08/12/2025
ہاتھ گرم اور پاؤں ٹھنڈے رہنا سردی زیادہ لگنا
آج کل سردیوں میں ہاتھ پاؤں ٹھنڈے رہنا خاص کر پنڈلیوں سے نیچے پاؤں کی انگلیوں تک ٹھنڈک زیادہ رہنا کی علامات لے کر بہت سے مریض مطب پر آتے ہیں ۔
یہ ایک عام لیکن اہم علامت ہے۔ اس کے پیچھے چند بڑی وجوہات ہو سکتی ہیں، جنہیں سمجھنا ضروری ہے تاکہ علاج درست سمت میں ہو سکے:
سردی خشکی سے خون کی نالیاں سکڑ جاتی ہیں ۔ جس کی وجہ سے دل سے دور جسم کے حصے جیسے ہاتھ پاؤں میں خون کم پہنچتا ہے پنڈلیوں اور پاؤں میں ٹھنڈک محسوس ہوتی ہےکبھی کبھی سنسناہٹ بھی ہوتی ہے یہ سب بلکل عام ہوتا ہے مگر کچھ لوگوں میں یہ زیادہ ہوتا ہے۔
خون کی کی کمی وٹامن ڈی کی کمی بھی اس کے وجہ ہو سکتی ہے ۔ بحرحال حرارت کی کمی سے خون کی گردش میں کمی واقع ہونا اس موسم میں بڑی وجہ ہے۔
پاؤں برف جیسے ہو جاتے ہیں
انگلیاں ٹھنڈی
پنڈلیوں سے نیچے ٹھنڈ اترتی محسوس ہوتی ہے
علاج اور تدبیر
روزانہ 20–25 منٹ واک کریں ۔ ہو سے تو ورزش بھی کریں ۔۔
نیم گرم پانی زیادہ پئیں ۔
ٹانگوں کا ہلکا مساج ناریل یا سرسوں کے تیل سے کریں
ڈبل جراب پہنیں
سردی میں بہت دیر تک بیٹھے نہ رہیں ۔کمرے کو گرم رکھیں
خشخاش + بادام + مغز اخروٹ پاؤڈر بنا کر رکھیں ۔ایک چمچ صبح ناشتہ میں لازم کھائیں ۔
رات کو اجوائن دیسی ، پودینہ خشک اور زیرہ سفید کا قہوہ بنا کر پئیں ۔
ہم مطب پر اعصابی زعفرانی ٹانک دودھ میں ڈال کر اور حب اعصاب نقرئی کھانے کے لئیے تجویز کرتے ہیں ۔
♦️ سردی زیادہ لگنے کی ممکنہ وجوہات: کیوں جسم ٹھنڈا محسوس ہوتا ہے؟**
اگر آپ کو ہمیشہ سردی لگتی ہے، حتیٰ کہ گرم موسم میں بھی، تو یہ جسم کی کسی اندرونی مسئلے کی نشاندہی کر سکتا ہے۔ یہاں کچھ عام وجوہات ہیں۔ یاد رکھیں، یہ عمومی معلومات ہے – اگر مسئلہ سنگین ہے تو ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔
1. **خون کی کمی (Anemia)**:
جسم میں آئرن، وٹامن B12 یا فولک ایسڈ کی کمی سے خون کے سرخ خلیے کم ہو جاتے ہیں، جس سے آکسیجن کی ترسیل متاثر ہوتی ہے۔ نتیجہ: جسم ٹھنڈ کو زیادہ محسوس کرتا ہے۔ علامات: تھکاوٹ، کمزوری، جلد کی پیلاہٹ۔
2. **تھائیرائڈ کا کمزور ہونا (Hypothyroidism)**:
تھائیرائڈ گلینڈ ہارمونز کم بنائے تو میٹابولزم سست پڑ جاتا ہے، اور جسم کم حرارت پیدا کرتا ہے۔ نتیجہ: مستقل سردی کا احساس۔ علامات: وزن میں اضافہ، بالوں کا گرنا، خشکی جلد۔
3. **وزن کا بہت کم ہونا یا کم چربی**:
جسم میں چربی کی کم مقدار قدرتی طور پر حرارت کو برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ اگر چربی کم ہو تو جسم جلدی ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔ علامات: پتلا پن، کمزور مدافعتی نظام۔
4. **کم خوراک، کیلوریز یا پروٹین کی کمی**:
اگر روزانہ کی خوراک میں توانائی (کیلوریز) یا پروٹین کم ہو تو جسم حرارت پیدا کرنے کے لیے ضروری ایندھن نہیں پا سکتا۔ نتیجہ: سردی کا زیادہ احساس۔ علامات: بھوک نہ لگنا، وزن کم ہونا۔
5. **خون کی گردش کا مسئلہ (Poor Circulation)**:
دل کی بیماری، تمباکو نوشی یا Raynaud's disease کی وجہ سے خون پورے جسم میں صحیح طرح نہیں پہنچتا، خاص طور پر ہاتھ پاؤں ٹھنڈے رہتے ہیں۔ علامات: انگلیوں کا نیلا پڑنا، درد۔
6. **نیند کی کمی، تھکن یا تناؤ**:
مسلسل تھکاوٹ یا کم نیند سے جسم کا درجہ حرارت کنٹرول کرنے کا نظام متاثر ہوتا ہے۔ تناؤ ہارمونز بھی اسے بڑھا سکتے ہیں۔ علامات: چڑچڑاپن، توجہ کی کمی۔
7. **ہارمونل تبدیلیاں (خاص طور پر خواتین میں)**:
ماہواری، مینوپاز، حمل یا تھائیرائڈ/آئرن کی کمی سے ہارمونز میں عدم توازن ہوتا ہے، جو سردی کا احساس بڑھاتا ہے۔ علامات: موڈ سوئنگز، بال گرنا۔
8. **دیگر وجوہات (اضافی)**:
- **ذیابیطس یا بلڈ شوگر کا مسئلہ**: اعصاب متاثر ہونے سے گردش کم ہوتی ہے۔
- **ادویات کا اثر**: کچھ دوائیں (جیسے بیٹا بلاکرز) سردی کا احساس بڑھا سکتی ہیں۔
- **انفیکشن یا بیماریاں**: وائرل انفیکشن یا کینسر جیسی سنگین بیماریاں بھی وجہ بن سکتی ہیں۔
**کیا کریں اگر سردی غیر معمولی لگے؟**
اگر ہاتھ پاؤں ہمیشہ ٹھنڈے رہتے ہیں، توانائی کم ہے، بال گر رہے ہیں، وزن بڑھ رہا ہے یا دیگر علامات ہیں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ تجویز کردہ ٹیسٹس:
- ہیموگلوبن (خون کی کمی چیک کرنے کے لیے)
- تھائیرائڈ فنکشن ٹیسٹ (TSH, T3, T4)
- وٹامن B12 اور آئرن لیولز
- اگر ضرورت ہو تو بلڈ شوگر یا دیگر چیک اپ۔
**نوٹ**: یہ معلومات عمومی نوعیت کی ہے اور طبی مشورے کی جگہ نہیں لے سکتی۔ ہر شخص کی حالت مختلف ہو سکتی ہے، لہٰذا خود تشخیص نہ کریں اور پروفیشنل ڈاکٹر سے مشورہ لیں۔ صحت مند طرز زندگی اپنائیں: اچھی خوراک، ورزش، مکمل نیند اور گرم کپڑے پہنیں!
♦️✿✿نوٹ
پوسٹ شئیرنگ مفید معلومات و مفاد عامہ ایجوکیشنل پرپوز کے لیے ہے، برائے مہربانی صحت کے مسائل کے کسی بھی علاج کے لیے اپنے ہیلتھ فزیشن سے رجوع کریں۔
مقدار خوراک سے تجاوز نہ کریں۔
بلا ضرورت و بلا تشخیص کے بغیر کوئی دواء ہرگز استعمال نہ کریں, اپنی صحت کا خیال رکھیں۔