Desi Herbal Totkay

Desi Herbal Totkay This is an informative page. If any information is wrong please write to us.

08/12/2025
ہاتھ گرم اور پاؤں ٹھنڈے رہنا سردی زیادہ لگناآج کل سردیوں میں ہاتھ پاؤں ٹھنڈے رہنا  خاص کر پنڈلیوں  سے نیچے پاؤں کی انگلی...
08/12/2025

ہاتھ گرم اور پاؤں ٹھنڈے رہنا سردی زیادہ لگنا
آج کل سردیوں میں ہاتھ پاؤں ٹھنڈے رہنا خاص کر پنڈلیوں سے نیچے پاؤں کی انگلیوں تک ٹھنڈک زیادہ رہنا کی علامات لے کر بہت سے مریض مطب پر آتے ہیں ۔
یہ ایک عام لیکن اہم علامت ہے۔ اس کے پیچھے چند بڑی وجوہات ہو سکتی ہیں، جنہیں سمجھنا ضروری ہے تاکہ علاج درست سمت میں ہو سکے:
سردی خشکی سے خون کی نالیاں سکڑ جاتی ہیں ۔ جس کی وجہ سے دل سے دور جسم کے حصے جیسے ہاتھ پاؤں میں خون کم پہنچتا ہے پنڈلیوں اور پاؤں میں ٹھنڈک محسوس ہوتی ہےکبھی کبھی سنسناہٹ بھی ہوتی ہے یہ سب بلکل عام ہوتا ہے مگر کچھ لوگوں میں یہ زیادہ ہوتا ہے۔
خون کی کی کمی وٹامن ڈی کی کمی بھی اس کے وجہ ہو سکتی ہے ۔ بحرحال حرارت کی کمی سے خون کی گردش میں کمی واقع ہونا اس موسم میں بڑی وجہ ہے۔
پاؤں برف جیسے ہو جاتے ہیں
انگلیاں ٹھنڈی
پنڈلیوں سے نیچے ٹھنڈ اترتی محسوس ہوتی ہے
علاج اور تدبیر
روزانہ 20–25 منٹ واک کریں ۔ ہو سے تو ورزش بھی کریں ۔۔
نیم گرم پانی زیادہ پئیں ۔
ٹانگوں کا ہلکا مساج ناریل یا سرسوں کے تیل سے کریں
ڈبل جراب پہنیں
سردی میں بہت دیر تک بیٹھے نہ رہیں ۔کمرے کو گرم رکھیں
خشخاش + بادام + مغز اخروٹ پاؤڈر بنا کر رکھیں ۔ایک چمچ صبح ناشتہ میں لازم کھائیں ۔
رات کو اجوائن دیسی ، پودینہ خشک اور زیرہ سفید کا قہوہ بنا کر پئیں ۔
ہم مطب پر اعصابی زعفرانی ٹانک دودھ میں ڈال کر اور حب اعصاب نقرئی کھانے کے لئیے تجویز کرتے ہیں ۔

♦️ سردی زیادہ لگنے کی ممکنہ وجوہات: کیوں جسم ٹھنڈا محسوس ہوتا ہے؟**

اگر آپ کو ہمیشہ سردی لگتی ہے، حتیٰ کہ گرم موسم میں بھی، تو یہ جسم کی کسی اندرونی مسئلے کی نشاندہی کر سکتا ہے۔ یہاں کچھ عام وجوہات ہیں۔ یاد رکھیں، یہ عمومی معلومات ہے – اگر مسئلہ سنگین ہے تو ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔

1. **خون کی کمی (Anemia)**:
جسم میں آئرن، وٹامن B12 یا فولک ایسڈ کی کمی سے خون کے سرخ خلیے کم ہو جاتے ہیں، جس سے آکسیجن کی ترسیل متاثر ہوتی ہے۔ نتیجہ: جسم ٹھنڈ کو زیادہ محسوس کرتا ہے۔ علامات: تھکاوٹ، کمزوری، جلد کی پیلاہٹ۔

2. **تھائیرائڈ کا کمزور ہونا (Hypothyroidism)**:
تھائیرائڈ گلینڈ ہارمونز کم بنائے تو میٹابولزم سست پڑ جاتا ہے، اور جسم کم حرارت پیدا کرتا ہے۔ نتیجہ: مستقل سردی کا احساس۔ علامات: وزن میں اضافہ، بالوں کا گرنا، خشکی جلد۔

3. **وزن کا بہت کم ہونا یا کم چربی**:
جسم میں چربی کی کم مقدار قدرتی طور پر حرارت کو برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ اگر چربی کم ہو تو جسم جلدی ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔ علامات: پتلا پن، کمزور مدافعتی نظام۔

4. **کم خوراک، کیلوریز یا پروٹین کی کمی**:
اگر روزانہ کی خوراک میں توانائی (کیلوریز) یا پروٹین کم ہو تو جسم حرارت پیدا کرنے کے لیے ضروری ایندھن نہیں پا سکتا۔ نتیجہ: سردی کا زیادہ احساس۔ علامات: بھوک نہ لگنا، وزن کم ہونا۔

5. **خون کی گردش کا مسئلہ (Poor Circulation)**:
دل کی بیماری، تمباکو نوشی یا Raynaud's disease کی وجہ سے خون پورے جسم میں صحیح طرح نہیں پہنچتا، خاص طور پر ہاتھ پاؤں ٹھنڈے رہتے ہیں۔ علامات: انگلیوں کا نیلا پڑنا، درد۔

6. **نیند کی کمی، تھکن یا تناؤ**:
مسلسل تھکاوٹ یا کم نیند سے جسم کا درجہ حرارت کنٹرول کرنے کا نظام متاثر ہوتا ہے۔ تناؤ ہارمونز بھی اسے بڑھا سکتے ہیں۔ علامات: چڑچڑاپن، توجہ کی کمی۔

7. **ہارمونل تبدیلیاں (خاص طور پر خواتین میں)**:
ماہواری، مینوپاز، حمل یا تھائیرائڈ/آئرن کی کمی سے ہارمونز میں عدم توازن ہوتا ہے، جو سردی کا احساس بڑھاتا ہے۔ علامات: موڈ سوئنگز، بال گرنا۔

8. **دیگر وجوہات (اضافی)**:
- **ذیابیطس یا بلڈ شوگر کا مسئلہ**: اعصاب متاثر ہونے سے گردش کم ہوتی ہے۔
- **ادویات کا اثر**: کچھ دوائیں (جیسے بیٹا بلاکرز) سردی کا احساس بڑھا سکتی ہیں۔
- **انفیکشن یا بیماریاں**: وائرل انفیکشن یا کینسر جیسی سنگین بیماریاں بھی وجہ بن سکتی ہیں۔

**کیا کریں اگر سردی غیر معمولی لگے؟**
اگر ہاتھ پاؤں ہمیشہ ٹھنڈے رہتے ہیں، توانائی کم ہے، بال گر رہے ہیں، وزن بڑھ رہا ہے یا دیگر علامات ہیں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ تجویز کردہ ٹیسٹس:
- ہیموگلوبن (خون کی کمی چیک کرنے کے لیے)
- تھائیرائڈ فنکشن ٹیسٹ (TSH, T3, T4)
- وٹامن B12 اور آئرن لیولز
- اگر ضرورت ہو تو بلڈ شوگر یا دیگر چیک اپ۔

**نوٹ**: یہ معلومات عمومی نوعیت کی ہے اور طبی مشورے کی جگہ نہیں لے سکتی۔ ہر شخص کی حالت مختلف ہو سکتی ہے، لہٰذا خود تشخیص نہ کریں اور پروفیشنل ڈاکٹر سے مشورہ لیں۔ صحت مند طرز زندگی اپنائیں: اچھی خوراک، ورزش، مکمل نیند اور گرم کپڑے پہنیں!
♦️✿✿نوٹ
پوسٹ شئیرنگ مفید معلومات و مفاد عامہ ایجوکیشنل پرپوز کے لیے ہے، برائے مہربانی صحت کے مسائل کے کسی بھی علاج کے لیے اپنے ہیلتھ فزیشن سے رجوع کریں۔
مقدار خوراک سے تجاوز نہ کریں۔
بلا ضرورت و بلا تشخیص کے بغیر کوئی دواء ہرگز استعمال نہ کریں, اپنی صحت کا خیال رکھیں۔

سنگھاڑا ایک سادہ پھل نظر آتا ہے مگر اس کے اندر ایسی طاقت چھپی ہے جو جدید تحقیق بھی مان چکی ہے۔ یہ وہ پھل ہے جو جسم کو طا...
08/12/2025

سنگھاڑا ایک سادہ پھل نظر آتا ہے مگر اس کے اندر ایسی طاقت چھپی ہے جو جدید تحقیق بھی مان چکی ہے۔ یہ وہ پھل ہے جو جسم کو طاقت دیتا ہے، سوزش کم کرتا ہے اور کئی حساس جسمانی مسائل میں خاموشی سے مدد کرتا ہے۔
غذائیت
سنگھاڑے میں پوٹاشیم، فاسفورس، میگنیشیم، آئرن، وٹامن سی، وٹامن بی سکس اور قدرتی فائبر بھرپور مقدار میں ہوتے ہیں۔
یہ کم کیلوریز کے ساتھ بھرپور توانائی دیتا ہے، یعنی جسم کو بوجھل کئےبغیر پیٹ بھرتا ہے ۔
صحت کے اہم فوائد
توانائی بڑھاتا ہے۔ اس میں موجود قدرتی کاربوہائیڈریٹس جسم کو فوری توانائی دیتے ہیں اور تھکن کم کرتے ہیں۔
سوزش کم کرتا ہے۔ جدید تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ سنگھاڑے کے خام مرکبات جسم میں سوجن پیدا کرنے والے مالیکیولز کو کم کرتے ہیں۔ جلدی سوزش میں بھی اچھا اثر دیکھا گیا ہے۔
دل کی صحت بہتر کرتا ہے۔ پوٹاشیم دل کی دھڑکن کو مستحکم رکھتا ہے اور فائبر خون میں چربی کے بہاو کو بہتر بناتا ہے۔
شوگر والے افراد کے لیے مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ جاپانی تحقیقی مطالعات میں سنگھاڑے کے پولی فینولز نے گلوکوز کے جذب کو آہستہ کرنے میں کردار دکھایا جس سے شوگر کے اتار چڑھاو میں بہتری آ سکتی ہے۔
گردوں کے لیے مفید۔ کیونکہ اس میں سوڈیم بہت کم ہے اور پوٹاشیم متوازن ہے۔
جلد اور بالوں کے لیے فائدہ مند۔ اس کے اینٹی آکسیڈنٹس جسم میں فری ریڈیکلز کم کرتے ہیں جس سے جلد صاف اور بال مضبوط ہو سکتے ہیں۔
نظام ہاضمہ بہتر بناتا ہے۔ فائبر آنتوں کی حرکت کو بہتر کرتا ہے اور بھاری پن کم کرتا ہے۔

طب یونانی
سنگھاڑے کو ٹھنڈی تاثیر والا، مقوی جسم، مقوی دماغ اور مقوی رحم سمجھا جاتا ہے۔ خواتین کی جسمانی کمزوری، بعد از حمل غذائیت، طاقت کی کمی اور بچوں کی ہڈیوں کی مضبوطی میں اس کا پانی اور آٹا قدیم نسخوں میں استعمال ہوتا رہا ہے۔
سنگھاڑے کا آٹا دودھ کے ساتھ دینے کی روایت کا مقصد ہڈیوں، خون اور دل کو مضبوط کرنا ہے۔

استعمال کا طریقہ
تازہ سنگھاڑے صاف کر کے کھائیں۔ ابال کر بھی استعمال کر سکتے ہیں۔
سنگھاڑے کا آٹا بہت سیدھے طریقے سے استعمال ہوتا ہے۔ مقصد طاقت، ہاضمہ اور توانائی بہتر کرنا ہے۔ چند بہترین طریقے یہ ہیں:
سنگھاڑا آٹے کا دودھ
ایک گلاس دودھ ہلکا گرم کریں۔ ایک سے دو چمچ آٹا ڈالیں۔ اچھی طرح گھول لیں۔ چاہیں تو تھوڑا شہد ڈال دیں۔ یہ جسم کو طاقت دیتا ہے اور کمزوری جلد پوری کرتا ہے۔
سنگھاڑا آٹے کی کھیر
دودھ ابالیں۔ دو چمچ آٹا ڈال کر چلائیں تاکہ گٹھلیاں نہ بنیں۔ دس منٹ ہلکی آنچ پر پکائیں۔ اوپر سے الائچی پاوڈر ڈال کر پیش کریں۔ یہ بچوں، خواتین اور کمزور لوگوں کے لیے بہترین ہے۔
سنگھاڑا آٹے کا حلوا
گھی میں آٹا ہلکا سا بھونیں۔ پانی اور تھوڑی شکر شامل کریں۔ پکا کر گاڑھا کریں۔ یہ روایتی طاقت کا نسخہ ہے۔
سنگھاڑا آٹا روٹی
گندم کے آٹے میں ایک تہائی حصہ سنگھاڑا آٹا ملائیں۔ ہضم آسان ہوتا ہے اور توانائی بہتر ملتی ہے۔
روزہ یا کمزوری میں استعمال
شام یا سحری میں، ایک سے دو چمچ آٹا نیم گرم دودھ میں۔ پیٹ بھرتا ہے اور توانائی دیر تک رہتی ہے۔
شوگر والے افراد
میٹھا شامل نہ کریں۔ دودھ یا پانی میں ایک چمچ کافی ہے۔
احتیاط
ہمیشہ صاف اور تازہ سنگھاڑے خریدیں۔
کسی بیماری یا دوا کے ساتھ باقاعدہ استعمال شروع کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے پوچھ لیں۔

سنگھاڑا سستا ہے، روزمرہ بازار میں مل جاتا ہے مگر جسم کو وہ فائدے دیتا ہے جو مہنگے سپلیمنٹ بھی نہیں دیتے۔ اسے اپنی خوراک میں شامل کریں۔ جسم خود فرق بتائے گا۔

08/12/2025

Thank you so much for watching my videos and support me Weight Loss workout at home Fat belly workout at home Exercises at home Yoga at home Fitness tipsFat ...

دماغ کو مضبوط بنانے میں مددگار غذائیںدماغ کی قوت اور یادداشت کا دارومدار صرف ذہنی مشقوں یا پہیلیاں حل کرنے پر نہیں بلکہ ...
08/12/2025

دماغ کو مضبوط بنانے میں مددگار غذائیں
دماغ کی قوت اور یادداشت کا دارومدار صرف ذہنی مشقوں یا پہیلیاں حل کرنے پر نہیں بلکہ اس کا آغاز روزمرہ خوراک سے ہوتا ہے۔

کیونکہ غذائی اجزا سے بھرپور کچھ غذائیں ایسے بنیادی مرکبات رکھتی ہیں جو دماغی خلیات کو تحفظ دیتی ہیں ان کے درمیان رابطہ مضبوط کرتی ہیں اور مجموعی ذہنی صحت بہتر بناتی ہیں۔

اکنامک ٹائمز کے مطابق یہ غذائیں درج ذیل ہیں۔

1. اخروٹ

اخروٹ میں پودوں سے حاصل ہونے والے اومیگا تھری، وٹامن ای اور پولی فینول کی وافر مقدار پائی جاتی ہے جو خلیاتی جھلیوں کو لچکدار بنانے کے ساتھ دماغی خلیوں کے رابطے بہتر کرتی ہے۔

روزانہ تھوڑی مقدار میں اخروٹ کھانا یادداشت کے استحکام میں مدد دیتا ہے۔

2. چربیلے مچھلی

سالمن، سارڈین اور میکریل جیسی مچھلیوں میں "ڈی ایچ اے" پایا جاتا ہے جو اومیگا تھری کی ایک اہم شکل اور دماغی ساخت کا حصہ ہے۔
چونکہ دماغ ساٹھ فیصد چربی سے بنا ہے اس لیے "ڈی ایچ اے" دماغی خلیات کو پیغام رسانی میں مؤثر بناتا ہے۔
اس کا باقاعدہ استعمال سوزش کم کرتا ہے اور یادداشت و منطقی سوچ کو تقویت دیتا ہے۔

3. بلیو بیری

بلیو بیری میں موجود فلیونوئیڈز خون کی روانی بڑھاتے ہیں اعصابی رابطوں کو مضبوط کرتے ہیں اور ذہنی دباؤ سے ہونے والا نقصان کم کرتے ہیں۔
تحقیقات کے مطابق اسے معمول میں شامل کرنے والے بزرگ افراد بہتر یادداشت اور تیز سیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

4. ہلدی

ہلدی میں موجود کرکومین دماغی خون کی رکاوٹ عبور کر کے دماغ میں بی ڈی این ایف کی سطح بڑھاتا ہے جو نئے عصبی خلیوں کی نشوونما میں مدد دیتا ہے۔
یہ موڈ بہتر بنانے کے لیے سیروٹونن اور ڈوپامین بھی بڑھاتا ہے۔

5. سبز پتوں والی سبزیاں

پالک سمیت سبز پتوں والی سبزیوں میں فولیٹ، وٹامن کے اور لیوٹین کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو دماغی خلیوں کو غذائیت پہنچاتی ہیں اور ردعمل کی رفتار بڑھاتی ہیں۔

انہیں مستقل غذائی معمول میں شامل رکھنے سے ذہنی کمزوری کی رفتار سست ہوتی ہے۔

6. انڈے

انڈے کی زردی میں کولین پایا جاتا ہے جو ایسٹائل کولین بنانے کے لیے ضروری ہے اور یہ یادداشت کے لیے اہم ترین کیمیکل ہے۔ انڈوں میں وٹامن بی 6، بی 12 اور فولیٹ بھی ہوتے ہیں جو ہوموسسٹین کی سطح کم کرتے ہیں اور ذہنی تنزلی کو روکتے ہیں۔

7. کافی

کافی میں موجود کیفین نیند پیدا کرنے والے ایڈینوسین کو روکتایہے اور ڈوپامین بڑھاتی ہے جس سے توجہ اور تحریک میں اضافہ ہوتا ہے۔
کافی میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس دماغی خلیات کا تحفظ کرتے ہیں اور معتدل استعمال الزائمر اور پارکنسن کے خطرے میں کمی سے جوڑا جاتا ہے۔

8. کدو کے بیج

کدو کے بیج میگنیشیم، زنک، آئرن اور کاپر سے بھرپور ہوتے ہیں جو اعصابی رابطے، سیکھنے اور ذہنی ردعمل کو بہتر بناتے ہیں۔
صرف ایک چمچ روزانہ ذہنی دھند کم کرنے اور سوچ کو واضح کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

9. ڈارک چاکلیٹ

اعلیٰ معیار کی ڈارک چاکلیٹ (ستر فیصد یا زیادہ کوکو) دماغ تک خون کی روانی بڑھاتی ہے اور اینڈورفن خارج کرتی ہے۔
اس میں موجود فلیونوئیڈز یادداشت کے راستوں کو بہتر کرتے ہیں جبکہ ہلکی کیفین ذہنی ارتکاز کو سہارا دیتی ہے۔

10. مکمل اناج

رہتی ہے۔
اناج میں موجود وٹامن بی اعصابی نظام کو سہارا دیتے ہیں اور موڈ و ذہنی لچک بہتر کرتے ہیں۔

روزانہ کی آسان ترکیب
دماغ دوست غذائی معمول اپنانے کے لیے ناشتے میں دلیے یا دہی کے ساتھ اخروٹ یا کدو کے بیج شامل کیے جا سکتے ہیں۔
چربیلے مچھلی ہفتے میں دو سے تین بار استعمال کی جائیں۔
بلیو بیری یا ڈارک چاکلیٹ معتدل مقدار میں کھائی جا سکتی ہے۔
کھانوں یا مشروبات میں تھوڑی سی ہلدی شامل کرنے اور سلاد میں سبز پتوں والی سبزیاں بڑھانے سے بھی فائدہ ہوتا ہے۔
مکمل اناج کی ٹوسٹ کے ساتھ انڈے دماغی کارکردگی بڑھاتے ہیں جبکہ کافی کا محتاط استعمال بیداری بہتر کرتا ہے۔

روزانہ ادرک کھانے سے معدے پر کیا ہوتا ہے؟ہر کسی کے کچن میں موجود چھوٹا سا جڑ… ادرک۔روزانہ تھوڑی مقدار میں استعمال کرنا آ...
08/12/2025

روزانہ ادرک کھانے سے معدے پر کیا ہوتا ہے؟
ہر کسی کے کچن میں موجود چھوٹا سا جڑ… ادرک۔
روزانہ تھوڑی مقدار میں استعمال کرنا آسان لگتا ہے، مگر کیا آپ جانتے ہیں یہ آپ کے معدے کے ساتھ کیا کھیل کھیلتی ہے؟

ادرک میں موجود تیز اور گرم اجزاء معدے کی حرکت کو تیز کرتے ہیں۔
یہ ہاضمہ بہتر بناتی ہے، گیس اور اپھارہ کم کرتی ہے، اور غذا کو جلد ہضم ہونے میں مدد دیتی ہے۔

اثرات

• ہاضمہ تیز
• پیٹ صاف اور ہلکا
• گیس اور اپھارہ کم
• قبض میں آرام
• معدے میں خون کی گردش بہتر

کس کو زیادہ فائدہ؟

• سست ہاضمہ والے
• قبض یا بھاری پن والے
• معدے کی سوزش کم کرنے والے
• بھوک نہ لگنے والے

کس کو نقصان؟

• معدہ حساس والے
• السر یا شدید تیزابیت والے
• زیادہ مقدار میں دن میں بار بار استعمال کرنے والے

مزاج (تاثیر)

• گرم اور خشک

بہترین وقت

• کھانے سے 20–30 منٹ پہلے یا کھانے کے ساتھ

مقدار

• روزانہ 1–2 چمچ تازہ کدوکش ادرک یا 1 کپ ادرک والی چائے

کس کے ساتھ زیادہ فائدہ؟

• شہد
• لیموں
• نیم گرم پانی

اگر روزانہ معمول کے مطابق تھوڑی مقدار میں ادرک استعمال کی جائے،
تو یہ معدے کو فعال، ہاضمہ کو ہلکا اور جسم کو توانائی سے بھر دیتا ہے۔

🌿 ایڑی کا درد(Heel Pain )ایڑی کا درد ایک عام مسئلہ ہے جو بچوں، بڑوں اور بزرگوں—سب میں پایا جاتا ہے۔ بعض اوقات درد اتنا ش...
07/12/2025

🌿 ایڑی کا درد
(Heel Pain )

ایڑی کا درد ایک عام مسئلہ ہے جو بچوں، بڑوں اور بزرگوں—سب میں پایا جاتا ہے۔ بعض اوقات درد اتنا شدید ہو جاتا ہے کہ چلنا پھرنا، نماز میں کھڑا ہونا، دوڑنا، حتیٰ کہ صبح بستر سے اٹھنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔

ایڑی کے درد کی کئی اقسام اور وجوہات ہوتی ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس کا صحیح وقت پر علاج نہ کیا جائے تو یہ لمبے عرصے تک رہ سکتا ہے۔

---

🦶 ایڑی کے درد کی عام وجوہات

1. پلینٹر فیشیائٹس (Plantar Fasciitis)

یہ ایڑی کے درد کی سب سے زیادہ عام وجہ ہے۔

اس میں پاؤں کے نیچے موجود ربڑ جیسی جھلی (fascia) کھچ جاتی ہے

صبح اٹھتے ہی پہلا قدم رکھتے وقت شدید چبھن یا جلن

چلنے سے کچھ دیر بعد درد میں کمی

2. ہیٹ اسپر (Heel Spur)

ایڑی کی ہڈی کے نیچے نوک دار ہڈی بن جاتی ہے

چلنے پر درد بڑھتا ہے

ایکس رے میں واضح نظر آتی ہے

3. اکھیلس ٹینڈنائٹس (Achilles Tendinitis)

ایڑی کے پچھلے حصے میں درد

زیادہ دوڑنے والے، کھلاڑی یا سخت جوتے پہننے والوں میں

4. موٹاپا یا وزن بڑھ جانا

وزن زیادہ ہو تو ایڑی پر دباؤ بڑھتا ہے، درد مستقل رہ سکتا ہے۔

5. فلیٹ فٹ یا زیادہ اُٹھا ہوا آرک

پاؤں کی ساخت میں کمی یا زیادتی ایڑی میں کھچاؤ پیدا کرتی ہے۔

6. سخت یا نامناسب جوتے پہننا

باریک سول یا سخت جوتے ایڑی کے بافتوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

7. زیادہ دیر کھڑے رہنا

اساتذہ، لیبر ورکرز، پولیس اہلکار، سیلز مین وغیرہ زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

---

🔥 ایڑی کے درد کی علامات (Symptoms)

صبح اٹھتے ہی شدید درد

چلنے کے چند قدم بعد درد میں کمی، لیکن دوبارہ بڑھ جانا

ایڑی کے نچلے یا پچھلے حصے میں چبھن

کچھ مریضوں میں جلن یا سوجن

زیادہ چلنے پر درد میں اضافہ

سیڑھیاں چڑھتے وقت کھینچاؤ

---

🩺 تشخیص (Diagnosis)

عموماً تشخیص علامات کی بنیاد پر ہو جاتی ہے، مگر بعض اوقات درج ذیل ٹیسٹ کی ضرورت پڑ سکتی ہے:

ایکس رے (Heel Spur کی پہچان کے لیے)

الٹراساؤنڈ

پاؤں کی ساخت کا معائنہ

---

🩹 عام علاج (General Treatment)

✔ 1. آرام

پاؤں کو زیادہ بوجھ سے بچائیں، خاص طور پر صبح کے وقت۔

✔ 2. آئس تھراپی

ایڑی پر 10–15 منٹ برف لگائیں

دن میں 2–3 بار

✔ 3. نرم سول والے جوتے

کشن والے سول

فلیٹ فٹ کے لیے آرچ سپورٹ

✔ 4. اسٹریچنگ مشقیں

روزانہ دو بار:

دیوار کے سہارے بچھڑے (calf) کی اسٹریچنگ

تولیے سے پاؤں کھینچنے کی ورزش

✔ 5. وزن کم کرنا

زیادہ وزن ایڑی پر دباؤ بڑھاتا ہے۔

✔ 6. فزیوتھراپی

پروفیشنل اسٹریچنگ اور ورزشیں فائدہ دیتی ہیں۔

---

🌿 گھر کے آسان ٹوٹکے (Home Remedies)

نیم گرم پانی میں نمک ڈال کر پاؤں بھگوئیں

ایڑی پر تیل یا مرہم سے ہلکی مالش

سلیپر یا چپل سخت فرش پر نہ پہنیں

رات کو پاؤں سیدھے رکھ کر ہلکا ہیٹ پیڈ لگائیں

---

⚠ کب ڈاکٹر کو دکھانا ضروری ہے؟

اگر درد 2–3 ہفتے کے علاج کے باوجود کم نہ ہو

ایڑی میں شدید سوجن ہو جائے

چلنا مشکل ہو جائے

رات کو درد شدت اختیار کرے

---

🌟 احتیاطی تدابیر (Prevention Tips)

اچھی کوالٹی کے سول والے جوتے پہنیں

ورزش سے پہلے وارم اپ لازمی کریں

سخت زمین پر دوڑنے سے گریز کریں

وزن متوازن رکھیں

روزانہ کم از کم 10 منٹ پاؤں کی اسٹریچنگ کریں

سیب، چقندر اور گاجر کے جوس کو اے بی سی کا جوس بھی کہا جاتا ہے۔ اے بی سی کا جوس صحت کے مختلف فوائد پیش کرتا ہے۔ ان فواد م...
07/12/2025

سیب، چقندر اور گاجر کے جوس کو اے بی سی کا جوس بھی کہا جاتا ہے۔ اے بی سی کا جوس صحت کے مختلف فوائد پیش کرتا ہے۔ ان فواد میں جسم سے زہریلے مادوں کو مکمل طور پر باہر نکالنا، ہاضمہ بہتر کرنا، صحت مند جلد اور بالوں اور ممکنہ وزن میں کمی شامل ہے۔
لیکن ٹائمز آف انڈیا کے مطابق اس جوس کا زیادہ استعمال ہاضمے کے مسائل، الرجک ردعمل اور گردے میں پتھری بننے کا خطرہ بھی پیدا کر سکتا ہے۔ لہٰذا ماہرینِ غذائیت اعتدال پسندی اور ایسے لوگوں کو طبی ماہرین سے مشورہ لینے کی مشورہ دیتے ہیں جن کی صحت کی کچھ شرائط ہیں۔

متعدد صحت کے فوائد

100 ملی لیٹر ABC جوس میں 45-50 کیلوریز، 10-12 گرام کاربوہائیڈریٹ، 8-9 گرام شکر، 0.5 گرام پروٹین اور ضروری وٹامنز اور معدنیات ہوتے ہیں۔ لہذا اسے کھانے سے مجموعی صحت کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ مشروب سفید خون کے خلیات اور ہیموگلوبن کی پیداوار میں اضافہ کرکے مدافعتی نظام کو مضبوط کرنے کے لیے جانا جاتا ہے۔ یہ اہم اعضاء سے زہریلے مادوں کو نکالنے اور جسم سے زہریلے مادوں کو نکالنے کے کاموں کی حمایت کرنے میں بھی مدد کرتا ہے۔

چمک والی جلد صحت مند بال

اس جوس کا سب سے اہم فائدہ جلد اور بالوں کی صحت پر اس کا مثبت اثر ہے۔ گاجر کے جوس میں پائے جانے والے وٹامنز اور معدنیات جلد کی لچک کو بڑھاتے ہیں۔ عمر بڑھنے کی علامات سے لڑتے ہیں اور صحت مند نشوونما کو فروغ دے کر بالوں کے معیار کو بہتر بناتے ہیں۔

آنتوں کے کام کی بہتری

ABC جوس اپنے اعلی فائبر مواد کی بدولت ہاضمے میں مدد کرتا ہے۔ یہ میٹابولزم کو بڑھاتا ہے۔ آنتوں کی حرکت کو منظم کرتا اور قبض کو دور کرتا ہے۔ یہ جوس آنکھوں کی صحت کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔ یہ جوس خاص طور پر تھکاوٹ کو کم کرنے اور بینائی کو سہارا دینے میں بھی مدد کرتاہے۔

وزن کم کرنا

جسمانی وزن کم کرنے میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے گاجر کا جوس شکر والے مشروبات کا کم کیلوریز والا متبادل ہے۔ گاجر میں موجود پوٹاشیم نمکین کھانوں کی خواہش کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔ فائبر انسان کو طویل عرصے تک پیٹ بھرنے کا احساس دلاتا ہے۔

کیلیں , پھنسیاں , مہاسے💢🔴❗چہرے کی پھنسیاں یعنی مہاسے لوگوں کو خون شباب میں بہت ستاتے ہیں قدرت کی یہ ستم ظریقی ہے کہ انسا...
05/12/2025

کیلیں , پھنسیاں , مہاسے💢🔴❗
چہرے کی پھنسیاں یعنی مہاسے لوگوں کو خون شباب میں بہت ستاتے ہیں قدرت کی یہ ستم ظریقی ہے کہ انسان کے منہ پر مہاسے اس کی زندگی کے ایسے وقت میں نمودار ہوتے ہیں جب کہ وہ اپنی شکل وصورت کو بہتر سے بہتر حالت میں دیکھنا اور دکھانا چاہتا ہے یہ پھنسیاں عام طور پر حسن بلوغ اور جوانی کے زمانے میں چودہ پندرہ برس کی عمر میں نکلنی شروع ہوتی ہیں لیکن مستثنے ،حالتوں میں کبھی پہلے اور کبھی بعد میں بھی نکلتی ہیں”بوڑھے منہ مہاسے“کی مثل مشہور ہے یعنی پیرانہ سالی میں مہاسے نہیں نکلتے بالعموم ان کا تعلق شباب ہی سے ہیں اور یہی وہ مخصوص عمر ہے جب کہ چہرہ پھنسیوں کے باعث گل دستہ بن جاتاہے۔
پھر رفتہ رفتہ تھوڑے دنوں کے بعد مہاسے کم ہونے لگتے ہیں اور چہرہ صاف ہو جاتاہے لیکن ایک تو بعض دانے ایسے ظالم ہوتے ہیں کہ اپنا نشان چھوڑ جاتے ہیں دوسرے چونکہ تکلیف چند برس تک جاری رہتی ہے اس لئے مہاسوں میں مبتلا جوانوں کو خاصی پریشانی اٹھانی پڑتی ہے۔
اور ان کی جسمانی تکلیف سے کہیں زیادہ دماغی تکلیف ہوتی ہے۔
جوان میں بد نمائی کا خیال پیدا کرکے ان کو احساس کمتری ‘میں مبتلا کر دیتی ہے۔
ایسے شخص پر ایک بددلی اور افسردئی سی چھائی رہتی ہے اور اگر چہرہ مہاسوں کے باعث زیادہ بد نما رہتاہے تو بعض موقعوں پر ایسے سوسائٹی سے اور تقریبوں سے بھی الگ تھلگ رہنا پڑتاہے اور پیپ بھری ہوئی پھنسیوں سے بعض لوگوں کی جلد مستقل طور پر داغ دار ہو جاتی ہے۔
اس بیماری میں اکثر یہ دیکھا جاتاہے کہ مریض کے چہرے کی جلد روغنی اور چکنی ہوتی ہے اور کبھی کبھی سر میں پھنسیاں ہوتی ہیں اور ان کے ساتھ ساتھ بالوں کی جڑیں بفاسے بھری ہوئی ہوتی ہیں چونکہ مہاسوں کا تعلق بالعمول روغنی چہروں سے ہوتاہے ۔
اس لئے اس قسم کی جلد کے حالات اور اس کو درست رکھنے کے طریقوں پر کچھ روشنی ڈالنا مفید ہو گا۔
جس شخص کی جلد روغنی ہوتی ہے وہ بعض نا موافق حالات میں اپنی زندگی کی ابتدا کرتاہے اس طرح کی جلد صاف رکھنے اور اس کو خوشنما بنانے میں بہت محنت درکار ہوتی ہے اور بہت سا وقت صرف ہوتاہے۔
اس جلد کی ساخت اور بافت کھردری ہوتی ہے مسامات غیر معمولی طور پر بڑے ہوتے ہیں اور اکثر ان کے اندر کیلیں بھی ہوتی ہیں۔اس کے علاوہ اس قسم کی جلد کی مالش بھی نہیں کرنی چاہئے کیونکہ اس عمل سے روغن کے غدود میں زیادہ سر گرمی پیدا ہو گی اور جلد زیادہ روغنی ہو جائے گی۔
خشک جلد والوں کے مقابلہ میں روغنی جلد والوں کو اتنا فائدہ ضرور ہے کہ وہ کسی خلش یا سوزش کے اندیشہ کے بغیر صابن اچھی طرح استعمال کر سکتے ہیں۔اس لئے روغنی چہرے کو صابن اور پانی سے دن میں دو تین مرتبہ خوب دھونا چاہئے اور بہتریہ ہے کہ صابن کے جھاگ کو صاف کرنے سے پہلے چند لمحوں تک چہرے پر چھوڑ دیا جائے۔
رات کو بھی اگر سونے سے پہلے یہ عمل کیا جائے اور اس کے بعد جلد سیکڑنے والا لوش چہرے پر مل لیا جائے تو بہتر ہو گا اور اسے بڑی حد تک معمولی مہاسوں کی روک تھام کی جاسکے گی۔
مہاسوں میں روغنی غدود کا عمل خراب ہو جاتاہے ،اور ان کی سر گرمی بہت زیادہ ہو جاتی ہے لیکن بعض حالات میں دوسری بیماریوں بھی ان پر اثر انداز ہوتی ہیں مثلاً لوزة الحنق (کوے)کا التہاب یا دانتوں کی خرابی یا ہڈی کا زخم وغیرہ۔
قبض سے بھی مہاسے بڑھتے ہیں ان کے ساتھ ساتھ کبھی خون کی کمی اور کبھی ہاضمہ کی خرابی بھی پیدا ہوتی ہے۔ان کے علاوہ ہر وہ پرانا مرض جو پہلے ایسے ہوتے ہیں۔جو صرف مہاسوں میں مبتلا ہوتے ہیں اور باقی ہر تندرست وصحت مند ہوتے ہیں۔
مہاسوں کی شدت بھی ہمیشہ ایک جیسی نہیں ہوتی بلکہ مختلف لوگوں میں مختلف ہوتی ہے۔جب ان کا حملہ بلکا ہوتاہے تو صرف چند پھنسیاں چہرے پر نمودار ہو تی ہیں اور جلد زیادہ روغنی ہوجاتی ہے۔
لیکن بعض مرتبہ بہت بڑھ جاتی ہیں ان میں فاسد مادہ بڑھ جاتاہے۔زخم بڑے اور گہرے ہو جاتے ہیں اور کبھی کبھی تو مہاسے چہرے سے آگے بڑھ کر گردن اور سینے تک پھیل جاتے ہیں۔
مہاسوں کے علاج میں عام صحت اور مقامی صحت دونوں کو زیر نظر رکھنا چاہئے۔
اگر دور سے امراض مثلاً خون کی کمی،معدے کی خرابی ،قبض، گلے یا کوے کی تسممی حالت یا ہڈی کے زخم وغیرہ موجود ہوں تو ان کا علاج کرنا ضروری ہوتاہے۔
مہاسوں کے مریض کو چاہئے کہ وہ کسی،اچھے طبیب سے رجوع کرے اور غسل میں اور چہرے کو دھونے میں کبھی کمی نہ کرے اسے کافی مقدار میں پانی بھی پینا چاہئے کم از کم 6گلاس روزانہ۔
مہاسوں کی شدت میں غذا کی اصلاح مفید ثابت ہوتی ہے یہ تو نہیں کہا جا سکتا ہے کہ صرف غذائی علاج سے مہاسے اچھے ہو جائے گے مگر غذا کی اصلاح اور پر ہیز کو بھی اس سلسلے میں ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔
بعض غذائی چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو مہاسوں کو بڑھا دیتی ہیں مثلاً چائے ،کوکو، چاکلیٹ، اخروٹ، گرم مغزیات چربی اور روغن والی غذائی تلی ہوئی چیزیں ،بڑی مقدار میں گوشت اور شکر وغیرہ ان تمام چیزوں کو غذا سے خارج کر دینا چاہیے اور ان کی جبکہ تازہ پھلوں اور سبزیوں کا کافی اضافہ کر دینا چاہئے۔الکحل اور تمبا کو سے بھی پرہیز لازم ہے۔
جیسا کہ اوپر کہا گیا چہرے کی جلد کے مسامات میں کیلیں اور پھنسیاں پیدا ہو جاتی ہے اور جب ان میں پیپ پڑتی ہے تو یہ زخم زہریلے ہو جاتے ہیں اکثر مریض ان پھنسیوں کو توڑنے اور نوچنے کارجحان رکھتے ہیں اور ہر وقت انگلیوں سے انہیں چھیڑتے رہتے ہیں۔اس سے جلد کو نقصان پہنچتاہے اور پھنسیوں کے داغ مستقل ہو جاتے ہیں۔یہ ضرور ہے کہ اگر کیلیں آسانی سے نکالی جا سکیں اور آس پاس کی نسیجوں کو نقصان نہ پہنچے تو انہیں نکال دینا ہی بہتر ہے۔اس سے یہ فائدہ ہو گا کہ نئی کیلوں کے پیدا ہونے اور پھنسیوں اور پھوڑوں کے بڑھنے کا امکان کم ہو جائے گا۔
لیکن جب کیلوں کا نکلنا دشوار ہو اور دانے زیادہ سخت اور کچے ہوں تو ان کو چھڑنا نہیں چاہئے بلکہ کسی لوشن سے ان کو نرم کر دینا چاہئے اور پھر رفتہ رفتہ بہت آہستہ سے دبا کر نکالنا چاہئے لیکن اگر کیلیں آسانی سے نکلیں تو شدید دباؤ ڈال کر انہیں نہیں نکالنا چاہئے۔
ورنہ آس پاس کی نسیجیں زخمی ہو جائے گی۔
بہت سے لوگوں کا جو مہاسوں میں مبتلا ہوتے ہیں تجربہ یہ ہے کہ موسم گرما میں جب ان کے چہرے پر آفتابی شعاعیں پڑتی ہیں تو ان کی حالت بہتر ہو جاتی ہے اور مہاسوں میں افاقہ ہوتاہے۔اس کا سبب یہ ہے کہ ماوراء بنفشی شعاعیں مہاسوں کے لئے مفید ہوتی ہیں اور اکثر ان کے علاج میں بھی یہ شعاعیں استعمال کی جاتی یں۔
اگر دھوپ کی نرم تابش کے باعث رفتہ رفتہ جلد کی اوپر تہہ باریک چھلکے کی طرح اتر جائے تو بہت اچھا ہے جب مہاسوں کے ساتھ ناتوانی ونقابت پیدا کر نے والی دوسری حالتیں بھی موجود ہوں تو پورے جسم پر ماوراء بنفشی شعاعوں کا استعمال طاقت بخش ثابت ہوتا ہے۔معمولی اور ہلکے مہاسوں میں صرف اتنا ہی کافی ہے کہ روغنی جلد کو ہمیشہ صاف ستھرا رکھا جائے اچھے صابن سے دھویا جائے غذا کی اصلاح کی جائے اور پھنسیوں کوکسی اچھے لوشن سے دھونے کی عادت ڈال لی جائے۔
لیکن جب بیماری پیچیدہ ہو گئی ہو اور گہرے زخم پیدا ہو گئے ہوں ۔تو دوسری صافی علاج ضروری ہوتے ہیں۔کبھی پھنسیوں کو کھول کر پیپ کو نکال دیناپڑتا ہے ۔مرض کی شدید صورت میں بہر حال طبی مشورہ ضروری ہے۔

Address

Multan
60000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Desi Herbal Totkay posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Desi Herbal Totkay:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram