Desi Herbal Totkay

Desi Herbal Totkay This is an informative page. If any information is wrong please write to us.

03/02/2026
کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کی صبح کی پہلی غذا آپ کے پورے دن کے میٹابولزم کا فیصلہ کرتی ہے؟اکثر لوگ معدے کی تیزابیت، اور گیس ...
28/01/2026

کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کی صبح کی پہلی غذا آپ کے پورے دن کے میٹابولزم کا فیصلہ کرتی ہے؟
اکثر لوگ معدے کی تیزابیت، اور گیس کی شکایت کرتے ہیں۔

لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ ان کی وجہ وہ غلط چیزیں ہیں جو وہ خالی پیٹ کھاتے ہیں۔

سیب ایک کم کیلوریز والا پھل ہے۔اس میں فائبر زیادہ مقدار میں موجود ہوتا ہے۔فائبر بھوک کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔سیب پیٹ کو ...
27/01/2026

سیب ایک کم کیلوریز والا پھل ہے۔
اس میں فائبر زیادہ مقدار میں موجود ہوتا ہے۔
فائبر بھوک کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
سیب پیٹ کو دیر تک بھرا رکھتا ہے۔
بار بار کھانے کی عادت کم ہوتی ہے۔
یہ میٹابولزم بہتر کرتا ہے۔
جسم میں چربی جلانے میں مدد ملتی ہے۔
شوگر لیول کو متوازن رکھتا ہے۔
ہاضمہ بہتر بناتا ہے۔
ڈائٹ کے دوران توانائی دیتا ہے۔
روزانہ ایک سیب وزن کم کرنے کے لیے بہترین ہے۔
اگر آپ بھی موٹاپے سے تنگ ہے تو ہمارا 45 دن کا سیشن جوائن کرکے موٹاپے سے نجات حاصل کریں

روزانہ 2 سے 4 انڈے کیوں ضروری ہیں؟انڈا ایک مکمل غذا ہے۔ اس میں اعلیٰ معیار کا پروٹین، صحت مند چکنائی، اور بہت کم کاربوہا...
24/01/2026

روزانہ 2 سے 4 انڈے کیوں ضروری ہیں؟
انڈا ایک مکمل غذا ہے۔ اس میں اعلیٰ معیار کا پروٹین، صحت مند چکنائی، اور بہت کم کاربوہائیڈریٹس ہوتے ہیں۔ انڈے کا پروٹین اپنی بایولوجیکل ویلیو کے لحاظ سے تقریباً 100 کے قریب ہوتا ہے، یعنی جسم اسے آسانی سے ہضم کر کے مکمل طور پر استعمال کر لیتا ہے۔ اسی لیے انڈے کا پروٹین مچھلی، چکن اور گوشت کے مقابلے میں بہتر سمجھا جاتا ہے۔
انڈے کا پروٹین کم فضلہ پیدا کرتا ہے۔ دوسرے پروٹین ذرائع میٹابولزم کے دوران یوریا اور امونیا جیسے مادے بناتے ہیں جو بلڈ شوگر کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں انڈا جسم کے لیے ہلکا اور مؤثر ہے۔
انڈے میں تمام ضروری امائنو ایسڈز موجود ہوتے ہیں جو جلد اور بالوں کے لیے اہم ہیں۔ پروٹین صرف سفیدی میں نہیں بلکہ زردی میں بھی ہوتا ہے، اس لیے اگر آپ صرف سفیدی کھاتے ہیں تو آپ قیمتی غذائیت سے محروم رہ جاتے ہیں۔
زردی میں چکنائی کے ساتھ چکنائی میں حل ہونے والی وٹامنز بھی ہوتی ہیں، جیسے وٹامن A، D، E اور K۔ اکثر لوگ بیٹا کیروٹین کو وٹامن A سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ یہ صرف اس کا پیش خیمہ ہے اور جسم میں صرف تقریباً 30 فیصد ہی وٹامن A میں تبدیل ہوتا ہے۔ انڈے کی زردی ہمیں وٹامن A کی فعال شکل یعنی ریٹینول دیتی ہے، جو جلد، آنکھوں، سائنَس اور مدافعتی نظام کے لیے بہت ضروری ہے۔
انڈے وٹامن D کا بہترین ذریعہ ہیں۔ وٹامن D کی کمی سے جلد کی حساسیت بڑھتی ہے، دانے، ریشز، سن برن، سوزش اور یہاں تک کہ سورائسِس بھی ہو سکتا ہے۔ وٹامن E جلد کو سورج کی شعاعوں سے بچاتا ہے، زخموں کے نشان کم کرتا ہے اور ایک طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ ہے۔ وٹامن K اور خاص طور پر K2 بھی انڈے میں موجود ہوتی ہے۔
انڈے میں کولین ہوتا ہے جو فیٹی لیور سے بچاتا ہے، دماغ اور اعصاب کی صحت بہتر کرتا ہے، موڈ اور یادداشت کو بہتر بناتا ہے۔ اومیگا تھری فیٹی ایسڈز سوزش کم کرتے ہیں اور جلد کے لیے فائدہ مند ہیں۔ لیسیتھن کو کولیسٹرول کا اینٹی ڈوٹ کہا جاتا ہے۔ یہ اچھا کولیسٹرول HDL بڑھاتا ہے اور خراب کولیسٹرول کو متوازن کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس لیے صرف کولیسٹرول کے ڈر سے انڈا چھوڑنا درست نہیں۔
انڈے ہمیں بی وٹامنز بھی دیتے ہیں، جیسے B2، B3، B12 اور بایوٹن، جو بالوں کی صحت کے لیے بہت اہم ہے۔ بہتر ہے کہ مقامی دیسی انڈے استعمال کریں۔ یہ مرغیاں کھلے ماحول میں رہتی ہیں اور قدرتی خوراک لیتی ہیں، اس لیے ان کی غذائی کوالٹی بہتر ہوتی ہے۔
انڈے کی الرجی عام طور پر سفیدی کے پروٹین سے ہوتی ہے، زردی سے نہیں۔ اگر کسی کو مسئلہ ہو تو وہ زردی استعمال کر سکتا ہے تاکہ تمام وٹامنز اور معدنیات حاصل ہو سکیں۔
انڈے معدنیات سے بھرپور ہوتے ہیں، جیسے پوٹاشیم، میگنیشیم، آیوڈین اور سیلینیم۔ سیلینیم خاص طور پر تھائرائیڈ کے مریضوں کے لیے مفید ہے، کیونکہ یہ T4 کو فعال ہارمون T3 میں بدلنے میں مدد دیتا ہے۔
انڈے میں دو اہم کیروٹینوئیڈز ہوتے ہیں، لیوٹین اور زیگزینتھن۔ یہ آنکھوں اور جلد کی حفاظت کرتے ہیں، موتیا، میکیولر ڈی جنریشن اور جلد کے نقصان سے بچاتے ہیں۔ سبزیوں کے مقابلے میں انڈے سے ملنے والے یہ اجزاء زیادہ بہتر طریقے سے جذب ہوتے ہیں۔
اسی لیے روزانہ دو سے چار انڈے اپنی خوراک میں ضرور شامل کریں۔ یہ ایک سادہ، سستی اور مکمل غذا ہے جو صحت، جلد، بالوں اور دماغ سب کے لیے فائدہ مند ہے۔

💢سونے سے قبل دودھ میں ہلدی ملا کر پینا کس قدر فائدہ مند ہے❗ہر ثقافت کے اپنے مصالحے اور جڑی بوٹیاں ہوتے ہیں جو غذائی اعتب...
17/01/2026

💢سونے سے قبل دودھ میں ہلدی ملا کر پینا کس قدر فائدہ مند ہے❗
ہر ثقافت کے اپنے مصالحے اور جڑی بوٹیاں ہوتے ہیں جو غذائی اعتبار سے کسی پاور ہا?س سے کم نہیں ہوتے، ان میں سے ایک ہلدی بھی ہے۔

پاکستان بھر میں اسے عام استعمال کیا جاتا ہے جس کے متعدد فوائد ہیں۔

یہ کھانے کا رنگ اور ذائقہ ہی بہتر نہیں کرتی بلکہ جراثیم کش ہونے کے ساتھ ساتھ مضبوط اینٹی آکسائیڈنٹ مصالحہ بھی ہے۔

مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ سونے سے قبل دودھ میں ہلدی ملا کر پینا کس قدر فائدہ مند ہے؟

یہ مشروب جسم کے لیے جادو اثر ثابت ہوتی ہے اور اگر اسے روزانہ پینا عادت بنالیا جائے تو جسمانی مدافعتی نظام مضبوط، زہریلے مواد کے اخراج اور دیگر مختلف امراض سے بچا سکتا ہے۔

یہاں اس کے فوائد درج ذیل ہیں۔

*جگر کی صفائی*
ہلدی کے بارے میں سائنسی طور پر ثابت ہوچکا ہے کہ یہ جگر کے لیے فائدہ مند مصالحہ ہے، یہ جسم کے اندر صفائی کا کام کرتا ہے جبکہ جگر میں فیٹی ایسڈ کے اجتماع کی روک تھام کرتا ہے، ہلدی ملا دودھ جگر کی غذا اور کیمیکل پراسیس کرنے کی صلاحیت کو بڑھاتا ہے جبکہ ایسے مواد کو جسم سے خارج کرتا ہے جس کی ضرورت نہیں ہوتی، جس سے جسم زہریلے مواد سے بچتا ہے۔

*جسمانی ورم کم کرے*
ہلدی کا بنیادی جز curcumin ہوتا ہے جو کہ ورم کش خصوصیات رکھتا ہے، جس کی وج ہسے عام ورم کے لیے اس کا علاج ہوتا ہے جبکہ جوڑوں کے امراض اور دیگر مساءلسے تحفظ ملتا ہے۔ سونے سے قبل ایک گلاس اس مشروب کا پینا ایسے انزائمے کو بلاک کرتا ہے جو جسمانی ورم کا باعث بنتے ہیں۔

*بیکٹریا سے لڑتا ہے*
اس مشروب کو پینے سے جسم کی اینٹی بایوٹیک صلاحیت بہتر ہوتی ہے جو کہ بیکٹریا اور وائرسز سے لڑتے ہیں، جس سے موسمی نزلہ زکام اور گلے کی خراش کے علاج میں مدد ملتی ہے۔

*کینسر سے لڑنے کی طاقت بڑھتی ہے*
ہلدی میں ایک طاقتور اینٹی آکسائیڈنٹ ہوتا ہے اور طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق ہلدی جسم کے اندر تکسیدی تناﺅ کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے جو کہ کینسر جیسے خطرناک امراض کی وجہ بنتا ہے، یہ صرف کینسر کی روک تھام ہی نہیں کرتا بلکہ اس سے لڑنے والا مصالحہ بھی ہے۔ ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ ہلدی کا استعمال کینسر زدہ خلیات کا خاتمہ کرکے رسولی کو بڑھنے سے روکتا ہے۔

*جسمانی چربی گھلائے*
ہلدی ملا دودھ نہ صرف میٹابولزم کی رفتار بڑھتا ہے بلکہ یہ چربی کو ہضم کرنے کا عمل بھی تیز کرتا ہے، اس مشروب کو پینا عادت بنالینا جسم میں چربی کے اجتماع کو روکتا ہے جس سے توند سے نجات ملتی ہے۔

*دل کو صحت مند بنائے*
ہلدی ایسے مواد کو جسم میں خارج ہونے سے روکنے میں مدد دیتی ہے جو ورم اور خون کی شریانوں سے جڑے امراض کا باعث بنتا ہے، ہر رات ہلدی ملا دودھ پینا امراض قلب میں مبتلا ہونے کا خطرہ کم کرتا ہے۔

*دماغ کے لیے بھی بہترین*
ہلدی ملا دودھ پینا دماغ میں ایسے جز کی سطح کو بڑھاتا ہے جو الزائمر اور دماغی تنزلی کا باعث بننے والے دیگر امراض سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔

*مضبوط مدافعتی نظام*
ہلدی میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس دفاعی خلیات جیسے ٹی سیلز، بی سیلز اور دیگر کو متحرک کرتے ہیں، جس سے جسمانی مدافعتی نظام زیادہ مضبوط ہوکر بیرونی جراثیموں پر حملہ آور ہوتا ہے۔

*ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں*
ہلدی ہڈیوں کا حجم گھٹنے کی روک تھام کرتی ہے، جبکہ کیلشیئم سے بھرپور دودھ میں آدھا چائے کا چمچ ہلدی کو ملانا ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے موثر مشروب ثابت ہوتا ہے۔

*بلڈ گلوکوز لیول کنٹرول کرے*
ہلدی میں شامل اجزا بلڈگلوکوز لیول کو کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں، جس سے ذیابیطس کے مریضوں کو مختلف پیچیدگیوں سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔

*اچھی نیند میں مددگار*
اس مشروب کا استعمال نیند کے معیار کو بہتر بناسکتا ہے، ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ دودھ میں ہلدی ملا کر پینا بے خوابی کی شکایت کو دور کرنے میں مدد دیتا ہے، اس کے علاوہ یہ مشروب ذہنی بے چینی بھی کم کرتا ہے، جس سے بھی نیند کا معیار بہتر ہوتا ہے۔

اسمال پوکس💢چھوٹی چیچک Small pox ایک انتہائی متعددی اورمہلک بیماری ہے۔ دنیا بھر میں اس کا خاتمہ کردیا گیاہے لیکن چیچک کے ...
17/01/2026

اسمال پوکس💢
چھوٹی چیچک Small pox ایک انتہائی متعددی اورمہلک بیماری ہے۔ دنیا بھر میں اس کا خاتمہ کردیا گیاہے لیکن چیچک کے وائرس کے چھوٹے نمونے تحقیق کے مقاصد کے لئے رکھے گئے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ حادثاتی طور پر واپس آ سکتا ہے۔

وجوہات

چھوٹی چیچک ویریولاوائرس کی وجہ سے ہوتی ہے۔ جومندرجہ ذیل طریقوں سے منتقل ہوتاہے:
٭متاثرہ شخص سے براہ راست تعلق کے نتیجے میں
٭آلودہ اشیاء کے استعمال سے
٭ممکنہ طاقت ورجنگی ہتھیارکے طورپر

علامات

انفیکشن کی علامات متاثرہ شخص میں 10-14 دن کے بعد ظاہر ہوتی ہیں۔ اس میں فلو کی جیسی مندرجہ ذیل علامات ظاہرہوتی ہیں:
٭بخار
٭سردر
٭بے چینی /بے آرامی
٭شدید تھکاوٹ
٭شدید کمردرد
٭قے
٭چہرہ، ہاتھ ،بازواورجسم پر سرخ دانے جس میں پانی جیسی رطوبت بھری ہوتی ہے اور وہ ہاتھ لگانے سے پھٹ جاتے ہیں۔ ان میں بعدمیں مواد/ پس پڑجاتاہے۔

تشخیص وعلاج

چھوٹی چیچک کی تشخیص کے لئے متاثرہ شخص کوہونے والے دانے کے ٹشوز کا نمونہ لیا جاتا ہے۔ جس کی جانچ پڑتال سے تشخیص کی تصدیق کی جا سکتی ہے۔
فی الحال چھوٹی چیچک سے بچاؤ کاکوئی علاج نہیں ہے۔

کیکر دراصل ایک درخت ہے جس کے پتے چھال پھلی اور گوند سب ہی طبی فوائد سے بھرپور ہوتے ہیں، کیکر کا مزاج سردخشک ہوتا ہے، اس ...
16/01/2026

کیکر دراصل ایک درخت ہے جس کے پتے چھال پھلی اور گوند سب ہی طبی فوائد سے بھرپور ہوتے ہیں،

کیکر کا مزاج سردخشک ہوتا ہے، اس کے درخت کے تنے سے ایک لعاب دار مادہ رستا ہے جسے گوند کہتے ہیں۔

گوند کیکر جلد کے لئے بےحد مفید ہے جبکہ کیکر کی گوند کا لعاب دیگر ادویات کے ساتھ ملا کر سینے کے امراض، نزلہ ، اسہال پیچش کے لئے استعمال کیا جاتا ہے،

گوند کیکر معدہ کی جھلی پر ایک تہہ چڑھا دیتا ہے جس سے انسان کا معدہ صحت مند رہتا ہے اور زہلریلے مادوں کے اثر سے محفوظ رہتا ہے، گوند کیکر کے فوائد درج ذیل ہیں۔

• گوند کیکر کے فوائد

• کھانسی کا علاج
سردی کے موسم میں کھانسی ایک عام مسئلہ مگر مستقل کھانس کر گلے میں بھی خراش ہو جاتی ہے کھانسی اور حلق میں خراش کے لئے منہ میں کیکر کی گوند رکھ کر اس کا لعاب چوسنے سے تھوڑی دیر میں گلے کی تکلیف اور کھانسی دور ہو جاتی ہے۔

• جھریاں اور جھائیاں

وقت کے ساتھ ساتھ چہرے پر اور جسم پر جھریاں آنے لگی ہیں ان جھریوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے گوند کیکر کا استعمال کیا جاتا ہے، یہ جلد میں موجود خلیوں کو صحت مند رکھتی ہے جلد کو چکنا اور جلد کو لچکدار بناتی ہے۔

• دانے اور ان کے داغ دھبے

گوند کیکر چہرے پر لگانے سے یہ ایسے جراثیم کا خاتمہ کرتی ہے جو جلد کو خراب کرنے اور دانوں کا باعث بنتے ہیں گوند کی اینٹی آکسیڈنٹ اور اینٹی سوزش خصوصیات چہرے کو داغ دھبوں اور دانوں سے محفوظ رکھتی ہیں۔

• شوگر کے مریضوں کے لئے بہترین

گوند کیکر کو شوگر کے مریضوں کے لئے بہترین قرار دیا جاتا ہے گوند کیکر کا استعمال خون سے شوگر کی سطح کو کم کرتا ہے اس طرح گوند کیکر شوگر لیول کو کنٹرول کرتی ہے۔

• کولیسٹرول کنٹرول کرنے کے لئے بہترین

طبی ماہرین کے مطابق جو افراد کولسٹرول کی بیماری میں مبتلا ہیں وہ گوند کیکر کے ذریعے اپنے کولیسٹرول لیول کو کم کر سکتے ہیں ہائی کولیسٹرول کا تعلق دل سے ہوتا

اسی لیے اس کے بڑھنے کے ساتھ دل کی دیگر بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور فالج کے اٹیک کا بھی خطرہ ہوتا ہے ایسے میں گوند کیکر ان تمام مسائل سے دور رکھتی ہے۔

• وزن کم کرنے کے لئے مفید
گوند کیکر کے استعمال سے قوت مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے اس کے استعمال سے میٹابولزم میں اضافہ ہوتا ہے اور اس طرح جسم سے اضافی چربی کا خاتمہ ہوتا ہے اور وزن میں واضح کمی آتی ہے۔

منہ کے چھالے:
ببول کی چھال کا ماؤتھ واش منہ کے چھالوں میں بہت مفیدہے۔ اس کے استعمال سے جلد افاقہ ہو جاتا ہے۔ کیکر کی 20گرام چھال کو ایک پاؤ گرم پانی میں بھگوکر جوش دیں، چھان کر کلیاں کرائیں، منہ کے چھالے ٹھیک ہوجاتے ہیں۔

زہریلے زخم:
زہریلے زخموں کے علاج کیلئے ببول کی چھال اکسیر کا درجہ رکھتی ہے۔ کیکر کی چھال سکھا کر باریک سفوف کرلیں، گندے زہریلے زخموں پر چھڑکنے سے زخم بھر جاتے ہیں۔

دل کی دھڑکن:
اگر ببول کے پھولوں کی ڈوڈیاں چھ گرام سے 10گرام پانی میں گھوٹ کر مصری ملا کر پینے سے خفقان دل اور دل کی دھڑکن کی شکایت دور ہوجاتی ہے۔

ہچکی لگنا:
ببول کے کانٹے 10گرام پانی 25 گرام میں جوش دیں، چھان کر شہد ملا کر پلانے سے ہچکی رک جاتی ہے۔

دست وپیچش:
ببول کاگوند کا سفوف چھ گرام، لعاب بار تنگ سات گرام استعمال کرنے سے ہر قسم کے دست و پیچش کو فوراً آرام آجاتاہے۔

یرقان:
کیکر کی پھلیاں 9گرام، پانی ساڑھے تین گرام، رات کو بھگو رکھیں، صبح اس کا نتھار قدرے مصری ملا کر پلائیں۔ اس سے یرقان کی شکایت دور ہوجاتی ہے۔

پیشاب کی نالی کی سوجن:
کیکر کے پتے 5گرام، پانی 50 گرام میں بھگو کر اس کا نتھار پی لیں، پیشاب کی نالی کی سوجن اورسوزش بول میں مفید ہے۔

جریان کا مرض:
کیکر کی کچی پھلیاں خشک کر کے سفوف کرلیں، اور برابر چینی ملالیں، خوراک 5گرام سے 10گرام ہمراہ دودھ دیں، انشاء اللہ جلد فائدہ ہوگا۔

سیلان کا علاج:
کیکر کی پھلیاں 10 گرام کو ایک پاؤ پانی میں بھگو دیں پھر ابال کر چھان لیں، اور دو گرام پھٹکڑی سفید ملا کر اعضائے مخصوصہ زنانہ کو دھوئیں، سیلان کے لئے مفید ہے، بازاری دواؤں سے بڑھ کر فائدہ مند ہے۔

کان درد:
کیکر کے پھول 20 گرام، تیل سرسوں 100گرام تیل کو گرم کرلیں، گرم ہونے پر اس میں کیکر کے پھول ڈال دیں، جب پھول جل جائیں تو اتار کر چھان لیں، یہ تیل ایک دو بوند نیم گرم کا ن میں ڈالنے سے کان کا درد اور پیپ آنی بند ہوجاتی ہے۔

دانتوں کی مسواک:
ببول کی ملائم شاخوں سے دانتوں کی صفائی کے لئے مسواک کرتے ہیں۔جس سے دانتوں کے متعدد امراض ختم ہو جاتے ہیں۔

گوند کیکر سے مردانہ کمزوری کا علاج
نسخہ الشفاء : گوند کیکر 50 گرام
ترکیب تیاری : گوند کیکر کو دیسی گھی میں ہلکا سا فرائی کر لیں بھون لیں پھر اس کو گرائنڈ کر کے پاؤڈر بنا کر رکھ لیں
مقدار خوراک : دو 2 گرام، روزانہ شام 5 بجے خالی پیٹ ایک گلاس نیم گرم دودھ میں ایک چمچ دیسی گھی اور ایک چمچ شہد کا ملا کر ایک ماہ استعمال کریں
فوائد : مردانہ کمزوری، جریان، احتلام، ذکاوت حس، سرعت انزال، کمر درد، جوڑوں کا درد، اور امساک کیلئے بہترین اور آسان علاج ہے

منہ کے اندر پیدا ہونے والی تکالیف میں بھی کیکر کے اجزاء بہت فائدہ مند ثابت ہوئے ہیں۔ اگر منہ میں چھالے ہوگئے ہوں تو کیکر کی چھال اور آم کی چھال چھ چھ ماشہ کو ایک سیر پانی میں جوش دے کر اس سے کلیاں کی جائیں

تومنہ میں چھالے پیدا ہونے کی شکایت دور ہوسکتی ہے۔
اس کے علاوہ اگر کیکر کے پھول باریک پیس کر شہد میں حل کرکے بچہ کے منہ میں لگائے جائیں تو اس طرح بھی منہ کے چھالے دور ہوسکتے ہیں۔

کیکر کی مسواک۔

اگر کیکر کی لکڑی سے مسواک کی جائے تو دانت مضبوط ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح اگر اس کی چھال کو پیس کر مسوڑھوں پر ملیں تو مسوڑھے مضبوط ہو جاتے ہیں اور دانتوں کا ہلنا بند ہو جاتا ہے۔

اگر کیکر کی لکڑی کو جلاکر پیس لیا جائے اور اس میں تھوڑا سا نمک ملا کر دانتوں پر ملیں تو دانت چمکدار ہوسکتے ہیں اس کے ساتھ اگر چھال کے جوشاندہ سے کلیاں بھی کریں تو مسوڑھوں سے پیپ وغیرہ آنے میں بھی آرام آسکتا ہے۔

حلق و سینہ کی تکالیف:

کیکر کی چھال کو جوش دے کر اس کے پانی سے غرغرے کئے جائیں تو گلے کے دردمیں فائدہ ہوتا ہے اور حلق کے دوسرے امراض میں بھی آرام ملتا ہے۔

اگر کیکر کا گوند منہ میں ڈال کر چوسا جائے تو یہ سینے کی تکالیف اور کھانسی میں فائدہ کرتا ہے اور سینہ کی خشونت ختم ہوسکتی ہے۔

کیکر کے گوند کا سفوف ساڑھے تین گرام،مکھن کےساتھ کھاتے رہنے سے پھیپھڑے کے زخم بھر سکتے ہیں اور کھانسی ختم ہونے لگتی ہے۔

کیکر کی خشک چھال دس گرام، پانی میں جوش دے کر نیم گرم پلانا پرانی کھانسی میںمفید ہوسکتا ہے۔

پیٹ کی تکالیف:

کیکر کی گوند پیچش کا اچھا علاج ہے۔ اس مقصد کے لیے بقدر 6گرام گوند پانی میں حل کرکے پلائیں

یا اس کا سفوف بکری کے دودھ کے ہمراہ استعمال کریں۔ اس سے بواسیر کا خون بھی بند ہوسکتا ہے۔

کیکر کی جڑ کو پانی میں جوش دے کر پلانےسے درد معدہ میں آرام آجاتا ہے اور اس کی زائد رطوبتیں خشک ہوجاتی ہیں۔

شدید ہچکی کی صورت میں ببول کے کچھ کانٹے نصف سیر پانی میں جوش دے کر چھان لیں اور نیم گرم میں قدرے شہد ملا کر پلائیں۔

کیکر کی کونپلوں میں ذرا سی افیون ملا کر پیس لیں اور چھوٹی چھوٹی مونگ کی دال کی طرح گولیاں بنالیں یہ گولی پانی میں حل کرکے بچہ کو پلائیں تو اس سے ہرے، پیلے دست بند ہوسکتے ہیں۔

کیکر کے پتے 25گرام، سفید زیرہ 12گرام کوٹ کر رات کو پانی میں ڈال کر رکھ دیں اور صبح کے وقت نتھار کر پلائیں بلغمی دستوں میں مفید ہوسکتا ہے۔

خونی اسہال کے لیے کیکر کے نرم پتے قدرے کالی مرچ کے ساتھ پانی سے پیس کر شکر ملا کر پلاتے ہیں۔

کیکر کی پھلیوں کا سفوف خصوصاً جب کچی پھلیاں خشک کرلی گئی ہوں بقدر تین گرام کھلانے سے اسہال بند ہوسکتے ہیں۔
اسی طرح ببول کی گوند کا سفوف چھ گرام ہمراہ لعاب بار تنگ سات گرام استعمال کرنے سے ہر قسم کے اسہال اور پیچش میں افاقہ ہوسکتا ہے۔

اعضائے بول کی تکالیف:

سوزاک کے لیے کیکر کی پھلیوں کو پانی میں بھگو کر رکھ دیں اس کے بعد پانی صاف کرکے استعمال کریں۔کیکر کے گوند کا لعاب پینے سے ذیابیطس شکری میں شکر کا آنا موقوف ہو سکتا ہے۔

کیکر کے پھول 25گرام کسی مٹی کے کوزہ میں پائو بھر پانی کے ساتھ تر کریں اور صبح مل چھان کر مصری کوزہ 25گرام ملاکر پلائیں۔ چند روز کے استعمال سے سوزاک بول کو نفع ہوتا ہے۔

کیکر کی تین کونپلیں رات کو پانیمیں بھگو کر صبح مل چھان کر 25گرام اصلی گھی گرم کر کے ملا کر پی لیں، دوسرے روز بھی ایسا ہی کریں لیکن تیسرے روز گھی استعمال نہ کریں۔ چار پانچ روز کے استعمال سے سوزاک میں فائدہ ہوسکتا ہے۔

اس کے علاوہ کیکر کے سبز پتے ایک تولہ، پھٹکری سرخ دیڑھ ماشہ، آدھ سیر پانی میں پیس کر صاف کرکے 50 گرام شکر ملاکر پلانے سے بھی سوزاک میں جلد آرام آسکتا ہے۔

جلد کی تکالیف:

جذام میں کیکر کی چھال 35گرام، پانی میں بھگو کر پیتے رہنےسے جذام ختم ہوسکتا ہے۔
آتشک کے زخموں کو اگر کیکر کی چھال کے جوشاندہ سے دھویا جائے تو وہ بہت جلد اچھے ہوسکتے ہیں۔

کیکر کے پھول سرکہ میں حل کرک داد پر لگانے سے داد اچھا ہونے لگتا ہے۔
گرم ورموں میں کیکر کے پتوں کا لیپ بہت مفید ثابت ہواہے۔
اگر کیکر کے پتوں کو پیس کر چھوٹے زخموں پر لیپ کریں تو زخم بھرن

آپ سمجھتے ہیں ہڈیوں کی کمزوری صرف کیلشیم کی کمی سے ہوتی ہے، مگر اصل کہانی اس سے کہیں گہری ہے۔بہت سے لوگوں کے جسم میں کیل...
16/01/2026

آپ سمجھتے ہیں ہڈیوں کی کمزوری صرف کیلشیم کی کمی سے ہوتی ہے، مگر اصل کہانی اس سے کہیں گہری ہے۔

بہت سے لوگوں کے جسم میں کیلشیم موجود ہوتا ہے، پھر بھی ہڈیاں خاموشی سے کمزور ہوتی رہتی ہیں۔

اصل مسئلہ کیلشیم کا ہونا نہیں، بلکہ اس کا صحیح جذب نہ ہونا ہوتا ہے۔

جب معدہ کمزور ہو تو کھائی گئی غذائیت خون تک مکمل نہیں پہنچ پاتی۔

کیلشیم ہڈی تک پہنچنے کے لیے مضبوط ہاضمہ، وٹامن ڈی اور متوازن ہارمونز مانگتا ہے۔

اگر جسم میں تیزابیت زیادہ ہو تو کیلشیم پیشاب کے راستے ضائع ہونے لگتا ہے۔

زیادہ چائے، کافی اور نمک بھی کیلشیم کو ہڈیوں سے باہر کھینچ لیتے ہیں۔

کم حرکت والا طرزِ زندگی ہڈیوں کو پیغام دیتا ہے کہ انہیں مضبوط رہنے کی ضرورت نہیں۔

اسی لیے بیٹھے رہنے والے افراد میں ہڈیوں کی کمزوری جلد ظاہر ہو جاتی ہے۔

کن لوگوں کو زیادہ خطرہ ہوتا ہے وہ افراد جو دھوپ سے دور رہتے ہیں۔

کن لوگوں کو خاص نقصان ہوتا ہے جو کیلشیم تو لیتے ہیں مگر ہاضمہ نظرانداز کرتے ہیں۔

مزاج کے لحاظ سے کمزور ہڈیاں سردی، درد اور جلد تھکن کی علامت بنتی ہیں۔

کیلشیم لینے کا بہترین وقت وہ ہے جب معدہ پرسکون اور جسم متحرک ہو۔

دودھ کے ساتھ ہلکی جسمانی حرکت کیلشیم کو ہڈیوں میں بٹھانے میں مدد دیتی ہے۔

جب جسم کو صحیح سگنل ملتا ہے تو ہڈیاں خود کو دوبارہ مضبوط کرنا شروع کر دیتی ہیں۔

یاد رکھیں طاقت گولی سے نہیں، درست جذب اور حرکت سے آتی ہے۔

🌿✨ قدرتی علاج – دیسی جڑی بوٹیوں کی دنیا ✨🌿

کیا آپ صحت مند زندگی کے خواہشمند ہیں؟
کیا آپ دیسی جڑی بوٹیوں اور گھریلو نسخوں کے بارے میں سچّی اور مفید معلومات چاہتے ہیں؟

📌

14/01/2026

Enjoy the videos and music that you love, upload original content and share it all with friends, family and the world on YouTube.

13/01/2026

thank you music for vlogs copyright free music kino Malta k Faidy kino k chalky rang gora krny k Liye

Address

Multan
60000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Desi Herbal Totkay posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Desi Herbal Totkay:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram