Govt.Muslim HIGH School Multan

Govt.Muslim HIGH School Multan One of the oldest schools in the city of Multan. MHS has played a vital role in the field of education in the city.

Govt.Muslim High School is situated near Pull Mouj Darya (Kalma Chowke) It has another Primery Branch near Nishtar Hospital,Nishtar road Multan. A lot of well known scholars got education from here, Inzamam-Ul-Haq Pakistani cricket captain use to study in this school.

30/03/2017
30/03/2017
16/03/2017
04/03/2017
30/11/2016

ایک عجیب حقیقت کا انکشاف !
آثار قدیمہ کے ماہرین کھدائی کر رہے تھے روس کا معروف علاقہ وادی قاف تھا.
کھدائی جاری تھی اسی دوران زمین کی گہرائی میں سے لکڑی کے بوسیدہ ٹکڑے دیکھے گئے.
غور کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ کشتی نوح کے جدا شدہ ٹکڑے ہیں جو دریائی موجوں کے اثرات کی وجہ سے زمین میں پانچ ہزار سال گزرنے کے باوجود محفوظ تھے.
آثار قدیمہ کے محققین نے ان تختوں کو اپنے پاس محفوظ کر لیا اور مزید دو سال کھدائی اور غور و فکر میں صرف کیۓ حتی کہ اسی جگہ سے ایک تختی ملی جو ایک لوح کی مثل تھی جس پر چند چھوٹی سطریں انتہائی پرانی اور انجان تحریر میں ثبت تھیں.
تختی 14 انچ لمبی 10 انچ چوڑی تھی.
حیرت کی بات یہ کہ باقی تختیاں بوسیدہ ہوچکی تھیں اور یہ صحیح و سالم تھی اور بہت حیران کن بھی_____
اب بھی یہ تختی ماسکو کے عجائب گھر میں موجود ہے جسے دیکھنے ملکی و غیر ملکی سیاہ آتے ہیں.
اس انکشاف کے بعد روسی محکمہ آثار قدیمہ نے اس لوح کی تحقیق کے لیۓ سات افراد کی کمیٹی تشکیل دی
ان میں ماہر تاریخ،خط شناسی کے استاد اور روس و چین کے ماھر زبان داں شامل ہیں.
ان افراد کا تعارف درج ذیل ہے
پروفیسر سولی نوف___ ماسکو یونیورسٹی کے ماھر تاریخ اور پرانی زبانوں کے استاد.
2.پروفیسر ایفاہان خینو_______ چائنہ کی لولوہان یونیورسٹی کے زبان شناسی کے استاد.
3_میشانن لوفارنگ______روس کے محکمہ آثار قدیمہ کے ماہر
4.پروفیسر دی راکن______ نالج لنین اکادمی میں ماہر تاریخ.
5.قاغول گورف_____کیفزو یونیورسٹی میں ماہر لغات.
6.ایم احمد کولا_____روسی ادارہ عمومی تحقیقات کے مہتمم.
7.میچر کولتوف______ وائس چانسلر اسٹالین یونیورسٹی.
ان حضرات نے 8 مہینے تحقیق کی اور درج ذیل رپورٹ پیش کی.
1.لکڑی کی بنی یہ تختی انہیں تختیوں میں سے ہے کہ جو پھلے دریافت ہوئیں اور انکا تعلق جناب نوح ۴ سے ہے. یہ تختی باقیوں کی نسبت بوسیدہ نہیں ہوئی اور اسقدر سالم تھی کہ نقش شدہ تحریر کو پڑھنا بآسانی ممکن تھا.
۲. اس عبارت کا تعلق سامی زبان سے تھا کہ جو ام اللغات تھی.
۳. ان حروف اور ان کے معانی کچھ یوں تھے،
"اب فنا ایلاھم.ای قل بیدج فوریک بن. ذئ شاؤ .....محمدا ایلیاہ شبرا شبیرا فاطمہ غقیوما بیون افیقون ابھکاری
مازونہ تلال جی یور-نہتروجی ہاش کوقائید یثوم"
"اے میرے پروردگار! اے میرے یاور و مددگار! ان نفوس مقدسہ یعنی محمد ص ،ایلیا (علی ع) ، شبر (حسن ع) ،شبیر (حسین ع) اور فاطمہ س کے وسیلے سے اپنی رحمت و کرامت سے ہماری مدد فرما جو کہ فضیلت و عظمت کے مالک ہیں اور جن کی برکت سے یہ دنیا قائم ہے. ان بابرکت ناموں کے صدقے ھماری مدد فرما. صرف تیری ہی ذات ہے کہ جو میری مدد فرما سکتی ہے"
اس سب کے بعد انگریز دانشور این ایف میکس جو کہ مانچسٹر یونیورسٹی میں پرانی زبانوں کا استاد تھا اس تحقیق کو انگریزی میں منتقل کیا اور یہ درج ذیل رسائل و اخبارات میں شائع ہوئی.
۱. ہفت روزہ ویکلی مرر،لندن شمارہ ۲۸ دسمبر ۱۹۵۲
۳.اخبار اسٹار انگریزی،لندن شمارہ جنوری ۱۹۵۲
۳.روزنامہ سن لائٹ جو مانچسٹر سے شائع ہوا کرتا تھا،شمارہ جنوری ۱۹۵۴
۴.ویکلی مرر،یکم فروری ۱۹۵۴
۵.روزنامہ الہدی،قاہرہ مصر ۳۰ جنوری ۱۹۵۳
محدث حکیم سید محمود گیلانی مدیر اہدالحدیث و سربراہ اھلسنت نے ان مطالب کی تشریح کی اور شائع کروایا
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سب تحقیق غیر اسلامی ملک میں غیر مسلموں کے ہاتھوں ہوئی کہ جو مذھب کے خلاف اور مادہ پسند تھے اور ایک صدی سے وہاں یہی سب جاری ہے.

25/11/2016
25/11/2016

Lose Weight Very Fast 15 Mints Daily

24/11/2016

Address

Okara/Renala Khurd Road
Multan
60000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Govt.Muslim HIGH School Multan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram