MAT SNAP Healthcare System

MAT SNAP Healthcare System Providing modernised healthcare facilities commensurate with national and international quality standards

21/10/2024

نوزائیدگان کی صحت کا حفاظتی پیکج

نوزائیدہ بچوں میں اموات کی شرح کے لحاظ سے پاکستان دنیا میں سرفہرست ممالک میں شامل ہے۔ اس پس منظر میں نومولود بچوں کی صحت کی حفاظت کے لازمی اقدامات جو انہیں معذوری اور موت سے محفوظ رکھتے ہوئے صحت مند زندگی کی بنیاد فراہم کر سکیں انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ اگرچہ بچے کی پیدائش نہ صرف دینی بلکہ طبی نقطۂ نظر سے بھی ایک انتہائی غیر معمولی عمل ہے مگر ہم دقیانوسی تصورات، محدود وسائل اور کمیاب طبی سہولیات کی وجہ سے اس غیر معمولی عمل سے گزرنے والی ماؤں اور بچوں کی حفاظت میں بے حد بلکہ مجرمانہ غفلت کا شکار ہیں۔ ان تمام عوامل کا نتیجہ پاکستان میں زچہ و بچہ کی بلند شرح اموات ہے۔ انہی عوامل سے جڑے مزید مسائل میں بچوں کی معذوری، نشوونما میں مستقل کمی، غیر صحت مند زندگی، دائمی بیماریوں کی شرح میں اضافہ اور مسلسل بیماریوں کا شکار ہونا شامل ہیں۔
نوزائیدہ بچوں کے علاج کے سپیشلسٹ بننےکیلئے شعبۂ بچگان میں ایف سی پی ایس کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد الگ سے سپیشلائزیشن کی ایک اور ڈگری حاصل کرنا پڑتی ہے۔ ماہر امراض نوزائیدگان یا نیونیٹالوجسٹ بننا ایک طویل اور مشکل ہدف ہے۔ یہ شعبہ مشکل ہونے کے ساتھ ساتھ کافی نیا بھی ہے۔ نتیجتاً پاکستان میں ماہر امراض نوزائیدگان کی تعداد بہت کم ہے۔
ڈاکٹر مائدہ ریاض طاہر اس شعبے کی مستند سپیشلسٹ ہیں۔ ان کے تجویز کردہ 'نوزائیدگان کی صحت کے حفاظتی پیکج' کےتحت درج ذیل سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
1۔ ماں کے امید سے ہونے کے اٹھائیس (28) ہفتوں پر پہلا قبل از پیدائش (Antenatal) معائنہ
2۔ پیدائش سے ایک روز قبل یا زچگی کیلئے ہسپتال میں داخلے کے وقت دوسرا قبل از پیدائش (Antenatal) معائنہ
3۔ پیدائش کے فوری بعد بچے کی بحالی اور پہلی سانس میں معاونت (Neonatal Resuscitation)
4۔ پیدائش کے چوبیس گھنٹوں کے اندر نومولود کا تفصیلی معائنہ ( Neonatal Physical Examination)
5۔ پیدائش کے بعد بچے کی خوراک کی ماں کے دودھ سے ابتدا اور چھ ماہ کی عمر تک صرف ماں کا دودھ
6۔ وقت سے پہلے پیدا ہو جانے والے بچوں، کمزور، کم وزن اور بیمار بچوں کی خصوصی نگہداشت
7۔ پیچیدگیوں کے شکار یا پیچیدہ حمل سے پیدا ہونے والے بچوں کا علاج اور انتہائی نگہداشت
8۔ 'پیدائشی یرقان' اور 'پیدائشی یرقان کی بیماری' کا علاج
9۔ موروثی، پیدائشی اور جینیاتی بیماریوں کی بروقت تشخیص اور علاج
10۔ سماعت اور بینائی کا ابتدائی معائنہ
11۔ حفاظتی ٹیکوں کے کورس کا اجراء

اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر مائدہ ریاض طاہر فیصل آباد میں پہلی سند یافتہ خاتون ماہر امراض نوزائیدگان و بچگان ہیں۔ وہ نوزائیدگان...
10/09/2024

اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر مائدہ ریاض طاہر فیصل آباد میں پہلی سند یافتہ خاتون ماہر امراض نوزائیدگان و بچگان ہیں۔ وہ نوزائیدگان و بچگان کی صحت، امراض، انتہائی نگہداشت، خوراک، غذا، بحالی اور نشوونما جیسے جدید پیشہ ورانہ علوم سے آراستہ پاکستان میں دستیاب چند باصلاحیت ترین معالجین میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے ایم بی بی ایس کا امتحان امتیازی حیثیت اور گولڈ میڈل کے ساتھ پاس کرنے کے بعد شیخ زید ہسپتال لاہور سے ایف سی پی ایس پیڈیاٹرک میڈیسن اور حمید لطیف ہسپتال لاہور سے ایف سی پی ایس نیونیٹالوجی کی تربیت مکمل کی اور اسناد حاصل کیں۔
کیا آپ اپنے بچوں کی صحت کے لئے بہترین ڈاکٹر کی تلاش میں ہیں؟
ہماری بچوں کی ماہر ڈاکٹر ڈبل ایف سی پی ایس اور اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ ہمارے کلینک میں جدید مشینری اور بہترین ٹیکنالوجی کی سہولیات میسر ہیں جہاں ہماری اعلٰی تعلیم یافتہ ڈاکٹر بچوں کو بینالاقوامی معیار کے علاج کی سہولیات فراہم کرتی ہیں۔
پیدائش کےبعد پیدائشی نقائص کی اسکریننگ کیلئے تفصیلی طبی معائنہ
کم وزن، موٹاپے کے شکار اور وقت سے پہلے پیدائش والے نوزائیدہ بچوں کی خصوصی دیکھ بھال، علاج اور انتہائی نگہداشت
پیدائشی نقائص کی بروقت تشخیص اور درست و مؤثر علاج
پیدائش کی بعد یرقان کی بیماری کا درست اور محفوظ علاج
نوزائیدہ اور شیر خوار بچوں کی فیڈنگ کیلئے ماں کی تربیت اور والدین کی رہنمائی
ماں کا دودھ کم یا نہ آنے کا علاج اور تربیت
بچوں کی صحت، جسمانی نشوونما اور ذہنی بالیدگی کی جانچ
جسمانی نشوونما اور ذہنی بالیدگی میں تاخیر اور نقائص کی بروقت تشخیص اور مؤثر علاج
نوزائیدہ، شیر خوار اور بڑے بچوں کی غذائی ضروریات اور عادات کے مطابق رہنمائی
حفاظتی ٹیکوں کا مکمل کورس اور اسکے علاوہ ضروری ویکسینیشن-
اللہ تعالٰی آپ کے بچوں کو صحت مند رکھے۔ آمین۔
بصورت دیگر ہم سے اپائنٹمنٹ بک کروائیں۔ کلینک میں معائنہ کروانے کے علاوہ ہماری ویڈیو لنک کنسلٹیشن کی سہولیات ملک بھر میں ہر جگہ سے گھر بیٹھے حاصل کی جا سکتی ہیں۔























بچے کو کس عمر  میں   ڈیری    مِلک   ( گائے، بھینس،  بکری وغیرہ   کا   دودھ )   پلانا   شروع  کریں ؟1۔ دو سال کی عمر تک ڈ...
25/08/2024

بچے کو کس عمر میں ڈیری مِلک ( گائے، بھینس، بکری
وغیرہ کا دودھ ) پلانا شروع کریں ؟
1۔ دو سال کی عمر تک ڈیری مِلک نہ پلائیں ۔ دو سال تک ماں کا دودھ پلائیں۔
2۔ اگر ایسا ممکن نہیں تو ہر بچے کے حوالے سے بہت سے عوامل مثلاً اسکی صحت، ضرورت، کھانے کی عادات و تربیت، ٹھوس غذا شروع کروانے کے طریقۂ کار ، کسی بیماری کی موجودگی یا امکانات وغیرہ کو سامنے رکھ کر فیصلہ کیا جاتا ہے۔
3۔ پاکستان کے حالات کے پیش نظر کافی بچوں میں ڈیری مِلک (گائے، بھینس، بکری وغیرہ کا دودھ) تقریباً ایک سال کی عمر میں شروع کروانا پڑ سکتا ہے۔ مگر اسکے لئے ضروری ہے کہ اُس بچے کے متعلق مستند ڈاکٹر سے رہنمائی لی جائے۔
4۔ ڈیری ملک کا شیر خوار (ایک سال کی عمر تک کے) بچوں میں استعمال بہت سی بیماریوں کا باعث بنتا ہے جن میں خون کی کمی سر فہرست ہے۔
بظاہر بچوں کو دودھ پلانا اور انکی خوراک بہت سادہ کام ہے مگرحقیقت اس کے برعکس ہے۔ اگر آپ اس ذیل میں دلچسپی رکھتے ہیں تو صرف ماں کے دودھ پلانے کے حوالے سے ہمارے تحقیقی مقالے کا مطالعہ کیجئے۔مقالے (ریسرچ آرٹیکل) کا مطالعہ کرنے کیلئے کمنٹس میں موجود لنک پر کلک کریں۔











یہ سوال بہت کثرت سے پوچھا جاتا ہے۔ اس  حوالے  سے دو   بنیادی  عوامل کو سمجھنا   ضروری   ہے۔1۔ اگر بچے کو ورثے میں یہی قد...
11/08/2024

یہ سوال بہت کثرت سے پوچھا جاتا ہے۔ اس حوالے سے دو بنیادی عوامل کو سمجھنا ضروری ہے۔

1۔ اگر بچے کو ورثے میں یہی قد ملا ہے تو علاج کی ضرورت نہیں صرف اچھی غذا اور صحت مند طرز زندگی اپنانے کی ضرورت ہے۔ اس مسئلے کی تشخیص کیلئے والدین کے قد کی طوالت کو مدنظر رکھ کر بچے کے ممکنہ قد کا تعین کیا جاتا ہے۔ اگر بچے کا قد معمول کی حد (Normal Range) میں ہو تو کسی علاج کی ضرورت نہیں۔
2۔ اگر بچے کا قد کسی بیماری یا غذائی کمی کی وجہ سے چھوٹا ہے تو ایسی صورت میں بیماری یا بےقاعدگی کا علاج کیا جانا ضروری اور فائدہ مند ہے۔
3۔ یہ بات قابلِ ذِکر ہے کہ اچھی خوراک، اچھا ماحول اور صحت مند طرز زندگی قد بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
نوٹ: چھوٹے قد کی وجوہات کی حتمی تشخیص اور علاج کیلئے کسی مستند اور ماہر ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔
اس سلسلے میں آپ ہم سے بھی رابطہ کر سکتے ہیں۔ ممکن ہو تو وقت لے کر ہمارے کلینک پر تشریف لائیں۔ اگر آپ کسی دور دراز علاقے میں ہیں تو ہماری VLC (ویڈیو لنک کنسلٹیشن) کی سہولت سے فائدہ اٹھائیں۔









شوگر کی بیماری کی عام طور پر جانی جانے والی Types یا اقسام Type 1 اور Type 2 کہلاتی ہیں اور ان کے بارے میں عمومی خیال یہ...
31/07/2024

شوگر کی بیماری کی عام طور پر جانی جانے والی Types یا اقسام Type 1 اور Type 2 کہلاتی ہیں اور ان کے بارے میں عمومی خیال یہ کیا جاتا ہے کہ Type 1 بچپن میں اور Type 2 ادھیڑ عمری یعنی چالیس سے پچاس برس کی عمر کے لگ بھگ لاحق ہوتی ہے۔ یہ تصور کافی حد تک درست تو ہے مگر کافی پرانا بھی ہے۔ جدید تحقیق سے شوگر کی بیماری کو سمجھنے میں بہت بہتری اور اصلاح ہوئی ہے۔ شوگر کے صحیح علاج کیلئے ان نئے سائنسی حقائق کو سمجھنا ضروری ہے۔

-
-
-
-
-
-
-
-
-
-

بچے کو کس عمر تک چلنا اور بولنا شروع کر دینا چاہیے؟بچے کی نشوونما جانچنے کیلئے جسمانی اور دماغی بڑھوتری کے سنگ میل ایک ا...
28/07/2024

بچے کو کس عمر تک چلنا اور بولنا شروع کر دینا چاہیے؟

بچے کی نشوونما جانچنے کیلئے جسمانی اور دماغی بڑھوتری کے سنگ میل ایک اچھا پیمانہ ہیں۔ اس حوالے سےنیچے درج کئے گئے کچھ نمایاں سنگ میل والدین کو لازمی معلوم ہونے چاہئیں۔
1۔ دو سے تین ماہ کی عمر میں گردن سنبھالنا
2۔ چھ سے سات ماہ کی عمر میں کروٹ لینا
3۔ سات سے نو ماہ کی عمر میں بیٹھنا
4۔ آٹھ سے دس ماہ کی عمر میں گھٹنوں/ پیٹ کے بل چلنا (crawling)
5۔ ایک سال سے چودہ ماہ کی عمر میں چلنا
6۔ ایک سال سے چودہ ماہ کی عمر میں ایک لفظ بولنا مثلاً دادا، بابا، ماما
7۔ دو سال کی عمر میں دو الفاظ کا فقرہ بولنا
8۔ تین سال کی عمر میں تین الفاظ کا فقرہ بولنا
9۔ چار سال کی عمر میں کہانیاں، گنتی اور رنگوں کی پہچان















شوگر سماجی آگاہی سلسلہ کی دوسری کڑی🔗❄️ شوگر کی بیماری لاحق ہونے کی شرح کو بڑھانے والی چیدہ چیدہ وجوہات درج ذیل ہیں۔1۔ خا...
27/07/2024

شوگر سماجی آگاہی سلسلہ کی دوسری کڑی🔗
❄️ شوگر کی بیماری لاحق ہونے کی شرح کو بڑھانے والی چیدہ چیدہ وجوہات درج ذیل ہیں۔
1۔ خاندانی یا موروثی: اگر قریبی رشتے داروں مثلاً والدین، بہن بھائی، ننھیال یا ددھیال میں یہ بیماری موجود ہو۔
2۔ سست رو (بیٹھے رہنے والی) زندگی اور بے ربط معمولات زندگی۔
3۔ کھانے پینے میں بے قائدگی اور بے اعتدالی۔
4۔ موٹاپا، میٹابولک سنڈروم۔
5۔ ذہنی تناؤ، نیند کی کمی۔
6۔ غیر معیاری اور غیر قدرتی خوراک۔
7۔ پیدائش کے دوران پیچیدگیوں کا شکار ہو جانے والے بچے۔
8۔ وقت سے پہلے پیدا ہو جانے والے اور پیدائش کے وقت کم وزن والے بچے۔
9۔ دوران حمل شوگر کا شکار ہو جانے والی مائیں اور ان کے بچے۔















@

پیدائش کے فوری بعد یرقان کی بیماری کی بہت سی وجوہات ہیں۔ علاج کیلئے پہلے اصل وجہ معلوم کرنا لازم ہے۔ پھر اُس وجہ کاعلاج ...
18/07/2024

پیدائش کے فوری بعد یرقان کی بیماری کی بہت سی وجوہات ہیں۔ علاج کیلئے پہلے اصل وجہ معلوم کرنا لازم ہے۔ پھر اُس وجہ کاعلاج کیا جائے گا تو ہی شفا ملے گی۔
عام طور پر یرقان کو بیماری سمجھا جاتا ہے جبکہ یہ ایک علامت ہے۔ اسی طرح یرقان کی وجہ جگر میں خرابی سے تعبیر کی جاتی ہے۔ جبکہ جگر کے علاوہ بھی بہت سے اعضا اور جسمانی نظام اسکا باعث ہو سکتے ہیں۔
ضروری ہے کہ پہلے یرقان کی وجہ کا تعین کیا جائے اور پھر اُسکے مطابق علاج تجویز کیا جائے۔ ورنہ فائدے کی بجائے زیادہ نقصان کا اندیشہ ہے۔

شوگر کی بیماری کے سماجی آگاہی سلسلے کی پہلی کڑی🔗❄️ شوگر "ایک بیماری" نہیں بلکہ بیماریوں کا ایک مجموعہ ہے۔ اسی بنا پر اسک...
12/07/2024

شوگر کی بیماری کے سماجی آگاہی سلسلے کی پہلی کڑی🔗
❄️ شوگر "ایک بیماری" نہیں بلکہ بیماریوں کا ایک مجموعہ ہے۔ اسی بنا پر اسکا علاج پیچیدہ اور محنت طلب ہے۔ سمجھنے میں آسانی کیلئے ہم اسکے علاج کو درج ذیل تین حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔
1۔ زندگی کے طریقہ کار اور رویوں میں تبدیلی۔
2۔ خوراک و غذا میں تبدیلی۔
3۔ ادویات۔
اگر ان تینوں عوامل کو ایک ساتھ اور درست طور پر بروئے کار لایا جائے تو بہت اچھے نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں















بچے کو دودھ نہ پلانے کی صورت میں کیا ماں کی صحت پر کوئی برے اثرات مرتب ہوتے ہیں؟جی ہاں۔۔۔ یقیناً۔۔۔ اور بہت سے! انکی تفص...
11/07/2024

بچے کو دودھ نہ پلانے کی صورت میں کیا ماں کی صحت پر کوئی برے اثرات مرتب ہوتے ہیں؟
جی ہاں۔۔۔ یقیناً۔۔۔ اور بہت سے! انکی تفصیل کچھ یوں ہے۔
ماضی میں جب مغرب جدیدیت کے دور میں داخل ہوا تو یہ تصور پروان چڑھا کہ دودھ پلانے سے ماؤں کی جسمانی فٹنیس اور دلکشی میں کمی واقع ہو جاتی ہے اور یوں وہ دور جدید میں زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتی ہیں۔ اس عمل کے نتیجے میں رونما ہونے والی تبدیلیاں اس تصور کے برعکس ثابت ہوئیں۔ اسکے بعد ہونے والی تحقیق سے ثابت ہوا کہ بچوں کو دودھ پلانے والی مائیں نہ صرف بیماریوں سے محفوظ رہتی ہیں بلکہ انکی جسمانی فٹنیس اور دلکشی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ بچوں کو دودھ نہ پلانے والی ماؤں میں مختلف امراض بالخصوص درج ذیل بیماریوں کے تناسب میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
1۔ چھاتی کا کینسر
2۔ بیضہ دانی کا کینسر
3۔ پیدائش کے بعد بچےدانی کی بحالی میں تاخیر
4۔ ہڈیوں کی کمزوری اور بھربھرا پن
5۔ ہارٹ اٹیک
6۔ ذہنی صحت کے مسائل
7۔ مخصوص ایام کے مسائل
ان تمام مسائل سے محفوظ رہنے اور بچے کی صحت کا تحفظ یقینی بنانے کیلئے ہماری 'مائیں بچوں کو دودھ پلائیں - یقینی بنائیں' مہم کا حصہ بنیں۔














بچے کو پیدائش کے بعد فیڈ شروع کروانے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟پیدائش کے فوری بعد پہلی اہم ترین ضرورت بچے کی سانس اور دوسری ب...
10/07/2024

بچے کو پیدائش کے بعد فیڈ شروع کروانے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟
پیدائش کے فوری بعد پہلی اہم ترین ضرورت بچے کی سانس اور دوسری بچے کی خوراک ہے۔ بچے کی غذائی ضروریات ماں کے دودھ سے پوری کرنے کیلئے لئے بچے کی پیدائش سے پہلے ماں کی تربیت اور تیاری کروانا ضروری ہے۔ فیملی سپورٹ کے بغیر ماں کیلئے اکیلے یہ مقصد حاصل کرنا تقريباً ناممکن ہے۔ اگر ماں کی تربیت و تیاری اور خاندان کی سپورٹ درست طور پر بروئے کار لائی جائے تو بچے کی دونوں طریقوں (نارمل ڈلیوری اور آپریشن) سے پیدائش کے بعد خوراک کی ابتدا ماں کے دودھ سے کی جا سکتی ہے۔ ماں کا پہلا دودھ جو اکثر ضائع ہو جاتا ہے بچے کیلئے انتہائی اہم ہے۔ یہ خوراک کے ساتھ ساتھ حفاظتی انجیکشن(ویکسین) کا کام بھی کرتا ہے۔ بچے کی خوراک کی ماں کے دودھ سے ابتدا اور تسلسل بچے کی صحت کیلئے انتہائی ضروری ہے اور اسکا کوئی نعم‌البدل نہیں۔ اسکے علاوہ یہ ماں کی صحت کیلئے بھی بہت فائدہ مند ہے۔ ابتدا میں بچے کو ڈبے کا دودھ پلانے کے بعد بچہ اسکے ذائقے کا عادی ہو جاتا ہے اور بعد ازاں ماں کا دودھ نہیں پیتا۔ ماں کا دودھ نہ پینے کی صورت میں بچے اور ماں دونوں میں بیماریوں کا شکار ہونے کی شرح بڑھ جاتی ہے۔ طبی تحقیق کے مطابق ماں کے دودھ سے محروم بچوں میں تمام عمر مختلف جسمانی اور ذہنی بیماریوں کا شکار ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ ضروری ہے کہ والدین بچے کی پیدائش سے پہلے اسکی پرورش ماں کے دودھ سے کرنے کیلئے مناسب تربیت اور رہنمائی حاصل کریں۔

1.
2.
3.
4.
5.
6.
7.
8.
9.
10.

بچے کو پیدائش کے بعد فیڈ شروع کروانے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟پیدائش کے فوری بعد پہلی اہم ترین ضرورت بچے کی سانس اور دوسری ب...
08/07/2024

بچے کو پیدائش کے بعد فیڈ شروع کروانے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟
پیدائش کے فوری بعد پہلی اہم ترین ضرورت بچے کی سانس اور دوسری بچے کی خوراک ہے۔ بچے کی غذائی ضروریات ماں کے دودھ سے پوری کرنے کیلئے لئے بچے کی پیدائش سے پہلے ماں کی تربیت اور تیاری کروانا ضروری ہے۔ فیملی سپورٹ کے بغیر ماں کیلئے اکیلے یہ مقصد حاصل کرنا تقريباً ناممکن ہے۔ اگر ماں کی تربیت و تیاری اور خاندان کی سپورٹ درست طور پر بروئے کار لائی جائے تو بچے کی دونوں طریقوں (نارمل ڈلیوری اور آپریشن) سے پیدائش کے بعد خوراک کی ابتدا ماں کے دودھ سے کی جا سکتی ہے۔ ماں کا پہلا دودھ جو اکثر ضائع ہو جاتا ہے بچے کیلئے انتہائی اہم ہے۔ یہ خوراک کے ساتھ ساتھ حفاظتی انجیکشن(ویکسین) کا کام بھی کرتا ہے۔ بچے کی خوراک کی ماں کے دودھ سے ابتدا اور تسلسل بچے کی صحت کیلئے انتہائی ضروری ہے اور اسکا کوئی نعم‌البدل نہیں۔ اسکے علاوہ یہ ماں کی صحت کیلئے بھی بہت فائدہ مند ہے۔ ابتدا میں بچے کو ڈبے کا دودھ پلانے کے بعد بچہ اسکے ذائقے کا عادی ہو جاتا ہے اور بعد ازاں ماں کا دودھ نہیں پیتا۔ ماں کا دودھ نہ پینے کی صورت میں بچے اور ماں دونوں میں بیماریوں کا شکار ہونے کی شرح بڑھ جاتی ہے۔ طبی تحقیق کے مطابق ماں کے دودھ سے محروم بچوں میں تمام عمر مختلف جسمانی اور ذہنی بیماریوں کا شکار ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ ضروری ہے کہ والدین بچے کی پیدائش سے پہلے اسکی پرورش ماں کے دودھ سے کرنے کیلئے مناسب تربیت اور رہنمائی حاصل کریں۔

1.
2.
3.
4.
5.
6.
7.
8.
9.
10.

Address

Multan

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when MAT SNAP Healthcare System posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram