Easy Marriage Bureau Multan

Easy Marriage Bureau Multan اندرون و بیرون ملک سنی رشتوں کا با اعتماد ادارہ صرف سنجیدہ اور رجسٹریشن کروانے والے خواتین و حضرات رابطہ کریں۔۔۔

04/03/2026
لیجنڈری پلیئر محمد یوسف کا اپنے تازہ انٹرویو میں کہنا ہے کہ سعید انور بھائی بہت عرصے سے میرے پیچھے پڑے تھے روزانہ  صبح ک...
04/03/2026

لیجنڈری پلیئر محمد یوسف کا اپنے تازہ انٹرویو میں کہنا ہے کہ سعید انور بھائی بہت عرصے سے میرے پیچھے پڑے تھے روزانہ صبح کا میسج شام کو میسج کرنے رہتے تھے لیکن مجھے یہ بالکل بھی معلوم نہیں تھا کہ سعید انور مجھ سے لگتار رابطے میں کیوں رہتے ہے ایک موقع پر میں نے سعید انور کو کرسمس کے دن اپنے گھر میں دعوت دی جس کو سعید انور نے قبول کیا اور ہمارے گھر وہ تشریف لائے کافی گپ شپ کے بعد میں نے گھر کے ملازم کو کہا کہ آپ جاکر ریسٹورنٹ سے کھانا لیکر آنا جس پر سعید بھائی نے مجھے کہا کیا آپ کے گھر کھانا نہیں پکاہے آپ کی عید ہے تو میں نے کہا پکا تو بہت ہے لیکن آپ مسلمان ہے اور گھر میں کھانے میری اہلیہ خود بناتی ہے میں نےسنا ہے کہ مسلمان غیر مسلم کے ہاتھ کا بنایا کھانا نہیں کھاتے جس پر سعید انور نے تعجب کا اظہار کیا اور مجھے کہا کہ یہ آپ کو کس نے کہا ہے اسلام میں ایسی کوئی بات نہیں ہےگھر کا کھانا لے آو میں نے گھر کا کھانا لایا اور ہم نے اکھٹے بیٹھ کر کھانا کھالیا اور سعید انور چلے گئے اس کے بعد میں نے اسلام کے بارے میں مطالعہ شروع کردیا ایک دن میں نے سعید بھائی سے ترجمہ والا قرآن مانگ لیا جس پر سعید انور بہت خوش ہوئے اور پھر خود ترجمہ والا قرآن لیکر آیا اور میں نے مطالعہ شروع کردیا اس دوران چھ ماہ کا ٹائم گزار گیا لیکن قرآن کا مطالعہ کرنے کے بعد میرا یقین ہوگیا تھا یہ کوئی عام کتاب نہیں ہے میری اہلیہ بھی میرے ساتھ مطالعہ میں شریک ہوتی تھی اور پھر ہم نے مشورہ کیا سعید انور کیساتھ رابطہ کیااور اسلام میں داخل ہوئے یہ فیصلہ بہت مشکل تھا کیونکہ ہمیں یہ معلوم تھا کہ اس کےبعد ہمارے خاندان والے ہمیں چھوڑ دیں گے اور جب ہم نے کلمہ پڑھا ہمیں پورے خاندان نے چھوڑ دیا ہمارے ساتھ ہرقسم کے تعلقات ختم کردیئے لیکن سعید بھائی نے مجھے کہا تھا کہ ایک دن آپ کے خاندان والے اسلام لائیں گے آپ ثابت قدم رہو اور پھر وقت کیساتھ ساتھ میرے بھائی اور دیگر قریبی رشتہ دار بھی مسلمان ہوگئے
copied

ایک شخص نے رمضان کے دنوں میں عطا الله شاہ بخاری رحمة اللہ علیہ سے مذاق کرتے پوچھا کہ حضرت! علماء تعبیر و تاولیل میں بڑے ...
03/03/2026

ایک شخص نے رمضان کے دنوں میں عطا الله شاہ بخاری رحمة اللہ علیہ سے مذاق کرتے پوچھا کہ حضرت! علماء تعبیر و تاولیل میں بڑے ماہر ہوتے ہیں کوئی ایسا نسخہ بتائیں کہ انسان کھاتا پیتا رہے اور روزہ بھی نہ ٹوٹے ۔
حضرت شاہ جی کو اس کا یہ مذاق برا تو لگا لیکن شاہ جی نے سوچا کہ اس بابو کا دماغ بھی ٹھکانے لگانا ضروری ہے۔ شاہ جی نے اپنے مخصوص انداز میں حاضرانہ جواب دیتے ہوئے
فرمایا: یہ تو بہت آسان ہے۔
ایک شخص کو مقرر کردو جو تمہیں صبح سے شام تک جوتے مارتا رہے اور تم جوتے کھاتے رہو اور اس کے نتیجے میں آپ کو جو غصہ آئے اس غصے کو پیتے جاؤ۔
اس طرح جوتے کھاتے رہو اور غصہ پیتے رہو۔ کھانا پینا بھی ہوجائے گا اور روزہ بھی نہیں ٹوٹے گا

سیاسی خوابوں کی کہانی ‏مولانا طاہرالقادری کو نبی پاک صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم خواب میں ملے۔ بشارت دی کہ تم 63 سال کی عمر...
03/03/2026

سیاسی خوابوں کی کہانی
‏مولانا طاہرالقادری کو نبی پاک صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم خواب میں ملے۔ بشارت دی کہ تم 63 سال کی عمر میں وفات پا جاؤ گے آج 79 سال کی عمر میں قادری کینیڈا میں بیٹھے چندے اور حلوے مانڈے کھارہے ییں۔
پھر اوریا مقبول جان کو نبی پاک خواب میں ملے اور نبی اپنے ہاتھوں سے اپائنٹمنٹ لیٹر جنرل باجوہ کو دے رہے تھے اب وہی اوریا مقبول ‏بتاتاپھرتا ہے کہ جنرل باجوہ بہت گھٹیا آدمی ہے۔کوئی اس"بڑھیا آدمی"سے یہ نہیں پوچھتا کہ جس شخص کو نبی پاک لیٹردے رہے ہوں۔ایسے ولی اللہ کوگھٹیا کیوں کہہ رہے ہیں۔
بشریٰ پیرنی نے اپنے خاوند خاور مانیکا کو بتایا کہ اسے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خواب میں ملے ہیں انہوں نے طلاق لیکر عمران خان سے شادی کا حکم دیا؛کیونکہ شادی کے اس بندھن میں پاکستان کی خوشحالی اور ترقی کا راز مضمر ہے۔
پھر ارشد شریف کی بیوی کو خواب میں حضرت خالدبن ولید رض ملے اوراپنی تلواردے دی
اور اب ہارون رشید نے بتایا کہ صنم جاویدکو نبی پاک خواب ۔ میں ملے ہیں
مولانا طارق جمیل بھی گاھے گاھے خوابوں اور حوروں کی عکس بندی کرتےہیں۔انکا بھی اپنا لیول یے۔
‏‎سارے دو نمبر،ڈھونگی پیر، پیرنیاں، مفتی،مولوی ،ذاکر،علامہ ، گدی نشین پاکستان میں ہی ملیں گے۔
آخر میں طاہرالقادری کے
ایک اورخواب کااحوال عطاء
الحق قاسمی کے قلم سے:
ایک خبر نے مجھے بہت محظوظ کیا اور وہ کینیڈا کے ’’وزیٹنگ پروفیسر‘‘علامہ طاہر القادری کا صرف ایک’’کال‘‘ پر پاکستان پہنچنا تھا۔ طاہر القادری صاحب بہت تابعدار قسم کے’’رہنما‘‘ ہیں، جنہیں آواز دے کر طلب کیا جاسکتا ہے۔ وہ حکم ملنے پر ’’چلے آتے‘‘ ہیں اور حکم ملنے پر واپس اپنے وطن کینیڈا چلے جاتے ہیں۔ وہ آتے ہیں اور ماڈل ٹائون میں جاں بحق ہونے والے اپنے کارکنوں کا قصاص طلب کرتے ہیں اور غالباً قصاص کی رقم وصول کرکے واپس چلے جاتے ہیں، اگر آپ کو یاد ہو تو انہوں نے گزشتہ دھرنے کے دوران اپنی چیختی چلاتی تقریر میں کہا تھا کہ اگر کوئی دھرنا چھوڑے اسے قتل کردو اور اگر میں بھی چھوڑوں تو مجھے بھی شہید کردو، مگر الحمد للہ بخیر و عافیت دھرناچھوڑ کر وہ واپس کینیڈا تشریف لے گئے۔ ہمارے یہ وزیٹنگ پروفیسراپنی خدمات پیش کرنے کیلئے ایک بار پھر پاکستان تشریف لائے ہیں اور لگتا ہے ’’قصاص‘‘لے کر واپس چلے جائیں گے۔
قارئین کو شاید علم نہ ہو، سوشل میڈیا پرطاہر القادری صاحب کی ایک ویڈیو کلپ موجود ہے جس میں وہ بھرائی ہوئی آواز میں بتارہے ہیں کہ عالم رئویامیں ایک دفعہ انکی ملاقات حضور نبی اکرم ﷺ سے ہوئی جہاں بہت سے دوسرے علماء بھی موجود تھے۔ حضور اکرم ؐ فرمارہے تھے کہ وہ اہل پاکستان سے مایوس ہو کر واپس مدینہ جارہے ہیں اورتمام علماء انکی منت سماجت کرتے ہیں کہ آپؐ ہمیں چھوڑ کرنہ جائیں، مگر حضور ﷺفرماتے ہیں کہ میں اہل پاکستان سے بہت مایوس ہوں، میں اب یہاں نہیں رکوں گا۔ اس پر طاہر القادری صاحب آگے بڑھتے ہیں اور حضورﷺ کے قدموں پراپنا سر رکھ کر اور آہ و زاری کرتے ہوئے التجاکرتے ہیں کہ آپ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں۔ یہ سنکر بقول طاہر القادری حضورﷺ فرماتے ہیں اچھا طاہر القادری تم کہتے ہو تو رک جاتا ہوں مگر میری دو شرائط ہیں،طاہر القادری کے شرائط پوچھنے پر حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ ایک یہ کہ جتنا عرصہ میں پاکستان میں رہوں گا(نعوذ باللہ) میرے معقول قیام و طعام کا انتظام تم کروگے اور دوسرا یہ کہ (نعوذ باللہ) میں جب بھی پاکستان آیا کروں گا،مدینے سے پاکستان تک کا پی آئی اے کا ٹکٹ تمہارے ذمہ ہوگا۔ انا للہ وانا الہ راجعون،اگر میں نےیہ ویڈیو خود نہ دیکھی ہوتی تو میں کبھی یقین نہ کرتا کہ کوئی عالم دین کہلانے والا شخص اس بدترین توہین رسالتؐ کا مرتکب ہوسکتا ہے، مگر ان کے سامنے بیٹھے ہوئے اندھی عقیدت کے حامل مجمع نے حضور نبی کریمؐ کے قیام و طعام اور مدینہ پاکستان سفر کے لئے پی آئی اے کی ٹکٹوں کے اخراجات کے لئے کروڑوں روپے اس شخص پر نچھاور کردئیے ہوں گے اب وہ قصاص کے نام پر رقم جمع کرنے پاکستان تشریف لائے ہیں یا انہیں آرڈر پر بلایا گیا ہے..........۔
copied

عمران خان صاحب کے فین بتا سکیں گے کہ ان کی آنکھیں کس نمبر پر ہیں۔۔؟؟جو فین نہیں وہ بھی بتا سکتے ہیں۔نوٹ: یہ کوئی سیاسی پ...
03/03/2026

عمران خان صاحب کے فین بتا سکیں گے کہ ان کی آنکھیں کس نمبر پر ہیں۔۔؟؟
جو فین نہیں وہ بھی بتا سکتے ہیں۔
نوٹ: یہ کوئی سیاسی پوسٹ نہیں ہے۔

آج کا بزنس آئیڈیا — صرف بھائیوں کے لیےبھائیو! اگر دکان لینے کے پیسے نہیں، کرایہ دینا مشکل ہے، اور گاہک آپ تک نہیں آ رہے…...
03/03/2026

آج کا بزنس آئیڈیا — صرف بھائیوں کے لیے
بھائیو! اگر دکان لینے کے پیسے نہیں، کرایہ دینا مشکل ہے، اور گاہک آپ تک نہیں آ رہے… تو آپ خود گاہک تک پہنچ جائیں۔ آج کا آئیڈیا ہے موبائل ٹیلر شاپ — یعنی چلتی پھرتی درزی کی دکان۔
کیا چاہیے؟
ایک سلائی مشین
ایک استری
چھوٹی سی سولر پلیٹ (اتنی واٹ کہ استری اور مشین چل سکے نہیں تو ہاتھ والی مشین بھی چلے گی)
لوڈر رکشا، ریڑھی یا بائیک (اپنے بجٹ کے مطابق)
آپ اپنی استطاعت کے مطابق آغاز کر سکتے ہیں۔ اگر لوڈر نہیں تو ریڑھی پر بھی سیٹ اپ بن سکتا ہے۔ اوپر شیڈ لگا لیں تاکہ دھوپ یا ہلکی بارش میں بھی کام جاری رہے۔
---
کام کیسے کرنا ہے؟
یہ ہوگی ڈور ٹو ڈور سروس۔
ایسے علاقے منتخب کریں جہاں گھروں میں سلائی مشین نہ ہو
یا مشین ہو مگر چلانے والا نہ ہو
لوگوں کے کپڑے اُدھڑے ہوتے ہیں، زِپ خراب، شلوار/ٹراوزر تنگ یا لمبا، بچوں کے سوٹ ایڈجسٹ کرنے ہوتے ہیں
کچھ لوگ مصروفیت کی وجہ سے بازار نہیں جا سکتے
آپ ان کے گھر کے باہر، گلی میں، یا اجازت سے دروازے کے پاس بیٹھ کر کام کر سکتے ہیں۔ فوری مرمت، آلٹریشن اور آرڈر بکنگ — سب ایک ہی جگہ۔
---
کون سے کام زیادہ چلیں گے؟
شلوار / ٹراوزر کی لمبائی کم زیادہ کرنا
شرٹ کی فٹنگ
بچوں کے کپڑوں کی سلائی
زِپ چینج کرنا
بٹن لگانا
ہلکی پھلکی مرمت
سیزن میں سادہ سوٹ یا ٹراوزر کی سلائی
یاد رکھیں: فوری سروس = زیادہ گاہک = زیادہ کمائی۔
---
کم بجٹ، زیادہ مارجن
دکان کا کرایہ نہیں
بجلی کا خرچ نہیں (سولر سسٹم)
ملازم رکھنے کی ضرورت نہیں
ایک دن میں مختلف گلیوں کا چکر لگا سکتے ہیں
آہستہ آہستہ نام بنے گا، لوگ خود کال کریں گے، اور آپ کی موبائل ٹیلر شاپ پورے علاقے میں پہچان بن جائے گی۔
---
کاروباری حکمتِ عملی
1. ایک سادہ بینر لگائیں: “موبائل درزی سروس — گھر پر سلائی کی سہولت”
2. اپنا نمبر واضح لکھیں
3. واٹس ایپ پر آرڈر اور لوکیشن لیں
4. ایک ریٹ لسٹ واضح رکھیں
5. وقت کی پابندی کریں
6. خوش اخلاقی سب سے بڑی مارکیٹنگ ہے
---
بھائیو! روزگار ڈھونڈنے سے بہتر ہے روزگار پیدا کیا جائے۔
یہ آئیڈیا میں نے ایک ڈیڑھ مہینہ سوچنے کے بعد شیئر کیا ہے — اور یقین ہے کہ یہ ممکن ہے۔
اگر گاہک دکان پر نہیں آتے تو دکان کو گاہک تک لے جائیں۔
جو سمجھدار ہے وہ عمل کرے گا، اور جو نہیں سمجھتا… وہ خاموشی اختیار کرے۔
مجھے بزنس آئیڈیا کے دورے پڑتے رہتے ہیں جو میں اکثر شئیر کرتی رہتی ہوں کہ شاید میری کسی بہن ،یا بھائی کا بھلا ہوجائے اس لیے گزرتے ہوئے فالو مالو ،لائک ،شائک شئیر شوئیر کرتے جائیے گا
اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائے اور ہر محنت کرنے والے بھائی کو کامیابی دے آمین
©️✍️🏻 Pakiza Khan
copied

 #پاکستان میں رہتے ہوئے اگر آپ کی ماہانہ آمدن 35,000 سے کم ہے تو آپ  #غریب ہیں، اگر آپ کی ماہانہ آمدن 35,000 سے 80,000 ہ...
02/03/2026

#پاکستان میں رہتے ہوئے اگر آپ کی ماہانہ آمدن 35,000 سے کم ہے تو آپ #غریب ہیں،
اگر آپ کی ماہانہ آمدن 35,000 سے 80,000 ہے تو آپ ہیں،
جو ماہانہ 80,000 سے 2٫00٫000 کما رہے ہیں وہ
طبقے سے ہیں،
ماہانہ 2,00,000 سے 8,00,000 کمانے والا ہے،
ماہانہ 8,00,000 سے زائد کمانے والے کہلائیں گے۔
اس کے علاؤہ بھی کئی وجوہات ہوتی ہیں جیسا کہ مہنگائی نے کسی کو کتنا متاثر کیا ہے آپ کی قوت خرید کتنی ہے ماہانہ اخراجات کے بعد آپ کے پاس سیر و تفریح کیلئے پیسے بچتے ہیں یا نہیں آپ کی ماہانہ بچت کتنی ہے؟
آپ اور آپ کی فیملی کو #صحت اور #تعلیم کی کس قسم کی سہولیات میسر ہیں،
اس کے علاؤہ آپ شہر میں رہتے ہیں یا دیہات میں رہتے ہیں اس سے بھی فرق پڑتا ہے ایک ہی آمدنی میں گاؤں کا بندہ "امیر" اور شہر کا بندہ "لوئر مڈل کلاس" کہلا سکتا ہے۔
شہروں میں آمدنی کا ایک بڑا حصہ کرایوں میں چلا جاتا ہے، جبکہ دیہات میں اکثر لوگوں کے اپنے بڑے گھر ہوتے ہیں۔
دیہات میں گندم، دودھ اور سبزیاں اکثر اپنی زمین سے حاصل ہو جاتی ہیں یا سستے داموں مل جاتی ہیں، جبکہ شہروں میں ہر چیز مہنگے داموں خریدنی پڑتی ہے۔
شہروں میں بچوں کی فیسیں، بجلی کے بل اور ٹرانسپورٹ کا خرچہ دیہات کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتا ہے۔
اگر ایک شخص گاؤں میں 50,000 روپے کما رہا ہے اور اس کا اپنا گھر اور گائے یا بھینسیں ہیں، تو وہ شہر کی مڈل کلاس یا اس سے بھی بہتر پوزیشن میں ہو سکتا ہے۔ لیکن وہی شخص اگر لاہور یا کراچی جیسے بڑے شہر میں 50,000 روپے کماتا ہے تو وہ لوئر مڈل کلاس یا غریب کیٹیگری میں شمار ہوگا۔
مہر نوید

🚀 **Pakistan Mein Real Online Earning – 100% Free | No Investment | No Registration Fee**Alhamdulillah ❤️Yeh jo screensh...
02/03/2026

🚀 **Pakistan Mein Real Online Earning – 100% Free | No Investment | No Registration Fee**

Alhamdulillah ❤️
Yeh jo screenshot aap dekh rahe hain, yeh hamari website ka **real payment record** hai.
⚠️ Important baat:
Yeh jo amounts show ho rahe hain (Rs.150, Rs.240, Rs.300, Rs.400 etc.) — **yeh minimum earning hai**.
Kuch users ne kam participate kiya, is liye unki earning kam rahi.
👉 Agar aap regular aur active rahen to **isse zyada earning bilkul possible hai.**
💎 Sab se bari baat:
❌ Koi investment nahi
❌ Koi registration fee nahi
❌ Koi hidden charges nahi
❌ Koi jhoot ya fraud nahi
❌ Koi referral force nahi
✅ Sirf simple aur positive learning based tasks
✅ Ghar baithe earning
✅ Apni marzi ke time par kaam
✅ 100% halal aur transparent system
Hamari aim sirf earning nahi —
📚 Pakistan mein positive learning activities ko promote karna hai, taake log time waste karne ke bajaye productive banen aur sath mein earn bhi karen.

Agar aap:
✔️ Student hain
✔️ Housewife hain
✔️ Job karte hain aur side income chahte hain
✔️ Ya sirf free time ko productive banana chahte hain

Toh yeh platform aap ke liye hai 💯

🌟 Yahan har koi join kar sakta hai — koi limit nahi.
Jitni mehnat, utni earning.

join eeasysolutions dotcom

Aaj hi start karein — kal aap ka naam bhi payment list mein ho sakta hai 💰🔥

21ویں صدی کا پاکستانی عشق : نکاح کو ز۔نا بنا دیا گیا ۔۔بٹ صاحب کو اپنی معشوقہ بیوی لے ڈوبی ۔۔۔ کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق...
02/03/2026

21ویں صدی کا پاکستانی عشق : نکاح کو ز۔نا بنا دیا گیا ۔۔بٹ صاحب کو اپنی معشوقہ بیوی لے ڈوبی ۔۔۔ کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھنے والے نعیم بٹ کی بیوی نے 7 ماہ میں پوری دنیا کے سیر سپاٹے کرنے کے بعد شوہر پر شرمناک مقدمہ درج کروا دیا ۔۔ لاہور سے ایک نئی سچی کہانی ۔۔۔۔۔ 7 ماہ قبل عائشہ سرور نامی ایک 29 سالہ خاتون نعیم بٹ کی زندگی میں آئی اور انہیں بہلا پھسلا کر اپنے دام میں پھنسا لیا ، پھر اس خاتون نے قران مجید پر ہاتھ رکھ کر اور قسمیں کھا کر بٹ جی کو محبت کا یقین دلایا اور انہیں مجبور کردیا کہ وہ ان سے نکاح کر لیں ، نکاح ہو گیا تو عائشہ سرور کو نعیم بٹ نے ایک پوش علاقے میں اچھے گھر میں رکھا اسے دنیا کی ہر آسائش مہیا کی اس دوران عائشہ کی بہن شہناز بھی انکے ساتھ رہنے آگئی ، یہ ایک آزاد خیال لڑکی تھی اور والدین کی پابندیوں کی بجائے بہن کی محبتوں اور رعایتوں کے سائے میں رہنے لگی ۔ نعیم بٹ اپنی معشوقہ بیوی کی فرمائش پر اسے اور اسکی بہن کو دنیا کے کئی ممالک کی سیر کو لے گئے ، جب ہنی مون گزرا اور یہ واپس لاہور آگئے تو بٹ صاحب کو پتہ چلا کہ انکی سالی شہناز صاحبہ کے ایک نوجوان سے تعلقات ہیں جو اسے ملنے بھی آتا ہے اور ساری ساری رات اس سے فون پر بھی بات ہوتی ہے ۔ مزید یہ پتہ چلا کہ عائشہ سرور بھی ماضی میں ایک سے زائد لوگوں سے تعلقات رکھ چکی ہے اور ہر ایک سے پیسے بٹور کر اور تھانے کچہری کا ڈراوا دے کر ان کو چھوڑ چکی ہے ، اب بٹ صاحب بے حد پریشان ہوئے کہ کس خوبصورت بلا سے واسطہ پڑ گیا ہے ۔ آخر جب روزانہ جھگڑا ہونے لگا اور دونوں بہنوں نے پابندیاں ماننے اور روک ٹوک قبول کرنے سے انکار کیا تو نعیم بٹ نے انہیں اپنے گھر سے نکال دیا جسکے بعد پہلے تو یہ بہنیں اپنے والدین کے گھر چلی گئیں اور چند روز بعد ریس کورس ویمن پولیس سٹیشن جاکر دیگر کئی الزامات کے ساتھ ز۔نابا۔لجبر کا مقدمہ درج کروا دیا ، اب اگرچہ نعیم بٹ صاحب کے پاس پچھلے 7 ماہ کے واقعات نکاح شادی اور غیر ملکی ہنی مون کے تمام ثبوت موجود ہیں مگر وہ ز۔نا با۔لجبر کے مقدمے سے بری ہونے کے لیے عدالتوں کچہریوں کے چکر کاٹ رہے ہیں اور ایک ہی بات کہتے ہیں ، ان حسینوں سے اللہ بچائے مہ جبینوں سے اللہ بچائے ۔۔۔۔
copied
1 Team Sultan: info agency

ریاست پاکستان کی سب سے بڑی انڈسٹری کیا ہے؟کیا یہ بہتر نہیں کہ یہ اربوں اور کھربوں روپے انسانی فضلات کی شکل میں تبدیل کرن...
27/02/2026

ریاست پاکستان کی سب سے بڑی انڈسٹری کیا ہے؟
کیا یہ بہتر نہیں کہ یہ اربوں اور کھربوں روپے انسانی
فضلات کی شکل میں تبدیل کرنے کے بجائے
ایسے صنعتی یونٹ لگائے جائیں
جہاں غریب اور بے روزگار محنت کریں اور
اپنے اہل خانہ کے لیے رزق حلال کمائیں؟
جس انڈسٹری کا ہم ذکر کرنے جا رہے ہیں شاید آپ میں سے کسی کی توجہ اس کی طرف نہ ہو، لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ یہ پاکستان کی سب سے بڑی انڈسٹری ہے. اس ملک کی تمام اشرافیہ، تمام حکمران، تمام ارباب ثروت اور تمام دینی رہنما صرف اور صرف اسی انڈسٹری کو شب و روز پرموٹ کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔
یہ انڈسٹری ہے "گداگر سازی" کی انڈسٹری ، رمضان کے مہینے میں ہم سارے ملک میں دیکھتے ہیں کہ جا بجا بڑے بڑے دسترخوان لگتے ہیں جہاں لوگوں کو مفت کھانا ملتا ہے۔ اگرچہ ملک میں بے پناہ غربت اور بے حساب بے روزگاری کی وجہ سے اس کی ضرورت ہے لیکن اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ یہ انتظام واقعتا حقیقی ضرورت مندوں کے دروازوں پر دستک دیتا ہے ، اور ہر شخص پیٹ بھر کے سوتا ہے۔
حکومتوں کا یہ کام نہیں ہوتا کہ وہ لنگر خانے کھولے، وہ سستی روٹی کے نام پر اربوں روپے تندوروں میں جھونک دے، وہ لوگوں کو رمضان پیکج اور اس طرح کی خوبصورت ناموں سے گداگر بنائے۔ حکومتوں کا کام پالیسیز کے ذریعے غربت ختم کرنا اور لوگوں کو روزگار دینا ہوتا ہے۔
اس پر غور کیجئے کہ ہمارے ملک میں ہر سال جتنی بڑی رقم بے نظیر انکم سپورٹ کے لیے مختص کی جاتی ہے اور جس کا بڑا حصہ بیوروکریسی کے عزیزوں کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے اگر اس سے کارخانے لگا کر غریبوں کو ان کارخانوں میں حصہ دار بنا کر انہیں روزگار بھی دیا جائے تو کیا غربت میں خاطرخواہ کمی نہیں آئے گی؟
سننے میں آتا ہے کہ بڑے شہروں کا ایک ایک تاجر افطاری کے مراکز پر ایک ایک ارب روپے دے دیتا ہے۔ کیا یہ بہتر نہیں کہ یہ اربوں اور کھربوں روپے انسانی فضلات کی شکل میں تبدیل کرنے کے بجائے ایسے صنعتی یونٹ لگائے جائیں، جہاں غریب اور بے روزگار محنت کریں اور رزق حلال کمائیں۔ بلاشبہ معاشرے میں تھوڑی سی تعداد ایسے لوگوں کی ہوتی ہے جو بڑھاپے بیماری یا معذوری کے باعث کوئی کام نہیں کر سکتے، ان لوگوں کی لسٹیں تیار کی جائیں۔
اقتدار نچلی سطح تک منتقل کر کے، کالجز یونیورسٹیز کی اسٹوڈنٹس یونینز کو ایکٹیویٹ کر کے ان کی کفالت کا انتظام کیا جائے اور سارے ملک کو معاشی طور پر چھوٹے چھوٹے یونٹس میں تقسیم کر کے ہر بے روزگار کو روزگار دلانے کا اہتمام کیا جائے۔
جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ہمارے ملک میں ایک طبقہ اتنی تیزی سے دولت مند ہو رہا ہے کہ غالبا وہ اپنی دولت کا حساب بھی نہیں رکھ سکتا اور دوسری طرف عوام اسی تیزی سے غریب اور بے روزگار ہو رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے ہاں وسائل کی کمی نہیں بلکہ انتظامات درست نہیں ہیں. میرا غالب گمان یہ ہے کہ ایلیٹ طبقہ دانستہ ایسا ماحول بنا کے رکھتا ہے تاکہ غریبوں کا استحصال ہو سکے اور انہیں اپنے سیاسی اور غیر سیاسی مذموم مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
یاد رکھیے کہ جب لوگوں کو مفت خوری کی عادت ڈال دی جائے تو وہ محنت مزدوری، کام کاج کی طرف نہیں آتے ہم نے 2005 کے زلزلے میں دیکھا ہے کہ جن علاقوں میں مسلسل امداد کا سلسلہ جاری رہا کئی سال تک لوگوں نے کام کاج کرنا چھوڑ دیا تھا اور اسی انتظار میں رہتے تھے کہ کب کہیں سے بغیر محنت کچھ ہاتھ آ جائے گا۔
اس سلسلے میں میں مذہبی رہنماؤں اور دینی اداروں اور خانقاہوں کی بات بھی کروں گا کہ جن کا فرض تھا کہ وہ لوگوں کو یہ بتاتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب مدینہ ہجرت کی تو مدینہ ایک چھوٹا سا گاؤں تھا، جس کے وسائل بہت محدود تھے اور وہاں مہاجرین کا خاصا بڑا دباؤ آگیا لیکن آپ نے انتہائی اعلیٰ معاشی تدابیر کے ذریعے سب لوگوں کو حصول معاش پر لگا دیا۔
غربت ، آرائش مواعظ میں تو ملتی ہے حقیقتا کہیں نہیں تھی، لیکن ہمارے دینی اداروں میں ایک ہی ذریعہ معاش سکھایا جاتا ہے اور وہ ہے چندے کے ذریعے دولت مند بننے اور جائیدادیں بنانے کا۔ کاش اس مسئلے کی سنگینی کا کسی کو احساس ہو اور ملک کے وسائل پیدا آوری کاموں میں استعمال کیے جائیں تو بہت تیزی سے غربت ختم کی جا سکتی ہے۔
بشکریہ: طفیل ہاشمی
Facebook

سیالکوٹ کی ایک مسجد میں بچوں کی وجہ سے بڑے لڑ پڑے اور لڑائی اتنی شدید کہ دونوں طرف سے دس دس لوگ ایک دوسرے پہ حملہ آور۔چا...
27/02/2026

سیالکوٹ کی ایک مسجد میں بچوں کی وجہ سے بڑے لڑ پڑے اور لڑائی اتنی شدید کہ دونوں طرف سے دس دس لوگ ایک دوسرے پہ حملہ آور۔چار دن پہلے میں نے بچوں کی مسجد میں شرارت پہ ایک پوسٹ لگائی تھی تو لوگ بول رہے تھے جو ویڈیو بنا رہا ہے وہ روکے۔تو پہلی بات تو یہ کہ زیادہ تر کنٹینٹ کرئیٹرز آج کل بچوں کا استعمال کر رہے ہیں شرارتیں کروا کے ویڈیو بناتے ہیں۔اور اگر کوئی ایسا نہیں کر رہا تو صرف اس وجہ سے بچوں کو نہیں روکتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہ سیدھی سیدھی ایک لڑائی گلے لینے والی بات ہے۔سیالکوٹ میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا ایک بچے کو شرارت کرنے پہ بڑے نے روکا تو بچے کے بڑے آ گئے اور مسجد کے اندر ہی میدان جنگ بنا لیا۔اور آپ دیکھ سکتے ہیں ایسے بچوں کے بڑے بھی ماشاء اللہ کتنے بڑے ہیں۔
copied
Faisal Islamabadian

26/02/2026

Assalam o Alaikum

Address

Raheem Chowk Masoom Shah Road Near Chowk Kumharan
Multan
60000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Easy Marriage Bureau Multan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Easy Marriage Bureau Multan:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram