21/10/2024
نوزائیدگان کی صحت کا حفاظتی پیکج
نوزائیدہ بچوں میں اموات کی شرح کے لحاظ سے پاکستان دنیا میں سرفہرست ممالک میں شامل ہے۔ اس پس منظر میں نومولود بچوں کی صحت کی حفاظت کے لازمی اقدامات جو انہیں معذوری اور موت سے محفوظ رکھتے ہوئے صحت مند زندگی کی بنیاد فراہم کر سکیں انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ اگرچہ بچے کی پیدائش نہ صرف دینی بلکہ طبی نقطۂ نظر سے بھی ایک انتہائی غیر معمولی عمل ہے مگر ہم دقیانوسی تصورات، محدود وسائل اور کمیاب طبی سہولیات کی وجہ سے اس غیر معمولی عمل سے گزرنے والی ماؤں اور بچوں کی حفاظت میں بے حد بلکہ مجرمانہ غفلت کا شکار ہیں۔ ان تمام عوامل کا نتیجہ پاکستان میں زچہ و بچہ کی بلند شرح اموات ہے۔ انہی عوامل سے جڑے مزید مسائل میں بچوں کی معذوری، نشوونما میں مستقل کمی، غیر صحت مند زندگی، دائمی بیماریوں کی شرح میں اضافہ اور مسلسل بیماریوں کا شکار ہونا شامل ہیں۔
نوزائیدہ بچوں کے علاج کے سپیشلسٹ بننےکیلئے شعبۂ بچگان میں ایف سی پی ایس کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد الگ سے سپیشلائزیشن کی ایک اور ڈگری حاصل کرنا پڑتی ہے۔ ماہر امراض نوزائیدگان یا نیونیٹالوجسٹ بننا ایک طویل اور مشکل ہدف ہے۔ یہ شعبہ مشکل ہونے کے ساتھ ساتھ کافی نیا بھی ہے۔ نتیجتاً پاکستان میں ماہر امراض نوزائیدگان کی تعداد بہت کم ہے۔
ڈاکٹر مائدہ ریاض طاہر اس شعبے کی مستند سپیشلسٹ ہیں۔ ان کے تجویز کردہ 'نوزائیدگان کی صحت کے حفاظتی پیکج' کےتحت درج ذیل سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
1۔ ماں کے امید سے ہونے کے اٹھائیس (28) ہفتوں پر پہلا قبل از پیدائش (Antenatal) معائنہ
2۔ پیدائش سے ایک روز قبل یا زچگی کیلئے ہسپتال میں داخلے کے وقت دوسرا قبل از پیدائش (Antenatal) معائنہ
3۔ پیدائش کے فوری بعد بچے کی بحالی اور پہلی سانس میں معاونت (Neonatal Resuscitation)
4۔ پیدائش کے چوبیس گھنٹوں کے اندر نومولود کا تفصیلی معائنہ ( Neonatal Physical Examination)
5۔ پیدائش کے بعد بچے کی خوراک کی ماں کے دودھ سے ابتدا اور چھ ماہ کی عمر تک صرف ماں کا دودھ
6۔ وقت سے پہلے پیدا ہو جانے والے بچوں، کمزور، کم وزن اور بیمار بچوں کی خصوصی نگہداشت
7۔ پیچیدگیوں کے شکار یا پیچیدہ حمل سے پیدا ہونے والے بچوں کا علاج اور انتہائی نگہداشت
8۔ 'پیدائشی یرقان' اور 'پیدائشی یرقان کی بیماری' کا علاج
9۔ موروثی، پیدائشی اور جینیاتی بیماریوں کی بروقت تشخیص اور علاج
10۔ سماعت اور بینائی کا ابتدائی معائنہ
11۔ حفاظتی ٹیکوں کے کورس کا اجراء