Easy Marriage Bureau Multan

Easy Marriage Bureau Multan اندرون و بیرون ملک سنی رشتوں کا با اعتماد ادارہ صرف سنجیدہ اور رجسٹریشن کروانے والے خواتین و حضرات رابطہ کریں۔۔۔

02/02/2026
02/02/2026

پچانوے فیصد سے زیادہ امریکی رات کا کھانا سات بجے تک کھا لیتے ہیں اور آٹھ بجے تک بستر میں ہوتے ہیں اور صبح پانچ بجے سے پہلے بیدار ہو جاتے ہیں۔
بڑے سے بڑا ڈاکٹر نو بجے صبح سے پہلے ہسپتال میں موجود ہوتا ہے پورے یورپ، امریکا، جاپان، آسٹریلیا اور سنگاپور میں کوئی دفتر، کارخانہ، ادارہ، ہسپتال ایسا نہیں جہاں اگر ڈیوٹی کا وقت نو بجے ہے تو لوگ ساڑھے نو بجے آئیں !
آج کل جب کہ چین دنیا کی دوسری بڑی طاقت بن چکی ہے پوری قوم صبح چھ سے سات بجے ناشتہ، دوپہر ساڑھے گیارہ بجے لنچ اور شام سات بجے تک ڈنر کر چکی ہوتی ہے۔
اللّٰہ کی سنت کسی کیلئے نہیں بدلتی۔ اس کا کوئی رشتہ دار نہیں نہ اس نے کسی کو جنا، نہ کسی نے اس کو جنا۔ جو محنت کرے گا وہ کامیاب ہوگا۔
عیسائی ورکر صبح سات بجے دفتر پہنچ جائے گا، تو دن کے ایک بجے تولیہ بردار کنیزوں سے چہرہ صاف کروانے والے بہادر شاہ ظفر سے زیادہ کام یاب ہو گا۔
بدر میں فرشتے نصرت کیلئے اتارے گئے تھے لیکن اس سے پہلے مسلمان پانی کے چشموں پر قبضہ کر چکے تھے جو آسان کام نہیں تھا اور خدا کے محبوبؐ رات بھر یا تو پالیسی بناتے رہے یا سجدے میں پڑے رہے تھے۔
حیرت ہے ان دانش وروں پر جو یہ کہہ کر قوم کو مزید افیون کھلا رہے ہیں کہ پاکستان ستائیسویں رمضان کو بنا تھا کوئی اس کا بال بیکا نہیں کرسکتا۔ کیا سلطنتِ خدا داد پاکستان اللہ کی رشتہ دار تھی اور کیا سلطنت خداداد میسور اللہ کی دشمن تھی؟؟
جس ملک کے ووٹر ذہنی غلام ہوں،
پیر اور شاہ غنڈے ہوں،
مولوی منافق ہوں،
ادارے کرپٹ ہوں،
ڈاکٹر بے ایمان ہوں،
سیاست دان ،وکیل اور پولیس ڈاکو ہوں،
کچہری بیٹھک ہو ججز بے اعتبار ہوں،
لکھاری خوشامدی ہوں،
اداکار بھانڈ ہوں،
ٹی وی چینل مسخرے ہوں،
تاجر بے ایمان اور سود خور ہوں،
اساتذہ حرام خور ہوں،
دکان دارچور ہوں،
اور جہاں تین سال کی بچی سے پچاس سال تک کی عورتیں ریپ ہوں،
اور مجرموں کو سیاسی دباؤ میں آکر چھوڑ دیا جاۓ۔
آج کتنے وزیر کتنے سیکرٹری کتنے انجینئر کتنے ڈاکٹر کتنے پولیس افسر کتنے ڈی سی او کتنے کلرک آٹھ بجے ڈیوٹی پر موجود ہوتے ہیں؟؟
کیا ایسی قوم کو تباہ وبرباد ہونے سے دنیا کی کوئی طاقت بچا سکتی ہے جس میں کسی کو تو اس لئے مسند پر نہیں بٹھایا جاسکتا کہ وہ دوپہر سے پہلے اٹھتا ہی نہیں اور کوئی اس پر فخر کرتا ہے کہ وہ دوپہر کو اٹھتا ہے لیکن سہ پہر تک ریموٹ کنٹرول کھلونوں سے دل بہلاتا ہے جب کہ کچھ کو اس بات پر فخر ہے کہ وہ سہ پہر تین بجے جاگتے ہیں۔
کیا معاشرے کی اخلاقی پستی کی کوئی حد باقی ہے؟
خدا را یہ مت سوچیں کہ میں صبح صبح اٹھ کر کام پر جاؤں گا تو لوگ سو رہے ہوں گے ،میرے پاس گاہک، ورکر یا کام کدھر سے آئے گا؟؟ یاد رکھیے گاہک ، ماتحت اور رزق اللّٰه رب العزت عطا کرتا ہے🤔🤔
کسی کی دل آزاری ہوئی ہو تو پیشگی معذرت🌹💐مجید میمن کراچی
copied

📢 پورا ہفتہ چھٹیاں پنجاب میں سرکاری تعطیلاتوزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز  ٹویٹ کے مطابق صوبہ پنجاب میں فروری کے پہلے ہفتے ...
02/02/2026

📢 پورا ہفتہ چھٹیاں
پنجاب میں سرکاری تعطیلات
وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز ٹویٹ کے مطابق صوبہ پنجاب میں فروری کے پہلے ہفتے کے دوران درج ذیل تاریخوں میں سرکاری تعطیلات ہوں گی:
📅 5 فروری
یومِ یکجہتیٔ کشمیر — سرکاری تعطیل
📅 6 فروری
بسنٹ کے موقع پر صوبائی تعطیل
📅 7 فروری
ہفتہ وار تعطیل
📅 8 فروری
ہفتہ وار تعطیل
اس طرح صوبہ پنجاب میں چار (4) دن مسلسل تعطیلات ہوں گی، جس کے باعث عوام کو طویل ہفتہ وار وقفہ میسر آئے گا۔
وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے
نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس وقفے کو مثبت، تعمیری اور ذمہ دارانہ انداز میں گزاریں۔

فری لانسرز سے رشتہ نہ کرنے والوں کا انجام....آج میں ایک انتہائی پڑھے لکھے گھرانے کی جہالت دیکھ کر دنگ رہ گیا میرے ایک دو...
01/02/2026

فری لانسرز سے رشتہ نہ کرنے والوں کا انجام....
آج میں ایک انتہائی پڑھے لکھے گھرانے کی جہالت دیکھ کر دنگ رہ گیا
میرے ایک دوست جو کہ ایک ٹاپ ریٹڈ سافٹ ویئر انجینئر ہے اور ماہانہ 2 سے 3 لاکھ کماتا ہے
کا رشتہ ایک ریٹائرڈ سرکاری افسر کے گھر گیا لڑکی نے ماسٹرز کیا ہوا تھا بات چیت شروع ہوئی تو لڑکی کے والد نے بڑے تکبر سے پوچھا کہ بیٹا آپ کا دفتر کہاں ہے اور آپ کے انڈر کتنے لوگ کام کرتے ہیں
میرے دوست نے عاجزی سے جواب دیا کہ انکل میرا کوئی فزیکل دفتر نہیں ہے میں امریکی کمپنیوں کے لیے اپنے گھر سے ریموٹ جاب کرتا ہوں
یہ سنتے ہی لڑکی کی والدہ نے جو جملہ کہا وہ ہمارے معاشرے کا اصل المیہ ہے
انہوں نے منہ بنا کر کہا کہ اوہ مطلب آپ گھر بیٹھے کمپیوٹر پر ٹک ٹک کرتے ہیں ہم تو سمجھے تھے آپ کوئی افسر ہوں گے دیکھیں بیٹا ہماری بیٹی نے یونیورسٹی سے ٹاپ کیا ہے ہم اس کی شادی کسی ایسے لڑکے سے نہیں کر سکتے جس کا کوئی سوشل اسٹیٹس ہی نہ ہو
اور جو گھر میں بیٹھ کر ویلا لگے. وہ لوگ اپنی بیٹی کا ہاتھ 50 ہزار کمانے والے ایک بینک کیشئر کے ہاتھ میں دینے کو تیار ہیں کیونکہ وہ سوٹ ٹائی پہن کر دفتر جاتا ہے لیکن 3 لاکھ کمانے والا انہیں کمپیوٹر آپریٹر لگتا ہے جب تک یہ بابو مائنڈ سیٹ ختم نہیں ہوگا اس ملک کا ٹیلنٹ ایسے ہی ذلیل ہوتا رہے گا۔
copied
haider ali

01/02/2026

اللہ دتہ مراثی اور اس کی بیوی میں اس بات پر گرما گرم بحث جاری تھی کہ اس برس چودھری حاکم کی فصل زیادہ ہو گی یا چودھری لال دین کی۔ اللہ دتہ کے مطابق حاکم نے کھاد ٹرالیاں بھر بھر کے ڈالی تھی۔ جب کہ اُس کی بیوی کے مطابق لال دین کے ٹیوب ویل زیادہ پانی لگاتے تھے۔ اللہ دتہ کہہ رہا تھا کہ حاکم نے نیا بیج منگوایا ہے، جب کہ اُس کی بیوی کہہ رہی تھی کہ لال دین نے نئے ٹریکٹر سے ہل چلایا ہے۔
ان کی چخ چخ سے تنگ آ کر اللہ دتے کے باپ نے اپنا جوتا اٹھا کر ان کی طرف پھینکا اور کہا :”تہانوں لوے مولا! نہ زمینیں تمہاری، نہ ٹیوب ویل اور ٹریکٹر تمہارے ۔تمہارے حصے میں تو وہی خیرات کے چند دانے آنے ہیں ۔اپنی بک بک بند کرو اور شام کی روٹی کا کوئی بند و بست کرو۔”
ادھر فیس بُک پر پاکستانی بھی یہ بحث کر رہے ہیں کہ AI technology کے میدان میں امریکا آگے ہے یا چین آگے نکل گیا ہے؟
---------------------
یہ گھڑی محشر کی ہے، تُو عرصۂ محشر میں ہے
پیش کر غافل، عمل کوئی اگر دفتر میں ہے!
اقبال
منقول

دنیا اچھے لوگوں کے دم قدم سے قائم ہے : پشاور سے انسانیت دوستی کی انتہائی خوبصورت مثال : آئیس کا نشا کرنے والی نوجوان اور...
01/02/2026

دنیا اچھے لوگوں کے دم قدم سے قائم ہے : پشاور سے انسانیت دوستی کی انتہائی خوبصورت مثال : آئیس کا نشا کرنے والی نوجوان اور بے سہارا لڑکی کو برباد ہونے سے بچا لیا گیا ، نہ صرف یہ بلکہ ایک مخلص نوجوان سے شادی کروا کے شاندار ملازمت بھی دے دی گئی ۔۔۔۔۔ اس تصویر میں موجود نوجوان لڑکی پشاور میں اپنی ننھی بیٹی کے ہمراہ سڑکوں پر دربدر پھرتی تھی ، یہ آئیس کے نشا میں مبتلا تھی ، گھوم پھر کے مانگ تانگ کر اپنی لت اور بیٹی کے دودھ کا بندوبست کرتی اور کسی پل کے نیچے یا کسی دکان کے باہر سو جاتی ، ایک روز پشاور کی مشہور سماجی شخصیت حکیم خان کی نظر اس پر پڑی وہ اسے شفقت سے اپنے گھر لے گئے جہاں انہوں نے ایسے لڑکوں لڑکیوں کے لیے ایک بحالی سنٹر قائم کر رکھا تھا ، حکیم خان نے اس لڑکی کو پیار سے سمجھایا اسکے سر پر ہاتھ رکھا اور اسکی ننھی بیٹی کو اپنی ایک رشتہ دار خاتون کی تحویل میں دے دیا ، اس لڑکی کا علاج 1 سال جاری رہا جسکے بعد ایک روز حکیم خان نے اس لڑکی کو اپنے دفتر بلایا اور کہا اب آپ کا کیا ارادہ ہے کہاں جاؤ گی ، اس نے جواب دیا : بابا : میں کہاں جاؤں میرا اس دنیا میں کوئی نہیں ، اگر کوئی ہے بھی تو میں انکے پاس نہیں جانا چاہتی ۔۔۔ حکیم خان نے لڑکی کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا اگر آپ نے مجھے بابا کہا ہے تو آج سے آپ میری بیٹی ہو ، یوں اس خاتون کو اسی بحالی سنٹر کے خواتین والے حصے میں ملازمت دے دی گئی ، کچھ ماہ گزرے اسی بحالی سنٹر میں زیر علاج ایک لڑکے کو اس لڑکی بارے معلوم ہوا تو اس نے اپنا علاج مکمل ہونے کے بعد اپنے والدین کو بلایا اور اس لڑکی سے شادی کرنے کی خواہش ظاہر کی ، والدین نے انکار کیا تو بیٹا انکے پیروں میں پڑ گیا اور حکیم خان کی بھی منت کی کہ انکو منائیں ۔۔۔ والدین مان گئے ، دونوں کی دھوم دھام سے اسی بحالی سنٹر یعنی حکیم خان کے گھر میں شادی کی گئی ، سنٹر کے ڈاکٹرز اور لیڈی ڈاکٹرز و سٹاف نے اپنا بیٹا بیٹی سمجھ کر اس شادی میں اپنا اپنا حصہ ڈالا ، علاقہ کے مخٰیر لوگوں نے بھی کار خیر میں حصہ لیا ، اس نوجوان کو بھی سنٹر میں نوکری دے دی گئی ، رہنے کے لیے ان دونوں کو سنٹر کے قریب مفت گھر بھی دیا گیا اور اب ایک سال سے یہ جوڑا اپنی ننھی بیٹی کے ساتھ انتہائی خوش و خرم زندگی بسر کر رہا ہے ۔۔۔ بے شک اس دنیا میں برے لوگ بھی بہت ہیں لیکن یہ دنیا حکیم خان جیسے اچھے لوگوں کے دم قدم سے قائم ہے ۔۔ اللہ اس جوڑے اور حکیم خان کی عمر دراز کرے آمین
copied

01/02/2026
01/02/2026

Ek bus mein 10 log hain. Har log ne 1 bag uthaya, har bag mein 2 billi, har billi ke 3 bache. Total kitne zinda cheezein bus mein hain?

کہتے ہیں کہ جب آسٹریلیا میں خرگوشوں نہیں پائے جاتے تھے 🙄🧐یہ قدرت کا فیصلہ تھا لیکن پھر انسانوں نے فیصلہ کیا کہ وہاں خرگو...
31/01/2026

کہتے ہیں کہ جب آسٹریلیا میں خرگوشوں نہیں پائے جاتے تھے 🙄🧐
یہ قدرت کا فیصلہ تھا لیکن پھر انسانوں نے فیصلہ کیا کہ وہاں خرگوش لائے جائیں 1859 میں وہاں صرف 24 خرگوش لا کے چھوڑے گئے. بظاہر بے ضرر اور معصوم دکھنے والے ان جانوروں کی پیدائش کو کنٹرول کرنے کے لیے آسٹریلیا میں ان کا کوئی دشمن جانور یا وائرس نہیں تھا اس لیے چند ہی سال میں انکی تعداد لاکھوں بلکہ کروڑوں تک پہنچ گئی اور انہوں نے وہاں کے کسانوں کی ناک میں دم کرکے رکھ دیا اور انکی ساری فصلوں کو تباہ کردیا. پھر آسٹریلیا کو ان خرگوشوں کے خلاف جنگ لڑنا پڑی.
یہ لوگ سال میں 20 لاکھ خرگوش مارتے لیکن خرگوشوں کی آبادی جوں کی توں ہی رہتی. ان لوگوں نے خرگوش پروف باڑیں ایجاد کیں، زہر اور شکاری بندوقوں سے بھی کوشش کی لیکن ناکام رہے. مختلف طریقوں سے خرگوشوں کی آبادی ختم کرنے میں ناکامی کے بعد بالآخر ایک خطرناک وائرس چھوڑا گیا جس سے 95 فیصد خرگوش تو مر گئے لیکن باقی 5 فیصد پر وائرس بے اثر رہا اور دوبارہ آبادی بڑھنا شروع ہو گئی. آج بھی آسٹریلیا میں 20 کروڑ خرگوش موجود ہیں. آسٹریلیا میں اب خرگوش پالنا منع ہے اور صرف تماشا کرنے والوں کو انہیں رکھنے کی اجازت ہے.
جنگلی اونٹ 10 لاکھ سے زائد ہیں جنہوں نے آسٹریلیا میں فصلوں کا ستیاناس کر رکھا ہے جون 2020 میں آسٹریلیا کے صحرا میں آزاد گھومنے والے تقریباً 10 ہزار اونٹوں کو ہیلی کاپٹر سے فائر کر کے ایک منصوبے کے تحت مار دیا گیا تھا اگر اتنے بڑے پیمانے پر جانوروں کے قتل میں کوئی مسلم ملک ملوث ہوتا تو یقیناً جانوروں کے حقوق کی تنظیموں نے شہر شہر احتجاج کر کے آسمان سر پہ اٹھا لینا تھا ، یہ سچ ہے کہ آسٹریلیا کا حیاتیاتی تنوع ان دونوں جانوروں کی وجہ سے بھاری نقصان اٹھا رہا ہے لیکن ان کو جنگلی ماحول میں آزاد چھوڑنے کی کوتاہی بھی تو انسان کی اپنی ہے۔۔🤔🙄
copied urdu novels

ٹک ٹاک نے ایک اور گھر اجاڑ دیا : 18 سالہ جوان بیٹی سمیت 4 بچوں کی ماں نے آشنا کے ساتھ ملکر خاوند کو ق۔ت۔ل کرادیا ۔۔۔ ٹک ...
31/01/2026

ٹک ٹاک نے ایک اور گھر اجاڑ دیا : 18 سالہ جوان بیٹی سمیت 4 بچوں کی ماں نے آشنا کے ساتھ ملکر خاوند کو ق۔ت۔ل کرادیا ۔۔۔ ٹک ٹاک پر لائیو جاکر اچھے خاصے ڈالر کمانے والی ناز پکڑی کیسے گئی ؟ 15 روز قبل جڑانوالہ میں پیش آئے واقعہ کا ڈراپ سین ۔۔۔۔۔عثمان اور ناز 4 بچوں کے والدین تھے ، سب سے بڑی بیٹی 18 سال کی ہے ، ناز گھریلو خاتون مگر ٹک ٹاک کی عادی تھی ، وہ ٹک ٹاک پر لائیو جاتی ، اور اچھے خاصے پیسے کماتی تھی ، اسکا شوہر مزدوری پیشہ آدمی تھا اور رزق حلال کما کر بچوں کا پیٹ پالتا تھا چند روز قبل ہی اس نے ایک نیا رکشہ بھی لیا تھا ، ناز کی واقفیت ٹک ٹاک پر قریب ہی ایک چک کے مصطفیٰ نامی نوجوان کے ساتھ ہوئی وہ دونوں اکثر ایک ساتھ لائیو آنے لگے تو انکی کمائی اور زیادہ ہو گئی ، مصطفیٰ ٹاک ٹاکر بھی تھا اور راج مستری کا کام کرتا تھا ، پھر ناز نے اپنے گھر کی تعمیر ومرمت کے بہانے مصطفیٰ کو بلایا وہ کام بھی کرنے لگا اور ساتھ ہی پارٹ ٹائم ناز کے ساتھ بھی گھل مل گیا ، ۔۔۔ خیر گھر کی تعمیر کے دوران دونوں کو ایسے لگا کہ وہ ایک دوسرے کے لیے ہی بنے ہیں ۔۔۔۔ ایک خوفناک منصوبہ بنا ۔۔۔ 15 جنوری کی رات کوئی نامعلوم شخص آیا اور عثمان کو گو۔لی مار کر دھند میں فرار ہو گیا ، عثمان کو ہسپتال لے جایا گیا مگر وہ جانبر نہ ہو سکا ، ماں اور بچوں کے بیانات کے مطابق انہیں نہیں معلوم قا۔تل کون تھا پہلی بار اسے دیکھا تھا ۔۔۔ یہ ایک اندھا ق۔ت۔ل تھا ، پولیس کے اعلیٰ حکام نے ایس ایچ او تھانہ جڑانوالہ اور انکے ماتحت تفتیشی افسر کو ٹاسک دیا کہ جلد سے جلد قا۔تل کو ڈھونڈیں ، سی سی ٹی وی کیمرے چیک کیے گئے اور گھر کے موبائل فونز کا ریکارڈ حاصل کیا گیا ، سی سی ٹی وی کی ویڈیو میں ایک مشکوک شخص نظر آگیا ، پھر موبائل ریکارڈ پر میاں اور بیوی دونوں کے ساتھ ایک شخص کا رابطہ رہا ، واردات کی رات اسکا زیادہ رابطہ خاتون سے رہا ۔۔۔ اس کی شناخت کرکے اسے گرفتار کیا گیا ، پہلے تو مصطفیٰ نامی ملزم نے انکار کیا کہ میرا ان کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ، اس جھوٹ پر مزید سختی کی گئی تو ملزم نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا کہ ناز کے مشورے سے میں نے عثمان کو راستے سے ہٹایا ہے کیونکہ ہمارے خواب بہت بڑے تھے اور عثمان کے ہوتے ہوئے ہمارے خواب پورے نہیں ہو سکتے تھے ۔۔۔۔ ملزم نے خاتون کے ساتھ اپنے ناجا۔ئز تعلقات کا بھی اعتراف کر لیا ، جسکے بعد پولیس نے نئی نویلی بیوہ کو بھی گرفتار کر لیا ،دونوں ملزمان چالان ہو کر جیل پہنچ چکے ہیں اور چار بچے نہ صرف ہتیم ہوئے ہیں بلکہ ساری زندگی ماں کی بدچلنی کا الزام سہنے کے منتظر بیٹھے ہیں ۔۔۔۔۔ اس حوالے سے ایس ایچ او جڑانوالہ نے والدین اور مردوں و خواتین کو مشورہ دیا ہے کہ پہلی بات تو یہ کہ کم عمر بچوں اور کچے ذہن کے لڑکے لڑکیوں کو موبائل فون اور سوشل میڈیا سے دور رکھیں اور دوسری بات یہ کہ جن شوہروں اور بیویوں کا گزارہ نہ ہو رہا ہو وہ طلاق لے لیں ، لیکن انسانی جان کو نقصان پہنچانے سے باز رہیں ورنہ انجام ناز اور مصطفیٰ جیسا ہوتا ہے ، مجرم جتنا بھی شاطر ہو اپنے انجام سے کسی صورت نہیں بچ سکتا ۔۔۔
copied
1 Team Sultan: info agency

حامد میر لکھتے ہیں کہ میٹرک کے نتائج آئے تو پورے گاؤں میں ایک عجیب سی خاموشی چھا گئی۔ کہیں خوشی کے ڈھول بج رہے تھے تو کہ...
31/01/2026

حامد میر لکھتے ہیں کہ
میٹرک کے نتائج آئے تو پورے گاؤں میں ایک عجیب سی خاموشی چھا گئی۔ کہیں خوشی کے ڈھول بج رہے تھے تو کہیں مایوسی کے سائے۔ میرا ایک کلاس فیلو تھا، نہایت ذہین، مگر پڑھائی میں لاپرواہ۔ نتیجہ آیا تو وہ فیل ہو گیا۔ اس کے والد گاؤں کے سخت مزاج آدمی تھے۔ انہیں لگتا تھا کہ فیل ہونا صرف نالائقی کی علامت ہے، حالات یا ذہنی دباؤ کی نہیں۔
غصے میں آ کر انہوں نے بیٹے کو بےدردی سے مارا، سخت باتیں کہیں، اور آخرکار کمرے میں بند کر دیا۔ وہ لڑکا خاموش رہا، نہ رویا، نہ چیخا۔ رات کے پچھلے پہر، جب سب سو گئے، وہ کھڑکی سے نکل کر اندھیرے میں کہیں گم ہو گیا۔
صبح ہوئی تو گھر میں کہرام مچ گیا۔ باپ نے پہلے تو غصے میں کہا، “چلا گیا تو جائے، خود ہی لوٹ آئے گا۔”
مگر دن ہفتوں میں بدلے، ہفتے مہینوں میں، اور مہینے سالوں میں ڈھل گئے۔ نہ کوئی خبر، نہ کوئی نشان۔
ماں ہر دروازے پر دستک دیتی، ہر آنے جانے والے سے ایک ہی سوال پوچھتی:
“میرے بیٹے کو تو نہیں دیکھا؟”
وقت گزرتا گیا۔ دس سال بیت گئے۔ باپ کے بال سفید ہو گئے، مگر ماں کی حالت سب سے زیادہ خراب تھی۔ اس کی آنکھوں کی روشنی مدھم ہو گئی، جسم کمزور ہو گیا۔ وہ ہر وقت ایک ہی جملہ دہراتی:
“میرا بیٹا آ جائے تو میں ٹھیک ہو جاؤں گی۔”
آخرکار وہ بستر سے لگ گئی۔ گاؤں کے حکیم، شہر کے ڈاکٹر، سب نے ہاتھ کھڑے کر دیے۔ ایک دن ڈاکٹر نے صاف کہہ دیا:
“اب صرف بڑے شہر کے کسی اچھے پرائیویٹ ہسپتال میں امید ہے، ورنہ تیاری کر لیں۔”
یہ جملہ باپ کے دل میں تیر بن کر لگا۔ اس نے اپنی زندگی کی جمع پونجی، بھینسیں، زمین کا ایک ٹکڑا، سب کچھ بیچ دیا۔ بیوی کو لے کر شہر کے مہنگے ترین ہسپتال پہنچا۔
ہسپتال میں داخل ہوتے ہی ماں نیم بے ہوشی کی حالت میں تھی۔ اسے اسٹریچر پر لٹایا گیا۔ ایک نوجوان ڈاکٹر آگے بڑھا، فائل ہاتھ میں لی، اور مریضہ کی طرف جھکا۔
جیسے ہی اس ڈاکٹر کی نظر اس عورت کے چہرے پر پڑی، وہ یکدم ساکت ہو گیا۔
اس کے ہاتھ سے فائل گر گئی۔
چہرہ زرد پڑ گیا۔
لبوں سے بےساختہ نکلا:
“امّی…!”
پورا کمرہ جیسے جم گیا۔
باپ نے حیرت سے ڈاکٹر کو دیکھا، پھر بیوی کو، پھر دوبارہ ڈاکٹر کو۔
“یہ کیا کہہ رہے ہو؟”
ڈاکٹر گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا، عورت کے ہاتھ تھام لیے۔ آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
“میں… میں ہی آپ کا بیٹا ہوں۔”
عورت نے کمزور آنکھیں کھولیں، دھندلی نظر سے ڈاکٹر کے چہرے کو دیکھا۔ کچھ لمحے خاموش رہی، پھر ہلکی سی مسکراہٹ اس کے چہرے پر پھیل گئی۔
“میں جانتی تھی… میرا بیٹا زندہ ہے…”
یہ وہی لڑکا تھا جو دس سال پہلے گھر سے بھاگ گیا تھا۔
وہ راتوں رات شہر پہنچا، ابتدا میں فٹ پاتھ پر سویا، ہوٹلوں میں برتن دھوئے، مزدوری کی۔ ایک دن ایک بزرگ نے اس کی ذہانت کو پہچانا، پڑھنے کا مشورہ دیا۔ اس نے میٹرک دوبارہ کیا، پھر انٹر، پھر میڈیکل کالج میں داخلہ لے لیا۔
دن رات محنت کی، کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ دل میں صرف ایک ہی عہد تھا:
“ایک دن اتنا بڑا بنوں گا کہ ماں باپ کو ڈھونڈ سکوں۔”
مگر قسمت نے اس سے پہلے ہی اسے اس کے ماں باپ سے ملا دیا تھا۔
باپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ وہ کانپتے ہاتھوں سے بیٹے کے سر پر ہاتھ رکھ کر بولا:
“بیٹا… مجھے معاف کر دے۔”
ڈاکٹر نے سر جھکا کر کہا:
“ابا… میں سب بھول چکا ہوں۔”
اس دن ہسپتال کے اس کمرے میں صرف ایک مریض نہیں، تین زخمی دل شفا پا رہے تھے۔
ماں کو وہ علاج ملا جو دوا نہیں دے سکتی تھی،
باپ کو وہ سکون ملا جو برسوں سے کھو چکا تھا،
اور بیٹے کو وہ ماں کی دعا جو اسے یہاں تک لے آئی تھی۔
مشہور صحافی کہتے ہیں:
“یہ واقعہ مجھے یہ سکھا گیا کہ اولاد کو سزا نہیں، سمجھ چاہیے۔ کیونکہ کبھی کبھی ایک فیل ہونے والا بچہ، زندگی کے سب سے بڑے امتحان میں پاس ہو جاتا ہے۔”

آج جمعہ کے بیان میں مفتی صاحب دامت برکاتہم نے ایک آیت تلاوت فرمائی، جس میں ایک لفظ بار بار کانوں میں گونجتا رہا: “سلطان”...
31/01/2026

آج جمعہ کے بیان میں مفتی صاحب دامت برکاتہم نے ایک آیت تلاوت فرمائی، جس میں ایک لفظ بار بار کانوں میں گونجتا رہا: “سلطان”۔
چونکہ مسجد کے سپیکر کمزور اور پرانے ہیں، اس لیے آواز میں شور بہت ہوتا ہے اور پوری آیت سمجھ نہیں آ سکی۔
نماز ادا کر کے مسجد سے نکلا تو ایک رکشہ بڑی تیزی سے سڑک پر سے گزرا۔ اس میں کوئی نعت چل رہی تھی، جس کے چند بول بے اختیار کانوں میں پڑ گئے؎
اے خاکِ مدینہ، تری گلیوں کے تصدق
گھر پہنچ کر میں نے وہ نعت تلاش کی تو معلوم ہوا کہ یہ مشہور شاعر جگر مراد آبادی کی نعت ہے۔ نظر ایک شعر پر ٹھہر گئی؎
اک رند ہے اور مدحتِ سلطانِ مدینہ
ہاں کوئی نظر، رحمتِ سلطانِ مدینہ
یہ شعر پڑھتے ہی، بخدا میں اس نعت میں گم ہوتا چلا گیا۔ ایک ایک شعر مجھ پر عجب کیفیت طاری کرتا گیا۔ یہ کوئی معمولی نعت نہ تھی۔ ایک طرف اس کی تخلیق کے پیچھے ایک غیر معمولی واقعہ تھا، اور دوسری طرف یہ جگر مراد آبادی کے تڑپتے دل کی رجوع الی اللہ اور توبۂ لغزشات کی ابتداء تھی۔
پہلے اس نعت کی وجۂ تخلیق جان لیجیے، تاکہ پوری نعت پڑھنے کا لطف اور گداز دوبالا ہو جائے۔
اجمیر شریف میں ایک نعتیہ مشاعرہ منعقد ہونا تھا۔ منتظمین کے سامنے ایک عجیب مشکل آن کھڑی ہوئی کہ جگر مراد آبادی کو اس مشاعرے میں کیسے بلایا جائے؟ وہ کھلے رند تھے، اور نعتیہ مشاعرے میں ان کی شرکت بظاہر ممکن نہ تھی۔ اگر فہرست میں ان کا نام نہ رکھا جاتا تو مشاعرہ بے رنگ ہو جاتا، اور اگر نام شامل کیا جاتا تو اعتراضات کا طوفان کھڑا ہو جاتا۔
یوں منتظمین کے درمیان شدید اختلاف پیدا ہو گیا۔ جگرؔ خود ایک اختلافی شخصیت تھے؛ اہلِ دل ان کی لغزش کے باوجود انہیں لائقِ اصلاح سمجھتے تھے، علما نفرت کے بجائے افسوس کرتے تھے، اور عوام انہیں عظیم شاعر مانتے تھے
مگر ایک شرابی شاعر۔ بالآخر طویل غور و فکر کے بعد یہ جرات مندانہ فیصلہ ہوا کہ جگرؔ کو مدعو کیا جائے، جو دراصل ان کی شخصیت اور فن کا خاموش اعتراف تھا۔
دعوت پہنچی تو جگرؔ سر سے پاؤں تک کانپ گئے۔
“میں گنہگار، رند، سیاہ کار… اور نعتیہ مشاعرہ؟ نہیں صاحب، نہیں!”
اب سوال یہ تھا کہ جگرؔ کو آمادہ کیسے کیا جائے۔ آنکھوں میں آنسو اور لبوں پر انکار تھا۔ حمید صدیقی نے سمجھایا، نواب علی حسن طاہر نے کوشش کی، مگر بات نہ بنی؛ آخر اصغرؔ گونڈوی کے حکم پر جگرؔ خاموش ہو گئے۔ سرہانے رکھی بوتل ہٹا دی گئی، دوستوں کو تنبیہ کر دی گئی کہ شراب کا نام بھی نہ آئے۔ دل میں تڑپ اٹھتی، قدم بے اختیار بڑھتے، مگر وہ رک جاتے۔
“مجھے نعت لکھنی ہے… اگر شراب کا ایک قطرہ بھی حلق سے اترا تو کس زبان سے اپنے آقا ﷺ کی مدح لکھوں گا؟ شاید یہی میری بخشش کا آغاز ہو…”
ایک دن گزرا، پھر دوسرا۔ شدید اذیت کے عالم میں تھے۔ نعت کا سوچتے تو غزل بن جاتی۔ لکھتے، کاٹتے، پھر لکھتے۔ یہاں تک کہ ایک دن مطلع وجود میں آ گیا۔
پھر جیسے انوار کی بارش ہو گئی۔ نعت مکمل ہوئی تو انہوں نے سجدۂ شکر ادا کیا۔ مشاعرے کے لیے اس طرح روانہ ہوئے جیسے حج کو جا رہے ہوں۔
ادھر یہ کیفیت تھی، ادھر مشاعرہ گاہ کے باہر احتجاجی پوسٹر لگ چکے تھے کہ “ایک شرابی سے نعت کیوں؟”۔ حالات کے پیش نظر جگرؔ کی آمد خفیہ رکھی گئی۔
آخر مشاعرے کی رات آ پہنچی۔ اسٹیج سے صدا بلند ہوئی؎
“رئیس المتغزلین حضرت جگر مراد آبادی!”
شور مچ گیا۔ جگرؔ نے مجمع کی طرف دیکھا اور نرمی سے کہا:
“آپ مجھے ہوٹ کر رہے ہیں یا نعتِ رسول ﷺ کو؟”
مجمع پر سکتہ طاری ہو گیا۔
اور اسی لمحے جگرؔ کے ٹوٹے دل سے یہ صدا نکلی؎
اک رند ہے اور مدحتِ سلطانِ مدینہ
ہاں کوئی نظر، رحمتِ سلطانِ مدینہ
یوں لگا جیسے شعر نہیں، قبولیت کا پروانہ عطا ہو رہا ہو۔
یہ نعت نہیں تھی
یہ گنہگار دل کی آہ، پناہ کی التجا اور بخشش کا خزانہ تھی۔ جگرؔ رو رہے تھے، اور سب کو رلا رہے تھے۔ دل نرم پڑ گئے، اختلاف مٹ گئے۔
مشاعرے کے بعد ہر زبان پر ایک ہی جملہ تھا:
“یہ نعت کہی نہیں گئی، کہلوائی گئی ہے۔”
نعت یہ تھی..
اک رند ہے اور مدحتِ سلطان مدینہ
ہاں کوئی نظر رحمتِ سلطان مدینہ
دامان نظر تنگ و فراوانیِ جلوہ
اے طلعتِ حق طلعتِ سلطانِ مدینہ
اے خاکِ مدینہ تری گلیوں کے تصدق
تو خلد ہے تو جنت ِسلطان مدینہ
اس طرح کہ ہر سانس ہو مصروفِ عبادت
دیکھوں میں درِ دولتِ سلطانِ مدینہ
اک ننگِ غمِ عشق بھی ہے منتظرِ دید
صدقے ترے اے صورتِ سلطان مدینہ
کونین کا غم یادِ خدا ور شفاعت
دولت ہے یہی دولتِ سلطان مدینہ
ظاہر میں غریب الغربا پھر بھی
یہ عالم شاہوں سے سوا سطوتِ سلطان مدینہ
اس امت عاصی سے نہ منہ پھیر خدایا
نازک ہے بہت غیرتِ سلطان مدینہ
کچھ ہم کو نہیں کام جگر اور کسی سے
کافی ہے بس اک نسبت ِسلطان مدینہ
(جگر مراد آبادی)
احباب گرامی!
آپ نے نعت پڑھ لی، یقیناً دل ایمانی لذات سے منور ہوا ہوگا۔ چنانچہ اب کم از کم ایک مرتبہ درودِ شریف پڑھ لینا نہ بھولیں۔
آخری گزارش:
یہ تحریر سب کی بھلائی کی نیت سے لکھی گئی ہے۔
آپ بھی بھلائی کی نیت سے شیئر کر دیں۔
شکریہ۔
عثمان غنی رانا

Address

Raheem Chowk Masoom Shah Road Near Chowk Kumharan
Multan
60000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Easy Marriage Bureau Multan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Easy Marriage Bureau Multan:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram