clinic:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category