Hakeem Altaf Desi Khzana

Hakeem Altaf Desi Khzana Good

ضعف باہ    ملاپ کی کمزوری ،  ایک ایسا مرض جو اس وقت پوری دنیا میں بڑھ رہا ھے اور ہر ملک اپنی اپنی طرز کا علاج دریافت کرن...
15/02/2026

ضعف باہ
ملاپ کی کمزوری ، ایک ایسا مرض جو اس وقت پوری دنیا میں بڑھ رہا ھے اور ہر ملک اپنی اپنی طرز کا علاج دریافت کرنے پہ لگا ھے حتی کہ چین امریکہ اور انڈیا میں آرٹیفشل نفس تک لگائے جا رہے ہیں جنکی اوسط قیمت سات لاکھ سے سترہ لاکھ تک ھے ۔

پہلے بھی ایک تفصیلی پوسٹ کر چکا ھوں مگر احباب پیج پر سرچ کرنے کی بجائے دوبارہ پوسٹ کرنے کے لیئے کہتے ہیں تو مختصر دوبارہ کر دیتے ہیں ۔
گو کہ طب یونان میں صدیوں پہلے ضعف باہ و علاج معالجہ لکھا جا چکا ھے حتی کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک صحابی نے ضعف باہ کی شکایت ظاہر کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں علاج بتایا اور طب نبوی میں بھی مکمل علاج اور ہمبستری کے طریقہ کار موجود ہیں۔
اب دوسری طرف دیکھنے کو یہ ملتا ھے کہ اٹھارویں صدی سے ہی یورپ سیکس کی ادویات تیار کر رہا ھے تو ہماری پاکستانی عوام کا یہ لاجک تو فیل ھوگیا کہ شاید یہ نامردی پاکستانی حکیموں کے چکر ہیں اور کمائی کا ذریعہ ھے جو کہ محض ایک تنقید ھے اور منفی سوچ ھے
اب مسئلہ یہ ھے کہ آج کے دور میں انسانی رہن سہن ہی تبدیل ھو گیا ھے اور ہر چیز فطرت کے خلاف چل رہی ھے تو ظاہر ھے ایسے مسائل پیدا ھونگے ۔
ہمبستری کے علاوہ بہت سے ایسے مسائل ہیں جن کے متعلق عام آدمی تو کیا اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ بھی لاعلم ہیں اب ظاہر ھے ہر بندہ ڈاکٹر یا طبیب تو ھے نہیں مگر کچھ بنیادی اسلامی اصول تو معلوم ھونے چاہیئں مگر افسوس کہ ہم ان چکروں میں نہیں پڑتے بلکہ حکیموں کے چکر میں پڑ جاتے ہیں اور پھر تنقید بھی کرتے ہیں۔
طب کے مطابق ہمبستری رات کے پچھلے پہر کرنی چاہئے تو کیا اس بات پہ آپ عمل کرتے ہیں؟
مرد کو پچھلے پہر دہی اور پیاز نہیں کھانا چاہیئے تو کیا اس بات پہ آپ عمل کرتے ہیں؟
مرد کو رات جلدی سونا چاہیئے اور شام کا کھانا جلدی کھانا چاہیے تو کیا آپ اس پہ عمل کرتے ہیں؟؟
بہت سے ایسے عام نظر آنے والے عوامل ہیں جو ہمیں کمزور کرتے ہیں مگر ہم عیب صرف دوسروں میں تلاش کرتے ہیں۔
اب آجائیں اصل ٹاپک کی طرف تو جناب ضعف باہ کی کوئی ایک وجہ نہیں اسلیئے علاج بھی ایک جیسا نہیں ھوتا اور بعد تشخیص معلوم ھوتا ھے کہ مریض کو اصل کمزوری کس وجہ سے ھے ۔
مجموعی طور پر اس دور میں دیکھا جائے تو آج کے دور میں خمسہ اعضاء ہی ضعف کا شکار ھوتے ہیں اور طبیب کسی ایک آدھ کی دوا دیتا ھے اسلیئے مکمل علاج نہیں ھو پاتا اور پھر مریض وہیں کا وہیں رہ جاتا ھے
اور اگر طبیب مکمل اعضاء رئیسہ و شریفہ کا علاج کرے تو بات لاکھوں تک پہنچ جاتی ھے اور مریض ہاتھ سے جاتا رہتا ھے اسلیئے طبیب ہلکی دیہاڑی کے چکر میں پڑ جاتا ھے ۔
اب اگر ہم کشتہ سونا دیں تو یہ زیادہ اعضاء رئیسہ کے لیئے مفید ھے اور خاص کر ضعف قلب کے لیئے تو گردہ مثانہ کی دوا،بھی ضروری ھے
اور اگر معجون کستوری دیں تو پہلے پہر استعمال کریں تو اعضاء رئیسہ کے لیئے بہترین و مجرب ھے اور شام کو استعمال کریں تو اعضاء شریفہ کے لیئے مفید ھے ۔
اب اگر ضعف دماغ حد درجہ تک پہنچ چکا ھے تو سب سے بہترین علاج جواہر مہرہ ثابت ھوگا ورنہ بہت عرصہ لگ سکتا ھے علاج کے لیئے۔

اب اگر مریض انتہائی گرم مزاج ھے اور صفراء کی زیادتی ھے سپرم کے مسائل ہیں تو پھر کشتہ الماس بہترین و مجرب ثابت ھوتا ھے ۔ جو جسم سے جملہ کمزوریاں دور کرتا ھے اور پانی جیسے ناقص مادہ تولید کو گاڑھا کرتا ھے ۔
مقصد یہ کہ ہر دوا کا ایک خاص فائدہ ھے اور جب نسخہ تیار ھوتا ھے تو اس میں بعض اوقات ایک سے زائد ادویات تجویز کی جاتی ہیں اسلیئے قیمت بھی بڑھ جاتی ھے۔
ضعف باہ کی وجوہات میں ضعف قلب یعنی دل کی کمزوری کا ھونا ، نفس میں ڈھیلا پن ھونا
ضعف باہ بوجہ ضعف جگر ، یعنی جگر کمزور ھوگا تو مردانہ کمزوری ھوگی، گھبراہٹ اکتاہٹ
ضعف باہ بوجہ ضعف دماغ، یعنی دماغ کمزور ھوگا تو مردانہ کمزوری ھوگی، انتشار کی کمی اور نفس کا سکڑ جانا، ذکاوت حس وغیرہ
ضعف باہ بوجہ ضعف گردہ، یعنی گردہ بھی کمزور ھوگا تو کمزوری ھوگی ، سرعت انزال کا ھونا
ضعف باہ بوجہ ضعف مثانہ، یعنی مثانہ کی گرمی بھی کمزوری کا سبب ھے جسکی وجہ سے لیس دار قطرے آتے ہیں مادہ تولید میں ٹھہراو نہیں رہتا
اب ان کے علاوہ معدہ اور آنتوں کے مسائل بھی بنیادی وجہ ھو سکتے ہیں۔

اب عام طبیب علاج میں مغلظ یا معجون طلاء وغیرہ دیتے ہیں اور دیہاڑی لگاتے ہیں جو قطعی طور پر درست علاج نہیں ھے کیونکہ یہ اعضاء رئیسہ و شریفہ کا قطعی علاج نہیں ھے ۔
اب آجائیں اصلاح کی طرف تو جناب صبح سویرے جاگیں جلدی ناشتہ کریں اور صاف ستھرا ناشتہ کریں تاکہ آپکے اعضاء رئیسہ صحت مند رہیں اور دوسری طرف شام کا کھانا جلدی کھائیں اور وقت پر سو جائیں تاکہ آپکے اعضاء شریفہ کمزور نہ ھوں اور آپکو طبیب کی ضرورت نہ پڑے ۔
سال بھر میں ایک آدھ بار جلاب ضرور لیں تاکہ آپکے معدہ اور آنتوں سے تعفن دور ھوتا رہے کیونکہ اس دور میں محنت مشقت تو رہی نہیں۔
پچھلے پہر پیاز دہی اور مشروبات ترک کر دیں اور کوشش کریں عشاء کے بعد پانی استعمال نہ کریں اور ہمیشہ پیشاب کر کے سوئیں تاکہ گردہ مثانہ کمزور نہ ھوں ۔
میں قطعی کاروبار سے ہٹ کر حقیقت لکھتا ھوں کیونکہ رزق اللہ پاک نے دینا ھے اور سب سے گندا رزق وہی ھے جو جھوٹ بول کر کمایا جائے
آج کا انسان اپنے کیئے کا خمیازہ بھگت رہا ھے مگر ہماری عادت ھے کہ دوسرے پہ الزام لگا کر خود کو نیک پاک ثابت کرنے پہ وقت ضائع کرتے ہیں نہ کہ اپنی اصلاح پہ توجہ دیتے ہیں۔

ہمارا مقصد فلاح طب یونان ھے اور عام عوام تک ادویہ اور جڑی بوٹیوں کی افادیت اور شفافیت کا علم پہنچانا ھے

خود ساختہ علاج معالجہ سے گریز کریں اور علاج ہمیشہ کسی مستند معالج سے کروائیں۔
مزید مشورے یا علاج کے لیے رابطہ کریں:
رابطہ نمبر
03077872768
مطب ابن سینا
اڈا اکرام سنانواں ضلع کوٹ ادو
المعالج بھٹہ حکیم محمد الطاف ۔ مستند نیشنل کونسل فار طب منسٹری آف ہیلتھ اسلام آباد پاکستان۔
سابق انچارج ڈسپنسری ابن سینا طبیہ کالج ملتان۔
سابق ریسرچ آفیسر ہائی ماؤنٹ فارماسیوٹیکل کمپنی لاہور

https://www.tiktok.com/.altaf.bhutt?_r=1&_t=ZN-91v4lPWkOV4

حیثیت !  احباب میں کوشش کرتا ھوں ہر مرض پہ لکھوں طب کے متعلق سچ گوئی سے ہر زاویہ سے لکھوں تاکہ عام عوام کو حقائق معلوم ھ...
14/02/2026

حیثیت !
احباب میں کوشش کرتا ھوں ہر مرض پہ لکھوں طب کے متعلق سچ گوئی سے ہر زاویہ سے لکھوں تاکہ عام عوام کو حقائق معلوم ھو سکیں مگر کچھ لوگ جو ایک آدھ پوسٹ پڑھتے ہیں اور الٹی سیدھی باتیں شروع کردیتے ہیں اور پھر وہی پرانی لاجک اور جھوٹے پرپیگنڈا کا سہارا لیکر طب پہ تنقید کرتے ہیں تو مجھے مجبور ھوکر ایسے عناصر کو بلاک کرنا پڑتا ھے کیونکہ ایسی سوچ رکھنے والوں سے بحث کے لیئے میرے پاس وقت نہیں ھے !
البتہ جو دوست سالوں سے ہمارے ساتھ ہیں شاید وہ میری کاوش کو سمجھ سکیں اور جو مجھے مل چکے ہیں وہ میری شخصیت سے بہتر واقف ہیں !
میں پہلے بھی طب کی تاریخ لکھ چکا ھوں اور آج ایک خاص بات کہ سوشل میڈیا پہ ہر تیسرا حکیم ارسطو بن چکا ھے اور کوئی کینسر کا سپیشلسٹ ھے تو کوئی فالج کا سپیشلسٹ بنا ھوا ھے اور دعویٰ کرتے نظر آتے ہیں اور بڑکیں توبہ توبہ ۔۔۔۔
میری گزارش یہ ھے کہ یہ سب فصلی بٹیر ہیں جہالت کی انتہا ھے طب ایک سمندر ھے جسکا مالک ہی بہتر حکمت جاننے والا ھے ہماری کوئی اوقات نہیں
جب حضرت لقمان اپنے بیٹے کو صحت یاب نہ کر سکے اور حکم الٰہی کے بغیر دوا حلق سے نیچے نہ اتری تو ہم کون ھوتے ہیں دعوے کرنے والے؟
میں کچھ ماضی کے حالات لکھوں تو بہت سے لوگ نہیں جانتے کہ حکیم سعید صاحب مرحوم نے بھی ایک دوا کا دعویٰ کیا تھا اور پھر جہان سے کُوچ کر گئے ،
ایک مصر کی لڑکی نے بھی دعویٰ کیا تھا اور پھر روڈ ایکسیڈنٹ میں مار دیا گیا تھا
میں حیران ھوتا ھوں اور آپ احباب بھی غور فرمائیں کہ جب طبیب جالینوس ، حکیم کبیرالدین ، اور حکیم اجمل خان مرحوم جیسے لوگوں نے کسی دوا کا کبھی دعویٰ نہیں کیا تو یہ آج کے نتھو خیرے کیا چیز ہیں ؟
ہاں طب کا ایک اصول ھے کہ جب کوئی طبیب ایک نسخہ بہت سے مریضوں پہ آزماتا ھے تب اسکو مجرب لکھا جاتا ھے اور الحمدللہ ہمارے پاس بھی بہت سے لاعلاج مریض صحت یاب ھوئے مگر کبھی دعویٰ کرنے کی جسارت نہیں کی کیونکہ شفاء منجانب اللہ میرا یہ ایمان ھے !
احباب ہر طرف لوٹ مار دو نمبری ھے جسکی جیب میں حرام کا پیسہ ھے وہ بھی فرمانبرادر اولا اور صحت کاملہ چاہتا ھے مگر اپنے کیئے پہ نظر ثانی نہیں کرتا ، ہم بحیثیت قوم اخلاقیات بھول چکے ہیں اور صرف دوسروں کو ہی غلط ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں نہ کہ خود اپنی ذات پہ فوکس کرتے ہیں!
میں کسی کی ذات پہ تنقید نہیں کرتا ہاں مگر سچ ضرور لکھتا ھوں اسکی زد میں جو بھی آئے وہ طبیب ھو یا ڈاکٹر میں نے سچ لکھنا ھے
میں شاید قطرہ برابر بھی نہیں مگر جو بھی ھوں اللہ کا شکر ھے میری کوئی اوقات نہیں!
لہذا سوشل میڈیا کے نوسربازوں سے ہوشیار رہیں اور کسی مستند معالج سے علاج معالجہ کروائیں ۔
ہمارا مقصد فلاح طب یونان ھے اور عام عوام تک ادویہ اور جڑی بوٹیوں کی افادیت اور شفافیت کا علم پہنچانا ھے

خود ساختہ علاج معالجہ سے گریز کریں اور علاج ہمیشہ کسی مستند معالج سے کروائیں۔
مزید مشورے یا علاج کے لیے رابطہ کریں:
رابطہ نمبر
03077872768
مطب ابن سینا
اڈا اکرام سنانواں ضلع کوٹ ادو
المعالج بھٹہ حکیم محمد الطاف ۔ مستند نیشنل کونسل فار طب منسٹری آف ہیلتھ اسلام آباد پاکستان۔
سابق انچارج ڈسپنسری ابن سینا طبیہ کالج ملتان۔
سابق ریسرچ آفیسر ہائی ماؤنٹ فارماسیوٹیکل کمپنی لاہور

https://www.tiktok.com/.altaf.bhutt?_r=1&_t=ZN-91v4lPWkOV4

تنقیہ !  تنقیہ کا مطلب پاک کرنا ، صفائی کرنا مگر جب طبی اصطلاحات میں یہ لفظ استعمال ھوتا ھے تو اسکا مطلب جسم کو فاسد ماد...
01/02/2026

تنقیہ !
تنقیہ کا مطلب پاک کرنا ، صفائی کرنا مگر جب طبی اصطلاحات میں یہ لفظ استعمال ھوتا ھے تو اسکا مطلب جسم کو فاسد مادوں سے پاک کرنا ھے ۔
احباب موجودہ دور میں ہم نے اپنے وجود و روح کے ساتھ ظلم کر رکھا ھے وہ شاید ہر شخص نہیں جانتا کیونکہ ہم خود کو بہتر افضل اور نیک پاک و عقلمند مانتے ہیں !
اگر اس ایک طبی اصطلاح پہ ہم فوکس کریں اور طرز حیات پہ توجہ دیں تو بہت سے امراض سے بغیر دوا ہم چھٹکارہ پا سکتے ہیں اور میری یہ تحریریں ہزاروں ٹوٹکوں سے بہتر ہیں اگر کوئی ذی الشعور سمجھ سکے !
ایک بادشاہ علیل ھوگئے بڑے بڑے حکماء آئے مگر علاج نہ کرسکے دوسری سلطنت سے شاہی طبیب بلائے گئے مگر وہ بھی ناکام رہے آخر بادشاہ نے وزیر کو حکم دیا کہ جہاں سے بھی لاؤ کوئی اچھا طبیب تلاش کرو ۔

چند دن بعد وزیر نے بادشاہ سے عرض کیا کہ جہاں پناہ ہماری سلطنت میں ایک لڑکی طبیبہ ھے جسکی بہت تعریف سنی ھے غریب ھے اسکے نانا بھی طبیب تھے تو بادشاہ نے جلال بھرے انداز میں کہا کہ کیا تم سمجھتے ھو کہ ایک عام سی طبیبہ میرے مرض کا علاج جانتی ھوگی ؟
وزیر نے دھیمی آواز میں کہا میں نے تو بہت چرچا سنا ھے باقی جیسے جہاں پناہ حکم دیں ۔
بہرحال بادشاہ نے اسکو لانے کا حکم دیا وہ آئی اور تشخیص کی تو بادشاہ نے کہا کہ کیا تم میرا علاج کر سکتی ھو ؟
طبیبہ نے کہا جی جہاں پناہ کوئی مشکل نہیں انشاءاللہ آپ جلدی محسوس کریں گے
طبیبہ نے اصول طب کے مطابق علاج شروع کیا اور چند دن میں ہی بادشاہ کی طبیعت بحال ھونا شروع ھوگئی اور آخر ہفتہ عشرہ میں بادشاہ چلنے پھرنے کے قابل ھوگئے ۔
بادشاہ نے لڑکی سے پوچھا کہ تم نے ایسا کیا کمال کیا کہ آپکا علاج درست ثابت ھوا ؟
طبیبہ نے مسکراتے ھوئے جواب دیا میرے نانا کہتے تھے کسی بھی گمبھیر مرض کی صورت میں متعلقہ عضو کا تنقیہ کیا جائے پھر بعد میں اسکی طاقت کا نسخہ دیا جائے اور یہی میری حکمت ھےاور میں اسی اصول پہ پابند ھوں !
احباب ہم صبح سے لیکر شام تک ہر طرح کی زہر کھاتے ہیں گندم ھے تو سپرے اور کھاد والی ، سبزیاں ہیں تو سپرے کھاد والی ادویات ہیں تو کیمیکل سے بھری ھوئی، چائے ھے تو برادہ رنگ کیا ھوا ، دودھ ھے تو ملاوٹ شدہ پیزا شوارما برگر تک اور گوشت بھی حرام مرغی گدھا یا مردہ جانور ۔۔۔۔۔

المیہ یہ ھے کہ طبیب سے دوا لیتے وقت لوگ پوچھتے ہیں کہ نقصان دہ تو نہیں ، سٹیرائیڈز تو نہیں مگر ھوٹل پہ کھانا کھاتے وقت نہیں پوچھتے کہ گوشت حرام جانور کا تو نہیں ، گھی کونسا ڈالو گے وغیرہ 😏
بہرحال ٹاپک کی طرف آئیں تو اگر آپ ہفتے دس دن بعد یا ایک ماہ بعد بھی تنقیہ کا اہتمام کر لیں تو بہت سے امراض سے بچا جا سکتا ھے ۔
اب ایک تو تنقیہ ھوتا ھے اعضاء کا مثلا میرے پاس ایک جگر کا مریض آیا تو پرانا ہیپاٹائٹس تھا دس سالہ اور ٹیکے گولیاں کھانے کے بعد خون کی الٹیاں شروع ھو گئیں خون ۵۔۳ پہ آگیا اور پاخانہ بھی سیاہ ھوگیا لاعلاج ھوگیا تو طبیب کا امتحان شروع ھوگیا لہذا جیسے ہی ہمارے پاس آئے تو جگر کا تنقیہ شروع کیا اور دن رات گزرنے کے بعد پاخانہ کا رنگ بدل گیا اور پھر دوہفتے تنقیہ جاری رکھا pcr کلیئر ھوا پھر طاقت کی دوا اور مؤلد خون دوا شروع کی اب تین ماہ ھوگئے ماشاءاللہ مکمل صحت یاب ھے

یعنی اعضاء کا تنقیہ بمطابق مرض و کیفیت ضروری ھوتا ھے اور ایسی صورت میں جب کوئی مریض لاعلاج ھو اور قریب الموت ھو
دوسری بات ایسا تنقیہ جو پورے جسم کا ھو جس میں ریاح بادی یا خون میں تیزابیت اور زہریلے مادے پائے جائیں اور صفائی مقصود ھو تو ایسی صورت میں تنقیہ ایک جامع اور بالترتیب ھوگا ۔
اب قابل غور بات کہ اگر آنتوں میں تعفن ھو قبض ھو تو وٹامنز کی کمی اور جسمانی کمزوری وجود میں ابھرتی ھے اسکے لیئے تنقیہ جلاب ھے
اگر عام عوام الناس کی بات کروں اور عام تنقیہ کی بات کریں تو گرمیوں میں تخم حیات کا خسیاندہ اور سردیوں میں نہار منہ جوشاندہ بہترین عمل ھے !

احباب طب ایک سمندر ھے اسکو سمجھنا آسان نہیں اور افسوس کہ آج کے دور میں بلاجواز ہر طبیب مغلظ اور مقوی ادویات بتاتا نظر آتا ھے جوکہ سراسر اتائیت ھے نہ کہ حکمت ( دانائی ) !!!
علاج معالجہ ہمیشہ کسی مستند معالج سے کروائیں اور خود ساختہ علاج معالجہ سے گریز کریں۔
ہمارا مقصد فلاح طب یونان ھے اور عام عوام تک ادویہ اور جڑی بوٹیوں کی افادیت اور شفافیت کا علم پہنچانا ھے

خود ساختہ علاج معالجہ سے گریز کریں اور علاج ہمیشہ کسی مستند معالج سے کروائیں۔
مزید مشورے یا علاج کے لیے رابطہ کریں:
رابطہ نمبر
03077872768
مطب ابن سینا
اڈا اکرام سنانواں ضلع کوٹ ادو
المعالج بھٹہ حکیم محمد الطاف ۔ مستند نیشنل کونسل فار طب منسٹری آف ہیلتھ اسلام آباد پاکستان۔
سابق انچارج ڈسپنسری ابن سینا طبیہ کالج ملتان۔
سابق ریسرچ آفیسر ہائی ماؤنٹ فارماسیوٹیکل کمپنی لاہور

https://www.tiktok.com/.altaf.bhutt?_r=1&_t=ZN-91v4lPWkOV4

سرعت انزال   سرعت انزال کی بہت ساری وجوہات ہیں مگر بنیادی طور پر دو وجوہات ہیں اور اگر اس بات کو مد نظر رکھتے ھوئے مکمل ...
26/01/2026

سرعت انزال
سرعت انزال کی بہت ساری وجوہات ہیں مگر بنیادی طور پر دو وجوہات ہیں اور اگر اس بات کو مد نظر رکھتے ھوئے مکمل ہسٹری اور تشخیص کے مطابق علاج تجویز کیا جائے تو انشاءاللہ نتائج بہتر ملتے ہیں۔
وجوہات میں مشت زنی، کثرت جماع، ضعف جگر معدہ ، ضعف قلب ، ضعف گردہ مثانہ، غیر متوازن غذا، ورزش کا نہ ھونا اور وٹامن کی کمی ھو سکتی ھے۔
اب جو بنیادی بات ھے کہ ان سب باتوں کے پیچھے کثرت صفراء یا کثرت سوداء کارفرما ھوتے ہیں جنکی وجہ سے ضعف پیدا ھوتا ھے اور مادہ منویہ کا ٹھہراؤ ممکن نہیں رہتا ۔
اسکے لیئے ہمیں سرد و خشک مزاج کی دوا بہتر نتائج دیتی ھے کیونکہ سرد مزاج کی وجہ سے صفراء کا،سدباب ھوتا ھے اور خشک مزاج سوداء کی روک تھام میں مفید ثابت ھوتا ھے۔
چونکہ صفراء کا مقام جگر ھے اور کثرت صفراء گرمی کی وجہ سے ھوتا ھے لہذا اس گرمی کو ختم کیا جاتا ھے اور سوداء کا مقام دل ھے اور دل میں سوداء کی کثرت انسان کو جلدی بڑھاپے کی طوف لے جاتا ھے ۔
اب مشکل صرف تشخیص ھے اور کیفیت مرض ھے کہ مریض کو کونسے درجہ کی دوا دینا بہتر ھوگا ورنہ پھر چھوٹی سی غلطی سے دوا بے اثر ثابت ھوگی۔
میرے دوست احباب جو خود علاج معالجہ کرتے ہیں وہ اپنا نقصان خود کرتے ہیں اور مذید پیچیدہ مسائل کا شکار ھوجاتے ہیں۔
دوسری بات بعض حکماء دوست ایسے من گھڑت نسخے لکھتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ھے کچھ اجزاء گرم کچھ سرد کچھ خشک تر اور پھر گولی یا معجون تیار
طب ایک سمندر ھے اعضا کا،علاج بھی اگر وقت کے مطابق کیا جائے تو فائدہ مند اور اگر غلط کیا جائے تو نقصان دہ
مثال کے طور پر اعضاء رئیسہ کا علاج و دوا ہمیشہ اول پہر ہی بہتر ھے اور معدہ گردہ مثانہ کی دوا پچھلے پہر بہتر نتائج دیتی ھے۔
اس وجہ سے ہم زیادہ تر کشتہ سونا یا الماس کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ یہ بیش قیمت ضرور ھے مگر کامل علاج ثابت ھوتا ھے ایک ہی وقت میں صفراء اور سوداء کی تیزی کو روکتا ھے اور زندگی میں ایک ہی بار کافی ھوتا ھے اس سے مریض کا یقین نہیں ٹوٹتا ورنہ اکثر احباب یہی گلہ کرتے آتے ہیں کہ بہت دوائیں کھا لیں مگر فرق نہیں پڑتا۔
اسکے برعکس اگر ان باتوں کو مدنظر رکھ کر سستا علاج کیا جائے تو دو سے تین ماہ کا علاج درکار ھوتا ھے جو بنیادی طور پر معدہ جگر سے شروع کرکے وجہ ضعف باہ تک کرنا پڑتا ھے۔
بہت سے حکماء ہیں جو ماشاءاللہ بہت اچھے ہیں قابل ہیں ایمانداری سے کام کر رہے ہیں لہذا مختصر خلاصہ کہ علاج صرف مستند طبیب سے کروائیں اور نوسرباز حضرات سے بچیں ۔
خود ساختہ علاج معالجہ سے گریز کریں اور اپنا خیال رکھیں!
ہمارا مقصد فلاح طب یونان ھے اور عام عوام تک ادویہ اور جڑی بوٹیوں کی افادیت اور شفافیت کا علم پہنچانا ھے

خود ساختہ علاج معالجہ سے گریز کریں اور علاج ہمیشہ کسی مستند معالج سے کروائیں۔
مزید مشورے یا علاج کے لیے رابطہ کریں:
رابطہ نمبر
03077872768
مطب ابن سینا
اڈا اکرام سنانواں ضلع کوٹ ادو
المعالج بھٹہ حکیم محمد الطاف ۔ مستند نیشنل کونسل فار طب منسٹری آف ہیلتھ اسلام آباد پاکستان۔
سابق انچارج ڈسپنسری ابن سینا طبیہ کالج ملتان۔
سابق ریسرچ آفیسر ہائی ماؤنٹ فارماسیوٹیکل کمپنی لاہور

https://www.tiktok.com/.altaf.bhutt?_r=1&_t=ZN-91v4lPWkOV4

علاج معالجہ !   ہمارے بہت سے دوست اکثر کہتے نظر آتے ہیں کہ طب پیچھے رہ گئی کیونکہ طبیب نسخے چھپاتے ہیں اور ایلوپیتھی اس ...
24/01/2026

علاج معالجہ !
ہمارے بہت سے دوست اکثر کہتے نظر آتے ہیں کہ طب پیچھے رہ گئی کیونکہ طبیب نسخے چھپاتے ہیں اور ایلوپیتھی اس لیئے آگے نکل گئی کیونکہ وہ سب کچھ بتا دیتے ہیں حالانکہ یہ ایک لاشعوری لاجک ھے حقیقت نہیں !
میرا پہلا سوال تو یہ ھے کہ کسی ہارٹ سپیشلسٹ کو کال کر کے کبھی دل کی دوا پوچھ کر دیکھیں یا کسی بھی اچھے ڈاکٹر کو کال کر کے یا کمنٹس میں مرض کی دوا پوچھ کے دیکھیں !
دوسری بات ڈرگ مافیا کا قانون ہی یہی ھے کہ کسی بھی طرح سے سیل ( Sale) بڑھائی جائے اور بدقسمتی سے یہ روایت بھی صرف پاکستان میں پائی جاتی ھے باقی دنیا کے کسی کونے میں یہ کام نہیں ھوتا کہ میڈیکل سٹور پہ جائیں اور اپنی مرضی کی دوا لے کر کھا لیں یا کسی بھی ڈاکٹر کے پاس جائیں اور وہ فوری انجیکشن لگا دے !
اب دوسرا پہلو یہ کہ پاکستان میں روزانہ کی بنیاد پہ کروڑوں روپے کا صرف اومیپرازول خودکار اور خودساختہ علاج کے طور پہ فروخت ھو رہا ھے کیونکہ ہر پاکستانی جانتا ھے کہ معدہ کی جلن بدہضمی ھے تو یہ دوا کام کرتی ھے مگر یہ کوئی نہیں جانتا کہ یہ دوا کتنی خطر ناک ھے بس مقصد صرف وقتی افاقہ ھے ۔
کل ایک ڈاکٹر صاحب بتا رہے تھے کہ یہ کیپسول کینسر تک کا سبب بن سکتا ھے اسکا زیادہ استعمال کیلشیم میگنیشیئم کی کمی اور آنتوں کی انفیکشن کا سبب بن سکتا ھے مگر پاکستانی قوم اس بات پہ توجہ نہیں دیتی کہ یہ ادویات کتنی زہریلی ثابت ھوتی ہیں اگر بے وقت اور زیادہ مقدار میں لے لی جائیں مگر لوگ روزانہ کی بنیاد پہ پین کلر اور معدہ کی دوا بنا سوچے کھائے جارہے ہیں ۔
طب ھو یا ایلوپیتھی خود ساختہ علاج معالجہ قطعی درست عمل نہیں ھے اور آج کے سوشل میڈیا نے اس عمل کو عام کردیا ھے بے ڈھنگے ٹوٹکے بتانے والوں نے لوگوں کے دماغ میں جگہ بنا لی ھے اور ہر انسان خود طبیب بنا ھوا ھے ۔
اگر خود ساختہ علاج کارگر ھوتا تو شاہی محلات میں طبیبوں کو جگہ نہ دی جاتی بلکہ شاہی محلوں میں طب کی کتابیں رکھی جاتی اور بادشاہ خود دوا تیار کرواتے ۔
بہرحال طب میں ارکان ہیں یعنی ہوا مٹی پانی اور آگ پھر اخلاط ہیں یعنی صفراء سوداء بلغم اور خون پھر مزاج ہیں اور ہر شخص کا مزاج الگ ھے کسی کا گرم خشک کسی کا سرد خشک ، کسی کا گرم تر کسی کا گرم خشک وغیرہ
پھر مریض اور مرض کی کیفیات ہیں پھر علم الادویہ ھے جڑی بوٹیوں کے خواص و مزاج ہیں مقدار خوراک اور حد مقدار ھے اور اگر کوئی شخص ان سب عوامل سے بخوبی واقف ھے تو پھر وہ علاج کرنے کے قابل ھے ورنہ ہر حال میں موت سے کھیل کے مترادف ھے !
اب آپ خود اندازہ لگا لیں کہ جو لوگ سوشل میڈیا پہ نسخے بتا رہے ھوتے ہیں کیا انکا حکمت یعنی دانائی سے کوئی دور دور تک واسطہ ھے ؟
ایک صاحب جو بہت مشہور ہیں اسکو کولیسٹرول کہنا نہیں آتا بلکہ کوریسٹول کہتا ھے وہ بھی طب فتح کرکے بیٹھا ھے ایک شخص جسے Er****on کہنا نہیں آتا اور وہ reaction کہتا ھے وہ بھی ایک دن میں چار سو نسخے بتاتا ھے اور ٹی وی چینل اسکو بلاتے ہیں 🤭
المختصر دین تعلیم اور صحت بہترین کاروبار بن چکا ھے اور ہماری قوم اس دور میں نام نہاد مولوی ٹیچر اور طبیب کو قبول کر کے بیٹھی ھے !
میں پہلے بھی لکھ چکا ھوں بلکہ جو احباب ہمارے پاس کلینک پہ آتے ہیں وہ بہتر جانتے ہیں کہ میرا مقصد دوکانداری نہیں ھے مگر کوشش ھوتی ھے سچ عوام کے سامنے لایا جائے اور طب اور صحت کے متعلق حقائق سامنے لائے جائیں .

ہمارا مقصد فلاح طب یونان ھے اور عام عوام تک ادویہ اور جڑی بوٹیوں کی افادیت اور شفافیت کا علم پہنچانا ھے

خود ساختہ علاج معالجہ سے گریز کریں اور علاج ہمیشہ کسی مستند معالج سے کروائیں۔
مزید مشورے یا علاج کے لیے رابطہ کریں:
رابطہ نمبر
03077872768
مطب ابن سینا
اڈا اکرام سنانواں ضلع کوٹ ادو
المعالج بھٹہ حکیم محمد الطاف ۔ مستند نیشنل کونسل فار طب منسٹری آف ہیلتھ اسلام آباد پاکستان۔
سابق انچارج ڈسپنسری ابن سینا طبیہ کالج ملتان۔
سابق ریسرچ آفیسر ہائی ماؤنٹ فارماسیوٹیکل کمپنی لاہور

https://www.tiktok.com/.altaf.bhutt?_r=1&_t=ZN-91v4lPWkOV4

سٹیرائیڈز (Steroids)   ایک ادنی سی کوشش کہ شاید عوام کے دل پہ بات اثر کر جائے !احباب یہ بات عام فہم ھے کہ حکیم کی دوا سے...
22/01/2026

سٹیرائیڈز (Steroids)

ایک ادنی سی کوشش کہ شاید عوام کے دل پہ بات اثر کر جائے !
احباب یہ بات عام فہم ھے کہ حکیم کی دوا سے گردے فیل ھوتے ہیں اور حکیم سٹیرائیڈز استعمال کرتے ہیں اور شاید کچھ اتائی کرتے بھی ھوں مگر یہ الزام طب پہ نہیں بلکہ نوسروبازوں پہ لگانا چاہیئے اور اب اس سوشل میڈیا کے دور میں یہ لاجک دم توڑتا نظر آرہا ھے کیونکہ اب جھوٹ کا اور پروپیگنڈا کا دور ختم ھو چکا اور جھوٹ زیادہ دیر چھپ نہیں سکتا!
احباب اللہ پاک نے انسانی وجود کے اندر مکمل نظام رکھا ھے اور انسان کی جسمانی ہر ضرورت جسم کے اندر خود کار قدرتی نظام پوری کرنے کی طاقت رکھتا ھے اسلیئے پہلے ادوار میں لوگ چھ چھ دن بیمار رہتے تھے مگر دوا نہیں لیتے تھے اور پھر خود بخود ٹھیک بھی ھوجاتے تھے !
جب ہمارے جسم میں کوئی بھی تبدیلی بوجہ مرض پیدا ھوتی ھے تو ہمارے جسم کا خودکار نظام متحرک ھونا شروع ھو جاتا ھے اور قوت مدافعت کا نظام کارگر ثابت ھوتا ھے مگر آج ہلکے سے بخار کی صورت میں بھی ہم فوری ٹیکہ گولی کرتے ہیں اور قدرتی نظام کو بیکار کردیتے ہیں
انسانی وجود میں گردہ کے ساتھ اوپری سطح پر ایک خاص قسم کے غدود ھوتے ہیں جنہیں ( Adrenal Glends) کہا جاتا ھے اور انکا کام قدرتی سٹیرائیڈ پیدا کر کے جسم کو چاک و چوبند رکھنا ھوتا ھے اور یہ بالکل ہر انسان کی جسامت اور ضرورت مطابق کام کرتے ہیں

اب دو باتیں انتہائی غور طلب کہ جب ہم ایلوپیتھک ادویات اور انجیکشن استعمال کرتے ہیں تب سب سے زیادہ یہ غدود متاثر ھوتے ہیں اور پھر آہستہ آہستہ یہ غدود بالکل کام چھوڑ جاتے ہیں جس سے گردہ بھی مفلوج ھو سکتا ھے اور مردانہ مسائل سمیت کئی مسائل اور بھی پیدا ھو سکتے ہیں
اور اسکے لیئے صرف ایک غلط انجیکش ہی بعض اوقات کافی ھوجاتا ھے اور بندہ ناکارہ ھو جاتا ھے !
موجودہ دور میں بارہ پندرہ سال کے بچوں کے گردے فیل ھو رہے ہیں عورتوں کے گردے فیل ھو رہی ہیں ابھی یہ بات ایک صاحب عقل ہی سوچے کہ کیا عورت نے بھی کشتہ کھایا ؟ کیا پندرہ سال کے بچے بچی نے بھی کشتہ کھایا ھوگا ؟؟؟؟

اب دوسرا پہلو یہ کہ خود جدید سائنس کہہ رہی ھے کہ نیچرل سٹیرائیڈز سب سے زیادہ مفید گھوکھرو ھے جو ان غدود کو طاقت دیتا ھے اور ایک قابل طبیب بھی جہاں سمجھتا ھے کہ مریض کو دوا میں سٹیرائیڈ دینا ضروری ھے تو وہ گوکھرو ہی استعمال کرتا ھے نہ کہ سینتھیٹک سٹیرائیڈ کی ضرورت محسوس کرتا ھے !
لہذا جہالت کا سامنا عقل سے کریں اور ریسرچ کریں پھر اصل حقیقت سامنے آئے گی !
پوری کائنات میں شہد جیسا ہائی اینٹی بائیوٹک ابھی تک ناپید ھے اور چین جاپان نے پوری کوشش کی مگر ناکام رہے اور شہد کا نعم البدل اینٹی بائیوٹک تیار نہ ھوسکا۔
آب زنجبیل ، زعفران ، یاقوت مرجان ، شہد کا ذکر اللہ پاک نے کیا ھے نہ کہ کسی طبیب نے مگر ہم ٹیکے کے عادی ھو گئے اور
قدرت کی عطاء کردہ نعمتوں کو بھلا کے بیٹھ گئے !

اپنے طرز حیات پہ توجہ دیں اور جو اصل مسائل ہیں ان یہ غور وفکر کریں ، روزانہ کی بنیاد پہ غیر ضروری ادویات سے گریز کریں اور پیچیدہ مسائل کی صورت میں کسی مستند معالج سے مشورہ کریں۔

ہمارا مقصد فلاح طب یونان ھے اور عام عوام تک ادویہ اور جڑی بوٹیوں کی افادیت اور شفافیت کا علم پہنچانا ھے

خود ساختہ علاج معالجہ سے گریز کریں اور علاج ہمیشہ کسی مستند معالج سے کروائیں۔
مزید مشورے یا علاج کے لیے رابطہ کریں:
رابطہ نمبر
03077872768
مطب ابن سینا
اڈا اکرام سنانواں ضلع کوٹ ادو
المعالج بھٹہ حکیم محمد الطاف ۔ مستند نیشنل کونسل فار طب منسٹری آف ہیلتھ اسلام آباد پاکستان۔
سابق انچارج ڈسپنسری ابن سینا طبیہ کالج ملتان۔
سابق ریسرچ آفیسر ہائی ماؤنٹ فارماسیوٹیکل کمپنی لاہور

https://www.tiktok.com/.altaf.bhutt?_r=1&_t=ZN-91v4lPWkOV4

دوہرا معیار    زمانہ قدیم میں طب و حکمت کی عزت تھی قدردان تھے اور اسکی افادیت سے تقریبا ہر فرد واقف تھا اور پھر فرنگی طر...
30/12/2025

دوہرا معیار

زمانہ قدیم میں طب و حکمت کی عزت تھی قدردان تھے اور اسکی افادیت سے تقریبا ہر فرد واقف تھا اور پھر فرنگی طرز علاج نے ایسا وار کیا کہ طب کی حقیقت ہی دفن ھوگئی !
میں پہلے بھی کئی بار لکھ چکا ھوں مگر کچھ نئے آنے والے احباب کے لیئے دوبارہ لکھنا پڑتا ھے تو اسلیئے آج پھر ایک مختصر سی پوسٹ کر رہا ھوں ۔
کچھ روز قبل ایک دوست آئے جنہیں دائیں سائیڈ کا فالج تھا پہلے وہ ایک سپیشلسٹ کے پاس گئے پہلے دو دن انتظار کیا پھر انکا چیک اپ کا نمبر آیا پھر صبح دس بجے گئے چار ہزار فیس جمع کروائی اور لمبے انتظار کے بعد دو بجے انکا نمبر آیا ۔
ڈاکٹر صاحب نے مریض پہ نظر گھمائی اور فوری طور پہ کچھ ٹیسٹ لکھ کر دے دیئے اور مریض دس بارہ ہزار دے کر گھر آگیا پھر دوسرے دن شام کے ٹائم ڈاکٹر صاحب کے پاس ٹیسٹ لیکر گئے تو انہوں نے مذید دو ٹیسٹ لکھ کر دے دیئے اور پانچ چھ ہزار پھر خرچ ھوگیا ۔
تیسرے دن ڈاکٹر صاحب نے مریض کا مکمل معائنہ کیا اور آٹھ دس ہزار کی دوائیں لکھ کر دے دیں جن میں (گابیکا )جیسی دوا بھی شامل تھی جو میرے خیال میں آئس کے مترادف ھے ۔
مریض نے دس دن دوا استعمال کی اور نتیجہ یہ نکلا کہ دوسری سائیڈ بھی متاثر ھونے لگی اور پھر مایوس ھوکر ہمارے پاس آپہنچے ۔
احباب کئی ایسے مریض آتے ہیں جو آخری وقت میں طبیب کا امتحان لینے پہنچ جاتے ہیں اور جب طبیب کے پاس آتے ہیں پہلی کہانی یہی سناتے ہیں کہ جو کچھ تھا وہ خرچ کر چکے ہیں اب کرایا بھی پڑوسی سے مانگ کر آئے ہیں ۔
اب المیہ یہ ھے کہ ڈاکٹر کے پاس تو زبان بند ھو جاتی ھے مگر طبیب اپنی محنت اور دوا کی قیمت مانگ لے تو لوگ منہ کھول کے بولتے ہیں اور بنا سوچے سمجھے طبیب کو باتیں سنا دیتے ہیں کہ جیسے طبیب انکا ذاتی ملازم ھو یا طبیب کوئی فری ڈسپنسری چلا رہا ھو 😏
سچ پوچھیں تو یہی دوہرا معیار ھے جس نے طب میں نوسرباز کو جنم دیا اور آج ہر تیسرا فرد کسی نہ کسی نوسرباز کا ڈسا ھوا آتا ھے جو سستے کا جھانسہ دے کر اپنی دیہاڑی لگاتے ہیں ۔
احباب کوئی بھی برائی ھے وہ معاشرے سے ہی جنم لیتی ھے اور ہم ہی اسکے ذمہ دار ھوتے ہیں اور یہی وجہ ھے کہ سوشل میڈیا پہ آج نازیبا حرکات کرنے والے لوگوں کے ملین میں فالور ہیں جو اس بات کی گواہی ھے کہ ہم برائی کو پرموٹ کرنے پہ لگے ہیں ۔
احباب میرا ایک اپنا مشن ھے ایک اپنا طریقہ کار ھے جو ہر فرد کے لیئے ایک جیسا ھے لہذا اگر کوئی چار بجے کلینک پہ پہنچے تو میں پابند نہیں کہ بیٹھا رہوں بلکہ مریض کو چاہئے کہ دیئے گئے وقت مطابق تشریف لیکر آئے ۔
جو لوگ ڈاکٹر کو فیس دینا پسند کرتے ہیں اور طبیب کی فیس انکو گناہ لگتی ھے وہ ہم سے رابطہ نہ کریں اور سچ یہی ھے کہ طبیب نے خود اپنی حیثیت دفن کی ھے ورنہ لوگ ایسے حقیر نہ سمجھتے !
آخری بات کہ پاکستان میں بہت اچھے لوگ ہیں مگر عوام سستے کی تلاش میں ھوتی ھے
میری ذات صرف خلوص نیت سے دوا دے سکتی ھے شفاء کی گارنٹیاں نوسرباز کا کام ھے کیونکہ شفاء منجانب اللہ

علاج کی بنیادی اکائی تشخیص ھے لہذا ہم بغیر تشخیص دوا نہیں دیتے لہذا صرف سنجیدہ افراد رابطہ کیا کریں ۔ شکریہ

مثبت سوچ ہزاروں ادویات سے بہتر ھے لہذا اپنی سوچ مثبت رکھیں اور توکل بر خدا پہ قائم رہیں !
ہمارا مقصد فلاح طب یونان ھے اور عام عوام تک ادویہ اور جڑی بوٹیوں کی افادیت اور شفافیت کا علم پہنچانا ھے

خود ساختہ علاج معالجہ سے گریز کریں اور علاج ہمیشہ کسی مستند معالج سے کروائیں۔
مزید مشورے یا علاج کے لیے رابطہ کریں:
رابطہ نمبر
03077872768
مطب ابن سینا
اڈا اکرام سنانواں ضلع کوٹ ادو
المعالج بھٹہ حکیم محمد الطاف ۔ مستند نیشنل کونسل فار طب منسٹری آف ہیلتھ اسلام آباد پاکستان۔
سابق انچارج ڈسپنسری ابن سینا طبیہ کالج ملتان۔
سابق ریسرچ آفیسر ہائی ماؤنٹ فارماسیوٹیکل کمپنی لاہور

https://www.tiktok.com/.altaf.bhutt?_r=1&_t=ZN-91v4lPWkOV4

جواہر مہرہ  ایک دوست نے حکم صادر فرمایا کہ جواہر مہرہ کے متعلق پوسٹ کریں تو جناب اپنی بساط مطابق پیش کر رہا ھوں کیونکہ ط...
29/12/2025

جواہر مہرہ
ایک دوست نے حکم صادر فرمایا کہ جواہر مہرہ کے متعلق پوسٹ کریں تو جناب اپنی بساط مطابق پیش کر رہا ھوں کیونکہ طب ایک سمند ھے اور میری ذات تو شاید قطرہ برابر بھی نہیں !
احباب جواہر مہرہ دراصل ایک معدنی پتھر زہر مہرہ سے ایجاد ھوا جو صدیوں قدیم مرکب ھے اور یہ پتھر نیلے کھردرے رنگ کا ھوتا ھے جسکی خاصیت یہ تھی کہ چند عرقیات میں اسکو کھرل کیا جاتا تھا جس سے اسکے ذیلی اثرات بھی ختم ھو جاتے تھے اور اسکی افادیت بھی بڑھ جاتی تھی اور اسکی خاصیت یہ تھی کہ جس دوا میں ملا دیا جاتا اسکو تیز اثر بنا دیتا ھے۔
پھر وقت کے ساتھ ساتھ اس میں قابل اطباء نے جدت پہ کام کیا اور عرقیات کے ساتھ ساتھ مذید جواہرات اور مشک و عنبر کا اضافہ کیا جس سے اسکی افادیت کو مذید چار چاند لگ گئے اور اکسیر روح دوا بن گئی!
بنیادی طور پہ جواہر مہرہ کا جزو اعظم زہر مہرہ ھے اور یہ دل کی دوا مانی جاتی تھی ہمارے بزرگ اسکو روح کی دوا بھی کہتے تھے یعنی یہ مرکب انسان میں روح پیدا کر دیتا ھے ۔
طبیب اجمل خان مرحوم اس دوا سے بڑے بڑے چیلنج قبول کرتے تھے اور انتہائی مہارت سے دوسری ادویات کے ساتھ جواہر مہرہ کا استعمال کرواتے اور مریض چند یوم میں ہی بستر مرگ سے اٹھ کھڑا ھوتا تھا۔
یہ ضعف قلب اختلاج قلب کی لاثانی دوا ھے اسکے علاوہ مردانہ جلال کو عروج پہ لاتی ھے کسی بھی مرض کی وجہ سے اگر مریض لاغر ھو جائے کمزوری چھا جائے تو اسکے لیئے شفاء کا درجہ رکھتی ھے اور چند دن میں طاقت پیدا کرتی ھے
مشت زنی کے مارے لوگوں کے لیئے ادھیر عمری اور شوگر کے مارے لوگوں کے لیئے ایک معجزہ نما مرکب ھے بجھے دل اور پھیکی رنگت کو نور میں بدل دیتی ھے بڑھاپے کو جوانی میں بدل دیتی ھے ۔
جو لوگ جوانی میں قوت مردمی ضائع کر بیٹھتے ہیں یا وہ احباب جو شہوت کی کمی کا شکار ھوجاتے ہیں اور جوانی میں ہی انتشار ختم ھو جاتا ھے نامردی کی کیفیت طاری ھو جاتی ھے اور ازدواجی سرور سے محروم ھو جاتے ہیں یہ دوا ان لوگوں کے لیئے پیغام شفاء ثابت ھوتی ھے
ہر قابل طبیب اپنی مہارت سے تیار کرتا ھے اور پھر کیفیت مرض و مریض بڑی دانائی و حکمت سے استعمال کرواتا ھے ۔
بیشک ایک بیش قیمت دوا ھے مگر اسکی افادیت وہی جانتے ہیں جو استعمال کرتے ہیں یا جو طبیب تیار کرتے ہیں ۔
احباب طب یونان میں ایسے کئی مرکبات ہیں جو راجہ مہاراجہ کے پسندیدہ ھوتے تھے اور طبیب جہاں اپنا امتحان سمجھتے تھے تو یہ مرکبات استعمال کرتے تھے ۔
بنیادی اجزاء میں زہر مہرہ ، ورق سونا،، ورق نقرہ ، مشک و عنبر زمرد، عقیق ، یاقوت ، مروارید ، شاخ مرجان، سلاجیت ، مصطگی اور عرقیات وغیرہ شامل ہیں۔
بغیر تشخیص ہم کوئی دوا فروخت نہیں کرتے لہذا مکمل علاج معالجہ کے لیئے واٹس ایپ پہ رابطہ کریں !
ہمارا مقصد فلاح طب یونان ھے اور عام عوام تک ادویہ اور جڑی بوٹیوں کی افادیت اور شفافیت کا علم پہنچانا ھے

خود ساختہ علاج معالجہ سے گریز کریں اور علاج ہمیشہ کسی مستند معالج سے کروائیں۔
مزید مشورے یا علاج کے لیے رابطہ کریں:
رابطہ نمبر
03077872768
مطب ابن سینا
اڈا اکرام سنانواں ضلع کوٹ ادو
المعالج بھٹہ حکیم محمد الطاف ۔ مستند نیشنل کونسل فار طب منسٹری آف ہیلتھ اسلام آباد پاکستان۔
سابق انچارج ڈسپنسری ابن سینا طبیہ کالج ملتان۔
سابق ریسرچ آفیسر ہائی ماؤنٹ فارماسیوٹیکل کمپنی لاہور

https://www.tiktok.com/.altaf.bhutt?_r=1&_t=ZN-91v4lPWkOV4

ادرک (سونٹھ)    ہمارے لیئے اس سے بڑا المیہ کیا ھوگا کہ ایک زرعی ملک ھونے کے باوجود ہم ادرک چائنا سے منگواتے ہیں اور واقع...
14/12/2025

ادرک (سونٹھ)

ہمارے لیئے اس سے بڑا المیہ کیا ھوگا کہ ایک زرعی ملک ھونے کے باوجود ہم ادرک چائنا سے منگواتے ہیں اور واقعی طبی افادیت کے حساب سے بھی زیادہ مفید ھے اور پھر ہم مسلے اسکا بھی سستاناس کر کے تیزاب میں بھگو کر وزن بڑھا کر فروخت کرتے ہیں !
پاکستان میں ہر دوسرا شخص فلاسفر اور افلاطون ھے یہاں سبزی والے سے پوچھا جاتا ھے کہ یہاں آنکھوں کا اچھا ڈاکٹر کون ھے اور لوگ گھروں میں بیٹھ کر طبیب بھی ہیں حکیم بھی ہیں ڈاکٹر بھی ہیں غرضیکہ سب کچھ ہیں !
پورے ملک کو مہنگائی نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ھے مگر صرف طبیب ہی تنقید کی زد میں ھے اور مجھے اپنی ذات سے نہیں بلکہ طب کی بدنامی سے تکلیف ھوتی ہیں جب نتھو خیرا اس پہ بحث کرتا ھے !
کل ایک ارسطو کہہ رہا تھا کہ حکیم دس بیس کی پڑیاں ہزاروں میں دیتے ہیں حالانکہ صاحب کو شاید زیرے اور سونٹھ کی قیمت کا بھی علم نہیں تھا !
طبیب بھی دکان کرائے پہ لیتے ہیں جسکا ہر ماہ کرایہ دینا ھوتا ھے بجلی کا بل ھے جیسے عام عوام دیتی ھے پنسار سے سامان خرید کر پھر دوا بنتی ھے اور اکثر دوا پرانی ھو جائے جالا لگ جائے تو ہزاروں روپے ضائع بھی ھو جاتے ہیں !
احباب سونٹھ چائنا اس وقت بہت مشکل سے پنسار سے ملتی ھے اور قیمت بائیس سو روپے کلو ھے مگر عام آدمی نہیں جانتا کہ ہر چیز میں زمین آسمان کا فرق ھوتا ھے !
کشتہ سونا ایک آگ میں تیار کریں اور اٹھارہ بیس قراط والا استعمال کریں تو سستا پڑتا ھے مگر جب خالص استعمال کریں اور تین بار آگ دیں تو کشتہ کا وزن کم ھو جاتا ھے اور قیمت بڑھ جاتی ھے مگر عوام کو سمجھ نہیں !
بہر حال ہمیں بھی انتہائی مشکلات کا سامنا ھوتا ھے اور اگر خالص کی تلاش کی جائے تو پھر طب آسان نہیں !
سونٹھ کو قران پاک میں زنجبیل کے نام سے بیان کیا گیا ھے اور آب زنجبیل کو جنت کا مشروب کہا جاتا ھے ، سبحان اللہ
مگر ہم تو ٹیکے پہ یقین رکھنے والے ہو گئے ہم کیا جانیں زنجبیل کیا ھے !
امراض معدہ جگر میں انتہائی مفید ھے اور خشک ادرک مردانہ کمزوری میں بھی مفید ھے اعصابی طاقت بڑھاتی ھے !
صبح نہار منہ چھ ماشہ چبا لیں تو پیشاب بار بار آنے میں مفید ھے !
المختصر ایک تحفہ قدرت ھے جس سے عام انسان غافل ھے !

ہمارا مقصد فلاح طب یونان ھے اور عام عوام تک ادویہ اور جڑی بوٹیوں کی افادیت اور شفافیت کا علم پہنچانا ھے

خود ساختہ علاج معالجہ سے گریز کریں اور علاج ہمیشہ کسی مستند معالج سے کروائیں۔
مزید مشورے یا علاج کے لیے رابطہ کریں:
رابطہ نمبر
03077872768
مطب ابن سینا
اڈا اکرام سنانواں ضلع کوٹ ادو
المعالج بھٹہ حکیم محمد الطاف ۔ مستند نیشنل کونسل فار طب منسٹری آف ہیلتھ اسلام آباد پاکستان۔
سابق انچارج ڈسپنسری ابن سینا طبیہ کالج ملتان۔
سابق ریسرچ آفیسر ہائی ماؤنٹ فارماسیوٹیکل کمپنی لاہور

https://www.tiktok.com/.altaf.bhutt?_r=1&_t=ZN-91v4lPWkOV4

حقیقت سے پردہ اٹھ گیا. کینسر بیماری نہیں بلکہ ایک کاروبار ہے. شاید یہ سن کر اپ کو یقین نہ آئے کہ لفظ کینسر ایک جھوٹ ہے ا...
12/12/2025

حقیقت سے پردہ اٹھ گیا. کینسر بیماری نہیں بلکہ ایک کاروبار ہے.

شاید یہ سن کر اپ کو یقین نہ آئے کہ لفظ کینسر ایک جھوٹ ہے اور یہ کوئی بیماری نہیں بلکہ ایک کاروبار ہے . کینسر صرف وٹامن بی 17 کی کمی کے سوا اور کچھ بھی نہیں. کینسر دنیا بھر میں پھیلا ہوا ایک موذی مرض ہے اور اس بوڑھے، جوان، بچے حتی کہ ہر عمر اور طبقہ کے لوگ متاثر ہیں. اس حیران کن پوسٹ کو شئر کرنے سے دنیا بھر کے دھوکے بازوں کے چہروں سے نقاب اتر جائیں گے اور وہ دنیا کے سامنے ظاہر ہوجائیں گے. کیا اپ کو پتہ ہے کہ ایک کتاب جس کا نام "کینسر کے بغیر دنیا" کو اب تک بہت سی زبانوں میں ترجمہ کرنے سے روک دیا گیا ہے.

یہ جانیے کہ دنیا میں کینسر نامی کوئی بیماری نہیں ہے بلکہ یہ صرف وٹامن بی 17 کی کمی کی وجہ سے ہوتی ہے.

کیمیو تھراپی، سرجری اور شدید منفی اثرات رکھنے والی دوائیوں سے بچیے.

اپ کو یاد پڑے گا کہ ماضی میں انسانوں حاص کر ملاحوں کی ایک بڑی تعداد کو ایک مشہور بیماری سکروی کی وجہ سے زندگی سے ہاتھ دھونے پڑے. اور کافی لوگوں نے اس سے ڈھیر سارا پیسہ کمایا. آخر میں یہ دریافت ہوا کہ سکروی صرف وٹامن سی کی کمی کی وجہ سے ہوتی ہے اور یہ کوئی بیماری نہیں ہے.

کینسر بھی بالکل اس طرح ہے. نوآبادیاتی دنیا او ر انسانیت کے دشمنوں نے کینسر پیدا کیا اور اس کو ایک کاروبار بنایا جس سے وہ اربوں روپے کماتے ہیں.

کینسر کی انڈسٹری نے دوسری جنگ عظیم کے بعد ترقی کی.کینسر کا مقابلہ کرنے کے لیے اتنی تاخیر، تفصیلات اور خرچوں کی ضرورت نہیں. یہ صرف نوابادکاروں کی جیبیں بھرنے کے لیے ہورہا ہے حالانکہ اس کا علاج بہت پہلے دریافت ہوچکا ہے.

مندرجہ ذیل تدابیر اختیار کر کے کینسر سے بچاؤ اور اس کا علاج کیا جاسکتا ہے.

وہ افراد جن کو کینسر لاحق ہے کو گھبرائے بغیر یہ جاننا چاہیے کہ دراصل کینسر ہے کیا اور پھر اس کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنی چاہیے.

کیا آج کل کوئی بھی سکروی کی بیماری سے خلاق ہوتا ہے؟ نہیں کیونکہ اس کا علاج ہوجاتا ہے.

چونکہ کینسر وٹامن بی 17 کی کمی کی وجہ سے ہوتا ہے لہذا روزانہ پندرہ سے بیس ٹکڑے خوبانی کے بیج کھانا اس مسئلے کے حل کے لیے کافی ہے.

گندم کی کلی کھائیے کیونکہ یہ کینسر کے خلاف ایک معجزاتی دوا ہے. یہ مادہ آکسیجن اور کینسر کے خلاف سب سے طاقتور مادہ laetrile کا بہت بڑا ذریعہ ہے. یہ سیب کے بیج میں بھی پایا جاتا ہے اور وٹامن بی 17 کی extracted خالت ہے.

امریکی دواساز کمپنیوں نے ایک قانون نافذ کرنے شروع کیا ہے جس میں laetrile کی پیداوار پر پابندی ہے. یہ دوائ میکسیکو میں تیار ہوتی ہے اور امریکہ میں سمگل ہوتی ہے.

ڈاکٹر ہیرا لڈ ڈبل یو مینر نے اپنی کتاب "کینسر کی موت" میں کہا ہے کہ laetrile سے کینسر کے علاج کے امکانات نوے فیصد سے بھی زیادہ ہے.

وٹامن بی 17 کے حصول کے ذرائع

وہ غذائیں جن میں وٹامن بی 17 پایا جاتا ہے مندرجہ ذیل ہیں.

1.گٹلی دار پھل یا میوہ جات کے بیج. ان میں وٹامن بی 17 سب سے زیادہ مقدار میں پائے جاتے ہیں. ان میں سیب، خوبانی, ناشپاتی اور الوبخارہ کے گٹلی دار پھل شامل ہیں.

2.عام پھلیاں، مکئی(اناج) جن میں لوبیا، دال بڈ، لیماں کے پھلیاں (لوبیا کی ایک قسم) اور مٹر شامل ہیں.

3.اناج کے دانے جن میں کڑوا بادام اور ہندوستانی بادام شامل ہیں.

4.شہتوت. تقریباً تمام شہتوت جن میں کالا شہتوت، نیلا شہتوت, رس بھری اور اسٹرابیری شامل ہیں.

5.بیج یا تخم. تل کے بیج اور السی کے بیج.

6.جئ، جو، باسمتی چاول کا گچ . بلاک گندم، السی، جوار اور رائ کا گچ.

7. خوبانی کے بیج، کشیدہ کیے گئے خمیر، کھیتوں سے لیا گیا چاول اور میٹھا گوشت کدو.

کینسر کے خلاف موثر غذاؤں کی فہرست.
خوبانی (بیج).
دوسروے پھلوں کے بیج جیسا کہ سیب، ناشپاتی، الو بخارا, چیری اور آڑو.
لیما کی پھلیاں
فیوا کے پھلیاں
گندم کا فصل
بادام
رس بھری
ایلڈر بیری
بلو بیری
جامن
اناج
سرغو
جو
باجرہ
کاجو
میکیڈیمیا (آسٹریلیا کا ایک میوہ)
پھلیاں

یہ سب وافر مقدار میں جسم میں ہونے والی وٹامن بی 17 کے ذرائع ہیں.

برتن دھونے اور ہاتھ دھونے والے مائع کا جسم کے اندر داخل ہونا کینسر کی ایک اہم وجہ ہے لہٰذا اس کو جسم کے اندر لے جانے سے پرہیز کرنا چاہیے. اپ یقینی طور پر اب یہ کہیں گے کہ ہم ان مادوں کو جسم کے اندر نہیں داخل ہونے دیتے لیکن جب اپ ان مادوں سے ہاتھ دھوتے ہیں یا برتن دھوتے ہیں تو ان کا کچھ حصہ ہاتھوں یا برتن میں جذب ہوجاتا ہے. اور پھر جب اپ برتن میں گرم کھانا ڈالتے ہیں تو یہ کھانے میں جذب ہوکر اپ کے جسم میں داخل ہوجاتی ہے. اگر اپ برتن کو سو مرتبہ بھی دھوکر صاف کریں پھر بھی اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا.

لیکن اس کا بہت آسان حل ہے اور وہ یہ ہے کہ ہاتھ یا برتن دھوتے وقت آدھا ہاتھ دھونے والا اور برتن دھونے والا مادہ ڈال کر اس کے اوپر سرکہ چھڑکیں. اس طرح اپ کینسر کا باعث بننے والے زہریلے مواد کھانے سے بچ جائیں گے. اور اس طرح سبزیوں اور میوہ جات کو برتن دھونے والے مادوں سے ہرگز نہ دھوئیں. کیونکہ یہ فورا ان کے اندر تک چلے جاتے ہیں اور پھر کسی بھی طریقے سے باہر نہیں نکلتے. اس کا آسان حل یہ ہے کہ سبزیوں اور پھلوں کو نمک سے گیلا کرکے پانی سے صاف کریں اور پھر تازہ رکھنے کے لئے اوپر سرکہ چھڑکیں.

اپ کی ایک چوٹی سی کاوش یقیناً کئ زندگیوں کو کینسر کی موذی مرض سے بچاسکتی ہے۔

ہمارا مقصد فلاح طب یونان ھے اور عام عوام تک ادویہ اور جڑی بوٹیوں کی افادیت اور شفافیت کا علم پہنچانا ھے

خود ساختہ علاج معالجہ سے گریز کریں اور علاج ہمیشہ کسی مستند معالج سے کروائیں۔
مزید مشورے یا علاج کے لیے رابطہ کریں:
رابطہ نمبر
03077872768
مطب ابن سینا
اڈا اکرام سنانواں ضلع کوٹ ادو
المعالج بھٹہ حکیم محمد الطاف ۔ مستند نیشنل کونسل فار طب منسٹری آف ہیلتھ اسلام آباد پاکستان۔
سابق انچارج ڈسپنسری ابن سینا طبیہ کالج ملتان۔
سابق ریسرچ آفیسر ہائی ماؤنٹ فارماسیوٹیکل کمپنی لاہور

https://www.tiktok.com/.altaf.bhutt?_r=1&_t=ZN-91v4lPWkOV4

Address

Sanawan Distt Kot Adu
Multan

Telephone

+923077872768

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hakeem Altaf Desi Khzana posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Hakeem Altaf Desi Khzana:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram