06/02/2026
انسانیت کی خدمت کرنے والے اللہ کے پیاروں کو نجانے کیوں اللہ تبارک وتعالیٰ جلدی اپنے پاس بلا لیتا ہے ؟ گزشتہ 3 روز سے ایسی خبریں آ رہی ہیں جس سے دل بہت اداس ہے پہلے ہمارے پیارے دوست اور محسن ملتان خواجہ جلال الدین رومی مرحوم کی دنیا سے رحلت فرمانے نے دکھی کیا ابھی وہ دکھ اور دل کی اداسی باقی تھی کہ آج صبح اطلاع ملی کہ ہمارے پیارے دوست اور نشتر ہسپتال ملتان کے سابق ایم ایس ڈاکٹر امجد چانڈیہ بھی اپنے خالق حقیقی کے حضور پیش ہو گئے ہیں ۔ڈاکٹر امجد چانڈیہ سے میری دوستی نشتر ہسپتال میں اس وقت لگی جب وہ ڈی ایم ایس نشتر ایمرجنسی تعینات ہوئے انتہائی ملنسار انسان تھے اور ان کے کمرے میں ہر وقت سائلین کا رش لگا رہتا تھا جن کے لیبارٹری ٹیسٹ ایکسرے سٹی سکین فری کرتے تھے اور دوران ملازمت ان پر سب سے بڑا الزام بھی یہی رہا کہ انھوں نے غریب مریضوں کے اتنے زیادہ مفت سٹی سکین ایم آ ر آ ئی اور لیبارٹری ٹیسٹ کروائے ہیں کہ جس سے سرکاری خزانے کو لاکھوں روپے کا نقصان پہنچا ہے کیونکہ بطور ڈائریکٹر ایمرجنسی اور ایم ایس نشتر ہسپتال انھوں نے غریب مریضوں کو مفت ادویات سٹی سکین ایم آ ر آ ئی اور لیبارٹری ٹیسٹوں میں اپنے اختیارات سے تجاوز کیا تھا اور یہی الزامات ان کی معطلی کی وجہ بنے لیکن وہ کہتے تھے کہ انہیں اس کی پرواہ نہیں ہے انھوں نے غریب مریضوں کی خدمت کی ہے اور ان کا ضمیر مطمئین ہے وہ انسان دوست غریب پرور انسان تھا یاروں کا یار اور دوستی نبھانے کا فن اسے آ تا تھا مجھے یاد ہے کہ جب ایک دن میرے چھوٹے بھائی سینئر رپورٹر سماء ٹی وی ملتان راشد حمید بھٹہ کاشدید ایکسیڈنٹ ہوا تو میں نے نشتر ہسپتال کے متعدد افسران کو فون کیا تاکہ بھائی کے علاج معالجے کو بہتر طریقے سے کروا سکوں ان میں ایک ڈاکٹر امجد چانڈیہ صاحب بھی تھے جنھوں نے نہ صرف خود کال کی بلکہ سارا دن ہمارے ساتھ ایمرجنسی وارڈ میں موجود رہے اپنی نگرانی میں آپریشن کروائے اور وارڈ میں نہ صرف علیحدہ پرائیویٹ روم تیار کروایا بلکہ سیکیورٹی گارڈز اور وارڈ کے عملے کی 3 شفٹوں میں ڈیوٹیاں لگائی گئی کہ ہمیں نشتر ہسپتال میں کسی قسم کی پریشانی نہ رہے ہم لوگ 15 دن ہسپتال داخل رہے روزانہ بھائی کے پاس آ تے کافی دیر بیٹھے رہتے ایم ایس نشتر ہسپتال کا کسی مریض کے پاس روز آ نا اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ مریض کے علاج پر وارڈ کا عملہ خصوصی توجہ دے گا ورنہ بغیر سفارش اور تعلق کے نشتر ہسپتال میں داخل ہونا اور علاج کروانا بہت مشکل ہوتا ہے ۔یہاں ایک اپنا ذاتی تجزیہ جو 25 سالہ صحافتی زندگی کے دوران سیکھنے کا موقع ملا کہ جب آ پ کسی کو ایک سے زیادہ بار کالز کرتے ہیں تو اگلے انسان کو پتہ چل جاتا ہے کہ آ پ کو اس سے کوئی بہت ضروری کام ہے اور وہ شخص اکثر اوقات کال اٹینڈ نہیں کرتا کیونکہ اگر وہ کال اٹینڈ کر لے گا تو اسے وہ کام کرنا پر جائے گا معزرت کے ساتھ ہمارے ڈاکٹر دوستوں میں یہ عادت عام آ دمی کی نسبت زیادہ ہے لیکن ڈاکٹر امجد چانڈیہ صاحب میں یہ خاصیت تھی کہ موبائل فون دیکھنے کے بعد خود کال کرتے تھے اور کہتے تھے کہ حکم کریں اور وہ دل وجان سے دوستوں کی مدد کرتے تھے ۔مرحوم خود تو اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہو گئے لیکن دوستوں کو ہمیشہ کے لیے افسردہ کر گئے ہیں ان کی یادیں قہقہے چٹکلے ہمیشہ دوستوں کو ان کی یاد دلواتے رہیں گے ۔